Nimra khan

Nimra khan

Share

Novels

Photos from Nimra khan's post 21/02/2026

Beautiful and trendy mehndi designs

Photos from Nimra khan's post 19/02/2026

Beautiful mehndi designs

Photos from Nimra khan's post 17/02/2026

Simple designs

17/02/2026

وہ اس کی باتوں کو سکوت کے دائرے میں سمیٹ کر سن رہا تھا۔۔۔ ہر لفظ اس کے اندر اترتا، اور اس کے پُراعتماد لہجے پر حیرت کی ایک نئی لکیر کھینچ دیتا۔۔۔۔ وہ خاموش تھا، جان بوجھ کر خاموش ۔۔۔۔ حالانکہ اس کی ہر بات کا جواب اس کے پاس موجود تھا،۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ بعض سچ تب ہی کُھل کر سامنے آتے ہیں جب سامنے والا ٹوکتا نہیں، بس سنتا ہے۔۔۔۔
وہ چاہتا تھا کہ آج سلومی اپنے دل کے سارے خدشات، سارے اندیشے بغیر کسی ڈر و خوف کے اس کے سامنے رکھ دے، تاکہ اس رشتے میں کوئی سوال، کوئی دھند باقی نہ رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حماد !!!! بس آخری بات ، یا اسے میری شرائط سمجھ لیں ۔۔۔ وہ اسے غور سے دیکھتے ہوئے بات جاری رکھے ہوئے تھی۔۔۔۔

میں اپنے بچے کو ایسی زندگی نہیں دے سکتی جہاں محبت مانگنی پڑے۔۔۔۔
میں اسے ایسا گھر دینا چاہتی ہوں ، جہاں پیار ہو حق ہو،
اور تحفظ کا وعدہ۔۔۔۔۔
اُس نے ایک ٹھہری ہوئی سانس لی تھی ، اگر یہ سب سن کر بھی آپ ہمیں اپنے دل ، اپنے گھر میں جگہ دے سکتے ہیں تو میری ہاں پوری زندگی کے لیے ہوگی۔۔۔۔۔
کچھ وقت کے لیے خاموشی چھا گئی تھی مگر اس خاموشی میں وہ ہاری نہیں تھی وہ اپنی شرطیں رکھ چکی تھی۔۔۔۔۔۔
حماد نے سلومی کی باتیں پوری توجہ سے سنی تھیں، ، اس کی نگاہ مُنا پر ٹھہر گئی۔۔۔ پیارا سا گول چہرہ، بڑی بڑی شرارتی آنکھیں ، ، وہ مسکرایا ، ،
آگے بڑھ کر مُنے کو پیار سے اپنی گود میں اٹھایا اور اس کے گال کو چھوتے ہوئے بولا ، ،
میرے ساتھ رہو گے بیٹا ۔۔۔۔۔
مُنے کی آنکھیں خوشی سے چمک اُٹھی تھیں، ، اس نے فوراً اس کے گلے میں بانہیں ڈال دیں اور معصومیت سے پوچھ بیٹھا ، ، کیا آپ مجھے روز اچھی اچھی کہانیاں سنائیں گے ؟
مُنے کے پیار بھرے سوال نے اُسکے دل کو چھو لیا۔ اس نے مُنا کو محبت سے اپنے بازوؤں میں بھینچ لیا اور یقین دلاتے ہوئے کہا ، ،
جی بیٹا ہر روز کہانیاں بھی ، ، وقت بھی ، ، اور میرا ساتھ بھی۔۔۔۔۔ میں تمہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔۔۔
آج ،
کل،
اور
ہمیشہ ____ ، زندگی کی آخری سانس تک تمہارے ساتھ رہوں گا۔۔۔۔

بچے محبت کے بھوکے ہوتے ہیں، اور حماد کی چند لمحوں کی خالص، بے لوث محبت نے مُنا کے ننھے سے دل میں اپنی جگہ بنا لی تھی ۔۔۔۔۔۔۔

حماد مسکرا کر سلومی کی طرف دیکھ رہا تھا ، ، لب بند تھے ، مگر نگائیں پیار بھری زبان بول رہی تھیں۔۔۔
اِن نظروں میں وعدہ تھا ۔۔۔۔۔
ہمیشہ کا ساتھ تھا ۔۔۔۔۔۔
تحفظ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
احترام تھا ۔۔۔۔۔۔۔
اور بے پناہ محبت تھی ۔۔۔۔۔۔

💌 ، ، ، تم آگئے ہو
، ، نور آگیا ہے 😍
نہیں تو ، ،🙃
چراغوں سے ، ، 🌺
لُو جارہی تھی ، ، 😢
جینے کی تم سے ، ، 🤩
وجہ مل گئی ہے، ، 🥰
بڑی بے وجہ، ، 🌷
زندگی جارہی تھی ، ، 💖

سلومی نے اسکی چاہت بھری نگاہوں کی تپش کو محسوس کیا تو دل کے اندر لگی سخت گرہ آہستہ آہستہ کُھلنے لگیں ، اُس نے نظریں چُرا کر پلکیں جُھکا لیں، دل نے سر ہلا دیا ،
یہ خاموشی اس کی طرف سے ہاں تھی ، ،

صفیہ آپا نے دل ہی دل میں دونوں کی بلائیں لیں ، آج وہ بے حد خوش تھیں ، ، سلومی کی ویران زندگی میں اب خوشیوں کے شادیانے بجنے والے تھے، اُجڑی ہوئی راہوں پر اُمیدوں کے چراغ جلنے کو تھے ، ، وہ دھیرے سے مسکرائیں جیسے شکر ادا کر رہی ہوں آخرکار سلومی کے حصے میں بھی سکون آنے والا تھا _____ ،

✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨



جس دن میرا تم سے نکاح ہوگا 🌷

میں اُس دن کو اپنی 🌷

زندگی کا پہلا دن لکھوں گا 🌷

نکاح کی تاریخ رکھ دی گئی تھی ، تاریخ رکھنے کی دیر تھی کہ گھر کی فضا یکسر بدل گئی۔۔۔۔ یوں لگتا تھا جو وقت ابتک ٹھہر کر چل رہا تھا، اچانک قدم تیز کر گیا ہو ، گھر میں ایک خوش گوار سی ہلچل مچ گئی تھی ایسی ہلچل جو شور نہیں کرتی، مگر ماحول بدل دیتی ہے۔۔۔۔۔

عارفہ پھپھو کی خوشی کسی اظہار کی محتاج نہیں تھی ، وہ اٹھتے بیٹھتے اللّٰہ کی شکر گزار تھیں کہ اللّٰہ نے اُنکی سن لی ۔۔۔ حماد کی شادی اُنکی زندگی کی سب سے بڑی خواہش تھی جو اب پوری ہونے جارہی تھی۔۔۔۔ وہ اچھے سے جانتی تھیں، یہ صرف دو لوگوں کا میلاپ نہیں ، یہ تو بکھری ہوئی زندگیوں کو نئے سرے سے سمیٹنے کا بندھن ہے ۔۔۔۔

اسی طرح حماد کے چہرے پر پھیلا سکون کسی وقتی خوشی کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ اُس فیصلے کی گہرائی سے جنم لینے والا اطمینان تھا، جو انسان خود سے سچ بولنے کے بعد محسوس کرتا ہے۔۔۔۔ سلومی اور مُنا اس کی زندگی کا حصہ بننے والے تھے۔۔۔
اسکے تصور میں ایک خیال بار بار اُبھر کر سامنے آرہا تھا ، ،
ایک پیاری سی لڑکی جو مسکراتی ہوئی اس کے گھر میں داخل ہورہی ہے جسکی خوشبو گھر میں پہلے ہی سے بسی ہوئی تھی ۔۔۔ ۔۔۔۔۔
اور پھر چھوٹا سا شرارتی بچہ اس کی طرف دوڑتا ہوا آتا ہے ، ، وہ جھک کر اُسے اپنی گود میں اٹھا کر سینے سے لگا لیتا ہے، اور پیشانی پر محبت بھرا بوسہ دیتا ہے۔۔۔
اِس تصوراتی دنیا میں وہ محسوس کرتا ہے کہ آخرکار اسکی ادھوری زندگی مکمل ہوگئی ہے _____ ،

وہ اپنے بنگلے کے جس کمرے کی سجاوٹ میں سب سے زیادہ دلچسبی لے رہا تھا وہ کوئی عام کمرہ نہیں تھا۔ یہ وہ کمرہ تھا جو مُنے کے لیے تیار کیا جا رہا تھا ، وہ خود ہر کام کو اپنی نگرانی میں کروا رہا تھا۔۔۔ کمرے میں بلو کلر کی تھیم تھی، جس پر ننھے ننھے ستارے جگمگا رہے تھے ، گلاس ونڈو پر پرپل شیڈ کے پردے تھے، جن پر مُنا کے فیورٹ ڈورا مون کارٹون بنے ہوئے تھے ، ،
منا کے کمرے میں پینک کلر کا نرم و ملائم قالین بچھایا گیا تھا ، ، اسکے علاوہ خوبصورت کھلونے۔۔۔ رنگ برنگی گاڑیاں،، بڑا سا ٹیڈی بیئر ، ، ، تصویری رنگ برنگی کہانیوں کی کتابیں، اور ایک چھوٹا سا بیڈ، جس کے سائیڈ ٹیبل پر نائٹ لیمپ رکھا تھا تاکہ مُنا اندھیرے سے نہ ڈرے ______ ،

سچی محبت کی پہچان یہی ہے کہ جس سے عشق کیا جائے، اس سے جڑے ہر رشتے کا دل و جان سے احترام کیا جائے۔۔۔ محبوب کے ساتھ جڑی ہر ذمہ داری، ہر رشتہ ہر احساس اور ہر دُکھ کو بھی اپنا مان لیا جائے بغیر سوال اور اپنائیت کے ساتھ ________ ،

سلومی کو تو اندازہ بھی نہیں تھا کہ حماد اُن دونوں کی خوشیوں اور استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہے ، ،
مگر اس کا دل کسی ان کہی خوشی کی آہٹ سن چکا تھا
وہ آہٹ جو وعدہ بن کر نہیں آتی ، یقین بنکر ٹھہر جاتی ہے _____ ،

صفیہ آپا نے اسے اپنے پاس بٹھایا تھا ، اُنکے لہجے میں اطمینان اور رب پر کامل بھروسا تھا ،
بیٹی، اب تمہاری آزمائشوں کی مدت پوری ہو چکی ہے ، اللّٰہ نے تمہارے لیے آسانی کا در کھول دیا ہے ، تم نے بہت صبر کر لیا ، ، اب باری سکون کی ہے۔۔۔۔

وہ خاموش رہی ، اُس نے کوئی جواب نہیں دیا ، بس اپنے دل پر ہاتھ رکھا ، جہاں برسوں سے گھبراہٹ ۔۔۔۔۔ اور خوف پہرا دیتا رہا تھا ، مگر اب اسکے دل میں مکمل اطمینان اور سکون تھا ، اسے یقین ہو چلا تھا کہ ایک نئی زندگی ،
مکمل تیاری کے ساتھ ، اسے اپنانے کو کھڑی ہے ____________ ،

بارات آ چکی تھی، نکاح کی اس تقریب میں عارفہ بیگم اور ان کے چند قریبی رشتہ دار موجود تھے، جبکہ سلومی کی طرف سے صفیہ آپا، اور آس پڑوس کے کچھ لوگ شریک تھے ___ ،

وہ نکاح کے خُوبصورت سُرخ لہنگے میں نظر لگنے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔ عروسی لباس میں سر جُھکائے بیٹھی سلومی کو دیکھ کر حماد کی پھپھو کی آنکھوں میں خوشی اُمنڈ آئی ، ، انہوں نے محبت سے اس کی بلائیں لیں، دعائیں دی اور اللّٰہ کا شکر ادا کیا کہ آج وہ اسے حماد کی دلہن کے روپ میں دیکھ رہی ہیں ۔۔۔۔۔

عارفہ بیگم نے نکاح کے موقع کے لیے خاص سرخ رنگ کا دوپٹہ بنوایا تھا جس پر سنہری دھاگوں اور موتیوں سے حماد کی دلہن لکھا ہوا تھا ، انھوں نے نکاح سے کچھ دیر پہلے سلومی کو سُرخ دوپٹہ اوڑھا کر گھونگھٹ نکال دیا تھا ، ،

سلومی کی رضامندی معلوم کرنے کے لیے قاضی صاحب گواہوں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئے ، یکدم کمرے میں
خاموشی چھا گئی ، ، سلومی کی نگاہیں جھک گئیں اور سانسیں تھم سی گئیں ، صفیہ آپا اور عارفہ بیگم اسکے پاس ہی بیٹھی تھیں ، ،

قاضی صاحب اسکی رضامندی پوچھ رہے تھے ،
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟

سلومی کا دل زور سے دھڑکا۔
ہاتھ ہلکا سا کانپا،
مہندی لگی انگلیاں ایک دوسرے میں الجھ گئیں۔

کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے…؟

یہ سوال نہیں تھا ، ، یہ زندگی کے دروازے پر دی جانے والی اُمیدِ صبحِ بہاراں کی دستک تھی۔۔۔

سلومی آپکو یہ نکاح قبول ہے ۔۔۔

اس کے لب ہلے تھے ، ،
آواز بہت دھیمی تھی،

مجھے قبول ہے ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

اسی لمحے ایک آنسوں اس کی پلک سے ٹوٹ کر گرا ، ،
غم کا نہیں، ، شکرانے کا ۔۔ ۔ وہ آنسوں جیسے کہہ رہا ہو ،
یا اللّٰہ، میں نے صبر کیا ، اور تُو نے مجھے خالی ہاتھ نہیں لوٹایا۔۔۔۔۔

کمرے میں مبارکباد اور دعاؤں کی صدائیں گُونجی اور فضا میں آمین کی بازگشت پھیل گئی۔۔
آج وہ صرف حماد کی زوجہ ہی نہیں بنی تھی ، ، آج وہ
درست منزل کی سمت پہنچ چکی تھی ____ ،

نکاح ہوتے ہی صفیہ آپا کی آنکھوں میں خوشی اُمنڈ آئی ،

انہوں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی ، اور دل میں سلومی کے اچھے نصیب کے لیے دعا کی ۔۔۔

یا اللّٰہ رب العزت ، ،
اس لڑکی نے بہت ظلم سہے ہیں ، ، اب اسکے حصے میں کبھی کوئی دکھ درد نہیں آئیں ، اسے / ایسی پُرسکون زندگی دینا ، جو وقت اور حالات بھی نہ چھین سکیں۔ ۔ انھیں یقین تھا کہ بارگاہِ الٰہی میں
ان کی دُعاؤں کو قبولیت کی مہر لگ چکی ہے ______,

ایجاب و قبول کے بعد اب قاضی صاحب نے حماد کی رضامندی پوچھی ، ،

حماد کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟

اس کے ذہن میں سلومی کا معصوم خاموش اور صابر چہرہ اُبھر آیا ، وہ لڑکی جس نے درد کو کبھی ساز نہیں بنایا تھا ، ، تکلیفوں کو چُپ چاپ صبر سے برداشت کرتی رہی ۔۔۔۔
پھر مُنا کا خیال آیا، چار سال کا چھوٹا سا بچہ ، جس کی سوال بھری آنکھیں تحفظ کو ڈھونڈ رہی تھیں۔۔۔۔

مجھے یہ نکاح قبول ہے ۔۔
قبول ہے ،
قبول ہے ،

آواز میں کسی قسم کا تذبذب نہیں تھا ۔۔۔۔۔ آج یہ تین بول ہمیشہ کے لیے وعدہ بن گئے تھے ، ،
، ساتھ نبھانے کا۔۔۔۔۔ ذمہ داری کا ۔۔۔۔ اور سلومی کے دردناک ماضی کو ، ، اسکےحال پر غالب نہ آنے دینے کا۔۔۔۔

حماد جانتا تھا ، اُس نے صرف نکاح قبول نہیں کیا ، ،
اس نے دو زندگیاں اپنی حفاظت میں لے لی تھیں _____ ،

مُنا کو بس اتنا سمجھ آیا تھا کہ آج سب خوش ہیں، اور آج اُسکی ماما کی آنکھوں میں آنسوں نہیں تھے جو وہ اکتر دیکھتا تھا ۔۔۔۔
وہ لوگوں کے بیچ کھڑا تھا ، ، چھوٹی سی انگلیاں صفیہ آپا کے دوپٹے میں الجھی ہوئی تھیں ، ،
آنکھیں کبھی اِدھر دیکھتیں، کبھی اُدھر ،ایسا لگتا تھا وہ کسی خاص چہرے کو ڈھونڈ رہا ہو۔۔۔

اچانک اس کی نظریں حماد پر ٹھہر گئی ۔۔۔ وہی مانوس چہرہ اور شفیق سی مسکراہٹ ، ،
اُس نے ذرا ہچکچاتے ہوئے دو قدم آگے بڑھائے، اور پھر ایک دم سے اپنے ننھے ہاتھ پھیلا دیے۔۔۔۔

آپ اب ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گے نا؟

حماد جھک گیا۔۔۔۔ مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا
اس لمس میں وعدہ تھا ، ، لفظوں کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔۔۔
ہاں ۔۔۔۔ میرے چھوٹے سے منے ۔۔۔۔ میں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہوں گا ، ،

مُنا کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔۔۔۔
وہ مسکرایا تھا ، ایسی مسکراہٹ جو دل پر بوجھ نہیں ڈالتی ، اسے پُرسکون کر دیتی ہے _________ ،

سرخ لہنگے میں ملبوس، نفاست سے کیا گیا میک اپ اور میچنگ جیولری میں ، ، وہ بے حد حَسین لگ رہی تھی ، حیا سےجھکی نگاہیں، اُسے اور بھی پُرکشش بنا رہی تھیں ، ،
وہ اپنی پیاری سی دُلہن کو غور سے دیکھ رہا، جو اب اس کی زندگی کی سب سے قیمتی حقیقت بن چکی تھی۔۔۔۔وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا تھا ، ،
السلام علیکم سلومی ، ، نکاح کی ڈھیروں مبارکباد ،
سلومی کا دل زور سے دھڑکا، چہرے پر لالی ابھری، آنکھیں جھک گئیں۔۔۔۔ وہ شرما کر مسکرائی اور صرف سر ہلا دیا تھا ، ،
یہ لمحہ خاموش تھا ،، مگر جذبات سے بھرپور
سلام ۔۔۔۔۔
مبارکباد ۔۔۔۔۔۔
اور ایک شرمیلی سی مسکراہٹ
جو دلوں کو ہمیشہ کے لیے قریب لے آئی تھی۔۔۔۔۔

حماد کی آنکھوں میں اطمینان اور خوشی کی چمک تھی،
وہ جانتا تھا کہ سلومی اس کے ساتھ ، محبت اعتماد اور احترام کے حصار میں ہے_____________ ،

✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨



رخصتی کا لمحہ آیا تو صفیہ آپا کا ضبط ٹوٹ گیا۔.. انھوں نے سلومی کو اس طرح گلے لگا لیا جیسے ماں اپنی بیٹی کو دعاؤں میں لپیٹ لیتی ہے۔۔۔ آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کے درمیان حماد سے کہا۔۔۔
یہ میری بیٹی ہے… اور میرا گھر اس کا میکہ ، ، اسے مجھ سے جدا مت کرنا بیٹا… میری بچی کو ملوانے لاتے رہنا۔۔۔۔
یہ جملے نہیں تھے، یہ صفیہ آپا کی محبت تھی ، جو غیر ہو کر بھی سلومی کے لیے سب کچھ بن گئی تھیں ۔۔۔ ۔۔۔
وہ صفیہ آپا سے لپٹ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی ،
اس جدائی میں درد بھی تھا/ اور شکر بھی کہ زندگی نے اسے ماں جیسا سایہ دے دیا تھا۔۔۔۔
حماد نے صفیہ آپا کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے سعادت مندی سے اثبات میں سر ہلایا تھا ___ ،

اب رخصتی کا وقت تھا ۔۔۔۔ حماد نے اپنی دُلہن کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔۔۔ ہر قدم ایک نیا وعدہ، ہر لمحہ ایک نیا سفر ، جہاں اب صرف محبت ہی محبت تھی۔۔۔۔
وہ جانتا تھا کہ یہ رخصتی صرف گھر بدلنے کا نام نہیں،
یہ سلومی کی زندگی کے تمام ڈر و خوف اور تنہائیوں کا اختتام بھی ہے۔۔۔۔

مُنا چھوٹے چھوٹے قدموں سے ان کے ساتھ چل رہا تھا،
اس کے چہرے پر خوشی کی چمک تھی ۔۔۔۔۔ دروازے کے باہر سب نے ہاتھ ہلا کر انہیں رخصت کیا ، دعاؤں کی بازگشت ہوا میں گھل گئی ______ ،

سلومی کی شادی کی خبر سوشل میڈیا تک کیسے پہنچی، یہ اللّٰہ ہی جانتا تھا۔۔۔۔ سب اپنی دکانیں چمکانے کے لیے اسکے گھر کے باہر موجود تھے۔۔۔۔

جب حماد اسکا ہاتھ تھامے باہر نکلا، اینکر نے جلدی سے مائیک سلومی کی طرف بڑھا دیا ۔۔۔۔

سلومی سے سوال کیا گیا ،
سلومی صاحبہ !!! دوسری شادی کی مبارکباد ۔۔۔ اس خوبصورت دن پر آپ کیسا محسوس کر رہی ہیں ؟ سنا ہے آپکا تو ایک چار سال کا بیٹا بھی ہے، کیا آپ کو زیب دیتا ہے دوسری شادی کرنا ؟

یہ کوئی مبارکباد نہیں تھی، بلکہ ایک طلاق شدہ عورت کے دوسرے نکاح پر کھلا طنز تھا ، ،

وہ اِن سب باتوں کے لیے تیار نہیں تھی۔۔۔ وہ تو سب کچھ نظر انداز کرکے چُپ چاپ وہاں سے گزر جانا چاہتی تھی ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ لیکن یکے بعد دیگرے چبھتے سوال، ، ،

اُس نے دل میں عزم کر لیا کہ وہ سب کو منہ توڑ جواب دے گی، تاکہ طلاق یافتہ یا بیوہ عورتوں کے نکاح کو طنز و مزاح کا نشانہ نہ بنایا جائے۔۔۔۔۔

اُس نے حماد کی طرف نظریں اٹھائیں، جیسے وہ اس سے اجازت طلب کر رہی ہو۔۔۔
حماد نے سر ہلا دیا، یہ اس کی طرف سے مکمل رضا مندی تھی۔ کیونکہ وہ اچھی طرح سے جانتا تھا کہ سلومی میڈیا کے سامنے جو بھی بولے گی، وہ پُراثر، مثبت اور مضبوط ہوگا ۔۔۔
اُس نے ایک گہری سانس لی، اور پُر اعتماد لہجے میں بولی تھی ، ،
میں نے جو فیصلہ کیا، ، وہ میرا حق تھا۔۔۔۔ ہر انسان اپنی زندگی میں خوشی اور سکون تلاش کرنے کا حق رکھتا ہے۔ میں جانتی ہوں، میرے فیصلے سے کچھ لوگ حیران ہو سکتے ہیں، مگر میں نے اپنی خوشی اور اپنے بیٹے کے بہتر مستقبل کا خیال رکھتے ہوئے اپنے لیے ایک بہترین ہمسفر چنا ہے۔۔
اُس نے اپنی بات جاری رکھی ، ،
بڑے ہی افسوس کی بات ہے ہمارے معاشرے میں / مرد جب دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کرتا ہے تو اسے مسکرا کر، ہلکے پھلکے انداز میں لیا جاتا ہے۔۔ ۔ شادی کے شوقین مردوں پر کوئی انگلی نہیں اٹھاتا، بلکہ فخر سے کہا جاتا ہے ،
اللّٰہ نے مرد کو چار شادیوں کی جازت دی ہے ، ، شادی تو کی ہے / بے چارے نے کوئی، زنا نہیں کیا۔۔۔۔
لیکن جب عورت کے دوسرے نکاح کی بات ہو تو سب کچھ بدل جاتا ہے۔ ۔ طلاق شدہ یا بیوہ عورت کا دوسرا نکاح، سوال یا تنقید کا سبب بن جاتا ہے۔ عورت کو کیوں حق نہیں دیا جاتا کہ وہ دوبارہ شادی کرے،۔۔ ؟ جبکہ مرد سنت ادا کر رہا ہے۔۔۔ اور عورت گناہ کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
واہ یہ کہاں کا انصاف ہے ؟
سلومی کی گرجتی آواز نے ماحول پر سکتے کی کیفیت طاری کر دی تھی ۔۔۔۔

دین اسلام نے مرد و عورت دونوں کو برابر کے حقوق دیے ہیں۔ ۔۔۔۔ ایسی گھٹیا سوچ رکھنے والوں کو شرم آنی چاہیے جو حلال رشتوں میں فتنہ فساد برپا کرتے ہیں۔۔۔
اگر واقعی آپ لوگوں میں اتنا دم ہے تو آپ لوگ اُن خواتین و حضرات کی واٹ لگاؤ جو بغیر نکاح کے ناجائز مراسم بناتے ہیں ، جسے ہمارا یہ دوغلا معاشرہ صاف ستھری دوستی کا نام دیتا ہے ۔۔ میں آپ سے ایک سوال پوچھتی ہوں ،
ہمیں حرام کاری پر اعتراض کیوں نہیں ؟ ؟ ہمیں نکاح پر اعتراض کیوں ہے ؟ ؟
طلاق یافتہ یا بیوہ عورت کی دوسری
شادی کو معیوب کیوں سمجھا جاتا ہے؟ اُس پر طنز کے نشتر چلانا سب اپنا فرض کیوں سمجھ لیتے ہیں ؟؟؟
یہ سب معاشرتی منافقت ہے، جو نہ صرف عورت کے حق کو دبا رہی ہے بلکہ دین کی تعلیمات کی نفی بھی کر رہی ہے۔۔۔

اُس کا دھواں دار جواب میڈیا والوں اور اِرد گِرد کھڑے لوگوں کے پسماندہ ذہنوں پر ہتھوڑے کی طرح برس رہا تھا,

ایک لمحے کے لیے تو ایسا لگا جیسے ہوا بھی رک گئی ہو ۔۔۔ ہر طنز، ہر سوال، سلومی کی حاضر جوابی کے سامنے بے بس ہو گیا تھا ۔۔۔۔
وہ سب، جو مائیک ہاتھ میں لیے سلومی کے سامنے کھڑے تھے، اُس کے منہ توڑ جواب کے اثر میں دبے ہوئے، سر جھکائے، اپنا سا منہ لے خاموشی سے وہاں سے گزر گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔

حماد خاموشی سے اسے سُن رہا تھا، اسے فخر محسوس ہورہا تھا کہ اس نے سلومی جیسی نڈر اور سمجھدار لڑکی کا انتخاب کیا ۔۔۔۔۔ آج سلومی کی حاضرجوابی نے میڈیا کی بولتی بند کی تھی اور یہی نہیں بلکہ معاشرتی ناپاک نظریات کے خلاف ایک زوردار پیغام سوشل میڈیا تک پہنچا دیا تھا _________ ،

حماد نے گاڑی کا دروازہ کھول دیا تھا ،
عارفہ پھپھو اس کا بھاری بھرکم لہنگا سنبھالتی ہوئیں ، گاڑی میں بیٹھنے میں مدد کر رہی تھیں ،
مُنا کو حماد نے اپنے پاس فرنٹ سیٹ پر بٹھایا۔۔۔وہ خوشی سے مسکراتا ہوا اس کے ساتھ بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔۔
گاڑی کا دروازہ بند ہوا تو اندر گلاب موتیوں کی بھینی بھینی خوشبو پھیل گئی۔۔۔۔
ریئر ویو مرر / میں حماد نے ایک نظر پیچھے بیٹھی ہوئی اپنی دلہن پر ڈالی۔۔۔
اتفاق سے اسی لمحے سلومی کی نظریں بھی اسی شیشے سے آ ٹکرائیں۔۔۔۔
ایک لمحے کو وقت جیسے تھم سا گیا۔۔۔۔۔
سلومی کے لبوں پر ہلکی سی لرزش آئی، رخساروں پر شرم کی سرخی ابھری ، وہ فوراً نظریں جھکا گئی۔۔۔۔
اِس ایک نظر کے میلاپ نے حماد کے بے چین دل کو قرار بخش دیا تھا ۔۔۔۔۔ اُس نے مسکرا کر اسٹیئرنگ پر ہاتھ جمائے اور گاڑی اسٹارٹ کر دی۔۔۔۔۔۔
چاندنی رات میں ، ، ہوا کے خوشگوار جھونکوں کے ساتھ ، یہ رخصتی ایک نئے آغاز کی روشنی میں ڈھل رہی تھی ،
سلومی، حماد اور مُنا کے لیے
ایک نئی زندگی کی شروعات ______ ،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے

17/02/2026

عنایہ کی صبح آنکھ کھلی تو آبیان کمرے میں نہیں تھا
تھوڑا ہوش آنے کے بعد عنایہ بلنکٹ ہٹانے لگی تو روم کا دروازہ کھلا
آبیان ناشتے کی ٹرے لے کر اندر آرہا تھا
عنایہ اسے دیکھ کر بیڈ پر بیٹھ گئی
"اٹھ گئی میری رائل پرنسیس"
آبیان اسکی طرف ٹرے کھسکاتے ہویے بولا
آبیان نے ٹرولی سے ناشتے کی ٹرے اٹھا کر بیڈ پر رکھی
"اپنے یہ سب کیوں کیا کوئی اور کردیتا"
عنایہ ناشتے کی طرف دیکھتی ہوئی بولی
"میں نے سوچا آج کیوں نہ اپنے ہاتھوں سے تمہارے لئے ناشتہ بناؤ "
آبیان بلنکٹ ایک طرف رکھتے ہویے بولا
اور عنایہ کے سر پر اپنے لب رکھے
عنایہ مسکرا کر نظریں جھکا گئی
"میں فریش ہوجاؤ"
عنایہ اسے دیکھتے ہویے بولی
"ہاں فریش ہو جاؤ جب تک میں چائے بڑھتا ہو"
آبیان اسے دیکھتا ہوا بولا
"جی سہی ہے"
عنایہ کہ کر فریش ہونے چلی گئی
عنایہ واشروم سے نکلی تو آبیان بریڈ پر جیم لگا رہا تھا
عنایہ بیڈ پر اسکے بلکل سامنے بیٹھ گئی
آبیان نے اسکی طرف بریڈ پاس کی
"تمہارے لئے ایک سرپرائز ہے"
آبیان ناشتہ کرتے ہویے بولا
"کیسا سرپرائز"
عنایہ بریڈ کی بائٹ لیتی ہوئی بولی
"بتا دونگا تو سرپرائز کیسے رہیگا"
آبیان اسکو دیکھتا ہوا بولا
"پھر بھی کچھ تو بتادیں"
عنایہ کو دلچسپی ہورہی تھی
"رات تک انتظار کرو بےبی اور ہاں رات کو تیار رہنا ہمیں باہر جانا ہے میں رات تک آؤ گا"
آبیان پلیٹس واپس ٹرے میں رکھتے ہویے بولا
اور باہر چلا گیا
"ایسی کیا بات ہے جو وہ مجھے ابھی نہیں بتا رہے"
عنایہ سوچنے لگی

*****
"تم نے مجھے کیوں بلایا ہے"
سارہ اور سلمان دونوں ریسٹورانٹ میں بیٹھے تھے
تھوڑی انتظار کے بعد جب سلمان نے کچھ نہیں کہا تو سارہ بولی
"مجھے تمہاری راۓ چاہیے کیا تم مجھ سے شادی کرو گی"
سلمان صاف صاف کہنے لگا
سارہ کو تو شوق ہی لگ گیا تھا
"ابھی تو رشتہ پکا ہوا ہے اور ابھی ہی شادی"
سارہ حیرت سے بولنے لگی
"ہاں تم بتادو"
"میں پڑھنا چاہتی ہو ابھی"
سارہ کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا لیکن وہ سچ میں پڑھنا چاہتی تھی
"تم شادی بعد بھی پڑھ سکتی ہو کوئی مسلہ نہیں ہے"
سلمان اسکو سمجھانے لگا لیکن بنا اسکی مرضی کے وہ ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا اگر وہ بلکل تیار ہے شادی کے لئے تبھی وہ اپنی فیملی سے بات کرتا
"میں ابھی شادی سے لئے ریڈی نہیں ہو اور ابھی مجھے شادی نہیں کرنی اور میں ابھی پڑھنا چاہتی ہو"
سارہ اسکو سمجھانے لگی
"کوئی مسلہ نہیں ہے تم پڑھ لو جتنا ٹائم چاہیے لے لو میں زبردستی کا قائل نہیں ہو لیکن آنا تمھیں میرے پاس ہی ہے یہ یاد رکھنا "
سلمان اسکو بتانے لگا اور آخری بات پر شوخیہ ہوا
"ہاں جانتی ہو"
سارہ نظریں جھکاے بولی
جس کا۔ مطلب تھا وہ دل سے راضی ہے

*****

"میرے پاس تو کپڑے ہی نہیں ہے"
عنایہ اتنے سارے کپڑے دیکھتی ہوئی بولی
ہاں کپڑے تو ہے لیکن کوئی اچھا نہیں ہے"
عنایہ خود سے ہی باتیں کرتی ہوئی بولی
جب کپبورڈ کے سائیڈ حصے پر نظر پڑی تو ایک شوپر رکھی تھی
"اس میں کیا ہے"
عنایہ شوپر دیکھتی ہوئی بولی
شوپر کھولی تو اس میں پاؤ تک آتی میکسی نیوی بلیو کلر کی جس میں گلے اور ہاتھوں پر کڑھائی کی ہوئی تھی اور پری فرل والی تھی
"واہ کتنی اچھی لگ رہی ہے"
عنایہ نے مکسی دیکھ کر کہا
"یہ میرے لئے ہے"
عنایہ سوچ ہو رہی تھی کہ شوپر سے ایک چٹ گھری
"یہ تمہارے لئے ہی ہے جانا جلدی سے تیار ہو جاؤ مجھے تمھیں اس میں دیکھنا ہے مجھے یقین ہے اس میں تم بہت خوبصورت لگو گی"
عنایہ چٹ پڑھ کر شریر سی مسکرائی
اور مکسی پکڑ کر چنج کرنے چلی گئی
آبیان اسکو بلانے کمرے میں آیا تو مہبوت سا رہ گیا
عنایہ پر وہ مکسی بے حد خوبصورت لگ رہی تھی جیسے کوئی پری اتری ہو
"تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو ایسا کرتے ہے کہی نہیں جاتے "
آبیان اسکے قریب اکر اسکے کان میں سرگوشی کرتے ہویے بولا
"نہیں نہیں چل رہے ہے نا مجھے سرپرائز دیکھنا ہے"
عنایہ شیشے میں سے دیکھ کر آبیان کو بولی
"اچھا رکو کھڑی رہو یہی"
آبیان جیب سے ایک لاکٹ نکلتا ہوا بولا اور عنایہ کے بال ہٹا کر اسکے گلے میں لاکٹ ڈالا
"اسکو کہی نہیں کھونے دینا "
آبیان کہتے ہویے اسکا سرخ چہرہ دیکھ رہا تھا
"چل لو اس سے پہلے کہ میں بہک جاؤ"
آبیان کھوے ہویے لہجے میں بولا
گولڈ کا لاکٹ جس میں اے اور بی لکھا تھا
"اس میں اے اور بی کیوں لکھا ہے
عنایہ لاکٹ کو ہاتھ لگاتی ہوئی بولی
"کیوں کے تمہاری زندگی شروع تم سے ہوئی لیکن ختم مجھ پر ہوگی"
آبیان عنایہ کے کندھو پر اپنی تھوڑی رکھتے ہویے بولا
"یہ کیسی بات ہوئی"
عنایہ کو اس کی بات سمجھ نہیں ای تو کہنے لگی
"تم نہیں سمجھو گی یہ میرا طریقہ ہے مشکل تو ہوگا"
آبیان معنی خیز نظروں سے کہنے لگا
"اچھا چلیں"
عنایہ اسکی نظروں سے کنفیوز ہوتی کہنے لگی

*****

آبیان عنایہ کی آنکھوں پر پٹی بھادنے لگا
"یہ کیا کر رہے ہیں آپ"
عنایہ نے آبیان کو پٹی آنکھوں پر لے۔ جاتے ہویے فورن کہا
"بھروسہ رکھو کڈنیپ نہیں کر رہا"
آبیان اسکی آنکھوں پر پٹی بھاند کر عنایہ کی کان میں سرگوشی کرنے لگا
وہ ایک ہال تھا جہاں آبیان عنایہ کو لے۔ کر آیا تھا
آبیان عنایہ کو آرام سے گاڑی سے اتارا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر ہال کی طرف لیجانے لگا
ہال کی سب لائٹس بند تھی جیسے انہی کا انتظار ہو
جیسے دنوں ساتھ ہال کے اندر اے سپاٹ لائٹ ان پر پڑی اور دنوں ایک دوسرے کے لئے مکمل لگ رہے تھے
آبیان نے عنایہ کی آنکھوں سے پٹی ہٹائی
اور پورا ہال روشن ہوگیا
عنایہ بس سب کو دیکھ ہی رہی تھی سب اس کے اپنے تھے عنایہ کی پوری فیملی آج اس کے پاس تھی
عنایہ کی آنکھیں نم ہونے لگی سب کو دیکھ کر
"جاؤ ملو سب سے لیکن یہ آنسو اب خوشی کے ہونےچاہیے"
آبیان اسکی نم آنکھیں دیکھ کر بولا اور اپنے ہاتھوں سے اسکا ہاتھ آزاد کیا
عنایہ ہاں میں سر ہلا کر سب سے پہلے اپنی ماں کے گلے لگی
نم آنکھیں اپنو کو دیکھ کر بہنے کے لئے تیار تھی
اپنی ماں کے گلے لگ کر عنایہ خوب روی
اپنو کی محبت ہی الگ ہوتی ہے ہم اسکے اندازہ بھی نہیں لگا سکتے
عنایہ باری بری سب سے ملی اور پھر نظر آبش اور سارہ پر پڑی
دونوں اسکی طرف بڑھی اور ایک ساتھ گلے لگایا
اور جتنا دل بوجھل تھا تینو نے۔ رو کر پورا کیا
"ہم نے تجھے بہت یاد کیا"
آبش اور سارہ نے روتے ہویے ایک ساتھ کہا
"میں نے بھی تم لوگوں کو بہت مس کیا"
تینوں ایک دوسرے کے آنسو صاف کر رہی تھی
"ویسے ہمارے جیجو ہے بہت اچھے انہوں نے بھی سب کو بتایا تیری امی تو بہت ناراض تھی تیرے بھائی نے اتنا غصہ کیا کتنا کچھ بولا لیکن اسنے کچھ بھی نہیں کہا بہت۔ مشکل سے سب کو منایا ہے تیرے یار نے"
سارہ اسکو پوری داستان بتا رہی تھی
عنایہ تو حیرت میں ہی تھی اتنا سب کیا وہ تو کسی کو سوری بھی نہیں کہتا
عنایہ سوچ ہی رہی تھی کہ آبیان پیچھے سے آیا
"چلو کیک کٹنگ کرنی ہے"
آبیان نے کہ کر اسکا ہاتھ پکڑ کر لے جانے لگا
"میں ای"
عنایہ کہ کر اسکے ساتھ جانے لگی
"آج کا فنکشن میری جان کے نام"
آبیان اسٹیج پر چڑھ کر عنایہ کا ہاتھ تھامے کہنے لگا
عنایہ نے محبت سے آبیان کی طرف دیکھا اور اونی قسمت پر رشک کیا اور دل میں اللّه کا شکر ادا کیا
"چلو کیک کاٹو"
عنایہ کو سوچو میں گھوم پا کر آبیان نے کہا
تین فلور کا کیک جس میں عنایہ اور آبیان کی تصویر تھی
عنایہ نے کیک کاٹ کر آبیان کو کھلایا اور پھر اپنی پوری فیملی کو
عنایہ اشتیحاق سے سب کو دیکھ رہی تھی سب ہی بہت خوش تھے اور اسکا شوہر جو اسکے لئے اپنی جان سے بڑھ کر ہو گیا تھا وہ شاید مجھ سے زیادہ خوش ہے
زندگی کے یہی رنگ ہے کبھی خوشی تو کبھی گم انسان کو ثابت قدم رہنا چاہیے ہر مشکل سے نِکلنے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہوتا ہے بس انسان دیکھ نہیں پاتا

******

"آبیہ کہاں ہو"
عنایہ اسکو پورے گھر۔ میں ڈھونڈ رہی تھی
جب نظر ای تو وہ پودو کے ساتھ کھیل رہی تھی اور پوری مٹی مٹی ہوگئی تھی
"آبیہ آپ کو کتنی بار منا کیا ہے مٹی میں مت کھیلو آپ سنتی ہی نہیں ہو"
عنایہ آبیہ کو اٹھاے کہنے لگی اور روم میں لا کر اسکے کپڑے چنج کرنے لگی
آبیان نے دنوں کے نام کو ملا۔ کر اسکا نام رکھا تھا
"ماما میں پاپا تھی ہو نہ"
آبیہ بیڈ پر کھڑی کہنے لگی
"ہاں بھئی تم پاپا کی ہی ہو انکی ہی طرح ضدی"
عنایہ چر کر کہنے لگی
وہ سچ میں باپ کی ہی تھی جب آبیان گھر اتا تو وہ ماں کو مر کر بھی نہیں دیکھتی تھی
تین سال بعد اللّه نے دونو کو ایک رحمت سے نوازہ تھا جو بلکل اپنے باپ کی کوپی تھی حرکتیں بھی ایسی اور کام بھی ایسے
اور آبیان نے اسے اتنا چڑھا دیا تھا کہ وہ ضدی ہوتی جارہی تھی
"میری گڑیاں کہاں ہے"
آبیان گھر اکر سب سے پہلا سوال یہی کرتا تھا
"یہ رہی اس نے کہا جانا ہے"
عنایہ جل کر بولی اور آبیہ کے کپڑے رکھنے لگی
"پاپا کی جان کیسی ہے ماما نے زیادہ تنگ تو نہیں کیا"
آبیان اسکو اٹھاے پوچھ رہا تھا
"ہاں ماں ہی تو تنگ کرتی ہے یہ تو بہت سیدھی ہے ہر بات میری مان لیتی ہے"
آبیان کے کہنے پر تو عنایہ کی ہٹ گئی تو فرن بولی
"ماما جل رہی ہے"
آبیان اسکے کان میں کہنے لگا جس سے وہ کھلکھلا کر ہسنے لگی

*****

آبش کو اللّه نے نعمت سے نوازہ تھا
آبش کے یہاں جلد ہی اولاد کی پیدائش ہوئی تھی
حسنین بہت سیدھا بچہ تھا جو بہت کم گو تھا
اپنے ماں باپ کا۔ اور سب سے زیادہ اپنی دادی کا لاڈلہ تھا
اور جب حسنین اور آبیہ ملتے تھے تب بیچارے حسنین کی شامت آتی تھی
آبیہ اسکو مار کر اتنی معصوم بنتی تھی جیسے اس سے زیادہ دنیا میں کوئی معصوم نہیں ہے
حسن ہمیشہ حسنین کو ویڈیو کال کرتا
اسکے پاس اتنا ٹائم بھی نہیں ہوتا تھا کہ وہ سکون سے اپنی فیملی سے بات کر سکے
آبش بہت صبر شکر سے چل رہی تھی کیوں کے حسن آبش کو سب کچھ بتا چکا تھا اپنی جاب کے حوالے سے
اور آبش کو اندازہ ہورہا تھا کہ ایک ایئرفورس کی بیوی ہونا کوئی آسان کام نہیں ہے
لیکن اپنے بیٹے کی پیدائش پر بہت۔ سمبھل گئی تھی
اور زندگی کا نام ہی تو گزرنا ہے وہ گزر ہی جاتی ہے

17/02/2026

ناول۔۔۔۔ بکھرے رشتے

قسط نمبر۔۔۔۔۔ 11

دو ہفتوں تک اس نے مارشل آرٹس کے ساتھ ساتھ پڑھائی پر بھی کافی زور دیا۔ ریحان سر مزاج کے سنجیدہ تھے پر دل کے اچھے انسان تھے۔ وہ زور شاویز کی پڑھائی میں مدد کرتے رہے تھے۔
کبیر اور اس کے دوستوں سے اس کا آمنا سامنا کم ہوا کرتا اس لیے انہیں شاویز کو ٹارچر کرنے کا زیادہ مواقع نہیں مل پاتے۔ صرف اسے چھڑانے کے لیے کبیر کبھی جان بوج کر شاویز کے تیار ہونے کے وقت واشروم میں گھس جاتا ۔ کبھی اس کے بستر پر پانی گرا دیتا۔ کبھی اس کے کپڑوں کی استری خراب کر دیتا۔ شاویز اس کی یہ حرکات برداشت کر لیتا اور خاموشی اختیار کر لیتا۔ اس وقت اس کا سارا دھیان اپنے بورڈ کے امتحانات پر تھا۔

وہ اپنے امتحانات کے لیے دس دنوں کی چھٹی لے کر کراچی چلا گیا۔ دائی ماں اسے دیکھ کر تیزی سے اس سے گلے ملی۔ اسے بہت پیار دیا۔
22 سالہ ہمیمہ کی شادی ہوگئی تھی اور 19 سالہ شفیع اللہ ایک ٹھیکیدار کے ساتھ منشی لگ کر لاہور چلا گیا تھا۔ اس وقت دائی ماں کے پاس 4 سے 14 سال کے مابین بچے تھے۔ ہمیمہ کے حصہ کا کام کرنے انہوں نے ایک دوسری بیوہ عورت رکھ لی تھی۔
ان دس دنوں میں فارغ وقت میں اس نے دائی ماں اور یتیم خانے کے باقی بچوں کو مارشل آرٹس کے وہ سارے کرتب کر کے دیکھائے جو اس نے اکیڈمی میں سیکھے تھے۔ بچے تو مسرور ہوجاتے اسے تالیاں بجا کر سراہتے جبکہ دائی ماں کی آنکھیں بڑی ہوجاتی وہ اسے ڈانٹنے لگ جاتی۔
امتحانات دے کر واپسی پر وہ بہت خوش تھا۔ اب کالج کی تعلیمات شروع کرنے میں وقت تھا اس کے پاس اور اس وقت میں اس نے ریحان سر سے کئے ہوئے وعدے کے مطابق سپورٹس کی ڈبل کلاسز لینے کا ارادہ کر لیا تھا۔ آخر انہوں نے آخری دنوں میں شاویز کی اتنی مدد کی ہے اب شاویز کی باری ہے۔

اکیڈمی سے گیا وہ خالی ہاتھ تھا لیکن واپسی پر دائی ماں نے بیگ بھر کر اسے کرنل صادق اور ان کی فیملی اور ریحان سر کے لیے تحائف بھیجوائے تھے۔
اگلے دن کلاس لے کر اس نے صادق سر سے ان تحائف کا ذکر کیا۔

"کیا ضرورت تھی زبیدہ خالہ کو اتنی تکلف کرنے کی۔۔۔۔۔" انہوں نے ان کی مہربان نوازی پر مشکور ہوتے ہوئے کہا۔
"میں لے کر آتا ہوں سر۔۔۔۔۔ "۔ شاویز اپنے بیگ کے جانب بڑھنے لگا تھا تاکہ ان کے تحائف لا کر دے سکے۔
"شاویز۔۔۔۔۔ شام کو میرے ساتھ گھر چلنا۔۔۔۔۔ پھر سب کو ان کے تحائف خود پیش کرنا۔۔۔۔۔" صادق سر نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
وہ جاتے جاتے رک گیا اور چہکتے ہوئے سر اثابت میں ہلایا۔ اتنے مہینوں کے بعد صادق سر اب اسے اپنے گھر لے جائے گے؛ سوچ کر ہی وہ مسرور ہونے لگا۔ صادق سر کے جانے کے بعد وہ تیزی سے اپنے نئے کپڑے نکال کر تیاری کرنے لگا۔
باقی سب ساتھی جو اتنی سخت کلاس لے کر اپنے بستر پر نڈھال پڑے سستا رہے تھے شاویز کو اب بھی تر و تازہ خوش باش دیکھ کر حسد اور جلن میں مبتلا ہونے لگے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

کرنل صادق کا ڈیوٹی ٹائم ختم ہونے تک شاویز نہا کر سفید قمیض شلوار پہنے چھوٹے بال ترتیب سے بنائے پالش کردہ بوٹ پہنے تیار ہوکر ہاتھوں میں تحائف کا بیگ پکڑے گیٹ کے پاس کھڑا تھا۔
صادق سر اپنے ہم منصبوں سے مصافحہ کرتے ہوئے اس کے پاس آئے۔ اسے سر تا پیر اتنا تیار دیکھ کر مسکرائے اور ساتھ لیئے اپنی کار میں آکر بیٹھ گئے۔

کچھ مسافت کر کے وہ ایک چھوٹے نفیس سے گھر کے پورچ میں کار سے اترا۔ چھوٹے سا لان رنگ بہ رنگی گلدان۔ سامنے لاونج کا دروازہ۔ صادق سر کے کار سے اترتے ہی ان کی 4 سالہ چھوٹی بیٹی جو لان میں سائیکل چلا رہی تھی؛ بھاگتے ہوئے ان کے پاس آئی۔ صادق سر نے مسکرا کر اسے گود میں اٹھا لیا۔ بچی نے ہاتھ بڑھا کر ان کی کیپ اتاری اور خود اپنے ننھے سے سر پر پہن لی۔
اس بچی کی آواز سن کر باقی دونوں بچے بھی لاؤنج میں آگئے۔ ان کے پیچے صادق سر کی جوان خوب رو بیوی بھی آگئی تھی شاید صادق سر نے پہلے ہی انہیں شاویز کو ساتھ لانے کی اطلاع دی تھی۔

شاویز مسکراتا ہوا ان کے حرکات مشاہدہ کرتا لاؤنج میں داخل ہوا اور مسزز نورین صادق کو سلام کیا۔
"وعلیکم السلام۔۔۔۔ کیسے ہو شاویز۔۔۔۔۔ کب سے کہہ رہی تھی ان سے۔۔۔۔۔ تمہیں گھر لائے " انہوں نے اس کے کندھے کو تھپکتے ہوئے خوش آمدید کہا۔
"چلو بچوں۔۔۔۔۔ ادھر آکر شاویز بھائی کو سلام کرو۔۔۔۔۔" مسزز نورین نے اپنے بچوں کو مخاطب کیا۔ وہ تینوں لائن سے آکر شاویز سے ہاتھ ملا کر مصافحہ کرنے لگے۔
سب سے مل لینے کے بعد وہ فیملی اور شاویز صوفے پر بیٹھ گئے۔ شاویز نے ساتھ ہی اپنے ہاتھ میں پکڑے تحائف مسزز نورین کو پیش کئے۔ انہوں نے پُر تکلف ہو کر وہ سب تھامے اور شکریہ ادا کرتے ہوئے اس کے رخسار پر ہاتھ رکھا۔
بچے تو تحفے دیکھ کر دبی دبی خوشی سے چہک گئے تھے۔
"شاویز۔۔۔۔۔۔رات کا کھانا کھا کر جانا۔۔۔۔۔" نورین نے اسے تنبیہہ کرتے ہوئے کہا۔

شاویز نے متذبذب ہو کر صادق سر کو دیکھا۔
"انہیں کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔۔۔۔ اکیڈمی میں بھلے ہی یہ کرنل ہے۔۔۔۔۔ لیکن گھر کی کرنل میں ہوں۔۔۔۔۔ جو میں نے کہہ دیا وہی ہوتا ہے۔۔۔" انہوں نے شرارتی انداز میں آبرو اچکا کر مسکراتے ہوئے کہا۔

"بلکل درست کہہ رہی ہے۔۔۔۔ بھئی ان کے آگے میری نہیں چلتی۔۔۔۔۔ تو تمہاری کیا چلے گی۔۔۔۔ ڈنر کر کے جانا۔۔۔۔" شاویز پھر بھی منع کرنے لگا تھا پر صادق سر نے مداخلت کر کے بیوی کی حمایت کرتے ہوئے کہا تو شاویز مستحکم بھرے انداز میں سر کو جنبش دیتا کھانے پر رکنے کے لیے مان گیا۔

"ممی۔۔۔۔۔ میں شاویز بھائی کو اپنی ڈرائنگ دکھاوں۔۔۔۔"ننھی مریم اپنی ڈرائنگ بک اٹھائے اس کے پاس آئی اور اسے اپنی ڈرائنگ دکھانے لگی۔
"یہ دیکھیں۔۔۔۔۔ یہ میں ہوں۔۔۔۔۔ یہ ڈیڈی ہے۔۔۔۔۔ یہ ممی ہے۔۔۔۔۔ یہ کلثوم آپی۔۔۔۔۔ اور یہ۔۔۔۔۔ کامران بھائی۔۔۔۔" مریم ایک ایک کر کے اپنے بنائے ہوئے کرداروں پر انگلی رکھ کر شاویز کو بتا رہی تھی۔
مسزز نورین کھانے کا اہتمام کرنے کچن میں جانے لگی تو صادق سر بھی وردی تبدیل کرنے اٹھے ہی تھے کہ کامران بھاگتا ہوا ان کے ایک بازو سے جھلنے لگا اور دوسرے بازو سے کلثوم۔ ننھی مریم بھی اچھلنے لگی تو صادق سر نے اسے گود میں اٹھا لیا اور گول گول گھمنے لگے۔ تینوں بچیں اپنے والد کے ہمراہ خوشی سے ہنسنے لگے۔ شاویز ان کو دیکھتے ہوئے مسکرایا اور پھر اداس سا ہوگیا۔

اگر اس کے ماں باپ ساتھ ہوتے تو اس کی بھی ایسی ہنستی کھلتی فیملی ہوتی۔ اس نے پھیکا مسکراتے ہوئے سوچا
ماں کا پیار تو اس نے دیکھ رکھا تھا۔ باپ کی محبت کا اسے اندازہ نہیں تھا۔
"کیا میرے پاپا بھی اتنے اچھے ہے۔۔۔۔۔۔ تو میری ماں نے کبھی ان کے بارے میں تفصیلات کیوں نہیں بتائی۔۔۔۔" صادق سر کو اپنے بچوں کے ساتھ کھیلتے دیکھ کر اس نے خوشدلی سے سوچا لیکن ساتھ ہی اس کے آبرو تن گئے۔ مسکراہٹ سمٹ گئی۔
"نہیں اگر وہ اچھے ہوتے۔۔۔۔ تو میری ماں کو ایسے چھوڑ کر جاتے کیا۔۔۔۔ یقیناً وہ بہت برے آدمی ہے۔۔۔۔ اچھا ہوا میری ماں نے کبھی ان کے بارے میں نہیں بتایا۔۔۔۔ ورنہ پتا نہیں میں ان کے ساتھ کیا کر بیٹھتا۔۔۔۔" اس نے تنے ہوئے اعصاب سے سوچا اور رخ پھیر کر دوسرے جانب دیکھنے لگا۔

"تم لوگ بھی نا۔۔۔۔۔ انہیں کپڑے تو چینج کرنے دو۔۔۔۔۔ شاویز کے ساتھ کھیلو۔۔۔۔۔ وہ کیا سوچ رہا ہوگا۔۔۔۔۔ چلو اترو۔۔۔۔۔" مسزز نورین نے اپنے بچوں کو ڈپٹتے ہوئے صادق سر کے بازووں سے اتارا اور مریم کو اپنی گود میں لے لیا۔ ممی کے جھڑکنے پر کامران اور کلثوم تمیز سے صوفے پر آکر بیٹھ گئے۔ صادق سر اپنے بیڈروم میں چلے گئے۔ جبکہ نورین ننھی مریم کو ساتھ کچن میں لے گئی۔

رشتے میں کرنل صادق غفار اور ان کی بیگم نورین کزنز بھی تھے۔ صادق سر کے والدین پنجاب میں قیام پذیر تھے۔ ان کے والد پنجاب اسمبلی کے رکن تھے۔ ان کے بڑے بھائی بھی اعلی عہدے پر فائز تھے۔ بہنیں بھی اچھی جگہوں پر شادی شدہ تھی اور خود وہ کرنل کے عہدے پر۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

صادق سر کے گھر سے آکر وہ بہت اداس ہوگیا تھا۔ حلانکہ مسزز نورین اور بچوں نے اس کی کافی خیر مقدمی کی تھی۔ اس کے ساتھ الگ الگ گیمز کھیلے۔ بھر پور مزے مزے کا کھانا کھلایا لیکن اپنی فیملی ہونے کی خواہش امڑ امڑ کر اس کے دل کو غمزدہ کر رہی تھی۔ اس کے بھی ماں باپ ہوتے بہن بھائی ہوتے۔ اور نہ صحیح تو کم از کم اس کی ماں ہی زندہ ہوتی۔
وہ اسی طرح بغیر کپڑے تبدیل کئے ہی افسردہ دل سے بستر میں آکر لیٹ گیا۔
وہ مسلسل اپنے جذبات قابو کرتا۔ اپنے آنسو پیتا آنکھیں مظبوطی سے بند کئے لیٹا رہا. اپنی ماں زرتاج کو یاد کرتے ہوئے اور ان کو چیننے والے دلاور پرویز خان کو نفرت سے یاد کرتے ہوئے وہ تیز تیز سانس لیتا رہا اور اسی اثناء میں سو گیا تھا۔

وہی دوسری جانب کبیر کو جب معلوم ہوا کہ کرنل صادق شاویز کو اپنے گھر مدعو کر کے لے گئے ہیں تو وہ جل بھن سا گیا۔ آج تک صادق سر کبھی کسی سٹوڈنٹ کو اپنے گھر نہیں لے کر گئے تھے پھر شاویز کو ہی کیوں سوچتے ہوئے اسے شاویز سے شدید نفرت ہونے لگی۔ اس نے شاویز کو سبق سکھانے کا منصوبہ سوچ لیا تھا۔

سوتے سوتے آخری پہر اس کی ڈر کے مارے نیند کھل گئی۔ وہ کوئی بہت خوفناک خواب دیکھتا ہوا اٹھ بیٹھا تھا۔ اس نے ہڑبڑا کر آس پاس دیکھا سب لڑکے گہری نیند سو رہے تھے۔ ابھی رات کافی باقی تھی۔ وہ اپنے اوپر کلمہ پڑھ پھونک کر واپس سوگیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

15 سالہ شاویز کرنل صادق کا تو پسندیدہ تھا ہی اب کھیل کے میدان میں بھی اپنے جوہر دکھا کر ریحان سر کو امپریس کر رہا تھا۔
اسد ساڑھے 17 سال کا ہو کر اب ان کے گروپ سے الگ ہوگیا تھا وہ uner 19 کے گروپ میں شامل ہوگیا تھا۔ شاویز کا باقی ساتھیوں میں کسی سے کوئی دوستی نہیں ہو سکی تھی وہ سب کبیر کے ساتھی تھے۔

اس دن صبح ناشتے کے بعد سے ہی شاویز کو اپنی طبعیت ناساز لگ رہی تھی۔ اس سے فٹبال کھیلا نہیں جا رہا تھا۔ اس کے پیٹ میں شدید درد ہورہا تھا۔ ریحان سر نے اسے کواٹر میں جا کر آرام کرنے کی تجویز دی۔
وہ اپنے بستر پر پیٹ کے بل آکر لیٹ گیا۔ اسے اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ وہ اٹھنے کی کوشش کرتا لیکن چکر آنے کے باعث واپس لیٹ جاتا۔
اسی کشمکش سے دو چار ہوتے شاویز کو اپنے پِیٹھ پر کسی وزنی چیز کا پڑنا محسوس ہوا اس نے کراہتے ہوئے رخ پیچے موڑ کر دُکھتی آنکھوں سے اسے دیکھا۔ کبیر استحزیہ ہنستے ہوئے حقارت بھری نگاہوں سے اسے گھورتے اس کی پیٹھ پر چڑھ کر بیٹھا تھا۔ شاویز نے ہلنے کی کوشش کر کے اسے خود سے ہٹانے کے جتن کئے لیکن پیٹ درد سے اس کی حالت غیر ہورہی تھی۔
"صادق سر اور ریحان سر۔۔۔ دونوں کا favourite بنا ہوا ہے یہ۔۔۔۔۔ میں 1 سال سے ان کا پسندیدہ بننے کے لیے دن رات جی جان لگا رہا ہوں۔۔۔۔ اور یہ آتے ہی ان کا ٹاپ سٹوڈنٹ بن بیٹھا۔۔۔۔۔" اتنے کہتے ساتھ کیبر طیش میں آگیا اور شاویز کے دونوں ہاتھ پکڑ کے اپنے طرف کھینچنے لگا۔ پیٹ درد کے ساتھ اب کندھوں میں اٹھتی ٹیسیں۔ شاویز بری طرح جھلملا گیا۔ اپنی پوری قوت سے وہ خود کو آذاد کروانے کی کوشش کرنے لگا لیکن چکراتے سر کی وجہ سے اس کی ہمت جواب دے گئی تھی۔

وہ اپنی پوری قوت سے دھاڑنے لگا۔ اس کی چیخو سے گڑبڑا کر کبیر نے اس کے ہاتھ چھوڑ دیئے اور اس پر سے نیچے اترا۔ وہ ہمت کر کے اٹھا اور اپنے کندھے سہلاتا ہوا اسے مارنے لگا تھا کہ لڑکھڑا کر زمین پر گر پڑا۔
"ابھے۔۔۔۔۔ یہ کیسے نشے کی دوائی لایا تھا تو۔۔۔۔۔۔ اس پر تو اثر ہی نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔ ابھی تک ہوش میں ہے۔۔۔۔ " کبیر نے غصہ میں اپنے دوست کو زور سے دھکا دے مارا۔

تو اس نے مجھے نشے کی دوا دی ہے جس سے میری طبیعت خراب ہورہی ہے؛ سوچتے ہوئے شاویز تیزی سے واشروم میں بھاگا اور سنک پر جھک کر حلق میں انگلی ڈال کر الٹی کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ الٹی تو نہ ہوئی لیکن چکر آنے کی مقدار مزید تیز ہوتی گئی۔ اس کا اکلوتا خیر خوا اسد بھی اب اس کے ساتھ نہیں تھا۔ وہ ان سب کے مقابلے اکیلا تھا۔ اگر وہ یہاں گر پڑا تو کبیر اس کا گلہ گھونٹ کر سچ میں اسے یہی مار دے گا سوچتے ہی وہ لڑکھڑاتا ہوا زبردستی خود کو ہوش میں رکھنے کی کوشش کرتا گرتا اٹھتا ہال سے نکل کر والی بال گراونڈ کی جانب بڑھ گیا جہاں ریحان سر انڈر 19 سٹوڈنٹس کا میچ کروا رہے تھے۔ پیٹ پر ہاتھ رکھے ہوئے شاویز گروانڈ کے قریب پہنچا ہی تھا کہ اس کی ہمت ختم ہوگئی۔ وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا۔
"ریحان سرررر۔۔۔۔۔۔ " اس نے بچی کچی طاقت ریحان احمد کو بلند آواز میں مخاطب کرنے میں لگا دی۔
سر جیسے ہی اس کی آواز پر پلٹے تھے وہ بے ہوش ہوگیا اور زمین پر گر پڑا۔ اس کے آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا تھا۔

ریحان احمد، شاویز کی آواز پر تعجبی انداز میں مڑے کہ ٹھٹک گئے۔ بھاگتے ہوئے شاویز کے پاس آئے۔ اس کو سیدھا کیا اور کندھوں سے جھنجوڑا لیکن وہ بے حس و حرکت تھا۔ پھرتی سے اسے بازووں میں اٹھا کر میڈیکل کیمپ کے جانب بھاگے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

جب شاویز کی آنکھ کھلی۔ اسے ہوش آیا تو اس نے اپنے پہلو میں صادق سر کو متفکر انداز میں بیٹھے پایا۔ ہفتہ اور اتوار ان کی چھٹی ہوتی ہے تو یقیناً ریحان سر نے انہیں شاویز کے بے ہوش ہونے کی اطلاع دی تھی اور وہ فوراً سے گھر کے کپڑوں میں ہی آگئے تھے۔
ڈاکٹر نے اس کا معدہ واش کروایا اور کچھ دوائیاں دے کر رخصت کر دیا۔ میڈیکل کیمپ سے اپنے کواٹر تک واپسی وہ صادق سر کے ساتھ آیا تھا۔ ایک جگہ وہ رک گیا تو صادق سر بھی رک گئے اور سنجیدہ تاثرات بنائے اسے دیکھنے لگے۔

"سر۔۔۔۔ کبیر مجھے بہت تنگ کرتا ہے۔۔۔۔۔ میرے ناشتے میں نشے کی دوا بھی اس نے ملائی تھی۔۔۔۔۔" اس نے بھی اسی سنجیدہ انداز میں صادق سر کو اپنے ساتھ ہوئے سب ٹارچرز کے متعلق بتایا۔

"جانتا ہوں۔۔۔۔" اس کے انکشاف پر صادق سر بے تاثر رہے تھے جبکہ صادق سر کے انکشاف پر شاویز کا رنگ فق سے اڑ گیا تھا۔

وہ شاک کے عالم میں اپنی جگہ منجمد ہو گیا۔
صادق سر نے شاویز کو حیران پریشان خود کو بغور دیکھتے ہوئے پایا تو اس کے پاس آئے۔ اس کا بازو تھام کر اپنے ساتھ بینچ پر بیٹھایا۔ سر سامنے دیکھنے لگے اور شاویز مسلسل بے یقینی سے صادق سر کو۔

اسے یہ یقین نہیں آرہا تھا کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی وہ کبیر کے خلاف ایکشن نہیں لیں رہے تھے۔
صادق سر گلا صاف کرتے ہوئے نرمی سے اس سے گویا ہوئے۔
"دیکھو شاویز۔۔۔۔ ہر عمل کے دو پہلو ہوتے ہے۔۔۔۔ ایک منفی۔۔۔۔۔ ایک مثبت۔۔۔۔" انہوں نے ایک کے بعد دوسری انگلی اٹھائی۔

"تم کبیر کے ٹارچر کا منفی پہلو دیکھ رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔ اور میں مثبت ڈونڈھ رہا ہوں۔۔۔۔۔" وہ نرمی سے مسکرائے۔
"اب تم سوچ رہے ہوگے۔۔۔۔۔ کسی کو تنگ کرنے میں مثبت کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔" صادق سر نے آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا وہ اب بھی خاموشی سے ان پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔
"جب کبیر تمہیں تنگ کرتا ہے تو میں یہ دیکھتا ہوں تم کیا ردعمل دیکھاو گے۔۔۔۔" اب وہ قدرے سنجیدہ ہوگئے۔
"صرف فزیکلی مظبوط بننا ہی ایک کامیاب فوجی بننے کے لیے کافی نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ ذہنی طور پر بھی طاقتور ہونا چاہیئے۔۔۔۔۔" صادق سر اب بلکل اس کی آنکھوں میں دیکھ کر گفتگو کر رہے تھے۔

" ذہین تو تم ہو۔۔۔۔۔۔۔ no doubt۔۔۔۔۔ لیکن کب کس بات پر؛ کس عمل پر کیا ردعمل دینا ہے۔۔۔۔۔ یہ تمہاری ذہنی طاقت فیصلہ کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ کبیر کے ٹارچرز۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں مینٹلی توانا بنا رہے ہیں۔۔۔۔۔ اگر تم مثبت انداز میں سوچو تو۔۔۔۔۔" وہ اب شاویز کو اس کے اصل طاقت سے روشناس کروا رہے تھے۔

" سوچو۔۔۔۔۔ جب تم کراچی میں تھے۔۔۔۔۔۔ کوئی تم سے الٹی بات بھی کہہ دیتا تم اسے مارنے پر اتر جاتے۔۔۔۔۔۔ اتنا غصہ تھا کہ مجھے امپریس کرنے برفلیلا پانی خود پر ڈال دیا تھا۔۔۔۔ لیکن اب تم کافی حد تک اپنے غصے کو قابو کرنا سیکھ گئے ہو۔۔۔۔۔" ان کی باتیں سنتے سنتے شاویز کو واقعی احساس ہوا وہ اب ہر چھوٹی چھوٹی چیز پر ہاتھا پائی پر نہیں اترتا۔

"میں اسی لیے کبیر کے ہر عمل پر خاموش تھا۔۔۔۔۔ کیونکہ میں تمہیں صرف جسمانی لحاظ سے نہیں ذہنی طور پر بھی مظبوط بنانا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔ میں نے کبیر کے خلاف اسی لیے ایکشن نہیں لیا کیونکہ میں چاہتا تھا۔۔۔۔۔ تمہاری برداشت کرنے کی پاور بڑھے۔۔۔۔۔۔۔ تم میں حوصلہ پیدا ہو۔۔۔۔۔۔۔" آخری فقرے پر صادق سر پھر سے نرمی سے مسکرائے ۔

"ابھی تو آگے بہت سخت مراحل پیش آئے گے۔۔۔۔۔ یہ تو صرف شروعات ہے۔۔۔۔۔۔ مین فیز میں تو اچھے اچھو کی ہمت جواب دے جاتی ہے۔۔۔۔۔ تمہیں بہت حوصلہ مند بننا ہے۔۔۔۔۔۔ شاہ سوار کی ایک خوبی یہ بھی ہوتی ہے۔۔۔۔" صادق سر نے اس کے کندھے کو تھپکتے ہوئے کہا۔ اس کی حوصلہ افزائی کی۔
شاویز ان کی باتوں پر خوش دلی سے مسکرایا۔
"زندگی کسی کے لیے بھی اتنی سیدھی اور آسان نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ ہر قدم پر کسی نہ کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔ کبھی اس مشکل کا حل ہمارے پاس ہوتا ہے تو کبھی نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔ کامیاب انسان بننے کے لیے مظبوط ہونے کے ساتھ ساتھ صابر اور برداشت کرنے والا بھی بننا پڑتا ہے۔۔۔۔۔" صادق سر ایک زمہ دار سرپرست کی طرح اسے سمجھا رہے تھے اور شاویز خاموشی سے کان لگا کر ان کی ساری نصیحت پر غور کر رہا تھا۔

"کبیر کی شرارتوں کا مجھے اندازہ تو تھا لیکن۔۔۔۔۔ تم سے حسد میں وہ اس حد تک گر جائے گا۔۔۔۔۔ یہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔۔۔۔ اس بات کے لیے تو ایکشن لینا ہی چاہیئے۔۔۔۔" کرنل صادق تند تاثرات بناتے ہوئے کھڑے ہوگئے۔ انہیں کبیر کا شاویز کو نشہ آور شے دینے پر غصہ آرہا تھا۔

"نہیں سر۔۔۔۔۔ آپ کوئی ایکشن نہیں لیں گے۔۔۔۔۔ اب کبیر کے ہر ٹارچر کا جواب میری برداشت دے گی۔۔۔۔۔ اسے مجھے جتنا distract (موقف سے پھیرنا) کرنا ہے۔۔۔۔۔ کر لیں۔۔۔۔۔۔ میں کوئی ردعمل نہیں دکھاوں گا۔۔۔۔۔ مجھے حوصلہ مند جوان بننا ہے۔۔۔۔" شاویز نے پر عزم انداز میں سر کو کوئی بھی ایکشن لینے سے روکا۔ انہوں نے اس کی غیرت مند ارادے پر فخر محسوس کرتے ہوئے شاویز کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے دباؤ دیا۔

"یہ ہوئی نا بات۔۔۔۔۔ that's the spirit۔۔۔۔۔ " اس کو داد دیتے ہوئے وہ شاویز کو آرام کرنے کی ہدایت دے کر وہاں سے روانہ ہو گئے۔

شاویز کواٹر میں واپس آیا تو اس نے کبیر کو اضطراب میں دائیں سے بائیں چکر کاٹتے پایا۔ اسے لگا ہوگا شاویز کرنل صادق کو ساتھ لا کر اسے سزا دلوائے گا لیکن وہ کبیر کو نرمی سے مسکراہٹ سپرد کرتے اپنے بستر پر آکر لیٹ گیا۔
کبیر حیرت زدہ رہ گیا تھا۔ اس کے اتنا کچھ کرنے کے باوجود بھی شاویز اتنا نارمل برتاو کر رہا تھا کہ اندر ہی اندر کبیر کو اپنے کئے پر ندامت کا احساس ہوا۔ وہ سر جھکا کر شاویز کو آرام کرنے چھوڑ کر ہال سے باہر نکل گیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

16 سال سے شاویز کی مین ٹریننگ شروع ہوگئی۔ وہ اپنے مارشل آرٹس کے ساتھ ساتھ آرمی ٹریننگ پر آگیا۔ وہ صبح فجر کے بعد گراونڈ میں دوڑ لگاتا۔ پھر کچی زمین میں خار دار تاروں کے نیچے رینگتے ہوئے گزرتا۔ رسی پر چڑھتا۔ دیوار پھلانگتا۔ ٹھنڈے پانی کے تالاب میں تیراکی کرتا۔ اور بھی ایسے بہت کرتب تھے جو وہ صادق سر کے زیر نگرانی سر انجام دیتا رہتا۔ اکثر و بیشتر وہ مسزز نورین کے اصرار پر ان کے گھر بھی چلا جایا کرتا۔
سپورٹس میں بھی اس نے کافی مہارت حاصل کر لی تھی۔
اس دن کے بعد سے کبیر نے اسے تنگ کرنا چھوڑ دیا تھا۔ وہ اب ان سب گروپ کا دوست بن گیا تھا۔
دائی ماں سے اس کی ہفتہ وار کال پر بات ہوجایا کرتی۔

ہر مرحلے کے ساتھ ٹریننگ مشکل ترین ہوجاتی لیکن وہ بنا تھکے ہارے اپنی محنت جاری رکھتا۔
قد تو اس کا پہلے بھی لمبا تھا اب ایک فوجی جوان کی مانند اس کی باڈی بھی بن گئی تھی۔ شانے چھوڑے سینہ تھانے۔ ڈٹی آواز کے ساتھ وہ دن بہ دن ہینڈسم نوجوان بننے کی راہ پر گامزن تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

17 سال کا ہونے تک اس کا یہی معمول رہا اور پھر اس کا مِنی ٹیسٹ (چھوٹا امتحان) ہونا تھا۔ شاویز کے بشمول اس کے اکیڈمی سے 10 سٹوڈنٹس نے ٹیسٹ میں شرکت کی۔ ایک کھلے سٹیڈیم میں ان کو الگ الگ طریقوں سے آزمایا جانا تھا۔ پنچاب سندھ اور خیبر پختون خوا سے بھی اس ٹیسٹ میں کئی جوان حصہ لے رہے تھے۔ ٹیسٹ کے ججز موجودہ دور کے ISPR اور ان کے ساتھی ارکان تعینات کئے گئے تھے۔
ٹیسٹ کا آغاز مارشل آرٹس کے کرتب سے کیا گیا۔ پھر سب امیدواروں کے درمیان دوڑ کروائی گئی۔ ایسے ہی سومنگ مقابلہ۔ فٹبال مقابلہ اور کچھ سولو مقابلے کروائے گئے۔ ہر مقابلہ کی آخر میں ایک ایک امیدوار جسکے سب سے کم پوائنٹس ہوتے مقابلے سے خارج کر دیا جاتا۔
تین دن پر مشتمل اس مقابلے کے ہر حصے میں شاویز پہلے یا دوسرے نمبر پر ضرور ہوتا۔
آخر میں بلوچستان کی نمائندگی کرتا شاویز اور پنجاب کی نمائندگی کرتا امیدوار میدان میں باقی رہے۔
ان کے بیچ ایک آخری مقابلہ کیا جانا تھا۔ جو کہ اکیڈمی کے مین فیز سے مماثلت میں تھا۔ ان کو تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے سٹیڈیم کے مضافات کا دورہ کرتے ہوئے واپس سٹیڈیم کی سرخ لائن تک رسائی حاصل کرنی تھی۔ جس نے سب سے پہلے سرخ لائن عبور کیا وہ جیتنے والا اعلان کر دیا جاتا۔
پسٹل کے فائر کے ساتھ آخری مقابلے کا آغاز ہوا۔ اس دن سٹیڈیم ہجوم سے بھرا ہوا تھا۔ شاویز کے اکیڈمی کے سب آفسران اس کی جیت کی دعائیں کرتے انگشت بہ دندان بیٹھے تھے۔
دوڑ کے دوران انہیں بیچ میں ڈالے جانے والے خلل کو پار کرنا تھا۔ اسی کے چلتے شاویز کی تیز نظریں سامنے آنے والی رکاوٹ کے سپیڈ اور اسے پار کرنے کے اندازے میں لگی ہوئی تھی۔ وہ پھرتی سے سب رکاوٹیں پار کرتا بلمقابل امیدوار سے آگے نکل گیا۔
ایک جگہ انہیں پہاڑی کے اوپر سے چڑھ کر بھاگنا تھا جہاں سامنے سے جعلی چٹانوں کو ان کا رکاوٹ بنانے گرایا گیا۔ شاویز تو چٹان کی سپیڈ کیلکیولیٹ کرتا ہوا ہلکا سا سائیڈ پر ہوگیا اور چٹان اس کے ساتھ سے گزرتے ہوئے نیچے لڑھکنے لگا پر دوسرا امیدوار جب تک خود کو چست کر پاتا نقلی چٹان اس سے ٹکرایا اور وہ ڈگمگا گیا۔ سٹیڈیم میں موجود تماشائیوں میں چیخ و پکار گونج اٹھی۔ شاویز نے خطرے کا احساس کرتے ہوئے رخ موڑ کر دیکھا تو اس لڑکے کو تشویشناک حالت میں پہاڑی کا حصہ پکڑے جُھلتا ہوا پایا۔ حالانکہ شاویز چوٹی پر پہنچنے کے بہت قریب تھا لیکن اس لڑکے کی مدد کرنے اس کی جان بچانے وہ الٹے قدم نیچے آیا اور تیزی سے جھک کر اس لڑکے کا ہاتھ چھوٹنے سے پہلے دبوچ لیا۔ تماشائیوں میں شاویز کی دلیری پر تالیاں گونج اٹھی۔ سب ان دونوں لڑکوں کو سراہنے بلند آواز ہو کر داد دینے لگے تھے۔ شاویز نے اس لڑکے کو نا صرف اوپر کرنے میں مدد کی بلکہ ہاتھ پکڑے اسے دوڑاتا ہوا چوٹی کے سِرے تک لے آیا اور پھر واپس مقابلہ جاری رکھنے کے انداز سے پیشانی پر ہاتھ ہلاتا ہوا اس کا ہاتھ چھوڑ کر اپنے منزل مقصود کو بھاگنے لگا۔

سب سے پہلے اور سب سے کم وقت میں سٹیڈیم واپس پہنچ کر اس نے نیا ریکارڈ قائم کیا اور مقابلے کی جیت اپنے نام کی۔ انعام کے تور پر اسے گولڈ میڈل اور کچھ نقدی رقم سے نوازا گیا۔ ساتھ ساتھ ISPR کی جانب سے اس کی بقایا ٹریننگ اور پڑھائی کے اخراجات فری کرنے کا حکم صادر ہوا۔ ان کی اکیڈمی اور شاویز کے ٹرینرز کرنل صادق اور کوچ ریحان کو بھی انعامات پیش کئے گئے۔

اس دن شاویز کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ ان سب کی جیت کی خوشی میں آرمی جنرل نے رات کے کھانے میں اسپیشل بریانی اور قورمہ تیار کروانے کا آرڈر دیا اور سب کو بغیر ناپ تول پیٹ بھر کر کھانے کی اجازت دی۔

"تم نے میرا سر آج فخر سے اونچا کر دیا۔۔۔۔۔۔ آج مجھے تمہیں ساتھ لانے کے فیصلے پر زرا بھی پچھتاوا نہیں ہے۔۔۔۔۔ تم نے ثابت کر دیا۔۔۔۔۔۔۔ سچے دل سے کچھ ٹھان لو تو پا کر ہی رہتے ہو۔۔۔۔۔۔ بہت بہت مبارک ہو۔۔۔۔۔ تم واقعی شاہ سوار ہو۔۔۔۔۔"کرنل صادق نے اسے سراہتے ہوئے مبارکباد پیش کی۔
شاویز جانتا تھا وہ کس بات پر اسے شاہ سوار بلا رہے تھے۔اس کے مقابلہ جیتنے سے زیادہ انہیں شاویز کے خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنے پر فخر محسوس ہورہا تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اگلے ماہ 12 جماعت کے بورڈ امتحانات متوقع تھے۔ وہ پھر سے دن بھر ٹریننگ کرتا اور رات بھر پڑھائی۔ نیند پر پورا غلبہ حاصل کر کے خود کو کئی رات جاگے رکھنا بھی اس کے معمول کا حصہ بن گیا تھا۔

اکیڈمی میں گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہوگئی اور ساتھ ہی کالج کے امتحانات کا وقت ہوا جاتا تھا۔ وہ بھی اپنے کالج ایگزیمز دینے کراچی کے سفر پر چل پڑا۔ اس مرتبہ وہ یہاں سے خالی ہاتھ نہیں گیا۔ مسزز نورین نے دائی ماں کے لیے اس کے ہاتھ تحائف بھیجوائے تھے۔

یتیم خانے پہنچ کر شاویز نے دائی ماں کو سرپرائز دیا اور اس سے بھی بڑا سرپرائز اپنا گولڈ میڈل دکھا کر کیا۔ دائی ماں کی خوشی سے آنکھیں بھر آگئی تھی وہ اس کی بلائیں لیتے ہوئے اسے دعائیں دینے لگی۔
انعام کی نقدی رقم اس نے دائی ماں کو تھما دیئے۔

"شاویز۔۔۔۔۔ اب رک جا۔۔۔۔۔ کتنی تربیت کرے گا۔۔۔۔۔ اتنے سال ہوگئے ہیں۔۔۔۔ دیکھ اتنا لمبا چوڑا تو ہو گیا ہے۔۔۔۔۔ " دائی ماں نے جذباتی ہو کر اسے گلے لگاتے ہوئے کہا۔

"دائی ماں ابھی کچھ سال رہتے ہیں۔۔۔۔ آخری فیز تو اب شروع ہوگا۔۔۔۔۔ وہ سیکھے بغیر تو میری ساری ٹریننگ نا مکمل ہے۔۔۔۔۔" شاویز نے انہیں دلاسہ دیتے ہوئے کہا۔

امتحانات دینے کے ساتھ ساتھ وہ فارغ وقت میں یتیم خانے کے بچے بچیوں کو مارشل آرٹس کے self defence کے کرتب سکھاتا رہتا۔

"یہ دیکھو۔۔۔۔۔۔ یہ یہاں لڑائی کے طریقے سیکھ رہی ہیں۔۔۔۔۔ اور میں سلائی کڑہای سیکھنے بیٹھاوں۔۔۔۔ تو سب کے منہ اترے ہوتے ہیں۔۔۔۔"دائی ماں تند و تیز آواز میں بچیوں کو ڈانٹنے لگی۔

"دائی ماں۔۔۔۔۔ کس زمانے میں جی رہی ہو۔۔۔۔۔ آج کل تو لڑکیاں بھی فوج میں جاتی ہے۔۔۔۔ اب کوئی بھی لڑکی صرف کڑہائی سلائی تک محدود نہیں رہی۔۔۔۔۔ اور میرے خیال میں تو آج کل کے حالات میں ہر بچی کو؛ لڑکیوں کو اپنے دفاع کے لیے فائٹنگ آنی چاہیئے۔۔۔" شاویز نے کندھوں سے زبیدہ خالہ کو تھام کر اپنے سامنے کرسی پر بیٹھایا۔

"تیرے ادارے میں بھی لڑکیاں ہیں۔۔۔۔" دائی ماں نے گھورتے ہوئے سوال پوچھا۔

"اس سال سے آنا شروع ہو جائے گی۔۔۔۔" شاویز نے باقیوں کو رخصت ہونے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

"دیکھ شاویز۔۔۔۔۔ اگر۔۔۔۔ تیری کسی لڑکی سے دوستی ہے۔۔۔۔۔ تو مجھے اس کا نام اور پتہ بتا دے۔۔۔ میں سیدھے سادے تیری اس سے شادی کرا دوں گی۔۔۔۔۔ بس یہ دوستی ووستی والے جھنجٹ مجھے نہیں پسند۔۔۔۔" دائی ماں نے منہ بھسورتے ہوئے ہاتھ اٹھا کر اسے تنبیہہ کیا۔

"ہاہاہا۔۔۔۔۔ خدا کو مانو دائی ماں۔۔۔۔۔۔ میں ابھی تک 18 کا بھی نہیں ہوا۔۔۔۔۔ اور تم میری شادی کرا رہی ہو۔۔۔۔۔ " شاویز پورا کھلکھلا کر ہنسا لیکن زبیدہ خالہ اب بھی سنجیدہ انداز میں بیٹھی تھی۔

"ایسی کوئی بات نہیں ہے دائی ماں۔۔۔۔ جب تک میں اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوجاوں۔۔۔۔ کسی لڑکی وڑکی کے چکر میں نہیں پڑوں گا۔۔۔۔۔" شاویز نے دائی ماں کا موڈ ٹھیک کرنے ان کے کندھے کے گرد بازو مائل کرتے ہوئے کہا۔
وہ اس کے رخصار پر ہاتھ رکھ کر پیار کر کے کھانا لگانے باورچی خانے میں چلی گئی۔

شاویز ہاتھ دھو کر اکیڈمی جیسے اپنا پلیٹ لیئے دائی ماں کے سامنے آیا تو دائی ماں نے مسکرا کر اس کے پلیٹ میں سالن ڈال کر دیا۔

وہ وہی باورچی خانے کے فرش پر ہی بیٹھ کر کھانے لگا جیسے بچپن میں زرتاج کے ساتھ بیٹھا کرتا تھا۔
"مزا آگیا دائی ماں۔۔۔۔ آپ کے ہاتھ کی سبزی کھا کر تو۔۔۔۔ ماں کی یاد آگئی۔۔۔۔۔۔ اس کے ہاتھ میں بھی ایسا ہی ذائقہ تھا۔۔۔۔۔" اس نے نوالہ چھباتے ہوئے کہا۔ آخری جملہ کہتے ہوئے وہ مایوس ہوگیا۔
اس کی آواز سے چھلکتی افسردگی زبیدہ خالہ نے محسوس کر لی۔ وہ اس کے ساتھ آکر بیٹھ گئی۔

"ہاں تو یاد تو آئے گی۔۔۔۔ میں نے ہی تو اسے کھانا پکانا سیکھایا تھا۔۔۔۔۔ اسے کہاں کھانا پکانا آتا تھا۔۔۔۔۔ سب مجھ سے ہی تو سیکھا تھا۔۔۔۔۔ پھر ایک جیسا ذائقہ تو ہوگا ہی۔۔۔۔۔" دائی ماں نے اس کی مایوسی کم کرنے کی کوشش کی۔

"ماں زندہ ہوتی۔۔۔۔۔ تو آج میرا گولڈ میڈل دیکھ کر کتنا خوش ہوتی۔۔۔۔۔ " اس نے پھیکا پھیکا مسکرا کر سر جھٹکا۔ اس کی بھوک یک دم ختم ہوگئی تھی۔

"تم خوش ہو نا۔۔۔۔۔ "زبیدہ خالہ نے اس کا رخ اپنے جانب کیا۔ شاویز ان کا جھریوں بھرا چہرا دیکھ کر مسکرایا اور سر کو اثابت میں جنبش دیا۔

"تو وہ بھی بہت خوش ہوتی۔۔۔۔۔ تم دونوں کی جان تو ایک دوسرے میں بستی تھی۔۔۔۔۔ مجھے تو آج بھی تم میں زرتاج کی جھلک نظر آتی ہے۔۔۔۔" دائی ماں نے اس کے پیشانی پر بوسہ دیا اور کھانا کھانے کی تائید کرتے ہوئے واپس اپنے کام میں جٹ گئی۔
شاویز کا دل تو نہیں کر رہا تھا لیکن دائی ماں کے خاطر اس نے زبردستی کھانا پورا کھایا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اس رات وہ کافی دیر تک دائی ماں سے باتیں کرنے لگا رہا۔ باتوں باتوں میں اس نے وہ کچھ سال پہلے کی دائی ماں سے چھپائی ہوئی تصویریں انہیں دیکھائی۔ وہ اس وقت کو یاد کرتے کرتے کہی کھو سی گئی۔ پھر وہ ایک ایک کر کے ٹین ایج زرتاج اور اس کی باقی ساتھی لڑکیوں کے نام بتانے لگی۔
شاویز اب بغور ان تصویروں کو دیکھ رہا تھا۔ ان گرلز گروپ کے پیچے چند جوان لڑکے بھی کھڑے تھے۔ دائی میں نے دو تین کے نام بتائے لیکن ایک پر ان کے تاثرات بدل گئے۔
"کیا ہوا دائی ماں۔۔۔۔۔۔ کون ہے یہ۔۔۔۔۔ " شاویز نے تجسس سے اس جوان خوب رو مرد کو تکتے ہوئے پوچھا۔

"یہ یہاں انگریزی پڑھانے آتے تھے۔۔۔۔۔ نام یاد نہیں آرہا۔۔۔۔۔ کافی پرانی تصویر ہے۔۔۔۔۔۔ چل اب مجھے نیند آرہی ہے۔۔۔۔۔۔ تو بھی جا کر سو جا۔۔۔" دائی ماں نے جھجکتے ہوئے رخ پھیر لیا اور سونے کے لیے لیٹ گئی۔
شاویز تعجب سے ان کی پیٹھ دیکھتا ہوا اٹھا اور خاموشی سے باہر آگیا۔
"کچھ تو تھا۔۔۔۔۔ جو دائی ماں اچانک پریشان ہوگئی۔۔۔" شاویز نے سحن میں چاندنی رات میں چارپائی پر لیٹتے ہوئے سوچا۔
وہ چت لیٹا بازو سر کے نیچے رکھے آسمان میں چمکتے چاند اور تاروں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی پھرتیلے انداز اور تیز نظروں نے یہ جانچ لیا کہ دائی ماں متذبذب سی ہوگئی مگر کیوں؛ سوچتے ہوئے اس نے کروٹ پر کروٹ بدلتے رات گزاری۔
اکثر و بیشتر راتوں کو جاگتے رہنے سے اب اس کی نیند بلکل ختم ہوگئی تھی اب وہ کسی رات از خود سونا چاہتا بھی تو اسے نیند نہیں آپاتی۔
اور کئی راتوں کو شب بیداری کرنے سے اس کے سر میں درد رہنے لگا تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

انڈر 19 میں شامل ہونے کے بعد اس کی ٹریننگ مزید سخت ہوگئی۔
سارے سٹوڈنٹس کو صبح ٹھنڈے پانی کے تالاب میں کھڑا کر دیا جاتا۔ سب سی سی کرتے 2 سے 3 منٹ میں کانپتے ہونے باہر نکل آتے جبکہ شاویز 10 منٹ تک اندر رہتا اور پھر بغیر کانپے یا سی سی کئے باہر آجاتا۔
سب کے دونوں بازووں میں دس سے بیس کلو وزن لٹکا کر انہیں پورے اکیڈمی کے احاطے کے تین چکر لگوائے جاتے۔
ایک ایک کر کے سب کو ایک دائرے کے اندر کھڑا کر کے ان کے پیٹھ پر ہنٹر سے ضرب کیا جاتا تاکہ وہ مار اور ضربیں سہنے کے قابل بنے۔ باقی سب جلدی نڈھال پڑ جاتے جبکہ شاویز ہر ٹریننگ میں سب سے زیادہ وقت سبق برداشت کر پاتا۔
ایسے اور بھی کئی سارے آپسی مقابلے ہوتے کبھی جسمانی اور کبھی ذہنی جو ان نوجوانوں کو مظبوط اور توانا بنا رہے ہوتے تھے۔
انڈر 19 میں آکر شاویز قدرے سنجیدہ ہوگیا تھا۔ ہر وقت کچھ نا کچھ سوچتا رہتا اور صرف اپنی ٹریننگ کرتا۔
ایک دن اس کے اس رویے کے چلتے صادق سر نے اسے اپنے روک لیا۔
"میں جانتا ہوں شاویز۔۔۔۔۔ اس ٹریننگ کا تمہارا مقصد کچھ اور ہی ہے۔۔۔۔ تمہارے اندر کی آگ دن بہ دن بھڑکتی جا رہی ہے۔۔۔" صادق صاحب نے سنجیدہ تاثرات سے کہا۔
وہ خاموش رہا تو صادق سر سرد سانس خارج کر کے پھر سے گویا ہوئے۔
"ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ تمہیں مجھے نہیں بتانا تو مت بتاو۔۔۔۔۔۔ لیکن میری ہر نصیحت کی طرح یہ نصیحت بھی ہمیشہ یاد رکھنا۔۔۔۔۔ بیشک فوجیوں کو دشمنوں کو مار گرانے کا حق حاصل ہوتا ہے لیکن وہ دشمن بھی اگر ملک کے لیے خطرہ ثابت ہو تب۔۔۔۔۔۔ نا حق کسی کو ضرر پہنچانے کا حق کسی کو نہیں ہے۔۔۔۔۔ اپنے مفاد کے لیے اپنے پروفیشن کا استعمال کرنے کا حق کسی کو نہیں ہے۔۔۔۔ اس دنیا میں۔۔۔۔۔ ہمارے حکومتی اداروں میں شاید اس چیز کی پوچھ گچھ نہ ہو۔۔۔۔۔ ہم ہیر پھیر کر کے ذاتی دشمنی کو ملک کی حفاظت کے نام سے چھپا لیں۔۔۔۔۔ لیکن وہ۔۔۔۔" صادق سر نے شہادت کی انگلی آسمان کے جانب اٹھائی۔

"وہ رب پروردگار۔۔۔۔۔ اس سے کبھی کچھ نہیں چھپا۔۔۔۔۔۔ اور اس کے بارگاہ میں ہر عمل کی پکڑ ہوتی ہے۔۔۔۔۔" انہوں نے نرمی سے کہتے ہوئے شاویز کے کندھے کے گرد بازو مائل کیا۔

"کبھی ایسا کچھ مت کرنا شاویز۔۔۔۔۔ جس سے اس دنیا میں بھلے ہی تم بچ جاو۔۔۔۔۔ لیکن روز قیامت تمہیں اللہ سبحان تعالی کی پکڑ سے کوئی ٹریننگ کوئی ذہانت اور کوئی صلاحیت تمہیں نہ بچا سکیں۔۔۔۔۔" شاویز نے افسردہ انداز میں ان کی جانب دیکھا وہ متفکر تاثرات بنائے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔ صادق صاحب کی باتوں میں فکرمندی صاف چھلک رہی تھی۔
ایک سال پہلے تک جس کی کفالت کی۔ اپنے ذمہ داری پر جیسے توانا اور مظبوط بنایا۔ اب صادق سر نہیں چاہتے تھے کہ وہ غلط راہ پر چل پڑے۔ اب وہ نہیں چاہتے تھے شاویز اپنی صلاحیتوں کو غلط کاموں میں صرف کریں۔
شاویز نے لمبی سانس لیتے ہوئے خود کو نارمل کیا۔

"اDon't worry سر۔۔۔۔۔۔ میں آپ کو کبھی جود سے نا امید اور بد گمان نہیں کروں گا۔۔۔۔۔ آپ کی ساری تعلیمات مجھے یاد ہے اور ہمیشہ رہیں گی۔۔۔۔۔ میں کبھی کسی کو ناحق نقصان نہیں پہنچاوں گا۔۔۔۔ کسی کو بے وجہ نہیں ماروں گا۔" شاویز نے ان کے گلے مل کر انہیں یقین دہانی کروائی۔ ان کے اعتماد کو کبھی نہ توڑنے کا وعدہ کیا۔
اس کی باتوں سے مطمئن ہو کر صادق سر نے مظبوطی سے اسے اپنے حصار میں لیا اور اسے کامیابیوں کی بلندیوں کو چھونے کی دعائیں دی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

20 سال کا ہونے تک اس کی بے خوابی کی کیفیت اور شب بیداری سے بڑھتے سر درد نے اس کو کافی پریشان کر رکھا تھا۔ اور کسی رات وہ سو بھی جاتا تو ڈراونے خوابوں کی وجہ سے وہ پورا دن اضطراب میں رہتا۔ اس سے پڑھائی پر توجہ دی جا رہی تھی نہ پریکٹس پر۔ اگلے ماہ سے اس کی armed ٹریننگ شروع ہونی تھی جس میں اسے مختلف اقسام کے ہتھیار چلانا سیکھنا تھا اس لیے وہ خود کو تندرست رکھنا چاہتا تھا؛ سوچتے ہوئے وہ دو دن کے لیے کراچی گیا اور صادق سر کے بتائے ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کروانے چلا گیا۔

سارا معائنہ کرنے کے بعد ڈاکٹر نے اسے انسومینیا (insomnia) کا شکار ہونا بتایا جس کی وجہ سے نیند نہ لینے اور ہر وقت ٹینشن میں رہنے سے اس کے سر کے آخری حصے میں درد رہتا ہے اور اس درد کی قسم کو مائگرین کا نام دیا گیا۔

ابھی اس کے تعطیلات نہیں تھے اور ایسے اچانک یتیم خانے جا کر وہ بوڑھی دائی ماں کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے وہ ان سے ملے بنا ہی صبح کی ٹرین سے واپس بلوچستان آگیا تھا۔
صادق سر کو اس نے صرف ٹینشن کا بتایا۔ باقی انسومنیا اور مائگرین کی بات اپنے دل میں راز رکھ لی تھی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

جاری ہے

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address

Multan