saad
plz follow,like,comment and share
10/06/2026
07/05/2026
comments main btayen
03/05/2026
مختار مائی: ایک ایسی عورت جسے جرگے نے سرعام اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا حکم دیا.
جون 2002 کی ایک گرم دوپہر، پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میر والا میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ کہانی ہے مختار مائی کی، جو ایک سادہ اور غریب گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔
یہ سب ایک مقامی تنازعے سے شروع ہوا۔ مختار مائی کے کم عمر بھائی پر الزام لگایا گیا کہ اس کا تعلق ایک بااثر قبیلے کی لڑکی کے ساتھ ہے۔ بعد میں یہ بھی سامنے آیا کہ حقیقت اس کے برعکس تھی، مگر طاقتور لوگوں نے اپنی ساکھ اور اثر و رسوخ بچانے کے لیے سچ کو دبانے کی کوشش کی۔
گاؤں کے جرگے نے، جو غیر رسمی طور پر “انصاف” کا نظام سمجھا جاتا تھا، ایک ایسا فیصلہ سنایا جو انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کے بالکل خلاف تھا۔ انہوں نے ایک عورت کو “سزا” کے طور پر سرعام زیادتی کا نشانہ بنانے کا حکم دیا — یہ وہ لمحہ تھا جہاں ریاستی قانون نہیں بلکہ طاقت، دباؤ اور خوف نے فیصلہ سنایا۔
یہی وہ بنیادی مسئلہ تھا:
👉 انصاف عدالت میں نہیں، جرگے میں “طاقتور لوگوں کی مرضی” سے طے ہو رہا تھا۔
چند افراد نے اس غیر انسانی فیصلے پر عمل کیا اور ایک عورت کی عزت کو اجتماعی طور پر پامال کیا۔ اس کے بعد سب سے تکلیف دہ حقیقت یہ تھی کہ متاثرہ کو خاموشی، خوف اور بدنامی کے درمیان اکیلا چھوڑ دیا گیا — جیسا کہ ایسے بیشتر کیسز میں ہوتا ہے۔
لیکن مختار مائی نے وہ راستہ نہیں اپنایا جو معاشرہ اکثر متاثرہ افراد پر مسلط کرتا ہے۔
انہوں نے خاموشی کے بجائے آواز اٹھائی، پولیس میں رپورٹ درج کروائی، اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب یہ کیس صرف ایک دیہی واقعہ نہیں رہا بلکہ پورے ملک کے ضمیر کا امتحان بن گیا۔
میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس کیس کو اجاگر کیا، اور دنیا بھر میں پاکستان کے انصاف کے نظام پر سوال اٹھنے لگے۔
ابتدائی طور پر عدالت نے کچھ ملزمان کو سخت سزائیں سنائیں، جس سے لگا کہ شاید اس بار انصاف ہوگا۔ لیکن جیسے ہی کیس اپیل میں گیا، پورا نظام ایک بار پھر سوالات کی زد میں آ گیا۔
بعد کے فیصلوں میں زیادہ تر ملزمان بری ہو گئے یا ان کی سزائیں کم کر دی گئیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں سب سے بڑی تنقید سامنے آتی ہے:
👉 کیا طاقتور لوگوں کے لیے قانون مختلف ہے؟
👉 کیا ایک متاثرہ کی آواز صرف وقتی شور تک محدود رہتی ہے؟
👉 کیا انصاف صرف کاغذوں میں موجود ہے، حقیقت میں نہیں؟
یہ کیس پاکستان کے عدالتی نظام کی ایک تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے — کہ بعض اوقات انصاف کا عمل لمبا ضرور ہوتا ہے، لیکن اس کا نتیجہ ہمیشہ انصاف نہیں ہوتا۔
مختار مائی نے ان سب کے باوجود اپنی زندگی کو ایک نئی سمت دی۔ انہوں نے تعلیم اور خواتین کے حقوق کے لیے کام شروع کیا اور اپنے گاؤں میں اسکول قائم کیے۔
آج وہ صرف ایک متاثرہ نہیں بلکہ ایک علامت ہیں — اس حقیقت کی کہ ایک شخص اگر ہمت کرے تو وہ پورے نظام کو چیلنج کر سکتا ہے، چاہے نظام مکمل طور پر جواب نہ بھی دے۔
01/05/2026
How do I look? 😊👀💄
22/04/2026
یار یہ کیسا پیر ہے ؟؟؟؟؟
جو اپنے مریدوں کے مزاروں پر
باقائدگی سے جاتا ہے اور اپنے مریدوں سے کہتا ہے دعا
کرو میں بخشا جاؤں ۔۔۔۔ ذاتی رقم بھی تقسیم کرتا ہے
اپنے مریدوں سے دم بھی کرواتا ہے اور اپنے ھی مفتی
عالِم اور سید مریدوں کے ہاتھ بھی چومتا ہے ۔۔ ۔ اپنے
عام مریدوں سے ۔ مافیاں بھی مانگتا رہتا ہے کہ کوئی
بات ناگوار گزری هو تو معاف کر دو
مزید بتاتا چلوں کہ یہ بہت بڑا میدان دعوت اسلامی
کی ملکیت ہے ۔۔۔۔۔۔ اور یہاں مزارات کے علاوہ مسجد
مدرسہ اور جامعہ بھی ہے ۔۔ اور یہاں آپ کے مریدوں
کے ایسے مزارات بھی ہیں ۔ جو بارشوں کی وجہ سے
کھل گے تھے کافی کافی سالوں بعد اور جسم سلامت
دیکھے گے الحمدللہ ۔۔۔۔ اور یقین کیجئے کہ
ایسے بے شمار واقعات ہیں آپ کے مریدین کے الحمدللہ
پھر اندازہ کریں کہ آپ کی عظمت کا عالم کیا هو گا ؟؟
اور یہ کیسا پیر ہے کہ
جس کی تحریک کا سالانہ 40 ، 50 ارب خرچ ہے۔ اور
خود اپنے پاس ذاتی 40 ، 50 ہزار بھی پورا سال جمع
نہی ہونے دیا کبھی ۔۔۔۔۔۔ اور آج تک دعوت اسلامی کے
پیسوں سے کھانا تک نہی کھایا ۔
کیسا پیر ہے یار کہ
جس کی آج تک کوئی نماز قضاء نہی ہوئی
کیسا پیر ہے یار کہ
جو ہر دشمن کو جواب دینے کی بجاۓ دعا دیتا ہے
کیسا پیر ہے یار ؟؟
کیسا پیر ہے کہ آج تک جس کے کردار پر کوئی حاسد
کوئی دشمن ، کوئی غیر بھی انگلی تک نہی اٹھا سکا
کیسا پیر ہے یار ؟؟
یہ پیر کامل ھے ۔۔ یہ رہبر شریعت ۔۔ یہ شیخ طریقت
یہ مصطفیٰ کریم کے سچے غلام ہیں ۔۔ یہ نائب غوث
اعظم ہیں ۔۔ یہ ولی کامل ہیں ۔ یہ حضرت عطار ہیں
یہ کمال و باکمال ہیں ۔۔۔۔ کروڑوں مسلمانوں کی جان
اور ان کے عقیدوں کا محافظ ہے ۔
اور سنو سنو سنو
یہ بے شمار غا زی و ں کا بھی پیر ہے ۔۔۔۔۔ یہ نہ جانے
کتنے مفتیوں ۔۔ عالموں ۔۔ شہیدوں ۔۔ ولیوں کا پیر ہے
اور اور اور اور
یہ میرا بھی پیر ہے ۔۔۔۔ یہ مجھ جیسے دنیاداروں اور
گناہ گاروں کا بھی پیر ہے ۔
یہ میرا پیر ہے ۔۔۔ یہ ہمارا پیر ہے ۔ الحمداللہ الحمداللہ
اسی لیے تو کہتا ہوں مجھے دعوت اسلامی سے پیار ہے 🥰🥰
22/04/2026
مسجد الحرام میں بیت اللہ شریف کی مرمت اور تزئین و آرائش کا کام مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ غلافِ کعبہ کو تین میٹر بلند کر کے چاروں اطراف سفید کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔
تصویر میں نظر آنے والی دیوار خانہ کعبہ کے نچلے حصے (الشاذروان) کی ہے، جو سیاہ پتھروں سے بنی ہوتی ہے۔
پتھروں کے درمیان جو سنہری رنگ کی لکیریں نظر آ رہی ہیں، وہ سونا نہیں بلکہ پتھروں کو جوڑنے کے لیے استعمال ہونے والا خاص قسم کا مسالا (گراؤٹ) یا دھاتی/آرائشی فریم ہوتا ہے جسے سنہری رنگ دیا جاتا ہے۔
صفائی یا مرمت کے دوران دیوار کے ساتھ جو سفید موٹے گدے لگے ہوتے ہیں، وہ حفاظتی انتظام کا حصہ ہوتے ہیں تاکہ دیوار یا کارکنوں کو نقصان نہ پہنچے۔
20/04/2026
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
حج کے لیے جانے والے زائرین کو لے جانے والی ایک گاڑی آج سعودی عرب میں سڑک کے درمیان الٹ گئی۔
وہ تمام بنگلہ دیشی حجاج تھے۔
اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے۔
سب لوگ ان کے لیے دعا کریں۔
اللہ ان کا حج قبول فرمائے۔
آمین
#
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
NAROWAL