Salim khaksar Official
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Salim khaksar Official, Health/Beauty, .
19/08/2022
#بلاعنوان
😍😍
جنازےپریہ اعلان توکرتےہیں کہ مرحوم سےجس کا لین دین ہو ورثاءسے ملے،لیکن یہ نہیں کہتےکہ جس کی زمین پرقبضہ کیاہواتھاوہ بھی ورثاء سےملے
09/08/2022
🇵🇰
قیامت کا دن ھوگا😢
ھر انسان پُکارے گا نفسی نفسی اچانک ایک آواز آئے گی
یاربّی اُمّتی اُمّتی
وہ ہستی حضرت مُحَمَّد ﷺ ہونگے۔😘😘😘
😍
😍😍
😏😏
07/06/2022
✏️✏️✏️جب دلوں سے انسان نکلتے ھیں تو پتا چلتا ھے کے ان کی تو ضرورت ھی نہیں تھی ضرورت تو اللہ کی تھی جو ہمیشہ سے تھا اور رھے گا♥
📝📝📝📝
What Do you Think about it.
سندھ کے ایک نوجوان کی جانب سے پاکستان کا قرضہ اتارنے کے لئے حکومت کو مفید مشورہ اور ایک آئڈیا دیا ھے
ان کا کھنا تھا کہ یہ ملک کا قرضہ اتارنا تو بائیں ہاتھ کا کھیل ہے.
لیکن یہ حکمران خود نہیں چاہتے کہ قرضہ اترے.
آسان سی پالیسی ھے تحریر مکمل پڑھیں اور ضرور پڑھیں پھر آپکو پتہ چلے گا
17 گریڈ کے افسران, ججز , وزراء ,مشیر, ڈپٹی کمشنرز,اسسٹنٹ کمشنرز, ڈی پی اوز, ڈی ایس پیز, ایس ایچ اوز, ڈسٹرکٹ آفیسرز, سی ای اوز, ڈی ای اوز, کالجز کے پروفیسرز,سکولز کے ہیڈ ماسٹرز, پیف والے پرائیویٹ سکولز مالکان, پراپرٹی ڈیلرز, تحصیلدار, پٹواری, بزنس مین, فوجی افسران, خفیہ اداروں کے افسران, فیکٹریوں کے مالکان, ملز مالکان, بڑے سرمایہ داران, آڑھتی , تاجران, تیس چالیس ایکڑ سے زیادہ اراضی والے زمینداران, سب کو ملا کر تعداد گنی جائے تو دو کروڑ آرام سے بن جائیں گے.
ان سب سے گورنمنٹ کا بیس بیس ہزاربطور قرض لینا معمولی سی بات ہے. جو کہ چار کھرب ماہانہ بنتا ہے.
اسکے بعد
297 پنجاب کے ایم پی ایز
130سندھ کے ایم پی ایز
124کے پی کے ایم پی ایز
65بلوچستان کے ایم پی ایز
336ایم این ایز
کل 965 اقتدار میں موجود سیاسی شخصیات ہیں جن سے صرف پانچ پانچ کروڑ فی کس لیا جانا عام سی بات ہے. اور ان لوگوں کیلئے یہ رقم دینا کوئی بڑی سی بات بھی نہیں ھے تویہ پچاس ارب بنتا ہے.
اسکے بعد
ایک کروڑ ملک بھر کے سرکاری ملازمین تو ہوں گے جن سے صرف دو ہزارماہانہ بطور قرض لیا جائے تو ماہانہ بیس ارب بنتا ہے.
بیس ہزار سے زائد انکم والے پرائیوٹ ملازمین کم ازکم تو پانچ کروڑ ہونگے جن سے صرف پانچ سو روپے ماہانہ قرض لیا جائے جو کہ پچیس ارب بنتا ہے.
کل تقریبا پانچ کھرب ہو گیا.
اور گورنمنٹ اپنے بجٹ میں سے اپنے ریونیو میں سے ایک کھرب ڈالے کل چھ کھرب روپے .
یعنی کہ تقریباً 34ارب ڈالر بنتا ہے🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰
فرض کیا جائے کہ پاکستان پر مجموعی طور پرسو ارب ڈالر قرضہ ہو تو تین ماہ کی قلیل مدت جولائی تا ستمبر میں قرضہ اُن کے منہ پر مارا جاسکتا ہے. اور اسی پالیسی کے تحت اگلے تین ماہ اکتوبر تا دسمبر میں ہم آئی ایم ایف کو کہہ سکتے ہیں جتنا تم نے قرضہ دیا تھا اب اتنا ہم سے لے سکتے ہوں. اور اگر یہ ہی اکتوبر تا دسمبر کااتنابڑا ریونیو پاکستان اپنے دفاع ریلوے سڑکوں پی آ
😀