Pakhtoon Girl
� It is Health that is Real Wealth and not Pieces of Gold and Silver �
25/09/2025
غبارہ اور معصومیت کا قتل
لاہور وحدت کالونی میں غبارہ فروش کی کمسن بچی کے ساتھ غیر اخلاقی حرکت نے انسانیت کو شرمسار کردیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج نے سب کچھ بے نقاب کیا۔ پولیس مقابلے میں اسی کے نیفے میں چھپی پستول سے گولی چل گئی اور غبارہ فروش عبرت کا نشان بن گیا۔
یاد رہے ایسے واقعات میں کافی حد تک کمی آئی ہے
کافی دنوں کے بعد یہ واقعہ پیش آیا ہے ۔
نیفے والا سلسلہ رکنا نہیں چاہیئے ۔
یہ واقعہ یاد دہانی ہے کہ معصوموں کے دشمن انجام سے نہیں بچ سکتے۔ ضرورت ہے کہ معاشرہ جاگے، بچوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دے اور ایسے درندوں کو سخت ترین انجام تک پہنچایا جائے۔
✍️ از قلم: جمال الدین شاہ
#لاہور
20/09/2025
مرنے سے پہلے خواجہ سرا کا اپنی ماں کو خط۔.....
ماں جی
میری عمر نو دس برس کی تھی جب ابا نے مجھے زمین پر گھسیٹتے ہوئے گهر سے بے گهرکر دیا تھا۔ میں چیخ چیخ کر تمہیں پکارتا رہا مگر تم بےحس وحرکت سہمی ہوئی مجھے تکتی رہیں۔ واحد روانی تمہارے آنسوؤں کی تھی جو ابا کے غیض و غضب کے آگے بھی تهمنے کو تیار نہ تھے۔ تمہارا ہر آنسو اس بات کا ثبوت تها کہ تم ابا کے اس فعل سے بہت نالاں تھی مگر ابا کی ہر بات پر سر تسلیم خم کرنے پر مجبور بهی۔
محلے والوں کے طعنے، رشتے داروں کے طنز اور لوگوں کی چبهتی ہوئی نگاہوں سے جب ابا بے قابو ہو جاتے تو پهر اپنی کالے چمڑے کی چپل سے میری چمڑی ادھیڑتے۔ اپنے جسم پر چپل سے بنائے گئے نقش لیے میں اس کال کوٹھڑی کی جانب بھاگتا جو پورے گهر میں میری واحد پناہ گاہ بن گئی تھی۔ پٹائی کا دن جب رات میں ڈھلتا تو تم ابا سے چھپ کر دبے پاؤں آتیں۔ مجھے سینے سے لگاتی، اپنے دوپٹے سے میرے زخموں کی ٹکور کرتی۔ میرا سر اپنی گود میں لیے گھنٹوں میرے پاس بیٹھی رہتی۔ مجھے چپ کراتے کراتے تمہاری اپنی سسکیاں بندھ جاتیں۔ آہوں اور سسکیوں کی گونج کے علاوہ اس کال کوٹھڑی میں کچھ سنائی نہ دیتا۔ ہم دونوں آنسوؤں کی زبان میبیٹتا کرتے۔
میرے آنسوؤں میں ان گنت سوال ہوتے۔ کہ آخر کیوں ابا کی نفرت کی خاص عنایت مجھ پر ہی ہے؟ آخر کیوں گھر میں مہمانوں کے آتے ہی اسٹور کے تنگ وتاریک کمرے میں گهر کے ہر فالتو سامان کے ساتھ مجھے بند کردیا جاتا ہے اور جب تک اللہ کی رحمت ہمارے گھر سے چلی نہیں جاتی مجھے رہائی کا پروانہ کیوں نہیں دیا جاتا۔ یہ رحمت ہر بار میرے لیے زحمت کیوں بن جاتی ہے؟ مگر اماں میرے ہر سوال کے جواب میں تم خاموشی سے میرے اوپر محبت بهری نگاه ڈالتی اور کچھ نہ بولتیں۔ بس کبھی تم میرے ماتهے کا بوسہ لیتی اور کبھی میرے ہاتھوں کو چوم کر اس بات کی گواہی دیتی کہ میں تو اپنے راجہ بیٹے سے بہت پیار کرتی ہوں۔ ایک سوال کرتے کرتے میں تهک جاتا اور نیند کی آغوش میں چلا جاتا کہ آخر میرے سے ایسی کیا خطا ہوئی جو میں اپنے دوسرے بہن بھائیوں کی طرح ابا کے پیار کا حقدار نہیں۔
ہاں تمہاری گود میں سو جانے سے پہلے میں یہ دعا بھی کرتا کہ یہ رات کبھی ختم نہ ہو مگر صبح ہوتی اور تم پھر اس عورت کا لباده اوڑھ لیتی جو ابا اور معاشرے کے خوف سے مجھے پیار کرتے ڈرتی تھی۔
جس دن ابا نے مجهے گهر سے نکالا اس دن میرا قصور بس اتنا تھ
Congratulations 🎊 👏 💐 پاکستان جیت گیا
جس رفتار سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی آؤٹ ہو رہے ہیں اس لحاظ سے جیتنا مشکل ہے
پاکستانی کرکٹ ٹیم کا دوسرا کھلاڑی بھی آؤٹ
پاکستانی کرکٹ ٹیم کا ایک کھلاڑی آؤٹ
افسوس
17/09/2025
17/09/2025
16/09/2025
آئس ( شیشہ) کیا ہے ؟
آئس ایک ایسا نشہ ہے جس کے پہلی بار استعمال سے انسان کے اندر خوشی کے ہارمونز انتہائی ایکٹیو ھو جاتے ہیں۔
جس سے انسان انتہائی خوشی محسوس کرتا ہے۔
آئس کا نشہ 36 سے 72 گھنٹے تک ہوتا ہے۔
اور وہ انسان 72 گھنٹوں تک جاگتا رہتا ہے۔
پہلی دفعہ انسان کو آئس استعمال کرنے سے جو لذت اور خوشی محسوس ہوتی ھے وہ آہستہ آہستہ کم ہو جاتی ہے۔
اور اس کے ساتھ انسان آئس کی ڈوز پے ڈوز بڑھاتا جاتا ہے تاکہ وہ پہلے والی خوشی محسوس کر سکے۔
کسی بھی نشے سے انسان کے اندر رشتے کی تمیز نہیں رہتی مگر آٸس ایک ایسا خطرناک چیز ھے جو وقت کے ساتھ ساتھ انسان کی ہڈیوں کو پکڑ لیتی ہے۔
آئس استعمال کرنے والے انسان پر بھروسہ کرنا بیوقوفی ہے۔
آئس استعمال کرنے والے انسان کے ہاتھوں سے کسی بھی وقت کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آسکتا ہے جب وہ نشے کی حالت میں ہو۔
پوسٹ لگانے کا مقصد یہ ہے کہ نوجوان نسل اس سے دور رہیں اپنے اور اپنے پیاروں کے خاطر ۔ اب ھم سب کا فرض بنتا ھے کہ اس ناسور کے خلاف آواز اٹھائیں.
... Follow me 😘
16/09/2025
قصور!ایسا افسوسناک واقعہ کہ روح کانپ جائے،لڑکیاں گھروں سے باہر نکلنے سے ڈرنے لگیں!
محلہ کوٹ عباس شاہ، جسکو سٹی چونیاںتھانے کی حدود لگتی ہے، میں دو سگھی بہنیںادیبہ اور طیبہ جنکی عمریں 16اور18سال ہے،گھر سے بازار سامان لینے جاتی ہیںمگر واپس نہیں آتیں، دونوں بہنوں کو 5سے6لوگوں کا گروپ (اغ وا) کر لیتا ہے اور چھانگا مانگا کے جنگل میں ،وہاں پر نہ صرف وہ لوگ دونوںبہنوں کیساتھ ( زی ا دتی)کرتے رہے بلکہ (تش دد) کا نشانہ بھی بناتے رہے، یہ سلسلہ 3دن تک جاری رہا، اور 3دنوں بعد ان دونوں بہنوں کو وہ لوگ سڑک کنارے پھینک کر فرار ہوگئے، دونوں بہنوں کا کہنا ہے کہ انہیں کیری ڈبے میں ڈالا اور لے گئے، پہلی رات ہمیں چھانگا مانگا میں رکھا گیا وہاں پر ان لوگوں نے ہمارے ساتھ ( زی ا دتی) کی اسکے بعد ہم صبح اُٹھے تو ہمیں قلعہ روپا سنگھ کے ایریا کسی بیٹھک میں موجود تھے، وہاں پر ہمیں3دن تک رکھا گیا اور وہی سلوک کیا گیا۔متاثرہ لڑکی کی جانب سے جن لوگوں کے نام لیے گئے ان میں احمد، فیضان، مبشر، انس اور کاشی تھے کیونکہ وہ ایک دوسرے کو ان ناموں سے پکارتے تھے ۔ ان میں 2مجرمان گرفتار ہیں باقی ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے،متاثرہ لڑکیوں کے بھائی نے مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں پولیس پر اعتماد نہیں، ہمارا کیس سی سی ڈی کے حوالے کیا جائے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Website
Address
Peshawar
54321