Botanist and zoologist
For preparation of Botany & Zoology Lectureship
23/09/2024
Human respiratory system
23/09/2024
Human digestive system
23/09/2024
Plasma membrane fluid mosaic model
03/05/2023
Happy teachers day
17/09/2022
پارتھینیم اور اس کی تدارک کے متعلق اہم معلومات۔
پارتھینیم ایک زہریلا اور نقصان دہ قسم کی جڑی بوٹی ہے۔ آج کل زیادہ تر علاقوں میں اور خاص کر باجوڑ میں بہت تیزی کے ساتھ پھیلتا جارہا ہے۔ یہ زراعت کے لئے بہت خطرے کی بات ہے۔ اس پودے کو انگریزی میں پارتھینیم (Parthenium)، اردو میں گاجر بوٹی، پشتو میں سپین گلے جبکہ سائنسی نام(Parthenium hysterophorus L) کہتے ہے۔ یہ ایک پھولدار پودا ہے جس کا ایک پودہ پانچ سے دس ہزار تک بیج پیدا کرتا ہیں اور اپنی نسل بہت تیزی کیساتھ بڑھاتا رہتا ہے۔ آج کل ہر جگہ سبزہ زار زمین میں بشمول چراگاہوں، کھیتوں اور یہاں تک کہ سڑکوں کے کنارے، مقبروں میں، ویران جگہوں پر، پارکس میں، ندیوں اور نہر کے کنارے پر اور باغات میں پایا جاتا ہے۔ اس پودے کا آبائی علاقہ میکسیکو اور سب ٹراپیکل امریکہ ہے۔ عالمی سطح پربہت سے ممالک میں پھیل چکا ہے۔ جہاں ان ملکوں سے انڈیا پہنچی وہاں سے کشمیر اور پنجاب سے ہوتی ہوئی پورے پاکستان میں وبا ءکی طرح پھیل گئی ہے۔
نقصانات۔
یہ پودا ایسے کیمیکلز خارج کر تے ہیں، جو اپنے ارد گرد دوسرے پودوں کو اگنے نہیں دیتے اور اس کیوجہ سے دوسرے فصلات کے بیج کی روئیدگی(Germination) بھی بہت زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ جس علاقے میں پپارتھینیم اگی ہوئی ہو وہاں ہمارے جتنے بھی علاقائی گھاس پوس والی اقسام ہوتے ہیں، وہ دیرے دیرے ختم ہو رہی ہیں۔ یہ جڑی بوٹی انسانی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے جو جلد کی سوزش، دمہ اور برونکائٹس کا باعث بنتی ہے۔ یہ دوسرے فصلوں کے ساتھ خوراکی اجزا کیلئے مقابلہ کرتی ہے، جسکی وجہ سے پیداوار پر بہت منفی اثر پڑجاتا ہے۔ پارتھینیم مال مویشیوں کی صحت کیلئے بہت نقصان دہ ہوتا ہے۔ اگر جانور اس پودے کو کھا جائے تو اس کی جسم پر خارش پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ خطرناک قسم کے معدے کے امراض پیدا کرنے کا موجب بن جاتا ہے اور اس کی زہریلی اثرات دودھ اور گوشت کی کوالٹی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔یہ پودا انسانی جسم میں خطرناک قسم کی الرجی پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ جس کیلئے کوئی مخصوص اینٹی الرجک دوائی موجود نہیں ہوتا ہےجس سے جلدی امراض کو مکمل طور پر کنٹرول کیا جا سکے۔
تدارک۔
اس کاموثر کنٹرول یہ ہے کہ پھول آنے سے پہلے اس کے پودے کو ہاتھ کے زریعے جڑ سے اکھاڑا جائے ، مگر ایک اختیاط کرنی ہے کہ اسے چھونے سے پہلے ہاتھوں پہ دستانے پہننے چاہئے تاکہ یہ پودا آپ کے جسم کو براہ راست نہ چھو سکے۔ مزید پھیلنے سے روکنے کیلئے محفوظ جگہ پر گڑھے میں دفن کیا کرے یا جلا دیا جائے۔ تصدیق شدہ بیج کا استعمال کریں۔اس کے بیج سے پاک زرعی ألات اور مشینری استعمال کریں۔ سبزیوں اور پھلوں کی پیکنگ کرتے وقت اس کا استعمال نہ کریں۔ اسے کیمیاوی طور پر ابتدائی سٹیج میں بذریعہ جڑی بوٹی مار ادویات سے بھی کنٹرول کیا جا سکتاہے، جن میں ایٹرازین پلس ایس۔ میٹاکلور، ڈایئ کیمبا (Dicamba )، پیراکواٹ، 2-4, D اور گلائفوسٹیٹ وغیرہ شامل ہیں۔ سپرے کے دوران احتیاطی تدابیر کا خاص خیال رکھیں۔
Biodiversity Scholar Peshawar
13/09/2022
Morphology of leaf
08/09/2022
Distribution of bones and Chromosome and chromatid.
05/09/2022
Human brain
05/09/2022
Shape of leaves of different plants
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Peshawar
NIL