ZIA Suri Official

ZIA Suri Official

Share

General and current affairs

16/05/2025
13/06/2021

اس کو پیسوں کی ضرورت تھی اور مجھے اس کے جسم کی ، میرے اندر کا شیطان پوری طرح جاگ چکا تھا جب میں کمرے میں اس کے پیچھے داخل ہوا وہ برقعہ پہن رہی تھی مجھے اس کا مجرا دیکھتے ہوئے مسلسل دسواں دن تھا۔ کیا غضب کی نئی چیز ہیرا منڈی میں آئی تھی۔ اس کا نام بلبل تھا۔ جب وہ ناچتی اور تھرکتی تھی تو جیسے سب تماش بین محو ہو جاتے۔ روزانہ اس کو ناچتا دیکھ کے میری شیطانی ہوس مزید پیاسی ہوتی جاتی اور میں نے فیصلہ کر لیا کہ اس سے ضرور ملوں گا۔ میں ہر قیمت پر اسے حاصل کرنا چاہتا تھا۔اس دن مجرا کے دوران وہ بجھی بجھی سی دکھائی دے رہی تھی ۔ اس کے ناچ میں وہ روانی بھی نہیں تھی لیکن مجھے اس سے ملنا تھا، بات کرنی تھی اور معاملات طے کرنے تھے۔ مجرے کے اختتام پہ جب سب تماش بین چلے گئے تو میں بھی اٹھا۔ وہ کوٹھے کی بالکنی میں اپنی نائیکہ کے ساتھ کسی بات پر الجھ رہی تھی۔ دروازہ کے تھوڑا سا قریب ہوا تو میں نے سنا کہ وہ اس سے رو رو کر کچھ مزید رقم کا مطالبہ کر رہی تھی۔ مگر نائیکہ اسکو دھتکار رہی تھی اور آخر میں غصے میں وہ بلبل کو اگلے دن وقت پہ آنے کا کہ کر وہاں سے بڑبڑاتی ہوئی نکل گئی۔بلبل کو پیسوں کی اشد ضرورت ہے، یہ جان کے میرے اندر خوشی کی اک لہر دوڑ گئی۔ چہرے پر شیطانی مسکراہٹ پھیل گئی کہ وہ ضرورت پوری کر کے میں اس کے ساتھ جو چاہے کر سکتا ہوں۔ میں اس کی جانب بڑھا، اس کا چہرہ دوسری طرف تھا اور وہ برقعہ پہن رہی تھی۔ پاس جا کر جب میں نے اسے پکارا تو وہ میری طرف مڑی۔ اسکا چہرہ آنسووں سے تر اور برف کی مانند ایسے سفید تھا جیسے کسی نے اس کا سارا خون نکال لیا ہو۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر میں چکرا سا گیا اور اس سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے؟
وہ ایسے کیوں رو رہی ہے؟ میری طرف دیکھتے ہوئے وہ چند لمحے خاموش رہی اور میرے دوبارہ پوچھنے پر گھٹی گھٹی آواز میں بولی “ماں مر گئی۔” “کیا؟” جب مجھے اسکی سمجھ نہیں آئی تو وہ بے اختیار روتے ہوئے دوبارہ بولی کہ “آج میری ماں مر گئی۔” اس جواب سے جیسے میرے منہ کو تالا لگ گیا۔ میری شیطانی ہوس، جس کو پورا کرنے کے لیے میں اس کی جانب آیا تھا، مجھ سے میلوں دور بھاگ گئی۔ “تو تم یہاں کیا کر رہی ہو؟” میں نے غصے اور حیرت سے اس سے پوچھا۔ ” کفن دفن کے پیسے نہیں ہیں میرے پاس۔ اس لئے میں مجرا کرنے آئی تھی۔ مگر نائیکہ آج پیسے ہی نہیں دے رہی۔ کہتی ہے بہت مندی ہے۔ تماش بین کوٹھے پر نہیں آتے۔ جو آتے ہیں وہ پہلے کی طرح کچھ لٹاتے نہیں۔ وہ کہہ رہی ہے کہ ایدھی والوں سے اپنی ماں کے کفن دفن کا انتظام کروا لو۔” اتنا کہہ کے وہ برقعہ پہن کر کوٹھے سے باہر نکل آئی۔ میں بھی اسکے پیچھے چل پڑا،”میں تمھاری ماں کے کفن و دفن کا بندوبست کرتا ہوں۔” وہ چند لمحے مجھے مشکوک نظروں سے دیکھتی رہی اور پھر خاموشی سے میرے ساتھ بیٹھ گئی۔ گاڑی ٹیکسالی سے باہر نکالتے ہوئے میں نے بلبل سے اس کے گھر کا پتہ پوچھا۔ وہ علاقہ میرے لیے نیا نہیں تھا کئی بار میں وہاں سے گزرا ہوا تھا۔ میں نے گاڑی اس طرف موڑ دی۔ سارا راستہ وہ خاموشی سے روتی رہی۔ میرے پاس اسکو تسلی دینے کے لیے الفاظ بھی نہیں تھے۔کچھ دیر میں ہم بلبل کے گھر پہنچ گئے۔ یہ چھوٹا سا ایک کمرے کا گھر تھا۔ صحن کے بیچ میں چارپائی پر اسکی ماں کی لاش ایک گدلے کمبل میں لپٹی پڑی تھی۔ صحن میں بلب کی پیلی روشنی وہاں بسنے والوں اور گھر کی حالت چیخ چیخ کر عیاں کر رہی تھی۔ چارپائی کے پاس دو بوڑھی عورتیں بیٹھی تھی ۔ ایک کی گود میں سات آٹھ ماہ کا بڑا گول مٹول اور پیارا سا بچہ کھیل رہا تھا۔ آدھی رات ہونے کو آئی تھی۔ جیسے ہی بلبل گھر میں داخل ہوئی، وہ بوڑھی عورتیں بچہ اسے سونپتے اور دیر آنے کی وجہ سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وہاں سے رخصت ہو گئیں۔ بلبل بچے کو لے کر کمرے کی طرف گئی۔ بچہ بہت بے قرار تھا اور پھر وہ اسکی چھاتی سے لپٹ گیا جیسے صبح سے بھوکا ہو۔ “کیا یہ بلبل کا بچہ ہے؟” یہ ایک نیا انکشاف تھا کہ بلبل شادی شدہ بھی ہے۔چند لمحوں بعد وہ کمرے سے باہر آئی مجھے یونہی کھڑا دیکھ کر پھر کمرے میں گئی اور اک پرانی کرسی اٹھا لائی۔ “سیٹھ جی! معذرت۔ میرے گھر میں آپ کو بیٹھانے کے لیے کوئی چیز نہیں ہے۔” وہ کرسی رکھتے ہوئے شرمندگی سے بولی۔میں سر ہلاتے ہوئے اس کرسی پر بیٹھ گیا۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہاں سے شروع کروں۔ “تمھارا اصل نام کیا ہے بلبل؟” بالآخر میں نے اس سے پوچھا ۔وہ چپ رہی شاید بتانا نہیں چاہ رہی تھی افشاں”۔ میرے دوبارہ پوچھنے پر اس نے آہستہ سے کہا۔ ” بہت افسوس ہوا تمھاری ماں کی وفات کا۔” وہ خاموش رہی۔ “تمھارا باپ، بھائی کوئی ہے ؟” اس نے خاموشی سے “نہیں” میں سر ہلایا۔ “یہ بچہ تمھارا ہے ؟” اس نے پھر خاموشی سے “ہاں “میں سر ہلایا۔ “تمھارا شوہر کہاں ہے؟” چند لمحوں بعد وہ بولی “چھوڑ گیا۔” “تم ہیرا منڈی کیسے گئی تم مجھے ناچنے گانے والی تو نہیں لگتی؟” اب وہ نظریں اٹھا کر مجھے دیکھتی ہوئی بولی، “سیٹھ جی قسمت وہاں لے گئی۔ گھر میں کوئی مرد نہیں تھا۔ ایک بیمار ماں اور بچے کی ذمہ داری تھی۔ کہیں اور کام نہیں ملا تو ناچاہتے ہوئے بھی مجبورا”یہ راستہ اختیار کرنا پڑا۔ کچھ عرصے تک نائیکہ نے ناچ گانا سکھایا اور پھر دھندے پر بیٹھا دیا۔۔ وہ مجھے مجرا کرنے کے روزانہ دو سو روپے دیتی ہے اور ساتھ میں تماش بینوں کا بچا کھچا کھانا، جو میں گھر لا کے اپنی ماں کو کھلاتی ہوں اور خود بھی کھاتی ہوں۔ برقعے میں آتی جاتی ہوں جس سے محلے میں کسی کو پتہ نہیں چلتا اور اک بھرم قائم ہے۔ سیٹھ جی، ایسی کتنی ہی بے سہارا گمنام لڑکیاں معاشی حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر ان کوٹھوں پر ناچنے پر مجبور ہیں۔ آپ لوگوں کو کیا پتہ وہ کتنی مجبور ہو کر یہ قدم اٹھاتی ہیں ۔ کوئی لڑکی اپنی خوشی سے یوں سب کے سامنے اپنا جسم، اپنی عزت نیلام نہیں کرتی۔ جو لڑکیاں اک بار اس دلدل میں گر پڑتی ہیں پھر وہ دھنستی ہی چلی جاتی ہیں ۔ اور پھر اس میں ہمیشہ کے لیے ڈوب جاتی ہیں۔” یہ سب کچھ بتاتے ہوئے افشاں کے لہجے میں بے بسی اور بے چارگی تھی جیسے وہ کسی ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہی ہو۔میں کچھ دیر اس کے چہرے کو دیکھتا رہا۔ پھر پرس سے چند نوٹ نکالے اور اسکے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بولا “کل اپنی ماں کی تدفین کروا لینا اور بچے کے لیے کچھ خوارک اور گھر کے لیے راشن پانی لے لینا۔” وہ اتنے سارے نوٹ ایک ساتھ دیکھ کر حیران ہو گئی۔ “کیا ہوا؟” میں نے اس کو یوں چپ دیکھتے ہوئے پوچھا۔ “سیٹھ جی مجھے ان روپوں کے بدلے کیا کرنا ہو گا؟” وہ ڈرتے ڈرتے پوچھ رہی تھی۔ شاید یہ سوچ رہی تھی کہ ان نوٹوں کے بدلے سیٹھ پتہ نہیں کب تک اس کا جسم نوچے گا؟ کب تک اس کو سیٹھ کی رکھیل بن کر رہنا پڑے گا؟ اس کی بات سن کر مجھے اپنے آپ سے اتنی نفرت ہوئی کہ میں خواہش کرنے لگا کہ زمین پھٹ جائے اور میں اس میں سما جاؤں۔ مجھے احساس ہوا کہ میں ذلت اور اپنے کردار کی پستی کی آخری حد کو چھو رہا تھا۔ میں اس بے حس معاشرہ میں ایک تنہا اور بے سہارا لڑکی کی مدد کر رہا تھا مگر وہ اس کو بھی ایک ڈیل کے طور پر سمجھ رہی تھی۔ شاید جہاں سے میں اٹھ کر آیا تھا وہاں پر جانے والے لوگوں سے بغیر کسی وجہ کے مدد کی توقع نہیں کی جاتی۔ میں نے لرزتی آواز میں جواب دیا، “تمھیں کچھ نہیں کرنا پڑے گا۔ اور تم اب کوٹھے پر مجرا کرنے نہیں جاؤ گی۔ اپنے گھر میں رہو گی۔ ہر مہینے تمھیں منی آرڈر مل جایا کرے گا۔ تم نے کرنا بس یہ ہے کہ یہ جو بچہ تمھاری گود میں ہے اس کی تربیت ایسے کرو کہ یہ اک دن بڑا ہو کر تمھارا سہارا بن سکے ۔ یہ جو رقم میں بجھواؤں گا یہ تم پر قرض ہے اور جب تمھارا بیٹا جوان ہو جائے گا، ایک قابل انسان بن جائے گا تو تم مجھے واپس کر دینا۔افشاں حیران پریشان کھڑی مجھے دیکھ رہی تھی۔ اس انسان کو جس کے سامنے ابھی وہ ناچ کر آئی تھی وہ اس سے ایسی باتیں کر رہا تھا۔ پھر وہ بے آواز رو پڑی۔ مجھے سے وہاں رکا نہیں گیا۔ میں نے افشاں کے گھر کا پتہ لیا اور اس کو اپنا کیا وعدہ یاد دلا کر وہاں سے رخصت ہو گیا۔ سارے راستے میں یہی سوچتا رہا۔ “مجھے تم سے کچھ نہیں چاہے۔ مجھے تم سے کچھ نہیں چاہئے افشاں۔جو تم نے مجھے دیا ہے میں اس کا احسان ساری عمر نہیں اتار پاؤں گا۔ تم نے مجھ میں دفن اس انسانیت کو جگا دیا جو میں دولت اور شیطانی ہوس کے نیچے دبا کر مار چکا تھا۔ تم نے مجھے پھر سے انسان بنایا ہے افشاں۔”اس واقعے کے بعد میں ان تمام برے کاموں سے توبہ کر کے اس کی بارگاہ میں گناہوں کا بوجھ لیے حاضر ہوا۔ ہر روز اس کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا، اس سے معافی کی درخواست کرتا۔میں باقاعدگی سے ہر ماہ “افشاں” کو منی آڈر بجھواتا رہا۔ کئی دفعہ دل کیا میں اس مسیحا کو مل کر آؤں جس کی وجہ سے مجھے ان تمام گناہوں اور بدکاریوں سے نجات ملی۔ مگر ہر دفعہ اک شرمندگی آڑے آتی رہی کہ کبھی میں اپنی شیطانی ہوس کے لیے اس کا پیاسا تھا۔ اور پھر وقت گزرتا چلا گیا دن مہینوں میں بدلنے لگے اور مہینے سالوں میں تبدیل ہوتے گئے۔ مگر میں افشاں کو بھولا نہیں تھا۔ وہ بھی میری طرح بوڑھی ہو گئی ہو گی۔ اور اس کا بیٹا بھی جوان ہو گیا ہو گا۔ پتہ نہیں کسی قابل بنا ہو گا۔ اپنی ماں کا سہارا بنا ہو گا کہ نہیں؟ میرے بچے جوان ہو گئے تھے۔ زندگی اتار چڑھاؤ کے ساتھ مسلسل چل رہی تھی۔ ایک شام چھٹی کے دن جب میں اپنے گھر میں موجود تھا تو ملازم نے آکر مجھے بتایا کہ ایک عورت اور اسکے ساتھ ایک جوان لڑکا آپ سے ملنے آئے ہیں۔ “کون ہیں؟” “معلوم نہیں صاحب پہلی بار ان کو دیکھا ہے۔” ملازم نے مودبانہ لہجے میں جواب دیا۔ “اچھا انہیں ڈرائینگ روم میں بٹھاؤ میں آرہا ہوں۔” کون ہو سکتا ہے یہی سوچتے ہوئے میں ڈرائینگ روم کی طرف بڑھا۔ ایک عورت پرنور چہرہ کے ساتھ سفید بڑی چادر میں خود کو چھپائے ہوئے ہاتھ میں ایک پرانی سی ڈائری لیے کھڑی تھی۔ اور اس کے ساتھ اچھے کپڑوں میں ملبوس ایک بڑا ہینڈسم نوجوان کھڑا تھا۔ اس لڑکے کو میں جانتا تھا وہ ہمارے علاقے کا نیا ڈی ایس پی احمد تھا۔ “سلام سیٹھ جی میں افشاں ہوں اور یہ میرا بیٹا احمد ۔” جونہی اس نے افشاں کا نام لیا میرے ذہن میں اسکا ماضی کا چہرہ گھوم گیا۔ اور پھر مجھے پہچاننے میں دیر نہیں لگی کہ وہ افشاں تھی۔” آپ مجھے پہچان گئے ناں؟” میں نے سر ہلاتے ہوئے “ہاں” میں جواب دیا اور ان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔افشاں پھر اپنے بیٹے سے مخاطب ہو کر بولی۔ “احمد بیٹا یہی ہیں میرے مسیحا جن کی بدولت تمھاری ماں گندگی کی دلدل میں گرتے گرتے نکلی اور یہی ہیں جو تمھاری پڑھائی کا تمھیں یہاں اس مقام تک لانے کا ذریعہ ہیں ۔” ” میں انکو جانتا ہوں امی جان ان کا شمار علاقے کے معزز ترین افراد میں ہوتا ہے ۔ مگر میں یہ نہیں جانتا تھا کہ مجھے اس مقام پر لانے میں انکا کردار سب سے اہم ہے۔” “سیٹھ صاحب جس طرح آپ ہم بے سہارا اور بے کس لوگوں کی زندگی میں مسیحا بن کر آئے . اس کا احسان ہم کبھی نہیں بھولیں گے ۔” احمد بڑی مشکور نظروں سے دیکھتا ہوا بڑی عاجزی سے بول رہا تھا۔ “ایسے کہہ کر آپ لوگ مجھے شرمندہ مت کریں۔” میں نے افشاں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ آج اسکو پکارتے ہوئے بے اختیار میرے منہ سے افشاں بہن نکل گیا۔ میں خود حیران تھا مگر یہ سچ تھا۔افشاں صوفے سے اٹھی اور آگے بڑھ کر پرانی سی ڈائری مجھے تھماتے ہوئے کہنے لگی، “سیٹھ جی اس میں وہ تمام حساب درج ہے ۔۔ میری ماں کی تدفین سے لے کر آپ کے آخری منی آڈر تک۔ میں نے اک اک پائی کا حساب رکھا۔ آپ کے دیے پیسوں کا امانت کے طور پر استعمال کیا۔ اپنے بیٹے کو ایک قابل انسان بنایا۔ آپ نے مجھے بائیس سال پہلے کہا تھا کہ یہ قرض ہے اور یہ تب واپس کرنا جب تمھارا بیٹا ایک قابل انسان بن جائے۔” کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد افشاں پھر سے بولی، “سیٹھ جی آج وہ وقت آگیا ہے۔ میں آپ کے احسانوں کا بوجھ تو میں نہیں اتار سکتی مگر جو پیسے آپ نے مجھے دئیے تھے میرا بیٹا وہ ضرور اتارے گا۔ اور آپ سے درخواست ہے آپ انکار مت کریں۔”میں افشاں کو بڑی تحسین نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ آخر اس نے وہ کر ہی دکھایا۔ یقیناً قول و قرار کو نبھانا، وعدہ پر قائم رہنا اک اچھے کردار کے حامل انسان کی بڑی نشانی ہے۔ یہ سب سن کر میرے دل میں اسکی عزت اور احترام اور بڑھ گیا۔ “میں نے تم کو بہن کہا ہے افشاں بہن۔ اور میں کیسے تم سے یہ پیسے واپس لے سکتا ہوں۔ مجھے یوں شرمندہ مت کرو۔” میرے رکے رکے الفاظ میں پیسے نہ لینے کی معذرت چھپی تھی۔ مگر وہ بضد تھی۔ مجھے اس کے سامنے ہار ماننا پڑی اور وہ تمام پیسے جو میں اسکو منی آڈر کی صورت میں بھیجتا تھا . اس کو واپس لینے کی حامی بھرنی پڑی۔ پھر وہ دونوں مجھے اپنے نئے گھر کا پتہ دے کر اور آنے کی تاکید کر کے وہاں سے چلے گئے۔ “ارم میں نے تمہیں کسی سے ملوانا ہے میرے ساتھ چلو گی۔؟ ” شام کو میں نے اپنی بیگم سے کہا۔ “کیوں نہیں چلوں گی۔ مگر کون ہے؟ اور کس سلسلے میں ملنا ہے؟ضیاء سوری ” بیگم نے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔ “میں نے روبی بیٹی کے لیے ایک لڑکا پسند کیا ہے ۔ تم مل لو اگر تم کو پسند آجائے تو پھر اس کے بعد روبی سے بات کر لینا۔” میں نے مختصر لفظوں میں اسے وجہ بتائی۔ اگلے دن میں اور میری بیگم ارم ناز افشاں کے گھر میں تھے۔ ارم کو بھی احمد بہت پسند آیا۔ ہم نے پھر افشاں سے احمد اور روبی کے رشتے کی بات کی۔ افشاں کو بھلا اس سے کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ وہ پھولے سے نہیں سما رہی تھی۔ اور یوں میری بیٹی کا رشتہ افشاں کے بیٹے احمد سے طے ہو گیا۔ وہ تعلق جو اک طوائف اور تماش بین جیسے گندے رشتے سے شروع ہوا تھا اس کا اختتام ایک نہایت مہذب رشتے کی شکل میں ہوا۔یہ سچ ہے کہ ہر انسان کو قدرت سدھرنے کا موقعہ ضرور دیتی ہے۔ کبھی گندگی کے ڈھیر سے اس کو ایسا سبق سیکھا دیتی ہے، کبھی دو بھٹکے لوگوں ملا کر سیدھے راہ پر لے آتی ہے اور انسان ساری زندگی اسی کے مطابق گزارنے کو فخر محسوس کرتا ہے۔ کبھی وہ طوائف اور میں تماش بین تھا۔ مگر آج وہ میری منہ بولی بہن اور اس کا بیٹا میری بیٹی کا شوہر ہے۔ اور مجھے ان دونوں رشتوں پر فخر.

02/04/2021

جگہوں کی تبدیلی سے الفاظ کے معانی تبدیل ہو جاتے ہیں". جیسے لفظ گولی کا معنی اسلحہ کی دکان پہ مختلف اور میڈیکل سٹور پہ بالکل مختلف ہو جاتا ہے۔ یہی لفظ گولی سائیکل کی دکان پر بولا جائے تو یکسر مختلف معنی ادا کرے گا. کبھی کبھی وقت کا بدلاؤ بھی الفاظ کے معانی بدل ڈالتا ہے. لفظ موبائل، موبائل فون کی ایجاد سے پہلے صرف متحرک کے معنوں استعمال ہوتا تھا آج کل اس کا معنی بالکل بدل چکا ہے. لفظ سکرین کبھی صرف پردے کےلیے استعمال ہوتا تھا اب دیگر معنی بھی رکھتا ہے....

یہ تو تھا الفاظ اور ان کے مفاہیم کا قصہ اب موجودہ مسئلے کی طرف آتے ہیں. وہ معاشرہ جو معتبر الفاظ کے معنی نیچ قسم کے متعین کر دیتا ہے دراصل اخلاقی اور فکری اعتبار سے زوال پزیری کا شکار ہوتا ہے. اور یہ بہت بڑا لمحہ ء فکریہ ہوتا ہے. لفظ استاد اپنے معنی اور مرتبے کے حساب سے کتنا معزز اور معتبر ہوا کرتا تھا. آج کے دور میں ہم لوگ استاد اس آدمی کو کہتے ہیں جو اپنے اندر استرے جیسی صفات رکھتا ہو۔ یعنی جرم پیشہ یا مکار آدمی کےلیے ہم لفظ استاد استعمال کر کر کے اس کے معنی نیچ کر چکے ہیں. لفظ بچی کتنا معصوم اور پاکیزہ سا لفظ ہوا کرتا تھا جس کے معنی سوچ کر ہی دماغ میں ایک تقدس کا احساس جاگتا تھا. آج جس لڑکی کو اوباشوں نے تاڑنا ہو مخصوص اسی کےلیے یہ بچی کا لفظ استعمال ہوتا ہے. حالت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ ہم اس لفظ کے معنی اتنے گرا دیں گے کہ بالآخر اپنی بہن بیٹیوں کےلیے یہ لفظ ہی ترک کر دیں گے اور یہ ہماری اخلاقی پستی کی انتہا ہو گی. اب یہ لفظ باجی ہے جو آہستہ آہستہ تقدس کھو رہا ہے. باجی دراصل ترکی زبان کا لفظ ہے جو اردو کے علاوہ پنجابی میں بھی استعمال ہوتا ہے. بھلے وقتوں میں گھروں کی ایک روایت تھی جو اب بھی کہیں کہیں لجپال گھرانوں کے ہاں پائی جاتی ہے۔ کہ مرد جس خاتون کے سر پہ ہاتھ رکھ دیتا اسے بیٹی یا بہن کا درجہ مل جاتا تھا اور پھر وہ اس کی عزت کا ضامن ہوتا تھا، سگے بھائی کی طرح...

غور کریں منہ سے کچھ کہے بغیر کسی کے سر پر ہاتھ رکھ دینے سے بھی مرد عورت کو بہن یا بیٹی کی طرح عزت دیتا تھا اور جسے منہ سے بہن کہہ دیا جاتا اس کےلیے لازم تھا کہ اسے بہن سمجھ کر عزت دی جائے۔ اب سوشل میڈیا یہ لفظ باجی کا تقدس ہم لوگ ختم کر رہے ہیں۔ فیس بک پر عام مشاہدے کی بات ہے جہاں کسی خاتون تک براہِ راست رسائی ممکن نہ ہو وہاں لفظ باجی کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یہ مضحکہ خیز نہیں بلکہ قابلِ شرم بات ہے۔ پہلے باجی یا بہن کہہ کر ان باکس تک رسائی حاصل کرنی اور پھر اپنی اوقات پہ آ جاتا۔...

بیٹی ماں بہن وغیرہ جیسے لفظ آخری حد ہوتے ہیں۔ جب ایسے الفاظ کا تقدس ہی برقرار نہ رہے تو رشتوں کا تقدس کہاں برقرار رہتا ہے؟ رشتوں کے تقدس کو پامال ہونے سے بچائیں جسے بہن اور بیٹی کہیں اسے بہن اور بیٹی ہی سمجھیں۔ بہ صورتِ دیگر آنے والے کل میں لفظ بہن اور بیٹی کا بھی وہی حال ہو گا جو ہم استاد اور بچی جیسے الفاظ کا دیکھ رہے ہیں۔ لفظ باجی اور بہن حد سے زیادہ احترام کا متقاضی لفظ ہے۔ جسے حد سے زیادہ احترام دے سکتے ہیں اسی کو بہن کہیں۔ اور کبھی بھی رشتوں کے تقدس سے خیانت مت کریں۔“

31/12/2020

کیا واقعی انسان 309 سال تک سو سکتا ہے؟

اصحاب کہف(قرآن) کے واقعہ کی سائنسی تحقیق

ہائیبرنیشن (Hibernation) ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے دنیا کے تقریباً دو ہزار مختلف جاندار موسم کی سختیوں، خوراک کی کمی اور موت کے خوف سے بچنے کے لئیے لمبی تان کر سو جاتے ہیں۔ ان کے خلیوں میں موجود جین اس طرح کے خوف و خطرات سے آگاہ ہو جاتے ہیں اور ان پر ایک بہت لمبی نیند تان دیتے ہیں جسے Hibernation کہتے ہیں۔

اس عمل کے دوران دل کی دھڑکن %95 تک آہستہ ہو جاتی ہے۔ سانس سیکنڈوں کی بجائے منٹوں میں چلی جاتی ہے۔ جسم کا درجہ حرارت کم ہو کر ٹھنڈا پڑ جاتا ہے اور جاندار اپنے جسم کی غذائی توانائی پورا کرنے کا بڑا حصہ جسم میں موجود چربی اور مسلز سے حاصل کرتا ہے۔ خوراک یا چربی سے توانائی حاصل کرنے کے اس عمل کو میٹابولزم کہتے ہیں۔

اس طرح کل ملا کر آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہائبرنیشن کے دوران کسی زندہ چیز کا میٹابولزم انتہائی سست ہو جاتا ہے۔

ہائیبرنیشن کرنے والے جانوروں میں کئی چوہے، چمگادڑ، گلہری، لنگوروں کی کئی نسلیں، کچھ پرندے ، سانپ، کیڑے اور کئی ریچھ شامل ہیں۔

ہائئبرنیشن والے جانور جی بھر کے کھاتے ہیں تاکہ موٹے ہو کر اندر چربی بنا لیں جو ہائیبرنیشن میں توانائی دے گی۔ ہائیبرنیشن سے کچھ مہینوں بعد باہر آنے پر جانداروں کو زور کی بھوک لگتی ہے اور وہ پہلا کام شکار تلاش کرنا کرتے ہیں۔

عام طور پر ہائبرنیشن سردیوں سے بچنے کے لیے ہوتی ہے اور اس موسم میں شکار بھی کم ہو جاتا ہے۔ آج تک سب سے لمبی ہائیبرنیشن ایک چمگادڑ کی ہے جو 344 دن یعنی تقریباً ایک سال تک بنا کھائے پئیے سوئی رہی۔

سائینس یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ Telomeres، جو کہ ڈی این اے کے ٹکڑے ہیں، اور سیل کے کروموسوم کے کناروں پر ہوتے ہیں، وہ سیل کی ہر تقسیم کے وقت کم ہوتے جاتے ہیں اور ان کی تعداد کو لیبارٹری میں ٹیسٹ کر کے کسی جاندار کی باقی ماندہ زندگی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ لیکن ہائیبرنیشن کے دوران ان کو انتہائی سست رفتار سے کم ہوتے دیکھا گیا ہے۔ اس ساری بات کو آسان لفظوں میں کہیں تو ہائیبرنیشن کے دوران جانور کی عمر بڑھنا تقریباً رک جاتی ہے۔

ہالی وو ڈ کی ایک فلم جس کا نام The Pessenger ہے۔ فلم کی سٹوری کا مختصر Theme یہ ہے کہ 5000 لوگوں اور 258 سپیس شپ کے مزدوروں پر مشتمل ایک گروہ ایک نئے سیارے Homestead 2 پر جارہا ہے۔ سیارہ چونکہ زمین سے 120 نوری سال پر واقع ہے۔ اس لئیے انسان کا اپنی نارمل زندگی میں جس میں وہ بمشکل ستر سے اسی سال طبعی عمر پاتا ہے، جانا مشکل ہے۔ اس کے لئیے سائینسدان ایسے تابوت تیار کرتے ہیں جس میں ہر شخص کو ہائیبرنیٹ کر دیا جاتا ہے تا کہ اس کی عمر انتہا درجے کی آہستہ ہو جائے اور یہ 120 سال کا عرصہ گزر جائے اور وہ نئے سیارے پر ایک نئی زندگی کے ساتھ اتریں۔ لیکن ان میں سے ایک شخص کسی خرابی کی وجہ سے جاگ جاتا ہے اور اسے پتہ چلتا ہے ابھی نئے سیارے پر پہنچنے کے لئیے 80 سال مزید پڑے ہوئے ہیں۔ تو یہاں سے فلم اس کے دوبارہ ہائیبرنیٹ ہونے کی جدوجہد پر شروع ہوتی ہے۔

اب ذرا قرآن کی سورت کہف کے ان چند جملوں پر غور کریں:

تو ہم نے غار میں “ کئی سالوں تک ان کے کانوں پر (نیند کا) پردہ ڈالے رکھا” 11

اور جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ وہ “ ان کی غار کے داہنی طرف سمٹ جائےاور جب غروب ہو تو بائیں طرف کترا جائےاور وہ اس کے میدان میں تھے. یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔ ”17

“اور تم ان کا خیال کرو کہ جاگ رہےہیں حالانکہ وہ سورہے ہیں اور ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹ بدلاتے تھے اور ان کا کتا چوکھٹ پر دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے تھا۔ اگر تم ان کو جھانک کر دیکھتے تو پیٹھ پھیر کے بھاگ جاتے اور دہشت میں آ جاتے"18

"اور اس طرح ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کریں۔ ایک کہنے والے نے کہا تم یہاں کتنی مدت رہے؟ انہوں نے کہا ایک دن یا اس سے بھی کم۔ انہوں نے کہا جتنی مدت تم رہے ہو تمہارا پروردگار ہی اس کو خوب جانتا ہے۔ تو اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر بھیجو وہ دیکھے نفیس ( یعنی توانائی سے بھرپور) کھانا کون سا ہے تو اس میں سے کھانا لے آئے۔ اور آہستہ آہستہ آئے جائے اور تمہارا حال کسی کو نہ بتائے۔" 19

۰سائنس یہ کہتی ہے کہ ہائیبرنیشن کے دوران کئی جانداروں کے جسم کے کئی حصے (آرگنز) کام کرنا بند کر دیتے ہیں۔

چاہےباہر کا درجہ حرارت جیسا بھی ہو دنیا کی زیادہ تر غاروں کا درجہ حرارت سارا سال مستقل رہتا ہے۔ اصحاب کہف کا پہلا قدم غار میں جانا تھا اور اس کے بعد سوجانا۔ قرآن کا یہ کہنا کہ ان کے کانوں پر نیند کا پردہ ڈال دیا دراصل ہمارے اندرونی کان کے حصے کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے جو ایک غیر معمولی آواز پر چونک کر دماغ کو سگنل بھیجتا ہے اور دماغ ہمیں جگا دیتا ہے۔ لیکن اصحاب کے معاملے میں وہ حصہ مکمل رک چکا (Suspended) تھا۔

اگر سورج کی روشنی غار میں پڑتی تو غار کا درجہ حرارت بڑھتا، جو اصحاب کہف کو جگا سکتا تھا۔ دوسرا سورج کی تیز شعاعیں جلد پر پڑھنے سے جسم میں Free Radical مالیکیولز بڑھتے ہیں جو انسان کی عمر بڑھانا شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن قرآن کا یہ کہنا کہ طلوع و غروب کے وقت سورج غار کے سامنے نہ ہوا، بات کو بڑے دلچسپ مرحلے میں لے کر جا رہا ہے۔( یعنی غار سارا عرصہ ٹھنڈی رہی)

سائینس مانتی ہے کہ سویا ہوا شخص اگر زیادہ دیر تک کروٹ نہ بدلے تو خون کا بہاؤ رکنے اور پریشر کی وجہ سے جسم پر بڑے بڑے زخموں کی بیماری کا شکار ہو سکتا ہے جسے Pressure Ulcer کہتے ہیں۔ لیکن قرآن پاک کہتا کہ اصحاب کی کروٹ باقاعدہ بدلائی جاتی رہی (چنانچہ وہ اس بیماری سے محفوظ رہے)۔

سائنس کہتی ہے کہ اگر آنکھیں زیادہ دیر تک بند رہیں تو آنکھوں کے Nerve Optic کو نقصان پہنچا کر اندھا کر سکتی ہیں۔ اگر زیادہ دیر تک مستقل کھلی رہیں تو Cornea کو نقصان پہنچائیں گی۔ یعنی زیادہ دیر تک آنکھیں کھلی رکھنے یا بند کرنے سے نقصان ہے۔

کوما کے اکثر مریض اگر زندگی کی ظرف لوٹ بھی آئیں تو آنکھوں کی بیماریوں کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں۔اب ظاہری سی بات ہے کہ اتنا لمبا عرصہ سونے کے لئیے آنکھوں کا باقاعدہ وقفے وقفے سے جھپکتے رہنا ضروری ہے تا کہ نظر ضائع ہونے سے بچ جائے۔

قرآن کہتا ہے تو تم انہیں دیکھو تو سمجھو کہ وہ جاگ رہے ہیں (مطلب آنکھیں جھپک رہی ہیں) حالانکہ وہ سو رہے ہیں اور مارے دہشت کے پیٹھ پھیر کے بھاگ جاؤ۔ ظاہر ہے آپ کسی کو ایسے سوئے دیکھیں گے جو آواز بھی نہ سن رہا ہو اور آنکھیں جھپکا رہا ہو آپ بھی بھاگیں گے۔

سائنس کہتی ہے کہ ہائیبرنیشن میں ایک جاندار اپنے جسم کی انرجی کا بڑا حصہ استعمال کر لیتا ہے اور باہر آتے ساتھ ہی وہ شکار شروع کر دیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے جیسے ہی وہ اٹھے ایک نے کہا بازار سے بہترین کھانا لے کر آؤ۔

ان سب نکات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اصحاب کہف Human Hibernation کی وہ ٹیکنالوجی حاصل کر چکے تھے، یعنی انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے اس قابل بنا دیا تھا کہ وہ اس طرح سو سکیں جیسا کہ فلم Messenger میں دکھایا گیا ہے۔

اب یہ کیسے ممکن ہوا؟ کیا انہوں نے کوئی پھل یاجڑی بوٹی کھائی یا کسی ایسے جانور سے کوئی چیز ان کے جسم میں منتقل ہوئی جو غار میں ہائیبرنیٹ کر رہا تھا؟

اللہ بہتر جانتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو مادی اسباب بنانے میں کوئی دقت نہیں لیکن قرآن کی اس سورت کے ان چند جملوں کو پرکھنے کے لئیے میں ناسا اور ان دوسرے اداروں کو دعوت دیتا ہوں جو ہائیبرنیشن کو (خلا میں جانے کے لئیے اور کئی مریضوں کے علاج کے لئیے) استعمال کرنے پر تحقیق کر رہے ہیں کہ آئیں غور کریں اور دیکھیں ایسی کیا وجہ ہے کہ اصحاب کہف اتنا عرصہ سو پائے۔

اگر تین سو شمسی سال کو گوگل میں لکھ کر قمری سال میں تبدیل کریں تو 309 سال بنتے ہیں قرآن کہتا:
" اور اصحاب کہف اپنے غار میں نو اوپر تین سو سال رہے"
سبحان اللہ کیا اعدادوشمار اور حکمت ہے میرے رب کی۔

یہ چند نوجوان تھے باقی پوری سلطنت گمراہ اور بادشاہ ظالم تھا جو انہیں پتھر مار مار کر مارنا چاہتے تھے۔ لیکن جب ان نوجوانوں نے رب پہ بھروسہ کیا تو اس نے ان کے لئیے راہ نکالی اور ہمارے لئیے اس میں ایک سبق چھوڑ دیا۔

ترکی کے شہر Tarsus میں ایک غار موجود جسے اصحاب کہف کی غار مانا جاتا ہے۔ اصحاب کہف کا واقعہ عیسائی مذہبی کتابوں اور رومی تاریخ میں بھی The Seven Sleepers کے نام سے موجود ہے. لیکن جو قرآن نے بالکل سائنس کے موافق بیان کیا ایسا بیان کسی کتاب میں نہیں ملتا۔

سبحان اللہ و اللہ اکبر 🌺

24/09/2020

ایک با ر ضرور پڑھیں

پاکستان کی وڈیرا شاہی ***
غلام مرتضیٰ بھٹو۔ شاہ نواز بھٹو (1888 – 1957)۔ ذوالفقار علی بھٹو (1928 – 1979)۔ نصرت اصفہانی جس سے بھٹو نے شادی کی (1929 ۔ 2011 )۔نصرت بھٹو کی شہرت ذولفقار علی بھٹو کی دوسری اہلیہ کے طور پر ہے۔ اس کی اولاد بینظیر بھٹو، مرتضی بھٹو، شاہنواز بھٹو، اور صنم بھٹو ہیں ۔ نصرت بھٹو ً ایرانی صوبہ کردستان سے تعلق رکھتی تھی . وہ 2011ء میں فوت ہوئیں ۔ ان کی دختر بینظیر بھٹو (1953 – 2007) عالمی لیڈر کے طور پر مشہور ہیں ۔

1843ء میں چارلس نیپیئر کی قیادت میں انگریزوں نے سندھ پہ قبضہ کر لیا اور یہاں سے دولت کی لوٹ مار کے لیے ایک خاص طبقہ پیدا کیا جس کے ذمے عوام سے ظالمانہ لگان یعنی ٹیکس کی وصولی اور زمینوں پہ قبضہ تھا۔ اس سے برصغیر اور سندھ میں وہ طبقہ پیدا ہوا جسے آج وڈیرا، سردار اور جاگیردار کہا جاتا ہے۔ انگریزوں کی انہی مہربانیوں سے بھٹو خاندان آج بھی برصغیر کے امیر ترین خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔برصغیر کے انہی غدار خاندانوں کی مدد سے انگریز اگلے نوے سال میں برصغیر کی ایک ہزار ملین سٹرلنگ پاؤنڈ دولت اور بے پناہ وسائل لوٹ کر برطانیہ منتقل کرنے میں کامیاب ہوئے جس سے اس خطے یعنی پاکستان اور ہندوستان میں غربت اور ثقافتی محرومی کی وہ فضا پیدا ہوئی جو آج بھی قائم ہے۔ خدا بخش خان اور اس کے بیٹے میر مرتضی خان بھٹو نے انگریزوں اور ان کے حامی سندھی وڈیروں کا راستہ روکنے کی کوشش کی لیکن سب باری باری وفات پاگئے۔ اس کے بعد میر مرتضی خان کے بیٹے شاہنواز بھٹو نے انگریزوں سے مفاہمت کی اور سیاسیات میں حصہ لینا شروع کیا جس سے بھٹو خاندان کی سیاسی زندگی کا آغاز ہوا ۔انگریزوں نے اسے بہت نوازا اور وہ کئی اعلی عہدوں پہ فائز رہا۔

شاہنواز بھٹو (1888–1957) برطانوی راج میں لاڑکانہ، سندھ، موجودہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک سیاست دان تھے۔ سر شاہ نواز بھٹو مشیر اعلی حکومت بمبئی اور جوناگڑھ کی مسلم ریاست میں دیوان تھے۔وہ انگریزوں کی بمبئی پریزیڈنسی کا وزیر بھی رہا۔ ان کو برطانیہ سے وفاداری اور ملک و قوم سے غداری کی وجہ سے پہلے سی آئی ای اور بعد ازاں برطانیہ کی طرف سے سر کا خطاب دیا گیا۔بھٹو خاندان سندھ میں برطانوی غاصبانہ قبضے کو مستحکم رکھنے میں ایک اہم غدار خاندان تھا۔بھٹو خاندان نے سندھ پہ انگریزوں کا قبضہ مستحکم رکھنے کے لیے اور عوام پہ اپنا اثرو رسوخ قائم رکھنے کے لیے سندھ کے پیروں کا استعمال کیا۔ یہ خاندان سندھ کا ایک جاگیردار خاندان تھا جو راجپوت نسل سے تعلق رکھتا تھا۔ اس خاندان کے ابتدائی افراد جیسا کہ محمد بخش بھٹو نے انگریزوں کے خلاف مزاحمت کی لیکن بعد کی ساری نسلیں غدار ثابت ہوئیں اور اس پہ اس خاندان کے کئی افراد کو برطانیہ کی طرف سے سر، نواب اور بہادر کے خطاب دیے گئے۔ اس خاندان کو ملک و قوم سے غداری کے سلسلے میں بیشمار زمینیں دی گئیں جو سندھ کے غریب مزدوروں سے لوٹی گئی تھیں۔ ایک وقت تھا کہ یہ خاندان اڑھائی لاکھ ایکڑ رقبے کا مالک تھا جو انگریز دور اور اس کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت کی صورت میں ملک و قوم کا استحصال کرتا رہا اور آج تک اس خاندان کا شمار پاکستان کے امیر ترین خاندانوں میں ہوتا ہے جس کی دولت کا اندازہ کئی ملین ڈالرز میں ہے اور سکھر جیکب آباد عملا ان کی ریاست شمار ہوتے ہیں۔ ان کے بڑے ملک و قوم سے غداری کرکے برطانیہ سے انعامات نہ پاتے تو آج اس خاندان کو کوئی نہ جانتا ہوتا۔یہاں تک کہ یہ خاندان جو حقیقی طور پہ انگریز دور میں تالپوروں کی جگہ برطانیہ کی طرف سے وفاداری کے صلے میں آگے لایا گیا برطانیہ کی مہربانیوں سے اب بھی نہ صرف سندھ بلکہ پاکستان کے امیر ترین خاندانوں میں شمار ہوتا ہے اور یہ دولت وہ تھی جو انگریزوں نے برصغیر کے غریب طبقے کو لوٹ کر اپنے ان غداروں میں تقسیم کی۔

حال یہ تھا کہ خود ایک انگریز مصنف ڈیوڈ چیزمین کی کتاب Landlord power in rural indebtedness in colonial Sindh(1865_1901) کے مطابق سندھ میں وڈیرے سیاہ و سفید کے مالک تھے اور ان کو برطانیہ کی طرف سے اپنے علاقوں میں بینچ مجسٹریٹ کی حیثیت حاصل تھی کہ وہ جیسے چاہیں غریب عوام کو ظلم کی چکی میں پیس کے رکھیں لیکن برطانیہ کے وفادار رہیں اور اس بدلے میں انہیں برطانیہ سے سر، نواب ،خان بہادر کے خطاب اور غریب طبقے سے لوٹی گئی زمینیں ملتی تھیں جس سے نسل در نسل ان کی مالی و سیاسی طاقت میں اضافہ ہوتا گیا اور یہ چند خاندان آج تک برصغیر میں اعلی عہدوں پہ قابض ہیں اور غریب عوام پہ ظلم جو انگریز نے شروع کیا آج تک جاری ہے۔انگریز کے ان وفاداروں اور ملک و مذہب کے ان غداروں میں غلام قدیر درکھان، میر عبدالحسین خان تالپور ( موجودہ سندھ کی سیاستدان فریال تالپور کے اجداد) ، غلام رسول جتوئی ( جو انگریز کی مہربانی سے آج بھی سندھ میں اعلی حیثیت رکھتا ہے) ، بھٹو خاندان کے اللہ بخش بھٹو شامل تھے اور یہ عوامی میٹنگ میں انگریز افسروں کے ساتھ کرسی نشین ہوتے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد اس سیاست کے میدان میں بہت سے ایسے افراد بھی آ نکلے جو ان انگریز کے بنائے ہوئے گھرانوں سے تعلق نہیں رکھتے تھے لیکن انھوں نے سیاست کے گر اور چالبازیاں ایسی سیکھیں کہ بڑے بڑے پرانے جغادری سیاسی گھرانوں کو شکست دے کر اس ملک کی سیاست کے مختار بن گئے۔

حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی کا خاندان خود کو ”مخدوم “کہلواتا ہے یعنی وہ خاندان کہ جس کا ہر فرد خدمت کیے جانے کے لائق ہو۔ مگر تاریخ گواہی دیتی ہے کہ یہ خاندان ماضی میں غاصبین ملک کی والہانہ خدمت کیلئے کوشاں و گامزن رہا ہے۔ یہ لوگ ایک طرف اولیا ء اکرام کے مزارات مقدسہ کے گدی نشین اور مخدوم بن کر لوگوں کی خدمات و عطیات سمیٹتے رہے اور دوسری طرف گوروں کو اپنا مخدوم بنا کر قتال ملت میں ان کے حلیف بن کر صلے میں جاگیریں لیتے رہے ہیں ۔ سیاسی خاندانوں کے بارے حقائق سے پردہ اٹھانے والی مشہور تصنیف “سیاست کے فرعون “ کے مصنف جناب وکیل انجم لکھتے ہیں۔۔۔۔ ” سکھوں کے ابتدائی دور میں موجودہ شاہ محمود قریشی کے ہم نام لکڑ دادا مخدوم شاہ محمود اس خاندان کے سربراہ اور درگاہ کا گدی نشین تھے۔ سکھوں کے نامور حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ کے باقاعدہ برسر اقتدار آنے سے پہلے ہی یہ مخدوم کافی زمینوں کے مالک بن چکے تھے اوران کا شمار ملک کے امیرترین خاندانوں میں ہوتا تھا۔ مابعد 1819ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ملتان شہر کو فتح کیا تو انہوں نے مخدوموں کی عزت وتکریم کے پیش نظر انہیں ساڑھے تین ہزار روپے مالیت کی جاگیر عطا کی۔

جناب وکیل انجم لکھتے ہیں کہ جب 1847 ء میں سکھوں کی قوت لڑکھڑانے لگی اور تاجدار برطانیہ کے انگریزوں نے مطلع سیاست پر یونین جیک کا جھنڈا گاڑ دیا تو مخدوم شاہ محمود نے اس زمانے میں انگریز سرکار عالیہ کو جو خفیہ خبریں دیں، وہ ان مخدوموں کے نئے آقا گوروں کیلئے انتہائی مفید و مددگار ثابت ہوئیں۔ جب انگریز نے پنجاب پر پوری طرح قبضہ کر لیا تو انہوں نے مخدوم شاہ محمود کو اعلی خدمات کے معاوضے میں ایک ہزار مالیت کی مستقل جاگیر اور تا زندگی سترہ سو روپے پنشن مقرر کرنے کے علاوہ ایک پورا گاؤں ان کے حوالے کر دیا گیا “۔ وکیل انجم صاحب مذید لکھتے ہیں کہ ” 1857 ء کی جنگ آزادی کے خونی ہنگاموں میں جب ہندوستان کے کچلے ہوئے عوام نے برطانوی استعمار کے خلاف زندگی اور موت کی حدود کو توڑتے ہوئے آخری جدوجہد کی تو اس نازک مرحلے پر مخدوم شاہ محمود نے انگریز سرکار دولت مدار کی مستحسن خدمت انجام دی – وہ انگریز کمشنر کو ہر ایک قابل ذکر واقعہ کی اطلاع بڑی مستعدی سے دیتے رہے۔ اپنی وفاداری کا مزید ثبوت دینے کیلئے انہوں نے سرکاری فوج میں بیس ہزار سوار اور کافی پیادے بھینٹ چڑھائے۔

سرکار کے اس یار وفادار نے اس امداد کے علاوہ پچیس سواروں کی ایک پلٹن بنا کر کرنل ہملٹن کے ہمراہ باغیوں یعنی مجاہدین کی سرکوبی کے لئے روانہ کی اور انگریز آقاؤں کے ساتھ مل کر مجاہدین کے ساتھ خود لڑائیاں لڑیں ۔ مخدوم شاہ محمود کی اس عملی امداد نے انگریزوں کی قوت بڑھانے میں اتنا کام نہیں کیا جتنا کہ ایک مذہبی راہنما کی حیثیت سے ان کے ساتھ تعاون نے اثر کیا- جب مسلمانوں نے دیکھا کہ ایک بڑا مذہبی راہنما انگریزوں کی امداد کررہا ہے تو ان کے جذبات ٹھنڈے پڑ گئے، جس کا جدوجہد آزادی پربہت بر ا اثر پڑا – ان خدمات جلیلہ کے معاوضے میں تیس ہزار روپے نقد کے علاوہ اٹھارہ سوروپے مالیت کی جاگیر اور آٹھ کنوں پر مشتمل زمین بھی سرکار برطانیہ کی طرف سے عطا گئی ۔ موجودہ شاہ محمود قریشی کے ہمنام ان کے بزرگ لکڑ دادا شاہ محمود قریشی 1869 ء میں وفات پا گئے تو ان کے بعد ان کا بیٹا بہاول بخش حضرت شاہ رکن عالم رح اور حضرت بہاء الدین رح کے مزارات کا سجادہ نشین بنا۔

دلچسب بات ہے کہ جید اولیا اللہ کے اس گدی نشین بہاول بخش کی دستار بندی ایک انگریز ڈپٹی کمشنر کے ہاتھوں بڑی شان وشوکت سے ہوئی۔ احباب یاد رہے کہ جب انگریزوں اور افغانوں کے مابین جنگ ہوئی تو اس جنگ میں انگریزو ں کوعبرتناک شکست ہوئی۔ اس جنگ میں بھی جہاں ایک طرف مجاہدین اسلام آج پاکستان کے علاقے میں واقع پہاڑوں میں افغانوں کے ہمراہ انگریزوں کیخلاف لڑ رہے تھے۔ تو دوسری طرف جید اولیاءکرام کے گدی نشین انگریزوں کا ساتھ دے کر امت مسلمہ سے وہ غداری کے عوض وہ انگریز سے اپنی خدمات رذیلہ کا صلہ وصول کر رہے تھے۔ اس جنگ میں نقل وحمل کے لئے حضرت بہاول بخش نے اونٹوں کا ایک دستہ بھی افغان جنگ میں انگریز سرکار کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ مابعد انہی خدمات کے صلہ میں 1877ء میں بہاول بخش کو آنریر ی مجسٹر یٹ مقرر کیا گیا اور کچھ عرصہ بعد وہ ملتان میونسپل کمیٹی کے ممبر بنا دیے گئے اور انہیں صوبائی درباری کی نشست بھی الا ٹ ہوگئی۔ بہاول بخش کی افغان جنگ میں انگریزوں کیلئے پیش کی گئی خدمات کوسراہنے کیلئے 1880 ء میں لاہور میں ایک شاندار شاہی دربار لگایا گیا تھا۔۔

احباب قابل غور ہے کہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے آبا و اجداد اور مرزا غلام قادیانی کے خاندان کا انگریزوں کی ایجنٹی کا کردار کم و بیش ایک جیسا رہا ہے۔ دونوں نے برصغیر میں انگریزوں کیخلاف مسلم مذاحمت کو کچلنے اور گوروں کا تسلط مضبوط کرنے میں ہر مدد فراہم کر کے، گوروں کے کارندوں کا ایک جیسا کردار بخوبی نبھایا۔ اس مخدوم خاندان کی طرف سے انگریزوں کا ساتھ دینے اور قوم سے غداری کا زمانہ بھی وہی ہے جس دور میں انگریزوں کا ایک اور خود کاشتہ پودا مرزا غلام قادیانی انگریزوں کیخلاف آزادی و اسلامی جہاد کی مخالفت میں مغرب برانڈ دجالی نظریات کی تشہیر کر کے اپنے گورے آقاؤں کی نمک حلالی کا حق ادا کر رہا تھا

درگاہ شاہ رکن الدین عالم رح کے آج کے سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی صاحب بھی گوروں کے دست راست اپنے آبا و اجداد کے نقش قدم ہر گامزن ہیں۔ کچھ تعجب نہیں کہ موصوف کبھی شرم و حیا کے پیکر پیر صاحب بن کر اپنی مردنیوں کے سر پر دست شفقت دراز فرماتے نظر آتے ہیں۔ اور کبھی سر سے شرم و حیا اتار کر اسلام اور پاکستان کی دشمن ، شراب کے نشے میں بدمست ھنری کلنٹن کے ساتھ سر سے سر جوڑے عاشقانہ مزاج دکھا کر امت مسلمہ کے سر شرم سے جھکا دیتے ہیں۔ صرف پاکستانی پریس ہی میں نہیں بلکہ مغربی پریس میں بھی بیش شمار ایسی تصاویر شائع ہو چکی ہیں کہ موصوف کو یورپی دوروں میں اکثر شراب کی محفلوں میں جام لہراتے دیکھا جاتا رہا ہے ۔ عوام کیسے بھول سکتے ہیں کہ یہی شاہ محمود قریشی کبھی پیپلز پارٹی چھوڑ کر نون لیگ میں بھی شامل ہوئے تھے مگر پنجاب کی وزارت اعلی نہ ملنے پر فوری طور پر پیپلز پارٹی میں واپس لوٹ گئے تھے اور حسب دستورِ سیاہ ست ایک بار پھر ہوسِ اقتدار میں عمران خان صاحب کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے، ایک محفوظ و مقبول پلیٹ فارم کی تلاش میں ایک چڑھتے سورج کے پجاری بنے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ان کے آبا و اجداد اپنے سابقہ آقا و حلیف سکھوں کی طاقت کے دم توڑتے ہی ان کا ساتھ چھوڑ کر انگریزوں کے ساتھ جا ملے تھے۔

قوم کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ 1857ء کی جنگ میں غداری کرنے والے بابا شاہ محمود قریشی ہوں یا اکیسویں صدی میں پرویز مشرف اور زرداری مافیا کا حصہ اور امریکہ کا خادم بن کر ملک و ملت کے سودے کرنے والا موجودہ شاہ محمود قریشی ، یہ لوگ نسل در نسل انگریز کے غلام ابن غلام اور غدار قوم و ملت ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ایسے ناعاقبت اندیش اور ضمیر فروش افراد ملک کی ہر ایک سیاسی جماعت میں بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔۔۔۔ بہاول پور میں آباد قبیلے عباسی کے نواب ‘ نواب آف بہاول پور نے انگریز کے ساتھ ” وفاداری ” نبھائی- لہذا انگریز سرکار نے پاکستان کے قیام تک بہاول پور کی ریاست کا والی بنائے رکھا۔

ملتان میں آباد قبیلے قریشی کے سربراہ اور گدی نشین مخدوم شاہ محمود نے رائے احمد کھرل کی انگریزوں کے خلاف پنجاب کی آزادی کی تحریک میں انگریز کمشنر کومقامی آبادی کی بے چینی کے متعلق معلومات اور اطلاعات پہنچائیں اور سرکاری فوج کی مدد کے لیے پچیس سو سواروں کی ایک ملتانی پلٹن تیار کر کے دی- لہذا انگریزوں نے اس “ خدمت “ کے عوض اسے قیمتی جاگیر’ نقد انعام اور آٹھ کنویں زمین عطاء کی- ملتان میں آباد قبیلہ گیلانی کے سربراہ اور گدی نشین مخدوم سید نور شاہ نے انگریز سرکار کا ساتھ دیا۔ لہذا انگریز سرکار نے اس “ خدمت “ کے عوض خلعت اور سند سے نوازا اور بعد میں کاسہ لیسی کے صلے میں گیلانی خاندان کو جاگیریں بھی ملیں-
ملتان میں آباد پٹھان قبیلے کے گردیزی خاندان نے انگریز سرکار کا بھرپور ساتھ دیا۔ لہذا انگریز سرکار نے انگریز کی ” مدد ” کر نے کے صلے میں جاگیریں عطاء کیں-

خان گڑھ میں آباد پٹھان قبیلے بابر کے نوابزادگان کے جد امجد اللہ داد خان نے انگریزوں کے خلاف تحریک چلانے والوں کو کچلنے میں انگریزوں کا بھرپور ساتھ دیا- لہذا نگریز سرکار نے اس “ خدمت “ کے عوض اسے دو بار خصوصی خلعت دی اور انعام میں جاگیریں عطاء کیں- نوابزادہ نصر اللہ ان کی اولاد سے تھے۔ قصور میں آباد پٹھان قبیلے ممدوٹ نے انگریز کا بھرپور ساتھ دیا چنانچہ اس خاندان کو قیمتی جاگیر ‘ عہدے اور منصب دیئے گئے- عیسیٰ خیل میں آباد پٹھان قبیلے کے نیازیوں نے انگریز کا بھرپور ساتھ دیا چنانچہ اس خاندان کو قیمتی جاگیر ‘ عہدے اور منصب دیئے گئے- راجن پور میں آباد بلوچ قبیلے مزاری کے سردار امام بخش مزاری نے کھل کر انگریزوں کا ساتھ دیا- لہذا انگریز سرکار نے انگریز کی ” مدد ” کر نے کے صلے میں اسے سر کا خطاب دیا اور جاگیریں عطا کیں- راجن پور میں آباد بلوچ قبیلے دریشک کے سردار بجاران خان دریشک نے انگریزوں کے خلاف تحریک چلانے والوں کے خلاف لڑنے کے لیے دریشکوں کا ایک خصوصی دستہ انگریزوں کے پاس بھیجا- لہذا انگریز سرکار نے انگریز کی ” مدد ” کر نے کے صلے میں دریشکوں کو جاگیریں عطا کیں- مکھڈ شریف کے پیروں نے انگریز کا بھرپور ساتھ دیا چنانچہ اس خاندان کو قیمتی جاگیر ‘ عہدے اور منصب دیئے گئے-

لاھور میں آباد اہل تشیع ایرانی نسل قزلباش سردار علی رضا نے ایک گھڑ سوار دستہ تیار کر کے جنگ آزادی میں لڑنے والے مسلمان اور ھندو سپاھیوں کے خلاف انگریز کو بھیجا۔ اسی دستے کے ساتھ علی رضا کا بھائی محمد تقی خان تھا جو مجاھدوں کے ساتھ لڑائی میں مارا گیا- قزلباشوں کو جنگ کے بعد خطاب ‘ سند ‘ وظیفے اور 147 دیہات کی تعلقہ داری سونپ دی گئی- لاھور کے کلاًں شیخ خاندان کے سربراہ شیخ امام دین نے جنگ آزادی میں دو دستے خصوصی طور پر دھلی بھجوائے جنھوں نے خریت پسندوں کا خون بہایا۔ انہی خدمات کی بدلے انگریز نے ان کو بہت بڑی جاگیر بخشی- گجرانوالہ کے چٹھہ خاندان کے جان محمد نے1857 میں انگریز کا بھرپور ساتھ دیا چنانچہ اس خاندان کو قیمتی جاگیر ‘ عہدے اور منصب دیئے گئے- سرگودھا کے ٹوانوں کے گھڑ سواروں نے دھلی کی تسخیر میں بہادری کے خوب جوھر دکھائے چنانچہ انہیں خطاب ‘ پنشن اور لمبی چوڑی جاگیریں ملیں- خانیوال کے ڈاھوں نے انگریز کا بھرپور ساتھ دیا چنانچہ اس خاندان کو قیمتی جاگیر ‘ عہدے اور منصب دیئے گئے- کالاباغ کے نوابوں نے انگریز کا بھرپور ساتھ دیا چنانچہ اس خاندان کو قیمتی جاگیر ‘ عہدے اور منصب دیئے گئے-
پاکستانیوں کی بدقسمتی یہ ھے کہ شہیدوں کے ساتھ غداری کی وجہ سے انگریز دور میں سر بلند ھونے والوں کی اولاد آج بھی “ممتاز“اور “معزز“ ھے۔

ملتان کے مشہور معروف قریشی خاندان کے مخدوم شاہ محمود نے 1857 نے انگریز کمشنر کومقامی آبادی کی بے چینی کے متعلق معلومات اور اطلاعات پہنچایئں اور سرکاری فوج کی مدد کے لیے پچیس سواروں کی ایک ملتانی پلٹن تیار کر کے دہلی پہنچائی- اس کی “ خدمت “ کے عوض اسے قیمتی تحفے دیے گئے۔ کھرلوں کا وڈیرا احمد خان انگریز کا جاسوس بنا رہا اور جنگ کے بعد اسے خان بہادر کا خطاب خلعت اور وظیفہ کے علاوہ جاگیر بھی دی گئی-جنگ کے سیًال سردار بھی کسی سے پیچھے نہ رہے انہوں نے بھی انگریز فوج کی مدد کے لیے ایک فوج بھیجی جس پر انہیں جاگیریں اور خلعتیں ملیں-سرگودھا کے ٹوانوں کے گھڑ سواروں نے دہلی کی تسخیر میں بہادری کے خوب جوہر دکھائے چنانچہ انہیں خطاب پنشن اور لمبی چوڑی جاگیریں ملیں-اسی قسم کی غدًارانہ “خدمات“ کے لیے انگریز نے نونوں، پند دادن خان کے کھوکھروں، جودھروں،گھیبوں،خانوں، مکھڈ شریف کے پیروں،اعوانوں،کالاباغ کے نوابوں، عیسیٰ خیل کے نیازیوں اور کئی دوسرے سرکردہ خاندانوں کو عزت“ خطاب، وظیفے اور وسیع جاگیریں عطا ہویئں-

برصغیر میں قدم جمانے کےلئے انگریزوں نے یہاں کے وڈیروں‘ جاگیرداروں‘ نوابوں‘ شہزادوں‘ سول‘ پولیس اور آرمی سروس کے ممبران پر مسلسل نوازشات کے ذریعے وفاداری یقینی بنائی۔ نتیجتاً یہ مراعاتت یافتہ لوگ انگریزوں سے بھی زیادہ انگریزوں کے وفادار ثابت ہوئے۔ پھر ان کے ذریعہ سے ا نگریزوں نے بقیہ عوام کو قابو میں رکھا۔ اب انگریزوں نے ان لوگوں کو ترغیب دی کہ وہ اپنے بچوں کو پڑھائیں۔ یہ طبقات طویل عرصہ سے انگریزوں کی سروس میں تھےں اور ان کی مراعات یافتہ بھی تھےں۔ لہٰذا وفاداری کے لحاظ سے بھی قابل اعتماد تھے۔ انگریزوں کی سرپرستی انہیں خوب راس آئی اور خوب ترقی کی۔ ان لوگوں کی اولادوں کو فوج میں لانے کا مقصد ان کلاسز کی مسلسل وفاداری یقینی بنانی تھی اس لئے انگریزوں نے انکے بچوں کےلئے خصوصی تعلیم کا بندوبست کیا۔ ان کےلئے چیفس کالج جیسے کئی ایلیٹ تعلیمی ادارے کھولے۔

ملٹری اور کیڈٹ کالجز اسی دور میں متعارف کرا ئے گئے تھے‘ ان ایلیٹ تعلیمی اداروں میں سرداروں‘ جاگیرداروں اور نوابوں ، خوانین وغیرہ کے بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی تھی بلکہ انہیں چھوٹی عمر میں ہی ان اداروں کی نرسری برانچز میں داخل کیا جاتا تھا جہاں انگریز آیائیں انکی تربیت کرتیں۔ بلوچ سرداروں میں مری‘ بگٹی‘ مزاری اور دیگر اہم قبائل کے بچوں کو بچپن میں ہی داخل کیا جاتا تھا۔ شیرمحمدمری‘ محمد اکبر خان بگٹی‘ میر بلخ شیرمزاری اورمیر شیر بار خان مزاری وغیرہ کو اسی پالیسی کے تحت تعلیم دی گئی بلکہ اعلیٰ تعلیم کےلئے انہیں انگلینڈ بھی بھیجا گیا۔ ایسے لوگوں کو تعلیم دینے سے انگریزوں کودو اہم فائدے ہوتے ۔ایک تو ان لوگوں نے انگریزی علم اپنے اپنے علاقوں میں بلند رکھا جس سے انگریزوں کو کسی قسم کی بغاوت کا خطرہ نہ رہا۔
دوسرا اس دور میں تحریک آزادی زور پکڑ رہی تھی اور یہ لوگ تحریک آزادی کے سخت مخالف تھے۔ان انگریزی سکولوں کے تعلیم یافتہ نوابزدگان کی وجہ سے انگریز سامراج کو سہارا ملا۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے انگریزوں سے بھی پہلے اپنے دیس کے قوم پرستوں کا مقابلہ کیا۔ اگر ان لوگوں کا بس چلتا تو یہ برصغیر کو کبھی آزاد نہ ہونے دیتے.

برصغیر میں برطانوی اقتدار کی توسیع کے دوران، بلوچ سرداروں کو نواب کے خطاب کی پیشکش کرتے ہوئے انکی حمایت حاصل کی اور یوں برطانوی اپنی نئی ریاست کی مغربی سرحدمیں نو آبادیاتی طاقت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ برِصغیر کی تقسیم کے بعد یہی طرزِ عمل پاکستان کے وڈیروں اور جاگیرداروں کو ورثہ میں ملا۔ سادہ الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں حکمرانی چھلانگ لگا کران روایتی جاگیرداروں اور وڈیروں کے ہاتھ آئی۔ اسی صورتحال میں ملٹری اور سول بیوروکریسی جس کی تربیت برطانوی سامراج نے خود کی تھی ،کے ساتھ ان جاگیرداروں اور وڈیروں کا تضاد بننا عین فطری تھا۔ یہ وڈیرے اور جاگیردار جو یونینسٹ پارٹی کے پلیٹ فارم سے پاکستان کی تخلیق سے چند سال ہی قبل مسلم لیگ میں شامل ہوئے تھے ، اپنی جاگیروں اور زمینوں کے تحفظ کے لئے اور اپنے استحصال کو قائم رکھنے کے لئے ملک کی سیاست میں گھس آئے۔ ایسا کرنااُنکی مجبوری بھی تھا اور ضرورت بھی۔

نہری نظام انگریز نے ریونیو حاصل کرنے کے لیے بنایا، ریلوے افغانستان تک فوجی ساز و سامان پہنچانے کے لیے اور اسکول و اسپتال براؤن صاحبوں (جو گورے صاحبوں کے حاشیہ بردار تھے) کے لیے۔ان میں سے کوئی بھی چیز ایسی نہیں تھی جس سے برصغیر کا غریب طبقہ خوشحال ہوا بلکہ یہ طبقہ ہمیشہ انگریزوں اور ان کے دلال وڈیروں سرداروں کے ظلم کی چکی میں پستا رہا اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ برطانیہ نے برصغیر پر اپنی فتوحات کا خاتمہ 1849ءمیں پنجاب پر قبضہ کرنے کے بعد مکمل کیا اور شاہی قلعہ لاہور پر برطانیہ نے اپنا جھنڈا لہرایا۔ اس پورے خطے کے انسانوں کو سیاسی طور پر غلام بنانے کی مہم کایہ آخری معرکہ تھا۔لاہور جو پہلے ہی تہذیب کا مرکز تھا اور مغلیہ سلطنت کا مضبوط سیاسی قلعہ، اس شہر میں برطانیہ نے نوآبادیاتی مقاصد کے پیش نظر یہاں پر تعلیمی نظام کی بنیاد رکھنی شروع کی۔ 1864ءمیں گورنمنٹ کالج لاہور کے بعد1886ءمیں دو سو ایکٹر رقبے پر ایچی سن کالج کی بنیاد رکھی گئی۔ دو جنوری 1886ء کو اس لاہور میں چیفس کالج کی بنیاد رکھی گئی تھی جس کا نام 13 نومبر 1886ء کو تبدیل کر کے ایچی سن کالج رکھ دیا گیا۔

اس بورڈنگ کالج میں ابتدائی طور پر پنجاب بھر کے جاگیردار، وڈیرے اور پھر برطانیہ کے لیے بطور سیاسی ایجنڈ کام کرنے والے خاندانوں کے بچوں کے لیے تعلیم کا بندوبست ہوا۔ ایچی سن کالج میں پہلے دن سے ہی بھاری فیسوں کی وجہ سے یہاں پر صرف انہی خاندانوں کے بچوں کی ذہنی آبیاری کی جانے لگی جس کا مقصد مستقبل کے لیے برطانیہ کو اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطروفاداروں کی نئی پود تیار کرنا تھی۔ اس کالج کی خاص بات یہ تھی کہ یہاں پر نافذ ہونے والے تعلیمی نظام اور نصاب تعلیم کو نوآبادیاتی سانچے میں ڈھالا گیا اس کے بعد یہ کالج پھلنے پھولنے لگا۔ برطانیہ کے وفادار پنجاب کے خاندان ہی نہیں بلکہ سندھ کے جاگیرداروں کے بچوں کو بھی اسی کالج میں داخلے دیے گئے۔ جاگیردارخاندانوں کا یہ وہ ٹولہ تھا جو 1857ءکی جنگ آزادی میں قومی غداری کا مظاہرہ کیا اور انگریزوں کی وفاداری کے مرتکب ہوکر برطانیہ کی فتوحات کے جھنڈے پنجاب میں بھی بلند کرائے۔ ایچی سن کالج میں اس نئی وفادارنسل کی تیاری میں بیوروکریسی کا وہ طبقہ بھی تیار ہوا جو برطانوی سامراج کے ساتھ ملکر اس قوم پر غلامی مسلط کرنے میں انگریزوں کی وفاداری کرتا رہا۔

ایچی سن کالج کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ130سالوں سے یہاں پر صرف اشرافیہ کے بچوں کو پڑھایا جاتا ہے اور آزادی کے بعد بھی خود کو برہمن تصور کرنے والی پاکستانی اشرافیہ کے بچوں کو ہی ایچی سن کالج میں داخلہ ملتا ہے۔عوامی ٹیکسوں پر پلنے والے یہ انسان دشمن پاکستانی برہمن باقی ساری عوام کو شودر سمجھتے ہیں۔ 1947ءسے لیکر آج تک سیاسی اشرافیہ نے بیوروکریسی کے توسط سے ایچی سن کالج پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ اس کالج میں اشرافیہ کے بچوں کی جدید نوآبادیاتی دور کے تقاضوں کے مطابق ذہنی آبیاری کی جارہی ہے اور پھر یہاں کے فارغ التحصیل طلباءبیرون ممالک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستان پر سیاسی اور بیوروکریسی کی شکل میں مسلط کر دیے جاتے ہیں ۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، اکبر بگٹی،چوہدری نثار علی خان،عمران خان،پرویز خٹک، فاروق لغاری،سردار ایاز صادق،غلام مصطفی کھر سمیت کتنے ایسے نام اوربھی موجود ہیں جو ملکی سیاست پر چار دہائیوں سے قابض ہیں ۔

آج تک سندھ اور پنجاب کی ستر سے اسی فیصد زمین پہ یہی سردار ،وڈیرے اور جاگیردار قابض ہیں جو اس علاقے میں بسنے والے غریبوں سے چھین کر برطانیہ کی طرف سے اس علاقے کے غداروں کو تحفے میں دی گئی تھی۔ان جاگیرداروں کو نسل در نسل وفادار رکھنے کے لیے ان کی ذہن سازی کے مقاصد کے لیے ایچی سن کالج لاہور ، میو کالج اجمیر اور تعلق دار کالج اودھ قائم کیے گئے جہاں کسی غریب کا داخلہ لینا بھی محال تھا۔مسلم لیگ میں قائد اعظم کے سوا اکثر قائدین یہی وڈیرے ،جاگیردار اور سردار تھے جو پاکستان بنتا دیکھ کر اپنی وڈیرا شاہی کی حفاظت کے لیے مسلم لیگ میں شامل ہوگئے تھے اور ان وڈیروں نے ملک میں چلنے والی ان تمام زمینی اصلاحات کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جس سے ان کی وڈیرا شاہی خطرے میں پڑتی ہو۔

اب حال یہ ہے کہ پاکستان میں1970ء سے اب تک597 بااثر خاندان حکومت پر قابض ہیں۔ان خاندانوں میں سے379کا تعلق پنجاب سے،110کا سندھ،56کا کے پی کے،45کا بلوچستان جبکہ7کا تعلق قبائلی اضلاع سے ہے۔ جنوبی پنجاب میں اب یہ شرح64فیصد تک جاپہنچی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں اب یہ شرح44فیصد،سندھ میں41فیصد،کراچی میں9فیصد،کے پی کے میں28فیصد اور فاٹا میں18فیصد تک جاپہنچی ہے۔1990ء کے نگران وزیراعظم غلام مصطفیٰ جتوئی کے 11افراد مختلف اسمبلیوں میں رہے۔2008ء میں جتوئی کے4بیٹے ملک کے تینوں قانون سازاداروں میں موجود تھے۔بااثر سیاسی خاندانوں میں لغاری،کھوسہ،خان،سید،بگٹی، مرزا،چوہدری،مزاری،زرداری،مروت،شریف،بھٹو اور دیگر خاندان شامل ہیں،موجودہ وزیراعظم نوازشریف کے خاندان کے کئی افراد حکومت میں ہیں جن میں اسحاق ڈار،حمزہ شہباز،مریم نواز،کیپٹن(ر)صفدر اور دیگر شامل ہیں،چوہدری ظہور الٰہی کے خاندان سے چوہدری شجاعت،پرویز الٰہی،مونس الٰہی،شفاعت حسین،لغاری خاندان میں سے فاروق لغاری،اویس لغاری،سمیرا ملک،عائلہ ملک،مینا لغاری،جمال خان لغاری،رفیق حیدر لغاری،محمد خان لغاری،محسن لغاری،یوسف لغاری شامل ہیں،کھر خاندان کے بہت سے لوگ حکومت میں رہے ہیں،زرداری خاندان سے فریال تالپور سمیت کئی لوگ حکومت میں آئے ہیں۔اور ان میں سے اکثر خاندان انگریزوں سے وفاداری کے صلے میں جاگیریں حاصل کرکے مالی و سیاسی اقتدار حاصل کرنے کے قابل ہوئے۔انگریز سے وفاداری کے صلے میں جاگیریں حاصل کرنے والے لغاری خاندان کی رحیم یارخان میں 1920 ء میں بننے والی رہائش گاہ ‘کی قلعہ نما دیواریں، چھتیں اور کمروں میں پڑا فرنیچر آج بھی کسی بادشاہ کے دربار کا منظر پیش کرتے ہیں۔

پاکستان جمہوریت 22 کروڑ عوام کو چند ہزار وڈیروں، سرمایہ داروں، کا رخانہ داروں سیاست دانوں نے یر غمال بنا یا ہے اور 70 سال سے سیاسی حکمران پاکستان کے 22 کروڑ عوام کی قسمت سے کھیل رہے ہیں۔ یہ گنے چُنیخاندان تقریباً 7 ہزار مُنظم سرمایہ داروں ، کا رخانہ داروں ، جاگیر داروں ، نوابوں پر مشتمل ہے جو آبادی کا 0.0028 فی صد بھی نہیں بنتا مگر انہوں نے22کروڑ عوام کو یر غمال بنایا ہوا ہے۔ یہ خاندان اور روایتی سیاست دان پاکستان کے عوام کو اقتدار کے نیٹ میں گھسنے نہیں دیتے۔ ان خاندانوں میں بھٹو خاندان( سر شاہنواز بھٹو، پھر ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، غنوی بھٹو ، بلاول بھٹو زرداری اور فاطمہ بھٹو)، شریف خاندان ( نواز شریف تین دفعہ وزیر اعظم ، شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب، نواز شریف کی اہلیہ قومی اسمبلی ممبر، مریم نواز اور اُنکے شریک حیات کیپٹن صفدر قومی اسمبلی ممبر، حمزہ شریف ممبرصوبائی اسمبلی )با چا خان فیملی( خان عبدالغفار خان ، ڈاکٹر خان ، پھر ان کے بیٹے ولی خان ، بہونسیم ولی خان، فر زندولی خان اسفند یار ولی اور اب اسفندیار ولی کا بیٹا ایمل اور بھانجا امیر حیدر ہو تی)مولانا مُفتی محمود فیملی( مُفتی محمود صا حب وزیر اعلیٰ سرحد، پھر مولانا فضل الرحمان ، بھائی عطاء الرحمان اور اب ان کا بیٹا اور داماد) شیر پائو فیملی ( حیات محمد خان شیر پائو، شہادت کے بعد بھائی آفتاب شیر پائو، اور اب فر زند آفتاب احمدشیر پائو سکندر شیر پائو ، سینئر وزیر )

ارباب فیملی( ارباب نیار سابق وفاقی وزیر، ارباب جہانگیر سابق زیر اعلیٰ ، بیٹا ارباب عا لم گیر سابق وفاقی وزیرمواصلات اور انکی اہلیہ عا صمہ عالم گیر)ہوتی فیملی(محمد علی خان سابق وزیر تعلیم، عبد الغفور ہوتی سابق ریلوے وزیر)چو دھری فیملی(چو دھری ظہور الٰہی ، چو دھری شجاعت حسین، چو دھری پر ویز الٰہی، چو دھری وجاہت حسین اور اب چو دھری مونس الٰہی)سیف اللہ فیملی( بیگم کلثوم سیف اللہ، ایم این اے، سلیم سیف اللہ، ایم این اے اور ایم پی اے، ہمایوں سیف اللہ ، انور سیف اللہ)،لغاری فیملی (فاروق احمد خان لغاری ، سابق صدر ، اویس لغاری وفاقی وزیر، ایم پی اے اور ایم این اے)مر وت فیملی( حبیب اللہ خان جسٹس مغربی پاکستان، شاہ نواز خان، سابق چیف جسٹس کے پی کے)مزاری فیملی (بلخ شیر مزاری وزیر اعظم، شیر باز خان مزاری قائد حزب اختلاف، شوکت مزاری سابق ایم پی اے پنجاب اسمبلی سپیکر، شیریں مزاری ایم این اے ) سومرو خاندان ( خان بہادر اللہ بخش سومرو ، دو دفعہ سندھ کے وزیر اعلیٰ،الٰہی بخش سومرو، سپیکر قومی اسمبلی وفاقی وزیر،رحیم بخش سومرو وزیر سندھ، محمد میاں سومرو وزیر اعظم ، صدرپاکستان،سینیٹر و گو رنر سندھ)

زرداری فیملی( حاکم زرداری ، آصف زرداری، بلاول زرداری، فر یال تالپور، ازراء پلیجو)ترین فیملی( ایوب خان صدر پاکستان فیلڈ مارشل، گوہر ایوب، عمر ایوب ، یوسف ایوب)رائو فیملی ( رائو محمد ہاشم خان، رائو محمد اجمل خان، رائو سکندر اقبال، رائو قیصر علی خان، رائو محمد افضال) قاضی فیملی( قاضی عبدالمجید عابد، ٤ بار وفاقی وزیر، فہمیدہ مرزا، سپیکر قومی اسمبلی، تین دفعہ ایم این اے، ذوالفقار مر زا،صوبائی وزیر، پیر فیملی( پیر مظہرا لحق ، کئی بار وزیر، ما روی مظہر ، صوبائی وزیر سندھ، پیر زادہ فیملی( شریف ا لدین پیر زادہ فیملی، 1973 ء آئین کے آر کیٹک، وفاقی وزیر قانون، عبد الحفیظ پیر زادہ، سابق وزیر تعلیم، نون فیملی( فیروزخان نون وزیر اعظم، وزیر خارجہ اور وزیر اعلیٰ پنجاب، انور خان نون ، سابق ایم این اے، امجد خان نون ، ضلع ناظم، وقارالنساء نون بھٹو خاندان کی قانونی مشیر، منہاس فیملی( اکبر خان، فو رسٹر جنرل، افتخار خان ، پہلے نامزد چیف آف آرمی سٹاف، عفت لیاقت علی وفاقی وزیر، ریاض احمد صوبائی وزیر پنجاب، میاں فیملی آف باغبانپو رہ( جسٹس میاں شاہ دین ، سر میاں محد شفیع، صدرآل انڈیا مسلم لیگ ، میاں شاہ نواز، میاں افتخار الدین سابق سیاست دان ، (گبول فیملی) اللہ بخش گبول ممبربمبئی اور سندھ قانون ساز اسمبلی ، دو دفعہ کراچی کے میئر، نبیل گبول، سابق وفاقی وزیر جہاز رانی،( جدون فیملی) اقبال جدون وزیر اعلیٰ سرحد، امان اللہ جدون ، وزیر پٹرولیم،( کھر فیملی ) مصطفی کھر، وزیر اعلیٰ پنجاب ، غلام ربانی کھر ایم این اے، حنا ربانی کھر ، سابق وزیر خارجہ، (خٹک فیملی) حبیب اللہ خٹک، علی قلی خان ، فوجی جنرل، غلام فاروق خان ، قانون ساز، نصراللہ خٹک وزیر اعلیٰ سر حد، یوسف خٹک ، اجمل خٹک ، پر ویز خٹک ( وزیر اعلیٰ کے پی ، کھو کر خاندان ، بگتی خاندان ، مگسی خاندان ، اچکزئی فیملی، پرنس اورنگ زیب فیملی، ترہ کئی خاندان، جتوئی خاندان اور اسکے علاوہ دیگر اور بھی خاندان ہیں جو پاکستان پر 70 سال سے حکومت کر رہے ہیں۔

پاکستان کے سیاسی وڈیرے،عقیل عباس جعفری کی اردو تصنیف ہے جس میں آپ نے پاکستان کے سیاسی خاندانوں کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے۔ "پاکستان کے سیاسی وڈیرے” سیاست کے موضوع پر ان کی پہلی کتاب ہے جس نے شائع ہوتے ہی تہلکہ مچا دیا۔ یہی وہ کتاب تھی جس نے سیاست کی دنیا میں "سیاسی وڈیرے” کی اصطلاح کو متعارف کروایا۔صوبہ سرحد کے سیاسی خاندانوں کا تذکرہ شروع ہوتا ہے تو وہ ارباب، رند، بلور، ترین، تنولی، جدون اور خٹک خاندانوں کا پس منظر بیان کرتے ہوئے راجگان گکھڑ، شیر پاؤ، کنڈی، گنڈا پور اور محمد زئی تک آتے ہیں اور پھر ہمیں میاں گُل، ناصر، ہوتی اور یوسف زئی خانوادوں سے متعارف کراتے ہیں۔ بلوچستان کی طرف بڑھتے ہیں تو اسی الفبائی ترتیب میں ہمیں اچکزئی، بزنجو، بگٹی، جام، جمالی، جوگیزئی، خاندانوں سے ملواتے ہوئے خان آف قلات، ڈومکی، رند، رئیسانی، زہری، کھوسہ، کھیتران خاندانوں تک لے جاتے ہیں اور وہاں سے محمد حسنی، مری، مگسی، مینگل اور نوشیروانی خاندان تک ہمیں اپنا ہم سفر بناتے ہیں۔ صوبہ سندھ کے جن سیاسی خاندانوں پر عقیل عباس جعفری نے خامہ فرسائی کی ہے ان میں ارباب، انڑ، بجارانی، بھٹو، پٹھان، پگاڑا، پیرزادہ، تالپور، شاہ (تھر پارکر)، جام، جاموٹ، جتوئی، جونیجو، چانڈیو، شاہ (خیر پور)، زرداری، سید(سن)، سومرو، پیر (سہیون) شیرازی، عباسی، قاضی، کھوڑو، گبول، لوند، شاہ (مٹیاری)، مخدوم، مری، ملک، مہر، شاہ (نواب شاہ)، وسان اور ہارون خاندان شامل ہیں۔

خاندانوں کی سب سے بڑی تعداد قابلِ فہم طور پر پنجاب کے حصّے میں آئی ہے جن میں الپیال، بابر پٹھان، پراچے، ٹوانے، جنجوعے، چٹھے، چوہدری، چیمے، خلف زئی پٹھان، دریشک، دستی، دولتانے، ڈاہا، روکڑی، رئیس، سردار، سیّد، عباسی،قریشی، قصوری، نواب آف کالا باغ، کھٹڑ، کھر، کھرل، کھوسہ، گردیزی، گیلانی، لغاری، مخدوم زادے، مزاری، موکل، نوابزادے، نکئی، نون، وٹو اور وریو خاندان شامل ہیں۔جمہوری سیاست کا دور آئے یا مارشل لاء کے ڈانڈے کی حکمرانی، ہر صورت میں قیادت جاگیردار طبقے کی ہوتی ہے۔ کبھی یہ ری پبلِکن کا نام اختیار کرتے ہیں، کبھی کنونشن لیگ کے پرچم تلے جمع ہوجاتے ہیں، کبھی بھٹو کی اسلامی سوشلزم میں محفل جماتے ہیں، کبھی ضیاء الحق کی مجلسِ شوریٰ میں نظر آتے ہیں اور کبھی نواز شریف کا نفسِ ناطقہ بن جاتے ہیں عرض ہر عہد اور ہر اُلٹ پھیر میں انھی کا سِکہ رواں ہوتا ہے اور حد یہ ہے کہ حزبِ اقتدار ہی نہیں، حزبِ اختلاف بھی انہی سرداروں، وڈیروں، نوابوں اور خانوں پر مشتمل ہوتا ہے اور سچ یہ ہے کہ آج بھی برطانیہ ان ملک و مذہب دشمن لوگوں کے ذریعے برصغیر پہ حکومت کر رہا ہے۔ کب تک یہ قوم سوتی رہے گی ۔

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Peshawar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address

Peshawar