MLT Hub with kamran
Assistant Professor (Medical Lab Technology)
19/07/2026
ٹائیفائیڈ بخار (Typhoid Fever) کیا ہے؟
ٹائیفائیڈ ایک شدید اور خطرناک بخار ہے جو ایک خاص بیکٹیریا سالمونیلا ٹائفی (Salmonella Typhi) کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر آلودہ پانی اور آلودہ غذا کے ذریعے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے۔
1۔ ٹائیفائیڈ کی وجوہات اور پھیلاؤ (Causes & Transmission):
آلودہ پانی اور غذا کا استعمال: اگر پینے کا پانی یا کھانے پینے کی اشیاء میں ٹائیفائیڈ کے بیکٹیریا موجود ہوں، تو یہ جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔
متاثرہ مریض سے رابطہ: ٹائیفائیڈ کے مریض کے رفع حاجت کے بعد اچھے طریقے سے ہاتھ نہ دھونے سے اور اس کے بعد کھانا پکانے یا برتنوں کو چھونے سے یہ بیماری دوسروں تک پھیلتی ہے۔
مکھیوں اور صفائی کی کمی: گندگی اور مکھیوں کی کثرت اس بیکٹیریا کو کھانے پینے کی چیزوں تک پہنچانے کا بڑا سبب بنتی ہے۔
2۔ ٹائیفائیڈ کی علامات (Symptoms):
ٹائیفائیڈ کے جراثیم جسم میں داخل ہونے کے 1 سے 2 ہفتوں بعد علامات ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں، جن میں شامل ہیں:
شدید اور مسلسل بخار: بخار آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور 103 سے 104 ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچ سکتا ہے۔ اکثر یہ بخار شام یا رات کے وقت تیز ہو جاتا ہے۔
پیٹ میں درد اور خرابی: شدید پیٹ درد، کچھ مریضوں کو قبض (Constipation) اور کچھ کو اسہال (Diarrhea) کی شکایت ہو سکتی ہے۔
شدید سر درد اور جسمانی درد: مریض کو مستقل سر درد اور پٹھوں میں شدید تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔
بھوک کا غائب ہونا: کچھ بھی کھانے کا دل نہیں کرتا جس کی وجہ سے وزن کم ہونے لگتا ہے۔
جسم پر گلابی دھبے (Rose Spots): کچھ مریضوں کے پیٹ یا سینے پر ہلکے گلابی رنگ کے چھوٹے چھوٹے دھبے نمودار ہو سکتے ہیں۔
3۔ ٹائیفائیڈ کی تشخیص (Diagnosis & Lab Tests):
ٹائیفائیڈ کی درست تشخیص کے لیے ڈاکٹر درج ذیل لیبارٹری ٹیسٹ کرواتے ہیں:
بلڈ کلچر (Blood Culture): یہ ٹائیفائیڈ کی تشخیص کا سب سے مستند اور سو فیصد درست طریقہ ہے، خاص طور پر بخار کے پہلے ہفتے میں۔
ٹائیفی ڈاٹ ٹیسٹ (Typhidot Test): یہ خون کا ایک فوری ٹیسٹ ہے جو جسم میں ٹائیفائیڈ کے خلاف بننے والی اینٹی باڈیز (IgM اور IgG) کا پتہ لگاتا ہے۔
اسٹول اور یورین کلچر (Stool & Urine Culture): بخار کے دوسرے یا تیسرے ہفتے میں جراثیم کا پتہ لگانے کے لیے پاخانے یا پیشاب کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔
(نوٹ: پرانا "وائیڈال ٹیسٹ" (Widal Test) اب زیادہ مستند نہیں مانا جاتا کیونکہ یہ اکثر غلط نتائج بھی دے دیتا ہے)۔
4۔ ٹائیفائیڈ کا علاج (Treatment):
اینٹی بائیوٹک ادویات (Antibiotics): چونکہ یہ ایک بیکٹیریل انفیکشن ہے، اس لیے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اینٹی بائیوٹکس کا کورس (جیسے Ceftriaxone, Azithromycin وغیرہ) مکمل کرنا بے حد ضروری ہے۔
پانی اور او آر ایس (Hydration): بخار اور اسہال کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے، اس لیے زیادہ سے زیادہ ابلا ہوا پانی، جوسز اور او آر ایس (ORS) کا استعمال کریں۔
ہلکی اور زود ہضم غذا: آنتوں پر بوجھ نہ ڈالنے کے لیے نرم غذا جیسے کھچڑی، دلیہ، ابلے ہوئے آلو اور دہی کا استعمال کریں۔ تیز مرچ مصالحے دار کھانوں سے مکمل پرہیز کریں۔
مکمل آرام: جسمانی کمزوری کو دور کرنے کے لیے مریض کا بستر پر مکمل آرام کرنا ضروری ہے۔
5۔ بچاؤ کی تدابیر (Prevention):
ہمیشہ پانی ابال کر یا فلٹر شدہ پیئیں۔
کھانے سے پہلے اور بیت الخلا کے استعمال کے بعد ہاتھوں کو 20 سیکنڈ تک صابن سے اچھی طرح دھوئیں۔
باہر کے کھلے کھانوں، کچی سبزیوں اور کھلے کٹے ہوئے پھلوں سے پرہیز کریں۔
ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کی ویکسین (Typhoid Vaccine) لازمی لگوائیں۔
18/07/2026
ہوک ورم Hook Worm کیا ھے؟
ہوک ورم پیٹ کا ایک کیڑا ہے جو انسانوں کی چھوٹی آنت میں رہتا ہے اور خون چوستا ہے۔ تصویر کے مطابق، اس کے بارے میں اہم تفصیلات چار حصوں میں تقسیم کی گئی ہیں:
1. انفیکشن کا طریقہ (بیماری کیسے پھیلتی ہے؟):
انسانوں میں یہ بیماری بنیادی طور پر آلودہ مٹی کے ذریعے پھیلتی ہے۔
ننگے پاؤں چلنا: جب کوئی شخص ایسی مٹی پر ننگے پاؤں چلتا ہے جہاں یہ کیڑے موجود ہوں، تو ان کا لاروا جلد کے راستے جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔
آلودہ مٹی: یہ کیڑے مٹی میں پائے جاتے ہیں، خاص طور پر ان جگہوں پر جہاں صفائی کا انتظام نہ ہو۔
مٹی سے لاروا کا داخل ہونا: مٹی میں موجود ہوک ورم کا باریک لاروا انسانی جلد میں سوراخ کر کے خون کے بہاؤ میں شامل ہو جاتا ہے۔
2. لواحقین (بیماری کی علامات):
ہوک ورم کے انفیکشن کی صورت میں درج ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:
پیٹ میں درد اور تکلیف کا احساس۔
اسہال (Diarrhea): پیٹ خراب ہونا اور بار بار رفع حاجت کی ضرورت۔
بھوک کی کمی محسوس ہونا۔
وزن میں تیزی سے کمی آنا۔
جسمانی کمزوری اور تھکاوٹ۔
3. پیچیدگیاں (طویل مدتی اثرات):
اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ سنگین مسائل کا سبب بن سکتا ہے:
خون کی کمی (Anemia): چونکہ یہ کیڑے آنتوں سے خون چوستے ہیں، اس لیے جسم میں خون کی شدید کمی ہو جاتی ہے۔
غذائی قلت: یہ کیڑے جسم کے لیے ضروری غذائی اجزاء بھی جذب کر لیتے ہیں، جس سے غذائی قلت پیدا ہوتی ہے۔
بچوں میں نشوونما میں رکاوٹ: خون کی کمی اور غذائی قلت کی وجہ سے بچوں کا قد اور دماغی ترقی رک سکتی ہے۔
4. بچاؤ کی تدابیر (احتیاط کیسے کریں؟):
اس بیماری سے بچنے کے لیے درج ذیل باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے:
ہمیشہ جوتے یا چپل پہن کر رکھیں۔ کبھی بھی ننگے پاؤں باہر نہ چلیں۔
ہاتھ باقاعدگی سے صابن اور پانی سے دھوئیں۔ خاص طور پر کھانے سے پہلے اور بیت الخلا استعمال کرنے کے بعد۔
ضرور بیت الخلا (Toilet) کا استعمال کریں اور کھلے عام رفع حاجت سے پرہیز کریں۔
۔ ہوک ورم کی تشخیص (Diagnosis):
ہوک ورم کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے لیبارٹری میں کچھ بنیادی ٹیسٹ کیے جاتے ہیں:
سٹول ٹیسٹ (Stool Routine Examination): یہ سب سے اہم اور بنیادی ٹیسٹ ہے۔ مائیکروسکوپ کے ذریعے مریض کے پاخانے (Stool) کا معائنہ کیا جاتا ہے تاکہ ہوک ورم کے انڈوں (Eggs) کو دیکھا جا سکے۔
خون کا ٹیسٹ (Complete Blood Count - CBC): چونکہ ہوک ورم آنتوں سے خون چوستے ہیں، اس لیے سی بی سی ٹیسٹ میں خون کی کمی (Anemia/Low Hemoglobin) ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، الرجی یا پیراسائٹ کے خلاف لڑنے والے سفید خلیات جنہیں Eosinophils کہتے ہیں، ان کی تعداد بھی خون میں بڑھ جاتی ہے۔
2۔ ہوک ورم کا علاج (Treatment):
ہوک ورم کا علاج عام طور پر انتہائی آسان اور چند دنوں کی ادویات پر مشتمل ہوتا ہے:
پیٹ کے کیڑوں کی ادویات (Anthelmintic Medications): ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق کچھ مخصوص اینٹی پیراسائٹ ادویات دی جاتی ہیں جو کیڑوں کو ختم کرتی ہیں، جیسے:
البینڈازول (Albendazole)
میبینڈازول (Mebendazole)
آئرن کی سپلیمنٹس (Iron Supplements): اگر انفیکشن کی وجہ سے مریض میں خون کی شدید کمی (Anemia) ہو چکی ہو، تو جسم میں خون کی مقدار کو پورا کرنے کے لیے آئرن کی گولیاں یا سیرپ دیے جاتے ہیں۔
پروٹین اور اچھی غذا: غذائی قلت کو دور کرنے کے لیے مریض کو پروٹین اور وٹامنز سے بھرپور خوراک لینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
اہم نوٹ: کسی بھی دوا کا استعمال ہمیشہ اپنے ڈاکٹر یا مستند طبی ماہر کے مشورے اور تجویز کردہ خوراک (Dose) کے مطابق ہی کریں۔
آلودہ پانی استعمال کرنے سے پرہیز کریں۔
Romanowsky Stains
18/07/2026
ایسکریاسس Ascariasis انفیکشن کیا ھے؟
ایسکریاسس (Ascariasis) ایک عام طفیلی انفیکشن (Parasitic Infection) ہے جو ایک خاص قسم کے گول کیڑے (Roundworm) کی وجہ سے ہوتا ہے، جسے ایسکریس لمبریکوئیڈز (Ascaris lumbricoides) کہا جاتا ہے۔
یہ کیڑا انسان کی چھوٹی آنت میں رہتا ہے اور دنیا بھر میں، خاص طور پر ان علاقوں میں بہت عام ہے جہاں صفائی ستھرائی کا نظام کمزور ہوتا ہے۔
ذیل میں اس انفیکشن کی وجوہات، علامات، اور بچاؤ کی تفصیل دی گئی ہے:
۱. انفیکشن کیسے پھیلتا ہے؟
یہ انفیکشن براہِ راست ایک شخص سے دوسرے شخص میں نہیں پھیلتا، بلکہ اس کا سائیکل کچھ یوں ہوتا ہے:
آلودہ مٹی اور پانی: جب متاثرہ انسان کا فضلہ کھلے عام مٹی یا پانی میں شامل ہوتا ہے، تو اس کیڑے کے انڈے وہاں پھیل جاتے ہیں۔
آلودہ خوراک: اگر ایسی مٹی میں اگی ہوئی سبزیاں اور پھل بغیر دھوئے کھائے جائیں، یا آلودہ پانی پیا جائے، تو یہ انڈے انسانی جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔
ہاتھوں کی صفائی: بچوں میں یہ مٹی میں کھیلنے اور پھر بغیر ہاتھ دھوئے منہ میں ڈالنے سے بہت زیادہ پھیلتا ہے۔
۲. انسانی جسم کے اندر زندگی کا چکر (Life Cycle):
جب کوئی شخص اس کے انڈے نگل لیتا ہے، تو جسم کے اندر یہ عمل شروع ہوتا ہے:
آنتوں میں بچے نکلنا: انڈے معدے سے ہوتے ہوئے چھوٹی آنت میں پہنچتے ہیں جہاں ان سے چھوٹے لاڈوے (Larvae) نکلتے ہیں۔
پھیپھڑوں میں ہجرت: یہ لاڈوے آنتوں کی دیوار سے گزر کر خون کے ذریعے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس دوران مریض کو کھانسی یا سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے۔
دوبارہ نگلنا: پھیپھڑوں سے یہ کیڑے کھانسی کے ذریعے گلے تک آتے ہیں اور انسان انہیں دوبارہ نگل لیتا ہے، جس سے یہ واپس چھوٹی آنت میں پہنچ جاتے ہیں۔
بالغ کیڑے: آنتوں میں واپس پہنچ کر یہ کیڑے بالغ ہو جاتے ہیں اور وہاں کئی مہینوں تک رہ کر ہزاروں نئے انڈے پیدا کرتے ہیں۔
۳. علامات اور اثرات:
اکثر لوگوں میں اس کی علامات بہت معمولی ہوتی ہیں، لیکن شدید انفیکشن کی صورت میں درج ذیل مسائل ہو سکتے ہیں:
پیٹ میں درد اور بے چینی: آنتوں میں کیڑوں کی موجودگی کی وجہ سے پیٹ میں ہر وقت درد رہ سکتا ہے۔
آنتوں کی رکاوٹ (Intestinal Obstruction): اگر کیڑوں کی تعداد بہت زیادہ ہو جائے، تو یہ آنتوں کا راستہ بند کر دیتے ہیں، جو کہ ایک ایمرجنسی صورتحال ہے۔
غذائیت کی کمی: یہ کیڑے انسان کی خوراک خود ہضم کرنے لگتے ہیں، جس سے خاص طور پر بچوں میں وزن کا کم ہونا، کمزوری اور خون کی کمی (Anemia) ہو جاتی ہے۔
کھانسی اور سانس کی تکلیف: جب لاڈوے پھیپھڑوں میں ہوتے ہیں تو دمہ جیسی علامات یا کھانسی ہو سکتی ہے۔
۴. علاج اور بچاؤ کی تدابیر:
خوش قسمتی سے اس کا علاج انتہائی آسان اور سستا ہے۔
علاج:
ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اینٹی پیراسیٹک ادویات (جیسے Albendazole یا Mebendazole) کی ایک یا دو خوراکیں ان کیڑوں کا مکمل خاتمہ کر دیتی ہیں۔
بچاؤ کی تدابیر:
ہاتھ دھونا: کھانا کھانے سے پہلے اور واش روم استعمال کرنے کے بعد ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح دھوئیں۔
سبزیوں کی صفائی: تمام پھلوں اور سبزیوں کو پکانے یا کھانے سے پہلے صاف پانی سے اچھی طرح دھو لیں۔
صاف پانی کا استعمال: ہمیشہ ابلا ہوا یا فلٹر شدہ صاف پانی پییں۔
کھلے عام رفع حاجت سے گریز: انسانی فضلے کو آبادی اور پینے کے پانی کے ذرائع سے دور تلف کیا جائے۔
17/07/2026
پیٹ کے کیڑوں کے سب سے عام انفیکشن پن ورم (Pinworm) کی تفصیل تحریری شکل میں درج ذیل ہے:
پن ورم (Pinworm) کیا ہے؟
پن ورم، جسے سائنسی زبان میں اینٹروبیئس ورمیکیولیرس (Enterobius vermicularis) کہا جاتا ہے، انسانوں کے پیٹ اور آنتوں میں پائے جانے والے چھوٹے، پتلے اور سفید رنگ کے دھاگہ نما کیڑے ہوتے ہیں۔ یہ انفیکشن عام طور پر اسکول جانے والے چھوٹے بچوں میں بہت زیادہ پایا جاتا ہے، لیکن یہ آسانی سے گھر کے دوسرے افراد میں بھی پھیل سکتا ہے۔
یہ انفیکشن کیسے پھیلتا ہے؟ (وجوہات)
پن ورم کا پھیلاؤ بہت تیزی سے ہوتا ہے اور اس کا طریقہ کار درج ذیل ہے:
انڈوں کا نگل جانا: مادہ پن ورم رات کے وقت مقعد (A**l area) کے ارد گرد ہزاروں خوردبینی انڈے دیتی ہے، جس سے وہاں شدید خارش ہوتی ہے۔
ہاتھوں کے ذریعے منتقلی: جب بچہ اس جگہ خارش کرتا ہے، تو انڈے اس کے ناخنوں اور انگلیوں پر لگ جاتے ہیں۔ بغیر ہاتھ دھوئے کھانا کھانے یا منہ میں ہاتھ ڈالنے سے یہ انڈے دوبارہ پیٹ میں چلے جاتے ہیں۔
آلودہ چیزیں: یہ انڈے بستر کی چادروں، تکیوں، کھلونوں، کپڑوں اور ٹوائلٹ کی سیٹ پر کئی ہفتوں تک زندہ رہ سکتے ہیں، جہاں سے یہ دوسرے صحت مند افراد تک منتقل ہو جاتے ہیں۔
پن ورم کی علامات (Symptoms)
اس انفیکشن کی سب سے واضح علامات درج ذیل ہیں:
مقعد کے گرد شدید خارش: خاص طور پر رات کے وقت خارش کا بہت زیادہ بڑھ جانا (کیونکہ مادہ کیڑے رات کو انڈے دینے باہر نکلتے ہیں)۔
نیند میں خلل اور چڑچڑاپن: رات کو مستقل خارش کی وجہ سے بچہ ٹھیک سے سو نہیں پاتا، جس سے اس کے مزاج میں چڑچڑاپن آ جاتا ہے۔
پیٹ میں درد اور متلی: بعض اوقات بچوں کو پیٹ میں ہلکا درد یا متلی محسوس ہو سکتی ہے۔
بستر گیلا کرنا (Bedwetting): کچھ بچوں میں یہ انفیکشن رات کو بستر گیلا کرنے کی وجہ بھی بنتا ہے۔
تشخیص (Diagnosis) کیسے کی جاتی ہے؟
چونکہ پن ورم کے انڈے عام طور پر پخانے کے عام ٹیسٹ میں آسانی سے نظر نہیں آتے، اس لیے اس کی تشخیص کے لیے درج ذیل طریقے اپنائے جاتے ہیں:
ٹیپ ٹیسٹ (Tape Test): یہ سب سے عام اور بہترین طریقہ ہے۔ صبح جاگنے کے فوراً بعد (بچے کو نہلانے یا باتھ روم جانے سے پہلے)، مقعد کے ارد گرد کے حصے پر ایک صاف شفاف سیلوفین ٹیپ (Cellophane Tape) لگائی جاتی ہے۔ اس ٹیپ کو پھر شیشے کی سلائیڈ پر چپکا کر مائکروسکوپک معائنے کے لیے لیبارٹری بھیجا جاتا ہے تاکہ انڈے دیکھے جا سکیں۔
براہِ راست معائنہ: رات کے وقت یا صبح سویرے ٹارچ کی مدد سے بچے کے مقعد کے ارد گرد باریک سفید رنگ کے رینگتے ہوئے کیڑوں کو براہِ راست بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
علاج اور روک تھام (Prevention & Treatment)
احتیاطی تدابیر:
ناخن چھوٹے رکھنا: بچوں کے ناخن ہمیشہ چھوٹے اور صاف رکھیں تاکہ خارش کی صورت میں انڈے ناخنوں میں نہ پھنسیں۔
گرم پانی سے دھلائی: متاثرہ فرد کے بستر کی چادریں، تولیے اور زیرِ جامہ کپڑے روزانہ گرم پانی میں دھوئیں اور تیز دھوپ یا ہیٹر سے خشک کریں۔
روزانہ صبح نہانا: صبح کے وقت نہانے سے مقعد پر موجود انڈے صاف ہو جاتے ہیں اور ان کے پھیلنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
بار بار ہاتھ دھونا: کھانا کھانے سے پہلے اور باتھ روم کے استعمال کے بعد ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح دھوئیں۔
علاج:
اہم نوٹ: پن ورم کے خاتمے کے لیے ڈاکٹر مخصوص اینٹی پیراسیٹک ادویات (جیسے Mebendazole یا Pyrantel pamoate) تجویز کرتے ہیں۔ چونکہ یہ انفیکشن بہت تیزی سے پھیلتا ہے، اس لیے عام طور پر گھر کے تمام افراد کا ایک ہی وقت میں علاج کرنا ضروری ہوتا ہے، چاہے کسی میں علامات ظاہر ہوں یا نہ ہوں۔ دوا کی پہلی خوراک کے دو ہفتے بعد دوسری خوراک دی جاتی ہے تاکہ نئے پیدا ہونے والے کیڑوں کا بھی خاتمہ ہو سکے۔
طبی مشورہ: اگر آپ کے بچے کو رات کے وقت مقعد کے گرد شدید خارش کی شکایت رہتی ہے، تو جلد از جلد ڈاکٹر سے رجوع کریں اور ان کے مشورے کے مطابق ٹیپ ٹیسٹ (Tape Test) کروائیں۔
17/07/2026
پیٹ کے ایک اور عام انفیکشن جیاڈیاسس (Giardiasis) کی تفصیل تحریری شکل میں درج ذیل ہے:
جیاڈیاسس (Giardiasis) کیا ہے؟
جیاڈیاسس آنتوں کا ایک انفیکشن ہے جو ایک خوردبینی طفیلیے (Parasite) کی وجہ سے ہوتا ہے، جسے جیاڈیا لیمبلیا (Giardia lamblia) یا جیاڈیا ڈیوڈینلس (Giardia duodenalis) کہا جاتا ہے۔ یہ طفیلیہ انسان اور جانوروں کی چھوٹی آنت (Small Intestine) میں رہتا ہے اور وہاں اپنی تعداد بڑھاتا ہے۔
یہ بیماری کیسے پھیلتی ہے؟ (وجوہات)
جیاڈیاسس کا پھیلاؤ عام طور پر درج ذیل طریقوں سے ہوتا ہے
آلودہ پانی: یہ اس بیماری کے پھیلنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ ندی نالوں، تالابوں، یا فلٹر کے بغیر سپلائی ہونے والے پانی میں جیاڈیا کے جراثیم (Cysts) موجود ہو سکتے ہیں۔
آلودہ کھانا: ایسا کھانا کھانا جسے دھوئے بغیر یا آلودہ ہاتھوں سے تیار کیا گیا ہو۔
انفیکشن شدہ انسان یا جانور: کسی ایسے شخص یا پالتو جانور کے فضلے سے جراثیم کا ہاتھوں پر لگنا اور پھر منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہونا۔
جیاڈیاسس کی علامات (Symptoms)
اس انفیکشن کی علامات جراثیم جسم میں داخل ہونے کے ۱ سے ۲ ہفتوں بعد ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں:
بدبودار اور پانی جیسے دست (Foul-smelling Diarrhea): جیاڈیاسس کی سب سے بڑی علامت بہت زیادہ بدبودار اور چکنائی والے اسہال ہیں۔
پیٹ میں درد اور مروڑ: ناف کے ارد گرد شدید اینٹھن اور مروڑ اٹھنا۔
پیٹ کا پھولنا اور گیس: پیٹ میں گیس کا بھر جانا اور ہر وقت اپھارہ محسوس ہونا۔
متلی اور الٹی: کچھ بھی کھانے پینے پر دل خراب ہونا۔
وزن میں کمی اور کمزوری: آنتیں خوراک کو صحیح طریقے سے جذب نہیں کر پاتیں، جس کی وجہ سے مریض کا وزن تیزی سے گرتا ہے اور شدید تھکاوٹ ہوتی ہے۔
تشخیص (Diagnosis) کیسے کی جاتی ہے؟
لیبارٹری میں جیاڈیاسس کی تصدیق کے لیے درج ذیل ٹیسٹ کیے جاتے ہیں:
پخانے کا معائنہ (Stool Microscopy): خوردبین کے ذریعے پخانے میں جیاڈیا کے فعال جراثیم (Trophozoites) یا ان کے انڈے (Cysts) تلاش کیے جاتے ہیں۔ چونکہ یہ جراثیم ہر روز پخانے میں خارج نہیں ہوتے، اس لیے بعض اوقات ڈاکٹر ۲ سے ۳ الگ الگ دنوں کے پخانے کے نمونے تجویز کرتے ہیں۔
اسٹول اینٹی جن ٹیسٹ (Stool Antigen Test): اس جدید ٹیسٹ کے ذریعے پخانے میں جیاڈیا کے پروٹینز (Antigens) کا پتہ لگایا جاتا ہے، جو کہ بہت زیادہ درست اور تیز رفتار طریقہ ہے۔
احتیاط اور علاج (Prevention & Treatment)
احتیاطی تدابیر:
پانی ابال کر پییں: پانی کو کم از کم ایک منٹ تک ابالیں تاکہ جیاڈیا کے سخت جان جراثیم (Cysts) ختم ہو جائیں۔
ہاتھوں کو صابن سے دھونا: باتھ روم استعمال کرنے، بچوں کے ڈائپر تبدیل کرنے اور کھانا پکانے یا کھانے سے پہلے ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح دھوئیں۔
سبزیوں اور پھلوں کی صفائی: کچی کھائی جانے والی تمام اشیاء کو صاف پانی سے دھو کر اور چھیل کر استعمال کریں۔
علاج:
اہم نوٹ: جیاڈیاسس کا علاج مخصوص اینٹی پیراسیٹک ادویات (جیسے Metronidazole، Tinidazole یا Nitazoxanide) سے کیا جاتا ہے۔ ادویات کا استعمال ہمیشہ اپنے ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق کریں اور کورس مکمل کریں۔
طبی مشورہ: اگر آپ یا آپ کے بچوں کو کئی روز سے بدبودار اسہال، پیٹ میں گیس اور کمزوری کی شکایت ہے، تو پخانے کا ٹیسٹ (Stool RE) کروائیں اور ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
17/07/2026
پیٹ کے انفیکشن امیبیاسس (Amoebiasis) کی تفصیل تحریری شکل میں درج ذیل ہے:
امیبیاسس (Amoebiasis) کیا ہے؟
امیبیاسس دراصل آنتوں کا ایک انفیکشن ہے جو ایک خوردبینی یک خلوی جاندار (Microscopic Parasite) کی وجہ سے ہوتا ہے، جسے اینٹامیبا ہسٹولیٹیکا (Entamoeba histolytica) کہتے ہیں۔ یہ طفیلیہ (Parasite) انسان کے نظامِ ہاضمہ، خصوصاً بڑی آنت پر حملہ آور ہوتا ہے۔
یہ بیماری کیسے پھیلتی ہے؟ (وجوہات)
امیبیاسس کے پھیلنے کی بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:
آلودہ پانی اور خوراک: ایسا پانی پینا یا کھانا کھانا جس میں امبیا کے جراثیم (Cysts) موجود ہوں۔
صفائی ستھرائی کی کمی: رفع حاجت کے بعد یا کھانا کھانے سے پہلے ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح نہ دھونا۔
مکھیاں اور گندگی: مکھیاں گندگی سے جراثیم اٹھا کر کھلے ہوئے کھانے پینے کی اشیاء تک پہنچاتی ہیں۔
امیبیاسس کی علامات (Symptoms)
کچھ لوگوں میں جراثیم جسم میں ہونے کے باوجود علامات ظاہر نہیں ہوتیں، لیکن عام طور پر درج ذیل علامات دیکھنے کو ملتی ہیں:
پیٹ میں شدید درد اور مروڑ: پیٹ کے نچلے حصے میں اینٹھن اور درد ہونا۔
خونی دست (Amoebic Dysentery): پخانے کے ساتھ خون اور بلغم (Mucus) کا آنا۔
متلی اور الٹی: بھوک کا ختم ہونا اور بار بار الٹی کا احساس ہونا۔
ہلکا بخار اور تھکاوٹ: جسمانی کمزوری اور بخار محسوس ہونا۔
تشخیص (Diagnosis) کیسے کی جاتی ہے؟
امیبیاسس کی تصدیق کے لیے لیبارٹری میں درج ذیل ٹیسٹ کیے جاتے ہیں:
پخانے کا معائنہ (Stool Microscopy): خوردبین (Microscope) کے ذریعے پخانے میں امیبا یا اس کے انڈوں (Cysts/Trophozoites) کی موجودگی کا پتہ لگایا جاتا ہے۔
خون کا ٹیسٹ (Blood Test): جسم میں انفیکشن کی شدت اور اینٹی باڈیز کو دیکھنے کے لیے۔
جگر کا الٹراساؤنڈ (Ultrasound): اگر انفیکشن جگر تک پھیل جائے (Amoebic Liver Abscess)، تو جگر کا الٹراساؤنڈ یا سی ٹی اسکین کیا جاتا ہے۔
احتیاط اور علاج (Prevention & Treatment)
احتیاطی تدابیر:
صاف پانی کا استعمال: ہمیشہ ابلا ہوا، فلٹر شدہ یا بوتل کا صاف پانی پییں۔
ہاتھوں کی صفائی: صابن اور صاف پانی سے بار بار ہاتھ دھونے کی عادت اپنائیں، خاص طور پر کھانا کھانے سے پہلے اور باتھ روم استعمال کرنے کے بعد۔
کھانے کو ڈھانپ کر رکھنا: کھانے پینے کی اشیاء کو ہمیشہ ڈھانپ کر رکھیں تاکہ مکھیاں ان پر نہ بیٹھ سکیں۔
کچی سبزیوں اور پھلوں کو دھونا: استعمال سے پہلے پھلوں اور سبزیوں کو صاف پانی سے اچھی طرح دھوئیں۔
علاج:
اہم نوٹ: امیبیاسس کا علاج ڈاکٹر کی تجویز کردہ مخصوص اینٹی بائیوٹک یا اینٹی پیراسیٹک ادویات (مثلاً Metronidazole) کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ خود سے ادویات لینے سے گریز کریں اور کورس مکمل کریں۔
طبی مشورہ: اگر آپ کو یا خاندان میں کسی کو پیٹ میں مستقل مروڑ اور پاخانے میں خون آنے کی شکایت ہو، تو فوری طور پر قریبی ڈاکٹر سے رابطہ کریں اور پخانے کا ٹیسٹ کروائیں۔
17/07/2026
پخانے میں خفیہ خون (Stool Occult Blood) کی تفصیل تحریری شکل میں درج ذیل ہے:
پخانے میں خفیہ خون (Stool Occult Blood) کیا ہے؟
اکلٹ "Occult" کا مطلب ہے "پوشیدہ" یا "خفیہ"۔
پخانے میں خفیہ خون سے مراد خون کی وہ نہایت معمولی مقدار ہے جو پخانے (Stool) میں موجود تو ہوتی ہے، لیکن اسے عام آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس پوشیدہ خون کا پتہ لگانے کے لیے لیبارٹری میں ایک خاص ٹیسٹ کیا جاتا ہے جسے FOBT (F***l Occult Blood Test) کہا جاتا ہے۔
یہ ٹیسٹ کیوں کیا جاتا ہے؟
ڈاکٹر عام طور پر یہ ٹیسٹ درج ذیل وجوہات کی بنا پر تجویز کرتے ہیں:
آنتوں کے کینسر (Colon Cancer) کی قبل از وقت تشخیص: کینسر یا رسولی (Polyps) سے اکثر ہلکی خون بہنے کی شکایت ہوتی ہے جو اس ٹیسٹ کے ذریعے پکڑی جا سکتی ہے۔
معدے یا آنتوں میں زخم (Ulcers): ہاضمے کے نظام میں کسی بھی جگہ زخم ہونے کی صورت میں خون پخانے میں شامل ہو سکتا ہے۔
بواسیر (Hemorrhoids): مقعد کے گرد سوجی ہوئی رگوں سے خون کا اخراج۔
آنتوں کی سوزش (Inflammatory Bowel Disease): آنتوں کی دائمی بیماریوں کا پتہ لگانے کے لیے۔
ٹیسٹ کے نتائج کا کیا مطلب ہے؟
جب آپ کے ٹیسٹ کی رپورٹ آتی ہے، تو اس کے دو ممکنہ نتائج ہو سکتے ہیں:
۱. مثبت نتیجہ (Positive Result)
اس کا مطلب ہے کہ پخانے میں خون کے اثرات پائے گئے ہیں۔
اہم بات: مثبت نتیجے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ کو کینسر ہی ہے۔ یہ خون بواسیر، قبض کی وجہ سے آنے والے کٹ (Fissures)، معدے کے السر، یا بعض اوقات کچھ خاص غذائیں (جیسے لال گوشت) کھانے کی وجہ سے بھی رپورٹ میں ظاہر ہو سکتا ہے۔ خون کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے ڈاکٹر عام طور پر کولونوسکوپی (Colonoscopy) تجویز کرتے ہیں۔
۲. منفی نتیجہ (Negative Result)
اس کا مطلب ہے کہ ٹیسٹ کے دوران پخانے میں خون نہیں پایا گیا اور آپ کا نظامِ ہاضمہ بظاہر نارمل کام کر رہا ہے۔
ٹیسٹ سے پہلے ضروری احتیاطیں
کچھ ٹیسٹ (خاص طور پر روایتی gFOBT ٹیسٹ) کے نتائج کو درست رکھنے کے لیے ڈاکٹر ٹیسٹ سے ۲ تا ۳ دن پہلے درج ذیل چیزوں سے پرہیز کا مشورہ دیتے ہیں:
سرخ گوشت (Red Meat): بیف یا مٹن کھانے سے ٹیسٹ کا نتیجہ غلط طور پر مثبت آ سکتا ہے۔
وٹامن سی (Vitamin C) اور درد کش ادویات: یہ ادویات ٹیسٹ کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
کچی سبزیاں اور پھل: خاص طور پر مولی، شلجم اور گوبھی۔
(نوٹ: جدید ٹیسٹ جیسے FIT یعنی F***l Immunochemical Test کے لیے عام طور پر کھانے پینے کی کسی خاص پرہیز کی ضرورت نہیں ہوتی۔)
طبی مشورہ: یہ معلومات صرف آپ کی رہنمائی اور آگاہی کے لیے ہیں۔ اگر آپ کی رپورٹ مثبت آئی ہے یا آپ کو پیٹ میں درد، وزن میں کمی یا پاخانے کی عادات میں تبدیلی محسوس ہو رہی ہے، تو فوری طور پر اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
16/07/2026
یورین میں جھاگ کیوں بنتی ھے؟
15/07/2026
جگر پر چربی ھے؟ کیا ٹیسٹ کرنے چائیے؟ کیا کھانا چائیے اور کیا نہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Website
Address
25000