PPMSA Balochistan

PPMSA Balochistan

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from PPMSA Balochistan, Health/Beauty, Quetta Karachi, Quetta.

یہ تنظیم اتحاد، جرأت اور مزاحمت پر یقین رکھتی ہے۔ ہم خاموشی نہیں، حق کی آواز ہیں۔ ہم خیرات نہیں، حق مانگتے ہیں۔ پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن 2076 بلوچستان ظلم کے نظام کے خلاف کھڑی ہے اور آخری فتح تک جدوجہد جاری رکھے گی۔

24/06/2026

پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ) بلوچستان
پریس بیان

پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ) بلوچستان حکومتِ بلوچستان کی جانب سے صوبے بھر میں ملازمین کی تنخواہوں سے کی جانے والی ناجائز کٹوتیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ اے آئی (Attendance Initiative/System) میں حاضری کی عدم دستیابی یا تکنیکی مسائل کی بنیاد پر ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ بلوچستان کے تقریباً 60 فیصد علاقوں میں آج بھی انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ کئی دور دراز اضلاع میں موبائل نیٹ ورک بھی انتہائی ناقص یا مکمل طور پر غیر فعال رہتا ہے۔ ایسے حالات میں ملازمین کو ایک ایسے نظام کا ذمہ دار ٹھہرانا جس کے لیے بنیادی سہولیات ہی میسر نہ ہوں، سراسر ناانصافی ہے۔

صحت کے شعبے سے وابستہ پیرامیڈیکل اسٹاف انتہائی مشکل اور دور افتادہ علاقوں میں عوام کو خدمات فراہم کر رہا ہے۔ اگر نیٹ ورک یا سسٹم کی خرابی کے باعث حاضری درج نہ ہو سکے تو اس کی سزا ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی صورت میں دینا کسی بھی طور قابلِ قبول نہیں۔

پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ) بلوچستان حکومتِ بلوچستان، محکمہ صحت اور متعلقہ حکام سے پُرزور مطالبہ کرتی ہے کہ:

1. اے آئی سسٹم کی بنیاد پر کی جانے والی تمام ناجائز تنخواہی کٹوتیاں فوری طور پر ختم کی جائیں۔
2. جن ملازمین کی تنخواہوں سے بلاجواز کٹوتی کی گئی ہے، انہیں فوری طور پر مکمل ادائیگی کی جائے۔
3. جب تک بلوچستان کے تمام علاقوں میں انٹرنیٹ اور سسٹم کی سہولیات یکساں طور پر دستیاب نہیں ہوتیں، اس نظام کو سزا کے بجائے سہولت کے طور پر استعمال کیا جائے۔
4. دور دراز علاقوں کے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا قابلِ عمل اور منصفانہ طریقہ کار وضع کیا جائے جس سے ملازمین کے حقوق متاثر نہ ہوں۔

پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن واضح کرتی ہے کہ اگر اس ناانصافی کا فوری ازالہ نہ کیا گیا تو تنظیم اپنے آئینی اور قانونی حق کے تحت احتجاج اور دیگر جمہوری اقدامات کرنے پر مجبور ہوگی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن 2076(رجسٹرڈ) بلوچستان

18/06/2026

پپمسا آر پی 2076 بلوچستان کی ملازمین کے خلاف جارحانہ حکومتی اقدامات کی مذمت!

پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن (پپمسا آر پی 2076) بلوچستان نے اپنے صوبائی پریس ریلیز میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بجٹ اجلاس کے دوران ملازمین کے پُرامن احتجاج پر تشدد، آنسو گیس کی شیلنگ، لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے!

پپمسا آر پی 2076 بلوچستان کا مؤقف ہے کہ بلوچستان گرینڈ الائنس کی ناقص پالیسیوں اور حکمتِ عملیوں کے باعث ملازمین کی تحریک کمزور ہوئی ہے، جس کا واضح اظہار گزشتہ روز ہونے والے احتجاج میں شرکاء کی تعداد سے ہوا، جو گزشتہ سال کے بجٹ احتجاج کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم تھی۔

تنظیم کے مطابق گزشتہ سال صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاج کرنے کا فیصلہ الائنس میں شامل تمام تنظیموں کا مشترکہ فیصلہ تھا، تاہم ہزاروں ملازمین کے قافلے کو صوبائی اسمبلی کے بجائے ایوب اسٹیڈیم منتقل کرکے منتشر کرنے کا فیصلہ کس کی ہدایت پر کیا گیا اور اس سے کیا نتائج حاصل ہوئے، یہ ایک اہم سوال ہے۔ مزید برآں، ایک سال بعد دوبارہ اسی حکمتِ عملی کو اختیار کرنا بھی سوالیہ نشان ہے۔

پپمسا ار پی 2076 بلوچستان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں آج الائنس میں صرف چند محدود تنظیمیں باقی رہ گئی ہیں، جبکہ موجودہ قیادت کا دیگر ملازم تنظیموں سے رابطے کا فقدان ملازمین کے ساتھ غیر مناسب رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں تمام ملازمین کو نقصان اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

تنظیم نے زور دیا کہ بلوچستان کی تمام ملازم تنظیموں کو باہمی مشاورت سے نئی پالیسی اور مؤثر حکمتِ عملی مرتب کرنی ہوگی تاکہ صوبے کے ملازمین کے مسلسل استحصال کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

پپمسا آر پی 2076 بلوچستان کے مطابق ملازمین کا مطالبہ نہایت سادہ اور جائز ہے۔ وہ وفاق کی طرز پر تنخواہوں اور مراعات میں موجود تفریق کے خاتمے اور اپنے قانونی، آئینی اور انسانی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت نے ملازمین کے درمیان تنخواہوں کے فرق کو کم کرنے کے لیے ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس (DRA) کی منظوری دی ہے، جو پورے پاکستان کے لیے ہے۔ اس وقت وفاقی ملازمین کو 70 فیصد DRA دیا جا رہا ہے، جبکہ بلوچستان کے ملازمین آج بھی30 فیصد لے رہے ہیں جو کھلی نا انصافی ہے اور اس جائز مطالبے کے حصول کے لیے بلوچستان کے تمام ملازمین احتجاج پر مجبور ہیں۔

پپمسا آر پی 2076 بلوچستان، پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ اپنے منشور ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ پر عمل درآمد کرتے ہوئے ملازمین کی آواز سنی جائے، جمہوری اور پُرامن احتجاج کے راستے میں رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں، گرفتار ملازمین کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان کے جائز مطالبات پر بلا تاخیر عمل درآمد کیا جائے۔

عبید کاکڑ
صوبائی ترجمان
پپمسا آر پی 2076 بلوچستان

08/06/2026

پریس ریلیز

پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ) 2076 کی ڈاکٹر ماہ نور کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے اور وائی ڈی اے بلوچستان سے مکمل یکجہتی کا اعلان

پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن2076 (رجسٹرڈ) سول اسپتال میں ڈاکٹر ماہ نور کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک اور قابلِ مذمت واقعے پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتی ہے۔ ہم اس واقعے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور اسے نہ صرف ایک ڈاکٹر بلکہ پورے طبی شعبے کی عزت، وقار اور پیشہ ورانہ ماحول پر حملہ تصور کرتے ہیں۔

صحت کے شعبے سے وابستہ ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر طبی کارکن دن رات عوام کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں کسی بھی طبی کارکن کے ساتھ بدسلوکی، ہراسانی، دھمکی یا ناروا سلوک ناقابلِ قبول ہے۔ ڈاکٹر معنور کے ساتھ پیش آنے والے واقعے نے طبی برادری میں شدید اضطراب اور بے چینی پیدا کی ہے، جس کے ازالے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن2076 (رجسٹرڈ) اس معاملے پر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (YDA) بلوچستان کے مؤقف اور احتجاج کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ طبی عملے کے تحفظ، عزتِ نفس اور محفوظ کام کے ماحول کی فراہمی ہر ادارے اور حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر طبی عملہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرے گا تو اس کے براہِ راست منفی اثرات صحت کے نظام اور عوامی خدمات پر مرتب ہوں گے۔

ہم متعلقہ حکام، محکمہ صحت اور انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈاکٹر معنور کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی شفاف، غیر جانبدار اور فوری تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار عناصر کا تعین کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔

پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن اس امر پر بھی زور دیتی ہے کہ اسپتالوں اور طبی مراکز میں کام کرنے والے تمام ملازمین کے لیے باعزت، محفوظ اور پیشہ ورانہ ماحول کو یقینی بنایا جائے۔ طبی عملے کے خلاف کسی بھی قسم کی زیادتی، ہراسانی یا دباؤ کو ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

ہم وائی ڈی اے بلوچستان، ڈاکٹر معنور اور تمام طبی برادری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ طبی کارکنوں کے حقوق، تحفظ اور وقار کے لیے ہر جائز اور آئینی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے تمام طبی کارکنوں کو اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور انہیں ہر قسم کے ظلم، ناانصافی اور مشکلات سے محفوظ رکھے۔

جاری کردہ:
پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ) 2076بلوچستان
@

Photos from PPMSA Balochistan 's post 30/04/2026

پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن 2076 ضلع قلعہ عبداللہ کی جانب سے آج ایک اہم ملاقات ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کھوسو صاحب سے کی گئی۔

اس موقع پر انچارج آر ایچ سی قلعہ عبداللہ ڈاکٹر عبد الرحمن فراز، ضلعی صدر غلام نبی خاکسار، ضلعی جنرل سیکرٹری محمد یونس کاکڑ، چیرمین سید محمد یوسف آغاپیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن 2076، کابینہ ممبر نور علی کاکوزئی، توکل خان، میڈیا کوآرڈینیٹر عبد الوارث اور محیب اللّٰہ بھی موجود تھے۔

ملاقات کے دوران حالیہ تنخواہوں میں کٹوتی اور ضلع بھر میں پیرا میڈیکل اسٹاف کو درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ وفد نے اپنے تحفظات پیش کرتے ہوئے فوری حل کی درخواست کی۔

آخر میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کھوسو صاحب نے تمام مسائل کو غور سے سننے کے بعد انہیں حل کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ پیرا میڈیکل اسٹاف کے جائز مطالبات کو ہر ممکن حد تک پورا کیا جائے گا۔

پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن 2076 ضلع قلعہ عبداللہ نے اس مثبت پیش رفت کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جلد ہی مسائل کا عملی حل سامنے آئے گا۔

منجانب میڈیا کوآرڈینیٹر پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن 2076 ضلع قلعہ عبداللہ

21/03/2026
11/02/2026

*بریکنگ نیوز*

*ملک پاکستان چلانے والے کرداروں کی لسٹ پہلی بار منظر عام پر آ گئی کون لوگ ہیں کس ملک کے باسی ہیں تفصیلات جان کر 24کروڑ پاکستانی حیران و پریشان*
بائیس ہزار سے زیادہ اہم عہدوں پر تعینات افسران نے امریکہ کینیڈا انگلینڈ و آسٹریلیا کی شہریت لے رکھی ہے۔سپریم کورٹ میں پیش کی گئی فہرست کے مطابق دوہری شہریت والے افسران کی تعداد 22 ہزار 380 ہے
ان میں
1100 کا تعلق صرف پولیس اور بیوروکریسی سے ہے اور ان میں سے
540 کینیڈین
240 برطانوی
190 کے قریب امریکہ کے بھی شہری ہیں

درجنوں سرکاری ملازمین نے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ملائیشیا اورآئرلینڈ جیسے ملکوں کی بھی شہریت لے رکھی ہے
110 سرکاری افسروں میں اہم حکومتی عہدوں پر بھی براجمان ہیں

گریڈ 22 کے 6
ایم پی ون سکیل کے 11

گریڈ 21 کے 40
گریڈ 20 کے 90
گریڈ 19 کے 160
گریڈ 18کے 220
گریڈ 17 کے 160

داخلہ ڈویژن کے 20
پاور ڈویژن 44
ایوی ایشن ڈویژن 92
خزانہ ڈویژن 64
پٹرولیم ڈویژن 96
کامرس ڈویژن 10
آمدن ڈویژن 26

اطلاعات و نشریات 25
اسٹیبلشمنٹ 22
نیشنل فوڈ سکیورٹی 7
کیپیٹل ایڈمنسٹریشن11
مواصلات ڈویژن 16
ریلوے ڈویژن 8

کبنٹ ڈویژن کے 6 افسر دہری شہریت کے حامل ہیں
سب سے زیادہ دہری شہریت کے حامل افراد کا تعلق محکمہ تعلیم سے ہے
ان کی تعداد 140 سے زیادہ ہے
قومی ایئر لائن کے 80 سے زیادہ

لوکل گورنمنٹ 55
سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر 55
نیشنل بینک 30
سائنس اور ٹیکنالوجی 60
زراعت 40سے زیادہ
سکیورٹی

ایکسچینج کمیشن 20
آبپاشی 20
سوئی سدرن 30
سوئی ناردرن 20
پی ایم ایس 17
پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس 14

نادرا کے 15 ملازمین دہری شہریت کے حامل ہیں
دوہری شہریت والی اہم شخصیات میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 22کے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوانوید کامران بلوچ کینیڈا

(پی اے ایس)
کی پہلی خاتون صدراور گریڈ22 کی وفاقی سیکرٹری انسانی حقوق ڈویژن رابعہ آغا برطانیہ

گریڈ 22کے سیکرٹری بورڈ آف انویسٹمنٹ سردار احمد نواز سکھیرا امریکہ

گریڈ21کے موجودہ ڈی جی پاسپورٹ و امیگریشن عشرت علی برطانیہ

گریڈ22کی سابق سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈ سمیرا نذیر صدیقی نیوزی لینڈ

گریڈ 20 کے سیکرٹری اوقاف پنجاب ذوالفقار احمد گھمن امریکہ

مراکو میں سابق سفیر نادر چودھری برطانیہ
قطر میں سابق سفیر شہزاد احمد برطانیہ

کسٹم کے گریڈ 21 کے ایڈیشنل وفاقی سیکرٹری خزانہ احمد مجتبیٰ میمن کینیڈا

گریڈ 21 کی چیف کلیکٹر کسٹم زیبا حئی اظہرکینیڈا
پولیس سروس کے گریڈ 22 کے اقبال محمود (ر)
گریڈ21 کے اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب میاں شجاع الدین ذکا کینیڈا

چیئرمین پنجاب کمیشن برائے حقوق خواتین فوزیہ وقار کینیڈا

پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر سید ومیق بخاری امریکہ

موجودہ ایم ڈی معین رضا خان، نیشنل بینک کے سابق صدر سعید احمد برطانیہ

ڈائریکٹرجنرل پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف طاہر امریکہ

گریڈ 20کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ /پریس انفارمیشن آفیسرجہانگیر اقبال کینیڈا

سابق پنجاب حکومت کے ساتھ اہم قانونی معاملات پہ کام کرنے والے نامور قانون دان سلمان صوفی امریکہ کے شہری ہیں

اسی طرح گریڈ 20 کے ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر محمد اجمل کینیڈا

گریڈ21کے وزارت داخلہ میں ایڈیشنل سیکرٹری شیر افگن خان امریکہ

گریڈ 20 کے جوائنٹ سیکرٹری وزیر اعظم آفس احسن علی منگی برطانیہ

گریڈ20 کے راشد منصور کینیڈا

گریڈ 20کے علی سرفراز حسین برطانیہ

گریڈ 18کے محمد اسلم راؤبرطانیہ

گریڈ 20 کی سارہ سعید برطانیہ،گریڈ18کے عدنان قادر خان برطانیہ

گریڈ 18کی رابعہ اورنگزیب کینیڈا

گریڈ 18 کی صائمہ علی برطانیہ

گریڈ 20 کے سپیشل برانچ کے ڈی آئی جی زعیم اقبال شیخ برطانیہ

گریڈ 20 کے لاہور پولیس ٹریننگ کالج کے کمانڈنٹ ڈی آئی جی مرزا فاران بیگ برطانیہ

گریڈ20 کے ڈی آئی جی مواصلات شاہد جاوید کینیڈا

گریڈ 20 کے ڈاکٹر محمد شفیق (ریٹائرڈ) کینیڈا

گریڈ 19کے ایس ایس پی گوادر برکت حسین کھوسہ کینیڈا

گریڈ 19 کے ایس ایس پی ندیم حسن کینیڈا
گریڈ 18 کے ایس پی عادل میمن امریکہ
گریڈ 17 پنجاب لوکل گورنمنٹ کے عرفان سلیم بٹ کینیڈا
گریڈ 18کے عقیل احمد خان امریکہ

گریڈ18کے ارشد محمود کینیڈا،

گریڈ 19کے سہیل شہزاد برطانیی تنویر جبار کینیڈا

گریڈ19کے محمد جاوید نسیم کینیڈا

گریڈ19کے محمد محسن رفیق کینیڈا

گریڈ19کے راشد احمد خان کینیڈا
گریڈ 19کے طفیل خان یوسفزئی آسٹریلیا
گریڈ19کے محمد شاہد نذیر کینیڈا
گریڈ19کے محسن فاروق کینیڈا

گریڈ18کے محمد ابراہیم کینیڈا گریڈ17کے محمد افتخار امریکہ
گریڈ 17کے نواز گوندل کینیڈا گریڈ 19کے اعجازعلی شاہ امریکہ

گریڈ19کے امجد علی لغاری کینیڈا
سٹیٹ بینک کے عبد الرؤف امریکہ
صبا عابد امریکہ
سید سہیل جاویدکینیڈا
راحت سعیدامریکہ

ٹیپو سلطان امریکہ
عرفان الٰہی مغل امریکہ
محمد علی چودھری برطانیہ
حسن جیواجی کینیڈا

زہرہ رضوی برطانیہ
امجد مقصود کینیڈا
عنایت حسین آسٹریلیا
شازیہ ارم کینیڈا، تبسم رانا کینیڈا

ریاض احمد خواجہ کینیڈا
ناصر جہانگیر خان کینیڈا مصطفی متین شیخ کینیڈا فضلی حمید کینیڈا

سینئرایگزیکٹو نائب صدر نیشنل بینک شاہد سعید برطانیہ
رشا اے محی الدین برطانیہ
سید جمال باقر برطانیہ
مدثر ایچ خان امریکہ

ایگزیکٹو نائب صدرفاروق حسن برطانیہ
عاصم اختر کینیڈا
ناصر حسین کینیڈا
سینئر نائب صدرسید خرم حسین امریکہ

واصف خسرو احمد برطانیہ سید طارق حسن کینیڈا
غلام حسین اظہر کینیڈا
نائب صدرمحمود رضا برطانیہ نادیہ احمر کینیڈا
اسسٹنٹ نائب صدرعامر نواز کینیڈا

محمد آفتاب کینیڈا
بابر علی کینیڈا
محمد امان پیر کینیڈا
محمد فرذوق بٹ برطانیہ
سید نعمان احمد برطانیہ
سبین طاہر برطانیہ

سید نازش علی برطانیہ
گریڈ 20 کے سید طارق حسن کینیڈا
گریڈ 20کے عبد القادر برطانیہ گریڈ20کے سید شبیر احمد کینیڈا
گریڈ18کے سید نعمان احمدبرطانیہ

گریڈ17کے خواجہ فیصل سلیم برطانیہ
گریڈ18کے نوید تاجدار رضوی برطانیہ
گریڈ18کے عثمان علی شیخ امریکہ
گریڈ21کے امین قاضی جرمنی محکمہ تعلیم میں گریڈ19کے منصور احمدجرمنی
گریڈ21کے ڈاکٹر سہیل اختر آسٹریلیا

گریڈ21کے خالد محمود کینیڈا
گریڈ 17کی فرزانہ اکرم سپین گریڈ19 کے محمد عمران قریشی کینیڈا
گریڈ21کے ڈاکٹر مشرف احمد کینیڈا
بریگیڈیئر (ر) عامر حفیظ امریکہ
وقار عزیز کینیڈا

رملہ طاہر آسٹریلیا
ڈاکٹر جمشید اقبال جرمنی
ڈاکٹرکاشف رشید آسٹریلیا
ڈاکٹر اسد اﷲ خان برطانیہ ڈاکٹر محمد مشتاق خان ہالینڈ
نعمان احمد کینیڈا

نیئر پرویز بٹ برطانیہ
اعجاز احمد فرانس
صنم علی ڈنمارک
خالدہ نور کینیڈا
پروفیسر ڈاکٹراسلم نور کینیڈا محمد ارشد رفیق کینیڈا

نرگس خالد امریکہ
محمد افضل ابراہیم امریکہ
ڈاکٹر عقیل احمد قدوائی کینیڈا
ڈاکٹر پاشا غزل برطانیہ
محمد سعد بن عزیز کینیڈا
گریڈ19کے خالد محمود احمد برطانیہ

گریڈ19کی ثانیہ طارق کینیڈا گریڈ20کی طاہرہ ضیا برطانیہ گریڈ17کی روشان امبرامریکہ گریڈ17کی سمرین آصف کینیڈا گریڈ18کی قنطا نور کینیڈا
گریڈ19کے ڈاکٹر محمد شیراز ارشدملک کینیڈ

اگریڈ21کے فرحت عباس کینیڈا گریڈ19کی شبنم نور کینیڈا گریڈ17کی عاصمہ اعظم امریکہ
گریڈ18کی تہمینہ عتیق کینیڈا گریڈ19کی روحیلہ ریاض ہالینڈ گریڈ18کی سیدہ نوشین طلعت کینیڈا

قمر الوہاب سویڈن
گریڈ17کے منصور احمد بٹ کینیڈا
گریڈ18کے سید جمال شاہ کینیڈا
گریڈ19کے محمد کلیم کینیڈا گریڈ19کے ڈاکٹر قیصر رشید کینیڈا
گریڈ21کے محمد منیر احمد برطانی
گریڈ19کے ڈاکٹر عبد الرحمان شاہد برطانیہ

گریڈ18کے شاہ رخ عرفان برطانیہ
گریڈ18کی ساشا احمد کینیڈا گریڈ17کے سخن الٰہی برطانیہ گریڈ18کے حسن بخاری برطانیہ گریڈ17کی رخسانہ احسن امریکہ
گریڈ17کے محمد علی ظہیر امریکہ

گریڈ17کے ابراہیم عبد القادر عارف امریکہ
ڈاکٹر محمد نعمان ملائیشیا گریڈ17کی عالیہ نذر کینیڈا
گریڈ19کی ڈاکٹر مریم مصطفی جرمنی
گریڈ18کے نجم طارق برطانیہ گریڈ19کی کوکب علی کینیڈا گریڈ19کی فریدہ بیگم بحرین

گریڈ18کی عشرت این بخاری برطانیہ
گریڈ19کی نسیم اختر بحرین
نوباح علی سعد برطانیہ
کامران ہاشمی امریکہ
طاہر عزیز خان برطانیہ
جنید شریف کینیڈا

ڈاکٹر جلیل اختر کینیڈا گریڈ20کی ڈاکٹر صبینہ عزیز برطانیہ
گریڈ18کے عتیق امجد کینیڈا گریڈ17کی لائقہ کے بسرا امریکہ
گریڈ19کی فاخرہ سلطانہ برطانیہ
گریڈ 19کے ڈاکٹر آصف خان برطانیہ
گریڈ18کی نسرین کوثر کینیڈا

گریڈ17کی کشور فردوس کینیڈا
گریڈ20کے ناصر سعید کینیڈا گریڈ18کے ڈاکٹر محمد علی عارف برطانیہ
ڈاکٹر محمد احمد بودلا کینیڈا گریڈ18کی ناظمہ ملک کینیڈا گریڈ18کی عائشہ سعید نیوز لینڈ

گریڈ17کے ساجد مسعود برطانیہ
گریڈ17کے شاہد آزاد نیوزی لینڈ گریڈ18کے نیاز محمد خان کینیڈا
گریڈ18کے شہزاد اسلم باجوہ آسٹریلیا
گریڈ17کی ڈاکٹر عفت بشیر امریکہ
گریڈ 19کے محمد اسماعیل برطانیہ

گریڈ18کے محمد اظہر آسٹریلیا گریڈ17کی مدینہ بی بی افغانستان

گریڈ17کی عطرت جمال کینیڈا گریڈ20کی ڈاکٹر راحیلہ آصف کینیڈا
گریڈ21کے پروفیسر ڈاکٹر ناصر الدین شیخ کینیڈا
گریڈ18کی ماریہ سرمد کینیڈا
گریڈ21کی پروفیسر ڈاکٹر انیلہ نعیم کینیڈا
گریڈ21کے پروفیسر ڈاکٹر محمد رضا مہدی امریکہ

عمر میمن آسٹریلیا
گریڈ20کی سارہ کاظمی امریکہ گریڈ21کے شمس ندیم عالم امریکہ
گریڈ19کے اقتدار احمد صدیقی امریکہ
گریڈ19کے اسد خان کینیڈا گریڈ19کے سعید اختر امریکہ

گریڈ18کی شائمہ سلطانہ میمن جنوبی افریقہ
گریڈ18کے ذو الفقار نذیر امریکہ
شگفتہ نظام برطانیہ
گریڈ18کے عدنان سرور سکو والاسویڈن
گریڈ 19کی نادیہ رفیق کینیڈا گریڈ20کے مجیب رحمان عباسی آئر لینڈ
تزین ملک برطانی

زنیرہ طارق امریکہ، گریڈ20کے فرید الدین صدیقی کینیڈا، گریڈ19کی مریم قریشی برطانیہ، گریڈ19کی راشدہ پروین امریکہ، گریڈ19کے شاداب علی راجپوت کینیڈا، گریڈ17کی لبنیٰ بلوچ کینیڈا،گریڈ18کی یاسمین زمان برطانیہ، گریڈ17کے محمد ارشد علی خان امریکہ، گریڈ19کے ڈاکٹر سلیم احمد پھل کینیڈا، گریڈ17کے توقیر سوئٹزر لینڈ، گریڈ19کی نبیلہ فرید برطانیہ،
ڈاکٹر نوشین انور امریکہ، ڈاکٹر نادیہ قمر چشتی مجاہد امریکہ، ثمر قاسم امریکہ، ڈاکٹر جبران رشید کینیڈا، گریڈ21کے ڈاکٹر شمیم ہاشمی امریکہ، ڈاکٹر اعجاز احمد میاں کینیڈا، ڈاکٹر محمد نشاط نیوزی لینڈ، ڈاکٹر شیبا سعید برطانیہ، محمداسد الیاس کینیڈا، ڈاکٹر محمد شعیب جمالی امریکہ، لبنیٰ انصر بیگ کینیڈا، گریڈ21کی علیسیا مریم ثمیمہ امریکہ،
گریڈ17کی حمیدہ عباسی کینیڈا، گریڈ19کی رابعہ منیر برطانیہ، ڈاکٹر بینش عارف سلطان برطانیہ، گریڈ17کی بشیراں رندکینیڈا، گریڈ20کے زبیر اے عباسی برطانیہ، گریڈ17کی مہرین افضل امریکہ، پی آئی اے کے ضیا قادر قریشی آسٹریلیا، عنایت اﷲ آئرلینڈ، شیخ عمر اسلام کینیڈا، مبارک احمد کینیڈا، فواز نوید خان کینیڈا، تنویر لودھی امریکہ، سہیل محمود کینیڈا،
شہزادہ خرم کینیڈا، انعام اﷲ جان امریکہ، طلحہ احمد خان کینیڈا، ندیم احمد خان کینیڈا، توصیف احمد امریکہ، منظور بھٹو کینیڈا، عامر حسین شاہ کینیڈا، شہریار احمدڈوگرکینیڈا، محمد جمیل امریکہ، ڈاکٹر صنم ممتاز کینیڈا، بدر الاسلام امریکہ، سید ہمایوں امریکہ، طارق جمیل خان برطانیہ،
محمد علی کھنڈوالا امریکہ، فرحان وحید برطانیہ، عثمان غنی راؤ کینیڈا، مصباح احسان امریکہ، نجیب امین مغل کینیڈا، طارق محمود خان کینیڈا، وقار الاحسن کینیڈا، عمر رزاق کینیڈا، اشفاق حسین برطانیہ، سید خالد انور امریکہ، محمد ظفر علی کینیڈا، زریاب بشیر برطانیہ، محمد حسام الدین خان برطانیہ، سمیع ہاشمی کینیڈا، عامر سرور کینیڈا، فیضان خالد رضوی امریکہ، عمر سلیم برطانیہ، اسد اویس کینیڈا، زاہد رضا نقوی کینیڈا، نوید اکرام امریکہ، راشد احمد برطانیہ، محمد نجم الخدا کینیڈا، افضل احمد ممتاز برطانیہ، کہکشاں ترنم کینیڈا،
عاصمہ باجوہ برطانیہ، ریاض علی خان کینیڈا، نجیب اے سید کینیڈا، محمد سہیل برطانیہ، زاہد حمید قریشی برطانیہ، ڈاکٹر رخسانہ کینیڈا،نائلہ منصور امریکہ، عریج اے بلگرامی کینیڈا، سعید احمد امریکہ، محمد حنیف میمن کینیڈا، محمد طارق گبول کینیڈا، امش جاوید کینیڈا،طارق بن صمد کینیڈا، سعیدہ حسنین برطانیہ، ساجد اﷲ خان امریکہ،
طارق این علوی فرانس، علی حسن یزدانی کینیڈا، ارشد علی حسن جان کینیڈا، عدنان عندلیب آسٹریلیا، شمشاد آغا امریکہ، فرح حسین برطانیہ، علی اصغر شاہ برطانیہ، ندیم ظفر خان کینیڈا، راحیل احمد برطانیہ،
سید بائر مسعود کینیڈا، کلیم چغتائی کینیڈا، عبد الحمید سعدی کینیڈا، رفعت اشفاق برطانیہ، محمد انور علوی امریکہ، سید محسن علی کینیڈا، ناصر جمال ملک کینیڈا، محمد ماجد حفیظ صدیقی کینیڈا،
اسد مرتضیٰ کینیڈا، میر محمد علی کینیڈا، سجاد علی نیوزی لینڈ، سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئراینڈ میڈیکل ایجوکیشن میں گریڈ19کی ڈاکٹر سعیدہ آصف امریکہ، محمد کامران منشا برطانیہ، گریڈ18کے ڈاکٹر منیب اشرف امریکہ،
گریڈ18کی ڈاکٹر مریم اشرف برطانیہ، ڈاکٹر سمیرہ امین کینیڈا،گریڈ17کی ڈاکٹر گل رعناوسیم برطانیہ، ڈاکٹر خواجہ ندیم آئرلینڈ، فراز تجمل امریکہ،
گریڈ20کے پروفیسر آصف بشیرامریکہ، گریڈ18کی ڈاکٹرعائشہ بشیرہاشمی، گریڈ18کے ڈاکٹر سید مظاہر حسین برطانیہ، گریڈ18کی ڈاکٹر رحسانی ملک کینیڈا، گریڈ20 کے پروفیسر ناصر رضا زیدی کینیڈا، گریڈ18کے ڈاکٹر علی رضا خان روس،
گریڈ20کے ڈاکٹر مظہر الر حمان برطانیہ، گریڈ18کے محمد توقیر اکبر آئر لینڈ، گریڈ18کے ڈاکٹرمحمد یوسف معراج ملائیشیا،گریڈ17کے ڈاکٹر انیس اورنگزیب برطانیہ، گریڈ17کے ڈاکٹر طیب اکرام برطانیہ، گریڈ17کے ڈاکٹر عدنان ایس ملک امریکہ، گریڈ20کے ڈاکٹر محمد مغیث امین برطانیہ،
گریڈ18کی ڈاکٹرارم چودھری امریکہ، گریڈ 20 کی ڈاکٹر فرخندہ حفیظ کینیڈا، گریڈ18کے ڈاکٹر سلیمان اے شاہ امریکہ، گریڈ17کی ڈاکٹر اشما خان نیپال، گریڈ17کی ثمن صغیر برطانیہ، گریڈ18کی ڈاکٹر بشریٰ رزاق امریکہ، گریڈ18کی ڈاکٹر لبنیٰ فاروق کینیڈا،
گریڈ17کی ڈاکٹر شمائلہ رشید برطانیہ، پروفیسر محمد طارق برطانیہ، گریڈ18کے ڈاکٹر گوہر علی خان برطانیہ، گریڈ17کے ڈاکٹر سلمان یوسف شاہ برطانیہ، گریڈ 17کی ڈاکٹر عائشہ عثمان برطانیہ، گریڈ19کے ڈاکٹر خرم ایس خان کینیڈا، گریڈ18کے طارق اے بنگش آئر لینڈ، گریڈ18کے ڈاکٹر عامر لطیف آئر لینڈ، گریڈ18کے ڈاکٹر غلام سرور برطانیہ،
گریڈ 17کے امجد فاروق امریکہ، گریڈ 18کے کاشف عزیز احمد کینیڈا، گریڈ 17کی ڈاکٹر لبنیٰ ناصر برطانیہ، گریڈ17کے ڈاکٹر فرقان یعقوب برطانیہ، گریڈ18کے ڈاکٹر ظہیر خان امریکہ، گریڈ17کی غازیہ خانم کینیڈا، گریڈ20کے پروفیسر اعظم جہانگیر امریکہ،
گریڈ18کے ڈاکٹر شفیق چیمہ امریکہ، گریڈ19کے ڈاکٹر خورشید خان امریکہ، گریڈ18کے ڈاکٹر ارسلان امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر نعمان اکرم فرانس، گریڈ18کی ڈاکٹر حمیرہ رضوان کینیڈا،
گریڈ18کی ڈاکٹر تبسم عزیزبرطانیہ، گریڈ18کی رخسانہ کینیڈا، گریڈ17کے ڈاکٹر عمر فاروق برطانیہ، گریڈ20کی نسرین منظور نیوزی لینڈ، گریڈ 17کے ڈاکٹر حسن فاریس النائف شام،گریڈ20کی ڈاکٹر مہرین سادات کینیڈا، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی میں گریڈ 19کے اختر احمد بھوگیو کینیڈا،
سہیل اصغر آسٹریلیا، چودھری آفاق الرحمان کینیڈا،سلمان اسلم کینیڈا،( نسٹ)گریڈ19کے اکرام رسول قریشی امریکہ، گریڈ19کی نگہت پروین گیلانی کینیڈا، گریڈ21کے ریاض احمد مفتی برطانیہ، گریڈ21کے ارشد حسین کینیڈا، گریڈ19کے کامران حیدر سید کینیڈا، گریڈ19کے عدیل نعیم بیگ آسٹریلیا، گریڈ19کے ندیم احمد آسٹریلیا، گریڈ20کے ارشد زمان خان امریکہ،
گریڈ19کے منیر احمد تارڑ کینیڈا، ڈاکٹر طاہر مصطفی مدنی برطانیہ، گریڈ19کے ماجد مقبول کینیڈا، گریڈ19کے سعد اعظم خان المروت امریکہ، گریڈ19 کے عاطف محمد خان برطانیہ، گریڈ21کے شہباز خان برطانیہ، گریڈ19کے نوید اکمل دین برطانیہ،
گریڈ19کے عثمان حسن کینیڈا، گریڈ19کے فرحان خالد چودھری برطانیہ، گریڈ19کے اطہر علی کینیڈا، گریڈ19کے اختر علی قریشی کینیڈا، گریڈ19کے حسن رضا کینیڈا، گریڈ 19کی ماہا احمد آسٹریلیا، گریڈ20کے فیصل شفاعت جرمنی، گریڈ21کے ذاکر حسین جرمنی،
گریڈ21کے محمد فہیم کھوکھر جرمنی، محکمہ صحت میں گریڈ18کے ڈاکٹرفیاض احمد امریکہ،گریڈ 17کے ڈاکٹر صوبیہ ظفر کینیڈا، گریڈ17کے ڈاکٹر فیصل اعجاز امریکہ، گریڈ18کے ڈاکٹرمحمد عمران خان آئر لینڈ، گریڈ18کے ڈاکٹر خالد عثمان آئر لینڈ،
گریڈ19کے ڈاکٹر آفتاب عالم برطانیہ، گریڈ18کی ڈاکٹر انیلہ ریاض برطانیہ، گریڈ20کے ڈاکٹر عمر حیات آئر لینڈ، گریڈ18کے مجیب الر حمان کینیڈا، گریڈ18کے ہارون ظفر برطانیہ، گریڈ18کی شازیہ طارق برطانیہ، گریڈ18کی مینا خان ناظم برطانیہ، اظہر سردار کینیڈا، گریڈ20کے آصف ملک برطانیہ،
گریڈ18کے ڈاکٹر سجاد اے خان روس، گریڈ17کی ثمینہ ناز کینیڈا، گریڈ18کے ڈاکٹر مہدی خان برطانیہ، گریڈ17کی ڈاکٹر نسرین اختر امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر محمد آصف سلیم برطانیہ، گریڈ17کی ڈاکٹر طاہرہ حمید برطانیہ، گریڈ17کے ڈاکٹر محمد شیراز بحرین، گریڈ17کے ڈاکٹر ناصر علی نواز برطانیہ،
گریڈ18کے ڈاکٹر محمد وسیم کینیڈا، گریڈ18کی ڈاکٹر عائشہ ابراہیم برطانیہ، گریڈ18کے ڈاکٹر محمد اقبال شکور برطانیہ، گریڈ17کی ڈاکٹر مشال وحید امریکہ، گریڈ18کے ڈاکٹر ساج علی ڈوگا برطانیہ، گریڈ18کے ڈاکٹر آصف محمود اے قاضی کینیڈا، گریڈ18کے ڈاکٹر اسد الرحمان برطانیہ،گریڈ17کی ناہید انور برطانیہ، ڈاکٹر محمد بلال یاسین آسٹریلیا،
گریڈ18کے ڈاکٹر آفتاب احمد علوی امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر نیئر جمال کینیڈا، گریڈ18کے ڈاکٹر فیاض علی برطانیہ، گریڈ17کی ڈاکٹر ذکیہ صمد امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر راشد خان امریکہ، گریڈ18کے ڈاکٹر عبد الرؤف آئر لینڈ، گریڈ17کی رفعت آرا خالد کینیڈا، گریڈ17کے ڈاکٹر وقار احمد برطانیہ، گریڈ17کی ڈاکٹر شیریں جان بحرین، گریڈ17کی گل مہینا برطانیہ،
گریڈ17کی شمیم نورآسٹریلیا، گریڈ19کے ڈاکٹر محمد فاروق ترین برطانیہ، گریڈ17کی حاجرہ علی آفریدی امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر محمد فیصل بحرین، گریڈ17کی فریدہ بلوچ کینیڈا،
گریڈ19کی صائمہ شیخ برطانیہ، گریڈ19کی ڈاکٹرلبنیٰ سرور برطانیہ، گریڈ20کے زاہد حسن انصاری کینیڈا، گریڈ19کی حمیرا معین کینیڈا، گریڈ20کے پروفیسر ڈاکٹر ہاشم رضا برطانیہ،گریڈ19کی ڈاکٹر سائرہ افغان برطانیہ، گریڈ17کی ڈاکٹر عنبر نواز امریکہ، گریڈ17کی ڈاکٹر مشل طارق آسٹریلیا، گریڈ18کی ڈاکٹر فریدہ امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر محمد ہاشم کینیڈا،
گریڈ19کے محمد حنیف برطانیہ، گریڈ19کی شہلا باقی امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر شہاب جو نیجو امریکہ، شوہاب حیدر شیخ برطانیہ، سید اکمل سلطان برطانیہ، ڈاکٹر نوشیروان گل حیدر سومرو برطانیہ، گریڈ17کی عذراپروین برطانیہ، گریڈ18کے عدنان قاسم برطانیہ،
گریڈ18کی ڈاکٹر آسیہ رحمان امریکہ، ڈاکٹر عامر حلیم آئرلینڈ، گریڈ17کے ڈاکٹر محمدعامر ہارون کینیڈا، گریڈ19کے محمد شاہد اقبال کینیڈا، منصوبہ بندی وترقی میں گریڈ 20 کے محمد اجمل کینیڈا، ڈاکٹر اسد زمان امریکہ، عامر منصف خان امریکہ،
ڈاکٹر شہزادرحمان کینیڈا، مراد جاوید خان کینیڈا، علی رضا خیری برطانیہ، محمد احمد چودھری آسٹریلیا، انتساب احمد کینیڈا، حرا اقبال شیخ امریکہ، صداقت حسین کینیڈا، ملک احمد خان کینیڈا،

مائرہ جعفری برطانیہ، فرحان ظہیر آسٹریلیا، حسن ایم خالد کینیڈا، نوشین فیاض کینیڈا، گریڈ19کے ناصر اقبال برطانیہ، گریڈ18کے عرفان احمد انصاری کینیڈا، ہما محمود برطانیہ، اعجاز غنی کینیڈا، گریڈ 20کے سابق ممبر پلاننگ سی ڈی اے (ر)اسد محمود کیانی امریکہ، گریڈ19کے ایاز احمد خان کینیڈا،گریڈ 19کے حافظ محمد احسان الحق کینیڈا،گریڈ 19کی ڈاکٹر شازیہ یوسف کینیڈا، گریڈ18کی ڈاکٹر عظمیٰ علی کینیڈا،
لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی میں گریڈ 19کے معین شریف کینیڈا، گریڈ 20 کے محمد ارشاد اﷲ کینیڈا، گریڈ 18 کے خالد محمود کینیڈا، گریڈ 19کے سلما ن مجید بٹ کینیڈا، گریڈ 18کے احمد فراز سلیم کینیڈا، گریڈ 19کے اعجازاحمد کینیڈا، گریڈ 20کے محمد علی ڈوگرکینیڈا، گریڈ 17کے محسن وقار امریکہ، گریڈ19کے خالد خان کینیڈا، ہائر ایجوکیشن کمیشن میں گریڈ 21کے ڈاکٹر ریاض احمد نیوزی لینڈ، ڈاکٹر محمد لطیف آسٹریلیا،گریڈ18کے فواد مرتضیٰ کینیڈا،
گریڈ19کی سیدہ ہما ترمزی برطانیہ، گریڈ19کی نادیہ اقدس کینیڈا، گریڈ19کی نبیلہ نثار کینیڈا، گریڈ18کی ریحانہ افضل آسٹریلیا، گریڈ18کی عذرامنور کاظمی آسٹریلیا، گریڈ18کی سمرہ عبد الجلیل امریکہ، گریڈ18کی حمیدہ بیگم کینیڈا، گریڈ17کی رفیعہ مرتضیٰ کینیڈا، گریڈ17کی امین فاطمہ امریکہ، گریڈ17کی غزالہ سہراب کینیڈا، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے سلیم اﷲ محمود برطانیہ ،
حسیب احمد کینیڈا، شجاعت احمد کینیڈا، عبد الوحید برطانیہ، سہیل رانا کینیڈا، فضل حسین برطانیہ، فاروق اعظم شاہ کینیڈا، خالد محمود رحمان کینیڈا، ثاقب احمد برطانیہ، کوثر احمد محمد کینیڈا، صدیق محمد چودھری برطانیہ، گریڈ 13کے صہیب قادرکینیڈا، شرجیل حسن خان برطانیہ، ایف بی آر میں گریڈ 19کی مصباح کھٹانا برطانیہ، گریڈ 19کے سید آفتاب حیدر برطانیہ،
گریڈ 21کے احمد مجتبیٰ میمن کینیڈا، گریڈ 18کے عبد الوہاب امریکہ، گریڈ19کے اورنگزیب عالمگیر کینیڈا، طارق حسین نیازی کینیڈا، گریڈ18کے بشارت علی ملک امریکہ، گریڈ 20کے قاسم رضا کینیڈا، گریڈ 21 کے ڈاکٹر اشفاق احمد تنیو کینیڈا، پاکستان ٹیلی ویژن میں گریڈ 8کے ندیم احمد امریکہ،گریڈ6 کے محمد امجد رامے کینیڈا، گریڈ6 کے میر عجب خان کینیڈا،گریڈ7 کے منصور ناصر کینیڈا، گریڈ6کی صبا شاہد امریکہ، گریڈ6 کی نصرت مسعود امریکہ، گریڈ7کے امتیاز احمد کینیڈا، گریڈ6کے اعجاز احمد بٹ برطانیہ،گریڈ 9 کے محمد شاہ خان کینیڈا، اسدحسین کینیڈا، گریڈ 8کی شاہینہ شاہد، ان لینڈ ریونیو کے گریڈ 19کے نعیم بابر آسٹریلیا، گریڈ 20کے سجاد تسلیم اعظم برطانیہ،
گریڈ 19کے شاہد صدیق بھٹی کینیڈا،گریڈ 20 کے عاصم افتخار کینیڈا، گریڈ18کے سید صلاح الدین جیلانی کینیڈا، گریڈ20کی شازیہ میمن برطانیہ، گریڈ18کے اسفندیار جنجوعہ کینیڈا، گریڈ20کے نوید اختر کینیڈا، گریڈ 21 کے حافظ محمد علی امریکہ، گریڈ20 کے وسیم اے عباسی کینیڈا، گریڈ 19کی سیدہ نورین زہرہ کینیڈا، گریڈ 20 کے عاصم افتخار کینیڈا،نادرا کے سمیر خان برطانیہ، جواد حسین عباسی برطانیہ، منظور احمد خواجہ برطانیہ، احمرین حسین برطانیہ، عارف علی بٹ آسٹریلیا، گریڈ18کے شاہد علی خان برطانیہ،
عثمان چیمہ آسٹریلیا، وریام شفقت آسٹریلیا، مبشر امان نیوزی لینڈ، فضا شاہد آسٹریلیا، احمد کمال گیلانی کینیڈا، مکرم علی برطانیہ، گریڈ 19کے طاہر محمود پرتگال، سہیل ارشاد انجم امریکہ، سہیل جہانگیر امریکہ،نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں گریڈ19کے رانا ٹکا خان کینیڈا،گریڈ 18کے عامر سید کینیڈا، گریڈ 18کے محمد زمان کینیڈا،گریڈ 18کے سجاد علی شاہ کینیڈا،
گریڈ18کے محمد الطاف نیوزی لینڈ، گریڈ17کے ندیم قاسم خان کینیڈا، گریڈ18کے سید اشرف علی شاہ کینیڈا، گریڈ 19کی نسیم کینیڈا، خالد اقبال ملک امریکہ، ڈاکٹر مریم پنہوارکینیڈا، مسعود نبی امریکہ، فیصل عارف کینیڈا، محمد ریاض آسٹریلیا، افتخار مصطفی رضوی برطانیہ، اظہر اسحاق کینیڈا،
افتخار عباسی برطانیہ،سلیم باز خان امریکہ، گریڈ18کے کاشف علی شیخ کینیڈا، گریڈ17کے طاہر علی اکبر کینیڈا، گریڈ17کی صباحت احمد چودھری کینیڈا، گریڈ18کے آغا عنایت اﷲ کینیڈا، گریڈ17کے محمد جمیل کینیڈا، مواصلات اور ورکس ڈیپارٹمنٹ میں گریڈ19کے سلیم الرحمان کینیڈا، گریڈ 18کی سمیراجمیل کینیڈا، گریڈ18کے محمد نسیم کینیڈا، گریڈ18کے زاہد امان وڑائچ کینیڈا،گریڈ19 کے امجد رضا خان کینیڈا، گریڈ19کے ساجد رشید بٹ کینیڈا،
گریڈ19 کے انصار محمود کینیڈا، گریڈ20کے محمد جمال اظہر سلطان کینیڈا، گریڈ18کے علی نواز خان برطانیہ، گریڈ18کے مہرعظمت حیات کینیڈا، گریڈ18کے ارشد خان کینیڈا، گریڈ18کے محمد ایوب کینیڈا، گریڈ20کے علی احمد بلوچ کینیڈا، گریڈ21کے ملک عبد الرشید کینیڈا، گریڈ19کے شفقت حسین کینیڈا،خزانہ ڈویژن کے جیند احمد فاروقی برطانیہ، ایس ایم ای بینک کے اسسٹنٹ نائب صدراطہر اشفاق احمدبرطانیہ،
سینئر نائب صدر حافظ محمد اشفاق برطانیہ، گریڈ19کے تجمل الٰہی برطانیہ، ڈاکٹر خاقان حسن نجیب آسٹریلیا، گریڈ 18کے باسط حسین برطانیہ، گریڈ 18کے وقاص خان امریکہ، گریڈ18کے قیصر وقار برطانیہ، اشعر حمید آسٹریلیا، گریڈ19کے عمران شبیر برطانیہ، نہال اے صدیقی کینیڈا، امتیاز احمد میمن برطانیہ، اطہر انعام ملک امریکہ، گریڈ17کے سید علی معظم کینیڈا،
گریڈ 21کے نیشنل بینک

05/02/2026

حکومتی وفد سے آل پارٹیز اور گرینڈ الائنس کے نمائندہ وفد کی ملاقات، بلوچستان کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے گرینڈ الائنس کی تمام اسیر قیادت کو فوری طور پر رہا کرنے کا فیصلہ۔ خیرسگالی کے پیغام کے طور پر گرینڈ الائنس کا صوبہ بھر میں اپنا احتجاج فی الحال ختم کرنے پر اتفاق

کوئٹہ، 04 فروری — پریس ریلیز:
حکومتی وفد کے ساتھ آل پارٹیز اور گرینڈ الائنس کے نمائندہ وفد کی ملاقات میں گرینڈ الائنس کی اسیر قیادت کو فوری طور پر رہا کرنے اور موجودہ حالات کے پیش نظر احتجاج چی الحال ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

آل پارٹیز پر مشتمل وفد میں عوامی نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی پاکستان تحریکِ انصاف ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ اور ملازمین گرینڈ الائنس شامل تھیں۔ وفد میں اے این پی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر ڈاکٹر اسحاق بلوچ، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، پاکستان تحریکِ انصاف کے سلام آغا، ایچ ڈی پی کے رہنما عصمت یاری، اے این پی کے رہنما ثناءاللہ کاکڑ، نیشنل پارٹی کے امیر عنایت اللہ بوزدار، بلوچستان گرینڈ الائنس کے رہنما اسماعیل کاسی اور این ڈی ایم کے عنایت شاہ شامل تھے۔

حکومتِ بلوچستان کی جانب سے مجاز کمیٹی کے اراکین صوبائی وزیرِ خزانہ و معدنیات میر شعیب نوشیروانی، صوبائی وزیرِ تعلیم راحلہ حمید درانی، صوبائی وزیر علی مدد جتک، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید اقبال شاہ وزیراعلیٰ کے پرسنل سیکرٹری عمران زرکون اور سپیشل سیکریٹری فنانس عارف خان اچکزئی نے ملاقات میں شرکت کی۔

ملاقات میں طے پایا کہ بلوچستان کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے گرینڈ الائنس کے تمام اسیر ملازمین کو رہا کیا جائے گا، جبکہ 12 فروری کو آل پارٹیز کی اعلیٰ قیادت اور گرینڈ الائنس کی حکومتی کمیٹی کے ساتھ اجلاس ہوگا، جس میں التوا شدہ تمام مسائل کے حل کے لیے ایک متفقہ طریقۂ کار طے کیا جائے گا۔ خیرسگالی کے طور پر ملازمین کے احتجاج کو فی الحال ختم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا
Quetta Voice
Olas News Quetta
SAMAA News Killa Abdullah
Peer Muhammad Khan Kakar
Jamal Tarakai
Balochistan Updates
Nawab Ayaz Khan Jogezai - Cheif of Pashtoon

02/02/2026

بلوچستان میں ملازمین کے جائز حقوق پامال کرنے، انھیں روڈوں پر گھسیٹنے اور جیلوں میں پابند سلاسل اسیران کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرنے پر Human Rights Commission of Pakistan کی نشان دہی پر Public Service International نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو مراسلہ لکھ دیا۔
اتنی رسوائی۔۔۔۔۔۔۔
Al Jazeera Channel - قناة الجزيرة
Olas News Quetta
Nawab Ayaz Khan Jogezai - Cheif of Pashtoon
Peer Muhammad Khan Kakar
Jamal Tarakai
Quetta Voice
Balochistan Updates

27/01/2026

بلوچستان: ڈی ار اے، مالی بحران اور حکومتی مافیا کا کردار
تحریر احمد خان کاکڑ

گزشتہ چند دنوں سے سرفراز بگٹی اور ACS Home حمزہ شفقت یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ نان ڈویلپمنٹ بجٹ کا 80 فیصد حصہ صرف تنخواہوں پر خرچ ہوتا ہے۔ڈیٹا جمع کرنے کے بعد میں نے ضروری سمجھا کہ ان کو زرا اکیڈمک انداز میں جواب دو
حقیقت یہ ہے کہ نان ڈویلپمنٹ بجٹ میں صرف تنخواہیں شامل نہیں ہوتیں بلکہ قرضوں کی ادائیگی، سبسڈیز، سرکاری پروٹوکول، سیاسی مشیروں کے اخراجات، لگژری گاڑیاں، بیوروکریسی کی فضول خرچیاں، اعلیٰ افسران اور اسمبلی ممبران کے بیرون ملک دورے، سرکاری دفاتر کے روزمرہ اشیاء خوردونوش اور عمارتوں کی تزئین و آرائش بھی شامل ہیں۔ ان حقائق کو نظر انداز کر کے صرف مخصوص طبقے کے ملازمین کو مالی بحران کا زمہ دار ٹھہرانا نہایت گمراہ کن بیانیہ ہے۔
سول سیکریٹریٹ، اسمبلی سیکریٹریٹ، کورٹس، وزیراعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس میں سیاسی بنیادوں پر بھرتی شدہ افراد کو لاکھوں روپے تنخواہیں دی جا رہی ہیں، اکثر ملازمین نہ صرف پیشہ ورانہ اہلیت سے محروم ہے بلکہ ایڈمنسٹریشن کے بنیادی اصولوں سے بھی ناواقف ہیں۔ ان ملازمین کو تنخواہوں کے علاوہ بھی بونس کی شکل میں نوازا جاتا ہے۔ چونکہ ان اداروں کی نمائندہ تنظیمیں بھی اس مافیا کا حصہ ہیں، اس لیے اخراجات میں کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
حقیقت یہ ہے کہ حکمران طبقہ سے کوئٹہ ڈویلپمنٹ پروجیکٹ مکمل نہیں ہو پا رہا ہے، کروڑوں روپے کی کرپشن ہو چکی ہے، حکومتی ملی بھگت سے پرائیوٹ ہاؤسنگ سوسائیٹیز کی ایک بھرمار لگی ہوئ ہے۔ دارالحکومت میں پینے کاصاف پانی تک دستیاب نہیں، پورے صوبے میں معاشی گروتھ بڑھانے کے لیے ان کے پاس کوئ ایجنڈا نہیں لیکن سارا توجہ ٹیکسز اور تنخواہوں کی کٹوتی پر مرکوز ہے۔
ڈاکٹر قیصر بنگالی کے اعداد و شمار کے مطابق 1955 سے 2014 تک وفاق نے بلوچستان کے گیس کی مد میں باقی صوبوں کو تقریباً 7 ارب روپے کی سبسڈی دی، جبکہ BISP میں بلوچستان کو صرف 3.7 فیصد حصہ ملا، جو اس کی آبادی سے بھی کم ہے۔
سرفراز بگٹی کو صوبے کے معاشی بحران کا ادراک اس وقت کیوں نہیں ہوا جب اس نے حکومت میں آنے کے فوراً بعد PPL کے ساتھ ناانصافی پر مبنی وہ معائدہ دستخط کیا جس کی رو سے حکومت بلوچستان نے گیس پر اپنا فکسڈ منافع وفاقی حکومت کو سرنڈر کیا۔ موجودہ 2025-26 مالیاتی سال کا بجٹ 40 ارب روپے کا سرپلس بجٹ ہے لیکن ملازمین کے لیے 17 ارب روپے ان کے پاس نہیں ہے۔ تنخواہیں بڑھانا کوئ احسان نہیں ہے بلکہ ریاست پر فرض ہے کہ پر شہری کو روٹی کپڑا اور مکان فراہم کریں۔
ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے تیس سال پہلے نشاندہی کی تھی کہ بدترین انتظامی امور کے پیچھے military-bureaucratic oligarchy کا کردار ہے، جو سیاست دانوں، میڈیا مالکان، کاروباری مافیا اور دیگر گروہوں کے ساتھ مل کر ایک منظم مافیا کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
اسی پس منظر میں ڈاکٹر الہان نیاز کے مطابق بدترین طرزِ حکمرانی نے عوام میں apathy، self-interest اور fatalism کو جنم دیا ہے، جس کے نتیجے میں لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے اسے روکا نہیں جا سکتا اور اسے تقدیر کے طور پر قبول کر لیا گیا ہے، یوں اجتماعی مزاحمت کمزور پڑ گئی ہے۔ایلیٹ کلاس میں شامل ہر گروہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر غریبوں کا استحصال کرتا ہے اور جب بھی Gen Z جیسی شکل میں تبدیلی کی کوئ امید پیدا ہوتی ہے تو یہ مافیا مل کر اسے کسی نہ کسی طریقے سے کچل دیتے ہیں
اگر واقعی مسئلہ تنخواہیں ہوتیں تو سرکاری پروٹوکول، سیاسی بھرتیوں اور غیر ضروری سیکورٹی و مراعات پر کٹوتی کیوں نہیں کی جاتی؟ اڈیٹر جنرل نے پچھلے سال بلوچستان میں 70 ارب سے زائد کی مالی بے ضابطگی رپورٹ کی۔
حقیقت یہ ہے کہ حکومت اپنی نااہلی، ناقص مالی نظم و نسق اور کمزور ریونیو کلیکشن کا بوجھ ملازمین پر ڈال رہی ہے۔ مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے مگر ملازمین کو یہ کہہ کر خاموش کروایا جا رہا ہے کہ بجٹ اجازت نہیں دیتا حالانکہ اصل مسئلہ بجٹ نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے۔ مکمل برابری کی بنیاد پر اگر تنخواہ دینا مشکل ہے تو اس کا آسان حل یہ ہے کہ ہر ملازم کو اس کے کردار اور مشقت کے مطابق تنخواہ ادا کی جائے یوں سیکریٹریٹ اور اٹیچڈ ڈیپارٹمنٹس میں تعینات کلاس فور ملازمین کی تنخواہوں میں بھی کوئی فرق نہیں ہوگا۔
ان نا اہلوں کو پولیٹیکل اکانومی کی بنیادی ستون کا پتہ ہی نہیں۔ مالی بحران کا خاتمہ صرف پروڈکٹیو گروتھ سے ممکن ہے لیکن یہ مافیا غریب ملازمین کے تنخواہوں پر کٹ لگانے کو ہی مسئلے کا حل سمجھتے ہیں۔ جو کہ صرف ایک خواب ہے۔ حکومت کا کردار یہ بن چکا ہے کہ وہ پرائیویٹ کمپنیوں کو منافع کمانے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے، مگر اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات دینے میں ناکام ہے۔
اگر واقعی معاشی بحران پر قابو پانا مقصود ہے تو صوبے بھر میں human development پر سرمایہ کاری، صنعتی توسیع اور value addition پر توجہ دیں۔جس سے معاشی نمو اور ٹیکس ریونیو میں اضافہ ممکن ہے۔ مگر یہ اقدامات اس لیے نظر نہیں آتے کیونکہ مافیا کی ترجیحات عوامی فلاح کے بجائے Mechavillian governance
پر مرکوز ہے کہ ہر مسئلے کا حل صرف طاقت کا استعمال ہے۔

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Quetta?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Quetta Karachi
Quetta