Sarfraz bugti media cell
وطن سے محبت ایمان کا جز ہے ♥️🇵🇰
ماضی کا بلوچستان دور دراز علاقے، فاصلے اور محرومی کے قصے۔
آج کا بلوچستان انہی دور دراز علاقوں کے مریضوں کے لیے آسمان تک راستہ پیپلز ایئر ایمبولینس۔
فرق صرف وقت کا نہیں، ریاستی ترجیحات کے بدلتے ہوئے چہرے کا ہے
کل بلوچستان سہولت کے انتظار میں تھا، آج سہولت بلوچستان کے دروازے تک پہنچنے کے لیے پرواز کر رہی ہے۔
مقبولیت ہمیشہ حق کی دلیل نہیں ہوتی۔
مکہ میں بھی ایک وقت تھا جب رسول اللہ ﷺ کا پیغام اکثریت کے مقبول بیانیے کے سامنے تنہا تھا جبکہ ابوجہل کا اثر و رسوخ معاشرے میں کہیں زیادہ نمایاں تھا۔ مگر تاریخ نے فیصلہ شور، ہجوم اور مقبولیت سے نہیں کردار صداقت اور انجام سے کیا۔
بلوچستان کی تاریخ کو بھی صرف یہ دیکھ کر نہیں پڑھا جا سکتا کہ کس کا بیانیہ کبھی بلند یا مقبول تھا؛ اسے یہ دیکھ کر پڑھنا ہوگا کہ ان راستوں نے بلوچستان کو آخر دیا کیا مزید خون خوف اور تباہی یا تعلیم، سڑک، روزگار، تجارت اور تعمیر کا راستہ؟
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں مقبول انقلابی نعروں اور حقیقی کردار کے درمیان خلا ظاہر ہوتا ہے جب دعویٰ عوام کے حق کا ہو، مگر راستہ عوام ہی کے خون سے گزرے۔
بندوق کے بعد...
بلوچستان نے بہت کچھ دیکھا ہے خوف، خون، محرومی اور بدامنی..
مگر تاریخ ہمیشہ ایک سوال ضرور پوچھتی ہے
آخر ایک دن بندوق کے شور کو امن کی آواز میں کون بدلے گا؟
آج جواب دینے کا عزم سامنے ہے..
ہم میں Capacity بھی ہے Capability بھی…
یہ اُس بلوچستان کا خواب ہے جہاں آنے والی نسلیں ماضی کے دھماکوں کو کتابوں میں پڑھیں گی، اپنی زندگی میں نہیں جئیں گی۔
جب سرفراز بگٹی پہلی بار صوبائی وزیرِ داخلہ بنے تو ان کا بیانیہ بالکل واضح تھا دہشت گردی، دہشت گردی ہے—اس کے نام، نعرے یا جواز بدلنے سے حقیقت نہیں بدلتی۔
آج تیرہ برس بعد وہی سرفراز بگٹی وزیرِاعلیٰ کی حیثیت سے بھی اسی مؤقف پر غیرمتزلزل کھڑے ہیں۔ ٹی ٹی پی مذہب کے نام پر تشدد کرے تو دہشت گرد ہے، اور کوئی دوسرا گروہ قوم پرستی، محرومی یا ناراضی کے نام پر بے گناہوں کا خون بہائے تو وہ بھی دہشت گرد ہے۔
نام بدلنے سے خون کا رنگ نہیں بدلتا، اور دہشت گردی کو کسی جواز کا لبادہ نہیں پہنایا جا سکتا۔
ایک تصویر، دو ادوار اور بلوچستان کی ایک تلخ تاریخ۔
ایک طرف وہ پرانا لہجہ، جس میں محرومی کو بھڑکایا گیا، نوجوانوں کے جذبات کو ہوا دی گئی اور بندوق کو راستہ دکھایا گیا۔
دوسری طرف آج وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی..
آپ محبت سے پیش آئیں گے تو ہم سو گنا محبت سے جواب دیں گے، لیکن نفرت اور سرداری کے لہجے میں بات ہوگی تو ہم بھی جواب دینا جانتے ہیں
جو تحریکیں ماں بہنوں کو اپنے سیاسی و شاطرانہ مفادات کے لیے سڑکوں اور محاذوں پر قربانی کا مہرہ بنا دیں، کیا وہ قوم کی محافظ ہیں یا اس کی روایات کی قاتل؟
بلوچستان کی ہزار سالہ تاریخ غیرت، تحفظ اور روایات سے عبارت ہے۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا یہ جملہ محض ایک بیان نہیں بلکہ تاریخ کا آئینہ ہے..
ہم بلوچوں کو اپنی غیرت اور روایت یاد رکھنی چاہیے، ہماری خواتین نے کبھی جنگ نہیں لڑی..
حقیقی سرفرازی، طاقت کے تکبر میں نہیں بلکہ اپنے اساتذہ اور علمی قدروں کے احترام میں پوشیدہ ہوتی ہے
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا یہ عاجزانہ طرزِ عمل ثابت کرتا ہے کہ جو قیادت اپنی روایات، ادب اور اخلاقیات سے جڑی ہوتی ہے، وہی ریاست اور قوم کی درست سمت میں رہنمائی کر سکتی ہے۔
14/09/2026
*وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا اظہارِ تعزیت*
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ڈی جی پی ڈی ایم اے بلوچستان جہانزیب خان غوری زئی کے والد، سابق سیکریٹری سی اینڈ ڈبلیو محمد اعظم خان پٹھان کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے سوگوار خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کے لیے مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا کی۔
Click here to claim your Sponsored Listing.