She Beauty Cosmetics

She Beauty Cosmetics

Share

Boost hair growth with Royal Hair Oils! Natural, effective, and Safe.

09/11/2024

Join the Royal Hair Oil Distribution Network!

Earn Quickly with Us!

Why Partner:

- Natural hair care oils
- Up to 50% less hair fall in 15 days
- 99% customer satisfaction
- Competitive profit margins

Ideal for:

- Nutritionists
- Beauticians
- Entrepreneurs
- Salon Owners
- Wellness Experts

Benefits:

- Flexible schedule
- High income, low investment
- Exclusive territory rights
- Full training & support
- Scalable business model

Limited Time Offer!

Message now to secure your spot!

09/11/2024

Join the Royal Hair Oil Distribution Network!

Are you a motivated individual looking to start earning quickly? We're expanding our sales network and invite you to join!

Why Partner with Us?

- High-quality, effective hair care oils
- Proven Product: Up to 50% reduction in hair fall in just 15 days & recover hair loss
- Natural Ingredients, suitable for all hair types (male/female)
- 99% Customer Satisfaction Guarantee
- Competitive Pricing & Profit Margins

Ideal Opportunity for:

- Nutritionists
- Beauticians
- Entrepreneurs
- Salon Owners
- Wellness Experts

Benefits of Distribution:

- Flexible Work: Set your own schedule, work from anywhere
- High-Income Potential: Low investment, unlimited growth
- Exclusive Territory Rights: Build your business empire
- Comprehensive Training & Support: Dedicated team guidance
- Repeat Orders & Scalable Business Model

Limited Time Offer! Secure Your Spot Now:

Don't miss this exclusive opportunity! Message now to become a Royal Hair Oil Distributor.

Let's Create a Confident Future Together.

06/11/2024

Get ready to say goodbye to hair loss! Introducing Royal Hair Oils, the natural solution for healthy hair growth. Try now!

06/11/2024

Boost hair growth with Royal Hair Oils! Natural, effective, and Safe.

10/09/2022

کامیاب حمل کیسے ٹھرتا ہے ؟
ناکامی کی وجوہات کیا ہیں ؟

اگر حمل ٹھہرنے میں مسلسل ناکامی ہورہی ہے تو یقیناٌ کوئی ایسامسئلہ ہوگا جس تک آپ پہنچ نہیں پا رہے تو یہ آرٹیکل آپ کے لئے ہی ہے۔ کس طرح حمل ٹہرایا جایا اگر آپ کو یہ چند بنیادی باتیں پتا ہونگی تو پریگننسی کی بہت زیادہ امید ہوگی۔

عورت کی ماہانہ پیریڈ سائیکل

حاملہ ہونے کے لیے اپنی ماہانہ سائیکل کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔ اس کا آغاز بلیڈنگ کے پہلے دن سے ہوتا ہے۔ آپ کا جسم ہارمونز خارج کرتاجو اووری میں ایگز کی نشوونما کرتے ہیں۔ دوسرے سے 14 ویں دن کے درمیان یہ ہارمونز یوٹرس کی لائننگ کو موٹا کر کے فرٹیلائز ایگ کے لیے تیار کرتے ہیں ۔ یہ فولیکیولر اسٹیج کہلاتی ہے۔

اوویولیشن میں کیا ہوتا ہے:
ایک ماہورایسے دوسری ماہواری کا درمیانی وقفہ 28 سے35 دن تک ہوتا ہے۔ اس میں 11 ویں دن سے 21ویں دن کے دوران اوویولیشن ہوتی ہے جس میں ہارمونز سب سے تیار ایگ کو خارج کرنے میں مدد دیتے ہیں ساتھ ہی رحم میں موجود لعاب زیادہ لیس دار ہوجاتا ہے تاکہ اسپرم ایگ تک بہ آسانی جاسکے۔

صحیح وقت کا خیال رکھیں:

ایک عورت میں1 سے2ملین ایگز ہوتے ہیں جن میں سے وہ اپنی پوری زندگی میں 300سے 400خارج کرتی ہے۔ یعنی عام طور پر ہر ماہ میں ایک دفعہ یہ ایگ اووری سے فیلوپین ٹیوب کے ذریعے یوٹرس میں جاتا ہے۔ اگر صحیح وقت ہو تو اسپرم یوٹرس میں داخل ہوتے ہو ایگ کے ساتھ مل جائے گا۔ اگر ایگ کے اووری سے نکلنے کے بعد میں فرٹیلائزیشن کا عمل نہ ہو تو یہ ایگ ختم ہوجاتا ہے جبکہ اسپرم 3سے 5دن تک رہ سکتا ہے۔ اس لیے اگر آپ کو اپنی اوویولیشن کا وقت پتہ ہو تو ان دنوں میں فرٹیلایزیشن کا عمل آپ اور آپ کے ساتھی کے لیے مفید ثابت ہوگا۔

فرٹیلایزیشن کے لیے سب سے خاص دن:

حمل ٹہرنے کاسب سے زیادہ امکان اوویولیشن سے 1سے 2دن پہلے ہوتا ہے اگر آپ کو ہمیشہ 28 دن بعد ہی ماہواری آتی ہے تو اپنی اگلی ماہواری سے14دن پہلے گن کر حساب لگائیں پھر ان دنوں میں ہر ایک دن چھوڑ کر مباشرت کا پلان بنائیں یاد رکھیں روزانہ مباشرت سے مرد کے اسپرم کی تعداد میں کمی ہوسکتی ہے۔

اوویولیشن کا جسم کے درجہ حرارت سے اندازہ لگائیں:

جسم میں ایگ خارج ہونے کے بعد ہارمونز یوٹرس کی لائننگ بنانا شروع کردیتے ہیں ۔ اس سے آپ کے جسم کا درجہ حرارت تھوڑا بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے صبح بستر سے اٹھنے سے پہلے تھرمامیٹر سے اپنا درجہ حرارت چیک کریں اس طرح آپ کو جسم میں اوویولیشن ہوجانے کا اندازہ ہوجائے گا۔

ماہانہ سائیکل کا آخری حصہ:

ماہانہ سائیکل کے آخری حصے میں پروگیسٹرون ہارمونز فرٹیلائزڈ ایگ کے لیے یوٹرس کو تیار کرتے ہیں۔ اگر ایگ فرٹیلایزڈ نہ ہو تو یہ ٹوٹ جاتا ہے۔ پروگیسٹرون لیول گر جاتا ہے اور 14سے 16دن بعد یہ ایگ خون اور یوٹرس کی لائننگ کے ٹشوز کے ساتھ خارج ہوجاتا ہے۔ ماہواری کا یہ عمل 3سے 7دن تک ہوتا ہے۔

موٹاپا حاملہ ہونے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتا ہے:

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ اگر کسی خاتون کا وزن نارمل سے زیادہ ہے تو ایسی خواتین کو حاملہ ہونے کے لیے دگنا عرصہ درکارہوتا ہے لیکن وزن میں 5فیصد سے 10فیصد کمی اوویولیشن میں اضافہ کرتا ہے۔ مردوں میں بھی موٹاپا بانجھ پن کا باعث بنتا ہے۔ اسی طرح وزن بہت زیادہ کم ہونا بھی بانجھ پن کی وجہ بن سکتا ہے۔

عمر کے اثرات:

عمر بڑھنے کے ساتھ خاص طور پر 35سال کی عمر کے بعد حمل ٹہرنے کے امکانات کم ہوتے جاتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر آپ کی عمر 35سال سے کم ہے اور آپ حاملہ ہونے کے لیے 12ماہ سے کوشش کر رہی ہیں یا آپ کی عمر 35سال سے زیادہ ہے اور آپ حاملہ ہونے کے لیے 6ماہ سے زیادہ عرصے سے کوشش کر رہی ہیں اور کامیاب نہیں ہورہی ہیں تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

مردوں کی صلاحیت کو کیسے بڑھایا جائے:

ذہنی دبائو پر قابو پایا جائے
۔الکوحل یا تمباکو نوشی سے گریز کریں
۔ ایسی غذا کھائیں جس میں زنک وافر مقدار میں ہو جیسے گوشت ، ثابت اناج،سی فوڈاور انڈ ے وغیرہ اس کے علاوہ(گوشت، سی فوڈ ، اور وٹامن ای خوراک استعمال کریں سخت کی بجائے ڈھیلا انڈروئیر پہنیں اس طرح اسپرمز کی تعداد میں کمی ہوسکتی ہے۔

01/05/2022

بڑی برکت والا ہے تیرے رب جلیل و کریم کا نام، جہاں انسانی عقل اور میڈیکل سائنس فیل ہوجائے تو ایسے لا علاج مریضوں کا علاج سورۃ " الرحمٰن " سے ممکن ہے

جن مریضوں کو ڈاکٹرز نے یہ کہ دیا تھا کہ اس بیماری کا کوئی علاج نہیں تو ایسے ہزاروں مریض سورۃ " الرحمٰن " سننے کا عمل کر کے صحت یاب ہو چکے ہیں سورۃ " الرحمٰن " سننے کے عمل سے شفا پانے والے مریضوں کی سکسیس سٹوریز کی بے شمار ویڈیوز یوٹیوب پر موجود ہیں۔
پاکستان میں سورۃ " الرحمٰن " کے اس عمل کو بابا سید مخدوم صفدر بخاری صاحب نے متعارف کروایا اورجب ایک " ایم بی بی ایس " ڈاکٹر محمد جاوید احمد کو سورۃ " الرحمٰن " سننے سے ایڈز کے مرض سے نجات مل گئی تو اس کے بعد ڈاکٹر محمد جاوید صاحب نے سورۃ " الرحمٰن " سننے کے اس عمل سے بے شمار لا علاج مریضوں کا علاج کیا
قاری عبدالباسط عبدالصمد کی آواز میں سورۃ " الرحمٰن " سننے والے مریضوں میں شفا یابی کے حیرت انگیز نتائج دیکھنے کے بعد اب دنیا بھر کے بڑے بڑے ہسپتالوں میں مریضوں کو روزانہ تین اوقات میں قاری عبدالباسط عبدالصمد کی آواز میں سورۃ " الرحمٰن " کی تلاوت سنائی جاتی ہے۔
پمز ہسپتال اسلام آباد کی ماہر امراض قلب ڈاکٹر ماہ رخ ظہور ، ڈاکٹر صبا اور ڈاکٹر نصرت بھی سورۃ " الرحمٰن " سے علاج کر رہی ہیں مریضوں کو دن میں تین بار سورۃ " الرحمٰن " کی تلاوت سنائی جاتی ہے۔ سورۃ " الرحمٰن " سننے کے نتیجہ میں ایسی الفا شعاعیں پیدا ہوتی ہیں جس سے مریض کے دل اور روح کو سکون ملتا ہے جس کا براہ راست اثر انسانی جسم پر پڑتا ہے۔ اسی بنا پر پاکستان میں سروسز ہسپتال لاہور، جناح ہسپتال لاہور،اتفاق ہسپتال لاہور، نوری ہسپتال راولپنڈی، ایم آئی ہسپتال پشاور وغیرہ میں مریضوں کو سورۃ " الرحمٰن " کی تلاوت سنائی جاتی ہے۔
سورۃ " الرحمٰن "سننے کا یہ عمل کرنے کے لئے آپ کو کسی حضرت صاحب سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں، نہ کسی دربار پر حاضری کی شرط ہے، نہ ہی آپ سے کوئی نذرانہ طلب کرتا ہے۔
آپ دم درود کو مانتے ہیں یا نہیں مانتے، آپ مسلم ہیں یا غیر مسلم یا آپ ایک ملحد ہیں اور خدا کی ذات کے بھی انکاری ہیں لیکن کمال یہ ہے کہ جس نے بھی سورۃ " الرحمٰن " سے علاج کا طریقہ اختیار کیا اللہ پاک نے اسے شفا دے دی، بڑی برکت والا ہے میرے رب جلیل و کریم کا نام
یہ ضروری نہیں ہے کہ سورۃ " الرحمٰن " کا عمل صرف لا علاج مریضوں کے لئے مختص ہے وہ لوگ جو ذہنی، نفسیاتی و دیگر جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ڈاکٹروں کی فیسیں ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ بھی اس طریقہ علاج سے شفا حاصل کر سکتے ہیں۔
یہاں میں آپ کے ساتھ " ایم بی بی ایس " ڈاکٹر محمد جاوید احمد صاحب کی مختصر سٹوری بھی شیئر کر دیتا ہوں
الیٹ کلاس سے تعلق رکھنے والی ایڈز کی ایک مریضہ کے علاج کے دوران مریضہ کی مزاحمت کی وجہ سے ایڈز زدہ خون کی سرنج ڈاکٹر محمد جاوید احمد صاحب کے ہاتھ میں پیوست ہو جاتی ہے اور ڈاکٹر صاحب ایڈز کے مریض بن جاتے ہیں۔ میڈیکل ٹیسٹ کروانے سے بھی تصدیق ہو جاتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب ایڈز کے مرض میں مبتلا ہو گئے ہیں۔
ایڈز کے مرض میں مبتلا ہونے کے ڈھائی سال کے بعد جب ڈاکٹر محمد جاوید احمد صاحب کو ان کی ایک کولیگ نے سورۃ " الرحمٰن " کی تلاوت سننے سے ایڈز کے علاج کا مشورہ دیا تو انہوں نے اسے مزاق سمجھا اوران کا دل یہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک لا علاج مرض اور وہ بھی صرف سورۃ " الرحمٰن " کی تلاوت سننے سے ٹھیک ہوجائے گا۔ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق جب انہوں نے یہ عمل کیا تو اللہ پاک نے انہیں شفا دے دی۔
اسی طرح ڈاکٹر فواد بخاری جو خود بھی اس طریقہ علاج سے شفا یاب ہوئے ان کے بقول اس علاج کی روح یہ ہے کہ انسان دوسروں کی غلطیوں اور زیادتیوں پر توجہ نہ رکھے۔ انہیں معاف کر کے مثبت ہو جائے۔ پھر اللہ سے محبت کے ساتھ آگے بڑھے، اور پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ کی پکار کو سنے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ سب کچھ کر سکتا ہے۔
اب پروفیسر ڈاکٹر طارق کی سربراہی میں لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں سورۃ رحمٰن کے انسانی جینز اور بیماری کے ختم ہونے سے متعلق اثرات کا جائزہ لینے کے لئے تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔ لمز لاہور کے سینکڑوں طلبہ اور اساتذہ اس طریقہ علاج سے استفادہ کرچکے ہیں جبکہ بھارت کے کئی پروفیسر اور سائنسدان بھی اپنا علاج کرچکے ہیں۔ سورۃ " الرحمٰن " سے علاج کے حیرے انگیز نتائج کی بنا پر اب تو غیر مسلم بھی اس طریقہ علاج کو اختیار کر کے شفا حاصل کر رہے ہیں۔
اگرآپ کا قرآن کے ساتھ تعلق مضبوط ہے تو یہ فلسفہ آپ کو آسانی سے ہضم ہو جائے گا اور اگر آپ کا تعلق مضبوط نہیں تو علاج کے لئے جہاں اتنے دھکے کھائے ہیں وہاں اس عمل کو کرنے میں کیا حرج ہے۔ ضد اور بحث کو چھوڑیں ۔۔۔۔۔ سکون سے یہ عمل کریں اور بیماری سے اپنی جان چھڑائیں
سورۃ " الرحمٰن " سے علاج کرنے کا طریقہ
مصری قاری عبدالباسط عبدالصمد کی آواز میں، سورة " الرحمٰن " کی تلاوت بغیر ترجمہ کے روزانہ صبح، دوپہر، شام سننی ہے
مکمل توجہ اور یکسوئی کے ساتھ آنکھیں بند کر کے، اللہ کے روبرو حاضر ہونے کا تصور کر کے، ہر مرتبہ تلاوت سننے کے بعد دل کی گہرائیوں سے تین مرتبہ اللہ کہہ کر آدھا گلاس پانی تین سانسوں میں پی لینا ہے۔ یہ عمل مسلسل سات دن کرنا ہے۔ ان شاءاللہ خلوص دل سے یہ عمل کرنے سے بیماری، نحوست اور بدبختی سب بھاگ جائے گی۔ آپ ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ " اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی شفا نازل نہ کی ہو"۔ صحیح بخاری : 5678
سورۃ " الرحمٰن " سے علاج کی صرف ایک شرط ہے سچے دل سے سب کو معاف کر کے، دل کو نفرت اور انتقام کی آگ سے پاک کرکے یہ عمل کریں گے تو انشاءاللہ آپ کو بھی شفا ملے گی۔
مجھے امید ہے کہ میں اپنے پروردگار کو پکار کر محروم نہ رہوں گا۔ ترجمہ: سورۃ "مریم" آیت نمبر 48
اگر آپ کا کوئی عزیز کسی لا علاج مرض میں مبتلا ہے تو اسے سورۃ " الرحمٰن " سننے کے اس عمل سے ضرور آگاہ کیجئے۔

21/09/2020

ناتجربہ کار ڈاکٹر خواتین میں فسٹیولا کا مرض پھیلانے کی وجہ کیسے بنتے ہیں؟

45 سالہ وزیراں کو حال ہی میں چار سال کی اذیت سے بھرپور زندگی سے بالآخر اس وقت چھٹکارہ ملا جب ان کا فسٹیولا کا کامیاب آپریشن کیا گیا ہے۔ اس فسٹیولا کی وجہ نو عمری کی شادی تھی اور نہ ہی غیر تربیت یافتہ دائی یا سٹاف، بلکہ ایک سرکاری ہسپتال میں زچگی کے دوران وہ اس مرض کا شکار ہوگئیں۔

وزیراں کا تعلق سندھ کے ضلع سجاول کے پسماندہ علاقے جھوک سے ہے۔ بقول ان کے حیدرآباد میں سرکاری ہسپتال میں آپریشن کے ذریعے بیٹے کی پیدائش ہوئی، اس وقت یہ مرض لگ گیا۔ انھیں کچھ بتایا نہیں گیا صرف کہا کہ نسیں اوپر نیچے ہوگئی ہیں لیکن اس کا علاج نہیں کیا صرف نلکیاں نیچے اوپر لگائیں، اس سے اوپر سے پیشاب آرہا تھا اور زخم پڑ گئے۔

’ہم گاؤں لوٹ گئے۔ میرا شوہر غریب کسان ہے علاج کی طاقت نہیں تھی، اس مرض کی وجہ سے کپڑے وغیرہ سارے گیلے ہوجاتے تھے اور انھیں بار بار تبدیل کرنا پڑتا تھا۔ کسی نے کوہی گوٹھ ہسپتال کراچی کا بتایا، یہاں آپریشن کیا گیا اور اب میں ٹھیک ہوں۔‘

ماہرین کے مطابق دورانِ زچگی بچے کی پیدائش میں تاخیر کے دوران پیشاب اور پاخانے کی نالیوں پر دباؤ آتا ہے جس سے دونوں یا ایک میں سوراخ ہوجاتا ہے جس کو فسٹیولا کہا جاتا ہے۔

نو عمری کی شادیوں اور زچگی کے دوران غیر تربیت یافتہ عملے کو فسٹیولا کی ایک بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے۔

آئیٹروجینک فسٹیولا

اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے مطابق پاکستان میں صرف 52 فیصد خواتین کو زچگی کے دوران تربیت یافتہ عملے تک رسائی ملتی ہے لیکن کبھی کبھار تربیت یافتہ ڈاکٹر اور سٹاف بھی غلطی کر دیتا ہے جس سے آئیٹروجینک فسٹیولا ہوجاتا ہے۔

فلاحی ادارے کوہی گوٹھ ہسپتال کے صدر ڈاکٹر ٹیپو سلطان کا کہنا ہے کہ آئیٹروجینک فسٹیولا یہ ہوتا جب بڑے بڑے سرجن سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں مختلف مسائل کے لیے پیٹ کا آپریشن کرتے ہیں۔ زچگی کے آپریشن کے لیے بھی یا عورتوں کے امراض کے دوسرے سلسلے میں، ان آپریشنز کے دوران غلطی سے یا ناتجربے کاری کی وجہ سے وہ بھی فسٹیولا بنادیتے ہیں۔

’وہ جو اصل آپریشن تھا وہ ہوگیا، لیکن مریض جب اچھا ہوگیا تو پتہ لگا ایک سوراخ ہے جس سے پیشاب گر رہا ہے۔‘

ڈاکٹر فوزیہ چانڈیو شہید بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ میں یورولوجسٹ ہیں اور وہاں فسٹیولا شعبے کی انچارج بھی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس تقریباً 40 فیصد آئیٹروجینک فسٹیولا کی مریض آرہی ہیں، ان میں زیادہ تر جو کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں وہ سی سیکشن کے ہیں جس میں پیٹ کے چیرا کے ذریعے بچے کی پیدائش ہوتی ہے، جو طبی تعلیم یافتہ لوگ کر رہے ہیں۔

بقول ان کے اس وقت زچگی میں سی سیکشن کی شرح 60 سے 70 فیصد ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے 22 فیصد کی سفارش ہے۔

نو عمری کی شادی اور فیسٹولا

کوہی گوٹھ ہسپتال کے بانی ڈاکٹر شیر شاہ سید کا شمار فسٹیولا کے ابتدائی ماہرین میں ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کی نو عمری میں شادی ہوجاتی ہے یعنی 11 سے 12 سال کے قریب، اس وقت ان کا جسم ابھی بچے کی تولید کے لیے تیار نہیں ہوتا اور جب زچگی کا عمل شروع ہوتا ہے تو بچہ پھنس جاتا ہے۔

’گاؤں دیہات میں یہ بچیاں چار چار دن تک دردِ زہ میں مبتلا رہتی ہیں۔ بچہ مر جاتا ہے اور اس دوران بچے کا سر پیشاب اور پاخانے کی تھیلی پر دباؤ ڈالتا رہتا ہے، نتیجے میں دونوں تھیلیوں میں یا کسی ایک میں سوراخ ہوجاتا ہے۔ مرجانے کے بعد بچہ تو نکل آتا ہے لیکن جو سوراخ بن جاتا ہے، اس میں سے پیشاب یا پاخانہ یا دونوں مسلسل رستے رہتے ہیں۔‘

اس کے برعکس ڈاکٹر فوزیہ چانڈیو کا کہنا ہے کہ اب اس رجحان میں تبدیلی آرہی ہے۔ پہلے سب سے بڑی وجہ بچے کا پھنس جانا تھی۔ جو روایتی دائیاں یا عملہ ہے ان میں تربیت کا فقدان تھا، جس کے نتیجے میں بچہ پھنس جاتا اور مریض دو دو روز سفر کر کے کسی بڑے یا بہتر ہسپتال پہنچتی تھیں، لیکن اب اس نوعیت کے فسٹیولا کے کیسز بہت کم آرہے ہیں، اور سرجیکل پیچیدگیوں والے فسٹیولا کے مریض زیادہ آرہے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’سی سکیشن جتنا زیادہ بڑھ رہا ہے، اس سے خدشہ ہے کہ صورتحال میں خرابی پیدا ہوگی۔ گلی محلوں میں جو میڈیکل سینٹر کھلے ہوئے ہیں، ان میں جونیئر ڈاکٹر بیٹھے ہیں جن کے پاس تجربے اور مہارت کا فقدان ہے۔ اس کے علاوہ اب صرف وزائیکو وجائنل فسٹیولا نہیں ہے جس سے وجائنا اور مثانے کے درمیان سوراخ ہو جاتا ہے، اب ایسے مریض آرہے کہ بچہ دانی اور مثانے کے درمیان میں سوراخ ہوگیا ہے یا جو گردے سے پیشاب لے کر مثانے میں آنے والی نالیوں کو سرجری کے دوران کٹ لگ جاتا ہے اور فسٹیولا بن جاتا ہے۔‘

کوہی گوٹھ ہسپتال کے صدر ڈاکٹر ٹیپو سلطان کا کہنا ہے کہ زچگی کا جو مرحلہ ہوتا ہے وہ صرف چند گھنٹے چلتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ مرحلہ عام طور پر چار پانچ گھنٹے چلتا ہے مگر بعض اوقات اس سے زیادہ بھی ہوسکتا ہے۔

’نوجوان لڑکی کی پہلی ڈلیوری ہو رہی ہے تو اس میں وقت لگتا ہے۔ اگر سرکاری یا نجی ہستال میں زچگی ہو رہی ہے اور وہاں تربیت یافتہ ڈاکٹر ہے لیکن اس کو تجربہ یا مہارت نہیں ہے تو وہ زچگی کے دوران ماں کو نقصان پہنچاتے ہیں جس سے فیسٹولا بن جاتا ہے۔‘

پاکستان میں فیسٹولا کے کتنی مریض ہیں، اس بارے میں کوئی حتمی اعداد و شمار دستیاب نہیں، تاہم اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں ہر سال 3500 کیسز ہوتے ہیں، ماہرین کے مطابق جو مریض ہسپتالوں تک آتے ہیں، ان کی بنیاد پر ہی اعداد و شمار کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

اس مرض کی شکار خواتین کی عمر 18 سال سے لے کر 70 سال تک ہوتی ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ چانڈیو کا کہنا ہے کہ فسٹیولا کی دیگر بھی وجوہات ہیں جن میں ٹی اے ایچ یعنی جو بچہ دانی نکلتی ہے، اس کے آپریشن کی وجہ سے تقریباً 20 فیصد فسٹیولا کے مریض ہیں، اس کے علاوہ کینسر کے مریض کو جو شعاعیں لگتی ہیں یا دوسری دوائیں دی جاتی ہیں اس سے متاثرہ فسٹیولا کے مریضوں کی تعداد کل مریضوں کا دو فیصد بنتا ہے۔

کیا فسٹیولا کا علاج ممکن ہے؟

کراچی کے کوہی گوٹھ ہسپتال میں گذشتہ 15 سالوں میں فسٹیولا کے 6000 آپریشن کیے گئے ہیں۔ ڈاکٹر ٹیپو سلطان کے مطابق اگر مرض برسہا برس کا ہوتا ہے، تو اس کا تین مرحلوں میں آپریشن ہوتا ہے جس میں چار سے پانچ ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے، لیکن اگر چھوٹا موٹا مسئلہ ہے تو مریضہ دو چار ہفتوں میں صحتمند ہوکر چل جاتی ہے لیکن اس کا ڈرائی ہونا ضروری ہے۔ آپریشن کی کامیابی کے 95 فیصد تک امکانات ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر فوزیہ چانڈیو کے مطابق اگر مرض اپنے ابتدائی دور میں ہے تو اس کا علاج ممکن ہے لیکن مرض سے نجات کی کوئی دوائی نہیں ہے، یہ ایک تکنیکی معاملہ ہے۔ ’یہ عضو کا مسئلہ ہے، اگر کوئی عضو پھٹ جائے تو کسی پھٹی ہوئی چیز کو ادویات کے ساتھ ٹھیک نہیں کرسکتے۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ فسٹیولا کے علاج کے بعد خواتین دوبارہ حاملہ ہوسکتی ہیں، ڈاکٹر ٹیپو سلطان اور ڈاکٹر فوزیہ چانڈیو کا کہنا ہے کہ ان کے سامنے کئی ایسی مثالیں ہیں جن میں خواتین دوبارہ حاملہ ہوئیں اور ان میں صحرائے تھر کی رہائشی 36 سالہ رضیہ بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ دائی کے ذریعے دوسرے بچے کی پیدائش کے بعد وہ پیشاب کی بیماری میں مبتلا ہوئیں اس کے بعد اویئر نامی سماجی تنظیم کے ذریعے کوہی گوٹھ ہسپتال پہنچیں جہاں ان کا کامیاب علاج ہوا اور اس وقت وہ حاملہ ہیں۔

مریض کا سماجی بائیکاٹ

کریماں کی عمر 28 برس ہے وہ دو بچوں کی ماں ہیں۔ پہلے بچے کی پیدائش دائی کے ذریعے ہوئی جس دوران انھیں فسٹیولا کا عارضہ لاحق ہوگیا۔ ان کا کھانا پینا محدود کردیا گیا تھا۔ بقول ان کے، ان کے اہل خانہ اور پڑوسی قریب بھی نہیں بیٹھتے تھے، کہتے تھے کہ بہت بو آتی ہے بالآخر ان کا علاج ہوا، اب بہتر ہیں۔

کوہی گوٹھ ہسپتال میں زیر علاج ثمینہ کا کہنا ہے کہ پہلے تو شوہر کا رویہ ٹھیک تھا لیکن اب تبدیل ہے بلکہ بہت ہی زیادہ تبدیل ہے۔ ’ظاہر ہے بیماری بھی ایسی ہے، بچے بھی نہیں ہیں اور بچہ دانی بھی نکل گئی ہے۔ شوہر کا کبھی دل کرتا ہے تو فون کرلیتا ہے اور اب گھر بھی نہیں آتا۔ اب وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہے۔ مجھ سے کہتا ہے کہ آپ اپنی مرضی سے دوسری شادی کروائیں۔ پھر میں کہاں جاؤں گی؟‘

فسٹیولا کی وجہ سے کئی مریضوں کو رشتوں میں دوری اور ذہنی اذیت کا سامنا بھی کرنا پرتا ہے۔ ڈاکٹر شیر شاہ کی سربراہی میں چند سال قبل فسٹیولا کی مریض خواتین کے نفیساتی تجزیے کی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ شوہر کے ساتھ تعلقات پریشانی کی سب سے اہم وجہ تھی۔ خاندان کے اراکین بشمول شوہر اور بچے ان کے ساتھ وقت گزارنا پسند نہیں کرتے، یہاں تک کہ ان کا بنایا گیا کھانا بھی نہیں کھاتے۔

ڈاکٹر ٹیپو سلطان کے مطابق اس مرض میں مبتلا خواتین زندہ درگور ہوجاتی ہیں، ان کا پیشاب رستا رہتا ہے، شوہر گھر سے نکال دیتا ہے، طلاق ہوجاتی ہے اور وہ بے چاری والدین کے گھر پڑی رہتی ہیں۔

ڈاکٹر فوزیہ چانڈیو کہتی ہیں کہ ’پانچ سال کے بچے کو بھی اجازت نہیں ہوتی کہ وہ یہاں وہاں پیشاب کرتا رہے، جب عورت متاثر ہو یعنی جس کے پیشاب کی بو ہر وقت ہوگی تو کون اس بے چاری کو اپنے قریب رکھتا ہے؟ وہ ہر وقت افسردہ رہتی ہیں۔‘ ان کے مطابق یہ سرجیکل مسئلے سے زیادہ ایک نفسیاتی مسئلہ ہے۔

فسٹیولا کی مہارت پرکشش نہیں؟

پاکستان میں فسٹیولا کے ماہرین کی تعداد اور صحت مراکز انتہائی محدود ہیں۔ کوہی گوٹھ فلاحی ہسپتال پورے ملک میں اس شعبے میں مہارت رکھتا ہے جہاں مریض کو مفت علاج معالجے کے ساتھ تیماردار کو رہائش اور خوراک فراہم کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر ٹیپو سلطان کے مطابق یہ مرض زیادہ تر غریب خواتین کو لگتا ہے اور امیر لوگوں میں ش*ذ و نادر ہوتا ہے، لہٰذا اس میں ڈاکٹروں کے لیے پیسے کی ترغیب نہیں، کیونکہ غریب کے پاس پیسے دینے کے لیے نہیں ہوتے۔

’بہت کم ایسے ڈاکٹر ہیں جو خدمت خلق کے جذبے کے تحت یہ کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں مہارت ہونا ضروری ہے اور آپریشن میں وقت زیادہ لگتا ہے، اس لیے بہت کم ڈاکٹر اس میں دلچپسی لیتے ہیں۔ ہمارے زیادہ تر پروفیسر اور ڈاکٹر ایسے شعبوں میں دلچپسی لیتے ہیں جن میں وہ زیادہ پیسے کمائیں۔‘

ڈاکٹر فوزیہ چانڈیو کا کہنا ہے کہ شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی میں فسٹیولا سینٹر 2006 سے بند تھا، انھوں نے اس کو فعال کیا ہے اور ہر ہفتے چار سرجریاں کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بڑی مشکل سے انھیں چار بستر فراہم کیے گئے ہیں اور انھیں فسٹیولا فاؤنڈیشن مالی مدد فراہم کرتی ہے۔

ان کا خیال ہے کہ لوگوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں کے رویوں میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے۔

’سینئرز بہت ہنستے تھے کہ اس مہارت میں کوئی پیسہ نہیں ہے، لیکن اگر آپ ایک مریض کو اذیت ناک زندگی سے بچاتے ہو تو یہ سب سے بڑی آمدنی ہے۔‘

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

27/08/2020

خواتین کی صحت اور اینڈومیٹریوسز: 'میرے درد کو سب لوگ تماشے کا نام دیتے تھے'

ترہب اصغر

صوبہ پنجاب کے شہر چیچہ وطنی سے تعلق رکھنے والی رما کئی سال قبل پڑھائی کے لیے لاہور آئیں اور اسی دوران انھیں ماہواری شروع ہوئی۔

لیکن ان کی ماہواری باقی خواتین سے خاصی مختلف تھی۔ رما کے مطابق ماہواری کے پہلے تین دن ان کے لیے اذیت ناک ہوتے تھے۔

رما کہتی ہیں کہ ان کے ہاسٹل کی وارڈن اور دیگر عملے کو بھی معلوم ہوتا کہ ایسی صورت حال میں انھیں کون سی دوائی دینی ہے اور کون سا انجکشن لگوانا ہے۔

اپنی تکلیف کا تذکرہ کرتے ہوئے رما نے بتایا کہ ماہواری میں خون کا بہاؤ شروع ہوتے ہی ان کے جسم کے نچلے حصوں اور ٹانگوں میں شدد درد ہوتا تھا اور انھیں ایسا لگتا تھا کہ کوئی خنجر سے جسم کے اندرونی اعضا کاٹ رہا ہے۔

'میرے اردگرد کے تمام لوگ فوراً جان جاتے تھے کہ رما کے ماہواری کے دن شروع ہو گئے ہیں کیونکہ میں درد کی شدت سے چیخیں مار رہی ہوتی تھی اور اپنے آپ کو تکلیف پہنچاتی تھی۔ کئی مرتبہ میں بے ہوش بھی ہو جاتی تھی۔ لوگوں کو لگتا تھا کہ میں تماشہ کر رہی ہوں۔ میرے اردگرد کے لوگ کہتے تھے تم کوئی انوکھی ہو جو اس طرح کے تماشے لگاتی ہو۔'

لیکن ماہرین کے مطابق رما ایسی اکیلی خاتون نہیں ہیں جو ماہواری کے دنوں میں اس قسم کے پریشان کن درد کا شکار ہوتی ہیں۔

ڈاکٹرز کے مطابق اس درد کا سبب کچھ خواتین میں پائی جانے والی مخصوص بیماری کے باعث ہوتا ہے جسے 'اینڈومیٹریوسز' کہتے ہیں۔

اینڈومیٹریوسز کیا ہے؟

اینڈومیٹریوسز خواتین میں پائی جانے والی ایک ایسی بیماری ہے جس میں عورت کی بچہ دانی کے اندر کے ٹشو، جنھیں اینڈومیٹریم کہا جاتا ہے، وہ بچہ دانی سے باہر بن جاتے ہیں۔

اینڈومیٹریم ٹشوز کا یہ بگاڑ ماہواری کے دنوں میں متاثرہ خواتین میں زیادہ تکلیف کا سبب بنتا ہے اور اس بیماری میں مبتلا کئی خواتین میں بانجھ پن کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

اس حوالے سے بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے گائناکالوجسٹ ڈاکٹر شاہینہ آصف کا کہنا تھا کہ ہمارے یہاں اکثر لڑکیاں اس بیماری کا شکار ہوتی ہیں لیکن وہ لاعلم ہوتی ہیں کہ انھیں کیا مسئلہ ہے۔

'عموماً جب لڑکیاں جوان ہوتی ہیں اور ان کی ماہواری شروع ہوتی ہے تو ماؤں یا اردگرد کی خواتین کی جانب سے یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ کوئی بات نہیں، ان دنوں میں درد ہوتا ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں اس بیماری کے بارے میں خواتین میں زیادہ آگاہی نہیں ہے اور وہ ہر لڑکی کے ماہواری کے دنوں کو ایک جیسا ہی سمجھتے ہیں۔'

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ بھی یاد رکھنا اور سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ماہواری میں ہونے والا ہر درد اینڈومیٹریوسز نہیں ہوتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ بیماری کی درست تشخیص کی جائے۔

اس بیماری کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے مزید بتایا کہ جب ہمارے پاس کوئی مریض آتا ہے تو اس میں یہ دیکھنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ اسے کس سٹیج کا اینڈومیٹریوسز ہے۔

اس کی وجہ بتاتے ہوئے ڈاکٹر شاہینہ کا کہنا تھا کہ کیونکہ کچھ خواتین میں اس بیماری کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ٹشوز بچہ دانی کی ٹیوبز اور دیگر حصوں تک پھیل جاتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سی خواتین میں حمل کا عمل بھی مکمل نہیں ہو پاتا۔

'میں نو سال تک ماں نہیں بن پائی'

رما نے اپنی زندگی میں اس بیماری کی وجہ سے آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ شادی سے قبل ماہواری کے دنوں کی تکلیف کو محسوس کرکے لگتا تھا کہ زندگی بہت مشکل ہے۔

'مجھے اپنی جنس سے نفرت ہونے لگی تھی اور میں ہر مہینے ماہواری کی تاریخ آنے سے پہلے سخت ڈپریشن کا شکار ہو جاتی تھی کہ اب وہی سب دوبارہ سے شروع ہو جائے گا۔ میری جوانی کا وقت ایسے ہی گزر گیا۔'

انھوں نے بتایا کہ جب ان کی شادی ہو گئی تو ان کی مشکلات مزید بڑھ گئیں۔

میرے والدين نے میری شادی کردی۔ اس کے بعد چیزیں بدترین ہو گئیں اور میری تکلیف بڑھ گئی۔ مجھے اپنے سسرال والوں کے سامنے بہت شرمندگی محسوس ہوتی تھی جب ہر ماہ میرا شوہر مجھے ہسپتال لے کر جاتا تھا تو سب کو پتا چل جاتا تھا کہ اب رما کی طبیت خراب ہو گئی ہے۔ شادی کو سال گزرا تو سب نے کہنا شروع کر دیا کہ 'خوش خبری کب سناؤ گی۔'

رما کہتی ہیں کہ انھوں نے اپنے بہت سے الٹرا ساؤنڈ اور ٹیسٹ کروائے لیکن وہ سب نارمل آتے تھے اور ڈاکٹرز کہتے تھے آپ کو وہم ہے اور کوئی بات نہیں ہے۔

انھوں نے بتایا کہ مسلسل ضد کے بعد ڈاکٹروں نے ان کی لیپیکٹومی کی جس کے بعد معلوم ہوا کہ رما کو اینڈومیٹریوسز ہے۔

'میری ڈاکٹرز نے مجھے بتایا کہ میرے اندر اس بیماری کی شدت بہت زیادہ ہے اور ٹشوز کا پھیلاؤ بھی بہت زیادہ ہے۔ جس کی وجہ سے میں ماں بھی نہیں بن پا رہی۔ اس دن مجھے لگا کہ میری دنیا ختم ہو گئی ہے، کیونکہ میں جس ماحول میں پلی بڑھی ہوں اس میں عورت کو صرف ایک مقصد سے ہی دیکھا جاتا ہے کہ اس کی شادی کر دیں اور پھر وہ بچے پیدا کرے۔'

انھوں نے بتایا کہ کئی سال علاج کے باوجود کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

'میں نے بہت سے آپریشن کروائے اور ادویات استعمال کی۔ ان نو سالوں میں میرے چھ بچے ضائع ہوئے جس سے مجھے اور زیادہ ڈپریشن ہونے لگا۔ میرے اردگرد کے لوگ مجھے کہتے تھے کہ اپنے شوہر کی دوسری شادی کروا دو اور کچھ لوگوں کے رویے اتنے تلخ ہوگئے کہ وہ مجھے اپنے بچوں کے نزدیک نہیں آنے دیتے تھے کہ تم اپنا سایہ ہم پر مت ڈالو۔'

پھر بالآخر آئی وی ایف کے عمل کے ذریعے رما کے یہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی۔

آئی وی ایف یعنی ان وٹرو فرٹیلائیزیشن سے متعلق بات کرتے ہوئے گائناکالوجسٹ ڈاکٹر شاہینہ آصف کا کہنا تھا کہ آئی وی ایف ایک ایسا طریقہ کار ہے جس میں ہم عورت کا انڈہ اور مرد کا سپرم لیتے ہیں اور اس کا کراس کروا کر عورت کے اندر ڈال دیتے ہیں۔

یہ عمل اس لیے کیا جاتا ہے کہ کیونکہ اینڈومیٹریوسز میں اضافی ٹشوز بچہ دانی پر چپک جاتے ہیں جس کی وجہ سے بچہ دانی کے اندر کا نظام صحیح سے کام نہیں کر پاتا اور انڈے اور سپرم کا ملاپ نہیں ہوتا ہے۔

ڈاکٹر شاہینہ کا مزيد کہنا تھا کہ ضروری نہیں ہے کہ ایک ہی دفعہ علاج کروانے سے کامیابی ملے۔ اس کے لیے کئی خواتین کو کئی مرحلے پورے کرنے پڑتے ہیں اور اس علاج پر تقریباً چار لاکھ روپے کی لاگت آتی ہے۔

رما کے مطابق یہ علاج بہت تکلیف دہ ہے اور اس علاج کے دوران آپ شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں کیونکہ آپ ہر دفعہ یہی دعا کرتے ہیں کہ انڈے صحت مند بنیں اور علاج جلد از جلد کامیاب ہو جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے کیس میں ڈاکٹرز کی جانب سے یہ کہا گیا کہ جب آپ کا حمل ہو جائے گا تو آپ کا اینڈومیٹریوسز بھی ٹھیک ہو جائے گا اور ایسا ہی ہوا۔

'میرے کامیاب حمل اور بیٹے کی پیدائش کے بعد میری بیماری میں بہت بہتری آئی لیکن ختم نہیں ہوئی۔'

ڈاکٹر شاہینہ کا اس سارے معاملے پر یہ کہنا ہے کہ ہر لڑکی میں اس بیماری کی نوعیت مختلف ہے اور اسے علاج کے ذریعے بہتر کیا جا سکتا ہے جس کے لیے بہت ضروری ہے کہ فوری طور پر اپنی ڈاکٹر کی ماہرانہ رائے لیں اور علاج کروائیں۔

'اس بیماری نے مجھے ایک کامیاب خاتون بنا دیا'

رما کے مطابق انھوں نے اپنی زندگی کے جو سال تکلیف میں گزارے اس سے کم از کم ان کی زندگی میں ایک انتہائی مثبت تبدیلی آئی اور انھوں نے 'بیٹی' کے نام سے ایک پراجیکٹ شروع کیا ہے جس میں وہ خواتین کی مخصوص بیماریوں، ان کے حقوق اور ان کے علاج کے حوالے سے آگاہی دیتی ہیں۔

رما کی خواہش ہے کہ خواتین معاشی طور پرمضبوط بنیں تاکہ وہ کم از کم اپنے معاملات کو با خوبی دیکھ سکیں۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Rawalpindi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address

Bohar Bazar
Rawalpindi