M Afzaal Tabassum
thank you �
جشنِ غدیرِ خُم رافضیوں اور نیم رافضیوں کے فریب کا جواب حصّہ اوّل
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : اٹھارہ (18) ذوالحج کو شیعہ لوگ عید غدیر مناتے ہیں کہتے ہیں کہ اس روز حجۃ الوداع سے واپسی پر “غدیر خم” مقام پے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا ” میں جس کا مولا علی اس کا مولی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان سے شیعہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس فرمان کے ذریعے اپنا خلیفہ بلافصل بنایا ۔ اٹھارہ 18 ذی الحج جو کہ خلیفہ راشد دُہرے دامادِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا یومِ شہادت ہے عین اُس دن رافضی شیعہ اور اب اُن کے نقشِ قدم پر چلنے والے سنیوں کے لبادے میں چھپے نیم رافضی جشنِ غدیر منا کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ؟
عجیب بات ہے کہ حجۃ الوداع جو اس وقت مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع تھا اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خلیفہ کسی کو نہ بنایا اور واپسی پر تھوڑی تعداد کے سامنے غدیرخم پر خلیفے کا اعلان کر دیا ؟
اگر خلافت کا اعلان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کرنا ہوتا تو اس کا صحیح و بہترین موقعہ حجۃ الوداع تھا ۔ غدیرخم مقام پے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک تنازع کا حل فرمایا اور فرمایا کہ علی سے ناگواری مت رکھو ، اس سے محبت کرو ، جس کو میں محبوب ہوں وہ علی سے محبت رکھے ۔
دراصل ہوا یہ تھا کہ مال غنیمت حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تقسیم کیا تھا ، تقسیم پر کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ناگوار گذرا انہوں نے غدیرخم مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شکایت کی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا اے بریدہ کیا تم علی سے (اس تقسیم کی وجہ سے) ناگواری محسوس کرتے ہو…؟ حضرت بریدہ نے فرمایا جی ہاں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا علی سے ناگواری مت رکھ ، جتنا حصہ علی نے لیا ہے حق تو اس سے زیادہ حصہ بنتا ہے ۔ بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کے بعد میری ناگواری ختم ہوگئ ۔ اس تقسیم وغیرہ کی وجہ سے دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وغیرہ کو بھی ناگواری گذری ہو تو ان کی بھی ناگواری ختم ہو اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلان فرمایا : فرمانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے : عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيْ سَرِيْحَةَ . . . أَوْ زَيْدِ بْنِ أرْقَمَ، (شَکَّ شُعْبَةُ). . . عَنِ النَّبِيِّ، قَالَ : مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلاَهُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ . وَ قَالَ هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ. (قَالَ : ) وَ قَدْ رَوَی شُعْبَةُ هَذَا الحديث عَنْ مَيْمُوْنٍ أبِيْ عَبْدِ ﷲِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أرْقَمَ عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم ۔
ترجمہ : حضرت شعبہ رضی اللہ عنہ، سلمہ بن کہیل سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابوطفیل سے سنا کہ ابوسریحہ . . . یا زید بن ارقم رضی اللہ عنہما۔ . . سے مروی ہے (شعبہ کو راوی کے متعلق شک ہے) کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’جس کا میں مولا ہوں، اُس کا علی مولا ہے ۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہاکہ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ شعبہ نے اس حدیث کو میمون ابو عبد اللہ سے ، اُنہوں نے زید بن ارقم سے اور اُنہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الترمذی فی الجامع الصحيح، ابواب المناقب باب مناقب علي بن أبی طالب رضی الله عنه، 5 / 633، الحديث رقم : 3713، و الطبرانی فی المعجم الکبير، 5 / 195، 204، الحديث رقم : 5071، 5096.وَ قَدْ رُوِيَ هَذَا الحديث عَنْ حُبْشِيّ بْنِ جُنَادَةْ فِی الْکُتُبِ الْآتِيَةِ. أخرجه الحاکم فی المستدرک، 3 / 134، الحديث رقم : 4652، والطبرانی فی المعجم الکبير، 12 / 78، الحديث رقم : 12593، ابن ابی عاصم فی السنه : 602، الحديث رقم : 1359، وحسام الدين الهندی فی کنزالعمال، 11 / 608، رقم : 32946،چشتی،وابن عساکرفی تاريخ دمشق الکبير، 45 / 77، 144، و خطيب البغدادی فی تاريخ بغداد، 12 / 343، و ابن کثير فی البدايه و النهايه، 5 / 451،،چشتی، والهيثمی فی مجمع الزوائد، 9 / 108.وَ قَد رُوِيَ هَذَا الحديث أيضا عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاﷲِ فِی الْکُتُبِ الْآتِيَةِ.أخرجه ابن ابی عاصم فی السنه : 602، الحديث رقم : 1355، وابن ابی شيبه فی المصنف، 6 / 366، الحديث رقم : 32072 ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَ الحديث عَنْ ايُوْبٍ الْأَنْصَارِيِّ فِي الْکُتْبِ الآتِيَةِ.أخرجه ابن ابی عاصم فی السنه : 602، الحديث رقم : 1354، والطبرانی فی المعجم الکبير، 4 / 173، الحديث رقم : 4052، والطبرانی فی المعجم الاوسط، 1 / 229، الحديث رقم : 348.وَقَدَرُوِيِّ هَذَالحديث عَنْ بُرَيْدَةَ فِي الْکُتْبِ الْآتِيَةِ.أخرجه عبدالرزاق فی المصنف، 11 / 225، الحديث رقم : 20388، و الطبرانی فی المعجم الصغير، 1 : 71، وابن عساکر فی تاريخ دمشق الکبير، 45 / 143، وابن ابی عاصم فی السنه : 601، الحديث رقم : 1353، وابن عساکر فی تاريخ دمشق الکبير، 45 / 146، وابن کثيرفی البدايه و النهايه، 5 / 457، وحسام الدين هندی فی کنز العمال، 11 / 602، رقم : 32904.وَقَدْ رُوِيَ هَذَالحديث عَنْ مَالِکِ بْنِ حُوَيْرَثٍ فِي الْکُتْبِ الْآتِيَةِ.أخرجه الطبرانی فی المعجم الکبير، 19 / 252، الحديث رقم : 646، و ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 45 : 177، والهيثمی فی مجمع الزوائد، 9 / 106) ۔ (مولا کا صحیح معنیٰ و مفہوم اس پر ہم الگ سے مضمون لکھ چکے)
شیعہ کتب سے : ⏬
و خرج بريدة الأسلمي فبعثه علي عليه السلام في بعض السبي، فشكاه بريدة إلى رسول الله صلى الله عليه وآله فقال رسول الله صلى الله عليه وآله: من كنت مولاه فعلي مولاه ۔ یعنی بریدہ اسلمی نے رسول کریم سے حضرت علی کی مال غنیمت کی تقسم کی شکایت تو رسول کریم نے فرمایا میں جسکا مولا و محبوب ہوں علی بھی اس کے مولا و محبوب ہیں) لہٰذا ناگواری نہ رکھو، ختم کرو) ۔ (شیعہ کتاب بحار الانوار جلد 37 صفحہ 190)
فأصبنا سبيا قال : فكتب إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: أبعث لنا من يخمسه، قال: فبعث إلينا عليا رضي الله عنه وفي السبي وصيفه هي من أفضل السبي قال: وقسم فخرج ورأسه يقطر، فقلنا: يا أبا الحسن ما هذا ؟ قال: ألم تروا إلى الوصيفة التي كانت في السبي فإني قسمت وخمست فصارت في الخمس، ثم صارت في أهل بيت النبي صلى الله عليه وآله، ثم صارت في آل علي ووقعت بها، قال: فكتب الرجل إلى نبي الله صلى الله عليه وآله، فقلت: ابعثني مصدقا، قال: فجعلت أقرأ الكتاب وأقول صدق، قال: فأمسك يدي والكتاب، قال: أتبغض عليا؟ قال: قلت: نعم قال: فلا تبغضه وان كنت تحبه فازدد له حبا، فوالذي نفس محمد بيده لنصيب علي في الخمس أفضل من وصيفة، قال: فما كان من الناس أحد بعد قول رسول الله صلى الله عليه وآله أحب إلي من علي ۔ بریدہ اسلمی کہتےہیں ہمیں مال غنیمت حاصل ہوا…رسول کریم کی طرف خط لکھا کہ تقسیم کے لیے کسی کو بھیجیں،رسول کریم نے علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا حضرت علی نے تقسیم کیا اور اپنا حصہ بھی نکالا، ابو بریدہ تقسیم کی شکایت لے کر (غدیر خم مقام پے) رسول کریم کو پہنچے اور شکایت و ناگواری کا اظہار کیا رسول کریم نے فرمایا علی نے جتنا لیا اس سے بڑھ کرحصہ ہے اگر علی سے ناگواری ہے تو ختم کردو اگر محبت ہےتو زیادہ محبت کرو ۔ (شیعہ کتاب کشف الغمہ لاربیلی جلد1 صفحہ 293)
یہ تھا اصل پس منظر کہ تنازع پے ناگواری جگھڑا ختم کرایا گیا باقی نہ تو کوئی بیعت لی گئ اور نہ بیعت و خلافت کا اعلان کیا گیا ۔ یہ تھا پس منظر جسکو جھوٹے مکار شیعوں نے کہاں سے کہاں پہنچا دیا ۔
عید غدیر چونکہ شیعہ لوگ غلط نظریہ خلیفہ بلافصل کے تناظر میں مناتے ہیں اس لیے یہ کوئی عید نہیں ، اس کی کوئی اصل نہیں بلکہ یہ جرم و گناہ ہے ۔ کیونکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بلافصل نہیں بلکہ چوتھے خلیفہ ہیں ۔
حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بلغني أن أناسا يفضلوني على أبي بكر وعمر، لا يفضلني أحد على أبي بكر وعمر إلا جلدته حد المفتري ۔
ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے خبر ملی ہے کہ کچھ لوگ ابوبکر اور عمر پر مجھے فضیلت دیتے ہیں، مجھے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر کوئی فضیلت نہ دے ورنہ اسے وہ سزا دونگا جو ایک مفتری (جھوٹ.و.بہتان والے)کی سزا ہوتی ہے ۔ (یعنی 80 کوڑے مارونگا) (فضائل الصحابہ روایت نمبر387)
یوم غدیر کے متعلق بہت کچھ شیعہ کتب میں ہے اس کا اکثر جھوٹ ہے ، شیعوں نے اپنی طرف سے لکھا اور نام اہلبیت رضی اللہ عنہم یا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا ڈال دیا ہے ۔ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : الناس ﺃﻭﻟﻌﻮﺍ ﺑﺎﻟﻜﺬﺏ ﻋﻠﻴﻨﺎ، ﻭﻻ ﺗﻘﺒﻠﻮﺍ ﻋﻠﻴﻨﺎ ﻣﺎ ﺧﺎﻟﻒ ﻗﻮﻝ ﺭﺑﻨﺎ ﻭﺳﻨﺔ ﻧﺒﻴﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ۔
ترجمہ : امام جعفر صادق رضی اللہعنہ فرماتے ہیں کہ لوگ جو (بظاہر) ہم اہلبیت کے محب کہلاتے ہیں انہوں نے اپنی طرف سے باتیں ، حدیثیں گھڑ لی ہیں اور ہم اہلبیت کی طرف منسوب کر دی ہیں جوکہ جھوٹ ہیں ، تو ہم اہل بیت کی طرف نسبت کرکے جو کچھ کہا جائے تو اسے دیکھو کہ اگر وہ قرآن اور ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے خلاف ہو تو اسے ہرگز قبول نہ کرو ۔ (شیعہ کتاب رجال کشی صفحہ 135 ، 195)
وہ جو کہتے ہیں کہ اسلام کے نام پر بننے والے فرقوں میں سے سب سے زیادہ جھوٹے شیعہ ہیں ۔ بالکل سچ کہتے ہیں ، جس کی تائید امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی ہوتی ہے ۔ امام جعفر صادق کے قول سے واضح ہوتا ہے کہ اہلبیت بالخصوص حضرت علی ، بی بی فاطمہ، امام جعفر صادق ، حسن ، حسین رضی اللہ عنہم کی باتیں اگر قرآن و سنت کے متصادم ہوں تو سمجھ لو کہ یہ ان کا قول ہی نہیں بلکہ کسی نے اپنی طرف سے جھوٹ بول کر ان کی طرف منسوب کر دیا ہے ۔ لہٰذا کسی بھی عالم مفتی صوفی پیر فقیر فرقہ کسی کی بھی بات قرآن و سنت کے خلاف ہو تو ہرگز معتبر نہیں ۔
امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی بات سے ثابت ہوتا ہے فقہ جعفریہ ، فقہ شیعہ ، عقائد شیعہ ، مذہب شیعہ جھوٹ و مکاری کا پلندہ ہے ۔ کیونکہ شیعوں کی کتابیں قرآن و سنت کے خلاف سے بھری پڑی ہیں ۔ ہاں شیعوں کی وہ بات جو قرآن و سنت کے مخالف نہ ہو وہ قابل قبول و دلیل بن سکتی ہے ۔
اکابرینِ اہلسنت علیہم الرّحمہ کا مٶقف : ⏬
امام بزدوی علیہ الرحمہ المتوفی 493ء عقیدہ اہل سنت پر مشتمل اپنی مشہور کتاب "اصول الدین " میں من کنت مولاہ فعلی مولاہ کے تحت لکھتے ہیں : رہی بات حدیث ولایت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی تو اس سے بھی استدلال کرنا درست نہیں ، اس لئے اس میں لفظ مولیٰ کو ذکر کیا گیا ہے اور عربی کلام میں ایسا ہوتا ہے کہ لفظ مولی کوذکر کرکے اس سے مدد گار مراد لیا جاتا ہے، ۔۔۔۔۔۔۔۔اس حدیث میں لفظ مولیٰ سے آقا اور غلام آزاد کرنے والا تو مراد نہیں لیا جا سکتا ، ہاں البتہ مددگار اور مُحبّ مراد لیا جاسکتا ہے ، اور محب و محبوب کے الفاظ سے استحقاق خلافت کا ثبوت نہیں فراہم ہوتا ، اسی وجہ سے ہم بھی یہی کہتے ہیں: اس حدیث سے جناب علی المرتضی کی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کا استحقاق ثابت نہیں ہوتا ۔ (اصول الدین مترجم صفحہ 512 پروگریسو بکس لاہور)
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے بھی اپنی رفض توڑ کتاب " تحفہ اثناء عشریہ " میں اس روایت کا مطلب حضرت علی کی دوستی کو واجب ٹھہرانا اور دشمنی سے ڈرانا لکھا ہے ۔ (تحفہ اثناء عشریہ مترجم صفحہ نمبر 418،چشتی)
علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی علیہ الرحمہ اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں : حدیث مذکورہ میں مولا سے مراد محبوب ہے حدیث کے آخری دعائیہ الفاظ اس پر قرینہ ہیں ، حدیث میں کوئی لفظ ایسا موجود نہیں ، جو اس بات کا قرینہ بن سکے کہ مولا سے مراد امام ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا: کہ "میں جس کا مولا ہوں" اس سے بعد والی بات کو سامعین کے ذہن میں پختہ کرنے کی غرض سے ہے ، اگر آپ اس موقع پر امامت علی ہی کا اعلان فرما رہے ہوتے ، تو اس سے صریح اور واضح تر لفظ میں امامت کا اعلان کر سکتے تھے ۔ (السیف المسلول مترجم صفحہ نمبر 244 فاروقی کتب خانہ ملتان)
امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : جس کا میں مولا اس کا یہ مولا ، دوست رکھ اسے جو اسے دوست رکھے ، اور دشمن رکھ اسے جو اس سے دشمنی کرے۔ حدیث صحیح ہے ، اور اس میں بعض علمائے شان نے جو کلام کیا مقبول نہیں ، مگر تفضیلیہ یا رافضیہ کا مطلب اس سے کچھ نہیں نکلتا ۔ (مطلع القمرین صفحہ 70 کتب خانہ امام احمد رضا راولپنڈی)
تاجدار گولڑہ حضرت سیّدُنا پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : خُم غدیر کے واقعہ کے اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد "من کنت مولاہ فعلی مولاہ" بریدہ کی شکایت کی وجہ سے تھا اس کا مطلب یہ ہے ، کہ علی سے دوستی اور محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوستی ہے ۔
تاجدار گولڑہ حضرت سیّدُنا پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ آگے فرماتے ہیں : بریدہ اسلمی کے بیان واقعات و مبشرات اور اپنے مقام پر بیان شدہ نصوص قرآنیہ سے واضح ہوجاتا ہے ، کہ خُم غدیر والی حدیث کو سیدنا علی کی خلافت بلا فصل سے کوئی تعلق نہیں ۔
تاجدار گولڑہ حضرت سیّدُنا پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں : سیدنا علی حدیثِ خُم غدیر کو اپنی خلافت کےلیے سند نہیں سمجھے ہوئے تھے ۔ (تصفیہ مابین سُنّی و شیعہ صفحہ 33-34)
تاجدار گولڑہ حضرت سیّدُنا پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ مزد فرماتے ہیں : غدیر خم والی روایت کو مولیٰ علی رضی اللّٰه عنہ کی خلافت بلا فصل سے کوئی تعلق نہیں ۔ (تصفیہ مابین سنی و شیعہ صفحہ نمبر 3،چشتی)
محترم قارئینِ کرام : غدیرِ خم کے واقعے کا پسِ منظر جو روایات میں آتا ہے وہ کچھ یوں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے حج سے قبل حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف خمس وغیرہ جمع کرنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت پر امیر بنا کر بھیجا تھا ۔ واپسی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خمس کے مال میں سے ایک بہترین لونڈی اپنے لیے رکھ لی ۔ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس پہ اعتراض کیا ۔ جب یہ لوگ مکہ پہنچے تو ان میں سے ایک صحابی رضی اللہ نہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شکایت لگا دی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ان صاحب سے پوچھا کہ کیا آپ علی رضی اللہ عنہ سے (اس معاملے کی وجہ سے) رنجش رکھتے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں ، تو آپ نے فرمایا کہ ایسا نہ کریں کہ علی رضی اللہ عنہ کے لیے خمس میں اس سے بھی زیادہ حصہ ہے جو انہوں نے رکھ لیا ہے ۔ (صحیح البخاری)
علامہ ابن کثیر اپنی تصنیف السیرۃ النبویۃ میں اس کے بارے میں یوں رقمطراز ہیں : ذی الحجہ کا مہینہ تھا اس ماہ کی اٹھارہ تاریخ تھی ، اتوار کا دن تھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس موقع پر ایک عظیم الشان خطبہ ارشاد فرمایا جس میں سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ کے فضل و کمال ، امانت و دیانت ، عدل و انصاف کے بارے میں اپنی زبان حقیقت بیان سے شہادت دی اس شہادت کے بعد اگر کسی غلط فہمی کے باعث کسی کے دل میں سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں کوئی وسوسہ تھا تو وہ ہمیشہ کےلیے محو ہو گیا ـ حضرت بریدہ بن حصیب کہتے ہیں میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن کے دلوں میں سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ کی ذات والا صفات کے بارے میں طر ح طرح کی غلط فہمیاں پیدا ہو گئی تھیں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پاک کو سن کر میرے دل میں سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ کی اتنی محبت پیدا ہو گئی کہ آپ میرے سب سے زیادہ محبوب بن گئے ـ (ابن کثیر السیرۃ النبویۃ جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 333،چشتی)
اب جن صاحب نے شکایت لگائی تھی وہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی وضاحت سے مطمئن اور راضی ہو گئے البتہ لوگوں کے درمیان یہ بات پھیل گئی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق طرح طرح کی چہ میگوئیاں ہونے لگیں ۔ لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ذات کے متعلق عام الناس کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے شبہات کو ختم کرنے کے لیے خطاب کرنا مناسب سمجھا اور اس کے لیے غدیرِ خم کے مقام کو چنا گیا ۔
غدیرِ خم مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے ۔ چونکہ یہ مقام عہدِ نبوی میں ایک چوراہے کی حیثیت رکھتا تھا ، یہاں سے جزیرہ نما عرب کے اطراف و اکناف کے لیے راستے نکلتے تھے لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس مقام کو نہایت مناسب سمجھا ۔ چنانچہ حج سے واپسی پر جب حجاج کرام کا قافلہ غدیرِ خم کے مقام پر پہنچا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے یہاں مختصر قیام فرمایا اور بعد نمازِ ظہر خطبہ ارشاد فرمایا ۔ کہ جس میں رسول اللہ نے فرمایا کہ "جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کا مولا ہے ۔ جس کی مکمل تفصیل ہم بعنوان ،، مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلاَهُ کا صحیح معنیٰ و مفہوم ،، لکھ چکے ہیں الحَمْدُ ِلله ۔ مزید مختصراً چند گذارشات پیشِ خدمت ہیں ۔
یہ تو آ گیا غدیرِ خم کا واقعہ اور اس کا پسِ منظر ۔ اب سوال ہے کہ مولا کے معنے کیا ہیں ؟ تو عرض ہے کہ مولا ایک کثیر المعانی لفظ ہے ۔ اور بنیادی اصولِ لغت ہے کہ کسی بھی کثیر المعانی لفظ کا کوئی ایک مطلب نہیں لیا جا سکتا۔ الا یہ کہ اس کے سیاق و سباق میں کوئی واضح قرینہ موجود ہو یا پھر اس کثیر المعانی لفظ کے کہنے والی کی کوئی وضاحت موجود ہو ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے لفظِ مولا کی کوئی وضاحت تو قطعی وارد نہیں ۔ البتہ اگر اس واقعے کے پسِ منظر پہ غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا مقصد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق لوگوں کے ذہنوں سے شبہات رفع کرنا اور ان کے دلوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت پیدا کرنا تھا ۔ سو ایسے میں لفظِ مولا کے معنے دوست یا عزیز کے بنتے ہیں ۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ارشاد ”فَمَن کُنْتُ مَولَاہُ فَہذَا عَلِيّ مَولاہ“ کا مطلب یہ ہوا کہ جو شخص مجھے دوست یا عزیز رکھتا ہے وہ علی کو بھی دوست و عزیز رکھے ۔
حضرت براء بن عازب اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم جب ‘‘غدیر خُم’’(کے مقام) پر تشریف لائے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمانے لگے ، کیا تم نہیں جانتے کہ میں مومنین کی جانوں سے زیادہ ان کا محبوب ہوں ؟ حاضرین نے عرض کیا کیوں نہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ میں ہر مومن کی جان سے زیادہ اس کو محبوب ہوں ؟ حاضرین نے عرض کیا کیوں نہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا اے اللہ ! جس کا میں محبوب (مولیٰ) ہوں تو علی بھی اس کے محبوب (مولیٰ) ہیں ، اے اللہ ! جو علی سے محبت (موالات) کرے تو اس سے محبت (موالات)کر ، اور جو علی رضی اللہ عنہ سے نفرت (معادات) کرے تو اس سے نفرت (معادات) کر ۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ جلد 10 صفحہ 475 بحوالہ احمد،چشتی)
مذکورۃالصدر حدیث اور اس کے پسِ منظر کی تفصیل سے یہ بات بخوبی معلوم ہوجاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا مقصد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت اور خلافت کو بیان کرنا نہیں بلکہ ان شکوک و شبہات کا ازالہ کرنا مقصود ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بعض معاملات میں رفقاءِ سفر کے ذہنوں میں پیدا ہوئے ، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی براءت کے اظہار کے بعد ان سے محبت کا حکم ہے ۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا مقصد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت اور خلافت کو بیان کرنا ہوتا تو صاف طور پر واضح الفاظ میں اس کا اظہار فرمادیتے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ میرے بعد خلیفہ ہوں گے ، ایسے الفاظ اختیار کرنے کی کیا ضرورت تھی جن سے معاملہ مبہم اور مخفی رہے ۔
لغت کے مشہور امام ابن اثیر علیہ الرحمہ لفظ ‘‘مولیٰ’’ کے تحت لکھتے ہیں : اور یہ لفظ ‘‘مولیٰ’’ ایک ایسا لفظ جو کئی معانی پر بولا جاتا ہے ، پس مولیٰ کے معنیٰ پروردگار ، مالک ، سردار ، محسن ، آزاد کرنے والا ، مددگار ، محبت کرنے والا ، فرمانبردار ، پڑوسی ، چچازاد بھائی ، عہد و پیمان کرنے والا ، عقد کرنے والا ، داماد ، غلام ، آزاد کردہ غلام ، اور احسان مند کے آتے ہیں اور ہر حدیث کے مقتضیٰ کے مطابق معنیٰ مراد لیا جاتا ہے ۔ (النہایۃ جلد 5 صفحہ 228)
مذکورہ بالا حدیث کے آخر میں ولایت کے عداوت کے ساتھ تقابل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ‘‘مولیٰ’’اور ‘‘اولیٰ’’ وغیرہ الفاظ سے محبت کا معنیٰ ہی مراد ہے جو عداوت کی ضد ہے ، اگر محبت کا معنیٰ مراد نہ ہوتا تو ولایت کے تقابل میں عداوت کا لفظ ذکر نہ کیا جاتا ۔
نیز’’مولیٰ‘‘ سے امامت اور خلافت کا معنیٰ مراد لینے کی صورت میں لازم آئیگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حیات ہی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی امام اور خلیفہ ہوں ، کیونکہ حدیث میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد مولیٰ ہوں گے ، بلکہ حدیث میں صرف اس قدر ہے کہ جس کا میں مولیٰ ہوں اس کے علی رضی اللہ عنہ مولیٰ ہیں ۔ اگر یہاں محبت والا معنیٰ مراد نہیں لیا جاتا تو یہ حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد خلیفہ بلا فصل ہونے پر نہیں بلکہ امامت اور خلافت کے سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مساوات اور اشتراک پر دال ہوگی جو شیعہ و نیم شیعہ حضرات کو بھی تسلیم نہیں ۔ لہٰذا اس حدیث سے وہی معنیٰ متعین ہیں جو اوپر مذکور ہوئے ۔
ایک دوسری حدیث میں یہی لفظ ‘‘مولیٰ’’ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے لیے بھی استعمال ہوا ہے ، چنانچہ ایک موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ان سے فرمایا ‘‘أنت مولای و منی’’ (آپ میرے مولیٰ ہیں اور مجھ سے ہیں) ۔ (طبقات ابن سعد جلد 3 صفحہ 44)
اور دوسری روایت میں ہے ‘‘أنت مولای و أحب القوم الیّ’’ ۔ (آپ میرے مولیٰ ہیں اور مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہیں ۔ (مصنف عبد الرزاق جلد 11 صفحہ 227،چشتی)
اور ایک روایت میں ہے ‘‘أنت اخونا و مولانا’’ ۔ (آپ ہمارے بھائی اور ہمارے مولیٰ ہیں) ۔ (طبقات ابن سعد جلد 3 صفحہ 43)
اگر مولیٰ سے امام اور خلیفہ کے معنیٰ ہی متعین ہوں تو پھر چاہیے کہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد امام اور خلیفہ بلافصل ہوں ۔ لیکن جب یہاں یہ معنیٰ مراد نہیں تو حدیث ‘‘من کنت مولاہ الخ’’میں بھی اس تخصیص کی کوئی وجہ نہیں ۔ ،،جس کا میں مولیٰ اس کا علی مولیٰ،، یہ مکمل حدیث نہیں بلکہ حدیث کا ایک ٹکڑا ہے ، شیعہ حضرات اس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بلافصل ہونے اور اپنے خودساختہ نظریۂ امامت پر استدلال کرتے ہیں ، لیکن اس حدیث کی مکمل تفصیل اور اس کے پسِ منظر کی مذکورہ وضاحت سے شیعہ حضرات کے جھوٹے استدلال کی حقیقت واضح ہو گٸی ۔
شیعہ و نیم شیعہ تفضیلی حضرات کے خود ساختہ نظریۂ امامت و خلافت کے اس حدیث کے ساتھ عدمِ تعلق کی ایک بہت بڑی شہادت یہ بھی ہے کہ سیدنا حضرت امام حسن کی اولاد میں سے حضرت امام حسن مثنیٰ رضی اللہ عنہم سے کہا گیا کہ کیا ‘‘من کنت مولاہ’’کی حدیث میں سیدنا علی رضی اللہ نہ کی امامت (خلافت) کی صراحت نہیں ؟ تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ خبردار ! اللہ کی قسم اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اس سے امارت یا حکومت کا ارادہ فرماتے تو یہ بات صاف صاف بیان فرما دیتے ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے بڑھ کر مسلمانوں کا خیر خواہ کوئی نہیں ہو سکتا ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم صاف فرما دیتے کہ اے لوگو ! یہ (حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عنہ) میرے بعد تمہارے حاکم اور تمہارے نگران ہوں گے ، ان کی بات سنو اور اطاعت کرو ، مگر ایسی کوئی بات نہیں ، اللہ کی قسم اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے حکم کو ترک فرما دیتے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سب لوگوں سے بڑھ کر خطاکار ہوتے ۔ (الصواعق المحرقۃ صفحہ 48)(تحفۂ اثنا عشریۃ صفحہ 209)(تفسیر روح المعانی جل 6 صفحہ 195،چشتی)(التاریخ الکبیر لابن عساکر جلد 4 صفحہ 166)
ملاحظہ فرمائیں کہ خانوادۂ نبوت نے کس وضاحت کے ساتھ ہر قسم کے شبہ کا جواب دیدیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ارشاد مبارک کی تشریح کرتے ہوئے ہر طرح کے باطل احتمالات کی بیخ کنی کر کے مرادِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو متعین فرمادیا ، اس کے بعد کسی قسم کا شبہ نہیں رہنا چاہیے ۔
اب جہاں تک تعلق ہے اس سوال کا کہ شیعہ حضرات اس دن کی مناسبت سے عید کیوں مناتے ہیں تو عرض ہے کہ یہ شیعہ مذھب کے دجل و فریب میں سے ایک ہے ۔ اوپر غدیرِ خم کے پسِ منظر کی تفصیل لکھی ہے کہ یہ واقعہ دراصل حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس لونڈی والے واقعہ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کو سنبھالنے کی وجہ سے پیش آیا ۔ لیکن شیعہ حضرات نے اسے علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کا اعلان قرار دے کر اس بنیاد پر اپنا پورا مذھب گھڑ ڈالا ۔ اور سونے پہ سہاگا یہ کہ کہتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے غدیرِ خم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی "خلافت" کا اعلان کیا تو اللہ نے تکمیلِ دین کی آیت نازل فرمائی ۔ جبکہ یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ مذکورہ آیت نو (9) ذی الحجہ کو میدانِ عرفات میں نازل ہوئی تھی ۔ جبکہ غدیرِ خم کا واقعہ اٹھارہ ذی الحجہ کا ہے ۔ دوسری بات یہ کہ اگر شیعہ و نیم شیعہ حضرات کی یہ دونوں باتیں مان لی جائیں یعنی یہ کہ غدیرِ خم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت و ولایتِ باطنی کا اعلان ہوا اور اس پر تکمیلِ دین کی آیت نازل ہوئی تو ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ظاہری وصال مبارک کے فوراً بعد خلافت کے معاملے میں انصار و مہاجرین رضی اللہ عنہم میں اختلاف پیدا ہوا تھا کہ جسے رفع دفع کرنے کے لیے حضرے عمر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی ، تو اس وقت کیوں کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے اس پہ اعتراض نہ کیا ؟ کہ جی خلافت کا اعلان تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حق میں ہو چکا لہٰذا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ نہیں بن سکتے ۔ کیا حق کی گواہی دینے والا کوئی بمشول حظرت علی ایک شخص (رضی اللہ عنہم) بھی وہاں موجود نہیں تھا ؟ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی تربیت معاذ اللہ اتنی ناقص تھی کہ آپ کے فوت ہوتے ہی آپ کے ساتھی سب کچھ بھول بیٹھے ؟ غدیرِ خم کے واقعے کے کوئی دو چار گواہ تو تھے نہیں ۔ کم و بیش ایک لاکھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس واقعے کے عینی شاہد تھے ۔ حتیٰ کہ خود ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما وہاں موجود تھے ۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ "خلافت کے اعلان" کے باوجود عمر بیعتِ ابوبکر رضی اللہ عنہما کر لیں اور لوگ بھی اسے تسلیم کر لیں ۔ کسی بھی شخص ، حتیٰ کہ خود حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے بھی ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو غدیرِ خم کے "اعلان" کی یاد نہ دلائی کیوں ؟ ۔ (مزید حصہ دوم میں ان شاء اللہ) ۔
*عیدالاضحی مبارک!*
آپ اور آپ کی پوری فیملی کو *عید قربان* کی خوشیاں دلی محبت، دعاؤں اور نیک تمناؤں کے ساتھ مبارک ہوں۔
اللہ تعالیٰ آپ کی قربانیاں اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، آپ کے رزق، صحت اور ایمان میں برکت عطا فرمائے۔
یہ عید ہم سے تقویٰ، اخلاص اور ایثار کا تقاضا کرتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
*"ما عمل آدمي من عمل يوم النحر أحب إلى الله من إهراق الدم"*
(ترمذی)
"قربانی کے دن انسان کا سب سے محبوب عمل اللہ کے نزدیک خون بہانا (قربانی کرنا) ہے۔"
قربانی صرف جانور کاٹنے کا نام نہیں، بلکہ دل کی نیت، تقویٰ اور اطاعت کا اظہار ہے۔
دعا ہے کہ یہ عید ہمارے دلوں میں خلوص، گھروں میں محبت، اور معاشرے میں خیر و برکت کا ذریعہ بنے۔
*عید مبارک!*
سب سے اعلیٰ درجے کی نفاست یہ ہے کہ
آپ دوسروں کی غیبت، چغلخوری اور نجی معاملات میں دخل اندازی سے دور رہیں
آپ کا دل صاف ہو، سوچ روشن ہو، اخلاق عمدہ ہوں
آپ کے خیالات آپ کی ظاہری شخصیت سے بھی زیادہ شائستہ ہوں
آپ کے جذبات آپ کے خوشبو سے زیادہ خوشگوار ہوں
اور آپ کا اخلاق آپ کی صورت سے کہیں زیادہ دلکش ہو…..!!!
ھم ”تربوز“ خریدتے ہیں مثلاً پانچ کلو کا ایک دانہ.. جب اسے کھاتے ھیں تو پہلے اس کاموٹا چھلکا اتارتے ھیں.. پانچ کلو میں سے کم ازکم ایک کلو چھلکا نکلتا ہے.. یعنی تقریبا بیس فیصد.. کیا ھمیں افسوس ھوتا ہے؟ کیا ھم پریشان ھوتے ھیں؟ کیا ھم سوچتے ھیں کہ ھم تربوز کو چھلکے کے ساتھ کھا لیں؟..
نہیں بالکل نہیں.. یہی حال کیلے، مالٹے کا ہے..
ھم خوشی سے چھلکا اتار کر کھاتے ھیں.. حالانکہ ھم نے چھلکے سمیت خریدا ھوتا ہے.. مگر چھلکا پھینکتے وقت تکلیف نہیں ھوتی..
ھم مرغی خریدتے ھیں.. زندہ، ثابت.. مگر جب کھانے لگتے ھیں تو اس کے بال، کھال اور پیٹ کی آلائش نکال کر پھینک دیتے ھیں.. کیا اس پر دکھ ہوتا ہے؟.. نہیں..
تو پھر چالیس ہزار میں سے ایک ہزار دینے پر.. ایک لاکھ میں سے ڈھائی ہزار دینے پر کیوں بہت سے مسلمانوں کو تکلیف ہوتی ہے؟.. حالانکے یہ صرف ڈھائی فیصد بنتا ہے.. یعنی سو روپے میں سے صرف ڈھائی روپے..
یہ تربوز، کیلے، آم اور مالٹے کے چھلکے اور گٹھلی سے کتنا کم ہے.. اسے ”زکوۃ“ فرمایا گیا ہے.. یہ پاکی ہے.. مال بھی پاک.. ایمان بھی پاک.. دل اور جسم بھی پاک.. اتنی معمولی رقم یعنی چالیس روپے میں سے صرف ایک روپیہ.. اور فائدے کتنے زیادہ..
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
57000