Khadim.e.Mehboob Qari Zafar Iqbal Chishti

Khadim.e.Mehboob Qari Zafar Iqbal Chishti

Share

Spreading the light of knowledge, love, and spiritual purification.

01/08/2026

(حصہ سوم)
اس پوری نشست میں ایک ایسی روحانی کیفیت محسوس ہو رہی تھی جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں۔ یوں لگتا تھا جیسے ہر سمت نور ہی نور ہو، جیسے رحمتِ خداوندی کی بارش برس رہی ہو اور جیسے دلوں کو سکون کی ایک نئی دنیا عطا ہو گئی ہو۔

«صحبتِ صالح تو را صالح کند
صحبتِ طالح تو را طالح کند»

حقیقت یہ ہے کہ قبلۂ سیدی و مرشدی حضرت صاحب جیسی شخصیات محض افراد نہیں ہوتیں بلکہ روشنی کے مینار ہوتی ہیں۔ یہ وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے ہمیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کا راستہ دکھایا، دین کی محبت عطا کی، قرآنِ کریم سے تعلق جوڑا، ادب و اخلاق سکھایا اور زندگی گزارنے کا سلیقہ عطا فرمایا۔

ایسی مبارک ہستی کا ہمارے درمیان موجود ہونا ہم سب کے لیے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ ہم چاہے ساری زندگی شکر ادا کرتے رہیں تب بھی اس نعمت کا حق ادا نہیں کر سکتے۔

اس بابرکت مجلس میں پروفیسر نصراللہ معینی صاحب، جناب قاضی عبدالرؤف صاحب ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، صاحبزادہ پروفیسر ڈاکٹر فخر معین صاحب، قاری کاشف عظیم صاحب، حاجی ذاکر وٹو صاحب، اللہ رکھا وٹو صاحب، قاری نصر معینی صاحب، قاری محمد لطیف صاحب، ملک فیاض صاحب اور دیگر کئی عقیدت مند احباب موجود تھے۔

خصوصی طور پر اس نشست میں جناب حاجی خالد اقبال مسرت ایڈووکیٹ صاحب، نائب تحصیلدار سرگودھا صاحب بھی تشریف فرما تھے۔_

بارگاہِ رب العزت میں دستِ دعا ہیں:

یا اللہ!

ہمارے قبلۂ سیدی و مرشدی، صاحبزادہ پروفیسر محبوب حسین صاحب چشتی دامت برکاتہم العالیہ کو کامل صحت، کامل عافیت، درازیِ عمر اور خیر و برکت والی زندگی عطا فرما۔

اے اللہ!

جس ہستی نے ہمارے دلوں میں دین کی محبت پیدا کی، ہمیں قرآنِ کریم کا راستہ دکھایا، ہمارے دلوں کے اندھیروں کو ایمان کے نور سے روشن کیا اور ہمیں اپنی شفقت و تربیت کے سائے میں پروان چڑھایا، ان پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرما۔

یا رب کریم!

ان کے وجودِ مسعود کا سایہ ہم سب کے سروں پر ہمیشہ قائم و دائم رکھ۔ ان کی ہر سانس کو دینِ اسلام کی خدمت، امت کی رہنمائی اور تیری رضا کا ذریعہ بنا دے۔

اے پروردگار!

ہمارے مرشدِ کریم کو صحت و سلامتی والی لمبی عمر عطا فرما، ان کے درجات بلند فرما، ان کی دعاؤں کو ہمارے حق میں قبول فرما اور ان کے فیوض و برکات کو ہمیشہ جاری و ساری رکھ۔

یا اللہ!

ہمیں بھی ان کی صحبتوں سے فیض حاصل کرنے والا بنا، ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما، قرآنِ کریم سے ہمارا تعلق مضبوط فرما اور ہمارے دلوں کو اپنے محبوب بندوں کی محبت سے آباد رکھ۔

آمین یا رب العالمین۔
✍️ راقم الحروف
قاری محمد حفیظ

01/08/2026

( حصہ دوم)
حضرت صاحب کے دوسرے فرزندِ ارجمند، صاحبزادہ ڈاکٹر سیف الرحمن صاحب (MPhil, PhD) کا ذکر بھی اپنی جگہ نہایت اہم ہے۔ اگرچہ اس مختصر حاضری کے دوران ہماری ان سے ملاقات نہ ہو سکی، کیونکہ اسی روز ادارہ معین الاسلام کے انتظامی معاملات اور دیگر ضروری امور کی نگرانی کے لیے وہ واپس تشریف لے گئے تھے، تاہم ان کی علمی، انتظامی اور تعلیمی خدمات اس عظیم مشن کا ایک روشن باب ہیں۔

ماشاء اللہ، اس وقت ادارہ معین الاسلام میں زیرِ تعلیم طلبہ کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہو چکی ہے، جہاں طلبہ کو دینی و دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ رہائش، ہاسٹل، کھانا اور دیگر بنیادی سہولیات بھی بالکل مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک عظیم دینی و تعلیمی خدمت ہے جو حضرت صاحب کی فکر، تربیت اور مشن کا عملی مظہر ہے۔

الحمدللہ، ادارہ معین الاسلام سے تعلیم حاصل کرنے والے بے شمار طلبہ آج ملکِ پاکستان کے اندر اور بیرونِ ملک مختلف شعبہ ہائے زندگی میں دینی اور دنیاوی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان میں بہت سے ایسے طلبہ بھی شامل ہیں جو ابتدائی تعلیمی مراحل سے یہاں آئے، پھر اسی ادارے سے حفظِ قرآن، تجوید، درسِ نظامی اور اعلیٰ عصری تعلیم کے مراحل طے کیے، یہاں تک کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی جیسی اعلیٰ علمی منازل تک پہنچے۔

یہ ادارہ محض ایک تعلیمی مرکز نہیں بلکہ علم، تربیت، اخلاق اور خدمت کا ایک ایسا گہوارہ ہے جہاں طلبہ کو دین کی روشنی کے ساتھ ساتھ عصری علوم سے بھی آراستہ کیا جا رہا ہے۔ یقیناً ایسی عظیم کاوشیں صدقۂ جاریہ کی حیثیت رکھتی ہیں، جن کے اثرات نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔

«ز گہوارۂ علم آید آن مردِ خدا
کہ روشن کند عالم را ز نورِ ہدیٰ»

نمازِ عشاء کے بعد حضرت صاحب کے معمولِ مبارک کے مطابق تلاوتِ قرآنِ مجید کی مجلس منعقد ہوئی۔ ادارہ معین الاسلام میں بھی حضرت صاحب ہر روز نمازِ عشاء کے بعد قرآنِ کریم کی تلاوت سماعت فرمانے کا خصوصی اہتمام فرماتے ہیں، اور لاہور میں بھی یہی مبارک سلسلہ جاری تھا۔

اس نورانی مجلس میں انتیسویں پارے کی تلاوت کی سعادت قاری نصر معینی صاحب اور قاری محمد لطیف صاحب کو حاصل ہوئی۔ دونوں حضرات نے نہایت خوبصورت آواز، سوز و گداز اور بہترین قراءت کے ساتھ قرآنِ مجید کی تلاوت فرمائی۔ جب آیاتِ قرآنیہ کی صدائیں اس روحانی ماحول میں بلند ہوئیں تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے دلوں پر نور اتر رہا ہو، رحمتوں کے دروازے کھل گئے ہوں اور ہر طرف سکون و اطمینان کی کیفیت چھا گئی ہو۔

اللہ گواہ ہے کہ ان لمحات کی کیفیت بیان کرنا آسان نہیں۔ زبان تلاوت سن رہی تھی مگر دل ایک عجیب روحانی کیفیت میں ڈوبا ہوا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے رحمتِ الٰہی کی بارش ہو رہی ہو اور انوارِ خداوندی کی کرنیں ہر طرف پھیل رہی ہوں۔

«ز قرآن دلِ مردہ شود زندہ دگر
ز قرآن شود روشن دلِ تاریک تر
(قرآن کے ذریعے مردہ دل زندہ ہو جاتے ہیں اور تاریک ترین دل بھی روشن ہو جاتے ہیں۔)»

اسی دوران جناب قاضی عبدالرؤف صاحب ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ان نورانی لمحات کو اپنے کیمرے میں محفوظ فرما رہے تھے۔ ماشاء اللہ، قاضی عبدالرؤف صاحب کو اکثر و بیشتر ایسی بابرکت اور روح پرور محافل میں شرکت اور ان یادگار لمحات کو محفوظ کرنے کی سعادت حاصل ہوتی رہتی ہے۔ میری ناقص رائے میں یہ بھی اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم کی ایک نشانی ہے کہ انہیں بار بار قرآن کی مجالس، اہلِ اللہ کی صحبت اور ایسے نورانی لمحات کا گواہ بننے اور انہیں محفوظ کرنے کا شرف عطا ہوتا ہے۔

واقعی بعض سعادتیں ایسی ہوتی ہیں جو بظاہر معمولی نظر آتی ہیں مگر حقیقت میں وہ اللہ تعالیٰ کی خاص عطا ہوتی ہیں۔ ایسے لمحات کو محفوظ کرنا بھی ایک عظیم امانت ہے تاکہ آنے والی نسلیں بھی ان برکتوں سے فیض حاصل کر سکیں۔

اسی طرح قاری کاشف عظیم صاحب کا ذکر بھی اپنی جگہ نہایت اہم ہے، جنہوں نے قبلۂ سیدی و مرشدی حضرت صاحب کی خدمت میں جس خلوص، محبت، بے لوث جذبے اور انتھک محنت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کیں، وہ یقیناً ایک عظیم سعادت اور قابلِ تحسین عمل ہے۔

حضرت صاحب کی خدمت، ان کے آرام کا خیال، ان کے معمولات میں معاونت اور ہر وقت محبت و عقیدت کے ساتھ حاضر رہنا بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک خاص توفیق ہے۔ میری ناقص رائے میں قاری کاشف عظیم صاحب کے لیے یہ محض ایک خدمت نہیں بلکہ ایک عظیم فیضان اور روحانی سرمایہ ہے کہ انہیں ایسی مبارک ہستی کی قربت، خدمت اور دعاؤں سے فیض حاصل کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

اہلِ محبت جانتے ہیں کہ اللہ والوں کی خدمت کا ہر لمحہ انسان کے لیے دنیا و آخرت کی سعادتوں کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

اسی طرح تمام وٹو برادران کا ذکر بھی نہایت محبت اور قدر کے ساتھ ضروری ہے کہ انہوں نے جس دلجمعی، اخلاص اور عقیدت کے ساتھ قبلۂ سیدی و مرشدی حضرت صاحب کی خدمت میں خود کو مصروف رکھا، وہ یقیناً قابلِ تحسین ہے۔ خدمت کا یہ جذبہ، یہ محبت اور یہ سعادت ہر کسی کے نصیب میں نہیں آتی۔

بلاشبہ ان کے لیے یہ بہت بڑی خوش نصیبی ہے کہ انہیں ایسی مبارک ہستی کی خدمت، قربت اور دعاؤں سے فیض حاصل کرنے کا موقع نصیب ہو رہا ہے۔ اہلِ محبت جانتے ہیں کہ اللہ والوں کی خدمت محض ایک ذمہ داری نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک عظیم سعادت اور روحانی سرمایہ ہوتی ہے۔
(جاری ہے)

11/07/2026
11/07/2026

Idara Moin-Ul-Islam

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Sargodha?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Birbal Sharif
Sargodha
40100