Al HAFIZ Products

Al HAFIZ Products

Share

We provide pure Honey like
Berry, small bees and big bees
and
all kinds of Masalahs

17/08/2023

Fatwa Series 16/August/2023 Wednesday Fatwa Number: 01 | | Jamia Dar Abdullah Bin Masood & Under Supervision ( Molana Syed Rehan Ahmed H.A )
بسم الله الرحمن الرحيم
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں لوگ جس بچے کے پیچھے تراویح کی نمازپڑھتے ہیں، اس کی داڑھی نہیں ہے، اب بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس بچے کے پیچھے نمازجائزنہیں ہے، جبکہ بعض دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے نماز جائز ہے۔
اب آپ سے عرض ہے کہ اس بارے میں صحیح بات کیا ہے؟ (مستفتی: عبداللہ )

بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب حامداًومصلياً

واضح رہے کہ جس لڑکے کا سوال میں ذکر ہے اگر وہ حد بلوغ کو پہنچ چکا ہے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا بلا شبہ جائز ہے بشرطیکہ اس میں امامت کی دیگر شرائط موجود ہوں، صرف داڑھی نہ ہونے کی وجہ سے اس کے پیچھے نماز پڑھنا ناجائز نہیں ۔
كما في الرد:
وفي حاشية المدني عن "الفتاوى العفيفية" سئل العلامة الشيخ عبد الرحمن بن عيسى المرشدي عن شخص بلغ من السن عشرين سنة وتجاوز حد الإنبات ولم ينبت عذاره فهل يخرج بذلك عن حد الأمردية خصوصا قد نبت له شعرات في ذقنه تؤذن بأنه ليس من مستديري اللحى فهل حكمه في الإمامة كالرجال الكاملين أم لا؟ أجاب سئل العلامة الشيخ أحمد بن يونس المعروف بابن الشلبي من متأخرين علماء الحنفية عن هذه المسألة فأجاب بالجواز من غير كراهة وناهيك به قدوة والله أعلم.
(كتاب الصلاة، مطلب: في إماممة الأمرد 2/359 ط: دارالمعرفة بيروت).
ويشترط كونه مسلما حرا ذكرا عاقلا بالغا قادرا قرشيا لا هاشميا علويا معصوما...إلخ
(كتاب الصلوة، مطلب: في شروط الامامة الكبرى 2/333 ط: دارالمعرفة).
وفي الهندية:
وإمامة الصبي المراهق لصبيان مثله يجوز كذا في الخلاصة وعلى قول أئمة بلخ يصح الاقتداء بالصبيان في التراويح والسنن المطلقة كذا في فتاوى قاضي خان المختار أنه لا يجوز في الصلوات كلها كذا في "الهداية" وهو الأصح هكذا في "المحيط" وهو قول العامة وهو ظاهر الرواية هكذا في "البحر الرائق".
(كتاب الصلوةو الباب الخامس في الامامة 1/143 ط: دارالفكر).
وفي قاضي خان:
وعن ىصير بن يحي رحمه الله أنه سئل عنها قال تجوز اذا كان ابن عشرة سنين وقال شمس الائمة السرخسي رحمه الله الصحيح أنه لايجوز لأنه غير مخاطب وصلاته ليست بصلاة على الحقيقة فلايجوز امامته كامامة المجنون وإن أم الصبيان يجوز لأن صلاة الامام صلاة المقتدي.
(كتاب الصوم، فصل في امامة الصبيان في التراويح 1/150 ط: دارالفكر).
وفي البحرالرائق:
قال في الهداية: وفي التراويح والسنن المطلقة جوزه مشائخ بلخ ولم يجوزه مشايخنا ومنهم من حقق الخلاف في النفل المطلق بين أبي يوسف ومحمد رحمه الله والمختار أنه لايجوز في الصلوات كلها.
(كتاب الصلاة، باب الامامة 1/629 ط: دارالكتب العلمية).

| | | | |

👇 More information Contact these Numbers:
0341-4389979
0320-2500732
Location:
Plot No ST-5 Main Town Malir Y Last Bus Stop Near Mahsood CNG Pump Karachi.

20/06/2023

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
آپ کیسے ہیں

19/06/2023

اسحاق ڈار کاقصور کیا ؟
حذیفہ رحمان
آج پاکستان میں معیشت کی بدحالی کا ذمہ دار اسحاق ڈار کو سمجھا جارہا ہے۔مفتاح اسماعیل سمیت مسلم لیگ ن کے ناقد ین کا خیال ہے کہ اسحاق ڈار بروقت فیصلے کرتے تو شاید معیشت اس زبوں حالی کا شکار نہ ہوتی۔اسحاق ڈار کے فیصلوں پر تنقید کرنے والوں کی رائے ہے کہ مسٹر ڈار کو چھ مہینے پہلے ہی آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے چاہئیں تھے۔جب کہ اسحاق ڈار پر تنقید کرنے والے اس بات پر حیران ہیں کہ آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر اسحاق ڈار نے اربوں ڈالر بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں کیسے کردیں؟ موڈیز،بلومبرگ ،آئی ایم ایف جس پاکستان کو جنوری 2023ءمیں ڈیفالٹ کرارہے تھے،اس پاکستان نے تو آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر اپنا بجٹ بھی پیش کردیا ہے۔کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ وہ ڈرپوک آدمی ہیں،نیب اور انتقامی کارروائیوں کا سامنے کرنے سے گھبراتے ہیں۔لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔
اسحاق ڈار کا شمار پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے قابل ترین معاشی ماہرین میں ہوتا ہے۔دنیا بھر میں ایسے ٹیکنو کریٹس کی قدر کی جاتی اور نیب یا فوجداری کارروائی تو دور کی بات ،ایسے بڑے دماغ کو سول عدالت کا نوٹس بھی نہیں بھیجا جاتا۔ریاست ایسے بڑے دماغوں سے کام لیتی ہے نہ کہ انہیں انتقامی کارروائیوں اور متنازع کیسز میں پھنساتی اور الجھاتی ہے۔
نیب نے جب اسحاق ڈار کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثہ جات کی انکوائری شروع کی تو اس کیلئے چند معلومات حیران کن تھیں۔مشرف آمریت میں اسحاق ڈاردبئی حکومت کے معاشی ایڈوائزر کے طور پر کام کرتے رہے۔اسحاق ڈار کو دبئی حکومت نے آفیشل طور پر جو تنخواہیں جاری کیں۔ان کا جب اسحاق ڈار کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثہ جات کے الزام سے تقابلی جائزہ لیا گیا تو سامنے آیا کہ اسحاق ڈار کی چار سال کی تنخواہ الزام شدہ اثاثوں سےزیادہ تھی۔ نیب کو دبئی حکومت سے ان تنخواہوں کی سیلری سلپ کی تصدیق کے بعد انکوائری کو بند کرنا پڑا۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اسحاق ڈار کی اپنی کوئی قابلیت نہیں بلکہ میاں نوازشریف کے سمدھی ہونا ہی ان کا اصل تعارف ہے۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ میاں نوازشریف سے رشتہ داری کے بعد اسحاق ڈار کو پاکستان کی سیاست میں اعلیٰ مقام ملا۔مگر حقائق جان کر جینا چاہئے اور حقیقت یہ ہے کہ اسحاق ڈار اپنی قابلیت کے بل بوتے پر لیبیا کے حکمران معمر قذافی کے بھی معاشی ایڈوائزر رہے اور یہ اس وقت کی بات ہے کہ شاید جب پاکستان میں کینڈی اور بسکٹ بنانے کی فیکٹریاں بھی نہیں لگی تھیں۔اسحاق ڈار جیسے لوگ اگر حکومت میں نہ ہوں تو دنیا کے بہترین معاشی ادارے انہیں کروڑوں روپے مہینے تنخواہ پر صرف اس لئے رکھ لیتے ہیں کہ ایک بڑا دماغ ہمارے مقابلے کے کسی ادارے میں جاکر کام کرنا شروع نہ کردے اور یوں گھر بیٹھے تنخواہ بھجواتے رہتے ہیں اور مہینے میں ایک مرتبہ کسی اہم ایشو پر مشورہ لے لیتے ہیں یا پھرخصوصی جہاز کے ذریعے بورڈ میٹنگ میں بلاکر رائے لے لیتے ہیں۔آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے بڑے ادارے اسحاق ڈار جیسے لوگوں کو اپنے پینل پر رکھتے ہیں۔
1999ءمیں بل کلنٹن کے ساتھ اسحاق ڈار کی بحث کے مشاہد حسین سید گواہ ہیں۔جب میاں نوازشریف نے مشاہد حسین سید کو کہا کہ میڈیا کو ہماری بل کلنٹن کے ساتھ ہونے والی میٹنگ پر بریف کردیں تو مشاہد حسین سید نے مسکراتے ہوئے میڈیا کو صرف اتنا کہا کہ بل کلنٹن نے اسحاق ڈار کی سی وی مانگ لی ہے۔لیکن من حیث القوم ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ اپنے قابل لوگوں کی قدر نہیں کرتے،ہم پروپیگنڈا اور گالی دینے والے کو پسند کرتے ہیں۔
آج اگر پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچا ہے تو اس کا کریڈٹ صرف ایک شخص کو جاتا ہے اور اس کا نام اسحاق ڈار ہے۔آج آئی ایم ایف آپ سے بات کرنا چاہتا ہے مگر اندر ہی اندر شرمندہ ہے کہ تمام بیرونی دنیا کو ہم بتارہے تھے کہ پاکستان کا ڈیفالٹ ہونا بس چند دنوں کی بات ہے اور آج آٹھ ماہ سے زائد ہوگئے ہیں ایسا نہیں ہوا۔آج اسحاق ڈار نے جس طرح کے انتظامات کئے ہیں ،اب پاکستان کا ڈیفالٹ ہونا ایک خواب ہی رہے گا،لیکن اس کیلئے اشد ضروری ہے کہ اسحاق ڈار کو موثر اور جاندار پالیسیاں بنانے کیلئے مزید ایک سال کا وقت دیا جائے۔ تاکہ ان کی منصوبہ بندی اور پالیسیوں میں تسلسل قائم رہ سکے اور آئندہ انتخابات کے بعد بھی پانچ سال وزیر خزانہ رہ کر ہی اسحاق ڈار پاکستان کی معیشت کو دوبارہ پٹڑی پر ڈال سکتے ہیں۔قومی سلامتی کے اداروں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو یاد رکھنا چاہئے کہ آج پاکستان کی معیشت کو اسحاق ڈار نے ایک منتخب سیاسی حکومت کی سپورٹ سے تھاما ہوا ہے۔اگر معیشت کی یہ رسی اسحاق ڈار کے ہاتھ سے چھوٹی یا کسی نے ان کے ہاتھ سے اس رسی کوزبردستی چھڑوایاتو پھر اس رسی کا سرا کسی کے ہاتھ نہیں آئے گا اور پھر اس رسی کی کھینچ معیشت نہیں بلکہ سب کچھ بہا کر لے جائیگی۔اسلئے ضروری ہے کہ میڈیا، عدالتیں،دفاعی ادارے،سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ معیشت کھڑی کرنے کے سفر میں پوری دیانتداری کے ساتھ اسحاق ڈار کو سپورٹ کریں ۔ ان شااللہ !اس سپورٹ سے جلد معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہوجائے گی۔ copy

02/05/2023
01/05/2023

ایک مزدور اور اس کی بیوی پریشان بیٹھے تھے ۔ بیوی نے پوچھا تم کیوں پریشان ہو ؟
مزدور بولا : "میں جن صاحب کی کوٹھی پر مزدوری کر رہا ہوں ، کل ان کی چھٹی ہے۔ جس دن ان کی چھٹی ہوتی ہے ، وہ کوٹھی پر آ کر ایک ایک انچ کا جائزہ لیتے ہیں ، کوئی نقص نکل آے تو ٹھیکیدار ہم مزدوروں کے پیسے کاٹ لیتا ہے ۔ بس یہی پریشانی ہے ۔ ۔ ۔ اور تم بتاؤ تم کیوں پریشان ہو ؟"
بیوی بولی : "جن ڈاکٹر صاحبہ کے گھر میں کام کرتی ہوں ، کل ان کی چھٹی ہے ۔ جس دن ان کی چھٹی ہو اس دن سر پر کھڑے ہو کر کام کرواتی ہیں ۔ کہتی ہیں کہ ایک ایک tile میں تمہاری شکل نظر آنی چاہیے ۔ پتہ نہیں کل کس بات کی چھٹی ہے !"
ان کا چھوٹا بیٹا بولا :" میں بتاتا ہوں ، کل یومِ مزدور ہے ۔ اس لئے سب بڑے صاحب چھٹی کریں گے!"
مزدور اور اس کی بیوی نے حیرت سے بیٹے کو دیکھا اور پوچھا :"تمہیں کیسے پتہ ؟"
بیٹا بولا : "آج استاد کہہ رہا تھا کہ صبح 7 بجے سروس سٹیشن پہنچ جانا ۔ 7 بجے سے دیر ہوئی تو پسلیاں توڑ دوں گا ۔ کل یومِ مزدور ہے اور صاحب لوگوں کی چھٹی ہے ، گاڑیوں کا زیادہ رش ہو گا ۔ ۔ ۔ "

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Sindh?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address

Karachi Sindh
Sindh
75050

Opening Hours

Monday 17:00 - 23:00
Tuesday 17:00 - 23:00
Wednesday 17:00 - 23:00
Thursday 17:00 - 23:00
Friday 17:00 - 23:00
Saturday 09:00 - 23:00
Sunday 09:00 - 23:00