Nasurullah jiskani

Nasurullah jiskani

Share

گمنام قلم ✒️
حق لکھتا ہوں، نام نہیں
دلیل کے ساتھ بات، گالی کے بغیر جواب
اسلام میرا معیار 📖

23/01/2026
23/01/2026

‎اسلام علیکم دوستو جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ اس زاکر سائین بخش مناظری نے کچھ سیکنڈ کی کلپ میں 4 باطل دعوی کیے
‎ملاحظہ فرمائیں
‎باطل دعوی نمبر1: جنت دینی کی طاقت معصوم رکھتا ہے گنھگار نہیں ؟
‎الجواب: ایک تو ان کے نزدیک 14 معصوم ہیں
‎جس پر ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تو متفق ہیں مگر باقی 13 پر کوئی نص موجود نہین کہ وہ خطا سے معصوم ہوں
‎خیر مگر پھر بھی جہاں تک جنت دینے کا وعدہ ہے وہ خداوند عالم کا ہے جو قرآن کریم فرقان حمید میں واضح محکم آیت میں موجود ہے

‎﴿إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ﴾
‎📖 سورۃ الحج: 69
‎ترجمہ:
‎بے شک اللہ قیامت کے دن تمہارے درمیان ان باتوں میں
‎فیصلہ فرمائے گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے۔

‎نبی ﷺ سفارش کریں گے (باذنِ اللہ)،
‎فرشتے عمل لکھیں گے،
‎مگر فیصلہ اور داخلہ جنت یا جہنم کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔

‎بطل دعوی 2: معصومیت ان کے عصمت کی دلیل ہے ؟
‎الجواب: ان کی معصومیت ہی بے دلیل ہے😂 اس میں ہم کیا بولیں۔
‎جس طرح رسول کی معصومیت پر نص موجود ہے
‎يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ۝ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ
‎نبی ﷺ اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتے، جو کہتے ہیں وہ وحی ہوتی ہے۔
‎➡️ یہ آیت بتاتی ہے کہ دین کے معاملے میں نبی ﷺ خطا نہیں کرتے۔
‎کیا امامت کے لیے بھی ایسی کوئی دلیل موجود ہے ؟



‎باطل دعوی3:کہتا ہے کہ صحابہ کا احترام اپنی جگہ مگر جنت وہ دینگے جو گنھگار نہ ہو اور معصومیں پاک پیدا کیے گئے ہیں دوسرے یہاں پاک کیے گئے ہیں۔
‎الجواب: کم سے کم اتنا تو مان گئے کہ پاک کیے گئے ہیں خیر
‎جہاں تک بات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ہے تو وہ قرآن مجید کی نص قطعی سے ثابت ہے کہ سارے کے سارے جنتی ہیں ﴿كُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَىٰ﴾
‎(سورۃ الحدید: 10)

‎باطل دعوی4:سنی بھی پنجتن پاک کہتے ہیں کچھ بڑھا کیون نہیں دیتے؟
‎الجواب: جو ایسا کہتے ہیں اصل میں وہ اپنے دین اسلام سے ناواقف اور باطل نظریات کا شکار ہیں
‎رہی اھلسنت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ نبی خاتم النبیین والمعصومین ہے اس کا انکار کفر ہے
‎پنجتن میں نبی کا سوا جن چار کا ذکر ہے یعنی
‎سیدنا علی المرتضیٰ علیہ السلام
‎سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا
‎سیدنا حسنین علیہم السلام
‎ان سے بھی بڑہ کر کوئی پاک ہے تو وہ ہیں امھات المومنین جن کے اللہ نے قرآن مجید میں فرمایا
‎﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾
‎(الاحزاب: 33)

‎نتیجہ : کہ پنجتن پاک کہنا بھی غلط نہیں مگر یہاں محدود کرنا بھی غلط ہے اور نبی کے سوا دوسروں کو معصوم عن الخطا ماننا بھی کفر اور ختم کا انکار ہے
‎اللہ ہم سب کو سمجھنے کی توفیق دے۔
‎تحریر نصراللہ محمد عمرخان جسکانی
جسکانی میڈیکل اسٹور
عبدالرشید جاگیرانی A***n Turk وقاص احمد

20/01/2026

حدیثِ عمارؓ: حقیقی متواتر نہیں، قولی متواتر ہے، بخاری و مسلم میں مکمل متن نہیں، اور اصل کتاب (الوفاء بأحوال المصطفى ﷺ) میں ساری حدیث ہے کہ باغی گروہ قتل کریگا اور وہ میرے صحابہ نہیں ہونگے

19/01/2026

*🔹 *حصہ 4:* مسلمانو در اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت ذاتی ہے اور اس کی ہر چیز مافوق الاسباب ہے یعنی وہ کسی بھی صفت میں اور کسی بھی طاقت اور قوت کے استعمال کرنے میں کسی بھی سبب کا محتاج نہیں اس لیے اگر کوئی بھی بات اللہ تعالی کی طرف منسوب کی جائے گی تو وہ حقیقی نسبت ہوگی اور وہ مافوق الاسباب نسبت ہوگی اور اگر مخلوق میں سے کسی کی طرف کسی کام کی نسبت کی جائے گی تو وہ مجازی نسبت ہوگی اور ماتحت الاسباب نسبت ہوگی اور یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ مجازی نسبت یا ماتحت الاسباب نسبت فقط اس وقت کی جائے گی جبکہ جس کی طرف نسبت کی جاتی ہے اول تو وہ زندہ ہو دوسری یہ کہ وہ موجود ہو تیسری یہ کہ جس کام کی اس کی طرف نسبت کی جاتی ہے اس کا کچھ نہ کچھ کردار ادا کرنا موجود ہو اور یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ معجزات اور کرامات سے عقیدہ ثابت نہیں کیا جا سکتا. کیونکہ معجزات اور کرامات میں صرف اور صرف فعل اللہ تعالی کا ہوتا ہے اور صاحب معجزہ اور جناب کرامت کا اس میں کوئی بھی دخل نہیں ہوتا ہے نہ ذاتی نہ عطائی کبھی کبھی تو خود صاحب معجزہ کو بھی کوئی علم نہیں ہوتا ہے کہ عنقریب کیا ہونے والا ہے جیسا کہ حضرت موسی علیہ السلام کے لیے اللہ پاک نے فرمایا کہ جب جادوگروں نے جادو کیا فَاَوۡجَسَ فِىۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰى (طہ67)
‎ ترجمہ:- تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے دل میں خوف پایا ہم نے فرمایا ڈر نہیں بے شک تو ہی غالب ہے۔
‎ نوٹ:- اس سے معلوم ہوا کہ خود موسیٰ علیہ السلام کو بھی علم نہیں تھا کہ تھوڑی دیر کے بعد اس میری لاٹھی سے کون سا معجزہ صادر ہونے والا ہے اس لیے معجزات اور کرامات سے نبی یا ولی کی طاقت کا عقیدہ ثابت نہیں ہوتا۔
‎ اب ہم ان آیات کو دیکھتے ہیں جو ایک مشرک قرآن پاک کی ایات کا غلط مطلب بیان کر کے اور عطائی طاقت کی آڑ لے کر شرک کا بازار گرم کرنا چاہتا ہے مثلاً
‎(1) اس نے یہ ایت لکھی ہے
‎ترجمہ: تمہارا رب رؤف و رحیم ہے(النحل 47)
‎اور دوسری آیت میں ہے
‎ترجمہ: بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کو نہایت چاہنے والا اور مسلمانوں کا رؤف رحیم ہے (سورۃ توبہ 128
‎نوٹ:- لکھنے والا ان دونوں آیات میں جو لفظ رؤف و رحیم ہے اس میں برابری بیان کرنا چاہتا ہے فقط ذاتی اور عطائی کا فرق کرتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک تو اللہ تعالیٰ کا رؤف و رحیم ہونا ذاتی ہے اور دوسرا یہ کہ اللہ تعالی اس صفت کو جب بھی اور جس پر بھی استعمال کرنا چاہے تو کر سکتا ہے اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہے لیکن نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ صفت ذاتی نہیں اور یہ بھی اختیار نہیں ہے کہ اس صفت کو جب بھی اور جس پر بھی استعمال کرنا چاہے تو اپنی مرضی سے استعمال نہیں کرتا اس صفت کو استعمال کرنے میں بھی اللہ تعالی کا محتاج ہے اگرچہ کتنا ہی کسی پر رحمت اور شفقت کا ارادہ کیوں نہ رکھتا ہو اور یہ بات خود اسی ہی آیت سے ظاہر ہے یعنی کہ تمہارا مشقت میں پڑنا اس پر گراں گزرتا ہے اور تمہارے لیے میری بھلائی چاہتا ہے سوال اب دیکھنا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سی بھلائی چاہتے تھے؟
‎جواب:- کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ یہ بھلائی چاہتے تھے کہ کوئی ایک آدمی بھی ہدایت سے خالی نہ رہے اس لیے جب طائف والوں نے انتہائی ظلم کا مظاہرہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خون میں لت پت کر دیا اس کے باوجود بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رؤف و رحیم والی صفت کا اظہار کرتے ہوئے اس طرح اللہ تعالی سے دعا مانگی اللّٰهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
‎ ترجمہ:-اے میرے اللہ ان کو تو ہدایت کر بے شک وہ (مجھے خیر خواہ) نہیں جانتے. اس سے معلوم ہوا کہ شفقت تو انتہائی ہے لیکن استعمال نہیں کر سکتا کہ ان پر رحمت کرتے ہوئے ان کے دل میں ہدایت ڈال دے اس لیے اللہ تعالی سے عرض کرتا ہے کہ ان کو ہدایت کی طرف بلاتا تو میں ہوں لیکن ان کے دلوں میں ہدایت تو داخل کر یہ میرے بس کی بات نہیں ہے جسے خود بریلویوں کے ترجمہ کنزالامان کے ص 253 کے حاشیہ نمبر 368 الاعراف آیت 188 میں مذکور ہے۔ کہ اگر میں نے غیب جان لیا ہوتا تو یوں ہوتا کہ میں نے بہت بھلائی جمع کر لی ہوتی بھلائی سے مراد ہے کہ راحتیں حاصل کرنا اور کامیابی حاصل کرنا دشمنوں پر ہمیشہ غالب ہونا حاشیہ ختم ہوا .(معلوم ہوا کہ یہ چیز نہ ذاتی ہے نہ عطائی ہے)(رحمانی صاحب) اور اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچی ہوتی۔ برائیوں سے مراد تنگی کا ہونا اور تکلیف کا آنا اور دشمنوں کا غالب ہونا
‎معلوم ہوا ان چیزوں کا دفاع کرنا بھی نہ ذاتی ہے عطائی ہے. ہاں جتنا اللہ تعالی چاہے گا اتنا ہی بھلائی کو جمع کروں گا اور اتنا ہی تکلیف کا دفاع ہوگا اور ایک آیت میں اللہ تعالی نے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں خطاب فرمایا فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ
‎ترجمہ:ـ تحقیق اللّٰہ تعالیٰ گمراہی میں چھوڑتا ہے جسے چاہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہے تو ان پر حسرت کرتے ہوئے تمہارے جان نہ جائے (کہ وہ ایمان کیوں نہیں لے آتے) (فاطر 8 ).اس آیت سے بھی صاف ظاھر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو انتہائی مشقت اور رحمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے لیے اتنے تڑپتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح یہ ایمان لے لیکن اللہ پاک نے اپنے محبوب پر شفقت کرتے ہوئے دوسروں کے لیے اس طرف سے تڑپنے سے منع فرمایا اور بتایا کہ ہدایت تیرے ہاتھ میں نہیں اگر عطائی رحمت اور شفقت کا استعمال کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں اس طرح ہوتا جس طرح اللہ پاک کے ہاتھ میں اپنے رؤف و رحیم والی صفت کو اپنی مرضی سے استعمال کرنا ہے تو مذکورہ آیتوں کا نزول نہ ہوتا اور نہ ہی طائف والا معاملہ سامنے آتا ہے اسی طرح شفقت کا اظہار ہوا کہ چچا کو ایمان کی دولت نصیب ہو تو اللہ پاک نے فرمایا إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ(سورۃ القصص: 56) اور ایک بار شفقت کا اظہار ہوا کہ میرے رشتہ داروں کو معافی مل جائے تو وہی الٰہی آئی کہ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ اور ایک بار شفقت کا اظہار ہوا کہ ہر کلمہ پڑھنے والے کی مغفرت ہو جائے لیکن جواب آیا کہ جو شخص دل سے کلمہ کو نہیں مانتا اگرچہ وہ ظاہر میں کتنا ہی پرہیزگار نظر کیوں نہ آئے اس کے لیے إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ اور اسی طرح اور بھی کافی ساری آیتیں اس موضوع پر قرآن مجید میں موجود ہیں

17/01/2026
16/01/2026

*📘 سلسلہ: *بریلویوں کے سوالات اور ان کے علمی جوابات*
*🔹 *حصہ 3:* حتی کہ انسان کا وجود بھی اللہ تعالی کی عطا ہے تو عطائی چیز کے لیے یہ کہنا کہ یہ میری ہے صحیح ہے کیونکہ یہ حدیث شریف میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
‎أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ،وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ،وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ(مسلم شریف)
‎وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَا أَكْثَرُ الْأَنْبِيَاءِ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِوَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يَقْرَعُ بَابَ الْجَنَّةِ (مسلم شریف)
‎وَفِي رِوَايَةٍ: أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ،وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا،فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَلْيُصَلِّ،وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تُحَلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي،وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ،وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً،
‎وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً(متفقہ علیہ)
‎وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ، وَلَا فَخْرَ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ يَوْمَئِذٍ - آدَمُ وَمَنْ سِوَاهُ - إِلَّا تَحْتَ لِوَائِي، وَلَا فَخْرَ، وَتَسْمَعُ عُمَّةُ الْأَرْضِ وَلَا فَخْرَ.(ترمذی شریف)
‎وَفِي رِوَايَةٍ: وَأَنَا حَبِيبُ اللَّهِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُحَرِّكُ حَلَقَةَ الْجَنَّةِفَيَفْتَحُ اللَّهُ فَيُدْخِلُنِيهَا وَمَعِي فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَكْرَمُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ عَلَى اللَّهِ وَلَا فَخْرَ.(ترمذی شریف)
‎وَفِي رِوَايَةٍ:أَنَا قَائِدُ الْمُرْسَلِينَ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَلَا فَخْرَ(سنن دارمی)
‎وَفِي رِوَايَةٍ:وَإِنَّ اللهَ بَعَثَنِي لِتَمَامِ مَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ وَكَمَالِ الْمَحَاسِنِ(رواہ فی شرح السنتہ) (مشکوٰۃ شریف جلد2 باب فضائل سید المرسلین ص511)
‎ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں قیامت کے دن آدم علیہ السلام کی اولاد کا سردار ہونگا ۔ اور سب سے پہلے میں ہی اپنے قبر سے اٹھوں گا اور پہلا میں ہی شفاعت کرنے والا ہوں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول کی جائے گی اور قیامت کے دن سب نبیوں سے زیادہ میرے تابعدار ہوں گے اور سب سے پہلے میں ہی جنت کے دروازے کو کھٹکھٹاؤں گا اور وہ سب سے پہلے میرے ہی لیے کھولا جائے گا اور اللہ تعالی نے ایسے پانچ انعام مجھے عطا کیے ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو بھی وہ انعام نہیں عطا کیے گئے تھے
‎(1) میری ایسی مدد کی گئی ہے کہ میں ایک مہینے کی منزل دور ہوتا ہوں پھر بھی دشمن پر میرا رعب پہنچتا ہے۔
‎(2) اور پوری زمین میرے لیے پاک اور سجدے گاہ بنائی گئی ہے کہیں بھی میرے امتی کو نماز کا ٹائم ہو جائے تو ادھر ہی وہ نماز پڑھ سکتا ہے۔
‎(3) اور میرے لیے غنیمت کا مال حلال کیا گیا ہے جو مجھ سے پہلے کسی ایک نبی کے لیے بھی مال غنیمت حلال نہیں تھا۔
‎(4) اور میں ہی وہ ہوں جس کو شفاعتِ عظمیٰ (بڑی شفاعت) کا وعدہ یا عزم دیا گیا ہے۔
‎(5)اور مجھ سے پہلے ہر نبی خاص قوم کی طرف مبعوث کیا گیا اور میں محمد وہ ہوں جو تمام انسانوں کی طرف نبی بنا کر بلکہ خاتم النبیین بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔
‎اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ قیامت کے دن آدم علیہ السلام کی اولاد کا میں سردار ہوں گا اس میں فخر نہیں ہے (بلکہ شکر ہے) اور میرے اس ہاتھ میں یہی. لواء الحمد (تعریف کا جھنڈا) ہوگا کوئی فخر نہیں اور سب نبی میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے کوئی فخر نہیں (بلکہ شکر ہے.)
‎وفی روایت ترجمہ: اور میں اللہ کا حبیب ہوں کوئی فخر نہیں اور میں پہلا شفاعت کرنے والا ہوں اور میں پہلا ہی مقبول شفاعت ہوں قیامت کے دن کوئی فخر نہیں اور میں ہی وہ پہلا شخص ہوں جو جنت کے دروازے کو دستک دوں گا اور میرے لیے وہ کھولا جائے گا اور فقراء مومنین کے ساتھ مجھ کو اللہ تعالی اس میں داخل کرے گا کوئی فخر نہیں اور میں پہلے اور پچھلے والوں سے زیادہ عزت والا ہوں اس پر بھی کوئی فخر نہیں( بلکہ شکر ہے).
‎و فی روایت ترجمہ :میں سب رسولوں کا قائد ہوں اور آخری نبی ہوں کوئی فخر نہیں
‎وفی روایت ترجمہ: تحقیق اللہ نے مجھے اچھے اخلاق اور کمال احسبان(تمام خوبیوں کا کمال) کے کامل کرنے کے لیے بھیجا ہے صدق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم.
‎دیکھو مسلمانوں کہ کسی چیز کا کسی کے پاس ہونا یہ عطا ہی ہے نہ یہ کہ ذاتی ہے جیسے کہ فرمان خدا ہے ۔قَالَ رَبُّنَا الَّذِىۡۤ اَعۡطٰـى كُلَّ شَىۡءٍ خَلۡقَهٗ ثُمَّ هَدٰى ۞ (اور طہ 50)
‎ترجمہ: حضرت موسی علیہ السلام نے فرعون سے کہا کہ ہمارا رب وہ ہے کہ ہر چیز کو پیدا بھی اسی نے کیا ہے اور ہر چیز میں جو بھی تاثیر ہے وہ بھی اس نے ہی عطا کی ہے اور ہر چیز کو زندگی گزارنے کا طریقہ اسی نے ہی سکھایا ہے.
‎وَفِي مَقَامٍ آخر : وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَىۡءٍ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ۞(النمل 23)
‎ترجمہ:(ملکہ بلقیس کو)ہر چیز عطا کی گئی ہے اور اس کا بڑا تخت ہے .
‎وَفِي مَقَامٍ آخر: وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَىۡءٍؕ‌(النمل16)
‎ترجمہ: حضرتِ سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ ہر چیز ہمیں عطا کی گئی ہے ۔
‎وَفِي مَقَامٍ آخر:وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيۡكَ رَبُّكَ فَتَرۡضٰىؕ ۞ (الضحی5)
‎اور عنقریب آپ کو عطا کریگا آپ کا رب وہ آپ راضی ہو جاؤ گے
‎وَفِي آيَةٍ:اِنَّآ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ ۞(الکوثر 1)
‎ترجمہ:(اے پیغمبر)بیشک ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا۔
‎وَفِي آيَةٍ:وَمَا بِكُمۡ مِّنۡ نّـِعۡمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ‌(سورہ نحل53)
‎ترجمہ:اور جو نعمت آپ کو میسر ہیں وہ اللہ کی طرف سے ہیں۔
‎نوٹ: اب معلوم ہوا کہ اگر کوئی کسی چیز کے ہونے کا اقرار کرتا ہے تو وہ چیز اس کو عطائی ہی ہے اور اگر کوئی کسی چیز کا ہونے کا انکار کرتا ہے تو وہ بھی عطا کا ہی انکار کرتا ہے یہ چیز مجھے عطا نہیں کی گئی ہے لیکن مشرک عطائی کی آڑ لے کر شرک کا دروازہ کھولنا چاہتا ہے لیکن پھر بھی وہ اس مقصد میں انشاءاللہ کامیاب نہیں ہوگا مسلمان بھائیو یہ بات تو آپ سمجھ گئے کہ کسی نعمت یا فضیلت کا اگر کسی نے اقرار کیا تو وہ اقرار عطائی چیز کا ہی ہے اور اگر کسی چیز کا اپنے پاس ہونے کا انکار کیا یا نفی کر دی تو وہ بھی عطائی چیز کا ہی انکار اور نفی ہے نہ یہ کہ ذاتی کیونکہ ہر بندے کو جو بھی ہے وہ عطائے رب العالمین ہے. جیسا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے فرمایا
‎وَاَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثۡ ۞ (الضحی11)
‎ترجمہ:( اے میرے محبوب) اپنے رب کی نعمتوں کا (شکرانے کے طور پر) بیان کر اور جیسا کہ فرمایا کہ ثُمَّ لَـتُسۡئَـلُنَّ يَوۡمَئِذٍ عَنِ النَّعِيۡمِ ۞(التکاثر 8)
‎ترجمہ: قیامت کے دن تم میں سے ہر نعمت کے متعلق سوال کیا جائے گا کہ( تم نے اس نعمت کا کیا شکر کیا) اب یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے کن کن نعمتوں پر شکر ادا فرمایا اور کون کون سی باتوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ سے اللہ کے حکم سے نفی کر دی ہے.
‎جو چیزیں عطائی ہیں وہ یہ ہیں.
‎(1) میں خاتم النبیین ہوں۔
‎(2) میں حبیب اللہ ہوں۔
‎(3) مجھے ایک مہینے کی منزل کے فاصلے پر بھی دشمن پر رعب دیا گیا ہے۔
‎(4) پوری زمین میرے لیے پاک اور مسجد بنائی گئی ہے .
‎(5) اور میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا ہے.
‎ (6) اور میں ہی وہ ہوں جسے شفاعت عظمیٰ کا عزم دیا گیا ہے.
‎(7)اور میں محمد وہ نبی ہوں جو تمام انسانوں کی طرف نبی بنا کر بلکہ خاتم النبیین بنا کر بھیجا گیا ہوں۔
‎(8) میں قیامت کے دن آدم کی اولاد کا سردار ہوں گا / بنوں گا۔
‎(9) اور میرے ہی ہاتھ میں لواء الحمد (تعریف کا جھنڈا) ہوگا
‎(10) اور مجھے ایسا شرف دیا گیا ہے کہ قیامت کے دن سب نبی میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے۔
‎ (11) اور میں ہی پہلا شفاعت کرنے والا ہوں گا.
‎ (12) اور قیامت کے دن میں ہی مقبول شفاعت ہوں گا.
‎(13) اور میں ہی وہ پہلا شخص ہوں جو جنت کے دروازے کو دستک دوں گا اور میرے لیے وہ کھولا جائے گا.
‎(14) اور میں ہی پہلے اور پچھلے والوں سے زیادہ عزت والا ہوں.

‎جو چیزیں عطائی بھی نہیں ہیں وہ یہ ہیں
‎(1) آپ لوگوں کو بتا دیں کہ میں اپنی جان کے لیے بھی نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں (سورہ اعراف 188 )
‎(2) اور قیامت کا علم مجھے نہیں ہے کہ قریب یا دور ہے (سورۃ الجن 25)
‎(3) اور میں تمہارے لیے نقصان اور ہدایت کا مالک نہیں ہوں (الجن21)
‎(4) اور تو بتا دے کہ میرے پاس اللہ کے خزانے نہیں ہیں اور نہ ہی میں غیب جانتا ہوں اور میں فرشتہ بھی نہیں ہوں میں تو صرف اللہ تعالی کے حکم کا تابعدار ہوں (الانعام 50)
‎(5) اور تو بتا دے کہ اگر میں غیب کا جاننے والا ہوتا تو البتہ میں تمام بھلائیوں کو جمع کرنے والا ہوتا اور مجھے کوئی بھی تکلیف نہ پہنچتی۔(الاعراف 188)
‎بھلائی سے مراد راحتیں اور کامیابیاں اور دشمنوں پر غلبہ ہے اور برائیوں سے تنگی تکلیف اور دشمنوں کا غالب آنا ہے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بھلائی سے مراد سرکشوں کا مطیع اور نافرمانوں کا فرمانبردار اور کافروں کا مومن ہو کر لینا ہو اور برائی سے بدبخت لوگوں کا باوجود دعوت کے محروم رہ جانا مراد ہو۔ حوالہ خزائن العرفان(بریلوی نعیمالدین ص208).
‎نوٹ: حدیث شریف میں ہے کہ سب سے زیادہ انبیاء علیہ السلام کو تکلیف دی گئی اور میں محمد کو سب سے زیادہ تکلیفیں پہنچائی گئی.
‎(6) اور تو لوگوں کو بتا دے کہ اگر وہ چیزیں میرے پاس ہوتی جس کی تم جلدی کرتے رہے ہو عذاب تو البتہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ ہو چکا ہوا ہوتا لیکن معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے( انعام ایت 58)
‎(7) اور اگر ان ان کا منہ پھیرنا تم پر شاق گزرتا ہے تو اگر تم سے ہو سکے تو زمین میں کوئی سرنگ تلاش کر لو یا آسمان میں کوئی زینہ لگا کر پھر ان کے لیے کوئی نشانی (معجزہ) لے آ(انعام35).
‎نوٹ: سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت خواہش تھی کہ سب لوگ اسلام لے آئین اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں دو باتوں کو واضح کیا گیا ہے کہ یہ کہ کسی کے دل کو ایمان کی طرف پھیرنا آپ کے بس میں نہیں ہے دوسری بات یہ کہ اگر وہ معجزے کے بغیر ایمان نہیں لے آتے تو زمین سے یا آسمان سے ان کو کوئی معجزہ دکھانا یہ بھی آپ کے بس میں نہیں ہے نہ ذاتی نہ عطائی۔
‎(8) (آپ ان کو بتا دیں) کہ تمہارے پاس آنکھیں کھولنے والی دلیلیں آئیں تمہارے رب کی طرف سے تو جس نے دیکھا مانا اپنے بھلے کو اور جو اندھا ہوا وہ بھی اپنے برے کو اور میں تم پر نگہبان نہیں ہوں.( سورہ انعام 104)
‎(9) اور ہم نے تمہیں ان پر نگہبان نہیں کیا اور تو ان پر داروغہ نہیں ہے.(الانعام 107).
‎(10) اگر وہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تمہیں ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا تم پر تو فقط پیغام پہنچانا ہے۔(الشوری 48)
‎(11) کیا تم جہنمیوں کو بچا سکےگا(الزمر19)
‎(12) (بندوں کا معاملہ) تیرے ہاتھ میں نہیں ہے یا تو اللہ ان کو توبہ کی توفیق دے یا ان پر عذاب کرے پس تحقیق وہ ظالم ہے( یہ اس کی مرضی ہے).(آل عمران 128)
‎مسلمانوں دراصل اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالی کی ہر صفت ذاتی ہے اور اس کی ہر چیز مافوق الاسباب ہے یعنی وہ کسی بھی صفت میں اور کسی بھی طاقت اور قوت کے استعمال کرنے میں کسی بھی سبب کا محتاج نہیں اس لیے اگر کوئی بھی بات اللہ تعالی کی طرف منسوب کی جائے گی تو وہ حقیقی نسبت ہوگی اور وہ مافوق الاسباب نسبت ہوگی اور اگر مخلوق میں سے کسی کی طرف کسی کام کی نسبت کی جائے گی تو وہ مجازی نسبت ہوگی اور ماتحت الاسباب نسبت ہوگی اور یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ مجازی نسبت یا ماتحت الاسباب نسبت فقط اس وقت کی جائے گی جبکہ جس کی طرف نسبت کی جاتی ہے اول تو وہ زندہ ہو دوسری یہ کہ وہ موجود ہو تیسری یہ کہ جس کام کی اس کی طرف نسبت کی جاتی ہے اس کا کچھ نہ کچھ کردار ادا کرنا موجود ہو اور یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ معجزات اور کرامات سے عقیدہ ثابت نہیں کیا جا سکتا. کیونکہ معجزات اور کرامات میں صرف اور صرف فعل اللہ تعالی کا ہوتا ہے اور صاحب معجزہ اور جناب کرامت کا اس میں کوئی بھی دخل نہیں ہوتا ہے نہ ذاتی نہ عطائی کبھی کبھی تو خود صاحب معجزہ کو بھی کوئی علم نہیں ہوتا ہے کہ عنقریب کیا ہونے والا ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے اللہ پاک نے فرمایا کہ جب جادوگروں نے جادو کیا فَاَوۡجَسَ فِىۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰى (طہ67).
‎ ترجمہ:تو موسی علیہ السلام نے اپنے دل میں خوف پایا ہم نے فرمایا ڈر نہیں بے شک تو ہی غالب ہے۔
‎نوٹ: اس سے معلوم ہوا کہ خود موسی علیہ السلام کو بھی علم نہیں تھا کہ تھوڑی دیر کے بعد اس میری لاٹھی سے کون سا معجزہ صادر ہونے والا ہے اس لیے معجزات اور
کرامات سے نبی یا ولی کی طاقت کا عقیدہ ثابت نہیں ہوتا۔






#توحید

15/01/2026

*📘 سلسلہ: *بریلویوں کے سوالات اور ان کے علمی جوابات*
*🔹 *حصہ 2:* قال اللہ تعالیٰ وَالَّذِيۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَ‌ ۘ مَا نَعۡبُدُهُمۡ اِلَّا لِيُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلۡفٰى ؕ
ترجمہ: اور جنہوں نے اس (اللہ) کے سوا اوروں کو حمایتی بنا لیا ہے (اور) کہتے ہیں ہم تو انہیں صرف اتنی بات کے لیے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے پاس نزدیک کر دیں.(سورہ زمر3) نوٹ: اللہ تعالی نے یہ جو مشرکوں کا قول نقل کیا ہے اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ مشرک بھی غیر اللہ کو اس لیے پوچھتے تھے کہ ان کے عقیدے میں جن نبیوں اور ولیوں کے نام پر انہوں نے پتھروں پر تصویریں بنائی تھی وہ انبیاء اور اولیاء اللہ کی عطا سے ہی اس مرتبت تک پہنچے ہوئے تھے کہ وہ ان مشرکوں کی مدد کر سکتے ہیں یعنی خود اللہ نہیں ہیں۔ مشرکین مکہ جب ان کو مددگار سمجھتے تھے تو ان کو راضی کرنے کے لیے ان کے ناموں پر نظر اور نیاز اور صدقہ خیرات کرتے تھے یہ تھی ان کی مالی عبادت اور ان کے سامنے سجدہ کرتے اور آہو زاری کرتے ہوئے ان کو پکارتے کے کاش ان کو ہمارے حال پر رحم آئے یہ تھی ان کی بدنی عبادت اور عقیدہ ان کا یہ تھا کہ جو کام اللہ تعالی کی عطا سے ان کے بس میں ہو تو خود کر لیں پھر جب ان کو کہا گیا کہ اللہ تعالی کے سوا دوسروں کو کیوں مددگار سمجھتے ہو جس کی وجہ سے ان کی عبادت کرتے ہو تو وہ یہ جواب دیتے تھے کہ اس لیے کہ یہ ہم کو اللہ تعالی کے قریب کریں گے(سورہ زمر 3)اور ان کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ اگر ہمارا کام ان کے بس میں نہیں ہوگا تو ایسے کاموں میں وہ ہمارے لیے اللہ تعالی سے سفارش کریں گے.
کما قال اللہ تعالی: وَيَقُوۡلُوۡنَ هٰٓؤُلَاۤءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰهِ‌ؕ
ترجمہ: مشرک کہتے ہیں کہ یہ( تصویر والے نبی یا بزرگ) اللہ تعالی کے پاس ہمارے سفارشی ہیں. (یونس 18)
بحرحال سفارشی سمجھ کر یا مافوق الاسباب طاقت کا مالک سمجھ کر ان کی پرستش کرتے تھے اور ان کا یہ کہنا کہ اللہ تعالی کے قریب کریں گے یا اللہ کے پاس سفارش کریں گے یہ قول دلالت کرتا ہے کہ ان کا عقیدہ یہی تھا کہ اللہ تعالی کی عطا سے اس کے لائق ہوئے ہیں اور اگر ان کا عطائی عقیدہ نہیں ہوتا تو کیوں کر کہتے کہ یہ عند اللہ سفارشی ہیں یا اللہ کے قریب کریں گے مشرکوں کی ایک نشانی تو اللہ تعالی نے یہ بتائی کہ یہ تصویروں والے نبی ہوں یا ولی ہوں عند اللہ ہمارے سفارشی ہیں اور دوسری نشانی یہ بتائی کہ یہ تصویروں والے اللہ تعالی کی عطا سے اس منزل تک رسائی کر چکے ہیں کہ ان کو مددگار سمجھ کر ان کی عبادت کرنے سے آدمی اللہ تعالی کے قریب ہو جاتا ہے اور یہ بھی عرض کر دوں کہ یہ بات بھی یقینی ہے کہ مشرکین مکہ نے جو تصویریں کعبۃ اللہ میں چسپاں کر دی تھی ان میں سب سے بڑی اور نمایاں تصویر یہ تھی (حضرت ابراہیم خلیل اللہ)(حضرت اسماعیل ذبیح اللہ) (حضرت عیسی بن مریم )(حضرت مریم) کی جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے اور بریلویوں کے اعلی حضرت احمد رضا خان کی ملفوظات میں بھی ہے اور یہ بھی اہل علم کو معلوم ہے کہ ہر دور کے مشرک اللہ تعالی کے نیک بندوں کو ہی اللہ تعالی کی عطا سے کارساز سمجھ کر پوجتے اور مشکل کشائی میں پکارتے تھے۔
‎کما قال اللہ تعالی قُلِ ادۡعُوا الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ فَلَا يَمۡلِكُوۡنَ كَشۡفَ الضُّرِّ عَنۡكُمۡ وَلَا تَحۡوِيۡلًا ۞اُولٰۤئِكَ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ يَبۡتَغُوۡنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الۡوَسِيۡلَةَ اَيُّهُمۡ اَقۡرَبُ وَيَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَهٗ وَيَخَافُوۡنَ عَذَابَهٗؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحۡذُوۡرًا ۞
‎ترجمہ:(احمد رضا خان بریلوی) تم فرماؤ پکارو انہیں جن کو اللہ کے سوا گمان کرتے ہو تو وہ اختیار نہیں رکھتے تم سے تکلیف دور کرنے اور نہ پھیرنے کا وہ مقبول بندے جنہیں یہ کافر پوجتے ہیں وہ آپ ہی اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں بے شک تمہارے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے۔
نوٹ: اس ایت نے مسئلہ حل کر دیا کہ مشرکین مکہ بھی اللہ تعالی کے مقبول بندوں کو پوجتے تھے اب سوال یہ ہے کہ وہ مقبول بندے کون تھے تو اس کا جواب احمد رضا بریلوی کے ترجمے کے حاشیہ پر مفتی نعیم الدین مراد آبادی نے یہ لکھا ہے کہ وہ حضرت عیسی علیہ السلام حضرت عزیز علیہ السلام اور ملائکہ تھے حضرت عیسیٰ رسول تھے اور حضرت عزیز نبی تھے ان کے بارے میں لوگوں کے دو گروہ تھے ایک گروہ نے ان کو نبی اور رسول مان کر ان پر کلمہ پڑھا ان کی عزت اور مرتبے کے قائل ہوئے اور ان کے معجزے دیکھ کر اور سن کر ان کے مقتعداور تابعدار بنے اور مان لیا کہ ان کی عند اللہ بڑی عزت ہے اور اللہ تعالی نے ان کو بڑی عظمت عطا کی ہے اور دوسرا گروہ وہ تھا جنہوں نے ان کو رسول اور نبی نہیں مانا اور ان کے دعوائے نبوت کو جھٹلایا اور ان کے معجزات کو جادو سمجھ کر ان کے مرتبت کے منکر ہو گئے اور ان کی جان کے دشمن بن گئے تو اب ایک باشعور انسان سمجھ سکتا ہے کہ جنہوں نے ان نبیوں کو جھٹلایا اور جادوگر سمجھا اور ان پر کلمہ بھی نہیں پڑھا ان کی مرتبت کے قائل بھی نہیں ہوئے وہ تو کبھی بھی ان میں مدد کرنے کا گمان ہی نہیں کریں گے اس لیے کہ قائل ہی نہیں ہوئے وہ تو کبھی بھی ان کو مصیبت میں نہیں پکاریں گے ہاں ان کو پکارنے والے وہی گروہ ہوگا جو ان پر کلمہ پڑھتے تھے اور ان کی عزت اور مرتبت کے عطائی طور پر قائل تھے اس لیے وہ ان کو مصیبت ٹالنے والا گمان کرتے تھے غائبانہ یا ان کے نام پر پتھروں کے بنے ہوئے تصویروں کے سامنے گڑگڑائے اور آہوزاری کرتے تھے لیکن اللہ تعالی نے ان کی عطائی طاقت کے گمان کی نفی کر دی اور فرمایا جن کو تم عطائی طاقت سے مشکل دور کرنے کا گمان کرتے ہو وہ تو طاقت نہیں رکھتے تم سے تکلیف دور کرنے اور پھیرنے کی (بنی اسرائیل 56 )
اور حدیث شریف میں بھی مشرکین مکہ کا طواف کرتے وقت تلبیہ پڑھنا ان الفاظوں میں مذکور ہے
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ،لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ،إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ،تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ
‎ترجمہ:حاضر ہوں اے اللہ! حاضر ہوں،حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں،مگر ایک شریک ہے جو تیرا ہی ہے،تو اس کا بھی مالک ہے اور جو کچھ وہ رکھتا ہے اس کا بھی مالک ہے۔(مسلم )
‎نوٹ: مشرکوں کے ایسے تلبیے کہنے کا مطلب ظاہر ہے کہ وہ بھی کسی کو اللہ تعالی کا مستقل شریک نہیں سمجھتے تھے بلکہ ان کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ ان شرکاء کا مالک بھی اللہ تعالی ہے اور یہ ان کے مخلوق ہیں ہاں عطائی طور پر وہ اس منزل تک پہنچ گئے ہیں کہ بعض امور میں اللہ تعالی کے شریک ہیں اے مسلمانو اگر عطائی طور پر بھی اللہ تعالی کی خصوصی صفات کے ساتھ کسی کو شریک ماننا یا شریک سمجھنا شرک نہیں ہے تو پھر مکہ والوں کو مشرک کیوں کہا گیا ؟ اس لیے ہم نے شروع ہی میں یہ عرض کیا ہے کہ کسی کو بھی کوئی چیز اپنی ذاتی ہے ہی نہیں حتیٰ کہ انسان کا وجود بھی اللہ تعالی کی عطا ہے۔


#بریلویت
#مشرک
#شرکت

14/01/2026

*📘 سلسلہ: *بریلویوں کے سوالات اور ان کے علمی جوابات*
*🔹 *حصہ 1:* بسم اللہ الرحمن الرحیم. الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمعصومین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم قال اللہ تعالی فی قرآن المجید • وَالَّذِيۡنَ جَاهَدُوۡا فِيۡنَا لَنَهۡدِيَنَّهُمۡ سُبُلَنَا ‌ؕ
‎ترجمہ:اور جن لوگوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ہم اُن کو ضرور اپنے راستے پر چلائیں گے۔ (عنکبوت 6)۔
‎و فی مقام آخر قال اللہ تعالیٰ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ‌ۚ ۞
‎اور اللہ نا انصافوں کو ہدایت نہیں کرتا
‎سورۃ البقرة 258
‎وفی آیت ‌ؕاِنَّ الشِّرۡكَ لَـظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ۞
‎ترجمہ : بیشک شرک بڑا ظلم ہے۔(لقمان 13)
‎اللہ رب العزت نے انسانوں کی ہدایت کے لیے اپنے پیارے رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر قران مجید نازل فرمایا اور آپ کو حکم فرمایا کہ اپنی امت کو اس کلام مقدس کی تعلیم دیں اور ان کو کتاب اللہ کے ساتھ حکمت بھی سکھلائیں اب قیامت تک ہر انسان کے لیے قرآن اور فرمان رسول سے ہدایت ملے گی اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی تعلیم شروع کی تو اس وقت میں مکہ کے لوگ مشرک ہونے میں بڑے مشہور تھے اور انہوں نے بیت اللہ شریف میں نبیوں اور ولیوں اور نیک صالح لوگوں کے نام پر پتھروں پر تصویریں بنا کر نصب کی تھیں جب اللہ کے نبی نے ان کے سامنے لا الہ الا اللہ پڑھا تو مشرک لوگ بہت خفا ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور جس نے یہ کلمہ مان کر پڑا اس کو طرح طرح کی تکلیفیں دینے پر اتر آئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے کسی تکلیف کی پرواہ نہیں کی اور توحید کا سبق جاری رکھا اور شرک کی مخالفت کرتے رہے مگر افسوس کہ جس توحید کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مومنوں کے دلوں میں کوس کوس کر بھر دیا تھا اور مشرک کے ہر حربے کو توڑ دیا تھا. اج اسی پیغمبر پر کلمہ پڑھنے والے توحید کو شرک میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اسی کا نام عطائی قوت سے موسوم کر رہے ہیں یعنی کہ مخلوق میں اللہ تعالی کی خصوصی طاقت کو اللہ تعالی کی عطا سے مان کر مخلوق کو مافوق الاسباب طاقت کا مالک سمجھ رہے ہیں اگر مخلوق کو اللہ تعالی کی عطا سے ہی مافوق الاسباب طاقت کا مالک سمجھنا شرک نہیں ہے تو پھر مشرکین مکہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا اللہ تعالی نے کیوں مشرک ٹھہرایا وہ بھی تو اللہ تعالی کے مقبول بندوں کو اللہ تعالی کی عطا سے ہی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے کیا کوئی بھی انسان یہ عقیدہ رکھ سکتا ہے کہ اللہ تعالی کو بھی ذاتی طاقت ہے اور کسی انسان کو بھی جو طاقت ہے وہ ذاتی ہے ایسا عقیدہ کسی انسان کا بھی نہیں کیونکہ ہر انسان یہ مانتا ہے کہ کسی بھی انسان کو اپنا وجود ہی ذاتی نہیں ہے ہر ایک کو وجود بھی عطائی ہے جبکہ وجود ہی ذاتی نہیں تو کسی کی ذاتی طاقت کا کیسے عقیدہ رکھ سکتا ہے ہرگز نہیں؟
‎جیسا کہ اللہ تعالی نے مشرکین مکہ کا عقیدہ اس طرح بیان فرمایا ہے
‎قال اللہ تعالیٰ: قُلۡ مَنۡ يَّرۡزُقُكُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ اَمَّنۡ يَّمۡلِكُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَ مَنۡ يُّخۡرِجُ الۡحَـىَّ مِنَ الۡمَيِّتِ وَيُخۡرِجُ الۡمَيِّتَ مِنَ الۡحَـىِّ وَمَنۡ يُّدَبِّرُ الۡاَمۡرَ‌ؕ فَسَيَـقُوۡلُوۡنَ اللّٰهُ‌ۚ فَقُلۡ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ۞
‎ترجمہ: تم فرماؤ کون روزی دیتا ہے تم کو آسمان اور زمین سے یا کون مالک ہے کانوں اور آنکھوں کا اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردے سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے اور کون تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے تو ( مشرک) کہیں گے یہ سب کچھ اللہ تعالی کرتا ہے تو فرماؤ تم کیوں نہیں ڈرتے
‎تو اس سے معلوم ہوا کہ. مشرکین مکہ بھی یہی عقیدہ تھا کہ ہر ایک چیز کا ذاتی طور پر مالک اللہ تعالی ہی ہے اور اس کے باوجود بھی وہ غیر اللہ کی بندگی کرتے تھے تو اس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ وہ ان کو کچھ کاموں میں عطائی طور پر مالک سمجھتے تھے تو عطائی طور پر بھی کسی کو مافوق الاسباب طاقت کا مالک سمجھنا شرک ہے اور یہی قرآن کی تعلیم ہے۔

تحریر ✍️ نصراللہ جسکانی
#بریلویت

14/01/2026

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
دستو اسلامک پوسٹوں کے لیے اس پیج کا فالو کریں شکریہ

08/01/2026

للکار بندیالوی

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Sukkur?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Sukkur