M Fazan Ahmad

M Fazan Ahmad

Share

ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے ♥
کرلے جو کرنا ہے آخر موت ہے♥

29/01/2023

میرے محترم دوستوں
‏حق پر ایسے کھڑے رہو
جیسے یوتھیے جہالت پر کھڑے ہیں 😉

29/01/2023

پٹرول 1 ہزار روپے لیٹر ہو جائے تب بھی ہم عمران خان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے خان کا ساتھ مافیاز کو جیل ڈالنے کیلئے دیا ہے، پٹرول سستا کرنے کے لیے نہیں۔

پرانی یادیں😉

29/01/2023
28/01/2023

بسم ﷲ الرحمٰن الرحیم

قارون موسی' کی قوم میں سے تھا پهر وه ان پر زیادتی کرنے لگا اور ہم نے اسے اتنے خزانے بخشے تھے کہ اس کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو اٹھانا مشکل ہوتی -

جب اس سے اس کی قوم نے کہا کہ اترائیے نہیں کہ ﷲ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا اور جو مال تم کو ﷲ نے عطا کیا ہے اس سے آخرت کی بھلائی طلب کیجئے اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھولائیے اور جیسی ﷲ نے تمہارے ساتھ بھلائی کی ہے ویسی تم بھی لوگوں کے ساتھ بھلائی کرو اور ملک میں طالب و فساد نہ ہو اس لئے کہ ﷲ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا -

وه بولا کہ مجھے یہ سب میرے ہنر کے سبب ملا ہے -

کیا اسے معلوم نہ تھا کہ ہم نے اس سے پہلے بہت سی قومیں جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جماعت میں پیشتر تھی ہلاک کر دی تھی اور کیا گناه گاروں سے ان کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جاۓ گا ؟

تو ایک دن قارون بڑی ٹهاٹ سے اپنی قوم کے سامنے نکلا
جو لوگ دنیا کی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے جیسا مال و متاه قارون کو ملا ہے , کاش ایسا ہمیں بھی ملے وه تو بڑے نصیب والا ہے اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وه کہنے لگے تم پر افسوس مومنوں اور پرہیزگاروں کے لئے جو صلہ ﷲ کے ہاں تیار ہے وه بہت بہتر ہے اور وه صرف صبر کرنے والوں کو ہی ملے گا -

بس ہم نے قارون اور اس کی حویلی کو زمین میں دهنسا دیا تو ﷲ کے سوا کوئی جماعت اس کی مدد گار نہ ہو سکی اور نہ وه بدلہ لے سکا اور وه جو کل کو اس کے رتبے کی تمنا کرتے تھے صبح کو کہنے لگے ہاۓ شامت ﷲ ہی تو اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے اگر ﷲ ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی زمین میں دهنسا دیتا - ہاۓ خرابی کافر کامیاب نہیں ہوتے -

وه جو آخرت کا گھر ہے ہم نے اسے ان لوگوں کے لئے تیار کر رکھا ہے جو ملک میں ظلم اور فساد کا ارادہ نہیں رکھتے اور انجام نیک تو پرہیزگاروں کا ہی ہے -
القرآن سورت نمبر 28 آیت 76 تا 84

26/01/2023

ایک شخص کا بیٹا رات کو دیر سے آتا اور جب بھی اس سے باپ پوچھتا کہ بیٹا کہاں تھے ۔؟
تو جھٹ سے کہتا دوست کے ساتھ تھا ۔ایک دن بیٹا جب بہت زیادہ دیر سے آیا تو باپ نے کہا کہ بیٹا آج ہم آپ کے
دوست سے ملنا چاہتے ہیں ۔
بیٹے نے کہا کے اباجی اس وقت؟
ابھی رات کے دو بجے ہیں کل چلتے ہیں ۔
نہیں ابھی چلتے ہیں ۔
آپ کے دوست کا تو پتہ چلے،
باپ نے ابھی یہ زور دیتے ہوئے کہا ۔
جب اس کے گھر پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا تو کافی دیر
تک کوئی جواب نہ آیا ۔
بلاآخر بالکونی سے سر نکال کہ ایک بزرگ نے جو اس کے دوست کا باپ تھا آنے کی وجہ دریافت کی تو لڑکے نے کہا
اپنے دوست سے ملنے آیا ہوں ۔
اس وقت، مگر وہ تو سو رہا ہے بزرگ نے جواب دیا ۔
چاچا آپ اس کو جگاؤ مُجھے اس سے ضروری کام ہے ،
مگر بہت دیر گزرنے کے بعد بھی یہی جواب آیا کہ صبح کو آجانا
ابھی سونے دو ۔
اب تو عزت کا معاملہ تھا تو اس نے ایمرجنسی اور اہم کام کا
حوالہ دیا مگر آنا تو درکنار دیکھنا اور جھکنا بھی گوارا
نہ کیا ۔
باپ نے بیٹے سے کہا کہ اب چلو ایک میرے ایک دوست کے پاس
چلتے ہیں ۔
جس کا نام خیر دین ہے ۔
دور سفر کرتے اذانوں سے ذرا پہلے وہ اس گاؤں پہنچے اور
خیر دین کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا،
مگر جواب ندارد، بالآخر اس نے زور سے اپنا نام بتایا کہ میں
اللہ دتہ ،مگر پھر بھی دروازہ ساکت اور کوئی حرکت نہیں ۔
اب بیٹے کے چہرے پہ بھی فاتحانہ مسکراہٹ آگئی ۔
لیکن اسی لمحے لاٹھی کی ٹھک ٹھک سنائی دی، اور
دروازے کی زنجیر اور کنڈی کھولنے کی آواز آئی،
ایک بوڑھا شخص برآمد ہوا جس نے لپیٹ کر اپنے دوست کو
گلے لگایا اور بولا کہ میرے دوست، بہت معذرت ۔ مُجھے دیر
اس لیے ہوئی کہ جب تم نے 27 سال بعد میرا دروازہ رات
گئے کھٹکھٹایا تو مُجھے لگا کہ کسی مصیبت میں ہو
اس لئے جمع پیسے نکالے کہ شاید پیسوں کی ضرورت ہے ۔
پھر بیٹے کو اٹھایا شاید بندے کی ضرورت ہے ۔
پھر سوچا شاید فیصلے کے لیے پگ کی ضرورت ہو تو اسے
بھی لایا ہوں ۔
اب سب کچھ سامنے ہیں،
پہلے بتاؤ کس چیز کی ضرورت ہے؟
یہ سن کر بیٹے کی آنکھوں سے آنسو آگئے کہ اباجی کتنا
سمجھاتے تھے کہ بیٹا دوست وہ نہیں ہوتا جو رات جگوں
میں ساتھ ہو بلکہ وہ ہوتا ہے جو ایک آواز پر حق دوستی
نبھانے آجائے
آج بھی کئی نوجوان ایسی دوستیوں پہ اپنے والدین کو
ناراض کرتے ہیں ۔باپ کے سامنے اکڑ جاتے ہیں ۔

26/01/2023

دین۔۔۔نام ہے صبغہ اللہ کا۔۔اللہ کا رنگ۔۔زندگی کا ہر شعبہ پہ حاوی رنگ۔۔کوئ گوشہ ہائے زندگی اس سے خالی نہ رہے۔۔خیالات۔۔پسند نا پسند کا معیار سب سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور احکام الہی کے ماتحت ہوجائے۔۔۔جب معیار یہ بن جائے کہ دوستی دشمنی بھی اللہ کے لئے ہی ہو۔۔۔جینا مرنا بھی اسی کے لئے خالص ہو۔۔تو یہ مزہبیت۔۔تحریکیت میں ڈھل جاتی ہے کہ انسان رب کی دھرتی پہ رب کا لایا نظام برپا کرنے کے نبوی مشن کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیتا ہے۔وہ"میں"سے"ہم"کا سفر طے کر لیتا ہے۔۔۔اپنی زات کو نار جہنم سے بچالینا کافی نہیں لگتا ۔۔دکھی انسانیت کو بھی فلاح کی راہ دکھانا فرض منصبی سمجھ لیتا ہے۔۔پھر اسکی بندگی۔۔مصلے محراب سے آگے بڑھ کے بازاروں پارلیمنٹ ،عدالت تک پہ حاکمیت رب تعالی کا مطالبہ کرنے لگتی ہے۔۔اسوہ شبیری اس کے سامنے واضح ہوجاتا ہے۔۔وہ وقت کے یزیدوں کے آگے سجدہ ریز ہونے کی بجائے نیزے پہ قرآن سنادینے کا فرض پہچان لیتا ہے۔اسے آرام بستر نہیں میدان اور کشمکش حق و باطل میں سینہ سپر ہوجانا مرغوب ہوجاتا ہے۔۔۔اس اعلائے کلمہ اللہ کے لئے سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت اس کا مقصود بن جاتا ہے۔۔۔
میری زندگی کا مقصد ترے دیں کی سرفرازی
میں اسی لئے مسلماں میں اسی لئے نمازی
عفیفہ

26/01/2023

ھمارے بغیر حکومتیں بن تو سکتی ہے لیکن چل نہی سکتی💞
💞 مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے تاریخی الفاظ💞

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Swat?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address

Swat