Idrees Hadi Khan

Idrees Hadi Khan

Compartilhar

PhD Candidate 🇵🇹
Erasmus Mundus Scholar 🇪🇺

06/09/2026

پوچھا گیا زندگی کیا ہے۔ جواب آیا پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک کا وقت۔ تو معلوم پڑا کہ دنیا کی سب سے قیمتی چیز وقت ہے۔ زندگی میں کیے جانے والے ہر کام میں اول انوسٹمنٹ وقت کی ہی ہوا کرتی ہے، پھر چاہے وہ پڑھائی ہو، کاروبار ہو، نوکری ہو یا پھر رشتے نبھانا ہو۔ اور پھر اس انوسٹمنٹ کے بعد ہمیں جو منافع زندگی دیا کرتی ہے ہم اسی کے مرہون منت اپنا گزر بسر کیا کرتے ہیں۔
تو ثابت ہوا کہ کسی سے ایک ملاقات میں دیے گئے وقت سے بڑھ کر کوئی قیمتی تحفہ ہو نہیں سکتا۔ آپ کو کوئی مسئلہ درپیش ہو اور آپ کی ایک پکار پہ کوئی اپنا پورا وجود، تمام تر سوچیں اور توجہ ایک نشت میں مرکوز کر دے اور آپ کی بات سنے اور اپنی رائے خلوص نیت کے ساتھ پیش کرے تو آپ بہت خوش قسمت ہیں۔ کوئی ہے جو آپ کی ایک پکار پہ اپنی سب سے قیمتی چیز آپ کو پیش کرنے کو تیار ہے۔

مگر ایک شخص اس سے بھی زیادہ خوش قسمت ہے۔ وہ جس سے اس کا کوئی محسن خود پوچھے کہ کوئی مسئلہ تو درپیش نہیں؟ اگر دل کا کچھ بوجھ ہلکا کرنا چاہو تو میرے ساتھ ایک نشت کرلو، ایک نہیں جتنی چاہے نشستیں کر لو۔ ، میں پورا وقت دوں گا، میں سب سنوں گا اور پوری توجہ کے ساتھ سنوں گا اور جواب بھی دوں گا، بہتر رائے بھی دوں گا۔
اور جانتے ہیں وہ خوش قسمت انسان کون ہے؟
"آپ"
وہ آپ کو اتنا وقت دیں گے جتنا آپ چاہیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ، ذرا غور سے سنئے گا، آپ کے اس محسن کی پکار آپ کو دنیا کے ہر گوشے میں سنائی دے گی۔۔۔۔۔
"حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ"

تحریر: عاطِر علی سید

06/09/2026

**یورپ کے دروازے بند نہیں ہو رہے، لیکن داخل ہونے کا راستہ تیزی سے بدل رہا ہے۔**

آج اگر کوئی پاکستانی نوجوان یہ سوچ رہا ہے کہ جس طرح 20، 30 یا 40 سال پہلے لوگ کسی نہ کسی طریقے سے یورپ پہنچ جاتے تھے، آج بھی ویسا ہی ہو جائے گا، تو اسے بدلتے ہوئے حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

یورپ میں سیاسی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ کئی ممالک میں دائیں بازو کی جماعتیں مقبول ہوئی ہیں اور غیر قانونی ہجرت، پناہ گزینوں اور بے قابو امیگریشن کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر رہی ہیں۔

لیکن یہاں ایک بہت اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔

**امیگریشن کے خلاف سختی کا مطلب یہ نہیں کہ یورپ کو ہنرمند اور تعلیم یافتہ لوگوں کی ضرورت ختم ہوگئی ہے۔**

یورپ کے بہت سے ممالک کو آج بھی ڈاکٹر، نرس، انجینئر، آئی ٹی ماہرین، محققین، تکنیکی ماہرین اور دوسرے ہنرمند افراد درکار ہیں۔

یعنی مستقبل میں راستہ شاید زیادہ مشکل ہو، لیکن **قابلیت رکھنے والے شخص کی ضرورت ختم نہیں ہوگی۔**

**پاکستانیوں کی یورپ ہجرت کی تاریخ بھی دلچسپ ہے**

ناروے کی مثال لے لیں۔

پاکستان سے باقاعدہ مزدور ہجرت 1960 کی دہائی کے آخر اور 1970 کی دہائی کے آغاز میں شروع ہوئی۔ اس وقت ناروے میں غیر ملکی بہت کم تھے۔

وہ ابتدائی پاکستانی زیادہ تر محنت مزدوری کے لیے آئے، پھر آہستہ آہستہ خاندان آئے اور آج ان کی تیسری اور بعض خاندانوں میں چوتھی نسل ناروے میں موجود ہے۔

آج انہی خاندانوں کے بچے ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، سیاست دان، کاروباری افراد، محقق اور مختلف اہم عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔

لیکن **2026 کا یورپ، 1970 کا یورپ نہیں ہے۔**

اب قوانین مختلف ہیں، مقابلہ زیادہ ہے اور امیگریشن سیاسی طور پر بہت حساس موضوع بن چکا ہے۔

اسی لیے آج کے پاکستانی نوجوان کو بھی اپنی حکمتِ عملی بدلنی ہوگی۔

**میرے خیال میں مستقبل کا سب سے محفوظ راستہ تعلیم اور ہنر ہے۔**

پاکستان میں ایک بہت خطرناک رجحان ہے۔

بچہ میٹرک یا ایف ایس سی کرتا ہے اور گھر میں فوراً بحث شروع ہو جاتی ہے:

"اسے کسی طرح باہر بھیج دو۔"

میں ایسے بہت سے محنتی نوجوان دیکھتا ہوں جو اگر یہی دو تین سال اپنی تعلیم یا کسی اچھے ہنر پر لگا دیں تو بعد میں کہیں زیادہ مضبوط راستے سے باہر جا سکتے ہیں۔

بھائی، باہر آکر بھی کام ہی کرنا ہے۔

تو اگر آپ کے پاس ابھی دو یا تین سال ہیں تو انہیں صرف "باہر جانے" کی کوشش میں ضائع کرنے کے بجائے **اپنی قدر بڑھانے پر لگائیں۔**

اگر پڑھائی اچھی ہے تو Bachelor's مکمل کریں۔

اس کے بعد Master's کے ذریعے یورپ آئیں۔

اگر کتابی تعلیم میں دلچسپی کم ہے تو کوئی مضبوط فنی ہنر سیکھیں۔

Electrician، Welder، CNC، Automation، Industrial Mechanic، Plumbing، HVAC یا کسی دوسرے مطلوبہ شعبے میں باقاعدہ تربیت اور تجربہ حاصل کریں۔

اور ساتھ کسی یورپی ملک کی زبان سیکھنا شروع کریں۔

**ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں:**

صرف پاسپورٹ آپ کو قیمتی نہیں بناتا۔

**آپ کا ہنر، تعلیم، تجربہ اور زبان آپ کو قیمتی بناتے ہیں۔**

یہ بھی ضروری ہے کہ دائیں بازو کی سیاست کو غلط انداز میں نہ سمجھا جائے۔

کئی سیاسی جماعتیں غیر قانونی یا بے قابو ہجرت کم کرنا چاہتی ہیں، لیکن اسی وقت کئی یورپی ممالک اپنی ضرورت کے مطابق **Skilled Immigration** کے راستے بھی رکھتے ہیں۔

کیونکہ اگر کسی ملک کو انجینئر، نرس، ڈاکٹر، محقق، پروگرامر یا تکنیکی ماہر کی ضرورت ہے تو وہ صرف سیاسی نعرے سے پوری نہیں ہوگی۔

اسے وہ انسان کہیں نہ کہیں سے لانا ہوگا۔

**اسی لیے پاکستانی نوجوانوں کو خوف نہیں، تیاری کرنی چاہیے۔**

لوگوں کی یہ باتیں سننا چھوڑ دیں:

"اب یورپ بند ہوگیا ہے۔"

"اب کسی کو ویزا نہیں ملتا۔"

"پڑھائی کا کوئی فائدہ نہیں۔"

"بس کسی طرح باہر نکل جاؤ۔"

اپنی زندگی سنی سنائی باتوں پر مت بنائیں۔

اپنے ہدف والے ملک کی سرکاری ویب سائٹ کھولیں، وہاں کی مطلوبہ ملازمتیں دیکھیں، یونیورسٹیوں کے پروگرام دیکھیں، زبان سیکھیں اور اگلے تین سے پانچ سال کا منصوبہ بنائیں۔

**اگر آپ ابھی میٹرک یا ایف ایس سی میں ہیں تو شاید آپ کا سب سے بڑا مقصد یورپ جانا نہیں ہونا چاہیے۔**

آپ کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اگلے پانچ سال میں آپ خود کو ایسا انسان بنائیں **جسے یورپ کی کسی یونیورسٹی، تحقیقی ادارے یا کمپنی کو لینے میں دلچسپی ہو۔**

دنیا کے حالات بدلتے رہیں گے۔

حکومتیں بدلیں گی۔

امیگریشن قوانین سخت بھی ہوں گے۔

کچھ راستے بند ہوں گے اور نئے راستے کھلیں گے۔

لیکن ایک چیز کی قیمت کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی:

**تعلیم یافتہ، ہنرمند اور اپنے کام میں اچھا انسان۔**

اس لیے صرف یورپ پہنچنے پر توجہ نہ دیں۔

**اپنے آپ کو اس قابل بنانے پر توجہ دیں کہ یورپ پہنچنے کا قانونی راستہ خود آپ کے لیے آسان ہوتا جائے۔**

میرے نزدیک آنے والے وقت میں پاکستانی نوجوانوں کے لیے سب سے مضبوط فارمولا یہی ہے:

**تعلیم + ہنر + تجربہ + زبان**

اور اگر آپ ان چار چیزوں پر کام کر رہے ہیں تو یورپ کی بدلتی سیاست دیکھ کر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔

**Education is still one of the strongest legal routes to Europe — اور Skill آپ کو وہاں ٹکنے کی طاقت دیتی ہے۔**

**اسد (ناروے)**

*یہ پوسٹ عمومی معلومات اور ذاتی مشاہدے کے لیے ہے۔ یورپ ایک ملک نہیں اور ہر ملک کی امیگریشن، تعلیم اور ہنرمند افراد کے لیے قوانین مختلف ہیں۔ کسی بھی فیصلے سے پہلے متعلقہ ملک کی سرکاری امیگریشن ویب سائٹ سے تازہ ترین معلومات ضرور دیکھیں۔*

03/09/2026

اگر آپ 2027 میں بیرونِ ملک ماسٹرز (Master’s) یا پی ایچ ڈی (PhD) کرنا چاہتے ہیں، تو یہ وقت آرام کرنے کا نہیں، تیاری شروع کرنے کا ہے!

ہر سال بہت سے طلبہ اسکالرشپ (Scholarship) کھلنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔

پھر جب اعلان ہوتا ہے تو اچانک یاد آتا ہے:

IELTS نہیں دیا،

سی وی (CV) تیار نہیں،

سفارش کے خطوط (Recommendation Letters) نہیں بنوائے،

اور ذاتی بیان (SOP) ابھی سوچ ہی رہے ہیں۔

پھر چند ہفتے بعد پیغام آتا ہے:

"سر! اتنی جلدی تیاری کیسے ہو سکتی ہے؟"

میرا سیدھا سا مشورہ ہے:

اسکالرشپ کھلنے کا انتظار نہ کریں، اپنی تیاری پہلے مکمل کریں۔

آنے والے مہینوں میں کئی اہم اسکالرشپس کے مواقع سامنے آنے والے ہیں۔ چند نمایاں مواقع یہ ہیں:

کامن ویلتھ ماسٹرز اسکالرشپ (Commonwealth Master’s Scholarship)

برطانیہ میں ماسٹرز کے لیے پاکستانی طلبہ کا ایک اہم موقع ہے۔

2027/28 کے لیے درخواستیں 8 ستمبر 2026 کو کھلیں گی اور 20 اکتوبر 2026 کو بند ہوں گی۔ اس اسکالرشپ میں عموماً تعلیمی فیس، ماہانہ وظیفہ، سفر اور دیگر متعلقہ اخراجات میں معاونت شامل ہوتی ہے۔

البتہ پاکستان سے درخواست دیتے وقت متعلقہ نامزد ادارے (Nominating Agency) کی شرائط بھی ضرور دیکھیں۔

ایراسمس منڈس (Erasmus Mundus Joint Masters)

اگر آپ یورپ میں ماسٹرز کرنا چاہتے ہیں تو اسے اپنی فہرست میں ضرور شامل کریں۔

اس پروگرام کی ایک خوبصورت بات یہ ہے کہ بعض پروگراموں میں آپ ایک ہی ڈگری کے دوران مختلف یورپی ممالک کی مختلف جامعات میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

بہترین امیدواروں کے لیے مکمل اسکالرشپس بھی دستیاب ہوتی ہیں، جن میں تعلیم کے ساتھ سفر، ویزا اور رہائش کے اخراجات میں بھی معاونت شامل ہو سکتی ہے۔

زیادہ تر پروگراموں کی درخواستیں اکتوبر سے جنوری کے درمیان آتی ہیں، لیکن ہر پروگرام کی اپنی آخری تاریخ ہوتی ہے۔

ڈی اے اے ڈی (DAAD) — جرمنی

اگر جرمنی آپ کی منزل ہے تو DAAD کو ابھی سے دیکھنا شروع کریں۔

خصوصاً DAAD EPOS کے تحت ترقیاتی شعبوں، انجینئرنگ، ماحولیات، قابلِ تجدید توانائی، زراعت، صحتِ عامہ اور دیگر شعبوں میں ماسٹرز کے مواقع موجود ہیں۔

لیکن یہاں ایک اہم بات یاد رکھیں:

DAAD EPOS کی ایک مشترکہ آخری تاریخ نہیں ہوتی۔

ہر پروگرام کی اپنی تاریخ ہوتی ہے، اس لیے اپنے مطلوبہ پروگرام کی آخری تاریخ پہلے ہی معلوم کر لیں۔

اسٹوڈنٹیم ہنگریکم (Stipendium Hungaricum) — ہنگری

پاکستانی طلبہ کے لیے یہ بھی ایک اہم اسکالرشپ ہے، جس میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی سمیت مختلف تعلیمی سطحوں پر مواقع آتے ہیں۔

پاکستان سے درخواست دینے والوں کے لیے ایچ ای سی (HEC) کا مرحلہ بھی اہم ہوتا ہے، اس لیے صرف ہنگری کے آن لائن نظام کو دیکھنا کافی نہیں۔ گزشتہ اعلانات میں ایچ ای سی اور ہنگری، دونوں پورٹلز پر درخواست دینا ضروری تھا۔

میکسٹ (MEXT) — جاپان

اگر آپ جاپان میں ماسٹرز یا پی ایچ ڈی کرنا چاہتے ہیں تو MEXT کو بھی اپنی فہرست میں ضرور رکھیں۔

اس کے مختلف راستے موجود ہیں، جن میں سفارت خانے کے ذریعے اور یونیورسٹی کے ذریعے درخواست دینے کے طریقے شامل ہیں۔

گلوبل کوریا اسکالرشپ (Global Korea Scholarship — GKS)

جنوبی کوریا بھی ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کے لیے ایک اچھا آپشن ہے۔

اگر آپ کا تعلیمی ریکارڈ اچھا ہے اور تحقیق میں دلچسپی رکھتے ہیں تو GKS کو بھی اپنی اسکالرشپ حکمتِ عملی کا حصہ بنائیں۔

چینی حکومت کی اسکالرشپ (Chinese Government Scholarship — CSC)

چین میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کے لیے بھی ہر سال بڑی تعداد میں اسکالرشپ کے مواقع آتے ہیں۔

خاص طور پر تحقیق پر مبنی پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ کو جامعات، اساتذہ اور مختلف اسکالرشپ راستوں کو ایک ساتھ دیکھنا چاہیے۔

اور صرف انہی اسکالرشپس تک محدود نہ رہیں۔

اپنے شعبے اور تعلیمی پروفائل کے مطابق آپ ان مواقع کو بھی دیکھ سکتے ہیں:

Fulbright — امریکہ

Australia Awards — آسٹریلیا

Swedish Institute Scholarships — سویڈن

Swiss Government Excellence Scholarships — سوئٹزرلینڈ

اس کے علاوہ مختلف جامعات اپنی طرف سے بھی مکمل یا جزوی مالی معاونت فراہم کرتی ہیں۔

________________________________________

لیکن ایک اہم بات!

صرف اسکالرشپ کا نام دیکھ کر فوراً درخواست نہ دے دیں۔

پہلے یہ سوالات پوچھیں:

کیا پاکستان اس اسکالرشپ کے لیے اہل ہے؟

کیا میری ڈگری اس پروگرام کے لیے قابلِ قبول ہے؟

کیا میرا مضمون اور تعلیمی پس منظر اس پروگرام سے مطابقت رکھتا ہے؟

IELTS یا کوئی دوسرا انگریزی امتحان ضروری ہے؟

GPA یا CGPA کی کیا شرط ہے؟

کتنے سفارشی خطوط (Recommendation Letters) درکار ہیں؟

ذاتی بیان (SOP) یا تحقیقی خاکہ (Research Proposal) چاہیے؟

اسکالرشپ میں کیا کچھ شامل ہے؟

درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ کیا ہے؟

اور سب سے اہم:

معلومات ہمیشہ متعلقہ اسکالرشپ، یونیورسٹی یا سرکاری ادارے کی سرکاری ویب سائٹ سے ہی تصدیق کریں۔

________________________________________

ابھی آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ 2027 کے لیے واقعی سنجیدہ ہیں تو اس ہفتے سے یہ کام شروع کر دیں:

1۔ اپنا سی وی مکمل اور تازہ کریں۔

2۔ اپنی تمام ڈگریاں، ٹرانسکرپٹس اور متعلقہ دستاویزات ایک جگہ جمع کریں۔

3۔ ایسے دو تین اساتذہ یا سپروائزرز سے رابطہ کریں جو آپ کو مضبوط سفارشی خط دے سکیں۔

4۔ IELTS یا TOEFL درکار ہے تو آج ہی تیاری شروع کریں۔

5۔ ماسٹرز کے لیے اپنی دلچسپی کی جامعات اور پروگرامز کی فہرست بنائیں۔

6۔ پی ایچ ڈی کے لیے اپنے تحقیقی موضوعات اور ممکنہ سپروائزرز پر کام شروع کریں۔

7۔ ایک سادہ سی فہرست یا جدول بنائیں جس میں ہر اسکالرشپ کی آخری تاریخ، اہلیت، مطلوبہ دستاویزات اور درخواست کی صورتِ حال درج ہو۔

اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں:

صرف ایک اسکالرشپ کے سہارے نہ بیٹھیں۔

اگر آپ واقعی 2027 میں بیرونِ ملک جانا چاہتے ہیں تو اپنی پروفائل کے مطابق کئی مناسب مواقع تلاش کریں، لیکن ہر درخواست سوچ سمجھ کر اور پوری تیاری کے ساتھ جمع کریں۔

کیونکہ اکثر فرق قابلیت کا نہیں ہوتا۔

فرق اس بات کا ہوتا ہے کہ کس نے تیاری وقت پر شروع کی اور کس نے آخری تاریخ کا انتظار کیا۔

اگر آپ 2027 کے لیے سنجیدہ ہیں تو:

آج سے تیاری شروع کریں، کل سے نہیں۔

ڈاکٹر کامران امین

"کامیابی اکثر اُنہی لوگوں کے قدم چومتی ہے جو موقع آنے کا انتظار نہیں کرتے، بلکہ موقع آنے سے پہلے خود کو اس کے قابل بنا لیتے ہیں۔"

سکالرشپ، ریسرچ، CV، PhD اور بیرونِ ملک تعلیم سے متعلق رہنمائی کے لیے مجھے Follow کرنا نہ بھولیں۔

نوٹ: Scholarship کی Eligibility، Deadline اور Funding ہر سال تبدیل ہو سکتی ہے۔ Apply کرنے سے پہلے متعلقہ Scholarship، University اور HEC کی Official Website سے تازہ ترین معلومات ضرور چیک کریں۔

اس پوسٹ کو محفوظ (Save) کرلیں اور ایسے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں جو 2027 میں ماسٹرز یا پی ایچ ڈی کے لیے بیرونِ ملک جانا چاہتے ہیں۔

02/09/2026

تعلقات بنانے اور پوزیشنز حاصل کرنے کے لیے انٹرنیشنل کانفرنسز بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ آپ اپنے فیلڈ کے بیسیوں لوگوں سے ملتے ہیں، انسائٹس شئیر کرتے ہیں اور اس طرح آپ بذاتِ خود ایک سی وی کے ان کے سامنے ہوتے ہیں۔ چوں کے کانفرنسز کافی مہنگی ہوتی ہیں، ٹریول، رہنے اور کھانے کا خرچہ ملا کے بات لاکھوں میں چلی جاتی ہے۔ اس پوسٹ کا مقصد یہ ہے کہ بہت سے احباب اس بات سے ناواقف ہیں کہ انھیں یہ فنڈنگ کانفرنس آرگنائزرز سے یا کسی تھرڈ پارٹی سے بآسانی مل سکتی ہے جس کی تفصیلات کانفرنس کی ویب سائٹ پہ موجود ہوتی ہے۔

میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنی فیلڈ کی اچھی کانفرنسز گوگل کیجیے، فنڈ حاصل کرنے کا طریقہ کار معلوم کیجیے، علم، سیر و تفریح اور تعلقات کی بہترین بنیاد رکھیے۔

31/08/2026

This is such wonderful and well-deserved news! ❤️

Dr. Shakeel Ahmad your promotion made us happy, it is a success for his students, the social work community, and the profession as a whole. Allah is witness to how he keeps his door open for students and anyone who comes to him seeking guidance, support, or an opportunity. He has a genuine willingness to help others and create opportunities for those around him. For many students, he is more than a professor; he is a mentor, supporter, and someone who believes in their potential. His success therefore feels like a success shared by all of us. So proud and grateful to be one of his mentees. Congratulations, Sir, on becoming a Professor in Social Work. May Allah bless you with even greater success and give you more opportunities to serve students, the community, and the profession. ❤️🎓

Photos from Idrees Hadi Khan's post 31/08/2026

آج نمبر کم آنے پر رات کا کھانا نہ کھانے والے بچوں کو بہت دیر سے سمجھ آئے گی،جب اگلی کلاسز میں 50-60 فیصد نمبرات لینے والے بھی ان کے ساتھ بیٹھے ہوں گے۔ کسی بھی یونیورسٹی میں آپ کتنے بھی نمبرات لے جائیں ،ایڈمیشن کیلئے ان کا اپنا ٹیسٹ کلئیر کرنا لازمی ہوتا ہے۔

زیادہ نمبرات لینے والے بچے بلاشبہ باصلاحیت اور زمہدار ہوتے ہیں، ان کی کہیں راتوں کی محنت یہ پوزیشنز ہیں لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ زیادہ نمبرات نہ کامیابی ہے اور نہ کم نمبرات ناکامی ہیں۔

بچوں کو نیند نہیں آنی چاہیے اگر 16 سال کی عمر میں انہیں کوئی کھیل کھیلنا نہیں آتا، انہوں نے نصابی کتابوں سے ہٹ کر کوئی کتاب نہ پڑھی ہو, ان کے ہاتھوں نے اخبار کو ٹچ نہ کیا ہو ، ان کی نظروں سے کوئی کالم نہ گزرا ہو۔

تمام سلیبس انگریزی میں پڑھنے کے بعد بھی آپ انگلش کے خوف سے نہ نکل پائے ہوں۔ آج بھی کمپیوٹر کے بیسک پروگرام سے ناواقف ہوں۔

اگر طلباء میڑک کے بعد بھی سٹیج کے خوف میں مبتلا ہوں جہاں اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا تو دور اس کا ادراک بھی نہ ہو۔

اگر بچوں کو یہ سب حاصل نہیں ہے تو پھر واقعی پریشان ہوں ورنہ دنیا کے کسی بھی امتحان اور کسی بھی ادارے کیلئے 50 سے 60 فیصد نمبر کافی ہوتے ہیں۔

مسکرائیے اور اگلی کلاسز میں رٹے سے کوسوں دور گوگل، یوٹیوب اور دیگر اچھی سائٹس کو اپنا استاد بنا کر حقیقی علم سے روشناس ہوں۔

احسن خاکیر کی خوبصورت تحریر

30/08/2026
27/08/2026

Unlearnt

Quer que o seu negócio seja a primeira Salão De Beleza em Lisbon?
Clique aqui para solicitar o seu anúncio patrocinado.

Website

Endereço

Lisbon
1600-488