Arshad Munir

Arshad Munir

Share

سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ

21/04/2026

رائیونڈ روڑ پر سرکاری بس(سپیڈو بس) کے عملہ کا نوجوان لڑکی پر بہیمانہ تشدد
۔۔۔۔۔
ذرائع کے مطابق ایل ڈی اے اشارہ پر ایک نوجوان بچی نے بس میں سوار ہونے کی کوشش کی ۔جس پر بس کے عملہ نے لڑکی کو بس سے کھینچ کر اتار دیا جس پر نوجوان لڑکی نے گالی دی کہ مجھے ہاتھ کیوں لگایا
اس بات پر بس کے کنڈیکٹر نے نوجوان لڑکی کو سرعام تشدد کا نشانہ بنایا۔
رائیونڈ روڑ پر چلنی والی سرکاری بسوں کے عملہ بارے اس قسم کی شکایات عام ہیں۔
چئیرمین پی ٹی سی چوھدری شہزاد نذیر سندھو صاحب سے فوری نوٹس کی اپیل ہے۔

15/04/2026
14/03/2026

یوتھیا قوم نہ ایران کی وفادار ہے نہ افغانستان کی اور نہ ہی انڈیا کی۔ یہ صرف پاکستان کے دشمن ہیں۔ اس لئے جنگ کسی کے ساتھ بھی ہو اس نے پروپیگنڈہ پاکستان کے خلاف ہی کرنا ہے۔

12/03/2026

09/03/2026

لگتا ہے ڈکیت آج شاید ماں سے بددعا لیکر گھر سے نکلا ہو گا کہ موقع پر گرفتار ہوگیا۔

06/03/2026

06/03/2026

جرائم، سماجی مسائل اور ہماری ذمہ داریاں
تحریر: ارشد منیر چوہدری
ہمارے معاشرے میں جرائم کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔ چوری، ڈکیتی، قتل اور دیگر سنگین وارداتیں روزانہ کی بنیاد پر سننے کو ملتی ہیں۔ یہ جرائم کسی ایک طبقے یا برادری تک محدود نہیں بلکہ مختلف پس منظر رکھنے والے افراد اس میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو لوگوں کو جرم کی طرف دھکیلتے ہیں؟
غربت سب سے بڑی وجہ ہے۔ جب کوئی شخص بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہوتا ہے، تعلیم اور روزگار کے مواقع نہیں ملتے، تو وہ جرم کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں سماجی انصاف اور معاشی مساوات پر زور دینا چاہیے۔اس کے ساتھ ساتھ تعلیم انسان کو شعور اور راستہ دیتی ہے۔ ناخواندگی اور جہالت جرائم کی جڑ ہیں۔ اگر ریاست اور معاشرہ تعلیم کو عام کرے، تو جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
پولیس اور عدلیہ کا نظام اکثر کمزور دکھائی دیتا ہے۔ مقدمات برسوں چلتے ہیں، مجرم سزا سے بچ نکلتے ہیں، اور متاثرین انصاف کے لیے ترستے رہ جاتے ہیں۔ جب قانون کی گرفت کمزور ہو، تو جرائم بڑھنا لازمی ہے۔
ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ جرم کو نظرانداز کر دیتے ہیں یا خاموش رہتے ہیں۔ یہ خاموشی مجرموں کو مزید حوصلہ دیتی ہے۔ ہمیں اجتماعی طور پر یہ سوچ بدلنی ہوگی کہ جرم کے خلاف آواز اٹھانا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔

کسی بھی گاؤں یا شہر میں اگر کوئی المناک واقعہ پیش آتا ہے، جیسے کسی بچے کی ہلاکت یا کسی گھر میں چوری، تو ہمیں اس کو صرف ایک برادری یا طبقے سے جوڑنے کے بجائے اس کے اصل اسباب پر غور کرنا چاہیے۔ یہ واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ سماجی اصلاح، قانون کی عملداری اور عوامی شعور کے بغیر جرائم پر قابو پانا ممکن نہیں۔
- حکومت کو چاہیے کہ تعلیم اور روزگار کے مواقع بڑھائے۔
- پولیس اور عدلیہ کو مضبوط اور شفاف بنایا جائے۔
- عوامی سطح پر آگاہی مہم چلائی جائے کہ جرم کے خلاف خاموشی جرم کو بڑھاتی ہے۔
- میڈیا کو ذمہ داری کے ساتھ رپورٹنگ کرنی چاہیے تاکہ کسی طبقے کو بلاوجہ بدنام نہ کیا جائے۔
- سماجی تنظیموں کو چاہیے کہ محروم طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کریں۔
جرائم ایک سنگین مسئلہ ہیں، مگر ان کا حل کسی برادری کو الزام دینے میں نہیں بلکہ اجتماعی اصلاح، قانون کی عملداری اور سماجی انصاف میں ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر انسان کو عزت اور انصاف کا حق حاصل ہے۔ اگر ہم نفرت کے بجائے اصلاح اور انصاف کی طرف بڑھیں، تو معاشرہ زیادہ محفوظ اور پرامن بن سکتا ہے۔

06/03/2026

اگر بھارت نے سندور 2 کی کوشش کی تو بھارت میں اتنے سہاگ اجڑیں گے کہ چتا جلانے کی لیے جنگلات بھی نہیں بچیں گے
🇵🇰💪🏻👨‍✈️
مارخور

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Doha?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address

Doha