Arshad Munir
سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ
رائیونڈ روڑ پر سرکاری بس(سپیڈو بس) کے عملہ کا نوجوان لڑکی پر بہیمانہ تشدد
۔۔۔۔۔
ذرائع کے مطابق ایل ڈی اے اشارہ پر ایک نوجوان بچی نے بس میں سوار ہونے کی کوشش کی ۔جس پر بس کے عملہ نے لڑکی کو بس سے کھینچ کر اتار دیا جس پر نوجوان لڑکی نے گالی دی کہ مجھے ہاتھ کیوں لگایا
اس بات پر بس کے کنڈیکٹر نے نوجوان لڑکی کو سرعام تشدد کا نشانہ بنایا۔
رائیونڈ روڑ پر چلنی والی سرکاری بسوں کے عملہ بارے اس قسم کی شکایات عام ہیں۔
چئیرمین پی ٹی سی چوھدری شہزاد نذیر سندھو صاحب سے فوری نوٹس کی اپیل ہے۔
یوتھیا قوم نہ ایران کی وفادار ہے نہ افغانستان کی اور نہ ہی انڈیا کی۔ یہ صرف پاکستان کے دشمن ہیں۔ اس لئے جنگ کسی کے ساتھ بھی ہو اس نے پروپیگنڈہ پاکستان کے خلاف ہی کرنا ہے۔
لگتا ہے ڈکیت آج شاید ماں سے بددعا لیکر گھر سے نکلا ہو گا کہ موقع پر گرفتار ہوگیا۔
06/03/2026
جرائم، سماجی مسائل اور ہماری ذمہ داریاں
تحریر: ارشد منیر چوہدری
ہمارے معاشرے میں جرائم کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔ چوری، ڈکیتی، قتل اور دیگر سنگین وارداتیں روزانہ کی بنیاد پر سننے کو ملتی ہیں۔ یہ جرائم کسی ایک طبقے یا برادری تک محدود نہیں بلکہ مختلف پس منظر رکھنے والے افراد اس میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو لوگوں کو جرم کی طرف دھکیلتے ہیں؟
غربت سب سے بڑی وجہ ہے۔ جب کوئی شخص بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہوتا ہے، تعلیم اور روزگار کے مواقع نہیں ملتے، تو وہ جرم کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں سماجی انصاف اور معاشی مساوات پر زور دینا چاہیے۔اس کے ساتھ ساتھ تعلیم انسان کو شعور اور راستہ دیتی ہے۔ ناخواندگی اور جہالت جرائم کی جڑ ہیں۔ اگر ریاست اور معاشرہ تعلیم کو عام کرے، تو جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
پولیس اور عدلیہ کا نظام اکثر کمزور دکھائی دیتا ہے۔ مقدمات برسوں چلتے ہیں، مجرم سزا سے بچ نکلتے ہیں، اور متاثرین انصاف کے لیے ترستے رہ جاتے ہیں۔ جب قانون کی گرفت کمزور ہو، تو جرائم بڑھنا لازمی ہے۔
ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ جرم کو نظرانداز کر دیتے ہیں یا خاموش رہتے ہیں۔ یہ خاموشی مجرموں کو مزید حوصلہ دیتی ہے۔ ہمیں اجتماعی طور پر یہ سوچ بدلنی ہوگی کہ جرم کے خلاف آواز اٹھانا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
کسی بھی گاؤں یا شہر میں اگر کوئی المناک واقعہ پیش آتا ہے، جیسے کسی بچے کی ہلاکت یا کسی گھر میں چوری، تو ہمیں اس کو صرف ایک برادری یا طبقے سے جوڑنے کے بجائے اس کے اصل اسباب پر غور کرنا چاہیے۔ یہ واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ سماجی اصلاح، قانون کی عملداری اور عوامی شعور کے بغیر جرائم پر قابو پانا ممکن نہیں۔
- حکومت کو چاہیے کہ تعلیم اور روزگار کے مواقع بڑھائے۔
- پولیس اور عدلیہ کو مضبوط اور شفاف بنایا جائے۔
- عوامی سطح پر آگاہی مہم چلائی جائے کہ جرم کے خلاف خاموشی جرم کو بڑھاتی ہے۔
- میڈیا کو ذمہ داری کے ساتھ رپورٹنگ کرنی چاہیے تاکہ کسی طبقے کو بلاوجہ بدنام نہ کیا جائے۔
- سماجی تنظیموں کو چاہیے کہ محروم طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کریں۔
جرائم ایک سنگین مسئلہ ہیں، مگر ان کا حل کسی برادری کو الزام دینے میں نہیں بلکہ اجتماعی اصلاح، قانون کی عملداری اور سماجی انصاف میں ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر انسان کو عزت اور انصاف کا حق حاصل ہے۔ اگر ہم نفرت کے بجائے اصلاح اور انصاف کی طرف بڑھیں، تو معاشرہ زیادہ محفوظ اور پرامن بن سکتا ہے۔
اگر بھارت نے سندور 2 کی کوشش کی تو بھارت میں اتنے سہاگ اجڑیں گے کہ چتا جلانے کی لیے جنگلات بھی نہیں بچیں گے
🇵🇰💪🏻👨✈️
مارخور
Click here to claim your Sponsored Listing.