Amazing Urdu noval

Amazing Urdu noval

Share

Amazing noval

04/05/2026

جہاں سب گلاب بننے کی کوشش میں ہوں، وہاں تم وہ سورج مکھی بنو جو صرف روشنی کی تلاش میں رہتا ہے۔🤍🥀

04/05/2026

Episode #12;

"آپ سبطین کے پاس رہی ہیں اتنے دن؟اس کے اپارٹمنٹ میں؟" عائشہ بیگم کی جوش و انبساط میں ڈوبی آواز پہ سب نے چونک کے ایک نظر انہیں دیکھا.
اور پھر اسے جس کے چہرے پہ سادگی تھی۔

"جی!زخمی تھی میں تو مجھے اٹھا کے اپارٹمنٹ لے کر گئے تھے اور پھر کافی دن ادھر رہی ہوں۔" چہرے پہ نرمی بھری سادگی لیے وہ بولتی جا رہی تھی۔
جبکہ سب خواتین کے چہروں پہ تعجب بھرا جوش پھیل رہا تھا۔

"آج اور سبطین ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے ہو؟" نازیہ بیگم نے استفسار کیا تو وہ ہلکا سا مسکرائی۔
"نہیں۔مگر میرے ہوش آنے پر انہوں نے میری فیملی کا جب ذکر کیا تو مجھے لگا شاید وہ مجھے جانتے ہیں۔" اس کے جواب پہ انہوں نے گہرا سانس خارج کیا۔

"حنین کی باتوں سے دل کو یہ تسلی تو ہوئی ہے کہ میرے بیٹے کا پتھر دل موم ہونے لگا ہے۔" حنین کی ہمدردی میں سبطین کے اٹھائے اقدام پہ قدرے پرسکون ہوتیں مما(نازیہ بیگم) حنین، رائحہ اور امرحہ کے اٹھتے ہی بولیں تو چند قدم کے فاصلے پہ ان دونوں کے ہمراہ چلتی حنین کے چہرے پہ بڑی الوہی سی مسکان پھیلنے لگی جسے لان میں لگے خوبصورت پھول اور پودے تعجب سے دیکھتے لہرا رہے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہر پل نیوز چینل کے آفس میں اس وقت معمول کی ہلچل مچی ہوئی تھی مگر اس ہلچل سے بے نیاز وریشے سرخ کیپری پہنے شارٹ ملٹی کلر پھولوں سے مزین کرتا پہنے، سلکی بالوں کی پونی ٹیل کیے پوری توجہ سے لیپ ٹاپ اپنے سامنے کھولے کیز دبا رہی تھی۔

"یو ہیو ڈیم کِلر ایٹیٹیوڈ سبطین حیدر۔میرے ڈیڈ کو بلا کے مجھے وارننگ دے رہے ہو بریو۔۔۔!!!" مسلسل انگلیاں کی پیڈ پہ چلاتی وہ منہ ہی منہ میں بدبداتی اپنی ذہین آنکھیں روشن سکرین پہ مرکوز کیے ہوئے تھے۔

"مگر کیا ہے نا کہ وریشے نیازی کو کام ادھورا چھوڑنے کی عادت نہیں ہے۔ ہاں اب ٹھنڈا کر کے کھائے گی۔" ہونٹوں پہ پراسرار مسکراہٹ لیے وہ مختلف فائلز کو سیو کرنے لگی۔چند منٹوں کے بعد وہ چہرے پہ فتح بھری پرسکون مسکان لیے ایک جھٹکے سے ٹیک کرسی کی بیک سے لگاتی کھل کے مسکرانے لگی۔

"اٹس ڈن مسٹر سبطین حیدر!اب دماغ کو ان ایکٹو کر کے دل کو ساتھ لیے تم تک پہنچنے کی باری ہے۔" لیپ ٹاپ کی کھلی سکرین پہ اس کی جگمگاتی شاندار سی تصویر کو والہانہ نگاہوں سے دیکھتی وہ دل میں امڈتے نرم گوشے کے باعث بڑبڑائی اور ایک دفعہ پھر سے حنہ کا نمبر ڈائل کرنے لگی جس کا نمبر حسبِ معمول سگنلز ایشو کے باعث بند تھا۔
تبھی جھنجھلاتے ہوئے اس نے ماموں کا نمبر ملایا تاکہ حنہ سے رابطہ ہو سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دن بہت سبک روی سے گزر رہے تھے، سبطین کی وارننگ کے بعد وریشے نیازی نے مزید کسی بزنس پارٹنر کو ایکسپوز نہیں کیا تھا اور سبطین کی اس وارننگ سے تنظیم کے کمانڈو کا بھی فائدہ ہو چکا تھا۔
وریشے کے یوں نیو کیس نہ سامنے لے کر آنے کو آفس کے لوگ 'حٙناح' کی طویل لیو سے مشروط کر رہے تھے جو گزرتے چند ہفتوں سے غائب تھی۔
دوسری جانب حمین اور ہنیہ کی نوک جھونک بھی بند تھی کیونکہ میر صاحب نے حمین کو سختی سے حکم دیا تھا کہ ہنیہ کو کچھ دورانیے کے لیے اس کے حال پہ چھوڑو۔

چمکتے فلور پہ مضبوطی سے قدم جماتا ہوا وہ احمر اور جازم کے ہمراہ میٹنگ روم کی جانب بڑھ رہا تھا۔
اس کے ساتھ چلتا ہوا احمر اسے اس میٹنگ کے متعلق کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اس کی جیب میں رکھا موبائل گنگنا اٹھا۔
اس نے جلدی سے موبائل نکال کے دیکھا تو سکرین پہ بلنک کرتا نمبر دیکھ کر وہ ٹھٹھک اٹھا تھا۔
"سر!حویلی سے کال ہے۔" اس کی اطلاع پہ سبطین کا جازم کے اپنے لیے کھولے گئے دروازے سے داخل ہونے کے لیے اٹھنے والا قدم جہاں تھا وہیں تھم سا گیا۔
جب سے وہ اس اجنبی حنین نامی لڑکی کو حویلی چھوڑ کر آیا تھا۔
یوں حویلی سے آنے والی کال پہ فوراً چوکس ہو جاتا تھا۔

"فوراً کال ریسیو کرو اور پتہ کرو سب ٹھیک ہے؟میں میٹنگ سٹارٹ کر رہا ہوں۔" میٹنگ کا ٹائم شروع ہو چکا تھا اور دیے ہوئے ٹائم سے پھرنا اس کی شان کے خلاف تھا تبھی وہ پرسوچ میں احمر کو ہدایت دیتا میٹنگ ہال کی طرف بڑھ چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"ایوری تھنگ از اوکے؟" میٹنگ روم سے نکلنے کے بعد اپنے گیسٹس کو سی آف کرنے کے بعد وہ وہیں کھڑا احمر کی جانب مڑا۔

"جی سر سب ٹھیک ہے۔دادو بیگم کی کال تھی انہوں نے حکم دیا ہے مس حنین کے ڈاکیومینٹس ان کے گھر سے کسی طرح نکلوائیں یا پھر نئے تیار کروا دیں۔" احمر نے قدسیہ بیگم کا حکم جوں کا توں اس کے گوش گزارا تو اس کے چہرے کے عضلات تن سے گئے۔

"کیوں؟ان کو بیٹھے بٹھائے اپنے ڈاکیومینٹس کی کیا ضرورت پڑ گئی ہے؟" اس کے لہجے کی تپش قابلِ دید تھی جبکہ احمر اس کے تاثرات کو دیکھتا اس لمحے کو یاد کرنے لگا جب اس لڑکی کو پہلی دفعہ دیکھنے پر اس کا 'باس' سکتے میں آ چکا تھا۔
اور یکایک اس سے اس قدر سرد مہری۔۔۔
وہ حیران بھی تھا اور متجسس بھی مگر یہ سب اس نے ظاہر نہ ہونے دیا۔

"سر!انہوں نے کہا تھا کہ اس سب کی وجہ تب میرے سے پوچھنا جب ڈاکیومینٹس مجھے تھما رہے ہو۔" احمر نے اس کے سوال کے جواب میں دادو کے الفاظ من و عن اس کے سامنے پیش کیے تو وہ سختی سے اپنے لب بھینچتا داہنے ہاتھ کے انگوٹھے سے اپنی داڑھی مسلنے لگا۔

"اٹس ٹومچ!میں اب ایک خاتون کے گھر اس کے ڈاکیومینٹس نکلوانے کے لیے بندے دوڑاتا پھروں۔" بار بار وہ سیاہ حدت سے بھری سرمئی آنکھیں اس کے شعور میں خلل ڈالتی اس کو مزید چڑا رہی تھیں۔

"سر دادو کا حکم ہے۔جس کو پورا کرنے کے لیے بندے کیا خود بھی جانا پڑ سکتا ہے آپ کو۔" اس کی کیفیت کو جانچتے ہوئے احمر نے سکون سے کہا تو اس کے چہرے کا سپاٹ پن مزید گہرا ہوا تھا۔

"ہممم!تم طاہر اور اس کی ٹیم کو بھیجو اس محلے میں اور طاہر کو سمجھا دینا کہ کام اتنی صفائی سے ہونا چاہیے کہ خاتون کے متعلق کسی کو بھنک بھی نہ پڑے۔" اس نے سنجیدگی سے احمر کو ہدایت دی۔
تبھی جازم اس کے لیے کافی لیے روم میں داخل ہوا اور کافی کا مگ اس کے سامنے موجود کانچ کے آفس ٹیبل پہ آن رکھا۔

"احمر؟؟" کافی کی سطح پہ اپنی بھوری آنکھیں جمائے وہ حنین اور قصہ پارینہ بن چکی حدیبہ فیروز کی آنکھوں کی مماثلت سے زہنی طور پہ الجھ رہا تھا۔

"جس خاتون نے کچھ مہینے قبل آفس میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوا کے مجھے چیک کرواو۔" وہ سوچ سوچ کے ٹھہرے ہوئے انداز میں بول رہا تھا۔

"اور وریشے نیازی کی ایک دوست بھی تھی جو آج کل منظر سے غائب ہے۔وہ منظر سے کیوں غائب ہے؟" اس کا الجھتا ذہن بہت سے تانے بانے بن رہا تھا اور ان تانے بانوں میں بہت سے گرہیں بار بار الجھ. رہی تھیں۔

"جی سر!" وہ ہولے سے خم کرتا آفس روم سے باہر نکلا تو اس نے مگ اٹھا کے ہونٹوں سے لگا کہ کافی حلق میں انڈیلنی شروع کر دی۔

اگلے چند گھنٹوں کے بعد اپنے اپارٹمنٹ کے پرسکون سٹنگ ایریے میں بیٹھا وہ نیوز سے لطف اٹھا رہا تھا تو احمر نے آ کر دو فائلز اور ایک ٹیب اس کے سامنے رکھا۔

"سر آپ کی مطلوبہ چیزیں۔" سبطین کے اشارے پہ صوفے پہ بیٹھتا وہ ان فائلز اور ٹیب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا تو اس نے ایک نظر میز پہ پڑی ان چیزوں کو دیکھا اور پھر ٹانگ سے ٹانگ ہٹا کے وہ قدرے آگے کو ہو کے بیٹھتا سب سے پہلے فائل کو چیک کرنے لگا۔

پہلی فائل میں حنین کے ڈاکیومینٹس تھے۔اس نے ایک سرسری سی نظر اس کے کوائف پہ ڈالی اور پھر اس فائل کو لاپرواہی سے ایک سائیڈ پہ رکھا۔
دوسری فائل وریشے نیازی کی دوست 'حٙناح سکندر' کے متعلق تھی۔

"احمر!مجھے کسی خاتون کے متعلق یوں انفارمیشن سے لدی فائلز دیکھ کر بیزاری ہوتی ہے۔یوں کسی خاتون کو ٹریس کروانا مجھے سخت ناپسند ہے۔تمہیں بس ایک سوال کا جواب تلاش کرنا تھا کہ ایک اچھے کور کا استعمال کرتی نیازی صاحب کی صاحبزادی کی دوست کہاں ہے آج کل؟کیونکہ نیازی جیسے بزنس مین کی بیٹی کا کرائم رپورٹر ہونا اور ایک دم سے ایک مختص گروہ کے لوگوں کو یکایک ایکسپوز کرنا مجھے نارمل نہیں لگ رہا۔
اور نیازی کی صاحبزادی کی وہ دوست جن کے متعلق اکثر نیازی اپنے انٹرویوز میں بھی بات کرتا ہے کہ وہ اس کی دوسری بیٹی ہے،وہ ایک دم سے منظر سے یوں غائب ہوتی ہے کہ جیسے کبھی تھی ہی نہیں اور تب ہی ہمیں سڑک کنارے حنین نامی وہ لڑکی ملتی ہے۔ تو احمر مجھے اس لمبی چوڑی ہسٹری کی بجائے صرف ایک سوال کا جواب چاہیے تھا کہ
کیا نیازی کی دوسری منہ بولی بیٹی 'حٙناح سکندر' میری حویلی میں موجود لڑکی ہے؟" بنا فائل پہ دوسری نظر ڈالے وہ احمر کے چہرے کو دیکھتا سنجیدگی سے بولتا احمر کے دماغ کی بتیاں جلانے لگا۔
مگر بات کے اختتام پہ اس کے کیے گئے سوال پہ اس کے وجود کو جیسے جھٹکا لگا تھا۔

"نہیں سر!ایسا بالکل نہیں ہے۔آپ کے سامنے سارے ثبوت ہیں۔مس حنین کے یہ ڈاکیومینٹس اور مس حناح کی ساری بائیو گرافی میں کہیں بھی کوئی سرا میچ نہیں کر رہا ہے۔" وہ جلدی سے بولا تو اس نے سکون سے نظریں اس کی طرف گاڑھیں اور اپنے گھٹنوں پہ کہنیوں کا دباو ڈالے وہ قدرے آگے کی جانب جھکا۔

"احمر!میری بائیو گرافی میں بھی بہت ساری ایسی باتوں کے سِرے نہیں ہیں جو میری ذات اور کام کا حصہ ہیں۔" اس کے ذومعنی جملے میں اسے بہت کچھ جتاتے انداز پہ وہ قدرے جزبز ہوا تھا۔
"لیکن سر۔۔۔۔۔؟؟" وہ تذبذب کا شکار ہوتا لحظے بھر کو رکا۔

"لیکن سر ان دونوں خواتین کی بائیو گرافی، ان کے پیرنٹس کے نام، ان کے کوائف کسی بھی چیز میں مماثلت نہ ہونے کو ہم سوشل میڈیا کی ایولنیس کہہ سکتے ہیں مگر۔۔۔۔۔" وہ ایک دفعہ پھر رکا تو اس نے اب کی بار سردمہری سے اسے دیکھا تو وہ جلدی سے بول اٹھا۔

"مگر سر حناح سکندر کے چہرے کا مکمل ایک حصہ اور اوپری دھڑ جلا ہوا ہے لیکن مس حنین کے ساتھ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے اور اگر کسی سرجری کا بھی ہم سوچیں تو یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ جس دن حنین ہمارے ساتھ ٹکرائی تھی اس دن حناح سکندر اپنے آفس اسی جلے ہوئے چہرے کے ساتھ آئی تھی۔ مگر پھر بھی میں نے مزید کلیرٹی کے لیے ان دونوں کے متعلق پتہ کروایا ہے لیکن دونوں کا کسی بھی ڈاکٹر سے کوئی اپائٹمنٹ بھی نہیں تھا۔ہاں حناح سکندر ٹانگ ٹوٹ جانے کے باعث اس وقت نیازی صاحب کے رشتے دار کے ہاں ہے۔" سبطین کی گھوری سے چوکس ہوتا احمر سنجیدگی سے بولتا دھیرے دھیرے اس کے تمام شکوک و شبہات کو اپنے الفاظ، دلائل و حقائق سے ختم کرتا چلا گیا۔
جبکہ وہ تو اس کے پہلے جملے پہ نجانے کیوں ایک گہری چپ کو خود میں سرائیت کرتا محسوس کر کے اب خالی خالی نگاہوں سے ٹیب کی روشن سکرین کو دیکھ رہا تھا جہاں وہ نسوانی وجود گھوڑے کی پشت پہ سوار تھا۔

اس کی آنکھیں میز پہ پڑی فائلز اور ٹیب پہ مرکوز تھیں۔دل حناح سکندر کے جلے ہوئے وجود کی خبر پہ انجانی سی چپ کا شکار تھا۔
لیکن ذہن۔۔۔۔
زہن حناح سکندر
حنین اور اس اندھیری رات میں گھوڑے کی پشت پہ بیٹھے نسوانی وجود کی سیاہ حدت سے چمکتی سرمئی آنکھوں میں الجھا ہوا تھا۔
وہ آنکھیں جو 'حدیبہ فیروز' کی آنکھیں تھیں۔
اور
"حدیبہ فیروز" سے اس کا یا نواب میر حویلی کا کیا رشتہ تھا یہ ماضی کی دفن شدہ یادوں کا حصہ تھا۔
وہ یادیں جنہیں 'میر صاحب' کریدنے کی کوشش کر رہے تھے۔

جاری ہے۔

اپنے ساتھ کا احساس دلاتے رہیں۔کہانی آہستہ آہستہ کھل رہی ہے اس لیے تھوڑا تحمل رکھیں اور دیر سویر کو بھی برداشت کریں۔
کہانی کھلنے کے ساتھ ساتھ سب کے کریکٹرز کی گرہیں اور ان کی کپل سٹوری بھی آگے بڑھے گی لیکن ابھی میرا پیج تھوڑا رسکی موڈ پہ چل رہا ہے اس لیے ایک نارمل ہی قسط دینے کی کوشش کر رہی ہوں۔
بہرحال دعاوں میں یاد رکھیے گا اور زرا تکے لگائیں ہاں کہ سبطین کی لیڈی کون ہو گی؟
حنین؟حناح؟وریشے؟
یا حمین کے مر جانے یا ہنیہ کو ڈائیورس کرنے کے بعد ہنیہ؟؟(میں ظالم بنتے ہوئے😑😑🙊🥱)
اللّٰہ حافظ۔

04/05/2026
Photos from Amazing Urdu noval's post 03/05/2026
03/05/2026

ہر شخص کا خود کشی کا اپنا انداز ہے
کوئی اچھے کپڑے پہننا چھوڑ دیتا ہے،
تو کوئی آرزو ہی نہیں کرتا،
کوئی پڑھائی چھوڑ دیتا ہے،
تو کوئی محبت نہیں کر رہا،
کوئی محبت قبول نہیں کر رہا،
تو کوئی تصویریں لینا چھوڑ دیتا ہے،
اس طرح لوگ 18/19 کی عمر میں مر جاتے ہیں،
اور 60/70 سال کی عمر میں دفنا دیے جاتے ہیں
صغیر شیخ

03/05/2026

جذبات بھی حُقوق کی طرح ہوتے ہیں،
جو مُستحق نہ ہو اُسے دینا ضروری نہیں ہوتا۔🤍🥀

03/05/2026

‏میرے دستِ تمنا پر تمھارے ھاتھ کا ھونا
بڑے حاسد بنائے گا بہت سے دل جلائے گا۔🤍🥀

03/05/2026

لوگوں کی دی ہوئی تکالیف کےبجائے انکی محبتیں یاد رکھیں اس سے تمہارا دل پر سکون رہے گا۔🤍🥀

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Jeddah?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address

Jeddah