Amazing Urdu noval
Amazing noval
28/09/2026
ابوبکر:جی فرمائیے؟
زامل:آپ دین میں میرے بھائی ہیں۔جس زامل سے آپ کچھ عرصہ پہلے ملے تھے ،وہ ایکdifferent انسان تھا،اور جس سے آپ آج مل رہے ہیں وہ ایک بالکلdifferent انسان ہے۔میں دین کے حوالے سے بہت کچھ جان چکا ہوں۔بہت ساری چیزوں سے میں توبہ کرچکا ہوں۔اور ایک بہتر انسان کے طور پر اپنی زندگی گزار رہاہوں۔اور۔۔۔۔
ابوبکر:Cut to the point man!میںinterested نہیں ہوں یہ جاننے میں کہ آپ پہلے کیا تھے اور اب کیا ہیں اورfuture میں کیا ہوں گے؟میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ یہاں کیوں آئے ہیں۔
زامل:ٹھیک ہے،پھرdirect بات پر آتے ہیں۔۔۔آپ نے وہpicturesدیکھ لی ہوں گی۔
ابوبکر:وہpictures جو مجھے بھیجنے پر میں آپ کے خلافFIR کٹواسکتا ہوں؟
زامل:ایک مسلمان کے طور پر میرا یہ فرض ہے کہ میں آپ کو ایک ایسی لڑکی کے ساتھrelationshipمیں جانے سے روکوں جس کاpast۔
ابوبکر:وہ لڑکی آپ کی کیا لگتی ہے؟
زامل:وہ۔۔۔۔گرل فرینڈ تھی میری۔
ابوبکر: تھی یا ہے؟
زامل: تھی۔
ابوبکر: جب وہ تھی، تو اس کا مطلب ہے فی الحالyou people are not in any kind of relationship. Am I correct?
زامل:Yes
ابوبکر:تو پھر؟Why are you here? کس right کے تحت آپ اپنیex girlfriend کے بارے میں مجھے بتانے آئے ہیں؟
زامل: ایک مسلمان۔۔۔
ابوبکر:Ohhh please shut up! دوبارہ اپنے آپ کو مسلما ن نہیں کہنا!کیونکہ مجھے نہیں پتہ کہ تم کس سے دین کی تربیت لے رہے ہو،کس سے دین کی تعلیم لے رہے ہو۔جس سے لے رہے ہو، اُسے بھی اصلاح کی ضرورت ہے، اور تمہیں تو خیر ہر چیز ہی کی ضرورت ہے۔
تھوڑی سی غیرت کی، تھوڑی سی شرم کی، تھوڑی سی حیا کی۔اورlist اتنی لمبی ہے کہ میں وہ دہرا بھی نہیں سکتا۔
زامل:تمہیں کوئی ایشو نہیں ہے کسی ایسی لڑکی کے ساتھ شادی کرنے میں جو کسی کے ساتھphysical relationship میں رہی ہو۔ اس طرح کےrelationship میں جس کا اندازہ تمہیں تصویروں سے ہوگیا ہوگا۔
ابوبکر:نہیں،مجھے کوئی ایشو نہیں ہے۔
زامل: پھر تو تم بے غیرت ہوئے نا۔
ابوبکر:تمہاری اور میری بے غیرتی کی definitions بہت مختلف ہیں زامل!جس طرح میری اور تمہاری ایک اچھے مسلمان کیdefinition۔۔
جس لڑکی کے ساتھ میں ایکrelationship میں جاؤں گا، اگر کوئی گنا ہ اُس کے past میں ہے مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہوگی۔اور اُس گناہ کے بارے میں میں کسی تیسرے، چوتھے، پانچویں انسان سے سننا بھی پسندنہیں کروں گا۔۔Rather than یہ کہ میں اس کیdetails لینے کے لئے اس انسان کے ساتھ بیٹھوں جو اس گناہ میں اس کا پارٹنر رہا ہے، لیکن چونکہ اب وہ saint ہوگیا ہے ، so called اچھا مسلمان بن گیا ہے تو وہ اپنے آپ کوentitled محسوس کرتاہے کہ وہ دوسروں کے گناہ اور عیبوں سے پردہ اٹھا اٹھا کر دکھائے۔
زامل:Ohhh I realize!مجھے تمہارے پاس آنے سے پہلے تمہاری کلا س کے بارے میں پتہ کروالینا چاہیے تھا،زریاب کی فیملی کے ساتھ جڑ کر تمsomebody ہوجاؤ گے ناfrom nobody۔تو تم کو تو ایک امیر لڑکی کاpast bother ہی نہیں کرتا۔ I understand
ابوبکر:تم بیٹھ کر جو مرضی نتیجہ نکالو، جو مرضی سوچو، جو مرضی کہو۔۔۔۔I just don't care۔۔جو واحد چیز جسے میں برداشت نہیں کروں گا کہ تم مجھے زریاب یا ہم سے منسلک کسی انسان کو اپنے اور زریاب کےpast کے حوالے سے harrass کرو یا بلیک میل کرو۔That I won't tolerate۔
زامل:میں آج بھی ایک منٹ لگاؤں تو زریاب میرے پیچھے پیچھے آسکتی ہے۔تم ہو کون؟
ابوبکر:تو پھرtry کرو۔میرے پاس آنے کے بجائے، اُس کے پاس جاؤ او ر اُس سے کہو کہ مجھ سے شادی نہ کرے۔تم سے کرے۔ایکloser کی طرح میرے پاس آنے سے پہلے تمہیں ڈوب مرنا چاہیے تھا، لیکن اُس کے لئے شرم کا ہونا بہت ضروری ہے۔۔Get out of my room right now! مجھے اور کوئی بات نہیں سننی تمہاری۔۔
زامل:زریاب تمہیں پاگل کردے گی۔I am telling you. You don't know how crazy she is
ابوبکر :Thank you for the piece of advice, now get out!
27/09/2026
ایک سوال جو بار بار ہم سے کیا جاتا ہے …
شادی ، لوو میرج یا ارینجڈ ؟
ہمارا جواب … ارینجڈ
سوال پوچھنے والا مایوسی سے ہمیں دیکھتا ہے گویا ہم جھوٹ بول رہے ہوں پھر آہستہ سے ، زیرلب …
لگتا تو نہیں …
ہم ہنستے ہوئے کہتے ہیں .. ہمیں بھی نہیں لگتا …
پھر … پھر ارینجڈ کیسے ؟ آپ ارینجڈ شادی کرنے والی لگتی تو نہیں …
ہاں بھئی … کیا کرتے … لوو ہوا ہی نہیں..
کیوں ؟
اب اس کیوں کا کیا جواب دیں ؟ بس نہیں ہوا لوو …
پھر ارینجڈ کے بعد لگا کہ انہی سے شادی ہونی چاہیے تھی …
نہیں … بالکل نہیں لگا …
پھر ؟
پھر کچھ نہیں … سوچا ارینجڈ شادی تو ایسی ہی ہوتی ہے … سو بس !
اب خود ہی سمجھ جائیں ہمیں لوو شوو کیوں سمجھ نہیں آتا …
———
طاہرہ کاظمی
26/09/2026
کبھی کبھی زندگی ہمیں اُن راستوں پر لے جاتی ہے جہاں ہماری مرضی نہیں ہوتی مگر شاید وہیں ہماری اصل کہانی لکھی جا رہی ہوتی ہے کچھ لوگ ہمیں چھوڑ کر جاتے ہیں کچھ رشتے وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں اور کچھ خواب ہماری آنکھوں کے سامنے ٹوٹ جاتے ہیں لیکن انسان پھر بھی جینا سیکھ لیتا ہےاب دل ہر چیز کا جواب نہیں مانگتا بس سکون چاہتا ہےنہ کسی سے شکوہ ہے نہ کسی سے شکایت جو نصیب میں تھا وہ مل گیا جو نہیں ملا شاید اُس میں بھی اللہ کی کوئی حکمت تھی
یاد رکھو ہر خاموش انسان کمزور نہیں ہوتا کچھ لوگ اپنے اندر اتنے طوفان لیے پھرتے ہیں کہ اُنہیں اپنی تکلیف بیان کرنے کے لیے الفاظ بھی کم لگتے ہیں بس مسکراتے ہیں خاموش رہتے ہیں اور دل ہی دل میں کہتے ہیں اللہ بہتر کرے گاوقت بدلتا ضرور ہے بس انسان کو تھوڑا صبر کرنا پڑتا ہے ایک دن وہی آنکھیں جو آج نم ہیں سکون سے مسکرائیں گی وہی دل جو آج ٹوٹا ہوا ہے کل خود پر فخر کرے گا کہ اُس نے اتنا کچھ سہہ کر بھی ہار نہیں مانی
بس خود کو لوگوں کے رویوں سے مت تولنا تمہاری قدر اُن لوگوں سے کہیں زیادہ ہے جو تمہیں سمجھ نہ سکے اللہ پر بھروسہ رکھوخاموشی سے آگے بڑھو اور اپنی کہانی کا سب سے خوبصورت باب ابھی باقی سمجھو..!
25/09/2026
یہ جو باحجاب بہن ہے یہ خواجہ فرید یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ ہے ہوا یوں کہ
خواجہ فرید BS فزکس (4th سمسٹر) کی طالبہ علیزہ علی کو یونیورسٹی کے سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے ایک کمرے میں 3 سے 4 گھنٹے کے لیے غیر قانونی طور پر قید رکھا گیا۔
علیزہ کے مطابق اس کی بڑی بہن اسی یونیورسٹی سے فزکس میں PhD کر رہی تھی اور اسے HEC کی طرف سے 13 لاکھ روپے کا اسکالرشپ ملا تھا۔
یونیورسٹی کے VC (سلیمان طاہر) اور HOD (بلال طاہر) نے اس اسکالرشپ میں سے اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے اس کی بہن پر دستبردار ہونے کا دباؤ ڈالا اور انکار کرنے پر شدید ذہنی اذیت دی اور رجسٹریشن منسوخ کرنے کی دھمکیاں دیں
18 مئی کو جب علیزہ یونیورسٹی کی ایک نمائش میں موجود تھی، تو سیکیورٹی انچارچ خرم شہزاد مسلح اہلکاروں اور لیڈیز سیکیورٹی کے ساتھ وہاں آیا
اور علیزہ سے اپنی بہن کو بلا کر اسکالرشپ سرنڈر کرنے والے کاغذات پر دستخط کروانے کا کہا۔
علیزہ کے انکار پر اسے زبردستی گھسیٹتے ہوئے سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ لے جایا گیا، اس کا موبائل اور پرس چھین کر ایک کمرے میں بند کر کے باہر سے لاک لگا دیا گیا
اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے۔ بعد میں زبردستی لاؤڈ اسپیکر پر اس سے گھر والوں کو فون کروا کر بلانے پر مجبور کیا گیا۔
اطلاع ملنے پر علیزہ کی بہن اسماء علی نے عدالت سے رجوع کیا، جس کے نوٹس پر پولیس نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے علیزہ کو بند کمرے سے بازیاب کروایا۔
کیس اس وقت عدالت میں زیرِ التوا ہے، تاہم علیزہ اور اس کے والد شوکت علی کا الزام ہے کہ انتظامیہ ان پر کیس واپس لینے اور صلح نامہ کرنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے اور تعلیمی مستقبل تباہ کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔
کیا کوئی ہے کو اس بہن کو انصاف دے سکے ویڈیو ان کی پہلے کومنٹ میں ہے
😥😥😪😪😥
25/09/2026
عرس کے موقع پر پیر سامنے بیٹھے ہیں ان کے پیچھے خواتین اور آگے مرد حضرات بیٹھے ہیں۔شریعت میں عرس منانا نہ فرض نہ سنت نہ واجب نہ کوئی حکم ہے بلکہ موجودہ دور میں جس طرح سے عرس ہوتا ہے یہ گناہوں کا سبب بن سکتا ہے اس لیے کہ عرس کے موقع پر بے پردہ خواتین ہوتی ہیں لوگ ڈھول کی تھاپ پر ناچتے ہیں اور میلے ٹھیلے لگائے جاتے ہیں جس میں کھسرے ناچتے ہیں۔ان تمام تماشوں کے ہونے پر گناہ تو مل سکتا ہے ثواب کا اس سے تعلق نہیں ہے۔اس تصویر میں کوئی عالم دین نظر نہیں آ رہا لال ٹوپیاں اور جبے پہن لینے کا نام دین پر چلنا نہیں ہے جو ہمیں شریعت ملی ہے اس پر عمل کریں گے تو کامیاب رہیں گے ورنہ اللہ بہترین حساب لینے والا ہے۔
24/09/2026
میری امّی ستر برس کی ہیں۔
اور لاہور کے اُس گھر میں اکیلی رہتی ہیں جہاں کبھی ہم تین ایک دوسرے کی آوازوں میں جیا کرتے تھے ابا ، امی اور میں ۔
میں سترہ سال پہلے امریکہ گیا تھا۔
پہلے تعلیم کے لیے۔
پھر نوکری مل گئی۔
پھر گرین کارڈ۔
پھر شادی۔
پھر بچے۔
اور پھر زندگی اتنی تیز ہو گئی کہ وقت صرف کلینڈر کی تاریخوں میں رہ گیا۔
شروع شروع میں امّی روز فون کرتی تھیں۔
“کھانا وقت پر کھا لینا…”
“اتنی برف میں باہر نہ نکلا کرو…”
“اپنی بیوی کو میرے لیے سلام کہنا…”
پھر آہستہ آہستہ اُنہوں نے کالز کم کر دیں۔
کیونکہ بوڑھے والدین ایک وقت کے بعد اپنی محبت بھی دھیمی کر دیتے ہیں… تاکہ اولاد کو بوجھ محسوس نہ ہو۔
ہم ہر ہفتے ویڈیو کال کر لیتے تھے۔
امّی ہمیشہ ٹھیک لگتیں۔
بالوں میں سفیدی بڑھتی جا رہی تھی۔
آواز پہلے سے ہلکی ہو گئی تھی۔
مگر وہ ہمیشہ یہی کہتیں:
“میں بالکل ٹھیک ہوں بیٹا۔
بس خوش رہا کرو۔”
اور ہم یقین کر لیتے۔
پچھلے مہینے دفتر کے کام سے اچانک گلف جانا پڑا تو پاکستان چکر لگانے کا فیصلہ بھی کر لیا۔
میں نے امّی کو نہیں بتایا۔
سوچا امّی کو حیران کردوں گا۔
رات تقریباً گیارہ بجے میں گلی میں داخل ہوا تو پورا محلہ ویسا ہی تھا۔
وہی پکوڑوں والے کی خوشبو۔
وہی دور کسی گھر سے آتی نیوز کی آواز۔
صرف ایک چیز بدلی تھی۔
میرا اپنا گھر اب پہلے سے بہت چھوٹا لگ رہا تھا۔
میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
کافی دیر بعد اندر سے چپل گھسیٹنے کی آواز آئی۔
پھر کنڈی کھلی۔
اور امّی سامنے کھڑی تھیں۔
چند سیکنڈ تک وہ صرف مجھے دیکھتی رہیں۔
جیسے آنکھیں یقین اور خواب کے درمیان پھنس گئی ہوں۔
پھر اُنہوں نے کانپتے ہوئے ہاتھ سے میرا چہرہ چھوا۔
“سچ میں تم ہو…؟”
بس اتنا کہا۔
اور میری ساری کامیابیاں اُس ایک جملے کے سامنے چھوٹی پڑ گئیں۔
گھر میں داخل ہوا تو عجیب خاموشی تھی۔
وہی فرنیچر۔
وہی پردے۔
وہی ابو کی پرانی کرسی۔
مگر گھر میں “رہنا” ختم ہو چکا تھا۔
اب وہاں صرف “وقت گزر” رہا تھا۔
امّی فوراً کچن میں چلی گئیں۔
میں نے کہا:
“امّی رہنے دیں، میں باہر سے کچھ منگوا لیتا ہوں۔”
وہ ہنس پڑیں۔
“سترہ سال امریکہ رہ کر بھی تمہیں یہ نہیں سمجھ آئی کہ ماں کے گھر میں کھانا منگوایا نہیں جاتا؟”
چند منٹ بعد وہ چائے لے آئیں۔
دو کپ۔
بالکل ویسے ہی جیسے ابو کے زندہ ہونے کے زمانے میں بنایا کرتی تھیں۔
ہم دونوں اُس پرانی میز کے پاس بیٹھ گئے… جس کے ایک کونے کی لکڑی اب بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔
میں نے پہلی بار غور سے گھر کو دیکھا۔
دیوار پر ہمارا پرانا اسکول گروپ فوٹو اب بھی لگا تھا۔
میرے کمرے کے دروازے پر آج بھی میرا نام اسٹیکر سے چپکا ہوا تھا۔
اور کچن کے کیلنڈر پر امریکہ اور پاکستان کے وقت لکھے ہوئے تھے۔
نیویارک۔
لاہور۔
فرق: دس گھنٹے۔
مجھے عجیب سا احساس ہوا۔
امّی نے اپنی زندگی دو Time Zone میں تقسیم کر رکھی تھی۔
ایک اپنے لیے۔
اور ایک ہمارے لیے۔
چائے پیتے ہوئے وہ چھوٹی چھوٹی باتیں کرتی رہیں۔
محلے کے اشفاق انکل فوت ہو گئے۔
سامنے والے گھر میں نئی فیملی آ گئی۔
اور اس سال آم بہت میٹھے آئے ہیں۔
پھر اچانک وہ خاموش ہو گئیں۔
کافی دیر تک کپ کے کنارے پر انگلی پھیرتی رہیں۔
پھر بولیں:
“تمہیں پتا ہے…
میں اب بھی رات کو تمہارے کمرے کی لائٹ جلا دیتی ہوں کبھی کبھی۔”
میں چونکا۔
“کیوں؟”
وہ ہلکا سا مسکرائیں۔
“عادت ہے نا۔
پہلے تم دیر تک پڑھتے رہتے تھے۔
اب کبھی کبھی لگتا ہے شاید تم لوگ اچانک واپس آ جاؤ گے۔”
خدا گواہ ہے…
اُس لمحے مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ ہجرت صرف اُن لوگوں کی نہیں ہوتی جو ملک چھوڑتے ہیں۔
اصل ہجرت اُن ماں باپ کی ہوتی ہے…
جو اپنی اولاد کے بعد اُسی گھر میں رہ جاتے ہیں۔
اگلی صبح جب میں اٹھا تو امّی پہلے ہی جاگ رہی تھیں۔
فجر کے بعد کا وقت تھا۔
وہ صحن میں پودوں کو پانی دے رہی تھیں۔
میں دروازے کے ساتھ کھڑا اُنہیں دیکھتا رہا۔
پہلے کبھی غور نہیں کیا تھا…
بوڑھے لوگ چلتے نہیں، اپنی یادوں کو آہستہ آہستہ اٹھائے پھرتے ہیں۔
میں نے کہا:
“امّی، اتنی صبح کیوں اٹھ گئی ہیں؟”
وہ مسکرائیں۔
“بڑھاپے میں نیند بھی انسان سے پہلے بوڑھی ہو جاتی ہے۔”
پھر میرے پاس بیٹھ گئیں۔
کافی دیر خاموش رہیں۔
پھر آہستہ سے بولیں:
“تمہیں پتا ہے…
میں اب بھی شام کو دو کپ چائے بنا لیتی ہوں کبھی کبھی۔”
“دو کپ؟”
وہ ہنسیں۔
“پھر یاد آتا ہے تم لوگ تو یہاں نہیں ہوتے۔”
اُن کی ہنسی ختم ہوتے ہوتے آواز بھیگ گئی۔
اور اُس لمحے مجھے محسوس ہوا…
تنہائی شور نہیں کرتی۔
وہ انسان کی عادتوں میں آ کر رہنے لگتی ہے۔
میں نے وہیں فیصلہ کر لیا۔
میں اگلے دن واپس نہیں گیا۔
دفتر میں چھٹی بڑھا دی۔
ٹکٹ آگے کر دی۔
اور کئی برسوں بعد پہلی بار گھڑی دیکھنا چھوڑ دیا۔
اگلے چند دنوں میں میں نے ایک عجیب تبدیلی دیکھی۔
امّی بدلنے لگیں۔
آہستہ آہستہ۔
جیسے کسی سوکھے پودے کو دوبارہ پانی مل جائے۔
وہ صبح ناشتہ بناتے ہوئے گنگنانے لگتیں۔
پرانے صندوق کھول کر ہماری بچپن کی چیزیں نکالتیں۔
محلے والی خالہ کو فخر سے بتاتیں:
“میرا بیٹا آیا ہوا ہے امریکہ سے…”
اور ہر رات سونے سے پہلے پوچھتیں:
“کل کہیں باہر چلیں؟”
ایک دن میں اُنہیں انارکلی لے گیا۔
وہی بازار جہاں بچپن میں وہ میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑتی تھیں کہ کہیں رش میں کھو نہ جاؤں۔
اُس دن وہ میرا بازو پکڑ کر چل رہی تھیں۔
وقت شاید اسی کو کہتے ہیں۔
راستے میں انہوں نے ایک چھوٹی سی دکان سے میرے لیے کھسہ خریدنے کی ضد کی۔
میں ہنس پڑا۔
“امّی، میں امریکہ میں یہ کہاں پہنوں گا؟”
وہ چند لمحے خاموش رہیں۔
پھر بولیں:
“پتہ نہیں بیٹا…
ماں کو بس یہ لگتا ہے کہ بچہ کچھ لے کر جائے۔”
اُس رات میں بہت دیر تک سو نہیں سکا۔
میں سوچتا رہا…
ہم امریکہ جا کر بڑے گھر خرید لیتے ہیں۔
بڑی گاڑیاں۔
بڑی تنخواہیں۔
بڑی مصروفیات۔
مگر ہمارے ماں باپ اُسی پرانے گھر میں ہماری چھوٹی چھوٹی عادتوں کے ساتھ رہ جاتے ہیں۔
میرے واپس آنے سے ایک رات پہلے امّی میرے کمرے میں آئیں۔
میں کپڑے پیک کر رہا تھا۔
وہ دروازے پر کافی دیر کھڑی رہیں۔
پھر بولیں:
“ایک بات پوچھوں؟”
“جی امّی۔”
“تم خوش ہو وہاں؟”
میں جواب نہ دے سکا۔
کیونکہ پہلی بار مجھے لگا…
سکون اور کامیابی ایک چیز نہیں ہوتے۔
میں نے اُن کا ہاتھ پکڑ لیا۔
وہ بہت ہلکا ہو چکا تھا۔
جیسے وقت آہستہ آہستہ اُنہیں دنیا سے کم کرتا جا رہا ہو۔
پھر وہ مسکرائیں اور بولیں:
“فکر نہ کرو۔
میں ٹھیک ہوں۔
یہ دنیا کا سب سے جھوٹا جملہ ہے۔
اگلی صبح جب میں ایئرپورٹ کے لیے نکلا تو امّی ہمیشہ کی طرح دروازے تک آئیں۔
میں گاڑی میں بیٹھا تو وہ کافی دیر تک دروازے کے پاس کھڑی رہیں۔
بالکل ویسے ہی… جیسے بچپن میں اسکول جاتے وقت کھڑی رہا کرتی تھیں۔
میں ایئر پورٹ کے آدھے راستے تک پہنچا تو محسوس ہوا کہ چہرہ آنسووں سے بھیگ چکا ہے میں نے ڈرائیور سے کہا گاڑی واپس موڑ لو گھر چلنا ہے ۔
گھر پہنچا ڈرائیور کو پیسے دے کر رخصت کیا ، بیگ سائیڈ پر رکھے خاموشی سے دبے پاؤں امی کے کمرے میں آیا ، امی کروٹ سے بستر پر لیٹی تھیں جسم ہل رہا تھا وہ ہچکیوں سے رو رہی تھیں میں نے آہستگی سے انکے پیروں پر ہاتھ رکھا ، ایک دم ڈر کر اٹھ بیٹھیں ۔
چہرے جپر حیرت " تم گۓ نہیں ، فلائٹ نکل جاۓ گی ۔
میں نے کہا ، کہیں نہیں جا رہا نکل جانے دیں فلائٹ ۔
میں فیصلہ کر چکا تھا جب تک امی ہیں میں اب یہیں ہوں چلا گیا تو اس بوجھ تلے امی سے پہلے مر جاؤں گا کہ جب امی کو میری ضرورت تھی میں نہیں تھا پیسہ اور سکون اکثر دونوں ساتھ نہیں ملتے ، میں نے سکون کو چن لیا تھا ۔
اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے...
والدین پر اُن کی زندگی میں خرچ کیجیے، اُن کے ساتھ وقت گزاریے، اُن کی ضروریات پوری کیجیے، اُن کے دل کو خوش کیجیے۔ کیونکہ اُن کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اُن کے نام پر کی جانے والی خیرات، صدقات اور بڑے بڑے ایصالِ ثواب بھی اُس مسکراہٹ کا بدل نہیں بن سکتے جو اُن کے چہرے پر آپ کی محبت، خدمت اور قربت سے آتی ہے۔❣️❣️
24/09/2026
آفسانہ
"شیر ولی"
سرحد کے اُس پار سے کبھی گولوں کی گھن گرج سنائی دیتی، کبھی خودکار بندوقوں کی مسلسل تڑتڑاہٹ۔ پھر اچانک سب کچھ خاموش ہو جاتا۔
ایسی خاموشی، جس میں آدمی اپنے دل کی دھڑکن بھی سن لے۔
پاک افغان سرحد پر یہ روز کا معمول تھا۔
شیر ولی اپنے کچے مکان کے باہر چارپائی پر بیٹھا آسمان کو دیکھ رہا تھا۔ وہ کچھ سوچنا چاہتا تھا، مگر سوچ کے دروازے پر جیسے کسی نے اندر سے کنڈی لگا دی تھی۔
اس نے ایک بار پھر آسمان کی طرف دیکھا۔
فروری کی برف باری شروع ہونے والی تھی۔ اس سال گاؤں کے بوڑھوں نے پیش گوئی کی تھی کہ برف بہت پڑے گی۔ پہاڑ کئی دن تک سفید رہیں گے اور راستے بند ہو جائیں گے۔
شیر ولی کو اپنے مال مویشیوں کی فکر تھی۔
مگر یہ فکر بھی اس کے اندر موجود اس بڑے خلا کے سامنے بہت چھوٹی تھی جو کل سے اس کے سینے میں کھل گیا تھا۔
کل اس کا بیٹا مر گیا تھا۔
سترہ برس کا جوان۔
اس کی مسیں ابھی پوری طرح نہیں بھیگی تھیں، مگر وہ اپنے باپ سے اونچا ہو گیا تھا۔ چند دن پہلے ہی تو شیر ولی نے اسے ہنستے ہوئے کہا تھا
’’اب تو میرے کپڑے بھی تجھے چھوٹے لگنے لگے ہیں۔‘‘
وہ ہنسا تھا۔
اب وہ ہنسی اس کے گھر میں کہیں نہیں تھی۔
آج صبح اسے دفنا دیا گیا تھا۔
**********************
شیر ولی کا گاؤں میران شاہ سے کوئی سو کلومیٹر شمال میں، افغانستان کی سرحد کے قریب پہاڑوں کے درمیان واقع تھا۔ یہاں سرحد کوئی لکیر نہیں تھی۔ کبھی پہاڑ کے اُس پار سے لوگ اِدھر آ جاتے اور کبھی اِدھر کے لوگ اُس پار چلے جاتے۔ لکیر صرف نقشے پر تھی۔
ان پہاڑوں میں لمبے بالوں والے طالبان کے غول در غول گھومتے رہتے تھے۔ وہ اپنے آپ کو جہادی کہتے تھے اور یقین رکھتے تھے کہ اسلام کے سچے سپاہی وہی ہیں۔
جس گاؤں کی طرف ان کا رخ ہو جاتا، اس گاؤں کے لیے ان کی مہمان نوازی فرض بن جاتی۔
دس دن پہلے وہ شیر ولی کے گھر بھی آئے تھے۔
ان کے امیر نے اس کے بیٹے کو دیکھا تھا۔
’’جوان ہو گیا ہے۔‘‘
شیر ولی خاموش رہا۔
’’اسلام کو ایسے جوانوں کی ضرورت ہے۔‘‘
شیر ولی نے نظریں جھکا لیں۔
’’یہ تمہارا بھی صدقۂ جاریہ ہوگا۔‘‘
اس نے بہت آہستہ سے کہا تھا
’’بچہ ابھی چھوٹا ہے۔‘‘
امیر ہنسا تھا۔
’’سترہ سال کا جوان چھوٹا نہیں ہوتا۔‘‘
شیر ولی نے پھر کچھ نہیں کہا۔
وہ لوگ چلے گئے تھے۔
اس نے سمجھا تھا کہ بات ختم ہو گئی۔
*********************
گاؤں سے دس کلومیٹر دور فوجی چھاؤنی تھی۔ وہاں سے کبھی کبھار فوجی دستے گاؤں میں آتے اور لوگوں کو خبردار کرتے
’’اپنے بچوں پر نظر رکھو۔ دہشت گرد انہیں استعمال کر رہے ہیں۔ جو انہیں پناہ دے گا، اسے ملک دشمن سمجھا جائے گا۔‘‘
شیر ولی نے یہ بات کئی بار سنی تھی۔
اسے یہ بھی معلوم تھا کہ فوج کے لیے سرحد کے اُس پار سے آنے والا ہر مسلح آدمی دشمن تھا۔
اور سرحد کے اُس پار سے آنے والوں کے لیے شاید ہر فوجی دشمن تھا۔
مگر شیر ولی کے لیے دونوں طرف کے بندوق برداروں سے زیادہ اہم ایک ہی چیز تھی:
اس کا بیٹا۔
اسے سیاست نہیں آتی تھی۔
اسے سرحدوں کا علم نہیں تھا۔
وہ صرف یہ جانتا تھا کہ اس کا بیٹا صبح بکریاں لے کر پہاڑوں کی طرف جاتا ہے اور شام کو واپس آتا ہے۔
بس یہی اس کی دنیا تھی۔
**************************
اس شام بکریاں واپس آ گئیں۔
بیٹا نہیں آیا۔
پہلے شیر ولی نے سوچا، شاید دیر ہو گئی ہے۔
پھر اندھیرا بڑھنے لگا۔
گاؤں کے چند آدمی ٹارچ لے کر پہاڑوں کی طرف نکلے۔
وہ رات بھر تلاش کرتے رہے۔
صبح کے قریب ایک لڑکے نے دور سے آواز لگائی
’’مل گیا!‘‘
شیر ولی بھاگتا ہوا وہاں پہنچا۔
اس کا بیٹا ایک چٹان کے نیچے پڑا تھا۔
جسم موجود تھا۔
سر نہیں تھا۔
شیر ولی کچھ دیر تک اسے دیکھتا رہا۔
پھر اس نے اپنے بیٹے کے جسم کے پاس بیٹھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
ہاتھ ٹھنڈا تھا۔
اس نے ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔
’’اٹھو۔‘‘
کوئی جواب نہیں آیا۔
’’چلو گھر چلتے ہیں۔‘‘
خاموشی۔
شیر ولی نے دوبارہ کہا
’’اٹھو بیٹا۔ سردی ہو رہی ہے۔‘‘
مگر اس بار بھی کوئی جواب نہیں آیا۔
اس کے اندر کچھ ٹوٹا۔
مگر آنکھوں سے آنسو نہیں نکلے۔
**********************
علاقے کے امام صاحب آگے بڑھے۔
انہوں نے شیر ولی کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
شیر ولی نے خالی آنکھوں سے انہیں دیکھا۔
امام صاحب نے مضبوط لہجے میں کہا
’’وہ بے گناہ تھا۔‘‘
شیر ولی خاموش رہا۔
’’بے گناہ شہید ہوتے ہیں۔‘‘
شیر ولی اپنے بیٹے کے ہاتھ کو دیکھتا رہا۔
امام صاحب نے کہا
’’اور شہید کبھی مرتے نہیں۔‘‘
ہجوم میں کسی نے بلند آواز سے نعرہ لگایا
’’شہید!‘‘
دوسری آواز آئی
’’شہید!‘‘
پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورا گاؤں ایک ہی لفظ دہرانے لگا
’’شہید! شہید! شہید!‘‘
شیر ولی نے اپنے بیٹے کے بے سر جسم کو دیکھا۔
اسے پہلی مرتبہ محسوس ہوا کہ اس کا بیٹا اب اس کا نہیں رہا۔
وہ گاؤں کا شہید بن چکا تھا۔
لوگ اس کے بیٹے کے بارے میں جانتے تھے کہ وہ کیسے مرا۔
مگر کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ باپ کیسے جیے گا؟
**********************
دفن کے وقت بھی یہی بات ہوتی رہی۔
’’شیر ولی خوش نصیب ہے۔‘‘
’’روزِ قیامت یہی بیٹا باپ کی شفاعت کرے گا۔‘‘
’’شہید زندہ ہوتا ہے۔‘‘
’’شہید مرتا نہیں۔‘‘
لوگ آتے رہے، دعائیں کرتے رہے، تسلیاں دیتے رہے۔
شیر ولی سب سنتا رہا۔
مگر اس کے اندر صرف ایک جملہ گونجتا رہا
میرا بیٹا مر گیا ہے۔
وہ کسی سے یہ بات کہہ نہیں سکتا تھا۔
کیونکہ ہر طرف سے اسے بتایا جا رہا تھا کہ:
نہیں، تمہارا بیٹا مرا نہیں۔
وہ شہید ہے۔
شام تک لوگ چلے گئے۔
صحن خالی ہو گیا۔
آوازیں ختم ہو گئیں۔
شیر ولی نے پہلی بار محسوس کیا کہ گھر کتنا بڑا ہے۔
اور کتنا خالی۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔
’’تو نے کیوں کیا؟‘‘
کوئی جواب نہیں آیا۔
اس نے دوبارہ دیکھا۔
’’میرا کیا قصور تھا؟‘‘
خاموشی۔
’’اس کا کیا قصور تھا؟‘‘
آسمان ویسا ہی خاموش رہا۔
اسی لمحے ایک بکری نے رسی تڑائی اور آہستہ آہستہ اس کے پاس آ گئی۔
شیر ولی نے اسے دیکھا۔
یہ وہی بکری تھی جسے اس کا بیٹا سب سے زیادہ چاہتا تھا۔
بکری نے اپنا سر شیر ولی کے سینے سے لگا دیا۔
شیر ولی نے اس کی گردن پر ہاتھ رکھ دیا۔
کافی دیر تک دونوں خاموش رہے۔
پھر شیر ولی نے آہستہ سے کہا:
’’پتا ہے... کل میرا بیٹا مر گیا۔‘
بکری نے سر اٹھایا۔
اس کی آنکھیں ساکت تھیں۔
شیر ولی نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
پھر بولا
’’لوگ کہتے ہیں وہ شہید ہے۔‘‘
وہ رکا۔
’’مگر میرا بیٹا مر گیا ہے۔‘‘
اس کی آواز ٹوٹ گئی۔
’’مجھے رونے بھی نہیں دیتے۔ کہتے ہیں شہیدوں کے لیے رویا نہیں کرتے۔‘‘
بکری اس کے اور قریب ہو گئی۔
شیر ولی نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
’’تو ہی سن لے۔‘‘
وہ مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولا
’’تو تو انسانوں سے بہتر ہے۔‘‘
پھر اچانک اس کی آواز بدل گئی۔
’’وہ شہید نہیں تھا۔‘‘
اس نے دانت بھینچ لیے۔
’’وہ میرا بیٹا تھا۔‘‘
بکری خاموش رہی۔
’’وہ کسی کا سپاہی نہیں تھا۔ نہ کسی کا دشمن۔ وہ تو بکریاں چراتا تھا۔‘‘
اس کی آواز بلند ہونے لگی۔
’’کس نے مارا اسے؟‘‘
خاموشی۔
’’کس جرم میں مارا؟‘‘
خاموشی۔
’’کس خدا کے نام پر؟‘‘
ہوا تیز ہو گئی۔
آسمان سے برف کے پہلے گالے گرنے لگے۔
شیر ولی نے آسمان کی طرف دیکھا۔
’’کس سے پوچھوں؟‘‘
ایک برف کا گالا اس کی پلک پر آ کر ٹھہر گیا۔
’’کس سے پوچھوں کہ میرے بیٹے کا قصور کیا تھا؟‘‘
بکری نے اپنا جسم اس کے ساتھ لگا دیا۔
شیر ولی نے اسے دونوں بازوؤں میں بھینچ لیا۔
برف اب تیز ہو چکی تھی۔
گاؤں سفید ہونے لگا۔
پہاڑ سفید ہو گئے۔
راستے سفید ہو گئے۔
اس کے بیٹے کی قبر بھی سفید ہو گئی۔
شیر ولی کی داڑھی پر بھی برف جم گئی۔
وہ دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔
پھر اس کے اندر سے ایک چیخ نکلی۔
ایسی چیخ، جیسے کسی نے اس کے سینے کے اندر سے دل نوچ لیا ہو۔
وہ چیخ کر بولا
’’میرا بیٹا مر گیا ہے اسے مارا گیا ہے، وہ شہید نہیں ہے!‘‘
پہاڑ خاموش رہے۔
گاؤں خاموش رہا۔
بکری خاموش رہی۔
مگر آسماں برف برساتی رہی۔
شیر ولی نے آسمان کی طرف دیکھا۔
اسے لگا، شاید آج پہلی بار کوئی اسے سن رہا ہے۔
شاید خدا بھی انسانوں کی طرح اسے یہ نہیں کہے گا کہ
’’مت رو... وہ شہید ہے۔‘‘
شاید خدا صرف اتنا کرے گا۔۔۔۔
کہ اسے رونے دے گا۔
تحریر عارف خٹک
نوٹ: اس افسانے کے تمام جملہ حقوق مکالمہ ڈاٹ کام، لندن کے پاس محفوظ ہیں۔
23/09/2026
ہم نے غلط سمجھا تھا کہ پہاڑ سمندر، درخت کہکشاں پیارے ہیں مگر جب ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تو ہم نے یہ جانا دنیا میں سب سے خوبصورت من پسند شخص ہے۔۔۔۔۔۔💌
22/09/2026
بڑے ظرف والے ہوتے ہیں وہ لوگ جو اپنی موجودگی کا شورنہیں کرتے اپنی تربیت کا تعارف اپنے رویے سے دیتے ہیں بات کم کرتے ہیں مگر لہجہ بہت کچھ کہہ جاتا ہے کسی کے دل کو چھوٹا کیے بغیر اپنی بات رکھ لیتے ہیں غلطی ہو تو انا کو درمیان میں نہیں لاتے اور رشتوں میں اپنی بڑائی نہیں اپنی انسانیت بچا کر رکھتے ہیں ایسے لوگ محفل میں نمایاں ہونے کے لیے نہیں اپنے کردار کی وجہ سے یاد رہتے ہیں
وہ کسی کو نیچا دکھا کر خود کو بلند نہیں سمجھتے بس اتنا جانتے ہیں کہ اصل بڑائی دوسروں کو جگہ دینے سے آتی ہے۔
22/09/2026
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when Amazing Urdu noval posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.