Three Sixty Designer

Three Sixty Designer

Share

Designer

19/05/2026

میں ایک اوورسیز پاکستانی ہوں اور اس وقت کینیڈا میں رہتی ہوں۔ میں ایک خوشحال زمیندار خاندان سے تعلق رکھتی ہوں، مگر میری زندگی کا سب سے بڑا دکھ یہ تھا کہ میرے والدین بچپن ہی میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔ میرے چچا اور چچی نے مجھے اپنی اولاد کی طرح پالا، میری تعلیم و تربیت میں کوئی کمی نہ چھوڑی، مگر کم عمری میں میں دوسروں کی باتوں میں آتی رہی۔

جب بھی چچا یا چچی مجھے ڈانٹتے، کچھ لوگ میرے کان بھرتے کہ "تم یتیم ہو، تم پر ظلم ہو رہا ہے۔" رفتہ رفتہ میرے دل میں یہ احساس بیٹھ گیا کہ شاید میرے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ کالج مکمل کرتے ہی میں نے ضد کی کہ مجھے کینیڈا جانا ہے۔ میرے چچا اس فیصلے سے خوش نہیں تھے، مگر میری ضد اور جذباتی دباؤ کے آگے انہوں نے ہامی بھر لی۔

کینیڈا آ کر زندگی نے بہت کچھ سکھایا۔ کچھ اچھے لوگ ملے، کچھ ایسے بھی جنہوں نے میری تنہائی اور بے سہارگی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ ایک شخص نے محبت کے بڑے دعوے کیے، مگر جب اپنی والدہ سے ملوایا تو انہوں نے کہا:
"میں نے اپنے گھر میں یتیم خانہ نہیں کھولا۔"

یہ جملہ میرے دل پر گہرے زخم کی طرح ثبت ہو گیا۔

بعد میں ایک اور اچھا رشتہ ملا۔ شادی کی تیاریاں ہو رہی تھیں، مگر ایک دن اس نے غصے میں کہا:
"یہاں اپنا کمانا پڑتا ہے، کسی کا باپ یہاں کچھ چھوڑ کر نہیں گیا۔"

یہ سن کر میں نے فوراً اس رشتے سے انکار کر دیا۔

اگرچہ مجھے کینیڈا میں اچھی ملازمت مل گئی تھی، لیکن والدین کی کمی ہر لمحہ محسوس ہوتی تھی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ میں اچھی آمدنی کے باوجود اپنے چچا سے ہر ماہ مالی مدد وصول کرتی رہی، مگر ان سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتی تھی۔

پھر آیا۔ نانی جان کی طبیعت خراب ہوئی تو میں پاکستان گئی۔ بہت عرصے بعد چچا سے ملاقات ہوئی۔ ان کے چہرے میں مجھے اپنے والد کی جھلک نظر آ رہی تھی۔

ایک دن چچا مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ شہر کے ایک خوبصورت علاقے میں ایک گھر کے سامنے گاڑی روکی۔ دروازے پر میرے والد کا نام لکھا ہوا تھا۔

چچا نے کہا:
"بیٹا، یہ گھر تمہارا ہے۔ جائیداد میں تمہارا جو حصہ بنتا تھا، میں نے اس سے تمہارے لیے یہ گھر بنوایا ہے تاکہ تم اپنی نئی زندگی خوشی سے گزار سکو۔"

میرے قدم لڑکھڑا گئے، آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔

گھر واپس آئے تو چچی نے میری والدہ کے تمام زیورات میرے حوالے کر دیے۔ بعد میں اس گھر کی رجسٹری بھی میرے نام کروا دی گئی۔ وہ خود اپنے پرانے گھر میں رہتے رہے، مگر میرے لیے ہر ممکن آسائش فراہم کر دی۔

اس دن مجھے احساس ہوا کہ دنیا کی باتیں ہمیشہ سچ نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات جنہیں ہم اپنا دشمن سمجھتے ہیں، وہی حقیقت میں ہماری زندگی کے سب سے بڑے محسن ہوتے ہیں۔

میں واپس کینیڈا آ گئی، مگر اب روزانہ اپنے چچا سے بات کرتی ہوں۔ آج میں پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں:

"پیدا کرنے والے سے زیادہ پالنے والا عظیم ہو سکتا ہے۔"

میرے چچا اور چچی نے مجھے محبت، تحفظ، تعلیم اور شناخت دی۔ اگر انہوں نے کبھی ڈانٹا بھی، تو وہ میری بھلائی کے لیے تھا۔

میں ان تمام بچوں اور نوجوانوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہوں جو والدین کی محبت سے محروم ہیں:

اگر کوئی شخص آپ کی پرورش کر رہا ہے، آپ کی تعلیم، تربیت اور مستقبل کے لیے قربانیاں دے رہا ہے، تو اس کی ڈانٹ کو ظلم نہ سمجھیں۔ دوسروں کی باتوں میں آ کر اپنے محسنوں سے دور نہ ہوں۔

والدین نہ ہوں تو خاندان ہی انسان کی پہچان ہوتا ہے۔

اور اگر ہم خود کو مکمل طور پر آزاد اور بے نیاز سمجھنے لگیں، تو اس آزادی کی قیمت بھی ہمیں خود ہی ادا کرنی پڑتی ہے۔
🤔

18/05/2026

What happend in the end

17/05/2026

‏وراثت میں 3 بھائیوں کو 90, 90 لاکھ روپے ملے،ایک نے گھر بنا کر شادی کر لی، دوسرے نے کاروبار کر لیا، تیسرا پردیس چلا گیا۔ بتائیں کس نے زیادہ عقل مندی کا کام کیا؟

17/05/2026

پاکستان میں غربت کیوں؟
آنکھیں کھول دینے والی تحقیق
15 خوفناک وجوہات
ہمارے معاشرے کے گریبان میں جھانکتی ہوئی ۱۵ بے رحم وجوہات، جو بتاتی ہیں کہ یہاں کا عام آدمی غربت کے دلدل سے کیوں نہیں نکل پاتا۔ یہ میٹھی باتیں نہیں، کڑوی گولیاں ہیں۔اس کو پڑھنے سے پہلے دل پر ہاتھ رکھ لیں۔

۱۔ "سرکاری نوکری" کا نشہ
پاکستانی نوجوان کی جوانی کے بہترین ۱۰ سال "سرکاری نوکری" کے انتظار میں گل سڑ جاتے ہیں۔ وہ پچیس ہزار کی پرائیویٹ نوکری یا چھوٹا کاروبار کرنے کو توہین سمجھتے ہیں اور ۳۰ سال کی عمر تک والدین کے ٹکڑوں پر پلتے ہیں۔ نتیجہ؟ جب ہوش آتا ہے تب تک وقت اور عمر دونوں ہاتھ سے نکل چکے ہوتے ہیں۔

۲۔ دکھاوے کی شادیاں (امیروں کی نقل)
جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں، مگر شادی پر ۱۰ لاکھ کا کھانا اور ۵ لاکھ کا جہیز دینا "ناک" کا مسئلہ ہے۔ یہ قوم اپنی زندگی کی کل جمع پونجی صرف ۴ گھنٹے کی تقریب میں لوگوں کو کھانا کھلا کر برباد کر دیتی ہے، اور پھر اگلے ۵ سال قرضہ اتارتی رہتی ہے۔

۳۔ ڈگری زدہ جاہل
ہاتھ میں ماسٹرز کی ڈگری ہے مگر ایک پروفیشنل ای میل لکھنی نہیں آتی۔ ہمارے تعلیمی نظام نے صرف "نوکر" پیدا کیے ہیں، ہنر مند نہیں۔ ڈگری کو قابلیت سمجھنا سب سے بڑی بیوقوفی ہے، کیونکہ مارکیٹ ڈگری کو نہیں، "سکل" (Skill) کو پیسے دیتی ہے۔

۴۔ ایک کمائے، دس کھائیں
مشترکہ خاندانی نظام (Joint Family) کی یہ کڑوی سچائی ہے کہ اگر ایک بھائی کمانے لگ جائے تو باقی سب "پیر پسار" کر لیٹ جاتے ہیں۔ یہاں "Parasite" (مفت خورے) بننے کا رواج ہے، جس کی وجہ سے کمانے والا بھی کبھی امیر نہیں ہو پاتا کیونکہ اس کا پیسہ سرمایہ کاری میں نہیں، دوسروں کا پیٹ بھرنے میں لگ جاتا ہے۔

۵۔ کمیٹی کلچر (مردہ پیسہ)
پاکستانیوں کو انویسٹمنٹ سے ڈر لگتا ہے مگر "کمیٹی" ڈالنے کا شوق ہے۔ کمیٹی "مردہ پیسہ" (Dead Money) ہے۔ دو سال بعد جو ایک لاکھ ملے گا، مہنگائی کی وجہ سے اس کی قدر ۶۰ ہزار رہ چکی ہوگی۔ یہ بچت نہیں، اپنے پیسے کی قدر گرانے کا طریقہ ہے۔

۶۔ انا کا بت (میں یہ کام کروں گا؟)
"میں چوہدری کا بیٹا ہوں، میں ریڑھی لگاؤں گا؟"
اس جھوٹی انا نے لاکھوں گھر اجاڑ دیے۔ یہاں لوگ بھوکے مر جائیں گے لیکن کوئی چھوٹا کام شروع کرنے میں شرم محسوس کریں گے۔ یاد رکھیں، کام چھوٹا نہیں ہوتا، بندے کی سوچ چھوٹی ہوتی ہے۔

۷۔ صحت کی تباہی (خودکشی)
ہم وہ قوم ہیں جو ۴۰ سال کی عمر تک تیل اور چینی ٹھونس کر اپنا جسم برباد کرتے ہیں اور پھر ۵۰ سال کی عمر کے بعد اپنی ساری کمائی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو دے دیتے ہیں۔ صحت کو نظر انداز کرنا غربت کا سیدھا راستہ ہے۔

۸۔ شارٹ کٹ کی تلاش
ہمیں امیر بننا ہے، لیکن محنت کے بغیر۔ کبھی ڈبل شاہ، کبھی کرپٹو کے فراڈ اور کبھی لاٹری۔ پاکستانی قوم پروسیس (Process) پر یقین نہیں رکھتی، اسے "معجزہ" چاہیے۔ اور معجزے کے انتظار میں نسلیں غریب رہ جاتی ہیں۔

۹۔ الزام تراشی (Victim Mentality)
"حکومت خراب ہے، نواز شریف کھا گیا، عمران خان نے کیا کر لیا، فوج نہیں چھوڑتی۔۔۔"
یہ وہ چُورن ہے جو ناکام لوگ روز بیچتے ہیں۔ یہ ماننے کے بجائے کہ "میں نالائق ہوں"، وہ اپنی ناکامی کا ملبہ سسٹم پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔

۱۰۔ ادھار پر عیاشی
ہم وہ لوگ ہیں جو "آئی فون" قسطوں پر لیتے ہیں تاکہ ان لوگوں کو متاثر کر سکیں جو ہمیں پسند بھی نہیں کرتے۔ غیر ضروری چیزوں (Liabilities) کے لیے قرض لینا مالی خودکشی ہے، جو یہاں کا ہر دوسرا بندہ کر رہا ہے۔

۱۱۔ سیکھنا بند (The Know-it-all)
ڈگری ملتے ہی کتاب بند۔ پاکستانی اوسطاً سال میں ایک کتاب بھی نہیں پڑھتا۔ جب آپ اپنے دماغ پر انویسٹ کرنا بند کر دیتے ہیں، تو آپ کی جیب خود بخود خالی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

۱۲۔ اولاد بطور انشورنس پالیسی
غربت کی ایک بڑی وجہ "بے تحاشا بچے" ہیں۔ غریب آدمی بچے اس لیے پیدا کرتا ہے کہ "یہ بڑے ہو کر کمائیں گے"۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ وسائل کے بغیر پلنے والے بچے "سرمایہ" نہیں، معاشرے اور والدین پر "بوجھ" بنتے ہیں۔

۱۳۔ رسک فوبیا (Risk Aversion)
"پیسہ ڈوب نہ جائے"۔ اس ڈر سے لوگ پیسہ بینک میں سڑنے دیتے ہیں یا پلاٹ لے کر چھوڑ دیتے ہیں۔ کاروبار کرنے کا، رسک لینے کا حوصلہ ہی نہیں ہے۔ اور جو رسک نہیں لیتا، وہ کبھی ترقی نہیں کرتا۔

۱۴۔ حاسدانہ رویہ
امیر آدمی کو دیکھ کر یہ سیکھنے کے بجائے کہ "یہ کیسے امیر ہوا؟"، ہم کہتے ہیں "ضرور حرام کا کمایا ہوگا۔" امیروں سے نفرت کر کے آپ کبھی امیر نہیں بن سکتے، کیونکہ لاشعوری طور پر آپ وہ بننا ہی نہیں چاہتے جسے آپ برا سمجھتے ہیں۔

۱۵۔ وقت کا قتلِ عام
چائے کے ڈھابوں پر گھنٹوں سیاست پر بحث، ٹک ٹاک پر اسکرولنگ اور فضول محفلیں۔ غریب آدمی کے پاس پیسے کے علاوہ سب سے قیمتی چیز "وقت" ہوتی ہے، اور وہ اسی کو سب سے زیادہ بے دردی سے ضائع کرتا ہے۔

اپنی بدحالی کا ملبہ حکومت یا تقدیر پر ڈالنا بند کریں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی جیب خالی نہیں بلکہ آپ کا دماغ بنجر ہے۔ جب تک آپ اپنی ”جھوٹی انا“ اور ”سستی“ کا جنازہ نہیں نکالیں گے، غربت آپ کی نسلوں کو اسی طرح چاٹتی رہے گی۔

17/05/2026

#002
عورت کو سمجھنا ایک آرٹ ہے… اور ہر عورت کو ایک ہی انداز سے ڈیل نہیں کیا جا سکتا۔

یہی سب سے بڑی غلطی اکثر مرد کرتے ہیں…
وہ سوچتے ہیں کہ جو بات ایک لڑکی پر کام کر گئی، وہ ہر ایک پر ہو جائے گی۔
حالانکہ ہر عورت کی emotional language الگ ہوتی ہے۔
کسی کو تعریف چاہیے، کسی کو احترام، کسی کو attention، اور کسی کو صرف sincerity۔

اگر آپ واقعی کسی عورت کو سمجھنا چاہتے ہیں، تو پہلے اس کا مزاج سمجھیں… پھر اس حساب سے بات کریں۔

1۔ تعریف پسند لڑکی 🌸
یہ وہ لڑکی ہے جسے اچھا لگتا ہے جب کوئی اسے notice کرے… لیکن صرف شکل نہیں، personality بھی۔
اس سے یوں کہیں:
"لوگ شاید تمہاری خوبصورتی notice کرتے ہوں، لیکن مجھے تمہارا خود کو carry کرنے کا confidence زیادہ خوبصورت لگتا ہے۔"

یہ جملہ اسے فوراً feel کراتا ہے کہ آپ باقی لوگوں جیسے نہیں۔

---

2۔ غصے والی لڑکی 🔥
اسے argue کرنے والا نہیں، سمجھنے والا چاہیے۔
جب وہ غصے میں ہو تو مت کہیں: "تم ہمیشہ غصہ کرتی ہو"
بلکہ کہیں:
"میں جانتا ہوں تم اس وقت upset ہو… پہلے تمہاری بات سن لیتا ہوں۔"

یہ جملہ اس کا دفاعی موڈ ختم کر دیتا ہے۔

---

3۔ مذہبی لڑکی 🤍
یہ boundaries اور respect پر بہت focus کرتی ہے۔
اس سے flirt نہیں، وقار سے بات کریں۔
مثلاً:
"تمہارے اندر جو حیا اور اپنے اصولوں پر قائم رہنے کی عادت ہے… یہی تمہیں سب سے الگ بناتی ہے۔"

وہ فوراً محسوس کرے گی کہ آپ اسے سمجھتے ہیں۔

---

4۔ حساس لڑکی 🌷
یہ چھوٹی باتوں سے hurt بھی جلدی ہوتی ہے، خوش بھی جلدی ہوتی ہے۔
اسے یقین دلائیں:
"اگر کبھی تمہیں لگے کہ کوئی تمہیں نہیں سمجھ رہا… یاد رکھنا، میں تمہاری بات سننے کے لیے ہوں۔"

یہ اسے emotional safety دیتا ہے۔

---

5۔ خودمختار لڑکی 👑
یہ اپنی زندگی خود manage کرتی ہے، اسے control پسند نہیں۔
اس سے کہیں:
"مجھے تمہاری یہی بات پسند ہے کہ تم کسی کے سہارے نہیں، اپنی طاقت پر کھڑی ہو۔"

یہ اس کی self-worth کو touch کرتا ہے۔

---

6۔ شرمیلی لڑکی 🌙
یہ جلدی open نہیں ہوتی۔
اسے جلدی comfort zone میں لانے کی کوشش نہ کریں۔
یوں کہیں:
"تم کم بولتی ہو… لیکن مجھے لگتا ہے تمہارے اندر کہنے کو بہت کچھ ہے۔"

یہ اسے safe feel کرواتا ہے۔

---

7۔ ذہین اور منطقی

17/05/2026

#001

دو ہزار بیس میں میرے بہنوئی کے ریفرنس سے ایک رشتہ آیا تھا۔ دیکھنے میں سب کچھ ٹھیک لگ رہا تھا۔ ہم نے کوئی خاص چھان بین بھی نہیں کی، اور اُن لوگوں کو شادی کی بھی بہت جلدی تھی۔ اسی وجہ سے ایک مہینے کے اندر اندر میری شادی ہو گئی۔شادی والدین کی ساری چیزیں بہت عجیب تھیں ان کے گھر جاتے ہی لیکن میں سمجھ نہیں پائی کہ اس میں عجیب کیا ہے۔ ولیمہ والےدن ہمارے یہاں رواج ہے کہ دلہا دلہن کے ساتھ ان کے گھر جاتا ہے۔ پہلے سب کچھ ٹھیک تھا جیسے میں پارلر گئی ہوں واپسی پہ اس نے کہا میں نہیں جاؤں گا۔میرے گھر والوں نے بہت محنتیں کی کیونکہ ہمارا سوسائٹی میں یہ کلچر تھا کہ اس کو جانا ہی جانا تھا بہت منت سماجات کے بعد جب وہ ہمارے گھر آ گیا تو میں نے اسے کوئی سوال نہیں کیا کیونکہ ارینج میریج تھی تو اس نے خود ہی کہا کہ میری ماں جو ہے نا وہ نہیں چاہتی کہ میں تمہارے ساتھ رہوں وہ جلتی ہے ہم دونوں سے کیونکہ میرے باپ نے میری ماں کو چھوڑ دیا تھا دیٹس وائے وہ مجھے آنے نہیں دے رہی تھی میں تو تمہارے ساتھ آنا چاہ رہا تھاشادی کے پندرہ دن تک ہمارے درمیان کوئی فیزیکل ریلیشن نہیں تھا وہ کہتا تھا مجھے پتہ ہی نہیں ہے فیزیکل ریلیشن کا پھر اسنے مجھ پر الزام لگا دیا کے تم لڑکی نہیں ہو اسلئے نہیں کچھ ہو پا رہا پھر میں نے اس کو کہا ہم کسی ڈاکٹر کے پاس چلے جاتے ہیں لیکن ایک دن اس نے اپنی ماں کو لا کے میرے سامنے بٹھا دیا اور اس کی ماں اس طرح سے چیزیں ڈسکس کر رہی تھی اس کے سامنے کہ مجھے سن کے شرمندگی ہو رہی تھی کہ یہ کیا ہو رہا ہےپھر آہستہ آہستہ مجھے سمجھ آنا شروع ہو گیا کہ یہ چکر کیا ہےجب بھی وہ کوئی بہت پرائیویٹ بات اپنی ماں کو بتاتے ہوئے پکڑا جاتا تو ہر بار وہ کہتا کہ نہیں میری ماں تو ایسے کر رہی ہے اس نے تو کمرے میں ریکارڈنگ لگائی ہوئی ہے چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی ہماری انٹیمیسی کی جو ڈٹیلز ہے نا وہ اپنی ماں کے ساتھ شیئر کرتا تھا اور وہ باتیں جو ایز اے وائف اور ہسبینڈ ہم دونوں نہیں کر سکتے تھے وہ دونوں ماں بیٹا کرتے تھے جب میں نے اپنی ساس سے کنفرنٹ کیا تو انہوں نے اس چیز کو ایکسیپٹ کیا ہاں وہ ساری باتیں میرے سے شیئر کرتا اور اس نے ایسے ہی کرنے ہے۔اور جو سب سے مین ایشو تھا وہ شادی کے دوسرے تیسرے دن ہی مجھے پتہ چلا کہ جو شاپ انہوں نے دکھائی تھی کہ لڑکا یہ کام کرتا ہے وہ انہوں نے دوسرے دن ہی بند کر دی تھی وہ شاپ بھی صرف شادی کے لیے ہی انہوں نے مطلب شو کروائی تھی اس کے بعد انہوں نے ہمیں اپنی کاسٹ جو بتائی تھی ہم اپنی کاسٹ کے باہر شادی نہیں کرتے تو انہوں نے جو ہمیں اپنی کاسٹ بتائی تھی وہ بھی انہوں نے غلط بتائی تھی جب میں نے اس بارے میں اپنی ساس سے بات کی تو انہوں نے کہا ہاں اب تو شادی ہو گئی اب جو کرنا ہے کر لو ایک دن جب ہمارا جسمانی تعلق قائم نہیں ہو پا رہا تھا ان دنوں کے درمیان رات کا ٹائم تھا ہم بالکل ٹھیک موڈ میں بیٹھے ہوئے تھے ایک دم سے وہ اٹھا اور اس نے الماری میں سے بالکل چھوٹی کینچی جس سے یہ ناک کے بال صاف کرتے ہیں وہ اٹھائی اور اپنے ہاتھ پہ رکھ لی ہے کہتا ہے ابھی لوہے قرانی پہ ہاتھ رکھ کے قسم کھاؤ کے تو مجھے چھوڑ کے نہیں جاؤگی ورنہ میں اپنا ہاتھ کاٹ لوں گا شادی کو پانچ چھ دن ہوئے تھے میں اتنا زیادہ خوف زدہ ہو گئی کہ میں نے پریشر میں آ کے اس کے اوپر ہاتھ رکھ لیا اور اس نے خود بھی اس کے اوپر ہاتھ رکھ کے قسمیں کھائی میری ماں ایسے کر دے گی میرے گھر والے تمہارے ساتھ ایسے کر دیں گے تو میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا شادی کے چھ مہینے بعد میری امی نے کہا کہ بیٹا لڑکے کام کرتے ہی اچھے لگتے ہیں تم کوئی کام کر لو میری ساس کو اتنا غصہ آیا انہوں نے مجھے فون کر ک کہا اسنے ساری زندگی کام نہیں کرنا بتا دو اپنی ماں کو اور میں جب بھی مائیکے آتی تھی تو میری ساس میرے ساتھ ہی آتی تھیں وہی چھوڑنے آتی تھیں وہی لے کے جانے آتی تھیں ایک دفعہ میں نے ہسبنڈ کو کہا تھا کہ آپ خود ڈرائیو کر لیں تو میری ساس نے مجھے اتنا ذلیل کیا تھا کہتی ہیں تم مجھ سے میرا بیٹا چھننا چاہتی ہو تم میں کوئی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے بچہ نہیں ہو رہا۔ میں ان کے دباؤ میں آ کر بھی ڈاکٹر کے پاس جاتی رہی اور دوائیاں بھی لیتی رہی، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ شوہر کے بھی ٹیسٹ کروائے جائیں، لیکن وہ کہتے تھے کہ ان کا بیٹا بالکل ٹھیک ہے۔
بعد میں تقریباً ایک سال کے بعد ایک بار اسے پرائیویٹ پارٹ میں چوٹ لگ گئی۔ جب ہم ڈاکٹر کے پاس گئے تو پتہ چلا کہ اسے ویریکوسیل نام کی بیماری ہے اور اس کا سپرم کاؤنٹ بہت کم ہے، جس کی وجہ سے بچے ہونا مشکل ہے اور آپریشن ضروری ہے۔
لیکن اس کی ماں نے کہا کہ میرا ایک ہی بیٹا ہے، میں اس کا آپریشن نہیں کرواؤں گی۔ اگر بچے نہیں بھی ہوتے تو کوئی بات نہیں، میں دواؤں سے ہی ٹھیک کر لوں گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ انہوں نے کبھی دوائیں لیں اور نہ ہی اس کے علاج کی کوئی کوشش کی۔ مجھے ایک مہینے بعد اپنی ماں کے گھر جانا ہوتا تھا میں اتنی منتیں ترلے اور ذلیل کرنے کے بعد بھی مجھے نہیں لے جایا جاتا تھا وہ کہتے تھا میں جا ہی نہیں سکتا اور پھر میرے بہنوئی یا پھر میرا بھائی مجھے پک اینڈ ڈراپ دیتے تھے دو دفعہ ایسا ہوا کہ میں نے سوچا میں ان کو چھوڑ دوں جیسے میں چھوڑ کے آئی ہوں تو وہ میرے ساتھ رابطے ختم کر دیتا تھا دو دفعہ میں خود ہی واپس گئی ہوں٢٠٢٤ کے دسمبر میں میں نے ایسپیکٹ کر رہی تھی میرے عجیب سی طبیعت ہو رہی تھی میں نے اس کو بار بار کہا مجھے کچھ ہو رہا مجھے کچھ ہو رہا لیکن اس کو کوئی کنسرن نہیں تھا میری طبیعت کے ساتھ تو میری بہن ہاسپٹل میں تھی میں نے کہا مجھے ہاسپٹل جانا اس کے پیچھے اس نے اتنی زور سے میری گردن دبائی میری گردن میں پڑی چین ٹوٹ گئی اور میں بےہوش ہو گئی بجائے اس کے کہ مجھے فسٹ ایڈ دینے کے میرے منہ پہ اس نے پانچ لیٹر کی پانی کی بوتلوں ڈھیر دی جب مجھے ہوش آیا دو دن بعد مجھے شدید درد اسٹارٹ ہوا جب ڈاکٹر پہ گئیں تو ڈاکٹر نے کہا کہ آپ کا مسکیرج ہو گیا اس ٹائم پہ ان کو لگا

اس ٹائم پہ ان کو لگا کہ یہ تو باپ بن نہیں سکتا تو یہ بچہ کہاں سے آیا پھر اس نے مجھے کہا کہ میں اپنا نا اب علاج کروانے لگا ہوں یہ جا کے اس نے اپنا سیمن انالیسس صرف اس لیے کروایا کہ یہ چیک کر سکے کہ بچہ کہاں سے آیا اور اس ٹائم یہ رپورٹ آئی کہ اسپرم بننا اسٹارٹ ہو گئے ہیں اللہ کی طرف سے بس ڈی شیپ ہیں ان کا علاج ضروری ہے اور اس کے بعد جب انہیں پتا چل گیا نا بچہ اسی کا تھا تو اس کے بعد پھر اس نے دوبارہ علاج کروانے سے انکار کر دیا اس نے کہا میں نے نہیں علاج کروانا لیکن اس ٹائم پہ جب میرا مس کیریج ہوا نا یہ میرے دل سے اتر گیا تھامیں سانس بھی لیتی تھی نا تو یہ جا کے اپنی ماں کو بتا دیتا تھا اس نے یہ کیا اس نے وہ کیا اور اس کی ماں جو حرکتیں کرتی تھی وہ کہتی تھی میں اپنی ماں کے کہنے پہ کر رہی ہوں اور جو یہ حرکتیں کرتا تھا یہ کہتا تھا میں اپنی ماں کے کہنے پہ کر رہا ہوں میں کبھی اپنے دکھ اپنے ماں باپ کو بتا نہیں پائی کیونکہ وہ جو تھوڑے سے شرارتی بچے ہوتے ہیں نا وہ پیرنٹس سے تھوڑا دور ہوتے ہیں، میں بھی ایسی تھی میں پیرنٹس سے ایموشنل اٹیچ نہیں تھی لیکن میرے گھر والوں کو سب نظر آ رہا تھا۔ جب میرا مس کیرج ہوا اس ٹائم پہ میرے پیرنٹس چاہتے تھے کہ میں نہ جاؤں اس کے ساتھ اور انہوں نے مجھے بہت انسسٹ کیا لیکن مجھے دنیا کا خوف تھا کہ میں کیا کروں کس طرح سے تو میں پھر چلی گئی۔ پھر یوں آ کے ٹوئنٹی ٹوئنٹی فور کی عید والے دن اس نے مجھے بغیر کسی وجہ کے میرے منہ پہ تھپڑ مارا میرے گھر سے اس کو میسیجز آئے تھے اس نے مجھے خود ہی بتایا میں نے کہا دکھاؤ صرف اتنی بات پہ اس نے میرے منہ پہ عید والے دن تھپڑ مارا میرا بہت دل خراب ہوا میں چپ کر کے عید والے دن سب کے ساتھ بیٹھی سلام دعا سارا کچھ کیا اس کے بعد میں نیکسٹ ڈے اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ گھر آ گئی اور پھر میں نے نہ آ کے یہاں پر رہنا سٹارٹ کر دیا اس نے دو دن تو مجھے کال کی ہے دو دن کے بعد اس نے پھر کنٹیکٹ ختم کر دیا اس کی ماں کے چار پانچ دن میسیجز آتے رہے اس نے بھی پھر کنٹیکٹ ختم کر دیا پھر جولائی میں انہوں نے مجھے فون کیا کہ اس کی نانی کی ڈیتھ پے اس کی نانی کی ڈیتھ ہو گئی میں چلی گئی وہاں پہ جب میں گئی ہوں تو میرا سارا سامان پیک کر کے رکھا ہوا ہے وہ جب میرے پیرنٹس وہاں سے نکل آئے اس کے بعد میں نے دیکھا الماریوں میں سے ساری چیزیں نکال کے باہر رکھی میرا اتنا دماغ خراب ہوا میرا دل کیا کہ میں ابھی چھوڑ دوں کہ مطلب کہ میں لڑ کے گئی ہوں بجائے مجھے منانے کے یا میرے پیرنٹس سے بات کرنے کے میرا سارا سامان پیک کیا ہوامیں نے صرف دو چار چیزیں مانگی تھیں ضرورت کی وہ بھی اپنے ماں باپ کے گھر کی اور جتنا عرصہ میں وہاں پہ رہی ہوں نا صرف ایک سال مجھے ساڑھے تین سال میں صرف ایک سال مجھے پاکیٹ منی ملی باقی کا ڈھائی سال میں اپنے پیرنٹس سے لیتی رہی ہوں کہ اس کو شرم آ جائے یہ کمانے لگ جائے گا لیکن اس کی ماں نے کہا کوئی بات نہیں بیٹیاں اپنے ماں باپ سے لیتی ہیں میں بھی تو اپنے ماں باپ کے گھر رہتی ہوں نا ایٹ سو اوکے پھر کوئی مسئلہ نہیں ہے اور اس نے میرا سارا سٹف پیک کر دیا تھا جیسے ہی میں نے کہا یہ تم نے کیا کیا ٹھیک ہے میں پھر چلی جاتی ہوں پاؤں میں گر جانا معافیاں تلافیاں سارا کچھ لیکن اس ٹائم پہ نا میری بات بس ہو گئی تھی کیونکہ میں اتنا ایموشنلی ڈیمج ہو چکی تھی مجھے کوئی بھی دکھ سکھ تھا میں اس سے بات نہیں کر سکتی تھی ایک دفعہ میں نے اس کو کہا کہ تم جاب نہیں کر سکتے تو میں جاب کر لیتی ہوں تو اس نے کہا تم نے جاب کا نام بھی لیا تو میں تمہیں ڈائیورس دے دوں گا اور میں ان کے گھر میں ہی رہی ہوں میں لڑ کے نہیں گئی ٹھیک ہے اتنا سارا کچھ سننے کے بعد اس نے ڈیڑھ مہینہ تک مجھے نہیں بلایا اس کے گھر میں رہتے ہوئے ڈیڑھ مہینہ بعد میں نے ہی منتیں کی جھکی میں نے اس کو بلایا اور پھر میری بات آ گئی کیونکہ نانی کا جمعرات کا ختم تھا اس دن میں نے اس کو کہا میرے پیڑنٹس بھی نہیں چاہتے تھے میں وہاں پر ہوں اس دن میں نے اس کو کہا کہ اتنا کچھ ہو گیا بہت کچھ تھا درمیان میں تو اس نے کہا میں شرمندہ ہوں میں بدلوں گا یہ ہر بار ایسے رہتا تھا لیکن اس نے کبھی بھی خود کو چینج نہیں کیا صرف کہا بدلا کچھ بھی نہیں ساڑھے تین سال میں اس دفعہ جب میں وہاں گئی تو میرا دل بالکل نہیں لگ رہا تھا، مجھے عجیب سی بےچینی ہو رہی تھی۔ میں نے اس سے کہا کہ میں جا رہی ہوں۔ اس نے معافی مانگی۔ میں نے اسے کہا کہ ٹھیک ہے، میرے والدین بھی نہیں چاہتے کہ میں یہاں رہوں، اس لیے تم میرے ابو سے بات کرو اور انہیں کہو کہ آئندہ ایسی غلطی نہیں کرے گا، کام کرے گا اور اپنا علاج بھی کروائے گا۔ میں خود بھی تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔
اس نے کہا کہ ٹھیک ہے تم سو جاؤ، میں صبح اٹھ کر تمہارے والدین سے بات کروں گا۔ لیکن جب صبح وہ اٹھا تو اپنی ماں کے پاس چلا گیا اور مجھے ایسے نظر انداز کر دیا جیسے وہ مجھے جانتا ہی نہ ہو، بالکل اجنبی کی طرح۔ پھر میرے والدین آئے اور مجھے وہاں سے لے گئے۔
مجھے اس سے چھوڑے دو سال ہو گئے ہیں بے شک یہ ارینج میرج تھی لیکن میرا زندگی میں پہلی دفعہ کسی سے رلیشن بنا تھا تو مجھے اس سے بہت زیادہ پیار ہو گیا تھا اب میرے پیرنٹس چاہتے ہیں میں دوسری شادی کر لوں لیکن میرا دماغ دل اس چیز پر راضی نہیں ہوتے مجھے سمجھ نہیں آ رہی میں کیا کروں

02/05/2026

❤️

01/05/2026

❤️

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Riyadh?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Address

Riyadh