N O M i M A L I K
vedio creater
دلوں کو رُلانے اور غافلوں کو جگانے والی ایک نصیحت آموز کہانی
کہا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان تھا جس نے اپنی زندگی گناہوں میں گزار دی تھی۔ یہاں تک کہ اس کے اعمال سے لوگ تنگ آ گئے، اور اسے اپنی بستی سے نکال دیا۔
ایک دن اس کی موت کا وقت آ پہنچا… وہ تنہا ایک ویران کھنڈر میں، گاؤں کے کنارے پڑا تھا۔ نہ کوئی رشتہ دار جو اس پر شفقت کرتا، نہ کوئی دوست جو اس کے آنسو پونچھتا، اور نہ کوئی ایسا جو اسے اچھے نام سے یاد کرتا۔
اسی نازک لمحے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی:
"اے موسیٰ! میرے ایک ولی کا انتقال ہونے والا ہے… تم اس کے جنازے میں شریک ہو، اسے غسل دو، اور ان لوگوں کو بھی بلاؤ جو زیادہ گناہگار ہیں تاکہ وہ بھی اس کے جنازے میں حاضر ہوں، کیونکہ ان کی شرکت کی وجہ سے میں انہیں بخش دوں گا… اور اسے میرے پاس لے آؤ تاکہ میں اس کی آخرت کو عزت بخشوں۔"
حضرت موسیٰ علیہ السلام حیران ہوئے، لیکن حکمِ الٰہی کی تعمیل کی، اور بنی اسرائیل کو آواز دی۔ لوگ جمع ہوئے، مگر جب وہ اس جگہ پہنچے تو انہوں نے اس نوجوان کو پہچان لیا۔
انہوں نے تعجب سے کہا: "اے اللہ کے نبی! یہ تو وہی فاسق اور گناہگار ہے جسے ہم نے خود بستی سے نکالا تھا!"
یہ سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی حیرت میں پڑ گئے کہ ایسا شخص اللہ کا ولی کیسے ہو سکتا ہے؟!
پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوبارہ وحی آئی:
"اے موسیٰ! انہوں نے سچ کہا، وہ واقعی گناہوں میں ڈوبا ہوا تھا، مگر انہیں یہ معلوم نہیں کہ اس کے اور میرے درمیان اس کی موت کے وقت کیا ہوا۔"
پھر اللہ تعالیٰ نے راز کھولا:
"اے موسیٰ! جب اس پر موت کی سختی طاری ہوئی تو اس نے دائیں بائیں دیکھا… مگر نہ کوئی قریبی ملا، نہ کوئی ساتھی، نہ کوئی جو اس کی تنہائی کو دور کرے۔ تب اس نے اپنی نگاہ میری طرف اٹھائی اور کہا:
(اے میرے رب! تیرا ایک بندہ تیری زمین میں اجنبی اور تنہا ہے۔ اگر میرا عذاب تیرے اقتدار میں اضافہ کرتا تو میں تجھ سے معافی نہ مانگتا، اور اگر تیرا معاف کرنا تیری بادشاہی میں کمی کرتا تو میں تیری رحمت کی امید نہ رکھتا، لیکن میں ایک کمزور بندہ ہوں… میرے لیے تیرے سوا کوئی پناہ اور امید نہیں۔ اور تو نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے کہ بے شک تو ہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے… پس میری امید کو رد نہ فرما۔)
اے موسیٰ! کیا یہ مناسب ہے کہ میں اپنے اس بندے کو، جو اس عاجزی کے ساتھ مجھ سے مناجات کر رہا ہے، چھوڑ دوں؟ میری عزت اور جلال کی قسم! اگر وہ مجھ سے تمام اہلِ زمین کی مغفرت طلب کرتا تو میں اس کے دل کے ٹوٹنے کی وجہ سے سب کو معاف کر دیتا۔"
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا:
"اے موسیٰ! میں اجنبی کا سہارا ہوں، ٹوٹے دل والوں کا رفیق ہوں، دل شکستہ لوگوں کا معالج ہوں، اور اس پر رحم کرنے والا ہوں جس پر کوئی رحم کرنے والا نہ ہو۔"
سبحان اللہ! وہ کتنا مہربان اور کتنا کریم ہے۔
اگر آپ یہاں تک پہنچ گئے ہیں تو حضرت محمد ﷺ پر درود بھیجیں:
اللهم صلّ وسلم وبارك على سيدنا محمد ﷺ
08/05/2026
آنکھیں بھر آتی ہیں جب سوچتا ہوں کہ جس رب نے مجھے ماں کے پیٹ میں پالا اندھیری راتوں میں سانس دی، وہی رب آج بھی میرے سارے معاملے تھامے بیٹھا ہے۔ اور میں؟ میں پھر بھی راتوں کو کروٹیں بدلتا ہوں۔
"دل مانتا ہی نہیں۔ زبان سے کہہ دیتا ہوں "اللہ مالک ہے
مگر سینے کے اندر ایک طوفان ہے جو رکنے کا نام نہیں لیتا۔ ہر نماز کے بعد ہاتھ اٹھاتا ہوں، آنسو گرتے ہیں، اور اٹھتے ہی دنیا کے خوف پھر سے گھیر لیتے ہیں۔ شرمندگی ہوتی ہے اپنے ایمان پر کیسا یقین ہے میرا کہ خالق کہہ رہا ہے میں تمہارے ساتھ ہوں اور مخلوق پھر بھی اکیلی رو رہی ہے۔ تھک گیا ہوں اس جنگ سے جو میرے اور میرے دل کے درمیان ہے۔ میں جانتا ہوں وہ سن رہا ہے، دیکھ رہا ہے، مگر یہ انتظار یہ بے بسی، یہ آنسو۔ یہ سب مجھے توڑ دیتے ہیں۔ کاش دل بھی زبان جیسا پکا ہو جاتا۔"بے شک، ہمارا اللہ کالی کملی والے (صلی اللہ علیہ وسلم) کا رب ہے، جو نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ وہ ہماری ہر تنگی اور ہر حال سے واقف ہے۔ ہمیں ہر حال میں اپنے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، کیونکہ وہی ہمارا مالک، ہمارا رب اور پوری کائنات کا حقیقی رازق ہے۔ اللہ ہمیں پکا اور سچا ایمان عطا فرمائے تاکہ ہم ہر حال میں اسی کی رضا پر راضی رہیں۔ آمین۔" #
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Riyadh
11461