World Time

World Time

Share

ISLAMIC REELS 💝
ISLAMIC STATUS 💝
ISLAMIC VIBES 💝
ASHIQ E ISLAM 💝
MUSLIM 💝
MUSLIM COUNTRY 💝
ALHAMDULLILAAH FOR EVERYTHING 💝

01/06/2026

PLEASE SHARE AND SHARE

01/06/2026

عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :
’’ جس رات مجھے معراج کروائی گئی ، میں بیت المقدس پہنچا ، تو جبرائیل علیہ السلام نے اپنی انگلی کے ذریعے بڑے پتھر میں موجود سوراخ کو کھولا اور اس کے ساتھ براق کو باندھ دیا ‘‘۔

01/06/2026

مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
باب: فقرا کی فضیلت اور نبی ﷺ کی گزران کا بیان
حدیث نمبر: 5263

وَعَنْ عَلِيٍّ\nرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ رَضِيَ مِنَ اللَّهِ بِالْيَسِيرِ مِنَ الرِّزْقِ رَضِيَ الله مِنْهُ بِالْقَلِيلِ من الْعَمَل»\n

ترجمہ:
علی ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ جو شخص اللہ کی طرف سے ملنے والے تھوڑے سے رزق پر راضی ہو جاتا ہے تو اللہ اس کے تھوڑے عمل سے راضی ہو جاتا ہے۔‘‘ اسنادہ ضعیف، رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔

01/06/2026

مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
باب: دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
حدیث نمبر: 5194

وَعَن كَعْب\nبن عِياضٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ فِتْنَةً وَفِتْنَةُ أُمتي المالُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

ترجمہ:
کعب بن عیاض ؓ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:’’ ہر امت کے لیے ایک فتنہ (آزمائش و امتحان) رہا ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔‘‘ اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی۔

01/06/2026

مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
باب: دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
حدیث نمبر: 5177

وَعَنْ سَهْلِ\nبْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ مَا سَقَى كَافِرًا مِنْهَا شربة» رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه\n

ترجمہ:
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ اگر دنیا (کی اہمیت) اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کافر کو اس میں سے پانی کا گھونٹ بھی نہ پلاتا۔‘‘ سندہ ضعیف، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ۔

01/06/2026

مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
باب: دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
حدیث نمبر: 5167

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثَةٌ: فَيَرْجِعُ اثْنَانِ وَيَبْقَى مَعَهُ وَاحِدٌ يَتْبَعُهُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَعَمَلُهُ فَيَرْجِعُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَيَبْقَى عمله . مُتَّفق عَلَيْهِ

ترجمہ:
انس ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں، ان میں سے دو واپس آ جاتی ہیں اور ایک اس کے ساتھ باقی رہتی ہے، اس کے گھر والے، اس کا مال اور اس کے اعمال اس کے ساتھ جاتے ہیں، اس کے گھر والے اور اس کا مال واپس آ جاتے ہیں، اور اس کے اعمال (اس کے ساتھ) باقی رہ جاتے ہیں۔‘‘ متفق علیہ۔

01/06/2026

مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
باب: دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
حدیث نمبر: 5159

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مُؤْمِنًا حَسَنَةً يُعْطَى بِهَا فِي الدُّنْيَا وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِ مَا عَمِلَ بِهَا لِلَّهِ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا أَفْضَى إِلَى الْآخِرَةِ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَة يجزى بهَا» . رَوَاهُ مُسلم

ترجمہ:
انس ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ اللہ کسی مومن کی کوئی نیکی ضائع نہیں کرتا، اس کو اس (نیکی) کے بدلے میں دنیا میں عطا کیا جاتا ہے اور اس کے بدلے میں اسے آخرت میں جزا دی جائے گی، اور کافر کو اس کی دنیا میں اللہ کے لیے کی گئی نیکیوں کے بدلے میں کھلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ جب وہ آخرت کو پہنچے گا تو اس کی کوئی نیکی نہیں ہو گی جس کی اسے جزا دی جائے۔ رواہ مسلم۔

01/06/2026

مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
باب: دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
حدیث نمبر: 5160

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ وَحُجِبَتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. إِلَّا أَنْ عِنْدَ مُسْلِمٍ: «حُفَّتْ» . بَدَلَ «حُجِبَتْ»

ترجمہ:
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ جہنم کو شہوات کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا ہے اور جنت کو ناگوار چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔‘‘ بخاری، مسلم۔ البتہ صحیح مسلم میں ((حجبت)) کے بدلے ((حفت)) کے الفاظ ہیں۔ متفق علیہ۔

01/06/2026

سنن ابوداؤد
کتاب: ادب کا بیان
باب: مصافحہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5212

حدیث نمبر: 5212 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ،‏‏‏‏ وَابْنُ نُمَيْرٍ،‏‏‏‏ عَنْ الْأَجْلَحِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي إِسْحَاق،‏‏‏‏ عَنْ الْبَرَاءِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ،‏‏‏‏ فَيَتَصَافَحَانِ،‏‏‏‏ إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَفْتَرِقَا.

ترجمہ:
براء (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب دو مسلمان آپس میں ملتے اور دونوں ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں کے ایک دوسرے سے علیحدہ ہونے سے پہلے ہی ان کی مغفرت ہوجاتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : * تخريج : سنن الترمذی/ الاستئذان ٣١ (٢٧٢٧) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ١٥ (٣٧٠٣) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/ ٢٨٩، ٣٠٣) (حسن )

Translation:
Narrated Al-Bara ibn Azib: The Prophet ﷺ said: Two Muslims will not meet and shake hands having their sins forgiven them before they separate.

01/06/2026

صحیح بخاری
کتاب: وضو کا بیان
باب: پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا کبیرہ گناہ ہے۔
حدیث نمبر: 216

حدیث نمبر: 216 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُجَاهِدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ أَوْ مَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، ‏‏‏‏‏‏كَانَ أَحَدُهُمَا لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ الْآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ فَكَسَرَهَا كِسْرَتَيْنِ فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ قَبْرٍ مِنْهُمَا كِسْرَةً، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ لَهُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ فَعَلْتَ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ تَيْبَسَا أَوْ إِلَى أَنْ يَيْبَسَا.، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِب الْقَبْرِ:‏‏‏‏ كَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْ سِوَى بَوْلِ النَّاسِ.

ترجمہ:
ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے منصور کے واسطے سے نقل کیا، وہ مجاہد سے وہ ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دفعہ مدینہ یا مکے کے ایک باغ میں تشریف لے گئے۔ (وہاں) آپ ﷺ نے دو شخصوں کی آواز سنی جنھیں ان کی قبروں میں عذاب کیا جا رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان پر عذاب ہو رہا ہے اور کسی بہت بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا بات یہ ہے کہ ایک شخص ان میں سے پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتا تھا اور دوسرا شخص چغل خوری کیا کرتا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے (کھجور کی) ایک ڈالی منگوائی اور اس کو توڑ کر دو ٹکڑے کیا اور ان میں سے (ایک ایک ٹکڑا) ہر ایک کی قبر پر رکھ دیا۔ لوگوں نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! یہ آپ ﷺ نے کیوں کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس لیے کہ جب تک یہ ڈالیاں خشک ہوں شاید اس وقت تک ان پر عذاب کم ہوجائے۔

Translation:
Narrated Ibn Abbas (RA): Once the Prophet, while passing through one of the grave-yards of Madinah or Makkah heard the voices of two persons who were being tortured in their graves. The Prophet ﷺ said, "These two persons are being tortured not for a major sin (to avoid)." The Prophet ﷺ then added, "Yes! (They are being tortured for a major sin). Indeed, one of them never saved himself from being soiled with his urine while the other used to go about with calumnies (to make enmiy between friends). The Prophet ﷺ then asked for a green leaf of a date-palm tree, broke it into two pieces and put one on each grave. On being asked why he had done so, he replied, "I hope that their torture might be lessened, till these get dried."

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Riyadh?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Olaya Street
Riyadh
12211