kahaniya qisay
in my pages u can read novels horror stories news exiting updates and much more
Episode 3 Alif Laila
Dosri Raat
جب دوسری رات ہوئی تو دنیا زاد نے اپنی بہن شہرزاد سے کہا کہ بہن‘ اپنی وہ کہانی سوداگر اور دیو والی پوری کر۔ اس نے کہا بسر و چشم بشرطیکہ بادشاہ سلامت مجھے اجازت دیں۔ بادشاہ نے کہا ہاں کہہ۔ اس نے کہا کہ اے نیک بخت بادشاہ اور اسے رہبر آقا‘ میں نے سنا ہے کہ جب سوداگر نے بچھڑے کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو اس کا دل کڑھا اور اس نے چرواہے سے کہا کہ اس بچھڑے کو لے جا کر اور جانوروں میں چھوڑ دے۔
بڈھا اس قصے کو دیو سے بیان کر رہا تھا اور دیو کو اس عجیب و غریب قصے پر تعجب ہو رہا تھا۔ ہرنی والے بڈھے نے کہا کہ اے دیوؤں کے سرتاج‘ یہ باتیں ہو رہی تھیں اور میری چچیری بہن یہ ہرنی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی اور کہتی جاتی تھی کہ اسی بچھڑے کو ذبح کر کیونکہ وہ بہت موٹا تازہ ہے۔
لیکن میرا دل اس کے ذبح کرنے کے خیال سے کڑھتا تھا۔ میں نے چرواہے کو حکم دیا کہ اسے لے جا! اور وہ اسے لے کر چلتا ہوا۔
دوسرے روز میں بیٹھا ہوا تھا کہ چرواہا میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے آقا میں آپ کو ایک خوش خبری دینے آیا ہوں۔ کیا اس کے بدلے آپ بھی مجھے کوئی خوش خبری دیں گے؟ میں نے کہا کہ ہاں۔ اس نے کہا کہ سنیے۔ میری ایک بیٹی ہے۔ اس نے بچپن ہی میں ایک بڑھیا سے‘ جو میرے یہاں تھی‘ جادو سیکھا ہے۔ کل جب آپ نے مجھے بچھڑا دیا تو میں اسے لے کر اپنے گھر اپنی بیٹی کے پاس گیا۔
اس نے اسے دیکھ کر اپنا منہ چھپا لیا اور پہلے رونے پھر ہنسنے لگی اور کہا کہ ابا‘ کیا میں تیرے آگے اتنی ذلیل ہو گئی ہوں کہ تُو میرے پاس پرائے مردوں کو لاتا ہے۔ میں نے کہا کہ پرایا مرد کون ہے؟ اور اس کی کیا وجہ ہے کہ پہلے تُو رونے اور پھر ہنسنے لگی؟ اس نے کہا کہ یہ بچھڑا جو تیرے ساتھ ہے‘ وہ ہمارے آقا کا بیٹا ہے جو جادو کے زور سے بچھڑا بنایا گیا اور خود اس کی سوتیلی ماں نے اس پر اور اس کی ماں پر جادو کیا ہے۔
یہ سب میرے ہنسنے کا۔ اور رونے کا سبب اس کی ماں ہے جسے خود اس کے باپ نے ذبح کیا ہے۔ یہ سن کر مجھے بے حد تعجب ہوا اور ابھی پو نہ پھوٹی تھی کہ میں آپ کے پاس آیا اور سارا ماجرا سنایا۔
اے دیو‘ جب میں نے چرواہے سے یہ باتیں سنیں تو میں اس کے ساتھ باہر نکلا اور مجھے اتنی خوشی تھی کہ میں بے پئے مست تھا۔ جب میں اس کے مکان پر پہنچا تو چرواہے کی بیٹی نے میرا خیر مقدم کیا اور میرے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔
پھر بچھڑا میرے پاس دوڑا ہوا آیا اور زمین پر لوٹنے لگا۔ میں نے چرواہے کی لڑکی سے کہا کہ جو کچھ تُو نے اس بچھڑے کی بابت کہا ہے کیا وہ سچ ہے؟ اس نے جواب دیا کہ جی ہاں‘ حضور وہ آپ کا بیٹا اور آپ کا لخت جگر ہے۔ میں نے کہا کہ اگر تُو اسے اصلی شکل میں لے آئے تو میرا جس قدر مال اور مویشی تیرے باپ کے سپرد ہیں سب تیرے ہیں۔ وہ مسکرائی اور کہنے لگی کہ آقا بغیر دو شرطوں کے مجھے آپ کے مال کی ضرورت نہیں۔
پہلی شرط یہ ہے کہ آپ اس کی شادی میرے ساتھ کر دیں۔ دوسری یہ ہے کہ جس نے اس پر جادو کیا ہے اس پر میں بھی جادو کروں اور اسے قید کروں ورنہ اس کے مکر سے میں محفوظ نہیں رہ سکتی۔
اے دیو‘ جب میں نے چرواہے کی بیٹی سے یہ باتیں سنیں تو میں نے کہا کہ علاوہ اس کے جو تُو مانگتی ہے تمام جانور اور مال جو تیرے باپ کی سپردگی میں ہیں‘ سب تیرے ہیں اور میری چچیری بہن کا خون بھی تیرے لیے مباح ہے۔
جب اس نے یہ سنا تو وہ ایک کٹورا لائی اور اس میں پانی بھرا اور اس پر کچھ پڑھ کر پھونکا اور پانی کو بچھڑے کے اوپر چھڑکا اور کہا کہ اگر تُو واقعی بچھڑا ہے اور خدا نے تجھے بچھڑا ہی پیدا کیا ہے تو اسی شکل میں رہ اور صورت تبدیل نہ کرو۔ اور اگر تجھ پر جادو کیا گیا ہے تو خدا کے حکم سے اپنی اصلی شکل میں آ جا۔ اس نے یہ کہا ہی تھا کہ بچھڑا اپنی شکل بدل کر انسان بن گیا۔
میں اس سے لپٹ گیا اور کہنے لگا کہ تجھے خدا کی قسم ہے کہ جو کچھ میری چچیری بہن نے تیرے اور تیری ماں کے ساتھ کیا ہے سب بیان کر۔ اس نے ساری سرگزشت بیان کر دی۔ میں نے کہا کہ بیٹا تیرے نجات دینے والے کو خدا نے اپنے پاس سے بھیجا ہے۔
اے دیو‘ اس کے بعد میں نے اس کی شادی چرواہے کی بیٹی سے کر دی۔ پھر اس نے میری چچیری بہن کو جادو کے زور سے اس ہرنی کی شکل میں تبدیل کر دیا اور مجھ سے کہنے لگی کہ یہی اچھی صورت ہے‘ بری ہوتی تو آنکھوں کو تکلیف پہنچتی۔
اس کے بعد چرواہے کی لڑکی رات دن ہمارے ساتھ رہنے لگی۔ یہاں تک کہ اللہ میاں نے اسے اپنے پاس بلا لیا۔ جب وہ فوت ہو گئی تو میرے لڑکے نے ہندوستان کا سفر کیا اور یہی اسی شخص کا وطن ہے جس کے تیرے درمیان یہ ماجرا پیش آیا ہے۔ اس سفر میں میں نے اپنی چچیری بہن کو ساتھ لے لیا ہے اور اس کے ساتھ شہر شہر پھر رہا ہوں تاکہ اپنے بیٹے کا پتا لگاؤں‘ یہاں تک کہ قسمت مجھے یہاں لے آئی اور میں نے اس سوداگر کو دیکھا کہ یہاں بیٹھا رو رہا ہے۔
بس یہ ہے میرا قصہ۔ دیو نے کہا کہ یہ قصہ عجیب و غریب ہے اور میں نے تہائی خون بخش دیا۔
دوسرے بڈھے کا قصہ:
اس کے بعد وہ بڈھا‘ جس کے ساتھ دو شکاری کتے تھے‘ آگے بڑھا اور دیو سے کہا کہ اب میں تجھ سے وہ ماجرا بیان کرتا ہوں جو میرے دونوں بھائیوں اور ان دو کتوں کے ساتھ پیش آیا ہے۔ اگر تیرے خیال میں وہ عجیب و غریب ہو تو اس کا دوسرا تہائی خون بھی بخش دیجیو۔
دیو نے کہا کہ اگر تیرا قصہ بھی واقعی عجیب و غریب ہوگا تو میں ایسا ہی کروں گا۔ بڈھے نے کہا کہ اے دیوؤں کے سرتاج‘ سن! یہ دونوں کتے میرے دو بھائی ہیں اور میں تیسرا بھائی ہوں۔ جب ہمارے باپ نے وفات پائی تو ہمیں تین ہزار دینار ترکے میں ملے۔ میں نے ایک دکان کھولی اور خرید و فروخت میں مشغول ہو گیا۔ اسی طرح میرے ان دونوں بھائیوں نے بھی دکانیں کھولیں۔
کچھ دنوں کے بعد میرے بعد میرے بڑے بھائی نے‘ جو ان کتوں میں ایک ہے‘ اپنی دکان کا سارا مال ایک ہزار دینار میں بیچ کر تجارت کا مال خریدا اور وہاں سے روانہ ہو گیا۔ ایک سال گزرنے کے بعد ایک روز میں اپنی دکان میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک فقیر آیا اور بھیک مانگنے لگا۔ میں نے جواب دیا کہ خدا تجھے زیادہ دے۔ وہ رو کر کہنے لگا کہ اب تُو مجھے پہچانتا بھی نہیں۔
میں نے غور سے دیکھا تو وہ میرا بھائی تھا۔ میں اٹھ کھڑا ہوا اور اس کا خیر مقدم کیا اور اس کو اپنی دکان کے اندر لے آیا اور اس کی خیریت پوچھی۔
اس نے کہا کہ کچھ نہ پوچھ! میرا مال اب میرا مال نہیں اور میرا حال ظاہر ہے۔ میں نے اسے حمام میں بھیجا اور اپنے روزمرہ کے کپڑے اسے پہننے کے لیے دئیے اور اسے اپنے ساتھ ٹھہرایا۔ پھر میں نے اپنی دکان کا بہی کھاتا کھولا اور خرید و فروخت کا جائزہ لیا۔
میں نے دیکھا کہ مجھے ایک ہزار دینار کا فائدہ ہوا ہے اور میری پونجی دو ہزار دینار ہے۔ یہ میں نے اپنے اور اپنے بھائی کے درمیان برابر تقسیم کی اور اس سے کہا کہ تُو یہ خیال کر کہ تُو نے گویا سفر نہیں کیا اور یہاں سے باہر نکلا ہی نہیں۔ اس نے قبول کیا اور خوش ہوا اور اپنی الگ دکان کھولی۔ اس پر پھر ایک زمانہ گزر گیا۔ اب میرے دوسرے بھائی نے‘ جو دوسرا کتا ہے‘ اپنی ساری پونجی بیچ ڈالی اور سفر کی ٹھان لی۔
ہم نے اسے بہت روکنا چاہا مگر وہ نہ رکا۔ اس نے تجارت کا مال خریدا اور قافلے کے ساتھ روانہ ہو گیا اور ایک سال تک واپس نہ آیا۔ جب وہ ایک سال کے بعد لوٹا تو اسی طرح جس طرح کہ بڑا بھائی لوٹا تھا۔ اس نے کہا کہ بھائی کیا میں نے تجھے مشورہ نہ دیا تھا کہ سفر نہ کر۔ وہ رونے لگا ور کہا کہ یہ قسمت کی بات ہے‘ اب تو میں فقیر ہو گیا ہوں۔ میرے پاس ایک درہم بھی نہیں اور میں ننگا ہوں‘ میرے پاس پہننے کے لیے ایک کرتہ تک نہیں۔
اے دیو! میں اسے حمام میں لے گیا اور پہننے کے لیے اپنے روزمرہ کے کپڑے دئیے اور اسے اپنی دکان میں لایا اور ہم دونوں نے ساتھ بیٹھ کر کھایا پیا۔ اس کے بعد میں نے کہا کہ بھائی میں ہر سال کے آخر میں ایک بار اپنی دکان کا حساب کرتا ہوں۔ میرے پاس اصل سے جتنا زائد ہوگا اسے اپنے اور تیرے درمیان تقسیم کر دوں گا۔ اے دیو! یہ کہہ کر میں اٹھا اور حساب کیا تو دو ہزار دینار زائد نکلے۔
میں خدا کا شکر بجا لایا۔ ایک ہزار دینار میں نے اپنے بھائی کو دئیے اور ایک ہزار خود رکھے۔ میرے بھائی نے پھر ایک دکان کھولی اور اسی طرح ہم سب زندگی بسر کرنے لگے۔ پھر ایک زمانے کے بعد دونوں بھائی میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ چلو ہم سب سفر میں چلیں!
میں نے انکار کیا اور کہا کہ دونوں نے سفر میں کون سا تیر مارا ہے کہ مجھے بھی اس پر آمادہ کرنا چاہتے ہو۔
میں نے ان کی بات نہ مانی اور ہم تینوں اپنی اپنی دکانوں میں خرید و فرخت کرتے رہے۔ ہر سال وہ مجھے سفر کی ترغیب دیتے تھے اور میں راضی نہ ہوتا تھا‘ یہاں تک کہ چھ سال گزر گئے۔ اب میں نے ان سے سفر کا وعدہ کر لیا اور کہا کہ بھائیو‘ چلو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔ لیکن پہلے دکھاؤ کہ تمہارے پاس کتنا مال ہے۔ معلوم ہوا کہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں‘ وہ سب کچھ فضول خرچی میں گنوا چکے ہیں‘ کیونکہ وہ دن رات کھانے پینے اور عیاشی میں مشغول رہتے تھے۔
میں نے ان سے اس بارے میں کچھ نہ کہا بلکہ اپنی دکان کا حساب جانچا اور سارا مال نکالا تو چھ ہزار دینار نکلے۔ اس پر میں بہت خوش ہوا اور اس کے دو حصے کئے اور ان سے کہا کہ ان تین ہزار دینار سے ہم تجارت کریں گے۔ باقی تین ہزار دینار میں نے زمین میں گاڑ دیئے تاکہ اگر میرا حال بھی انہیں کا سا ہوا تو واپس آ کر ہم سب اپنی اپنی دکانیں پھر کھول لیں گے۔
اسے سب نے منظور کیا اور میں نے دونوں بھائیوں کو ایک ایک ہزار دینار سپرد کر دئیے اور خود ایک ہزار دینار اپنے پاس رکھے۔ پھر ہم نے ضروری سامان خریدا اور سفر کی تیاری کر دی اور ایک کشتی کرائے پر لی اور اس پر سارا سامان لادا اور روانہ ہو گئے۔
دن گنتے گنتے پورے ایک مہینے کے بعد ہم اپنا مال لے کر ایک شہر میں داخل ہوئے اور ہمیں ایک میں دس کا فائدہ ہوا۔
جب ہم واپسی کے لیے سمندر کے کنارے پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک نوجوان لڑکی پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے سامنے آئی اور اس نے میرے ہاتھ کو بوسہ دیا اور کہنے لگی کہ آقا اگر تو میرے ساتھ نیکی کرے گا تو میں تجھے اس کا بدلہ دوں گی۔ میں نے کہا بہت خوب! میں چاہتا ہوں کہ نیکی کروں اور یہ بھی کہ تُو مجھے اس کا بدلہ نہ دے۔ اس نے کہا کہ اے آقا‘ میرے ساتھ نکاح کر لے اور مجھے اپنے وطن لے چل‘ کیونکہ میں دل و جان سے تیری ہوں۔
میرے ساتھ نیک سلوک کر اور میں واقعی اس قابل ہوں کہ میرے ساتھ نیک سلوک کیا جائے۔ میں تجھے نیکی کا بدلہ دوں گی۔ میری ظاہری صورت سے دھوکا مت کھا۔ جب میں نے اس کی باتیں سنیں تو مجھے اس پر ترس آیا اور میں نے اسے ساتھ لے لیا اور اسے کپڑے دئیے اور اس کے لیے کشتی میں نرم بچھونا بچھوایا اور اس کی عزت اور حرمت کی اور کشتی چل دی۔ مجھے اس سے بڑی محبت ہوگئی اور میں دن رات اس کے ساتھ رہنے لگا یہاں تک کہ اس کی وجہ سے میں اپنے بھائیوں کو بھی بھول گیا
اس وجہ سے وہ مجھ سے ناراض رہنے لگے اور میرے مال و دولت پر حسد کرنے لگے۔ اب وہ اس فکر میں ہوئے کہ کسی طرح میرے مال کو اپنے قبضے میں لائیں اور وہ آپس میں مجھے قتل
پھر میں نے اس سے سارا ماجرا بیان کر دیا جو میرے اور ان کے درمیان پیش آیا تھا۔ جب اسے سب باتیں معلوم ہو گئیں تو اس نے کہا کہ میں آج رات اڑ کر ان کے پاس جاؤں گی اور ان کی کشتی کو ڈبو دوں گی اور ان کو مار ڈالوں گی۔ میں نے کہا تجھے خدا کی قسم‘ ایسا مت کر‘ کیونکہ مثل ہے کہ اے نیک کردار‘ بدکردار کے لیے خود اس کی بدکرداری کافی ہے۔ اور وہ تو بہرحال میرے بھائی ہیں۔
اس نے کہا کہ خدا کی قسم‘ میں ان کو بے مارے نہ چھوڑوں گی۔ میں نے آہستہ آہستہ اس کا غصہ ٹھنڈا کیا اور وہ مجھے لے کر اڑی اور میرے گھر کی چھت پر لے جا کر اتارا۔ میں نے دروازے کھولے اور جو زمین کے نیچے دفن کر آیا تھا اسے نکالا اور لوگوں سے صاحب سلامت کی اور اپنی دکان پھر کھولی اور اس کے لیے مال خریدا۔
عشاء کے وقت جب میں اپنے گھر واپس آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ یہ دونوں کتے میرے گھر میں بندھے پڑے ہیں۔
جب انہوں نے مجھے دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے اور رونے اور مجھے سے چمٹنے لگے۔ مجھے تو کچھ پتہ نہ تھا لیکن میری بیوی نے کہا کہ یہ تیرے بھائی ہیں۔ میں نے پوچھا کہ ان پر جادو کس نے کیا؟ اس نے جواب دیا کہ میں اپنی بہن کو بلا کر لائی تھی‘ اس نے جادو کیا ہے اور یہ دس سال سے پہلے چھٹکارا نہ پائیں گے۔ اب دس سال ہونے کو آئے ہیں اور میں اس کے پاس ان کے چھٹکارے کے لیے جا رہا تھا کہ یہاں میں نے اس جوان کو دیکھا اور اس نے مجھے اپنا ماجرا سنایا اور میں ٹھہر گیا کہ دیکھوں تو کہ تیرے اور اس کے درمیان کیا پیش آتا ہے۔
یہ ہے میرا قصہ۔ سن کر دیو نے کہا کہ یہ قصہ واقعی عجیب و غریب ہے اور میں تیری خاطر اس کا دوسرا تہائی خون اور گناہ معاف کرتا ہوں۔
تیسرے بڈھے کا قصہ:
تیسرے خچر والے بڈھے نے کہا کہ میں تجھ سے ایک ایسا قصہ بیان کرتا ہوں جو پہلے دونوں قصوں سے زیادہ عجیب و غریب ہے اور اے دیو‘ تو اس کا باقی خون اور گناہ بھی بخش دیجیو! دیو نے کہا کہ بہت خوب۔
اس نے کہا کہ اے بادشاہ اور جنات کے سردار یہ خچر میری بیوی ہے۔ ایک بار میں سفر پر گیا اور پورے سال تک اس سے جدا رہا۔ جب میں سفر سے واپس آیا اور رات کے وقت گھر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ایک حبشی غلام کے ساتھ پلنگ پر پڑی لیٹی ہوئی ہے اور دونوں میں راز و نیاز اور ہنسی مذاق ہو رہا ہے اور دونوں ایک دوسرے سے گتھے ہوئے ہیں۔ جونہی اس نے مجھے دیکھا وہ فوراً اٹھ کھڑی ہوئی اور ایک پانی بھرا لوٹا لائی اور اس پر کچھ پڑھ کر میرے اوپر چھڑک دیا اور کہنے لگی کہ اپنی صورت بدل کر کتے کی صورت بن جا۔
میں فوراً کتا بن گیا اور اس نے مجھے دھتکار کر گھر سے نکال دیا۔ میں دروازے سے باہر آیا اور چلتے چلتے ایک قصاب کی دکان پر پہنچا اور ہڈیاں کھانے لگا۔ جب قصاب نے دیکھا تو وہ مجھے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گیا۔ جب قصاب کی بیٹی نے مجھے دیکھا تو اس نے میرے سامنے اپنا منہ چھپا لیا اور کہنے لگی کہ یہ تو مردوئے کو لے کر ہمارے پاس آیا ہے۔ باپ نے کہا کہ مردوا کہاں ہے۔
اس نے کہا کہ یہی کتا جس پر اس کی بیوی نے جادو کیا ہے ‘میں اسے اچھا کر سکتی ہوں۔ جب باپ نے اس کی باتیں سنیں تو کہنے لگا کہ بیٹی‘ تجھے خدا کی قسم ‘اسے اچھا کر دے، لڑکی نے ایک پانی بھرا لوٹا لیا اور اس پر کچھ پڑھ کر دم کیا اور اس میں سے تھوڑا سا میرے اوپڑ چھڑک دیا اور کہا کہ اس شکل کو بدل کر اپنی اصلی صورت میں آ جا۔ میں پھر اصلی صورت میں آ گیا اور میں نے اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ تُو میری بیوی پر جادو کر جس طرح اس نے مجھ پر کیا ہے۔
اس نے مجھے تھوڑا سا پانی دیا اور کہا کہ جب وہ سو رہی ہو‘ اس وقت یہ پانی اس پر چھڑک دیجیو اور جو چاہو کہیو‘ وہ وہی ہو جائے گی جو تو چاہے گا۔ میں وہ پانی لے کر اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس کو سوتا پایا اور اس پر وہ پانی چھڑک دیا اور کہا اپنی صورت بدل کر خچر کی شکل بن جاؤ اور وہ فوراً خچر بن گئی اور یہی ہے جسے تُو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے‘ اے بادشاہ اور جنوں کے سرتاج! اس نے خچر سے کہا کہ کیا یہ سچ ہے؟ اس نے اپنا سر ہلایا اور اشارہ کیا‘ یعنی جی ہاں‘ یہ ہے میرا قصہ! جب وہ بیان کر چکا تو دیو خوشی کے مارے ناچنے لگا اور جو تہائی خون رہ گیا تھا وہ بھی بخش دیا۔
اب شہرزاد کو صبح ہوتی دکھائی دی اور اس نے وہ کہانی بند کر دی‘ جس کی اسے اجازت ملی تھی۔ اس کی بہن نے کہا کہ اے بہن تیری کہانی کیسی اچھی اور عمدہ‘ مزے دار اور میٹھی ہے۔ اس نے جواب دیا کہ اگر میں زندہ رہی اور بادشاہ سلامت نے مجھے قتل نہ کیا تو جو کہانی میں کل رات تم لوگوں سے بیان کروں گی اس میں اور اس میں زمین آسمان کا فرق ہو گا۔
بادشاہ نے کہا کہ خدا کی قسم جب تک میں اس سے باقی کہانی نہ سن لوں گا‘ اس وقت تک اسے قتل نہ کروں گا‘ کیونکہ یہ کہانی بڑی نرالی ہے۔ پھر وہ دونوں صبح تک ایک دوسرے کے گلے لگے رہے۔ اس کے بعد بادشاہ دربار میں داخل ہوا اور لشکر اور وزیر حاضر ہوئے۔ بادشاہ نے دربار کیا اور شام تک احکام صادر کرتا رہا۔ کسی کو عہدہ دیا اور کسی کو برخاست کیا اور کسی بات کی ممانعت کی اور کسی کو حکم دیا۔ پھر دربار برخاست ہوا اور شہریار بادشاہ اپنے محل میں گیا۔ جب رات ہوئی تو اس نے وزیر زادی سے اپنی ضرورت پوری کی۔
پہلی رات
Episode 2
شہریار نے کہا اے نیک بخت بادشاہ .... کہتے ہیں کہ ایک سوداگر تھا۔ اس کا کاروبار اور بیوپار بہت سے ملکوں میں پھیلا ہوا تھا۔ ایک روز وہ سوار ہو کر کسی ملک کی طرف روانہ ہوا۔ جب گرمی تیز پڑنے لگی تو وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا اور اس نے اپنی خرجی میں ہاتھ ڈالا اور ایک ٹکرا روٹی کا اور ایک چھوارا نکالا اور اس روٹی کے ٹکڑے اور چھوارے کو کھانے لگا۔
جب کھانے سے فارغ ہوا تو اس نے گٹھلی پھینک دی۔ اب کیا دیکھتا ہے کہ ایک دیو سامنے آ کھڑا ہوا‘ لمبا تڑنگا‘ ہاتھ میں ننگی تلوار لیے ہوئے۔ دیو سوداگر کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اٹھ‘ جس طرح تُو نے میرے بیٹے کو قتل کیا ہے‘ میں بھی تجھے قتل کروں گا۔ سوداگر نے کہا کہ میں نے تیرے بیٹے کو کیونکر قتل کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ جب تُو نے چھوارا کھایا اور اس کی گٹھلی پھینکی تو وہ میرے بیٹے کے سینے پر جا کر لگی اور وہ فوراً مر گیا۔
سوداگر نے کہا کہ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ لاحول ولا قوة الا باللہ العلی العظیم۔ اگر میں نے اسے قتل کیا تو بے جانے بوجھے‘ مجھے معاف کر، دیو نے کہا میں تجھے قتل کرکے رہوں گا۔ یہ کہہ کر اس نے سوداگر کو پکڑ کر کھینچا اور اسے زمین پر پٹخ دیا اور تلوار کھینچ لی کہ اس پر وار کرے۔ سوداگر رونے لگا اور اس نے کہا کہ میں اپنا معاملہ خدا کے سپرد کرتا ہوں اور یہ اشعار پڑھنے لگا:
”دنیا میں دو ہی دن ہیں ‘ایک آرام کا ایک تکلیف کا۔
زندگی کے دو حصے ہیں ‘ایک صاف ‘ایک گدلا۔“
”جو شخص ہم پر یہ الزام لگاتا ہے کہ ہم کو زمانہ الٹتا پلٹتا رہتا ہے اس سے کہہ دو کہ زمانہ اسی کی مخالفت کرتا ہے جس سے وہ خوف کھاتا ہے“
”تُو نے یہ نہیں دیکھا کہ جب آندھیاں چلتی ہیں تو وہی درخت گرتے ہیں جو تناور ہیں؟“
”تُو نے کبھی سمندر کو بھی دیکھا ہے کہ مردار چیز اس کے اوپر تیرنے لگتی ہے اور موتی ڈوب کر اس کی اتھاہ میں پہنچ جاتے ہیں۔
“
”اگر زمانہ ہم کو ادھر ادھر پھینکتا اور اپنی بدذاتی سے ہمیں نقصان پہنچاتا رہتا ہے تو معلوم ہونا چاہیے کہ آسمان پہ بے گنتی ستارے ہیں مگر گرہن چاند اور سورج ہی کو لگتا ہے۔“
”زمین پر خشک اور تر نباتات کی انتہا نہیں مگر پتھر اسی درخت پر پھینکے جاتے ہیں جس میں پھل لگے ہوں۔“
”اگر زمانہ نیکی کرتا ہے تو تُو اس کی طرف نیک گمان کرتا ہے اور جو برائی تجھے تقدیر دکھاتی ہے‘ اس سے خوف نہیں کھاتا۔
“
جب سوداگر یہ اشعار پڑھ چکا تو دیو نے کہا کہ بس اب زیادہ باتیں نہ بنا۔ خدا کی قسم میں تجھے مار کر چھوڑوں گا۔ سوداگر نے کہا کہ اے دیو‘ تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ میرے اوپر قرضہ بھی ہے اور میرے پاس بہت مال بھی ہے۔ میری بیوی ہے اور بچے اور میرے پاس لوگوں کی امانتیں ہیں۔ مجھے گھر جانے دے تاکہ میں سارا حساب بے باق کر سکوں اور ٹھیک ایک سال بعد میں تیرے پاس واپس آ جاﺅں گا۔
میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں ضرور آﺅں گا‘ پھر تیرا جو جی چاہے‘ میرے ساتھ کجیو۔ اس کی گواہی میں ‘میں خدا کو پیش کرتا ہوں۔ دیو نے اس پر یقین کیا اور اسے جانے دیا۔
سوداگر اپنے شہر میں واپس آیا اور تمام تعلقات منقطع کیے اور حق والوں کو ان کے حقوق دئیے اور بیوی بچوں کو سارے واقعات سنائے اور سال کے آخر تک ان کے ساتھ رہا۔
پھر وہ جانے کےلئے آمادہ ہو گیا‘ وضو کیا‘ اور کفن اپنے بغل میں دبایا اور اپنے اہل و عیال اور پڑوسیوں اور عزیز و اقارب کو خدا حافظ کہا اور ہمت کرکے نکل کھڑا ہوا۔ لوگ بہت روئے پیٹے‘ لیکن وہ چلتا ہوا اسی باغ میں پہنچ گیا۔ یہ دوسرے سال کا پہلا دن تھا۔ جب وہ بیٹھا ہوا اپنی حالت پر افسوس کر رہا اور ہاتھ مل رہا تھا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک بڈھا ایک ہرنی کو زنجیر سے باندھے ہوئے سامنے آیا اور سلام کیا اور کہا کہ تُو اس جگہ اکیلا کیوں بیٹھا ہوا ہے؟ یہاں تو جنات رہتے ہیں۔
سوداگر نے اس سے سارا ماجرا بیان کر دیا جو اس کے اور دیو کے درمیان پیش آیا تھا۔ ہرنی والے بڈھے کو سخت تعجب ہوا اور کہنے لگا کہ خدا کی قسم‘ اے میرے بھائی‘ تیرا ماجرا بھی عجیب و غریب ہے اور تیرا قصہ ایک عجوبہ۔ اگر یہ قصہ سوئیوں سے آنکھوں کے کونوں میں لکھا جائے تو لوگوں کے لیے بڑی عبرت کا باعث ہوگا۔ پھر وہ بڈھا سوداگر کے پاس بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ بھائی‘ جب تک میں یہ نہ دیکھ لوں کہ تیرے اور اس دیو کے درمیان کیا ماجرا گزرا‘ میں تیرے پاس سے نہ ہٹوں گا۔
پھر دونوں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے اور وہ سوداگر نہایت مغموم اور خائف تھا اور بڈھا اس کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک دوسرا بڈھا آیا جس کے ساتھ دو کتے تھے‘ کالے اور شکاری‘ اس نے ان دونوں شخصوں کو سلام کیا اور ان کا حال پوچھا اور کہا کہ تم لوگ یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ یہاں تو دیو جن رہتے ہیں۔ انہوں نے سارا قصہ شروع سے لے کر آخر تک بیان کر دیا۔
ابھی وہ بیٹھے ہی تھے کہ تیسرا بڈھا آیا۔ اس کے ساتھ سبز رنگ کا ایک خچر تھا۔ اس نے انہیں سلام کیا اور پوچھا کہ تم لوگ یہاں کیوں بیٹھے ہوئے ہو؟ انہوں نے سارا قصہ شروع سے آخر تک بیان کر دیا (اور اے میرے بزرگو‘ دہرانے میں کوئی فائدہ نہیں) وہ بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا کہ اتنے میں غبار اٹھا اور سخت آندھی چلنے لگی۔ غبار پھٹا اور اس میں سے وہی دیو نکلا۔
اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی اور اس کی آنکھوں سے انگارے نکل رہے تھے۔ وہ ان کی طرف لپکا اور اس کے درمیان میں سے اس سوداگر کا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹ لیا اور اس سے کہنے لگا کہ ادھر آ‘ تاکہ میں تجھے قتل کروں جس طرح تُو نے میرے لخت جگر‘ میرے بیٹے کو قتل کیا ہے۔
سوداگر رونے پیٹنے لگا اور وہ تینوں بڈھے بھی روتے اور واویلا کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔
پہلا بڈھا جس کے پاس ہرنی تھی‘ آگے بڑھا اور دیو کے ہاتھوں کو بوسہ دے کر کہنے لگا کہ اے دیو‘ اور دیوں کے سرتاج‘ میں تجھ سے اپنا اور اس ہرنی کا قصہ بیان کرتا ہوں۔ اگر وہ تجھے عجیب و غریب معلوم ہو تو اس سوداگر کا تہائی خون بخش دیجیو۔ اس نے کہا کہ بہت خوب‘ اے بڈھے‘ تُو قصہ بیان کر۔ اگر وہ مجھے عجیب و غریب معلوم ہوگا تو میں اس سوداگر کا تہائی خون بخش دوں گا۔
پہلے بڈھے کا قصہ:
بڈھے نے کہا اے دیو‘ یہ ہرنی میری چچیری بہن اور میرا گوشت و پوست ہے۔ اس کی شادی اس وقت ہوئی جب وہ کمسن تھی۔ تقریباً تیس سال تک میں اس کے ساتھ رہا لیکن کوئی اولاد نہ ہوئی۔ پھر میں نے ایک لونڈی سے ہم بستری کی اور اس سے ایک لڑکا پیدا ہوا‘ جو چودھویں رات کے چاند کی طرح تھا اور جس کی آنکھیں اور بھویں اپنا جواب نہ رکھتی تھیں۔
جب وہ بڑھ کر پندرہ سال کا ہوا تو اس وقت مجھے بعض شہروں کے دورہ کرنے کی ضرورت پیش آئی‘ اور میں سوداگری کا سامان لے کر روانہ ہوگیا۔ یہ میری چچیری بہن بچپن سے جادو ٹونا جانتی تھی۔ اس نے میرے لڑکے کو جادو کے زور سے بچھڑا بنا دیا اور اس کی ماں کو گائے‘ اور دونوں کو چرواہے کے سپرد کر دیا۔ جب ایک مدت کے بعد سفر سے لوٹا تو میں نے اپنے بیٹے اور اس کی ماں کا حال پوچھا۔
اس نے کہا کہ تیری بیوی مر گئی اور تیرا لڑکا نہ معلوم کہاں بھاگ گیا۔ میں نہایت غمگین اور آب دیدہ رہنے لگا‘ یہاں تک کہ ایک سال گزر گیا اور بڑی عید آئی۔ میں نے چرواہے کو بلا بھیجا اور اسے حکم دیا کہ ایک موٹی تازی گائے لائے۔ وہ ایک موٹی تازی گائے لے آیا اور گائے وہی لونڈی تھی جس پر اس ہرنی نے جادو کیا تھا۔ جب میں قربانی کرنے کے لیے آمادہ ہوا اور چھری ہاتھ میں لی کہ اس کو ذبح کروں تو وہ چلانے اور شور مچانے لگی۔
مجھے تعجب ہوا اور اس پر ترس آیا اور میں نے ہاتھ روک لیا اور چرواہے سے کہا کہ دوسری گائے لا۔ اس پر میری چچیری بہن چلا اٹھی کہ نہیں ‘اسی کو ذبح کر‘ اس سے اچھی اور موٹی تازی ہمارے پاس کوئی اور گائے نہیں ہے۔ میں دوبارہ اسے ذبح کرنے کے لیے اٹھا‘ لیکن وہ پھر چلانے لگی۔ میں نے چرواہے سے کہا کہ لے تُو اس کو ذبح کر اور اس کی کھال کھینچ۔
اس نے ذبح کیا اور اس کی کھال کھینچی‘ لیکن سوائے کھال اور ہڈیوں کے نہ تو اس میں گوشت نکلا اور نہ چربی۔ اسے ذبح کرکے میں نہایت پچھتایا۔ لیکن اب پچھتانے سے کیا ہوتا تھا، میں نے وہ گائے اسی چرواہے کے حوالے کر دی اور اس سے کہا کہ اچھا ایک موٹا تازہ بچھڑا لا۔ وہ میرے لڑکے کو لے آیا۔ جب بچھڑے نے مجھے دیکھا تو وہ رسی تڑا کر میرے پاس آ گیا اور میرے سامنے زمین پر لوٹتے اور چلانے اور رونے لگا۔
مجھے ترس آ گیا اور میں نے چرواہے سے کہا کہ کوئی اور گائے لا اور اس کو چھوڑ دے۔ یہ سنتے ہی یہ ہرنی جو میری چچیری بہن ہے‘ میرے اوپر چلا کر دوڑی اور کہنے لگی کہ تجھے اس بچھڑے کو ذبح کرنا ہوگا۔ آج کا دن مبارک دن ہے جس میں صرف عمدہ جانور ذبح کیا جاتا ہے‘ اور ہمارے بچھڑوں میں سے نہ تو کوئی اس سے زیادہ موٹا تازہ ہے اور نہ خوبصورت۔ میں نے کہا کہ دیکھ‘ اس گائے میں کیا نکلا جس کو میں نے تیرے کہنے پر ذبح کیا تھا؟ ہمیں کچھ بھی ہاتھ نہ لگا اور ذبح کرکے الٹا پچھتانا پڑا۔
اب میں تیری بات ہرگز نہ مانوں گا اور میں بچھڑے کو ذبح نہ کروں گا۔ اس نے کہا کہ خدا کی قسم ‘آج سے مبارک دن میں تجھے اسی کو ذبح کرنا پڑے گا‘ اور اگر تُو نے ذبح نہ کیا تو آج سے نہ تُو میرا شوہر ہے اور نہ میں تیری بیوی۔ جب میں نے اس سے اس طرح کی سخت بات سنی اور اس کے دل کی مجھے خبر نہ تھی‘ تو میں ہاتھ میں چھری لے کر بچھڑے کی طرف بڑھا۔
جب شہرزاد یہاں تک بیان کر چکی تو اس کی صبح ہوتی ہوئی نظر آئی اور اس نے وہ کہانی بند کر دی جس کی اجازت ملی تھی۔ بہن نے کہا کہ تیری کہانی کیسی اچھی اور عمدہ اور مزے دار اور میٹھی ہے۔ اس نے جواب دیا کہ اگر بادشاہ سلامت نے مجھے زندہ چھوڑا تو کل کی کہانی اس سے بڑھ چڑھ کر ہوگی۔ بادشاہ نے اپنے دل میں کہا کہ خدا کی قسم‘ جب تک میں باقی کہانی نہ سن لوں گا‘ ہرگز قتل نہ کروں گا۔
پھر ان دونوں نے وہ باقی رات ہم آغوش ہو کر گزار دی۔ جب صبح ہوئی تو بادشاہ دربار میں آیا اور وزیر بغل میں کفن دبائے حاضر ہوا۔ بادشاہ نے احکام جاری کیے اور کسی کا تقرر کیا اور کسی کو برخاست کیا۔ یہاں تک کہ شام ہوگئی۔ مگر وزیر کو سخت تعجب ہوا۔ اب دربار برخاست ہوا اور شہریار بادشاہ اپنے محل میں داخل ہوا۔
Episode 1
الف لیلی
تبصرہ.
الف لیلہ یا الف لیلہ ) ایک ہزار ایک رات۔
کہتے ہیں کہ سمرقند کا ایک بادشاہ شہر یار اپنی ملکہ کی بے وفائی سے دل برداشتہ ہو کر عورت ذات سے بدظن ہو گیا۔ اور اُس نے یہ دستور بنا لیا کہ ہر روز ایک نئی شادی کرتا اور دلہن کو رات بھر رکھ کر صبح کو قتل کر دیتا۔ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو عورتوں کی تعداد کم پڑنے لگی، بادشاہ کے وزیر نے بھی اسے رائے دی کہ ایسا کب تک چلے گا اور کوئی شادی کرنے کو بھی راضی نہیں ہوتی۔ بادشاہ نے اسے کہا تم اس کا
بندو بست کرو ورنہ تمھیں قتل کر دیا جائے گا۔
آخر وزیر کی لڑکی شہرزاد نے اپنی صنف کو اس عذاب سے نجات دلانے کا تہیہ کر لیا اور باپ کو بمشکل راضی کرکے بادشاہ سے شادی کر لی۔
بادشاہ شہریار قصوں کہانیوں کا بہت شوقین تھا۔
اُس نے رات کے وقت بادشاہ کو ایک کہانی سنانا شروع کی، رات ختم ہو گئی مگر کہانی ختم نہ ہوئی۔ کہانی اتنی دلچسپ تھی کہ بادشاہ نے باقی حصہ سننے کی خاطر وزیر زادی کا قتل ملتوی کر دیا۔ دوسری رات اس نے وہ کہانی ختم کرکے ایک نئی کہانی شروع کر دی۔ جب کہانی کلائمیکس پہ پہنچتی وہ اسے کل کے لیے ملتوی کر دیتی، اس طرح ایک ہزار ایک رات تک کہانی سناتی رہی۔
وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں
یہ تو اپ ایک ہزار ایک کہانیاں پرھنے کے بعد ہی جان سکیں گے تو داستاں شروع کی جاتی یے.
آغاز داستان
اگلے زمانے میں پارس کی حکومت بڑے زوروں پر تھی۔
گردو نواح کے بہت سے جزیرے بھی اس کے ماتحت تھے۔ جس کی وجہ سے سلطنت بڑی وسیع تھی۔
وہاں کا بادشاہ بڑا عادل تھا جس کے پاس مال و زر بے شمار تھا تمام رعایا بادشاہ سے بہت خوش تھی۔ اس کی سلطنت کا سبزہ گویا موسم بہار کی آغوش موجود تھا۔ اس بادشاہ کے دو بیٹے تھے۔ بڑے بیٹے کا نام شہر یار اور چھوٹے کا نام شاہ زمان تھا۔ باپ کی وفات کے بعد شہزادے شہر یار نے عنان حکومت سنبھالی اور چھوٹے بھائی کو بہت سی فوج وخزانہ دے کر ملک تاتار کی حکومت دی۔
شاہ زمان بڑے بھائی کا شکریہ بجالا کر رخصت ہوا۔
اور دونوں امن و چین کی زندگی بسر کرنے لگے۔
ایک دفعہ شہر بار نے اپنے بھائی کو بلایا ۔
شاہ زمان نے وزیر اعظم کو کاروبار حکومت سونپا اور خود بھائی سے ملنے کے لیے سفر پر روانہ ہوا۔
راستے کے پہلے قیام میں کافی رات گزرنے کے بعد کسی ضروری کام کے یاد آنے پر واپس آنا ہوا۔ چنانچہ رات کو وہ ملازمان خاص کے ہمراہ چپ چاپ محل میں داخل ہوا۔
وہاں پہنچ کر اس نے ایک نہایت دل خراش نظارہ دیکھا کہ اس کی ملکہ اپنے غلام کے ساتھ محو خواب ہے۔
اس کی غیرت نے لمحہ بھر توقف کی اجازت نہ دی اور فورا تلوار کھینچ کر دونوں کے سر قلم کر دیئے۔
ان کے قتل کے بعد خاموشی سے اپنے سفر پر روانہ ہو گیا۔
(شاہ زمان کا اپنی ملکہ اور غیر مرد کو قتل کرنا)
شاہ زمان نے اس واقعہ کا کسی سے ذکر نہ کیا۔
وہ اس غم و غصہ کی حالت میں سفر کرتا رہا۔
ملکہ کی بدکاری کا دل پر اتنا گہرا اثر ہوا کہ طبیعت ہر وقت مغموم اور اداس رہنے گئی ۔
القصہ تمام راستہ اسی رنج والم میں کٹا۔
جب وہ شہر یار کی سرحد کے قریب پہنچا تو بڑے بھائی شہر یار نے بمعہ امراء وزرا بڑی شان و شوکت سے بھائی کا استقبال کیا اور ایک خاص محل میں ٹھہرایا۔
جہاں ہر قسم کے سامان آرام و راحت مہیا تھے۔
بڑے بھائی شہر یار نے باتوں ہی باتوں میں ملکہ شاہ زمان کی خیریت دریافت کی۔ شاہ زمان نے جب یہ بات سنی تو اس کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا اور کچھ عجیب کی حالت نظر آنے لگی۔ بڑے بھائی نے خیال کیا کہ شاید ملکہ کی یاد ستا رہی ہے۔ لہذا یہ سلسلہ گفتگو یہیں ختم کر دیا۔
کچھ دنوں کے بعد شہر یار نے دیکھا کہ شاہ زمان کی طبیعت بدستور اداس ہے اور زندگی کی ہر لذت بے کیف نظر آتی ہے۔ جب شہریار اپنے چھوٹے بھائی کو آزردہ دیکھتا تو خود بھی شکستہ خاطر ہو جاتا۔ جب بھائی سے ناسازی طبیعت کے متعلق دریافت کرتا۔ تو شاہ زمان ادھر ادھر کی باتوں میں ٹال دیتا۔
اگر شہر یار سیر و شکار کے لیے کہتا تو وہ کوئی اور بہانہ کر دیتا۔ ایک دن شہر یار نے شاہ زمان سے کہا۔ کہ تم آج میرے ساتھ سیر و شکار کے لیے چلو ۔ تمہیں فرحت حاصل ہوگی۔ لیکن شاہ زمان نے ناسازی طبیعت کا عذر پیش کیا۔
نا چار شہزادہ شہر یار اپنے مصاحبین کے ہمراہ سیر و شکار کو روانہ ہوا۔ شاہ زمان اپنے کمرے کے دروازے بند کر کے چھپ کر ایسی جگہ بیٹھ گیا۔ جہاں سے شہزادہ شہریار کے باغ کے چاروں کو نے صاف نظر آئیں۔
رات کے وقت اچانک شہر یار کے محل کا چور دروازہ کھلا اور بیس عورتیں پر تکلف لباس پہنے باغ کے درمیان پہنچ گئیں۔ جنہیں شاہ زمان اچھی طرح دیکھ رہا تھا۔
لیکن شہزادہ شاہ زمان خود ایسی جگہ بیٹھا ہوا تھا کہ باغ سے کوئی شخص اسے دیکھ نہیں سکتا تھا۔ ان سب عورتوں میں سے دس نے اپنا لباس اتار دیا۔
اب شاہ زمان نے دیکھا۔ جن عورتوں نے اپنا لباس .اتارا ہے۔ دراصل وہ عورتیں نہیں بلکہ حبشی مرد ہیں۔
پھر ان حبشیوں نے پہچان کر ایک ایک عورت کا ہاتھ پکڑ لیا کہ اتنے میں ملکہ شہر یار بھی باغ میں داخل ہوئی اور مسعود مسعود پکارتی ہوئی آگے بڑھی
اتنے میں ایک قوی ہیکل حبشی جو کہ شاید اس کی آواز پہچانتا تھا۔ دوڑ کر آیا جسے دیکھ کر ملکہ بہت خوش ہوئی ۔ غرض ان سب نے بے حیائی کو جامہ پہنایا۔
(ملکہ شہر یار و حبشی مسعود)
اس کے بعد سب نے حوض میں غسل کیا۔ اور اپنا اپنا راستہ لیا۔ مسعود اپنے خاص راستے سے اپنی جائے رہائش پر پہنچ گیا۔ لیکن یہ نظارہ شاہ زمان کے دل پر آنحیات کا کام کر گیا اور ان کی بے حیائی نے شاہ زمان کے غم و غصے کے داغ دھو ڈالے۔ اس نے دل میں کہا کہ دنیا میں صرف میں ہی مصیبت زدہ نہیں ہوں۔ بلکہ میرا بھائی مجھ سے بھی زیادہ گرفتار الم ہے۔ وہ ایسی شان و شوکت کے باوجود بھی اس مکر و فریب کی حفاظت نہ کر سکا۔
شاہ زمان نے سمجھ لیا کہ عورتوں کی فطرت ہی ایسی ہے اور بے وفائی ان کی رگ رگ میں داخل ہے۔
لہذا اس کا سارا غم جاتا رہا اور اسے یقین ہو گیا کہ عورت اپنے شوہر سے خیانت کرتی ہے لہذا اس نے فورا سامان خورد و نوش طلب کیا اور خوب سیر ہو کر کھایا۔
جس چہرے پر ہر وقت حسرت و غم برستا رہتا تھا۔
اب اس پر فارغ البال کی سرخی ناچنے لگی اور جو چہرہ غمزدہ معلوم ہوتا تھا۔ اس پر بہار کی رنگینی برسنے لگی
اور چند دنوں میں صحت کلی حاصل ہوئی اور خوش و خرم نظر آنے لگا۔
چند روز کے بعد جب شہزادہ شہر یار شکارگاہ سے واپس آیا تو چھوٹے بھائی کی حالت میں نمایاں تبدیلی دیکھ کر باغ باغ ہو گیا ۔ دونوں بھائی بڑے پیار و محبت کی باتیں کرنے لگے ۔ الغرض شہریار نے بھائی کی طبیعت میں غیر معمولی تبدیلی دیکھ کر تعجب ظاہر کیا۔ اور پوچھا کہ یہ کیا راز ہے
"جب تم آئے تھے تو تمہاری طبیعت بہت مغموم تھی۔
لیکن اب تمہاری طبیعت پر سکون دیکھتا ہوں۔ اب مجھے بتاؤ کہ اس کی کیا وجہ ہے؟"
پہلے تو شاہ زمان نے اسے ٹالنے کی کوشش کی۔ لیکن جب حد سے زیادہ بھائی کا اصرار بڑھ گیا تو شاہ زمان نے
سارا واقعہ کہہ سنایا.. .
شہر یار کی آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا۔ اور کہا کہ میں اپنی آنکھوں سے بھی دیکھنا چاہتا ہوں۔
تب شاہ زمان نے کہا کہ کسی روز آپ شکار پر جانے کا اعلان کریں۔ اور آپ روانہ بھی ہو جائیں اور پھر رات کو اچانک محل میں واپس آ کر یہ تما شا اپنی آنکھوں سے دیکھ لیجئے۔ چنانچہ اسی طرح طے شدہ انتظام پر عمل کر کے محل میں دونوں بھائی بیٹھ گئے
رات کے وقت حسب دستور چور دروازہ کھلا
اور ملکہ پروگرام تمام ساتھیوں کے ہمراہ آگئی
اور پہلے کی طرح عیش کر کے چلی گئی۔
شہریار کی دنیا اندھیر ہو گئی دونوں بھائیوں نے فیصلہ کر لیا کہ تاج و تخت چھوڑ کر فقیرانہ زندگی بسر کریں ۔
لیکن شاہ زمان نے کہا کہ شرط یہ ہے کہ ہمیں اپنے سے بھی زیادہ بد نصیب ملا تو ہم بدستور اپنا فرض سنبھال لیں گے۔ شہریار نے اس شرط کو منظور کر لیا چنانچہ دونوں بھائی رات کو جنگل کی طرف نکل گئے ۔.. ...
کافی فاصلہ طے کرنے کے بعد وہ ایک وسیع النظر مرغزار میں پہنچے اور ستانے کے لیے ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے۔ یہ درخت بر لب دریا تھا ابھی ان کو بیٹھے ہوئے
تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ دریا سے ایک خوفناک آواز سنائی دی۔ جسے سن کر دونوں بھائیوں کے دل دہل گئے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے دریا کے پانی سے ایک سیاہ رنگ کا ستون نکلنے لگا اور اس قدر بلند ہوا کہ آسمان تک پہنچ گیا۔ یہ دیکھ کر دونوں بھائی درخت پر چڑھ گئے پھر کیا دیکھتے ہیں کہ وہ ستون ایک خوفناک جن کی صورت میں تبدیل ہو گیا۔ جس کے سر پر ایک بہت خوبصورت اور مضبوط صندوق ہے۔ وہ جن بمعہ صندوق اس درخت کے نیچے آیا اور صندوق کھولا تو اس میں سے ایک نہایت ہی خوبصورت خوش پوش عورت نکلی ۔
دیو نے اسے اپنے پاس بٹھایا اور کہنے لگا کہ
"اے نازنین میں تجھ پر دل و جان سے عاشق ہوں۔
اس لیے میں نے شادی کی رات تجھے اٹھالایا تھا
اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تو ایک شرم و حیادار
با عصمت عورت ہے۔ اس وقت مجھے نیند آ رہی ہے۔
میں چاہتا ہوں کہ تھوڑا سا آرام کرلوں ۔
یہ کہہ کر دیو اس عورت کے زانوں پر سر رکھ کر سو گیا
اور خراٹے لینے لگا۔
اچانک اس عورت کی نظر دونوں شہزادوں پر پڑی۔
جہاں یہ دونوں بھائی بیٹھے تھے۔ فورا اشارے سے عورت نے بلایا کہ نیچے اتر آؤ۔ ورنہ میں ابھی دیو کو جگاتی ہوں۔ شہزادوں نے اشارے کیے کہ ہمیں معاف کر دو ۔
دیو کا سر عورت نے آہستہ سے زمین پر رکھا اور انہیں دھمکی دی کہ میرے پاس آؤ ۔ ورنہ تمہیں مروادوں گی۔
یہ سن کر وہ چپکے سے اتر کر عورت کے پاس آئے۔
عورت نے دونوں کو داد عیش پر مجبور کیا ۔
وہ ڈر کے مارے عورت کی بات مانتے رہے ۔
فراغت کے بعد عورت نے دونوں کی انگوٹھیاں لے لیں اور صندوق سے ایک دھاگہ نکالا۔ جس میں بہت سی انگوٹھیاں تھیں ان کو بھی اس میں پرو لیا۔
اور کہنے گئی کہ یہ دیو یوقوف ہے اور یہ اپنے انتظام پر خوش ہے۔ لیکن میں اس کی کڑی نگرانی کے باوجود بھی بمعہ تمہارے آج تک پورے تین سو جوانوں سے مل چکی ہوں جن کی یہ انگوٹھیاں بطور نشانی میرے پاس موجود ہیں اور یہ کم بخت دیو مجھے سمندر میں چھپائے رکھتا ہے۔ تاکہ با عصمت رہوں لیکن جب میرا جی چاہتا ہے۔
تو میں اپنی خواہش پوری کر لیتی ہوں ، اور اسے خبر تک نہیں ہوتی۔ اس کے بعد اس نے شہزادوں کی طرف اشارہ کیا۔ کہ اب کہیں بھاگ جاؤ۔ اور خود اپنی جگہ پر آ کر بیٹھ گئی۔ یہ واقعہ دیکھ کر شہزادے بہت حیران ہوئے اور حسب وعدہ یہ سوچ کر کہ اس دیو کی مصیبت ان سے زیادہ ہے اپنے دار الحکومت کی طرف متوجہ ہوئے۔
شہر یار نے محل میں آتے ہی ملکہ کو بمعہ خواصوں کے قتل کر دیا۔ اور آئندہ کے لیے عہد کر لیا که
هر شب کسی نئی عورت سے نکاح کرے گا۔
اور باعث مکر و فریب صبح ہی اسے قتل کر دے گا۔
العرض اس تجویز کے بعد شہر بار نے شاہ زمان کو تحائف دے کر رخصت کیا
اور پھر یر ہر رات ایک نئی عورت اس کی ملکہ ہوتی
اور صبح قتل کردی جاتی .اب آہستہ آہستہ اپنے ہی امراء ، اکابرین کی لڑکیاں بھی اس ظلم کا شکار ہونے لگیں
لوگ ملک چھوڑ کر بھاگ گئے جب عورتوں کی تعداد کم پڑنے لگی تو وزیراعظم بھی پریشان ہوگیا کہ
اب بادشاہ کے لیے لڑکیوں کا بندوبست کہاں سے کرے
اس کی اپنی بھی دو بیٹیاں تھیں
شہرزاد اور دینازاد جو کہ عقلمند ہونے کے علاوہ علم میں یکتائے زمانہ تھیں اور حسن میں بھی بے مثال تھیں۔
بڑی کا نام شہرزاد اور چھوٹی کا نام دیتا زاد تھا۔
ایک دن شہرزاد نے اپنے باپ کو غمگین پاکر وجہ دریافت کی تو وزیر نے بادشاہ کا خیال اس پر ظاہر کیا۔
شہرزاد نے کہا کہ میں بھی مدت سے بادشاہ سے نکاح کی آزومند ہوں۔ مجھے امید ہے کہ آئندہ اس کے ظلم کو نیست و نابود کر کرنے میں کامیاب رہوں گی۔"
باپ نے کہا۔" بیٹی شاید تو پاگل ہوگئی ہے تو کبھی بھی کامیاب نہیں ہوگی ۔ اور میں دانستہ تمہیں موت کے منہ میں نہیں جانے دوں گا۔ اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں تیرا بھی حال اس سوداگر کے گدھے جیسا نہ ہو۔ جس طرح اسے اپنی نادانی کی سزا بھگتنی پڑی۔"
شہرزاد نے کہا کہ ابا حضور مجھے اس گدھے کی حکایت سنائیے کہ وہ کیا ہے۔ اور وزیر نے یوں بیان کرنا شروع کیا۔
(نادان گدھا اور بیل)
ایک سوداگر بڑا مالدار تھا۔ جو جانوروں کی بولی سے اچھی طرح واقف تھا۔ ایک دن اس نے مویشی خانے میں گدھا اور بیل کو آپس میں باتیں کرتے سنا۔ بیل نے گدھے سے کہا
"تم خوش قسمت ہو اور میں سارا دن ہل چلاتا ہوں ۔
اور تم مزے میں رہتے ہو۔
گدھے نے کہا کہ" میرا کہنا مانو تو تم بھی آرام پاؤ گے۔
کل کام کے وقت بیمار بن جاتا تو مالک تم سے کام نہ لے گا۔ بیل نے خوش ہو کر تجویز پر پورا عمل کرنے کا یقین دلایا۔
سوداگر نے ان دونوں کی باتیں سن لیں اور چپ رہا۔
دوسرے دن ملازم نے بیل کے بیمار ہونے کی اطلاع دی۔ سوداگر مسکرایا اور کہا کہ "آج گدھے کو لے جاؤ ۔
نو کر گدھے کو لے گیا۔ اور شام تک کام لیا۔
رات کو جب گدھا آیا تو بیل نے بہت شکریہ ادا کیا۔
" کہ تمہاری تجویز خوب رہی اور مجھے آرام کرنے کا موقع مل گیا "
گدھا دن بھر کی مشقت سے چور چور تھا۔
اس وقت تو چپ رہا۔ لیکن جی میں سوچتا رہا کہ اچھی نصیحت کی کہ خود بلا میں پھنس گیا۔
وزیر نے یہ قصہ بیان کر کے شہرزاد سے کہا کہ
بیٹی تو بھی اس ناصح گدھے کی طرح اپنے آپ کو مصیبت میں مبتلا کرنا چاہتی ہے۔
لڑکی نے کہا کہ میں نے جو ارادہ کر لیا ہے اسے ضرور پورا کروں گی۔ وزیر نے کہا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے تم سے وہی سلوک کرنا پڑے جو اس سوداگر کو اپنی بیوی سے کرنا پڑا تھا۔"
شہرزاد نے کہا آپ مجھے سوداگر کی حکایت سنائیے
اور یہ بھی بتائیے کہ اس گدھے کا کیا حال ہوا۔
وزیر نے کہا کہ اگلے روز صبح سویرے سوداگر پھر مویشی خانہ پہنچا۔ تا کہ گدھا اور بیل کا معاملہ دیکھے
آج اتفاقا اس کی بیوی بھی ساتھ تھی ۔
اس وقت گدھا بیل سے پوچھ رہا تھا کہ
"آج کیا کرو گے۔ بیل نے کہا آج بھی میں بیمار رہوں گا۔
تو گدھے نے کہا کہ "نہیں ایسا غضب نہ کرتا ۔
مالک کہہ رہا تھا کہ اگر بیل تندرست نہ ہوا تو اس کو ذبح کر دیا جائے گا۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ آج اچھی طرح اپنے کام پر چلے جاؤ ۔ ورنہ جان کا خطرہ ہے
سوداگر یہ سن کر ہنس پڑا۔
اس کی بیوی نے متعجب ہو کر پوچھا آپ کیوں ہنسے سوداگر نے جواب دیا کہ
بیل اور گدھے کی باتوں پر ہنسی آگئی۔
تو بیوی نے دریافت کیا۔ ان میں کیا گفتگو ہوئی ۔
سوداگر کہنے لگا۔ یہ ایک راز ہے کہ اگر میں ظاہر کر دوں تو اس میں میری جان کو خطرہ ہے۔
بیوی نے اصرار کیا اور کہنے لگی کہ تم بہانے کرتے ہو
اگر صحیح بات نہ بتاؤ گے تو میں اپنے آپ کو قتل کر دوں گی سوداگر نے ہر چند اس کو سمجھانا چاہا لیکن وہ اپنی ضد پر اڑی رہی اور ساتھ ہی رونا پیٹنا شروع کر دیا۔ سوداگر دیکھ کر پریشان ہوا کہ اگر اس کو بتاتا ہوں تو میری زندگی پہ حرف آتا ہے نہیں بتاتا تو جان کھوتی ہے
اس فکر میں کھڑا تھا۔ کہ کتے نے مرغ سے کہا تو آج بھی
اپنی مرغیوں سے بدمستی کر رہا ہے مرغ بولا کہ کیوں آج کیا بات ہے۔ کتے نے کہا کہ آج ہماری ملکه مالک سے ایسا راز دریافت کرنے پر اصرار کر رہی ہے کہ اگر بتا دیا جائے تو مالک کی خیر نہیں۔ اگر مالک نہیں بتاتا تو ملکہ جان دینے کو تیار ہے۔ مرغ بولا کہ مالک بیوقوف ہے جو ایک بیوی کو قابو نہیں رکھ سکتا مجھے دیکھو پچاس مرغیوں کو سنبھال رکھا ہے اگر میری مرضی کے خلاف ذرا بھی کام کریں تو مار مار کر سیدھا کر دوں ۔
مالک جس قدر سستی کریں گے عورت اتنا ہی سر پر چڑھے گی۔ یہ سن کر مالک نے ہنٹر اٹھایا اور بیوی کو مارنا شروع کر دیا عورت ڈرگئی اور سوداگر کے قدموں میں گر کر معافی مانگی کہ تمہاری مرضی کے خلاف کوئی بات
نہ کروں گی۔"
یہ حکایت بیان کر کے وزیر نے کہا کہ بیٹی اگر تو اپنی ضد نہیں چھوڑے گی۔ تو مجھے تیرے ساتھ بھی یہی سلوک کرنا پڑے گا۔
شہرزاد نے کہا کہ" میری درخواست منظور کر لیجئے۔
مجھے یقین ہے کہ میں اپنی ہزاروں بہنوں کی جان بچا لوں گی. اگر اس کار ثواب میں میری جان بھی چلی گئی۔
تو کوئی ہرج نہیں ہے۔"
مجبورا وزیر بادشاہ کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ
"حضور حق آئندہ شب میری لڑکی حضور کی دلہن بنے گی۔
بادشاہ نے تعجب سے کہا کہ "تمہیں میرا دستور معلوم ہے کیا تم یہ امید کرتے ہو کہ اس معاملہ میں تمہاری بیٹی سے رعایت کروں گا۔ یہ سمجھ لو میرا عہد ایسا نہیں ہے کہ میں کسی کے لیے توڑ دوں"
وزیر نے کہا کہ" حضور کو اختیار ہے"
وزیر گھر واپس آیا اور بیٹی کو کل ماجرا سنا دیا
وہ بولی کہ آپ اللہ پر بھروسہ کیجئے اس نے اپنی چھوٹی بہن بینا زاد کو بلایا اور سمجھایا کہ آج میں اس ارادے سے جارہی ہوں کسی بہانے سے تمہیں بھی بلاؤں گی۔
جب تھوڑی رات باقی رہے تو تم کہانی بنانے پر اصرار کرنا۔ اس وقت میں کوئی کہانی شروع کر دوں گی۔ امید ہے کہ اس طرح میری اور میرے ساتھ دوسری بہت سی لڑکیوں کی جان بچ جائے گی۔
حسب وعدہ بادشاہ نے شہرزاد سے نکاح کر لیا۔
رات کو جب بادشاہ نے شہرزاد کو دیکھا۔ تو اس کی خوبصورتی پر بہت پیار آیا۔ لیکن شہرزاد نے بادشاہ کو موقع نہیں دیا۔ کہ وہ اپنی تشنہ آرزو کی پیاس بجھائے ۔
بلکہ بے اختیار ہو کر رونے لگی۔ بادشاہ نے حال دریافت کیا۔ تو رو کر کہنے لگی کہ "یہ تو میں جانتی ہوں کہ مجھے آپ صبح قتل کرادیں گے اس لیے چاہتی ہوں کہ اپنی چھوٹی بہن کو اپنے پاس بلا لوں ۔ اور جی بھر کے دیکھ لوں ۔
بادشاہ چونکہ اس کو دل سے چاہنے لگا تھا یہ سن کر خاموش ہو گیا اور دینازاد کو بلانے کی اجازت دے دی۔ شہرزاد نے اپنی تجویز کے مطابق بہن کو بلایا۔
اور اپنے ہی کمرے میں اس کو بھی لٹایا بادشاہ چونکہ
شہرزاد سے محبت کرنے لگا تھا۔ اس لیے خاموش رہا
کہ اپنے عہد کے مطابق صبح ہی اس کو قتل کرنا پڑے۔
آدھی رات گزرنے پر دینازاد نے کہا کہ بہن خدا جانے صبح کو کیا ہو، آپ آخری کہانی سنا دیجئے پریشانی میں نیند نہیں آتی ۔ شہزادی بولی کہ شہنشاہ اجازت دیں کہ میں کوئی قصہ کہوں ۔ بادشاہ بھی کہانیوں کا بہت شائق تھا۔
اجازت دے دی۔ شہرزاد نے یہ کہانی شروع کردی۔
(سوداگر اور جن.......)
جاری.......