Al-Noor Machiwal
AL NOOR International Machiwal Chapter
The Quran is a light for
Every Heart
Every Broken Soul
Every tired Person
....
Hold it in your hand and be free in this enslaved world .💫🌎
14/07/2026
*Al Noor International Presents*
*Quran Legacy*
One-Year Journey with the Qur’an
📖 Preserving the Revelation.
🕊️ Living the Prophetic Way.
🎓 Building Knowledge.
✨ Refining Character.
*Join a comprehensive program covering:*
📚 Qur’an and its Sciences
🕋 Hadith & Seerah
⚖️ Aqeedah & Fiqh
👨👩👧👦 Family & Society
🗣️ Language & Capstone
—all designed to help you understand, live, and share the message of the Qur’an.
📍 *Offered Exclusively in Lahore*
📅 *Starting*: 15th August
🕗 *Time*: 8:00 AM – 2:00 PM (Mon–Sat)
🎓 *Eligibility*: Graduates & Above
📲 *Contact us for Registration:*
https://alnoorpk.com/quran-legacy/
Al-Noor International is making an impact nationwide! 🇵🇰✨ Take a virtual tour of our locations across Pakistan.
Do you have a campus in your city?
Drop down in comment section.
10/07/2026
دیکھتی آنکھیں روشنی سے اندھیرے تک پہنچ جانے والی ہیں۔
بولتی زبان رکھنے والی ہے، سنتے کان سماعت سے محروم ہونے والے ہیں۔
سانسوں کی ڈور بہت جلد ٹوٹ جانے والی ہے۔
ہر وقت کام کرتا ذہن اپنا کام چھوڑ دینے والا ہے۔
چلتی نبضیں ڈوب جانے والی ہیں اور دھڑکتا دل اپنی حرکت کھو دینے والا ہے۔
زندگی کی صبح اپنی شام تک پہنچنے والی ہے۔
ہر ایک پر وہ وقت آنے والا ہے جب اسے موت کے دروازے پر کھڑا کر دیا جائے گا۔
وہ کیسا وقت ہوگا جب پیچھے سب پیارے، زندگی کی کمائی، مال، گھر بار، بزنس اور آگے آخرت ہوگی۔
دنیا جس کو وہ چھوڑ کر جا رہا ہوگا پھر کبھی وہاں نہیں آئے گا۔
ایک ایسی دنیا جس میں ایک اجنبی داخل ہوگا پھر وہاں سے نکل نہیں پائے گا۔ ہاں یہ موت ہے جو سارے منظر بدل کر رکھ دے گی۔
کیسا واقعہ ہے جو زندگی کی صبح کو صرف شام تک نہیں انجام تک لے جائے گا۔
ابتدائیہ
شامِ زندگی
استاذہ نگہت ہاشمی
طفیل بن عمرو دوسی
یہ اسلام کے بالکل ابتدائی دور کا واقعہ ہے۔ طفیل بن عمرو دوسیؓ رضی اللہ عنہ جب وہ مکہ آئے تو انہوں نے کہا کہ اس شخص کی بات نہ سننا، یہ جادوگر ہے۔ یہ لوگوں کے ذہن بدل دیتا ہے، لوگ اپنے دین کو چھوڑ دیتے ہیں اس لیے اس کی بات نہ سننا۔ طفیل نے سوچا کہ میں شاعر ہوں، میں جوان آدمی ہوں میرا کوئی کیا کرے گا؟ کیوں نہ میں اسے سن کر اس میں چاہوں کیا؟ پھر انہوں نے سوچا کہ ٹھیک ہے میں سنتا تو ہوں اس کی بات کیا ہے؟ تو میں اسے سن کر اس میں چاہوں کہ کیا؟ پھر انہوں نے اسے سنا اور آخرکار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے قرآن حکیم کی آیات سنیں تو وہ متاثر ہو گئے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔
کتنے خوش نصیب لوگ تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب مدعو کی مشکلات کو دور کر دیا جائے (مدعو اس کو کہتے ہیں جس کو دعوت دی جاتی ہے) تو وہ قبول کرنے کے لیے خود آگے بڑھ کر آ جاتا ہے اور طفیل بن عمرؓ نے جب اسلام قبول کیا تو آپؐ نے اس کی مشکل کو دور کر دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے آسانی پیدا کر دی تھی۔ اس نے قرآن حکیم کی آیات سنیں، سمجھیں چونکہ اس نے نیت کی تھی، ارادہ کیا کہ سنوں تو سہی ہے کیا؟ ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے توفیق بھی دے دی (الحمد للہ)۔
طفیلؓ نے اپنے قبیلے کو دعوت دی
اس کے بعد وہ اپنے قبیلے میں واپس گئے یعنی قبیلہ دوس میں اور انہوں نے اپنے قبیلے کے لوگوں کو توحید کی دعوت دی، وہی آیات پڑھ کر سنائیں اور وہی پیغام اپنے قبیلے کے لوگوں کو بھی دیا۔ ہوا یہ کہ اتنی گھرانوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اب اتنی بڑی تعداد میں لوگ مسلمان ہو چکے تھے لیکن ابھی بہت زیادہ افراد باقی تھے۔
دعوت کا ابتدائی ردعمل
جب ابتدائی دور تھا تو توحید کی دعوت دی تو یوں نہیں ہوا کہ فوری طور پر سب نے اسلام قبول کر لیا۔ شروع میں انہوں نے سرکشی کی تھی اور نئے دین کو قبول کرنے سے انکار بھی کیا تھا۔ آپ بھی جانتے ہیں کہ Conditionining ہو جائے تو اس سے نکلنا کتنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یعنی اگر کوئی کسی عادت کا شکار ہے تو ایک عادت چھوڑنا بھی بہت مشکل ہے کہاں پوری زندگی کا نظام ہی چھوڑ دیں۔ پھر طفیل بن عمرو ایک بار پھر مکہ میں آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے۔ انہوں نے کہا:
آپﷺ میرے قبیلے کے لیے بد دعا کر دیں
اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! قبیلہ دوس سرکش ہو گیا آپ ان کے لیے بد دعا کر دیں۔
یہ وہ اینگل ہے جو میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتی تھی۔
آپ ﷺ نے ہاتھ اٹھا دیے اور ہاتھ اٹھا کر فرمایا:
**"اے اللہ! دوس کو ہدایت دے دے، اے اللہ! دوس کو ہدایت دے دے۔"**
اس کے بعد آپ نے طفیل بن عمرو کی طرف رخ کیا اور آپ نے کہا کہ اپنی قوم کی طرف واپس جاؤ انہیں حق کی طرف بلاؤ اور ان سے نرمی کا سلوک کرو۔ یہ دعوت الی اللہ کے دو پوائنٹس ہیں جو میں نے اس وقت سامنے رکھے ہیں:
(1) سرکشی کی شکایت کے جواب میں ہدایت کی دعا ہے۔ آپ ﷺ نے ہدایت کی دعا کی۔ آپ دعوت الی اللہ کا کام کرنا چاہتے ہیں۔ یاد رکھیے دعا پہلی ضرورت ہے، ہدایت کی دعا کریں اور کرتے ہی رہیں جتنی آپ ہدایت کی دعا کریں گے اللہ تعالیٰ اتنی آسانیاں پیدا کر دے گا۔ ہدایت کی دعا جانے سے پہلے بھی اور جب کوئی سرکشی کا مظاہرہ کرے اس موقع پر بھی ان شاء اللہ تعالیٰ۔
(2) دوسرا اصول یہ ہے جو نبی ﷺ نے سیدنا طفیل بن عمرو ؓ کو سکھایا تھا کہ آپ اپنی قوم کی طرف واپس جاؤ اور ان سے نرمی کا سلوک کرو، سرکشی اور سختی اختیار نہیں کرنی۔
اپنی قوم کی طرف واپس جاؤ کیا۔ آپ کو ان الفاظ سے محبت ہے؟
انہیں دعوت دو اور ان کے ساتھ نرمی اختیار کرو۔ (سیرت ابن ہشام: 409/1)
آپ نے کام کیا کرنا ہے؟
1۔ پہلا اصول یہ ہے کہ ہدایت کی دعا کرنی ہے۔
2۔ اور دوسرا اصول ہے کہ نرمی اختیار کرنی ہے۔
سیدنا طفیل بن عمرو ؓ اپنے قبیلے کے لوگوں کے پاس گئے اور رسول اللہ ﷺ کی نصیحت کے مطابق انہوں نے قبیلے کو نرمی اور شفقت سے اسلام کی طرف بلایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پورے قبیلے نے اسلام قبول کر لیا اور سیدنا ابو ہریرہ ؓ اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ سب سے زیادہ روایات سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے ہیں یعنی دوس قبیلے کی سب سے زیادہ روایات ہیں۔ حدیث میں سب سے زیادہ روایت کرنے والے راوی سیدنا ابو ہریرہ ؓ ہیں۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ایک شخص ہدایت کی دعا کرتا ہے تو کیا نتیجہ نکلتا ہے۔
دعوت الی اللہ از نگہت ہاشمی
02/07/2026
Journey Towards Faith,
Journey Towards Tawakul,
Journey Towards Emaan,
Journey Towards Jannah.
*Summer camp 2026*
Cliquez ici pour réclamer votre Listage Commercial.
Contacter l'entreprise
Site Web
Adresse
Model Town Near Aspire College Machiwal
Democratic Republic Of The