Weight loss Journey
If you want to lose weight then this is the right time to start. If you don't know from where to sta
03/03/2026
ڈبل چن، انڈر آرم چربی اور
باہر نکلا ہوا پیٹ اصل مسئلہ کہاں ہے؟
لوگ آئینے میں خود کو دیکھ کر فوراً فیصلہ کر لیتے ہیں
کہ وزن بڑھ گیا ہے، حالانکہ ہر بڑھا ہوا پیٹ موٹاپا نہیں ہوتا۔ کئی دفعہ جسم اصل میں مسلسل سٹریس تناؤ کے اثر میں ہوتا ہے۔ جب ذہن اور اعصاب بار بار خطرے کا سگنل محسوس کریں تو جسم ایک ہارمون زیادہ بنانے لگتا ہے جو چربی کو خاص جگہوں پر جمع کر دیتا ہے، جیسے ٹھوڑی کے نیچے، بازوؤں کے اندر اور پیٹ کے گرد۔ مسئلہ صرف کھانے کی مقدار نہیں، بلکہ آنتوں کی حالت بھی ہوتی ہے۔ اگر بڑی آنت میں فائدہ مند بیکٹیریا کم اور نقصان دہ زیادہ ہو جائیں تو جسم ہر وقت بے چینی کی کیفیت میں رہتا ہے، نیند خراب ہوتی ہے، میٹھا کھانے کی خواہش بڑھتی ہے اور ڈبل چن، انڈر آرم ، بیلی فیٹ بڑھنے لگتی ہے۔
یہاں اصل کام آنتوں کی صفائی اور توازن کا ہے۔
مہنگی چیزوں کی ضرورت نہیں۔ ہمارے گھروں میں ہی سستے اور طاقتور پرو بائیوٹک موجود ہیں جیسے تازہ دہی، لسی ، گاجر یا چقندر کی کانجی، پانی والے اچار، کھٹی چھاچھ اور رات بھر بھگوئے ہوئے چاول کا پانی۔ اسی طرح پری بائیوٹک غذائیں یعنی وہ خوراک جو اچھے بیکٹیریا کو خوراک دیتی ہیں، ان میں کیلا، پیاز، لہسن، دالیں، چنے، ساگ، جؤ اور اسبغول شامل ہیں۔ جب آنتیں پرسکون ہوتی ہیں تو جسم خود آہستہ آہستہ سٹریس کے اثر سے باہر آنا شروع کر دیتا ہے، اور چربی ڈھیلی پڑنے لگتی ہے۔ اگر تلاش غلط جگہ ہو تو محنت بھی ضائع ہو جاتی ہے، اصل توجہ پیٹ کے اندرونی نظام پر دینا ضروری ہے۔
اللہ ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے۔
بشکریہ : جاوید اختر آرائیں
26 فروری 2026
جاوید_اختر_آرائیں
21/02/2026
عمر بڑھنا مسئلہ نہیں… طرزِ زندگی نہ بدلنا اصل مسئلہ ہے۔
اگر آپ 30 کے بعد وہی کھانا کھا رہے ہیں مگر پیٹ بڑھ رہا ہے… تو مسئلہ کھانے میں نہیں، آپ کے میٹابولزم میں ہے۔
اکثر لوگ 30 سال کی عمر کے بعد یہ شکایت کرتے ہیں کہ وہی خوراک اب وزن بڑھا دیتی ہے، وہی ورزش کم اثر کرتی ہے، اور ایک چھوٹا سا “چیٹ ڈے” بھی فوراً پیٹ پر نظر آنے لگتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس عمر کے بعد جسم ہر دہائی میں تقریباً 3 سے 8 فیصد تک مسلز کھونا شروع کر دیتا ہے۔ جب مسلز کم ہوتے ہیں تو جسم کی ریسٹنگ کیلوری برن بھی کم ہو جاتی ہے۔ یعنی آپ آرام کی حالت میں بھی پہلے جتنی کیلوریز نہیں جلا پاتے، اور یہی اضافی توانائی پیٹ کی چربی کی صورت میں جمع ہونے لگتی ہے۔
مسلز ہمارے جسم میں تقریباً 70 سے 80 فیصد گلوکوز کو استعمال کرتے ہیں۔ جب مسلز کم ہو جاتے ہیں تو گلوکوز زیادہ دیر خون میں رہتا ہے اور بالآخر پیٹ کے اردگرد چربی کی شکل میں جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اسی دوران انسولین سینسٹیویٹی بھی ہر دہائی میں تقریباً 4 سے 5 فیصد کم ہو جاتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہی کاربوہائیڈریٹس اب زیادہ شوگر اسپائک پیدا کرتے ہیں اور جسم انہیں تیزی سے چربی میں تبدیل کر دیتا ہے، خاص طور پر کمر کے اردگرد۔
اس عمر کے بعد ہارمونز میں بھی تبدیلیاں آتی ہیں۔ گروتھ ہارمون، ٹیسٹوسٹیرون یا ایسٹروجن کی سطح کم ہونے لگتی ہے جبکہ کورٹیسول کا اثر بڑھ جاتا ہے۔ یہ مجموعی صورتحال جسم کو گہری پیٹ کی چربی یعنی ویزرل فیٹ جمع کرنے کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ وہ چربی ہوتی ہے جو اندرونی اعضا کے اردگرد جمع ہوتی ہے اور انسولین ریزسٹنس اور سوزش کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
یہ مسئلہ ان لوگوں میں زیادہ تیزی سے ظاہر ہوتا ہے جنہیں فیٹی لیور، پری ڈایبیٹیز، ڈایبیٹیز یا ہائی ٹرائی گلیسرائیڈز کا مسئلہ ہو۔ ایسی حالت میں انسولین ریزسٹنس چربی کو مزید تیزی سے پیٹ اور جگر کے اردگرد جمع کرتی ہے۔
میٹابولزم کے سست ہونے کی ابتدائی علامات میں شامل ہیں: وزن تقریباً ایک جیسا رہنے کے باوجود پیٹ کا بڑھنا، دوپہر کے وقت توانائی کا اچانک گر جانا، میٹھے کی شدید خواہش، کاربوہائیڈریٹس کے بعد اپھارہ، اور اوپری پیٹ میں چربی کا بڑھنا۔
خوشخبری یہ ہے کہ اس عمل کو روکا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے کسی سخت ڈائٹ یا پیچیدہ طریقوں کی ضرورت نہیں۔ روزانہ جسمانی وزن کے مطابق تقریباً 1.2 سے 1.6 گرام پروٹین لینا، ہفتے میں کم از کم تین دن اسٹرینتھ ٹریننگ کرنا، روزانہ واک کرنا تاکہ انسولین سینسٹیویٹی بہتر ہو، اور مستقل 7 سے 8 گھنٹے کی نیند لینا — یہی وہ سادہ اصول ہیں جو میٹابولزم کو دوبارہ متحرک کر سکتے ہیں۔
یاد رکھیں، اگر آپ آج سے چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں شروع کریں، تو نہ صرف پیٹ کی چربی کم ہو سکتی ہے بلکہ آپ خود کو پہلے سے زیادہ توانا اور صحت مند محسوس کریں گے۔ آج کا چھوٹا قدم، کل کی بڑی صحت کی ضمانت بن سکتا ہے
منقول
15/01/2026
والیوم ایٹنگ
✍️روبینہ یاسمین
وزن کم کرنے کے خواہشمند افراد کے لئے یہ ایک کار آ مد ٹیکنیک ہے۔
یہ تو ہم سب کو علم ہے کہ کم کیلوریز کھائیں گے اور زیادہ خرچ کریں گے تو وزن کم رہے گا۔ زیادہ کیلوریز کھائیں گے اور کم۔خرچ کریں گے تو وزن بڑھے گا۔
کیلوریز اچھے سے خرچ کرنا ہم سب کے بس کی بات نہیں ہے۔ ہم سب سے نہ تو مستقل ایکسرسائز ہوتی ہے، نہ ہم سب باقاعدگی سے کسی فٹنس پروگرام کا حصہ بن سکتے ہیں۔
ہاں ایک کام ہے جو ہم روزانہ کرتے ہیں وہ ہے کھانا کھانا۔ اپنے کھانے کو مائنڈ فل پلان کر لیں تو ہمارے کافی مسائل کم ہو سکتے ہیں۔
کم کیلوریز کیسے کھائیں ؟ پھر ہمیں بھوک لگے گی۔ ہم سارا دن کھانے کے بارے میں سوچتے رہیں گے۔
یہ مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے ایک ٹیکنیک سے جسے والیوم ایٹنگ کہتے ہیں۔
اس ٹیکنیک میں ہم کم کیلوریز والی غذا پیٹ بھر کر کھاتے ہیں ۔ اس کے ساتھ وہ غذا کھاتے ہیں جو ہمیں زیادہ دیر تک مطمئن رکھے اور طبیعت سیر ہو جائے۔
والیوم ایٹنگ کے لئے ہم فائبر والی غذا کھاتے ہیں تا کہ پیٹ بھرے۔ ساتھ ہی پروٹین کھاتے ہیں تا کہ طبیعت سیر ہو جائے اور دیر تک بھوک نہ لگے۔
اپنے کھانے کو تھوڑا ماڈیفائی کر لیں۔
کھانوں کے ساتھ ہوم میڈ چٹنیوں کا استعمال کریں۔ مختلف اقسام کی چٹنیوں میں ہری چٹنی، رائتے، ٹماٹر کی چٹنی، ادرک لہسن کی چٹنی سمیت لا تعداد چٹنیاں شامل ہیں ۔ ان سے ہمارے کھانے کے ہاضمے بھی بہتر ہوتے ہیں اور فائبر کے ساتھ فائدہ مند مصالحہ جات بھی مل جاتے ہیں۔
چاول کھانے ہوں تو بہت سی سبزیوں کے ساتھ ویجیٹبل رائس بنا لیں یا ایک دن پہلے کے سفید چاول ریفریجریٹر سے نکال کر بہت سی سبزیوں کی ساتھ پیش کریں۔ ریفریجریٹر سے ایک دن پہلے پکے چاول میں سٹارچ کم ہو جاتا ہے اور سبزیوں کے فائبر کے اضافے سے یہ بہتر غذائیت بن جاتی ہے۔
جب بھی کچھ کھائیں ساتھ کچی یا پکی سبزی کھائیں۔ فائبر کی موجودگی کھانے کے مجموعی گلائسیمک انڈیکس کو کم کر دے گی۔ خون میں گلوکوز کی سطح کم بڑھے گی۔
دالوں ، دلئے اور گوشت کے ساتھ حلیم بنا لیں ۔ یہ بھی غذائیت والا کھانا یے۔ اس کے اوپر ادرک لیموں اور ہرے مصالحے چھڑک کر اس کی غذائیت مزید بہتر کی جا سکتی ہے۔
آ ملیٹ میں بہت سی سبزیاں ڈالیں۔ پروٹین اور فائبر دونوں کے ساتھ بہترین کھانا بن جائے گا۔
اگر دلیہ کھاتے ہیں تو اس میں دہی اور زیادہ فائبر والے فروٹس جیسے ہر قسم کی بیریز، اسٹرابریز ، بلیو بیری، بلیک بیری، رس بیریز ، سیب وغیرہ ڈال لیں ۔ اس سے اناج کے ساتھ فائبر مل کر اناج کے نشاستہ کا اثر کم کر دے گا۔
مائنڈ فل ایٹنگ کرتے ہوئے والیوم ایٹنگ کر کے ہم پیٹ بھر کر بھی کھا سکتے ہیں اور غذائیت بھی بہتر کر سکتے ہیں ۔
Rubina Yasmeen
13/12/2025
کبھی آپ نے غور کیا… پیٹ بھر کر کھانے کے کچھ ہی دیر بعد دوبارہ بھوک کیوں لگتی ہے؟
یہ وہ لمحہ ہے جہاں جسم کوئی چھپا ہوا پیغام دے رہا ہوتا ہے— مگر ہم اسے سنجیدہ نہیں لیتے۔
آپ کا جسم بھوک کے ذریعے بتاتا ہے کہ اندر کوئی گڑبڑ چپکے سے چل رہی ہے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ آپ زیادہ کھاتے ہیں… مسئلہ وہ وجہ ہے جو بار بار بھوک کو جنم دیتی ہے۔
اور یہ وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ آئیے آہستہ آہستہ کھولتے ہیں:
ممکنہ بڑی وجوہات
1) خون میں شکر کی کمی (Low Blood Sugar)
اگر کھانے کے کچھ ہی دیر بعد ہاتھ کانپنا، کمزوری یا چڑچڑاہٹ ہو… تو یہ جسم کا سگنل ہے کہ خون میں گلوکوز مستحکم نہیں رہ رہا۔
2) پروٹین اور فائبر کی کمی
اگر کھانا پیٹ بھرتا ہے لیکن دماغ کو تسلی نہیں دیتا… تو یہ اس وقت ہوتا ہے جب کھانے میں فائبر اور پروٹین کم ہو۔
3) نیند کم ہونا
نیند پوری نہ ہو تو بھوک کا ہارمون (ghrelin) بڑھ جاتا ہے۔ دن بھر غیر ضروری بھوک لگتی رہتی ہے۔
4) پانی کم پینا
بہت بار جسم پیاس کو بھی بھوک کا اشارہ سمجھ لیتا ہے۔ خالی پیٹ پانی نہ پینے والے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔
5) تھائرائیڈ کا ہلکا سا بگاڑ
اگر کھانا زیادہ لگے، وزن کم ہو، دل تیز دھڑکے— تو یہ تھائرائیڈ کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔
آپ کیا کریں؟ (مختصر اور فائدہ مند ہدایات)
صبح کا ناشتہ پروٹین والا رکھیں (انڈہ، دلیہ، دہی)
ہر کھانے میں فائبر شامل کریں (سیب، دالیں، سبزیاں)
دن میں 6–8 گلاس پانی
چینی اور بیکری کی چیزیں کم
اگر بھوک کے ساتھ ہاتھ کانپتے ہیں → ایک بار شوگر ٹیسٹ ضرور کروائیں
اگر بھوک کے ساتھ دل تیز دھڑکے → تھائرائیڈ ٹیسٹ کروائیں
نقصان کس کو ہو سکتا ہے؟
وزن کم ہونے لگے → فوراً توجہ ضروری
آنکھوں کے آگے اندھیرا چھائے → شوگر لیول چیک کریں
تھکاوٹ رہتی ہو → خون کی کمی بھی وجہ بن سکتی ہے
آپ کے لیے فائدہ مند ایک چھوٹی ٹپ
کھانے کے 15 منٹ بعد ایک گلاس نیم گرم پانی۔
یہ دماغ کا بھوک والا سگنل نارمل کرتا ہے اور غیر ضروری craving کم کرتا ہے۔
منقول
09/12/2025
15 اصول وزن کم کرنے کے
1. پلیٹ آدھی سبزیوں سے بھریں
سبزیوں میں کیلوریز کم اور فائبر بہت زیادہ ہوتا ہے، جو پیٹ کو دیر تک بھرا رکھتا ہے۔ ہر کھانے میں پلیٹ کا نصف سلاد یا پکی ہوئی سبزیوں سے بھریں۔
⸻
2. روز کم از کم 7,000–10,000 قدم چلیں
واک وزن کم کرنے کا سب سے آسان اور سستا طریقہ ہے۔ آہستہ اور تھوڑی سے شروع کریں، اور بتدریج بڑھاتے جائیں۔
⸻
3. پانی کو اپنا بہترین دوست بنائیں
دن بھر تھوڑا تھوڑا پانی پیتے رہیں۔ اکثر ہمیں پیاس کو بھوک سمجھنے کی عادت ہوتی ہے ایکسر سائز کریں گے تو پیاس بھی زیادہ لگتی ہے۔
⸻
4. نیند پوری لیں (7–8 گھنٹے)
نیند پوری نہ ہو تو بھوک بڑھانے والے ہارمون بے قابو ہو جاتے ہیں اور وزن کم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
⸻
5. پروسیسڈ فوڈ کم کر دیں
بسکٹ، بیکری آئٹمز، چپس، کولڈ ڈرنک، فاسٹ فوڈ—یہ میٹابولزم سست کرتے ہیں۔ جتنا کم، اتنا بہتر۔
⸻
6. پروٹین ہر کھانے میں شامل کریں
انڈے، دالیں، مچھلی، دہی، لوبیا، بینز—پروٹین آپ کو دیر تک بھرا رکھتی ہے اور cravings کم کرتی ہے۔سو کاربوہائڈریٹ کو پروٹین سے بدلیں ۔
⸻
7. چھوٹے برتن استعمال کریں
چھوٹی پلیٹ میں کھانا خود بخود کم کھایا جاتا ہے، دماغ کو پتہ بھی نہیں چلتا!
⸻
8. میٹھا ہفتے میں ایک بار، وہ بھی تھوڑی مقدار میں
شوگر وزن بڑھانے کا سب سے تیز راستہ ہے۔ میٹھے کی craving پر کھجور، فروٹ یا dark chocolate کے ایک ٹکڑے پر گزارا کریں۔
⸻
9. ہفتے میں دو بار اپنی progress نوٹ کریں
وزن، inches یا کپڑوں کی fitting—ان میں سے کچھ بھی چُن لیں۔ خوبصورتی consistency میں ہے، perfection میں نہیں۔
⸻
10. اپنی عادتیں آہستہ آہستہ بدلیں
ایک دم سے سب بدلیں گے تو جلد ہی واپس پرانی روٹین پر آ جائیں گے ۔ ایک ہفتہ خوراک میں سبزیاں لائیں ، ایک ہفتے صرف پانی پر فوکس کریں، اگلے ہفتے واک، پھر نیند۔ چھوٹے قدم - بڑا فرق۔
———
11. انٹر مٹنگ فاسٹنگ کریں ۔
شام چھ بجے آخری کھانا کھائیں ۔ پھر چودہ یا سولہ گھنٹے بعد کھائیں ۔
_____
12. پورشن کنٹرول کریں
کتنا کھا رہے ہیں کب کھا رہے ، اس پر کنٹرول رکھیں ۔تھوڑی مقدار میں سب کھائیں ایک حد سے آگے نہ بڑھیں ۔
———
13.
میٹھا چھوڑ دیں
صرف چند دن صبر کرلیں ، اکیس دن بعد آپکے ٹیسٹ بڈ بدل جائیں گے ۔ اس دوران میٹھے کا متبادل بھی نہ لیں ۔
———
14.بھوک رکھ کر کھائیں
یہ سنت بھی ہے کہ ابھی بھوک ہو تو ہاتھ کھینچ لیں ۔ آپ محسوس کریں گے ایسا کھانا سستی بھی نہیں پیدا کرتا
———-
15.سوچ سمجھ کر کھائیں
ہمیشہ تھاٹ فل ایٹنگ کریں ۔ کھاتے وقت فون پر بات نہ کریں ٹی وہ نہ دیکھیں ۔ نظر کھانے پر رکھیں اور سوچ سمجھ پہلے اپنی مقدار مقرر کریں پھر اتنا ہی پلیٹ میں ڈال کر کھائیں ،
#15 Simple & Effective Loss Tips for Everyone
28/02/2024
Improve energy levels with a low-carb diet Fill the quiz and get your personal Low Carb meal plan.
پیٹ اور کمر کے ارگرد چربی کو گھلانا آسان نہیں ہوتا۔ مگر اتنا مشکل بھی نہیں ۔ایسے متعدد طریقے ہیں جن سے کافی چربی گھلائی جاسکتی ہے
یہ 10 آسان پوائنٹس توند کی چربی تیزی سے گھلانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
کھانے سے آدھا گھنٹہ پہلے پانی پینا
ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ہر بار کھانے سے آدھا گھنٹہ پہلے پانی 3 ماہ کے اندر جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے۔
پروٹین سے بھرپور ناشتا
انڈے یا دیگر پروٹین سے بھرپور غذاﺅں کا ناشتا دن کے باقی وقت میں کھانے کی خواہش میں کمی لانے کے ساتھ کیلوریز کے کم استعمال میں بھی مدد دیتا ہے۔ اس مقصد کے لیے انڈوں کے ساتھ دہی اور دودھ کی مدد بھی لی جاسکتی ہے۔
میٹھے مشروبات اور فروٹ جوسز سے گریز
یہ دونوں چربی کو بڑھانے کا باعث بنتی ہیں اور ان سے گریز کرنا جسمانی وزن میں کمی لانے میں ضرور مدد دے سکتا ہے۔
جسمانی وزن میں کمی لانے میں مددگار غذاﺅں کا استعمال
انڈے، سبز پتوں والی سبزیاں، مچھلی (چربی والی)، گوبھی کی نسل کی سبزیاں، بغیر چربی والا گوشت اور چکن، ابلے ہوئے آلو، بیج اور دالیں، سوپ، کاٹیج چیس، سیب کا سرکہ، گریاں، اجناس جیسے جو، گندم وغیرہ، ہری مرچیں، پھل، گریپ فروٹ، تخ ملنگا، ناریل کا تیل اور دہی اس سلسلے میں قابل ذکر ہیں۔
حل ہونے والا فائبر
تحقیقی رپورٹس کے مطابق حل ہونے والا فائبر توند کی چربی گھلانے میں مدد دے سکتا ہے ، اس مقصد کے لیے سپلیمنٹس کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔
چائے یا کافی کا شوق
آپ چائے یا کافی کا استعمال اعتدال میں رہ کر کرنا میٹابولزم کو متحرک کرنے میں مدد دے سکتا ہے جس کی وجہ ان میں موجود کیفین نامی جز ہے۔
پراسیس غذاﺅں سے گریز
اجناس یا ہول فوڈ کا استعمال صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے جو پیٹ کو زیادہ دیر تک بھر رکھنے کا احساس بڑھاتا ہے جس سے بسیار خوری سے بچنا آسان ہوتا ہے۔
غذا آہستگی سے کھانا
اپنا کھانا بہت تیزی سے نگلنا وقت کے ساتھ جسمانی وزن میں اضافے کا باعث بنتا ہے، اس کے مقابلے میں کھانے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے نوالے اچھی طرح چبانا پیٹ کو بھرے رکھنے کے ساتھ جسمانی وزن میں کمی لانے والے ہارمونز کی تعداد کو بڑھاتا ہے۔
روزانہ وزن کریں
تحقیقی رپورٹس کے مطابق جو لوگ اپنا وزن روز کرنے کے عادی ہوتے ہیں، ان میں جسمانی وزن میں کمی لانے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے اور وہ اسے طویل عرصے تک برقرار رکھنے میں بھی کامیاب رہتے ہیں۔
اچھی نیند
نیند کی کمی جسمانی وزن میں اضافے کی چند اہم ترین وجوہات میں سے ایک ہے، تو اپنی نیند کا خیال رکھنا موٹاپے سے بچنے کے لیے ضروری ہے۔
ڈان
23/01/2024
ہم سنتے آئے ہیں موٹاپا ایک بیماری ہے ۔
موٹاپا کسی نہ کسی بیماری کے سبب بھی ہوتا ہے ۔
کسی بھی موٹے انسان کو دیکھ کے فوراً مشورہ دیا جاتا ہے کہ ایکسرسائز کیجیے ۔ لوگ جوش میں آکے جم شروع کر دیتے ہیں اور پھر ہمت ختم ۔
موٹاپے سے چھٹکارا پانے کے لیے پہلے کچھ اہم باتوں کو سمجھ لیجیے ۔ جب تک لائف اسٹائل میں تبدیلی نہیں آئے گی چند دن کا جوش کوئی فائدہ نہیں دے گا ۔
آپ نے کبھی فریزر میں جمی ہوئی سخت برف کو دیکھا ہے ؟؟
وہ سخت جمی ہوئی برف آپکے جسم میں سخت جمی ہوئی چربی کی تہہ ہے ۔
اگر آپ فوراً واک شروع کر دیں گی ایکسرسائز کریں گی تو بہت جلد ہمت چھوڑ بھی دیں گی ۔ تو پھر کہاں سے شروع کیا جائے ؟
برف پگھلانے کے لیے کہاں سے شروع کرتے ہیں ؟؟
فریج کا سوئچ آف کر دیا جاتا ہے ۔
ایسے ہی منہ کا سوئچ آف کر دیں ۔ فوری اور ہنگامی بنیادوں پہ گندم کی روٹی کھانا چھوڑ دیں ۔ ترک کر دیں ۔ جو کی روٹی کا استعمال شروع کیجیے ۔ بالکل گندم جیسی ہی لگتی ہے ۔ آرام سے سالن کے ساتھ کھائی جاتی ہے ۔ چھوٹی سی روٹی سے پیٹ بھر جاتا ہے ۔
سوئچ آف کرنے کے بعد اکثر فریج کی سخت ڈھیٹ برف پہ گرم پانی ڈالا جاتا ہے ۔
ایسے ہی آپ بھی گرم پانی پینا شروع کر دیں ۔ مسلسل اور مستقل گرم پانی پئیں ۔ صبح پانی ابال کے اس میں لیمن گراس یا زیرہ یا سونف یا دارچینی اپنے ٹیسٹ کے مطابق جو پسند ہے ڈال لیں اور تھرمس میں بھر لیں ۔ سارادن پیجیے ۔
صبح نہار منہ ادرک لہسن لیموں سیب کا سرکہ سب چیزیں پیس کے لیموں اور سرکے میں ڈال لیں نیم گرم پانی کے ساتھ ایک چمچ پیئیں ۔ یہ نالیوں کو کھول دینے والا محلول ہے ۔ چکنائی کو ایسے صاف کرتا ہے جیسے ڈش واش پلیٹوں میں جمی چکنائی دھوتا ہے ۔
جگر کے ٹاکسن کو دور کرتا ہے ۔ اگر آپ وٹامن ڈی اور کیلشئیم کی کمی کا شکار ہیں ہڈیوں میں شدید تکلیف رہتی ہے تو جو کا دلیہ بہترین خوراک ہے ۔ گوگل کر کے دیکھ لیجیے ۔ بس دلیے میں چینی نہیں ڈالنی ۔ ڈھیر سارا میوہ ڈال لیں یا کھجور اور شہد میں سے کچھ ڈال لیں ۔
چینی کو زندگی سے مکمل طور پہ نکال دیں ۔
مستقل مزاجی سے تین ماہ یہ روٹین اپنائیں ۔اسکےبعد ہلکی پھلکی واک چہل قدمی کو اپنائیں ۔
کھانا کم کھائیں ۔ چڑیا کی طرح چھوٹے نوالے بنا کے کھائیں ۔ جتنا نوالہ چھوٹا کر سکتی ہیں اتنا چھوٹا کر لیجیے ۔
پانی زیادہ پیئیں ۔ مسلسل پیئیں ۔
جب جسم میں کم چیزیں بھری جائیں گی تو گیسز بھی کم ہونگی اور وہ جو انسان غبارے کی طرح پھول کے سخت ہونے لگتا ہے جسم میں نرمی آئے گی ۔
وزن کم کرنے کی ابتدا غذا کم کرنے سے کیجیے ۔ آپ کا وزن کم ہے تب بھی ان باتوں پہ عمل کیجیے تا کہ آگے چل کے مشکل کا سامنا نہ ہو ۔بڑھتی عمر کی خواتین یا پچیس سال کی بچیاں ابھی سے کمر کس لیں ۔
والسلام
سمیرا امام
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Website
Address
Newcastle Upon Tyne