Gulfaraz Ahmid

Gulfaraz Ahmid

Megosztás

t v show
comedy videos

04/03/2023

یونانی ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ #ﻋﻮﺭﺕ ﺳﺎﻧﭗ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺧﻄﺮﻧﺎﮎ ﮨﮯ۔
ﺳﻘﺮﺍﻁ ﮐﺎ کہنا ﺗﮭﺎ ﮐﮧ #ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻓﺘﻨﮧ ﻭ ﻓﺴﺎﺩ کی ﻧﮩﯿﮟ۔

ﺑﻮﻧﺎ ﻭﭨﯿﻮﮐﺮ ﮐﺎ ﻗﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ #ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺱ ﺑﭽﮭﻮ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﮨﮯ
ﺟﻮ ﮈﻧﮓ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﭘﺮ ﺗﻼ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔

ﯾﻮﺣﻨﺎ ﮐﺎ ﻗﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ #ﻋﻮﺭﺕ ﺷﺮ ﮐﯽ بیٹی ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﻦ ﻭ ﺳﻼﻣﺘﯽ ﮐﯽ ﺩﺷﻤﻦ ﮨﮯ۔

ﺭﻭﻣﻦ ﮐﯿﺘﮭﻮﻟﮏ ﻓﺮﻗﮧ کی تعلیمات ﮐﯽ ﺭﻭ ﺳﮯ #ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻼﻡِ ﻣﻘﺪﺱ ﮐﻮ ﭼﮭﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﯽ ﺍﻭﺭ #ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﮔﺮﺟﺎ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻧﮩﯿﮟ۔
ﻋﯿﺴﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﯽ سب ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺭﻭﻣﺘﮧ ﺍﻟﮑﺒﺮﯼٰ ﻣﯿﮟ #ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ لونڈیوں ﺳﮯ ﺑﺪﺗﺮ ﺗﮭﯽ،
ﺍﻥ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﺎﻡ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔

یورپ ﮐﯽ ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺗﺮﯾﻦ #ﻋﻮﺭﺕ ﺟﻮﻥ ﺁﻑ ﺁﺭﮎ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﺟﻼ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔

ﺩﻭﺭِ ﺟﺎﮨﻠﯿﺖ ﮐﮯ ﻋﺮﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ #ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺏ ﺭﺳﻮﺍ ﮐﯿﺎ جاتا ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ تھے۔

ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺤﺴﻦِ ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ، ﺭﺣﻤﺖ ﺍﻟﻠﻌﺎﻟﻤﯿﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺼﻄﻔﯽٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے #عورت ﮐو وہ مقام عطا فرمایا جو آج تک کسی مذہب میں حاصل نہیں
اب اگر #عورت ماں ہے تو اس کے پاؤں کے نیچے جنت بیٹی ہے تو بخشش کا زریعہ بیوی ہے تو ایمان کی تکمیل کا زریعہ بہن ہے تو غیرت کا زریعہ.....
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔۔❤❤

04/03/2023

🌹❤️❤️

03/03/2023

😂 hor sunao

02/03/2023

آج سے ٹھیک سو سال پہلے 1922 میں ایک رائٹر نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ دوبارہ جب کیلنڈر پر بائیس کا ہندسہ آئے گا تو یقیناً نہ اپ ہونگے نہ میں ہوں گا"
پھر مزید لکھا کاش عمر اتنا لحاظ رکھ لے کہ میں دوبارہ یہ ہندسہ دیکھ سکوں
ان لوگوں کو دیکھ سکوں جو 2022 میں ہونگے اس زمانے کو دیکھ سکوں
جو 2022 میں ہوگا مگر میں جانتا ہوں یہ ممکن نہیں ہے تب ہماری خبریں گمنام ہو چکی ہوں گی "
ساحر لدھیانوی جب بستر مرگ پر تھے ، تو بند آنکھوں اپنے ڈاکٹر سے کہا "ڈاکٹر کپور میں جینا چاہتا ہوں"
زندگی نے بیشک غم دیئے ہیں مگر دنیا خوبصورت جگہ ہے"

یہاں یاروں کی محفلیں ہیں" یہاں زندگی کا شور ہے" میں جینا چاہتا ہوں ڈاکٹر کپور"
22 کا ہندسہ جب سو سال بعد 2122 میں دوبارہ آئیگا " تو دوستوں یقیناً ہم میں سے کوئی بھی نہیں ہوگا"
ہماری قبریں قبرستانوں کے گنجان حصوں میں گم ہوچکی ہونگی، کچھ دھنسی ہوئی، کچھ اٹی ہوئی ، دبی ہوئی،

"لہٰذا کوشش کریں کہ یہ مختصر سا قیام خوشگوار گزر جائے"
کوئی روح کوئی جسم، ایسا نہ ہو جو زخم ساتھ لے کر جائے"
اور ان زخموں کا الزام ہمارے سر ہو"

Always be happy,

28/02/2023

*اپنی صبحیں، اپنی شامیں، اپنے دن، اپنی راتیں قرآن کریم کی تلاوت سے سجائیں اور زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق بنائیں🤍*
*یقین کیجیے زندگی بہت آسان ہو جاۓ گی۔۔🙂✨*

20/02/2023
16/02/2023

Please follow my page

01/02/2023

موت اس کی ہے کرے جس پہ زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آتے ہیں مرنے کے لئے
کل نفس ذائقة الموت،
یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دنیا میں جنم لینے والی ہر شے کا مقدر فنا ہے، کسی کو بھی یہاں دوام نہیں، ہر آنے والی صبح اور ڈھلتی ہوئی شام ہمیں یہی خبر دیتی ہے، آنے جانے کا یہ سلسلہ روز اول سے ہی جاری ہے، لیکن ان جانے والوں میں کچھ ہستیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے وداع سے آنکھیں اشکبار اور دل مغموم ہوجاتا ہے،جن کی رخصت سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کوئ عضو شل ہو گیا ہو ، جیسے کسی نے ہمارا دماغ بند کر دیا ہو ،سوچ جکڑ لی ہو ، فکر پکڑ لی ہو، اور ہمیں زور زور سے جنھجوڑ کر باور کروایا ہو کہ ۔۔۔ دنیا سراب ہے ،آخرت اصل ہے، جانا ضرور ہے، تیاری کچھ بھی نہیں، کچھ لوگ شاید اللہ کو پیارے ہی اتنے ہوتے ہیں کہ اللہ ان کو اتنی جلدی بلا لیتے ہیں ان کی موت کا یقین کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے ۔۔۔ آج ہمارے درمیان سے ایک ایسا نوجوان رخصت ہو گیا۔
مولا شاہزیب بھائی کی بے حساب مغفیرت فرمائے آمین

19/01/2023

سانپ کا منکا،

دراصل ایک ایسے پتھر کو کہتے ہیں جو سانپ کے سر سے نکلتا ہے ۔ سانپ کا منکا وہ پتھر ہے یا تو کسی سانپ کے جسم میں بیماری کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ انسان کی پتھری کی طرح یہ بھی ابتداءمیں چھوٹا ہوتا ہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے اور دانے کی طرح سانپ کے سر میں سے ابھرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اسے سپیرے سانپ کے سر کو تھوڑا سا کاٹ کر وہ پتھر نکال لیتے ہیں۔ یہی پتھر سانپ کا منکا کہلاتا ہے۔ یا پھر ایسے سانپ کو پکڑ کر مخصوص جڑی بوٹیوں سے بنا مشروب پلاتے ہیں، جسے پیتے ہی سانپ قے میں اپنا منکا باہر نکال دیتا ہے۔

اسکا بننے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہر سانپ تقریباً چار مہینے ریت اور مٹی میں رہتا ہے، اسکو ہم سانپوں کا ہابرنیشن عرصہ کہتے ہیں۔ اور اگر وہ ایک زھریلا سانپ ہے تو اِس کا زہر سر کے اوپر جمع ہوتا رہتا ہے جہاں ایک سخت گٹھلی سی بن جاتی ہے۔ یہ منکے والی فضول گپ جو جوگیوں نے مشہور کیا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ سانپ کا منکہ سانپ کے سر سے حاصل کیا جاتا ہے، کچھ جوگیوں کا کہنا ہے کہ جو سانپ بوڑھا ہو جائے اس کے سر سے یہ منکہ حاصل کیا جاتا ہے۔ حقیقت میں یہ کالے رنگ کا پتھر ہوتا ہے جس کی لمبائی آدھا انچ ہوتی ہے۔ یہ پتھر کوبرا نسل کے سانپوں کے سر سے ہی حاصل کیا جاتا ہے۔

سانپ کے سر کے اوپر قدرت نے ایسی ایک تھیلی بنا رکھی ہوئی ہے جس میں سانپ کا زہر جمع ہوتا رہتا ہے۔ اور یہ تھیلی سانپ کے اوپری دانتوں میں کھلتی ہے، اور ان ہی دانتوں سے یہ شکار کرتا ہے۔جب سانپ کئی عرصے تک زہر نہ اُگلے یعنی شکار نہ کرے تو اس کا یہ زہر اوپر جمع ہوتا رہتا ہے اور آہستہ آہستہ ایک پتھری کی صور ت اختیار کر لیتا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہتی ہے اور یہی پتھر منکہ کہلاتا ہے۔ لیکن اس پتھر میں ایسی کوئی طاقت نہیں کہ وہ سانپ کے کاٹے کا زہر چوس لے۔ یہ صرف جوگیوں/شعبدہ بازوں کی پھیلائی ہوئی منگھڑت باتیں ہی ہیں۔

لیکن ہر سانپ زہریلا نہیں ہوتا، ایسے سانپوں کے سر میں شعبدے لوگ اور جوگی زبردستی کا ایک پتھر ڈال دیتے ہیں، جو سانپ کے سر میں موجود مختلف کیمیکلز کی وجہ سے ایک منکے کی طرح کے پتھر میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ یہ سب ایک فراڈ ہے، حققیت سے کچھ واسطہ نہیں۔

Szeretnéd, hogy a(z) vállalkozásod elsőként szerepeljen az Szépségszalon tematikájú vállalkozások között Ajka városában?
Kattints ide a szponzorált hirdetés igényléséhez.

Telefonszám

Weboldal

Cím


Balouch Sudhnoti Ajk
Ajka