Payam-e-mewat
"پیامِ میوات" میو قوم کی تاریخ وتہذیب ثقافت پر مبنی رسالہ ہے جو آج قوم کی رہبری وزینت بناہواہے
15/11/2025
مولانا حسن شہیدؒ — استقامتِ دین کا روشن مینار
میوات کی تاریخ ایسے بے شمار واقعات سے لبریز ہے جو تحریری شکل میں تو محفوظ نہ ہو سکے، مگر آج بھی بزرگوں کی یادداشتوں میں زندہ ہیں۔ اسی مٹی کی اصل شناخت انہی سینوں سے پھوٹتی ہے جنہوں نے نسلوں تک ایمان، غیرت اور شجاعت کی داستانیں منتقل کیں۔ انہی بزرگوں میں ناناجی بھی ایک ایسی معزز اور معتبر شخصیت ہیں جن کے حافظے میں میوات کے تابناک ماضی کی کئی نایاب روایات محفوظ ہیں۔
یہ واقعہ بھی انہی کی روایت پر مبنی ہے—ایسا واقعہ جو ایمان کو تازگی اور روح کو حرارت بخشتا ہے۔
اصل واقعہ — ایک مسافر، ایک راستہ، اور ایمان کا امتحان
مولانا حسن شہیدؒ ضلع الور کے قصبہ سیوانا پاٹن کے رہنے والے تھے۔ اللہ کے سچے عاشق، دین کے داعی، اور سادگی کے پیکر۔
ان کی اہلیہ کا تعلق ریواڑی سے تھا۔ ایک موقع پر مولانا اہلیہ کے گھر سے واپس اپنے گاؤں لوٹ رہے تھے۔ سفر کی سادگی ان کی پوری زندگی کا آئینہ تھی، چنانچہ انہوں نے ٹرین کا انتخاب کیا۔ جب گاڑی کھیرتل اسٹیشن پر رکی تو مولانا وہاں اتر کر پیدل ہی سیوانا پاٹن کی طرف روانہ ہو گئے، کیونکہ فاصلہ زیادہ نہ تھا۔
ابتدائی راستہ معمول کے مطابق تھا—کھیت، جھونپڑیاں، ہوا، اور خاموشی کا دامن۔ مگر تھوڑا آگے بڑھ کر منظر بدل گیا۔ راستہ سنّاٹے میں ڈوب گیا اور چند افراد اچانک سامنے نمودار ہوئے۔
یہ عام لوگ نہیں تھے، بلکہ وہ جن کے دلوں میں تعصب کی آگ دہک رہی تھی اور جن کے ہاتھ کسی معصوم کے خون کے منتظر تھے۔
انہوں نے مولانا کو روک کر سخت لہجے میں کہا:
“تم مولانا لگتے ہو۔ ایک بات مان لو: اپنا مذہب چھوڑ کر ہمارا دھرم قبول کر لو، تو زندہ بچ جاؤ گے۔ ورنہ انجام بہت برا ہوگا!”
یہ منظر کسی بھی تنہا مسافر کو ہلا سکتا تھا—اجنبی راستہ، چاروں طرف دشمن، اور موت کی دھمکیاں۔
مگر جس دل میں ایمان کی روشنی بسی ہو، وہاں خوف کی کوئی جگہ نہیں رہتی۔
مولانا نے پورے وقار، حوصلے اور ایمان سے جواب دیا:
> “ایمان کا معاملہ ہے تو میری بھی سن لو—تم سب اسلام قبول کر لو، کیونکہ میں اسلام چھوڑنے والا نہیں!”
یہ جملہ ان کے تعصب پر بجلی بن کر گرا۔
سفّاکی کی انتہا — جسم زخمی، ایمان سالم
مولانا کے انکار نے ان درندوں کو پاگل کر دیا۔ وہ ان پر ٹوٹ پڑے۔ پتھر، ڈنڈے، ہتھیار—جو ہاتھ لگا وار کرتے گئے۔
مولانا زمین پر گرے، مگر ایمان کی چمک آنکھوں سے نہ بجھی۔
اور پھر ظلم کی وہ انتہا کی گئی جسے پڑھ کر بھی روح کانپ اٹھتی ہے۔
روایت میں آیا ہے کہ:
> ظالموں نے مولانا پر اذیت اتنی بڑھا دی کہ ان کی کھال زندہ حالت میں تکسی اتار دی گئی۔
سوچیے…!
ایک طرف جسم سے بہتا خون، کھال ادھڑی ہوئی، سانسیں ٹوٹتی ہوئی…
اور دوسری طرف ایمان ایسا مضبوط کہ لمحہ بھر کو بھی متزلزل نہ ہوا۔
مولانا کی زبان پر صرف یہی ایک نور جاری رہا:
"لا إله إلا الله محمد رسول الله"
اسی عالم میں انہوں نے جامِ شہادت نوش کیا—لیکن ایمان کا پرچم سربلند رکھا۔
شہادت کی خبر — میوات کا دل لرز اٹھا
جب مولانا حسن شہیدؒ کی شہادت کی خبر میوات میں پہنچی تو گویا فضا سوگوار ہوگئی۔
ہر بستی، ہر کوچہ، ہر محفل میں یہی گفتگو تھی:
ایک مردِ مومن نے جان تو دے دی، مگر ایمان کا چراغ بجھنے نہ دیا۔
لوگ رو رہے تھے، مگر رشک کے آنسو تھے۔
غصہ بھی تھا، مگر اس سے بڑھ کر دلوں میں وہ دعا تھی:
“یا اللہ! ہمارے دلوں میں بھی ایسا ہی یقین اور ایسی ہی استقامت پیدا فرما!”
یہ واقعہ کوئی خیالی کہانی نہیں، بلکہ مستند روایت ہے۔
مولانا کی اہلیہ کی بہن کے شوہر میاں جی عبدالمجید صاحب (گاؤں مرچونی) نے اسے براہِ راست ناناجی کو بیان کیا تھا۔ اسی وجہ سے یہ واقعہ میوات کی معتبر تاریخی روایات میں شمار ہوتا ہے۔
پیغامِ شہادت — ایمان بجھتا نہیں
مولانا حسن شہیدؒ کی یہ داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ:
جان قربان ہو سکتی ہے
جسم زخمی ہو سکتا ہے
کھال تک اتاری جا سکتی ہے
لیکن
ایمان کی روشنی کو کوئی بجھا نہیں سکتا، جب دل یقین سے روشن ہو۔
میوات کی مٹی آج بھی اس شہیدِ حق کے خون کی سرخی میں اپنے ایمان کے نقوش محفوظ کیے ہوئے ہے۔
صدیاں بدل سکتی ہیں، لیکن ایسی قربانیوں کی خوشبو تاریخ سے کبھی مٹ نہیں سکتی۔
حوالہ نانا جی "میاں جی محمد فاروق خاں
از قلم توصیف الحسن میواتی الہندی
10/02/2025
تقریباً ڈھائی سو سال پہلے، میوات کی زمین پر علم و دانش کے چراغ روشن ہونے والے تھے۔ میوات کے مشہور دانشوروں اور شاعروں کو ایک اہم سوال پر غور کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ سوال کچھ یوں تھا:
“میوات کیسے ہویو کیسے باجو ناؤں؟
کون ملک میوات کو کون بسایو گاؤں؟”
یہ سوال میوات کے باشندوں کے دلوں میں گونج اٹھا۔ ہر طرف چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں۔ میوات کے تاریخی ورثے، جغرافیہ اور تہذیب پر گفتگو کی تیاری ہونے لگی۔ سیمینار میوات کے قلب میں ایک سرسبز میدان میں منعقد کیا گیا، جہاں چاروں طرف درختوں کے سائے اور پرندوں کی چہچاہٹ ماحول کو خوشگوار بنا رہے تھے۔ دانشور، شاعر، اور مقامی عمائدین وہاں موجود تھے۔ نوجوان نسل بھی اس مجلس کا حصہ تھی تاکہ وہ اپنی تاریخ اور جغرافیہ کو بہتر سمجھ سکے۔
میوات کے مشہور شاعر سعداللہ نے اپنی نشست سنبھالی۔ ان کے قریب بیٹھے تھے چمراؤلی کے ہنسا، جو اپنی دانائی اور شعر گوئی کے لیے مشہور تھے۔ سیمینار کا آغاز کرتے ہوئے میزبان نے سوال کو دہراتے ہوئے کہا: “آج ہم سب یہاں جمع ہوئے ہیں تاکہ میوات کے آغاز، اس کے نام اور اس کے باسیوں کے بارے میں جان سکیں۔ آئیں، اپنے دانشوروں کی زبانی ان کی دانائی کا مظاہرہ سنیں۔”
سعداللہ نے گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے اپنی بات شروع کی: “میوات، یہ نام صرف ایک زمین کا نہیں، بلکہ یہ ان لوگوں کی کہانی ہے جو یہاں بسے۔ یہ ان کے ارادوں، ان کی محنت اور ان کے عقائد کا عکس ہے۔ لیکن میوات کا نام اور اس کا ماضی ایک پراسرار داستان میں لپٹا ہوا ہے۔” لوگ خاموشی سے ان کی بات سن رہے تھے، اور ہر لفظ دلوں کو چھو رہا تھا۔
اس کے بعد، چمراؤلی کے ہنسا کھڑے ہوئے۔ ان کے چہرے پر گہری سنجیدگی اور آنکھوں میں دانش کی چمک تھی۔ انہوں نے ایک دوہے کی شکل میں میوات کا جغرافیہ بیان کیا:
“اِت دِلّی اُت آگرو، الور اور بیراٹھ
کالو پہاڑ سُہاونو، جاکے بیچ بسے میوات”
یہ سنتے ہی مجمع میں سرگوشیاں ہونے لگیں۔ ہر کوئی اس جغرافیے کی تصویر اپنے ذہن میں بنانے لگا۔ لوگوں کو احساس ہوا کہ میوات کی زمین صرف جغرافیہ نہیں، بلکہ ایک تہذیبی ورثہ ہے۔ سیمینار کے باقی دانشوروں نے اپنی اپنی تحقیق اور خیالات پیش کیے۔ کسی نے میوات کے قدیم گاؤں کا ذکر کیا، تو کسی نے میوات کے لوگوں کے اتحاد کو سراہا۔ شاعروں نے اپنے کلام کے ذریعے میوات کے ماضی کی خوبصورتی کو بیان کیا۔
آخر میں سعداللہ نے ایک شعر پڑھا جو سیمینار کا خلاصہ بن گیا:
“میوات نہ صرف زمین کا نام ہے، بلکہ یہ ان کہانیوں کا خزانہ ہے جو کبھی وقت کی دھول میں چھپ گئیں۔”
یہ سیمینار میوات کی تاریخ کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوا۔ لوگوں نے اس مجلس سے علم حاصل کیا اور اپنے دلوں میں میوات کے ورثے کو زندہ رکھنے کا عہد کیا۔ سیمینار ختم ہونے کے بعد، لوگ اپنے گھروں کو لوٹے، لیکن ان کے دل میوات کی دانش اور شاعری سے مالا مال تھے۔
نوٹ: یہ خیالی طور پر میوات کی تاریخی جڑوں کو اجاگر کرنے کی کوشش ہے۔ یہ اس علاقے کے ثقافتی اور علمی ورثے کو زندہ رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔
14/10/2023
حضرت الحاج مولانا نیاز محمد صاحب میواتی
13/05/2023
ِنی_بلوچستان_ومقبروں_کا_شہرِ_تاؤڑو
تاؤڑو میوات کا اہم سرحدی شہر ہے، یہ نوح سے شمال مغربی جہت میں نوح بلاسپور روڑ پر تقریباً 15 کلومیٹر اور سوہنہ شہر سے غربی سمت میں سوہنہ دھاروہیڑہ شاہراہ پر تقریباً 10 کلومیٹر کی دوری پر واقع ایک خوبصورت تاریخی شہر ہے، میوات کے پہاڑ اوپر علاقے میں میؤوں کے آباد کردہ اس شہر کو "مقبروں کا شہر" بھی کہا جاتا ہے، اولاً سلطنت دہلی کے ما تحت خانزادہ حکمرانوں کی توجہ کا مرکز بننے کے سبب یہ شہر نہایت ہی اہم اور ایک خوشحال شہر بنا، پھر مغلیہ دورِ حکومت میں تو اس کی اہمیت، افادیت اور خوبصورتی کو چار چاند ہی لگ گئے، سفرِ اجمیر کے دوران شہنشاہِ ہند جلال الدین محمد اکبر کی گزرگاہ بننے کا شرف بھی اس شہر کو حاصل ہے، حکمرانوں کی توجہ کا مرکز و گزرگاہ ہونا، ہادیِ ہریانہ و میوات حضرت شاہ محمد رمضان شہید اور دار العلوم دیوبند کے فکری مؤسس حضرت میاں راجشاہ جیسے صوفیائے کرام کی قدم بوسی اور رنبیروں کی رن بھومی و آماجگاہ بننا یہ سب ایسے اوصاف ہیں جو تاریخی صفحات میں اس شہر کے تاریخی حسن کو ہمیشہ دوبالا کرتے رہیں گے،
1763 عیسوی میں یہاں بلوچ سردار اسد اللہ خاں اور مہاراجہ جواہر سنگھ بھرتپور کے درمیان ایک خونریز جنگ ہوئی، اچانک حملے و افرادی قوت کی قلت کے باوجود بلوچ بھرتپور کی فوج کو شکست سے دوچار کرنے ہی والے تھے کہ اچانک سورج مل جاٹ ایک بھاری توپ خانے کے ساتھ آ دھمکا، لہذا جنگ کا پانسا پلٹ گیا اور بلوچوں کو ہزیمت کا منھ دیکھنا پڑا،
(میوات ایک کھوج ،صفحہ 293، و تاریخ میو چھتری)
اب یہ شہر ضلع نوح میوات کی ایک تحصیل ہے، تاؤڑو کمپلیکس 7 مقبروں کا ساڑھے تین ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ایک وسیع احاطہ ہے، مقبروں میں سے دو کی حالت بہت بہتر ہے، کیونکہ ایک مقبرے کی انٹیک تنظیم جبکہ دوسرے مقبرے کی مرمت انسل یونیورسٹی نے کرائی ہے، خستہ حالی میں بقیہ مقبروں کی حالت بھی میوات کے دوسرے مقبروں سے مختلف نہیں، یہ شہر ہریانہ و دہلی این سی آر میں اس اعتبار سے بھی انوکھا ہے کہ یہاں ایک ہی احاطے میں مختلف ادوار (یعنی تغلق، لودھی اور مغلیہ) کے فنونِ طرز تعمیر ایک دل انگیز جلوہ نمائی کرتے نظر آتے ہیں، 1828 CE ایسٹ انڈیا کمپنی کا امپیریل گزیٹر آف انڈیا (Imperial Gazetteer of India of East India Company)
تاؤڑو اور اس سے متصل فروخ نگر کی جانب کے علاقہ جات کو "چھوٹے بلوچستان" (Lesser Balochistan) کے نام سے موسوم کرتا ہے، لودھی دور حکومت میں بلوچستان سے آنے والے بلوچوں نے اس علاقے پر طویل عرصے تک حکمرانی کی ہے، ان مقبروں میں سب سے بڑا مقبرہ ایک بلوچ سردار کا ہی ہے جو مرمت شدہ ہے، جبکہ بقیہ مقبرے دیگر بلوچ و خانزادے سرداروں کے ہیں، اس شہر میں ایک قدیم قلعہ بھی ہے جس کی تاریخ و تفصیل کسی دوسری پوسٹ میں پیش کی جائے گی، 1857 ء کی جنگ آزادی میں تاؤڑو و قرب و جوار کے میواتی یہاں ایک ساتھ تین طاقتوں یعنی بھرتپور، ایسٹ انڈیا کمپنی و راؤ تلارام کی فوجوں سے بر سر پیکار رہے، اس سہ رخی مقابلے میں میواتیوں کا بھاری جانی و مالی نقصان ہوا،
(Foreign Secret Consultation Nos 21-27, 31 January 1858 AD)
بہر حال ان تاریخی یادگاروں کی اہمیت کے پیش نظر ہمیں ان کے تحفظ و بقا کی طرف توجہ مبذول کرنی ہوگی، اللہ تعالیٰ محنت کو رائیگاں نہیں کرتے، بس ضروری ہے کہ ہم اقدام کریں، إن الله لا يضيع أجر من أحسن عملا،
I specifically request daring leaders of Mewat and Haryana to come forward to resque of Heritage of Mewat and Haryana.
ناصر حسین زکریا میو اُٹاوڑی
ایڈمن
ہیریٹیج آف میوات اینڈ
(فیسبک گروپ)
نوٹ :- معذرت خواہ ہوں، تفصیلی پوسٹ لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد شییر کی جائے گی، انشاء اللہ
12/05/2023
12/05/2023
یہ گمنام مسجد کبھی نمازیوں سے آباد رہی ہوگی لیکن اس وقت اپنی بے بسی کا رونا رورہی ہے اور متمنی ہے اپنے آبادی کے لیے
یہ مسجد ضلع الور کے ایک گاؤں "گھاٹا بمبورہ" بھواڑی الور مارگ شاہرہ پر واقع ہے
23/03/2023
13/03/2023
رمضان المبارک کی آمد اور ہمارے اکابرین کی قدردانی
مفتی محمد تعریف سلیم ندوی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Contact the business
Telephone
Address
Alwar
Opening Hours
| Monday | 9am - 10pm |
| Tuesday | 9am - 10pm |
| Wednesday | 9am - 10pm |
| Saturday | 9am - 10pm |
| Sunday | 9am - 10pm |