Shahzad v log
05/04/2025
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیل نے غزہ پٹی میں اتنی شدید ترین اور مسلسل بمباری کی، جس کے نتیجے میں 86 سے زائد فلسطینی شہید اور 280 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ یہ جنگ کی سب سے ہولناک راتوں میں سے ایک تھی۔
فلسطینی صحافی خلیل ابو الیاس نے فیس بک پر لکھا:
"چند ہی گھنٹے باقی ہیں اور غزہ صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ تم ہمیں صرف جنت میں پاؤ گے۔ خداحافظ اُن سب سے جو تاریخ کے سب سے ظالم 'عرب' کہلائیں گے۔"
غزہ کی ایک فلسطینی لڑکی نے لکھا:
"ہماری خبریں اب سے تمہیں پریشان نہیں کریں گی۔ یہ صرف چند دنوں کی بات ہے، اور سب ختم ہو جائیں گے۔
اللہ اُس کو ہرگز معاف نہ کرے جو ہمارے ظلم پر خاموش رہا۔"
ایک فلسطینی شیخ نے کہا:
"میں نے ابھی اپنی بیٹی کو دفنایا ہے—بغیر سر کے۔"
💔💔😭🥹🥹
ریاست جہاد کا اعلان کریں
غزہ میں انسانی زندگی کا خاتمہ ہو رہا ہے
26/03/2025
یہ ہوتا ہے انصاف۔۔۔۔۔! ❤
ملزم ایک 15 سالہ لڑکا تھا۔ ایک اسٹور سے چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ پکڑے جانے پر گارڈ کی گرفت سے بھاگنے کی کوشش کی۔ مزاحمت کے دوران اسٹور کا ایک شیلف بھی ٹوٹا۔
جج نے فرد ِ جرم سنی اور لڑکے سے پوچھا "تم نے واقعی کچھ چرایا تھا؟"
"بریڈ اور پنیر کا پیکٹ" لڑکے نے اعتراف کرلیا۔
"کیوں؟"
"مجھے ضرورت تھی" لڑکے نے مختصر جواب دیا۔
"خرید لیتے"
"پیسے نہیں تھے"
"گھر والوں سے لے لیتے"
"گھر پر صرف ماں ہے۔ بیمار اور بے روزگار۔ بریڈ اور پنیر اسی کے لئے چرائی تھی۔"
"تم کچھ کام نہیں کرتے؟"
"کرتا تھا ایک کار واش میں۔ ماں کی دیکھ بھال کے لئے ایک دن کی چھٹی کی تو نکال دیا گیا۔"
"تم کسی سے مدد مانگ لیتے"
"صبح سے مانگ رہا تھا۔ کسی نے ہیلپ نہیں کی"
جرح ختم ہوئی اور جج نے فیصلہ سنانا شروع کردیا۔
"چوری اور خصوصاً بریڈ کی چوری بہت ہولناک جرم ہے۔ اور اس جرم کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ عدالت میں موجود ہر شخص، مجھ سمیت۔ اس چوری کا مجرم ہے۔ میں یہاں موجود ہر فرد اور خود پر 10 ڈالر جرمانہ عائد کرتا ہوں۔ دس ڈالر ادا کئے بغیر کوئی شخص کورٹ سے باہر نہیں جاسکتا۔" یہ کہہ کر جج نے اپنی جیب سے 10 ڈالر نکال کر میز پر رکھ دیئے۔
"اس کے علاوہ میں اسٹور انتظامیہ پر 1000 ڈالر جرمانہ کرتا ہوں کہ اس نے ایک بھوکے بچے سے غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے، اسے پولیس کے حوالے کیا۔ اگر 24 گھنٹے میں جرمانہ جمع نہ کرایا گیا تو کورٹ اسٹور سیل کرنے کا حکم دے گی۔"
فیصلے کے آخری ریمارک یہ تھے: "اسٹور انتظامیہ اور حاضرین پر جرمانے کی رقم لڑکے کو ادا کرتے ہوئے، عدالت اس سے معافی طلب کرتی ہے۔"
فیصلہ سننے کے بعد حاضرین تو اشک بار تھے ہی، اس لڑکے کی تو گویا ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ اور وہ بار بار جج کو دیکھ رہا تھا۔
"کفار" کے معاشرے ایسے ہی نہیں پھل پھول رہے۔ اپنے شہریوں کو انصاف ہی نہیں عدل بھی فراہم کرتے ہیں)
23/03/2025
جب میرے والد کی لاش آئی تو اس پر موجود سفید لباس پھٹا ہوا تھا، آدھی قمیص پھٹی ہوئی تھی..
ان کی لاش اسی حالت میں پھینکی گئی تھی۔ وہ ناقابلِ برداشت تھا۔ بہت تکلیف دہ رات تھی۔ جس کے بارے میں شاید میں نے سوچا تھا کہ اس کی صبح کبھی نہیں آئے گی..
اُس وقت میں نے سوچا کہ اگر میں بھی اپنے والد کے ساتھ مر جاتی تو بہتر ہوتا۔ کیونکہ اس حقیقت کو قبول کرنا ناقابلِ برداشت تھا۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا دنیا کا سب سے مشکل کام تھا۔ سب سے مشکل یہ تھا کہ وہ اب دنیا میں نہیں رہے۔ اور دوسرا یہ کہ انھیں بے رحمی سے قتل کیا گیا..
ماہرنگ بلوچ
08/07/2024
26/03/2024
Golden words
24/03/2024
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Address
`Ibri
11/03/2025