Parizad lovers
broken heart and internal beauty
رات کی تاریکی بعد سویرا ہے اور یہ تاقیامت ہے لیکن موت کی تاریکی بعد کوئی روشنی نہیں وہاں چراغ ساتھ لے کہ جانا ہو گا تب ہی اس تاریکی کا خاتمہ ہو گا وہ چراغ ہماری انگلیوں کہ پور ہیں اور ان چراغوں کا ایندھن وہ ذکرِ الہی ہے جو تسبیحات کی شکل ميں ان پر گن کہ پڑھا جاتا ہے وقت رپتے صیح راستے کا تعین ہی مسافر کو منزل تک پہنچاتا ہے جانا مشرق ہو اور نکل مغرب کی طرف جائیں یہ بےراہ روی کبھی آپ کو اپ کی منزل تک نہیں پہنچا سکتی میری مانیں خود کو ذندوں میں ناں رکھیں سانس کا کیا ہے دوسرے لمحے آئے ناں آئے اللہ کہ ہو جائیں بس تھوڑا جبر کر لیں اپنی خواہشات پہ بندھ باندھ لیں اک کاسہ اک چادر لے کہ نکل جایا کریں کسی ویرانے میں اک سجدہ کریں اور اللہ کو پانے کی کوشش کریں بھول جائیں لوگ دیوانہ کہیں گہ یادِ الہی میں دیوانہ کہہ دیں لوگ تو کیا کمال ہو
ایسا عروج ملے تو پھر کیونکر ذوال ہو
میرے لیے دعا کریں دل نہیں لگتا دنیا داری میں میرے مٹی کہ وجود کو قرار نہیں ہر سانس نوحِ انسانی کا انجام سوچ کر تکلیف دیتی ہے کہاں جانا ہے اور کس طرف رختِ سفر باندھ لیا ہے
جییں لیکن ایسے کہ فطرت سے باغی ناں ہوں صبح پرندے اٹھتے ہیں ذکر کرتے ہیں آپ بھی ایسا کریں بارش کہ قطرے سجدہ کرتے ہیں آپ بھی کریں دریا سمندر طرف محوِ سفر ہیں آپ بھی اپنے قدم جہنم کہ رستے سے موڑ کہ جنت طرف بڑھائیں اور آپ اشرفالمخلوقات ہیں اپنے رب کا شکر رات کی تنہائی میں ادا کریں کہ اس نے ہمیں انسان پیدا کیا اور محمد (ص) کا امتی بنایا
واسلام ساقی
آپکے جذبوں کی سچائی آپ کہ ساتھ نبھانے کا وصف آپکو قیمتی نہیں بناتا کسی کی نظر میں آپکا سٹیٹس آؤٹ لُک آپکی پرسنالٹی ہی لوگوں کو اپکےقریب کرتی ہے خود کو سنوارنا اور امیر کرنا ایسے ہی ضروری ہے جیسے سانس لینا لاحاصل کو حاصل کرنے کی قیمت یہ ہی ہے اس کہ لیے مسلسل مہنت ضروری ہے اور وقت کی رفتار سے تیز چلنا ہی آپکے خوابوں کو تعبیر دیتا ہے بلند اڑنا ہو تو شائین طرح طوفانوں میں رہنے کا شوق پالنا پڑتا ہے ذمین پر گریں گہ تو حقارت سے ہی دیکھے گا ہر کوئی۔ آسمان کو چھو لیں گہ تو حسرت سے دیکھے گا ہر کوئی۔
خواہشات کہ سمندر سے اک قطرہ پانے کی جستجو ہے۔
لیکن اس کہ لیے مکمل وقت لگا دینا بے وقوفی ہے
کیونکہ سب سے قیمتی چیز وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے
وہ وقت جس میں اک آنسو اتنا قیمتی ہے کہ ساری ذندگی کی خطائیں معاف کرا دے
رات کا پچھلا پہر ہے نیند آنکھوں سے کوسوں دور کیوں ناں اُٹھ کہ اک سجدہ کیا جائے توبہ اور شکر کا
توبہ سکون،اطمینان اور راحت دے گی اور شرمندگی کا اک آنسو اللہ کہ ہاں دنیاو مافیا سے ذیادہ مقبول ٹھرے گا
یہ باتیں بتانے کی نہیں کیونکہ یہ ریا کہ زمرے میں آتی ہیں
لیکن اپنی اور معاشرے کی فلاح کہ لیے بتانا اور سوچ میں ٹھرانا بھی ضروری ہیں
باقی نیتوں کا حال اللہ جانے
دوسرا سجدہ شکر کا کیونکہ شکر اللہ کی دی گئی نعمتوں کو بڑھا دیتا ہے
اور کوئی خواہش ادھوری نہیں رہتی
اللہ واحد ہستی ہے جس کی قربت بغیر سکون مل نہیں سکتا
ناں جیتے جی نا مرنے بعد
تو ابھی اس ہی لمحہ سے رضا الہی کہ لیے اپنی بہتری کہ لیے سر سجدے ميں رکھ لیں اور قلبی سکون اور بہترین ذندگی کا انتخاب کریں
مہنت کریں اللہ سے لیں ہر چیز نوابوں سے شوق رکھیں عروج پر رہیں لیکن یہ عروج حضرت سلیمان کی مثل ہو ناں کہ فرعون اور قارون جیسا
ہمارا معاشرے کسی کو سیدھی راہ پر نہیں دیکھ سکتا ٹوپی پہنے گہ تو قاری اور داڑھی بڑھا دیں تو طنزیہ مولوی کہہ دیں گے
شلوار ٹخنوں سے اوپر کی تو تہذیب یافتہ ناں ہونے کا لیبل چپکا دیں گے
لیکن یقین مانیں ایسا کرنے سے آپ اللہ کہ ہاں مہذب ترین ہو جائیں گے
یہ لوگوں کہ طنز آپکی میں مار دیں گے
اور میں مر گئی تو باقی اللہ ہی رہ گیا
اور اللہ کہ لیے اپنی میں مارنے والوں کے لیے اللہ ہمیشہ کافی ہے
واسلام ساقی
نشتر ہسپتال سانحہ جہاں 35 انسانی لاشوں کو لاوارث کر کہ چھت پر پیھنک دیا گیا اور گدھ کوے ان لاشوں کو کئی دن تک نوچتے رہے۔ انسانوں کہ اس رویہ اور انسانیت کی یہ تذلیل دیکھ کہ دل خون کہ آنسو روتا ہے۔ ناں جانے کون سی ماؤں کہ جگر ٹکڑے تھے جن کو نادرہ کی شناخت تک بھی نصیب ناں ہوئی۔ اور قصاب ڈاکٹروں کو سونپ دیا گیا۔جنہوں نے ان لاشوں کو تربیت کہ نام پر چیر پھاڑ کہ کھلی چھت پر پیھنک دیا۔اور 3 دن گزرنے کہ بعد بھی کسی کہ کان پر جوں تک نہیں رینکی۔ افسوس صد افسوں ایسی انسانیت ایسے انسانوں پر ۔ یہاں انسانوں کا یہ حال ہے اور انسانیت اس گھناٰؤنی نہج پر پہنچ چکی ہے کہ فقط شرمندگی اس کا کفارہ نہیں ۔ تمام دوست احباب سے دردمندانہ گزارش ہے۔ ہم ارد گرد اتنی نظر ضرور رکھیں کہ کہ کسی بھی لاوارث لاش کہ ملنے اس کی قبر کی کھدائی اور کفن تک اس کہ بھائی بن کہ اس کہ ساتھ کھڑے ہوں ۔یاد رکھیں کسی بھی حادثہ کی صورت ميں کسی پہاڑی سے گرنے اور لاپتہ کر کہ قتل ہونے میں دیر نہیں لگتی ۔ اور نادرہ والوں اور حکومت پاکستان 200 فیس کہ جھگڑے میں آپکی شناخت بھی نہیں کرنی اس لیے ایسی لاوارث لاشوں کی جگہ خود کو رکھ کر سوچیں الللہ ہم سب کا حامی و ناصر رہے آمین
خواب ٹوٹتے ہیں تو تکلیف دیتے ہیں۔لیکن خوابوں کہ ٹوٹنے سے انسان کو نہیں ٹوٹنا چائیے۔تمھارا ارادہ،سچی لگن اور حوصلہ ہی طے کرتا ہے کہ اک دن کامیابی تمھارے قدم چومے گی۔لوگ رستے ميں تھک جاتے ہیں ہار مان جاتے ہیں خود کو حالات کی منجدھار پر چھوڑ دیتے ہیں۔یہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوتے ۔کچھ لوگ منزل جانب بڑھتے ہیں. لیکن منزل اک سراب طرح اور دور ہو جاتی ہے ۔لیکن وہ ہمت نہیں ہارتے۔ہر مشکل ہر طوفان سے گزر جاتے ہیں ۔اور اک دن اپنے خوابوں کو مٹھی میں قید کر لیتے ہیں ۔کامیاب لوگ ہمیشہ بڑی سوچ رکھتے ہیں۔وہ جانتے ہیں ہر بلندی اک پستی سے شروع ہوتی ہے۔سمندر بھی پانی کہ قطروں سے مل کہ بنتا ہے۔میلوں کا سفر پہلے قدم سے شروع ہوتا ہے ۔مجھے اپنی اور آپکی کامیابی کا ایسے یقین ہے۔ جیسے جینے والے کو مرنے کا۔رات کو صبح کا۔انشاءاللہ وہ رب کسی کی مہنت کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔😘
ذندگی میں ہیجان خیز سوچ سانسوں کہ اس سفر کو کٹھن بنا دیتی ہے. فلسفہ وہ مرض ہے کہ سقراط کو زہر کا پیالہ چومنے سے ہی قرار آیا. لیکن اسلام دینِ برحق اور مکمل ضابطہ حیات ہے. جو ذہن میں اُٹھنے والی ہر سوچ کو ساحل تک پہنچا دیتا ہے. اک دن زندگی کہ نشیب و فراز دیکھ کہ دل ڈوبنے لگا. تو ذندگی کو جینے کا انداز، مقصدِ حیات سوچ کی لکیروں سے دل کہ ورق پر لکھ دیا. جو ہمارے دینِ حق کی خوبصورتی کو واضح کرتاہے. درود شریف پڑھ کہ شروع کریں اور اس تحریر کہ پیغام کو روح میں اُتار دیں.
فلسفہِ حیات
خود کی پہچان کرنی ہے میں کیا ہوں؟
کوئی شمع ہوں کہ بُجھتا ہوا دیا ہوں؟
چلتا ہوں یوں ہی بے وجہ
جیسے کوئی دُھول خاکِ پَاہ ہوں ؟
اٹھتا ہوں تو بس سونے کہ لیے
سوتا ہوں تو بس اٹھنے کہ لیے
کیا فقط یہ ہی ہوں کہ کوئی انسان ہوں؟
؟
چل سوچتے ہیں پوچھتے ہیں کسی بِینا سے فلسفہِ حیات
مُرشد
بتائیے کیا راز ہے مُسکرانے کا ؟
غم کی دنیا میں سکون پانے کا؟
کیا مزا ملتا ہے بیابان میں چوٹ کھانے کا ؟
چھوڑ کہ دنیا کیا مزا ہے پانے کا؟
مُرشد
بولے مُرشدکیا شوق ہے خود کو پانے کا
ملتی ہے بقاء پیدا کر ذوق خود کو مٹانے کا
ساقی
بولا سمجھا نہیں کہ ہوں میں ساقی
عشقِ دنیا میں رہا نہیں کچھ بھی باقی
تھک گیا ہوں کہ بڑی دور تک چلا ہوں
لغزشیں اتنی کہ جینے سے بھی ڈرا ہوں
مُرشد
دستِ شفقت رکھا مُرشد نے دل پر
بولےشوق رکھتے ہو دل لگانے کا
سنو تَصوف ہی راہ ہے محبوب پانے کا
چار لفظوں ميں سمجھاتا ہوں
رازِ ذندگی رازِ بندگی بتاتا ہوں
کر لو توبہ کہ پھر گناہ کا تَصور بھی ناں اُبھرے
شیشہِ دل میں کوئی خنجر بھی ناں اُترے
ہو صاف یوں دل کہ کعبہ سا نکھرے
دردِ دل خَلق کا تیری انکھوں سے برسے
ہو طلب تجھ کو خدا کی کہ خدا ہی ملے
ہر دکھ درد میں اُس کا آسرا ہی ملے
ہے یہی طریقہ دنیا میں سکون پانے کا
راستہ بقاء ہے فقط خدا کی رضَا مہبت میں مِٹ جانے کا
رفیق ساقی جو تیرا خدا ہو
پھر کیا دوست تجھ کو فناء ہو
جو اس رب کی عطاء ہو
یہ ناممکن ہے کہ توں دَھول گرد سا ہے
کر کوشش کہ بےمراد گوہر نہیں ملتے
فقط لکھنے سے تو رب نہیں ملتے
والسلام ساقی
8 اکتوبر 2005 قیامت کی وہ گھڑی جو اپنے پیچھے اُداسی کی وہ داستان چھوڑ گئی کہ آج برسوں بعد بھی دل خون کہ آنسو روتا ہے قدرت کا اک قانون ہے جب ظلم ،بےحیائی ،ناانصافی اک حد سے بڑھ جائے تو عذاب الہی زمین پر اُترتا ہے یہ وہ ہی سرخ دن تھا مائیں اپنے بچوں کو خواب بُنتی آنکھوں سے ماتھا چوم کر درسگاہ روانہ کر چکی تھی لیکن اُنھیں معلوم ناں تھا آج ان کی واپسی ناممکن ہے اک ڈاکٹر کو دیکھا اس کا 5 سال کا بیٹا بھاری پتھروں کہ نیچے دب گیا تھا اک گاڑی دیکھی اس میں انسانوں کہ ادھ کٹے جسم پڑے تھے اک سکول کی بچی کی ٹانگ کو اپنے ہاتھ سے ٹانکے لگائے عام سا سوئی دھاگہ اور اس کی ٹانگ سے لٹکتا گوشت ٹانگ کی ہڈی نظر آتی تھی اللہ وہ منظر پھر ناں دکھائے لاشوں کا ڈھیر مدہوش لوگ اپنے پیاروں پہ نوحہ کناں عورتیں یہ سب ہماری بداعمالیوں کا بَدل تھا آج پھر ہم وہاں ہی کھڑے ہیں اور عذابِ الہی کو دعوت دے رہے ہیں حد سے بڑھ چکے ہیں اک اور 8 اکتوبر ہماری منتظر ہے خدارا زندگی کو حضرت محمد ص کے طریقے پر گزاریں اور توبہ کا یہ موقع ہاتھ سے ناں جانے دیں
ضرورت ہی تعین کرتی ہے کہ کیا چیز آپکو راحت پہنچا سکتی ہے سیانے کہتے ہیں پیسہ سب سے ذیادہ خوشیاں خرید سکتا ہے لیکن میرا دل کہتا ہے محبت خرید کرنی ہو تو جذبوں کا سکہ ہی چلتا ہے اک ناں اک دن سچے جذبوں کہ سامنے محبوب سرنگوں ہو جاتا ہے دیر لگتی ہے لیکن یہ قانونِ فطرت ہے جسموں کی طلب،ملاپ ہمیشہ عشق کو معیار سے گرا دیتا ہے ہاں وقتی سکون مل جاتا ہے لیکن گناہ کا کاندھوں پہ لدا بوجھ انسان کو گرا دیتا ہے اور ایسی محبت کا وجود فناء کی طرف دھکیل دیتا ہے محبت پاک دامن رہے تو اک دن اللہ سے ملا دیتی ہے اور یہ محبت دونوں جہانوں میں کامیابی کی زمانت ہے لیکن یہ راہ بہت کٹھن ہے خود کو سنبھالنے والے اور جذبوں کو لگام دینے والے ہی ولایت کہ درجے پر فائز ہوتے ہیں اور یہ امتحان آگ کا دریا پار کرنا ہے کروڑوں میں کوئی ایک ہی ایسا کر سکتا ہے وہ بھی اللہ کی مدد شاملِ حال رہے تب۔عشق کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھنے والے عشق کی آخری سییڑھی سے گر جاتے ہیں کوئی بھی ایک کمزور لمحہ جب مہبت ثابت کرنی پڑتی ہے تو مہبت کہ اصولوں کا سودا کرنا پڑتا ہے ورنہ مہبت تو اس بات کی اجازت بھی نہیں دیتی کہ معشوق کو نظر اٹھا کہ دیکھا جائے۔
خوش نصیبی روز دروازے پر دستک نہیں دیتی کسی دل والے کہ چاہنے سے ہی حسن قیمتی ہے ورنہ جسموں کہ خریدار ہوس پرست ہر گلی کی نکڑ پر ٹکہ سیر ملتے ہیں جو تمھارے نشیب وفراز اور جسمانی پیچ و غم کہ ڈھلنے تک مہبت کا ڈھونگ رچاتے اور پھر اپنی نئی راہ نکل جاتے ہیں سچا عاشق اک اعلٰی ظرف ہی ہو سکتا ہے جو خود کی ہر خواہش کو معشوق کہ تابع کر دیتا ہے وہ کبھی ظاہری حسن پر فریفتہ نہیں ہوتا معشوق اسے تمام خامیوں خوبیوں کہ ساتھ قبول ہوتا ہے معذرت کہ ساتھ معشوق کی خامیاں بھی اس کی خوبی ہی نظر آتی ہے اور ڈھلتی عمر ڈھلتا حسن اور معشوق کا لاحاصل رہنا یہ سب باتیں دیوانگی کو کم نہیں کرتے معشوق ہمیشہ پہلی نظر جیسے لگتا ہے ویسا ہی معصوم اور آخری دیدار تا قیامت قیامت کی گھڑی جیسے رہتا ہے حسن کی بدنصیبی ہے کہ اسے عشق کی پہچان نہیں اور اکثر کم ظرف ہی فتح گر ٹھرتے ہیں
لکھنا میرا شوق نہیں ناں لفظوں سے کیھلنے کا ہُنر جانتا ہوں مہبت نامی بلاء میرے وجود کو اندر سے کھائے جا رہی ہے لفظوں کی سیاہی خونِ جگر بن کر ورق پر پھیل جاتی ہے تو کچھ لمحوں کہ لیے روح پر لگے یادوں کہ زخم تکلیف نہیں دیتے
دولت کا حصار مہبت کو دائروں میں قید کر دیتا ہے . جذبوں سے دور یہ دنیا دیکھنے میں جتنی بھی شاندار لگے لیکن حقیقت میں وہ قید ہے جو انسان سے جینے کی وجہ چھین لیتی ہے آج تک یہ طے نہیں کر سکا کہ کتنی دولت کتنا سونا کتنے چاندی کہ ڈھیر خود کو امیر گرداننے کہ لیے ضروری ہیں جس کہ بعد آپ معاشرے میں باوقار ہوں دولت کہ پیچھے جائیں تو وقت مہبت ہاتھ سے نکل جاتی ہے مہبت کا پیچھا کریں تو دولت وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے اور معاشرتی المیہ پیش آ جاتا ہے اور لوگ کہتے ہیں یہ مالی حالات میں گزارہ ہے اور باوقار نہیں رہا اک عاشق کے لیے معشوق کہ سامنے اس طرح باوقار ناں رہنا ذلت ہے اور وہ اس ذلت ساتھ اس سے نظر نہیں ملا سکتا یہ وقار اور مہبت کی جنگ ایسے ہے جیسے دونوں ہاتھ باندھ کہ سوکھے جنگل کو آگ لگا دی جائے اور آگ سے تیز دوڑ کہ آپ کو جان بچانی پڑے کوئی کیسے کر سکتا ہے ایسا
لیکن ہار نہیں مانے گا تم آگ سے نکلتے دیکھو گی مجھے اک دن یہ دوڑ تم پر ختم ہو گی بس اعتبار رکھنا
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Abbottabad