MedicoDairy
The purpose of this page is to provide sufficient material regarding health
19/03/2023
Dr. Sufyan || Quality of medicine in government hospitals // Ep# 01 // अगणनीय संज्ञा How is the quality of medicine that are available for public in government hospitals in out door pharmacy or indoor patients. ...
22/04/2022
جب ہم لوگ انٹرنیٹ پر کچھ سرچ کرتے ہیں تو گوگل کا سرچ انجن خود اتنا طاقتور ہے کے ہمارے سامنے وہ کوئی ایسی ویب سائٹ آنے ہی نہیں دیتا یا ہمیں خود اس بات کا پتہ ہی نہیں کے آیا اس پر کچھ ایسی ویب سائٹس بھی ہیں جو نا صرف ہمارے سائنٹیفک نالج میں آضافہ کر سکتی ہیں بلکہ ہماری سکول، کالج، یا یونیورسٹی کی پڑھائی میں بھی یہ کافی مدد فراہم کرتی ہیں اگر ہم ان پر جائیں تو۔
انٹرنیٹ پر بہت سی ایسی زبردست ویب سائٹس ہیں جو کے خصوصی طور پر سپیشلائزڈ ہیں سائنس کی کتابوں یا اس نئی مفید معلومات کی غرض سے جس سے ہمارا کبھی پہلے واسطہ نہیں پڑا۔
نیچے ان تمام سائٹس کی میں لسٹ لگا رہا ہوں جن پر جا کر آپ سب بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں علم کے حوالے سے سائنس کے حوالے سے یا کوئی کتاب پڑنا چاہتے ہیں دنیا بھر کی کسی لائبریری سے تو آپ ان پر جا کر یہ سب کچھ کر سکتے ہیں۔
www.refseek.com
اس سائٹ پر جا کر آپ لوگ Academic Resource کے حوالے سے بہت کچھ سرچ کر سکتے ہیں جن میں اربوں سورسز ہیں encyclopedia, monographies, magazines وغیرہ کی غرض سے۔
www.worldcat.org
اس ویب سائٹپر آپکو 20 ہزار ورلڈ وائڈ لائبریریوں کی لسٹ مل جائے گی جن پر جا کر آپ آپنی مرضی کی جو کتابیں چائیں پڑھ سکتے ہیں۔
https://link.springer.com
اس سائٹ پر آپکو 10 ملین سے بھی زیادہ سائنٹیفک ڈاکومنٹس، کتابیں، مضمون مل جائیں گے پڑھنے کی غرض سے ریسرچ کی غرض سے۔
www.bioline.org.br
یہ ویب سائٹ ایک بائیو سائنس جرنلز کی لائبریری ہے جو ترقی پذیر ممالک میں یہ لوگ شائع کرتے ہیں۔
http://repec.org
اس ویب سائٹ پر 102 ممالک سے رضاکارانہ طور پر 4 ملین سے بھی زیادہ publications موجود ہیں اکنامس اور سائنس سے جڑی ہوئی تحقیقات پر
www.science.gov
یہ ایک امریکی سٹیٹ سرچ انجن ہے جس پر 2200 سے زیادہ سائنٹیفک سائٹس ہیں جن کے اندر 200 ملین مضمون اور indexed وغیرہ چھپے ہوئے ہیں
www.pdfdrive.com
یہ دنیا کی سب سے بڑی ویبسائٹ ہے فری PDF format میں کتابیں ڈونلوڈ کرنے کی غرض سے۔ اس ویب سائٹ کا یہ دعوٰی ہے اس کے اندر 225 ملین سے بھی زیادہ کتابیں موجود ہیں پڑھنے کی غرض سے۔
www.base-search.net
یہ دنیا کی سب سے زیادہ طاقتور ریسرچ کی سائٹ ہے آپکی academic studies texts کے حوالے سے جس میں 100 ملین سے بھی زیادہ سائنٹیفک ڈاکومنٹس موجود ہیں اور ان میں سے تقریباً 70 فیصد فری ہیں۔
تحریر: سہیل افضل
21/11/2021
Antimicrobial Resistance (AMR)
"جراثیم کش ادویات کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت"👇
پوری دنیا میں عالمی ادارہ صحت کی طرف سے ہر سال کی طرح نومبر کا یہ ہفتہ
"Antimicrobial Resistance Awareness Week "
کے نام سے منایا جارہا ہیں۔۔جس کا مقصد جراثیم کش ادویات کے خلاف بڑھتی مزاحمت اور اس کے نقصانات سے عوام کو آگاہ کرنا ہے۔۔۔
آئیں ہم جاننا چاہتے ہیں کہ یہ مزاحمت ( Antimicrobial Resistance ) کیا ہے..؟
اس کے نقصانات کیا ہے۔۔۔؟ اور اس کو کیسے روکا جاسکتا ہے۔۔۔؟
__________________________________
یہ 1928 کی بات تھی جب الیگزینڈر فلیمنگ نے پنسلین(Penicillin) کے نام سے انٹی بائیؤٹک بنائی۔۔۔جس نے صحت کی دنیا میں انقلاب برپا کردیا تھا۔۔۔اور بہت سی جان لیوا بیماریوں کا علاج اس دوا سے ہونے لگا۔۔۔
1945 میں فلیمنگ نے اپنے نوبل پرائز کے تقریر کے دوران ہی ہمیں خبردار کیا تھا۔۔۔کہ اگر ہم انٹی بائیؤٹک کا استعمال احتیاط کے ساتھ نہ کریں۔۔۔تو اگلے چند سالوں میں بیکٹیریا مزاحمت کی طاقت اپنے اندر پیدا کریگی اور پھر یہ دوا ان جراثیم کے خلاف غیر مؤثر ہوگی۔۔۔
فلیمنگ کی یہ بات اس وقت سچ ثابت ہوئی جب ٹھیک ایک سال بعد پنسلین (Penicillin) کے خلاف بیکٹریا میں مزاحمت دیکھی گئی اور وہ ان بیماریوں کو ٹھیک کرنے میں ناکام ہوتی گئی۔۔۔۔
سائنسدانوں نے 1950 سے لیکر 1980 تک نت نئے طرز کے جراثیم کش ادویات بنائے لیکن ان سب کے خلاف جراثیم نے اسی طرز پر جزوی یا مکمل مزاحمت اختیار کی اور یوں یہ ادویات ان بیماریوں کے خلاف غیر مؤثر بنتے جارہے ہیں۔
اور آج کل نمونیا،ٹائفائیڈ، ٹی بی، ڈائریا اور ملیریا جیسے بیماریاوں کے خلاف بھی یہ ادویات قابل اثر نہ رہی اور اس قسم کی بیماریاں ایک دفعہ پھر مہلک بنتی جا رہی ہیں۔
امریکی تحقیقی ادارے CDC کے مطابق امریکہ جیسے ملک میں بھی سالانہ 2.8 ملین لوگ مزاحمتی بیماریوں "Resistant Disease" کے شکار ہوتے ہیں جس میں 35000 مرجاتے ہیں۔۔۔ اور اسی طرح پوری دنیا میں سالانہ تقریبا سات لاکھ اموات اسی سبب ہوتی ہیں۔۔۔
اور اسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر اس بڑھتی ہوئی مزاحمت کو روکا نہ جاسکا تو 2050 تک سالانہ اموات بڑھ کر 10 ملین تک پہنچ سکتے ہیں اور یہ شرح اموات کینسر سے ہونے والی 2.8 ملین اور روڈ ٹریفک ایکسڈنٹ کے 1.2 ملین اموات سے بھی زیادہ ہوگی۔
یہی وجہ ہیکہ عالمی ادارہ صحت (WHO) نے انٹی بائیؤٹک ریزیسٹنس کو صحت کے دس عالمی مسائل میں سے ایک قرار دیا ہے اور اس کی روک تھام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اپنی کوششیں تیز کردی ہیں۔۔
اس بڑھتی ہوئی مزاحمت کے وجوہات کیا ہے۔۔۔؟
جراثیم میں پیدا ہونی والی اس مزاحمت کی پہلی وجہ قدرتی عمل ہیں۔۔۔۔
دوسری وجہ انٹی بائیؤٹک کا بے جا یا بلا ضرورت استعمال ہے جس کو Miss Use Of Antibiotics کہا جاتا ہیں۔CDC کے مطابق امریکہ میں 30٪ انٹی بائیؤٹک بلا ضرورت استعمال ہوتے ہیں۔
تیسری وجہ انٹی بائیؤٹک کا بے دریغ یا پھر حد سے زیادہ استعمال ہیں جس کو Over Use Of Antibiotics کہا جاتا ہے۔۔
چوتھی وجہ انٹی بائیؤٹک کے کورس کو مکمل نہیں کرنا اور اس کو Left Over Medicine کہا جاتا ہے۔۔
پانچویں اور سب سے بڑی وجہ ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر خود سے جراثیم کش ادویات لینا اور فارماسسٹ سے مشورے کے بغیر اس کا استعمال ہیں۔۔۔
یاد رکھیں یہ مزاحمتی جراثیم ایک انسان سے دوسرے انسان یا پھر جانوروں اور ماحول سے بھی انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں۔
آئیں اب جاننا چاہتے ہیں کہ ہم کیسے اس بڑھتی ہوئی مزاحمت سے اپنے آپ اور دیگر لوگوں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
1)جب کبھی آپ کو نزلہ زکام، یا بخار ہو تو ہر گز انٹی بائیؤٹک استعمال نہ کریں۔۔پراسٹامول استعمال کیا کریں اور کافی زیادہ مقدار میں پانی استعمال کریں۔
2)کبھی بھی ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر انٹی بائیؤٹک استعمال نہ کیا جائے۔۔اور ڈاکٹرز کو بھی چاہیے کہ بلا ضرورت انٹی بائیؤٹک نہ دے۔۔۔
3) انٹی بائیؤٹک کسی ساتھ شیئر نہ کیا جائے۔۔۔اور انٹی بائیؤٹک کو کورس بہر صورت مکمل کیا جائے اس کو درمیان میں نہ چھوڑا جائے۔۔۔۔
4) ہاتھوں کو دھونا، صفائی کا خاص خیال رکھنا اس مزاحمت کی رفتار کو کم کرنے کے لئے ضروری ہیں۔
5) فارمی جانوروں کے گوشت سے پرہیز کیا جائے جس میں انٹی بائیؤٹک Growth Promoter کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔۔۔
6) جراثیم کش ادویات کے صحیح استعمال، اس کے مضر اثرات، اس سے پیدا ہونی مزاحمت سے بچنے کے لئے
ماہر ادویات (فارماسسٹ) سے ضرور مشورہ کیجیے۔۔۔
تحریر؛ آفتاب یوسفزئی۔✏️
________________
21/11/2021
12/10/2021
سیمن رپورٹ ہمیں مادہ منویہ یعنی semen کے متعلق بتاتا ہے۔
سیمن دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، ایک سپرم یعنی کہ وہ خلیے جو اولاد پیدا کرنے کے جراثومے ہوتے ہیں اور دوسرا سمین کا مائع حصہ جس میں سپرم کی غذا اور سپرم کے لیے ضروری رطوبتیں شامل ہوتی ہیں، جو مختلف گلینڈز سے خارج ہوتی ہیں۔
ایک عام سمین رپورٹ ہمیں درجہ ذیل چیزیں بتاتی ہے۔
سیمن رپورٹ میں اپکو "semen volume" لکھا ہوا مل جائے گا ، اس سے "منی کی مقدار" مراد ہوتی ہے۔ منی کی مقدار مختلف کیسز میں مختلف ہوسکتی ہے۔ یہ مقدار 1 ملی میٹر سے لے کر 10 ملی لیٹر تک دیکھی گئی ہے۔ منی کی نارمل اور اوسط مقدار تقریباً 1.5 ملی لیٹر سے لے کر 5 ملی لیٹر تک ہوتی ہے۔ اس کے علاؤہ منی کی مقدار اس بات پر بھی منحصر ہے کہ کتنی دیر بعد منی خارج کی گئی، اگر اپ کوئی بہت کم وقفے کے بعد منی خارج کرے گا تو اس کا semen volume کم ہوگا۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق منی کی صحت مند مقدار 1.5 ملی لیٹر سے 7.6 ملی لیٹر تک ہوتی ہے۔
جیسا کہ اوپر بیان کیا کہ منی یعنی کہ سمین سپرم اور کچھ ضروری رطوبتوں کا مکسچر ہوتا ہے، سیمن رپورٹ میں موجود "s***m quantity" سے مراد ہے کہ منی میں سپرم یعنی جراثوموں کی تعداد کتنی ہے۔
اوسط مقدار کی بات کریں تو یہ 50 ملین سے 120 ملین فی ملی لیٹر ہوتا ہے۔ بغض جگہ پر یہ تعداد 40 ملین سے 250 ملین تک بھی درج ہے۔ البتہ نارمل سے کم کا مطلب کوئی خاص مسلہ نہیں ہے۔ 15 ملین فی ملی لیٹر تک یہ مقدار محفوظ مانی جاتی ہے، اس سے کم سپرم کی کمی کی نشان دہی مانی جاتی ہے۔
اگر عالمی ادارہ صحت کی رائے دیکھیں تو اس کے مطابق منی کے فی ملی لیٹر میں (یعنی s***m concentration) 15 ملین سے 259 میلین ہوتی ہے۔ جبکہ ایک بار خارج کی گئی منی میں سپرم کی تعداد 39 ملین سے 928 ملین تک ہوسکتی ہے۔
(s***m morphology)
ایک سپرم بنیادی طور پر تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
1- سر (head)
2- درمیان والا حصہ (midsection)
3- دم (tail)
ان تینوں حصوں میں کوئی خرابی ، سپرم کی بیضے سے ملاپ کرنے اور اگلی نسل پیدا کرنے کی قابلیت کو کم /ختم کرتی ہے۔ اسی منی میں موجود کچھ ایسے سپرم بھی ہوتے ہیں جو ابھی پوری طرح سے میچور/ تیار نہیں ہوئے ہوتے ، ایسے سپرم بھی بیضے سے ملاپ کے قابل نہیں ہوتے۔ اس لیے منی میں نارمل شیپ (ساخت) والے سپرم کا ہونا ضروری ہے۔
"عالمی ادارہ صحت کے مطابق نارمل سپرم کی تعداد اگر 4 فیصد سے 48 فیصد تک ہو تو محفوظ اور اولاد پیدا کرنے کے قابل مانی جاتی ہے۔ "
(s***m viability یا vitality)
سپرم viability سے مراد ہے کہ سیمن میں زندہ سپرم کی تعداد کتنی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک بار میں خارج ہونے والی منی میں جتنے سپرم ہوتے ہیں ان میں سے کم از کم 50 فیصد زندہ ہونے چاہئیں۔
(s***m motility)
ایک صحت مند سپرم تیز حرکت کرتا ہے، اور یہ ضروری بھی ہے کیونکہ سپرم کو مادہ کے تولیدی نظام میں سفر کرنا ہوتا ہے۔ اگر سپرم کی حرکت کم /سست ہوگی تو سپرم بیضے تک سفر نہیں کر پائے گا۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق نارمل s***m motility چالیس سے 81 فیصد ہوتی ہے۔ جس میں سے progressive motility یعنی کہ آگے کی طرف سفر کرنے والے سپرم کی تعداد 32 سے 75 فیصد تک ہوتی ہے۔
فروکٹوز سپرم کی خوراک ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس کی مقدار 13 umol یا اس سے زیادہ ہونی چاہیے
عالمی ادارہ صحت کے مطابق سیمن کی نارمل پی ایچ 7.2 سے 8 تک ہوتی ہے۔
پس سیلز سے مراد وہ سفید خلیے ہیں جو کہ اینفیکشن کی صورت میں منی میں شامل ہوتے ہیں۔ یہ اینفیکشن ان راستوں میں ہوسکتی ہے جن سے منی گزر کر آتی ہے۔ ایک بلکل صحت مند منی میں کوئی پس سیل نہیں ہونا چاہیے، البتہ تھوڑی سی مقدار میں پس سیلز کوئی خطرے کی بات نہیں۔
کچھ لیبارٹریز میں پس سیلز کے علاؤہ جو سیلز منی میں شامل ہوتے ہیں جیسا کہ endothelial cells جو کہ ان نالیوں کی دیواروں سے ٹوٹ کر آتے ہیں جن سے منی گزر کر آتی ہے ان کو بھی پس سیل سمجھ لیا جاتا ہے۔ البتہ ایک اچھی لیبارٹری اپکو ہر قسم کے سیلز کو الگ الگ کر کے بتائے گی۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق سپرم کے علاؤہ منی میں موجود ان سب سیلز کی نارمل تعداد 1 ملین فی ملی لیٹر سے کم محفوظ سمجھی جاتی ہے۔
(وارث علی)
________________________________________________
سیمن رپورٹ ہمیں مادہ منویہ کے متعلق بنیادی معلومات فراہم کرتی ہے۔ لیکن یہ کسی کے اولاد پیدا کرنے کے قابل نہ ہونے کا سرٹیفیکیٹ ہرگز نہیں۔ بعض اوقات اگر رزلٹ نارمل یا حد سے کچھ کم آتا ہے تب بھی اس بات کے امکانات موجود ہوتے ہیں کہ مریض صاحب اولاد بن سکتا ہے۔ اس کے علاؤہ علاج سے رزلٹس کو بہتر کیا جاتا ہے۔ مگر واضح رہے کہ یہ علاج ایک سپیشلسٹ میڈیکل ڈاکٹر سے کروانا چاہیے نہ کہ عطائی حکیموں کے، حکیم چاہے کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو کوئی بھی حکیم میڈیکل سائنس پڑھے بغیر اس لیول تک نہیں پہنچ سکتا جہاں ایک ڈاکٹر موجود ہوتا ہے۔ حکمت صدیوں پہلے سے چلتی آرہی ہے، لیکن اس کا مسلہ یہ ہے یہ آج بھی صدیوں پیچھے ہی موجود ہے اور انھی بوسیدہ باتوں پر عمل پیرا ہے جو کب کی غلط ثابت ہوچکی ہیں، میرا کسی حکیم سے ذاتی مسلہ نہیں مگر علمی اختلاف ضرور ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Abbottabad