Waqas Writes

Waqas Writes

Share

Educational

10/01/2025
25/10/2024

ظالم مارے اور رونے نہ دے۔

ایک بھیڑیا، لومڑی اور گدھا تینوں بیٹھے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔
دنیا کی ناپائیداری کا تذکرہ تھا۔
آخر سب نے یہ صلاح کی کہ چلو فلاں بزرگ کے مزار پر چل کر اپنے اپنے گناہوں کا اقرار کر کے توبہ کریں۔

تینوں وہاں گئے اور ہر ایک نے اپنے گناہ بیان کرنے شروع کئے۔
بھیڑئیے نے کہا
"ہائے میری مغفرت کیوں کر ہوگی!
میں نے تو ایک ایسا ظلم کیا ہے کہ جب یاد آتا ہے میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

ایک کم بخت بکری کے چار بچے تھے۔ وہ بکری ان بچوں کو چھوڑ کر اپنا پیٹ بھرنے کے لئے لوگوں کے گھروں میں پھرا کرتی تھی۔
بکری کی یہ بے رحمی مجھ سے نہ دیکھی گئی اور میں نے بکری کو مار ڈالا

پھر میں نے سوچا کہ یہ بچے بے ماں کے آخرکیوں مصیبت اٹھائیں۔ خدا علیم ہے اسی خیال سے میں نے ان کو بھی کھا لیا۔" یہ کہہ کر بھیڑیا رونے لگا۔

لومڑی نے کہا :
”اے میرے نیک مزاج نرم دل دوست مت رو اور مت افسوس کر ۔ ہر چند کہ تو نے بکری اور اس کے بچوں کو مارا لیکن خدا تو نیت دیکھتا ہے۔
دونوں مرتبہ تیری نیت میں بھلائی تھی۔
بکری تو واجب القتل تھی اس واسطے کہ وہ بچوں کی پرورش نہیں کرتی تھی۔

رہے بچے ان کے مارنے میں بھی میں خوب جانتی ہوں اور کیا خدا نہیں جانتا کہ تیرا کچھ اپنا مطلب نہیں تھا۔

تو نے ان کو یتیمی اور بے مادری کے عذاب سے نجات دی اور تجھ کو بے شک ثواب کی امید رکھنی چاہئے
کہ ایسی بے رحم ماں کو مارا اور ایسی تکلیف سے جس میں بچے گھل مل کر مر جاتے تو نے چھڑایا۔“

پھر لومڑی نے کہا :
"مشکل تو مجھے کم بخت کی ہے۔
دیکھیئے قیامت میں میرا کیا حال ہوگا اور میں کیوں کر بخشی جاؤں گی۔

میں نے تو وہ کام کیا ہے کہ دوزخ بھی مجھ سے پناہ مانگے۔ ایک شخص کے گھر میں بہت سی مرغیاں پلی ہوئی تھیں۔ مرغ ہر وقت آپس میں لڑتے، چیختے اور غل مچاتے۔
ان بدبختوں کی وجہ سے تمام ہمسایوں کا دم ناک میں تھا۔ صرف ڈربہ نہیں بلکہ تمام محلہ ان مرغیوں نے نجس کر دیا تھا۔
جہاں دیکھو بیٹ، جدھر جاؤ گندگی
اور یہ مرغ ایسے ناہنجار تھے کہ محلے والوں کے برتنوں میں پانی پیتے تھے۔
روز فریاد ہوا کرتی۔
محلے والوں کی یہ مصیبت سنتے سنتے کلیجہ پک اٹھا۔
ایک روز مجھ سے ضبط نہ ہو سکا اور میں نے ڈربے میں جا کر سب کو چیر پھاڑ برابر کیا۔“

بھیڑیے نے سن کر کہا:
"اے نیک بخت بی بی! کیوں اتنا روتی ہے اس میں تیرا کچھ قصور ۔ خدا تو بڑا منصف ہے۔
وہ مرغ سب کے سب اسی سزا کے لائق تھے۔
تو نے تو ان کو مار خدا کے معصوم بندوں کو ان ظالموں سے نجات دی ہے ۔

لومڑی اور بھیڑیے نے کہا میاں گدھے تم سے بھی اگر کوئی خطا ہوئی ہو تو کہہ ڈالو
گدھے نے کہا نہ میرے سینگ کہ کسی کو ماروں
نہ پنجے اور نہ دانت کہ کسی کو پھاڑوں یا کاٹوں۔
عمر بھر میں مجھ سے دو قصور ہوئے۔
ایک تو یہ کہ تم یقین کرو میں بہت ہی بھوکا تھا اور مجھ پر گھاس لدی ہوئی تھی۔

میں نے مالک کی اجازت کے بغیر تھوڑی سی بس سمجھو کہ کوئی مٹھی دو مٹھی گھاس نکال کر کھا لی۔
ایک اور روز میں چلا جاتا تھا کہ چند لڑکے ناحق مجھ کو ستانے لگے۔
میں نے ایک لڑکے کی طرف دولتی چلائی
مگر کسی کے لگی نہیں، پھر بھی میں گناہ کا اقرار کرتا ہوں۔"

بھیڑیا بولا او بد ذات!

ایسے بڑے بڑے اور اکٹھے دو دو گناہ اور تو بخشش کا امیدوار ہے!

تو نے مالک کے مال میں خیانت کر کے گھاس کھائی جس سے نہ معلوم کہ کتنے جانور بھوکے مرے
اور تو نے لڑکے پر دولتی چلائی!

اگر وہ مر جاتا تو ایک جان کا زیاں ہوتا
اور اس کے ماں باپ اور عزیز اقارب غرض کنبے کا کنبہ اس کے غم میں ہلاک ہو جاتا سو الگ۔“

لومڑی نے کہا
”سچ ہے اگر ایسے گناہ معاف ہوا کریں تو دنیا کا کارخانہ درہم برہم ہو جائے
اور لوگ آخرت کے حساب کتاب اور دوزخ سب کی ہنسی اڑائیں۔

یہ گدھا نہ صرف گناہ گار ہے بلکہ ائن سفاک اور بے باک ہونے کی وجہ سے واجب القتل بھی۔

“ یہ کہہ کر بھیڑیا اور لومڑی گدھے
سے لپٹ گئے اور اسے پھاڑ ڈالا۔

02/10/2024

ایک گاؤں میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا جس کے پاس ایک خوبصورت اور مضبوط گھوڑا تھا۔ ایک دن وہ گھوڑا کہیں غائب ہو گیا۔

گاؤں والے کسان کے پاس آئے اور افسوس کرتے ہوئے کہنے لگے، "بڑا دُکھ ہوا کہ تمہارا قیمتی گھوڑا غائب ہے۔"
بوڑھا کسان مسکرایا اور بولا، "بہ ظاہر تو واقعی دُکھ کی بات ہے لیکن ہو سکتا ہے اِس میں بھی کوئی خیر کا پہلو نکل آئے"

چند دنوں بعد، کسان کا گھوڑا واپس آ گیا اور اپنے ساتھ جنگل سے کئی اور جنگلی گھوڑے بھی لے آیا۔ اب کسان کے پاس کئی گھوڑے ہو گئے۔ گاؤں والے پھر آئے اور حیرت سے بولے، "خوش قسمت ہیں آپ کہ اپنے گھوڑے کے ساتھ ساتھ اور گھوڑے بھی مل گئے ہیں!"
بوڑھا کسان دوبارہ مسکرایا اور کہا، " یہ اچھی بات ہے یا شاید یہ بری بات ہو، کون جانتا ہے؟"

ایک دن کسان کا بیٹا ان نئے گھوڑوں میں سے ایک کو سدھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ گھوڑا بدک گیا اور کسان کا بیٹا گر کر اپنی ٹانگ توڑ بیٹھا۔ گاؤں والے پھر آئے اور افسوس کرتے ہوئے کہنے لگے، "بڑے دُکھ کی بات ہے! تمہارے بیٹے کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔"
بوڑھا کسان ہمیشہ کی طرح مسکرایا اور کہا، "شاید یہ دکھ کی بات ہو یا شاید یہ اچھی بات ہے، کون جانتا ہے؟"

کچھ دن بعد، ملک میں جنگ چھڑ گئی اور حکومت نے تمام جوانوں کو فوج میں بھرتی کرنے کا حکم دیا۔ لیکن کسان کا بیٹا اپنی ٹوٹی ہوئی ٹانگ کی وجہ سے فوج میں نہیں جا سکا۔ گاؤں والے پھر آئے اور کہا، "کتنی اچھی بات ہے! تمہارا بیٹا جنگ میں نہیں جا رہا۔"
بوڑھا کسان حسبِ معمول مسکرایا اور بولا، "ہر واقعے میں ہمارے لیے کیا اچھا ہوتا ہے کیا بُرا، یہ کون جانتا ہے؟ لیکن زندگی میں واقعات کا فوری نتیجہ ہمیشہ واضح نہیں ہوتا۔ بظاہر بری چیزیں بعد میں اچھی ثابت ہو سکتی ہیں اور بظاہر اچھی چیزیں بری۔ لہذا، زندگی کے اتار چڑھاؤ کو قبول کرتے ہوئے صبر اور تحمل سے کام لینا چاہیے، کیونکہ وقت کے ساتھ ہی واقعات کی حقیقت واضح ہوتی ہے۔

یہ سبق معاشرتی طور پر بھی اہم ہے، کیونکہ یہ افراد کو مشکلات میں حوصلہ مند رہنے اور دوسروں کو بھی اس رویے کی تلقین کرنے کا درس دیتا ہے۔
انگریزی سے ترجمہ شدہ
مترجم
برہم مروت

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Arifwala?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Arifwala