Indus production
They can expect me for better informative information and entertainment
04/04/2023
ایسے لوگ بھی اس سرزمین پے گزرے ھیں جن کی قدم پوشی کو جی چاھتا ھے اورایسے لوگوں کی وجہ سے یہ جہاں آباد ھے
قدرت اللہ شہاب کی تصنیف "شہاب نامہ" سے ایک اقتباس ...
"منگلا ڈیم کا نحیف و نزار اور مفلوک الحال جوڑا"
*قدرت اللّٰه شہاب* کہتے ہیں کہ جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے وہاں پر پہلے میرپور کا پُرانا شہر آباد تھا۔جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حِصَّہ ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا ۔ ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گرد و نواح میں گھوم رہا تھا راستے میں ایک مَفلُوک الحال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پھَٹے پُرانے تھے، دونوں کے جوتے بھی ٹُوٹے پھُوٹے تھے، اُنہوں نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا " بیت المال کس طرف ہے؟ " میں نے پوچھا بیت المال میں تمہارا کیا کام ؟
بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا ؛ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میرپور شہر کے ملبے کو کُرید کُرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں، اب انہیں اس "کھوتی" پر لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جا رہے ہیں ۔ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میں رکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بِٹھا لیا تا کہ اُنہیں بیت المال لے جائیں ۔
آج بھی وہ نحیف و نَزَار اور مفلوک الحال جوڑا مجھے یاد آتا ہے تو میرا سَر شرمندگی اور ندامت سے جھُک جاتا ہے کہ جیپ کے اندر میں اُن دونوں کے برابر کیوں بیٹھا رہا ۔ مجھے تو چاہیئے تھا کہ میں اُن کے گِرد آلود پاؤں اپنی آنکھوں اور سَر پر رکھ کر بیٹھتا ۔ ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں ۔
20/03/2023
A true story...
جو بھی پاکستان کو سنوارنے کی کوشش کرے گا ۔اس کے لئے پاکستان کی سر زمین تنگ کردی جاتی ھے۔
میرا نام عاشر عظیم ہے!
میں کرسچن کمیونٹی کا ایک فرد تھا، میں نے PTV کے مشہور ڈرامہ سیریل “دھواں” میں اظہر کے نام سے مرکزی کردار ادا کیا! CSS کرکے کسٹمز میں افسر بنا، رشوت ستانی کا بازار گرم تھا، کسٹمز کے بڑوں کو مشورہ دیا کہ رشوت ختم کریں، چیئرمین نے مجھے نظام تیار کرنے کا حکم دیا، میں دن رات ایک کر کے ایسا نظام بنانے میں کامیاب ہوا جس سے رشوت کے راستے بند ہو سکتے تھے! محکمہ کے افسران میرے دشمن بن گئے، NAB کے ذریعے مجھے گرفتارکر لیا گیا، مجھ پر ناجائز کمائی کا الزام لگا اور حساب لیا جاتا رہا، پھر جیل سے رہا ہو گیا۔ میں بضد تھا کہ اپنی بیگناہی ثابت کروں گا اور بحال ہو کر دم لوں گا، بااثر افسران کا خیال تھا کہ رہائی کے بعد میں بھی ملک سے بھاگ جاؤں گا جب ایسا نہ ہوا تو میرے اوپر غداری کے مقدمات اور دشمن ملک کی خفیہ ایجنسیوں سے رابطے کے الزامات لگا دیئے گئے اور پھر گرفتار کر لیا گیا، اس کیس میں سے بھی کچھ نہ نکلا اور میں رہا ہو گیا۔
میں نے قرض لے کر ایک فلم “مالک” بنائی جس میں پاکستان کی اشرافیہ ،بیورو کریسی ، کرپٹ نظام کو للکارا، اس فلم کی نمائش نہ ھونے دی گئی اور میرا سرمایہ ڈوب گیا، آخرکار وہ دن بھی آگیا جب میرے اوپر لگنے والے تمام الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے اور میں کئی برسوں بعد اپنے عہدے پر بحال ہوا۔ میں خودکو بیگناہ ثابت کرنا چاہتا تھا اور کامیاب ہو گیا لیکن اس قوم کی مزید خدمت کی ہمت نہیں تھی، بحالی کے چار دن بعد اپنے عہدے سے استعفی دیا اور خاندان سمیت کینیڈا منتقل ہو گیا۔ آج کل میں کینیڈا میں ٹرک چلا کر اپنی فیملی کی کفالت کرنے اور مالک فلم بنانے کے لیے لیا گیا قرض اتارنے میں مصروف ہوں۔۔
لیکن پاکستان سے آج بھی اتنا ہی پیار کرتا ہوں۔۔
اس طرح کے بہت لوگ ھیں لیکن مجبور ھیں۔
اتنے خشک نہ بنو کہ توڑ دۓ جاٶ
اتنے نرم نہ بنو کہ نچوڑ لۓ جاٶ
16/03/2023
Most Wellcome all my audions at my page to suggest me about my page
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Attock Khurd
02/03/2023
31/01/2023