Entertainment and Educational
We make leaders, we don't make followers ......
*نجکاری*
(انجنیئر محمدامیر خان)
اجکل حکومت نے سرکاری اداروں کی نجکاری کیلئے مہم بڑے زور وشور سے شروع کر رکھی ہے نجکاری کے حق صرف ایک ہی دلیل دی جا رہی ہے کہ اداروں کی پرفارمنس ٹھیک نہیں نجکاری ڈسکوز کی جا رہی ہے کہ پرفارمنس ٹھیک نہیں اور یہ کہ بجلی چوری ہو رہی ہے، نجکاری پی ائی اے کی بھی کی جا رہی ہے کہ پرفارمنس ٹھیک نہیں نجکاری سرکاری سکولوں کی کی جا رہی ہے کہ ان کی پرفارمنس ٹھیک نہیں نجکاری سرکاری ہسپتالوں کی کی جارہی ہے کہ پرفارمنس ٹھیک نہیں ۔
پاکستان میں پرفارمنس کس ادارے کی ٹھیک ہے ہماری پولیس کے خلاف ائے روز شکایتیں ہوتی ہیں ائے روز آپ اخباروں میں پڑھتے ہیں کہ ایک اشتہاری مجرم کو گاڑی میں لے جاتے ہوئے ان کی ساتھیوں کی طرف سے فائرنگ ہوتی ہے اور گولیاں صرف اشتہاری لوگوں کو لگی ہیں اور وہ موقع پر فوت ہو گئے جب کہ پولیس کی گاڑی اور ملازمین محفوظ رہے اس کے پیچھے ہسٹری کیا ہوتی ہے ہم سب کو علم ہے پولیس کا رویہ پہ ہر بندہ نالاں ہے چوری اور ڈکیتی عام ہے مگر پولیس بے بس ہے اس کی پرفارمنس پہ سوال اٹھائے جاتے ہیں مگر کیا پولیس کو پرائیویٹ کر دیا جائے۔ ہماری عدالتوں میں لاکھوں کے حساب سے کیسز سالوں سے پینڈنگ ہوتے ہیں اور سالہا سال ان مقدمات کی ہیرنگ ڈیٹ ہی نہیں نکلتی اور لوگ انتظار میں فوت ہو جاتے ہیں۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ دادا کے بعد اس کے پوتوں اور نواسوں کے زمانے میں کیسز کے فیصلے ہوتے ہیں تو کیا عدلیہ کو بھی پرائیویٹ کر دیا جائے اگر دلیل صرف پرفارمنس کی ہے۔پورے ملک میں آپ کو نان کسٹم گاڑیاں ملیں گی پرفارمینس تو کسٹم کی بھی ٹھیک نہ ہے۔ کیا ان تمام اداروں کی پرفارمینس کا حل ان کی نجکاری ہے۔
مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایا ان اداروں کی پرفورمنس ان اداروں میں کام کرنے والے افراد کی وجہ سے ٹھیک نہیں یا کوئی سرکاری پالیسیز ایسی ہیں جن کی وجہ سے ان کی پرفارمنس ٹھیک نہ کی جا سکی اس سوال تلاش کرنے کیلئے ہم تعلیم اور واپڈا کی مثال لیتے ہیں۔
آپ کل ایک اشو جو چل رہا کہ سرکاری سکولوں کو پرائیویٹ کرنے کا اور جواز پیش کیا جا رہا ہے کہ سرکاری سکولوں کی کارکردگی ٹھیک نہیں۔ تو اس کی درج ذیل وجوہات ہیں
1- سکولوں میں اساتذہ کی تعداد کم ہے طلباء کی تعداد زیادہ۔ ایک پریڈ کے 30 سے 40 منٹ میں ٹیچر کو 100 سے 120 طلباء کو پڑھانا پڑتا ہے۔ 30 منٹ میں پڑھانا تو دور کی بات ہے 100 طلباء کا ہوورک چیک کرنا ہی ممکن نہیں ۔ اور گاءوں گے سکولوں میں اساتذہ اور طلباء کی ریشو میں بہت زیادہ فرق ہے۔ پچھلے 6 سال سے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں ایک بھی ٹیچر بھرتی نہیں کیا گیا۔ پنجاب میں محکمہ تعلیم کی سرکاری ویب 112324 اساتذہ کی سیٹیں خالی پڑی ہیں۔
2- اداروں میں تعلیم کے معیار میں کمی کی ایک اور اہم وجہ غیر تدریسی ڈیوٹیاں ہیں۔ کبھی اساتذہ کو تدریسی فرائض سے ہٹا کر تین تین ماہ کے لیے مردم شماری کی ڈیوٹی پر لگا دیا جاتا ہے، کبھی پولیو کی ڈیوٹی پر، الیکشن کمیشن کی ڈیوٹی پر، کبھی آٹے کی تقسیم پر، کبھی باردانے کی تقسیم پر۔ ایسی صورت میں جہاں پہلے ہی اساتذہ کی 112324 سیٹیں خالی پڑی ہیں اور باقی بچے اساتذہ کو غیر تدریسی ڈیوٹیوں پر لگا دیا جائے۔ تو سرکاری سکولوں میں تعلیم کا کیا معیار بنے گا
3- اس سال ن تقریباً پورے پنجاب میں نہم کا رزلٹ خراب آیا اس کی بنیادی وجہ حکومتی پالیسیاں ہیں۔ نہم کے ایگزامز سے اڑھائی ماہ پہلے سکول کے 60 فیصد اساتذہ کی مردم شماری پر ڈیوٹی لگا دی گئی، اور باقی بچے اساتذہ میں سے آدھوں کی نہم کے امتحان ڈیڑھ ماہ پہلے آٹے کی تقسیم پر ڈیوٹی لگا دی گئی۔ اور ان دو سے اڑھائی ماہ طلباء پڑھائی سے محروم رہے۔ اور خراب رزلٹ کا زمہ دار ٹیچر کو ٹھہرایا گیا۔ اور کہا گیا کہ سرکاری سکولوں کا تعلیمی معیار گر چکا ہے۔ جبکہ حکومت نے ٹیچر کو پڑھانے کب دیا ہے۔ کیا ٹیچرز نے خود غیر تدریسی ڈیوٹیاں لگوائی تھیں؟؟؟؟
پچھلے دنوں وزیر اعلیٰ پنجاب نے لاہور کے ایک ماڈل سکول کا وزٹ کیا اور خود اعتراف کیا کہ 1650 طلباء کو پڑھانے کے لیے صرف 15 اساتذہ سکول میں موجود تھے۔ اور 30 کی الیکشن کی ڈیوٹی لگی ہوئی تھی۔ تو پوچھنا یہ تھا کہ ان 30 اساتذہ کی غیر تدریسی ڈیوٹی کس نے اور کیوں لگائی ہے۔ ؟؟؟
ہماری پالیسیوں نے محکمہ تعلیم کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ استاد کو پڑھانے کا موقع کب دیا جاتا۔ سارا سال تو وہ غیر تدریسی ڈیوٹیاں کرتا ہے۔
اس کے علاؤہ ٹیچر کے زمہ روزانہ کی بنیاد پر 10 سے 20 ڈینگی ایکٹیویٹیز کرنا بھی ہے۔ اور ایک ایکٹیویٹی پر کم از کم 3 منٹ لگتے ہیں، اگر ایک ٹیچر نے 20 ایکٹیویٹی کرنی ہیں تو ایک گھنٹہ تو روزانہ وہ یہی کام کرے گا۔ پڑھاءے گا کب۔
اگر وابڈا کی بات کی جائے واپڈا 1952
میں بنا 1952 میں سے لے کے 1980 تک جب واپڈا انجینیئرز کے ہاتھ میں تھا اور واپڈا اتھارٹی اپنے فیصلوں میں خود مختار تھا اس پر کوئی اس سیاسی پریشر نہ تھے تو واپڈا نے تربیلا ڈیم بنایا جو دنیا کے بڑے ڈیموں میں سے ایک ہے نہروں کا خوبصورت نظام بنوایا 500 کے وی تک کی جدید ٹرانسمیشن لائنیں بنوائیں پورے ملک میں خوبصورت نہری نظام بنایا اپنے ایمپلائیز کی بینیفٹس کے لیے اس نے میڈیکل فیسلٹی کے لیے ہاسپٹل بناے،ایمپلائز کے بچوں کے لیے میرج گرانٹس کا اغاز کیا ان کی تنخواہوں میں سکیل کے لحاظ سے فری یونٹس شامل کی ہے بچوں کی پیدائش کے لیے ہاسپٹل چارجز کا اغاز کیا حتی کہ ملازمین کی موت پر ان کے کفن دفن کا انتظام بھی ڈیپارٹمنٹ کرتا ہے خوبصورت کالونیاں بنائیں ٹریننگ سینٹر بنائے یہاں تک کہ لاکھوں یکڑز کے حساب سے ہر شہر میں مستقبال کے پراجیکٹس کے لیے زمینیں خریدیں اس کے باوجود واپڈا کا فی یونٹ ایک روپے سے بھی کم میں بنتا تھا مگر ایک وقت شروع ہوا جب پالیسیاں سیاست دانوں اور بیوروکریسی نے بنانا شروع کیں اور ان پالیسیوں کو امپلیمنٹ کیا گیا تو واپڈا کا ریٹ 12 روپے 15 روپے کو کراس کرتا ہوا اج کل 50 روپے سے اوپر جا رہا ہے سوال یہ ہے بجلی کے یہ ریٹس اس حد تک کیوں بڑھے کیا
جس میں پرائیویٹ پاور پروڈیوسرز کو پلانٹس لگانے پہ راضی کیا گیا اس میں اپنا حصے رکھے گئے اور اس میں ایک سپیشل شک ڈالی گئی کہ اپ پلانٹ چلائیں یا نہ چلائیں اپ کو کپیسٹی چارجز ڈالرز میں پے کریں گے یہی وہ شک ہے جس کی وجہ سے واپڈا اور ڈسکوز اپنے پاؤں پہ کھڑے نہیں ہو رہے کیونکہ ڈالر کا ریٹ بڑھ رہا ہے اور ڈالر کے حساب سے نیپرا کے ذریعے ڈسکوز کو اپنے ریٹ بڑھانے پڑ رہے ہیں اور اس کے ذمہ دار وہ بیوروکریسی اور اس وقت کے ارباب اختیار ہیں جنہوں نے یہ شک ڈالی جب تک یہ شک ختم نہیں ہوگی واپڈا کے ریٹ کسی صورت بھی کم نہیں ہوں گے اور جب تک واپڈا کے ریٹ کم نہیں ہوں گے انڈسٹری اور گھریلو صارفین برداشت نہیں کر سکیں گے اسی لیے اج کل 20 پرسنٹ سے زیادہ انڈسٹری یا بند پڑی ہے اور یا سولر پہ شفٹ ہو گئی ہے اور ان معاہدوں کے نتیجے میں واپڈا جو کچھ کماتا ہے وہ رقم صرف اور صرف پاور پروڈیوسرز کی جیب میں جاتے ہیں اپنی ان غلطیوں کو چھپانے کے لیے اج کل قوم کو ایک اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا جا رہا ہے وہ یہ کہ بجلی تو صرف واپڈا ایمپلائیز کے فری یونٹس کےاستعمال کی وجہ سے عام عوام کو مہنگی مل رہی ہے یہی نہیں بلکہ ایک اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا جا رہا ہے کہ یہ بجلی تو چوری ہو رہی ہے جس کی وجہ سے بجلی مہنگی ہوئی ہے
ماضی میں بھی واپڈا کو فوج کے حوالے کیا گیا اور فوج کی حاضر سروس افسران بمع انٹیلیجنس ونگزتعینات کیے گئے جو چار پانچ سال تعینات رہے مگر کوی ایسی بڑی بد عنوانی سامنے نہ آئی بلکہ آرمی افسران نے اس بات کو سمجھ لیا بجلی ریٹس بڑھنے کی وجہ صرف بجلی چوری نہیں۔اج کل ایک دوسرا تجربہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ ڈسکوز میں بیوروکریسی سے ڈائریکٹ افسران تعینات کیے جائیں سوال یہ ہے کیا یہ لوگ ایسا کیا کر پائیں گے کہ جس سے بجلی کے ریٹ کم ہو جائیں ۔اور عوام سکھی ہو جائے ۔یا یہ افسران بھی اپنی تنخواہ کے ساتھ واپڈا سے الاونس اور مراعات لے کر واپڈا پر اور بوجھ ڈالیں گے-جن لوگوں نے مختلف تجربات سے واپڈا کو اس لیول پر پہنچایا انہی کو علاج کے لیے بلایا جا رہا ہے۔
میر بھی کیا سادہ ہیں ہوے بیمار جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
سرکاری ملازمین میں تفریق کیوں۔۔۔؟
*دو طاقتور محکموں* کے ملازمین کو پوری گریجویٹی ، مراعات اور پوری یپنشن جبکہ باقی محکموں کے ملازمین کیلئے کٹوتیاں ۔۔۔
ایک ریاست دو دستور ۔۔۔۔۔۔۔۔ نامنظور ، نامنظور
*پالیسی سازوں کا مقصد ہی یہی ہے ...دُنیا کا تعلیمی نظام ایسی نسل پیدا کر رہا ہے ... جو صرف ڈگری زدہ ہیــــــــں ... اِنہیـــــــــں صرف اور صرف معاشیات کی فکر رہتی ہے ... اِنہیـــــــــں غرض نہیـــــــــں ... کہ اخلاقیات کیا ہوتی ہیــــــــں ... تہذیب و تمدن کیا ہوتا ہے ... بلکہ فنون لطیفہ وغیرہ بھی مٹتاجا رہا ہے ...وہ صرف پڑھی لکھی ... تعلیم یافتہ لیبر چاہتے ہیــــــــں ......... SS
The Holy Qur'an
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Burewala District
Burewala
19/02/2024