Quran & Hadis
save your time money memory life etc..
کیا آپ نے کبھی خود سے پوچھا ہے کہ یہودیوں نے عزیر علیہ السلام کو "اللہ کا بیٹا" کیوں کہا؟ اور یہ عزیر علیہ السلام آخر کون تھے؟
بنی اسرائیل کی کمزوری اور زوال کے ایک دور میں، ان پر ایک دشمن نے حملہ کیا۔
کہا جاتا ہے کہ اس دشمن کا نام بخت نصر (نبوقد نصر) تھا، جو بابل (Babylon) کا بادشاہ تھا۔
بخت نصر نے بنی اسرائیل کے بہت سے لوگوں کو قتل کیا، اس سے بھی زیادہ کو بے گھر کر دیا، اور جانے سے پہلے باقی ماندہ لوگوں کو قیدی بنا کر اپنے ساتھ لے گیا۔
صرف یہی نہیں، بلکہ اس نے اپنے سپاہیوں کو تورات کو جلانے اور بیت المقدس کو مٹی سے بھر دینے کا حکم دیا!
یہ مکمل اور ہولناک تباہی تھی
عزیر علیہ السلام انہی لوگوں میں شامل تھے جنہیں بخت نصر اپنے ساتھ بابل لے گیا تھا۔
عزیر کون تھے؟
کہا جاتا ہے کہ عزیر علیہ السلام بنی اسرائیل کے ایک نیک انسان تھے۔ قرآن یا سنت میں کوئی ایسا واضح ثبوت نہیں ہے جو یہ ثابت کرے کہ وہ نبی تھے، اگرچہ اس معاملے میں مشہور قول یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ایک نبی تھے، جیسا کہ امام ابن کثیر کا قول ہے۔ (واللہ اعلم)۔
روایت ہے کہ بخت نصر نے جب عزیر کو قید کیا تو وہ ایک چھوٹے بچے تھے۔ جب عزیر چالیس سال کے ہوئے تو اللہ تعالی نے انہیں حکمت سے نوازا، اور وہ تورات کے چوتھے حافظ بنے۔
(ان کے علاوہ دیگر تین حافظ کون تھے؟ حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ، اور یوشع بن نون)۔
جب بابلی سلطنت کا خاتمہ ہوا تو حضرت عزیر بابل چھوڑ کر فلسطین واپس آ گئے۔
ایک دن حضرت عزیر اپنے گدھے پر سوار ہو کر بستیوں کے درمیان سے گزر رہے تھے۔ وہ اس بستی کے پاس سے گزرے جہاں بیت المقدس اور اس کے آس پاس کے مکانات واقع تھے، جن پر تباہی کے اثرات ابھی تک نمایاں تھے!
گھر باشندوں سے خالی تھے اور زندگی کی کوئی رمق باقی نہیں تھی!
جب انہوں نے یہ منظر دیکھا تو دل میں کہا: "أَنَّىٰ يُحْيِي هَٰذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا" (اللہ ان سب کے مر جانے کے بعد انہیں کیسے دوبارہ زندہ کرے گا؟)
عزیر علیہ السلام کا یہ سوال اللہ کی قدرت پر تعجب کے طور پر تھا، کفر یا شک کی بنیاد پر نہیں۔
اپنے دل میں یہ سوال کرنے کے بعد، وہ اپنے گدھے سے اترے، اسے ایک ویران جگہ پر باندھ دیا، اور کھانے کے لیے اپنا سامان نکالا۔ اس وقت ابھی صبح کا سورج نکل ہی رہا تھا۔
ان کے پاس کھانے میں انجیر، انگور کا رس اور خشک روٹی تھی۔ انہوں نے خشک روٹی کو انگور کے رس میں ڈبویا تاکہ وہ نرم ہو جائے اور کھائی جا سکے، اور پھر کھانے کے قریب ہی لیٹ گئے۔ ان کی آنکھ لگ گئی اور وہ سو گئے۔
جب وہ بیدار ہوئے تو ان کے سامنے آسمان سے نازل شدہ ایک فرشتہ کھڑا تھا، جس نے پوچھا: "کم لبثت" (تم کتنی دیر سوئے ہو؟)
عزیر نے جواب دیا: "لبثتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ" (میں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ سویا ہوں)۔
(انہوں نے سوچا کہ ابھی ایک ہی دن گزرا ہے، لیکن جب آسمان کی طرف دیکھا اور سورج کو نکلتے دیکھا تو سمجھا کہ بس کچھ گھنٹے ہی سوئے ہیں)۔
فرشتے نے ان سے کہا: "بَل لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانظُرْ إِلَىٰ طَعَامِكِ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ ۖ وَانظُرْ إِلَىٰ حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِّلنَّاسِ ۖ وَانظُرْ إِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا"
فرشتے نے بتایا کہ وہ دو گھنٹے یا ایک دن نہیں، بلکہ سو (100) سال سوئے رہے! معجزہ یہ تھا کہ ان کا کھانا اور پینا (انجیر، روٹی اور انگور کا رس) بالکل تازہ تھا اور خراب نہیں ہوا تھا۔
لیکن ان کا گدھا مر چکا تھا اور اس کا جسم گل سڑ کر ہڈیوں اور مٹی میں تبدیل ہو چکا تھا۔
گدھا ہی کیوں؟
تاکہ اللہ تعالی عزیر علیہ السلام کی آنکھوں کے سامنے گدھے کو زندہ کر کے ان کے اس سوال کا جواب دے سکے جو انہوں نے سونے سے پہلے اپنے دل میں سوچا تھا۔ چنانچہ اللہ نے گدھے کے ڈھانچے کی ہڈیوں کو جمع ہونے کا حکم دیا، پھر ان ہڈیوں پر گوشت چڑھایا اور اس میں دوبارہ روح پھونک دی۔ یہ سب کچھ عزیر کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا عزیر خود اپنے لیے ایک معجزہ تھے جب وہ سو سال بعد دوبارہ زندہ ہوئے۔
صرف یہی نہیں، بلکہ جب عزیر علیہ السلام سو سال بعد اس جگہ سے باہر نکلے تو انہوں نے دیکھا کہ بستی میں لوگ آباد ہو چکے ہیں اور زندگی معمول پر آ چکی ہے، گویا بستی میں دوبارہ روح پھونک دی گئی ہو!
اللہ تعالی قرآن مجید (سورۃ البقرہ، آیت 259) میں فرماتا ہے:
أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَىٰ قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىٰ يُحْيِي هَٰذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ۖ فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ ۖ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ ۖ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ۖ قَالَ بَل لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانظُرْ إِلَىٰ طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ ۖ وَانظُرْ إِلَىٰ حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِّلنَّاسِ ۖ وَانظُرْ إِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(یا اسی طرح اس شخص کو دیکھا جو ایک ایسی بستی پر سے گزرا جو اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی۔ اس نے کہا: "اللہ اس کے مرنے کے بعد اسے کیسے زندہ کرے گا؟" تو اللہ نے اسے سو سال کے لیے موت دے دی، پھر اسے دوبارہ اٹھایا۔ فرمایا: "تم کتنی دیر ٹھہرے؟" اس نے کہا: "میں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرا ہوں۔" فرمایا: "بلکہ تم سو سال ٹھہرے ہو! اپنے کھانے اور پینے کو دیکھو کہ وہ خراب نہیں ہوا، اور اپنے گدھے کو بھی دیکھو—اور تاکہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں۔ اور ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم انہیں کیسے جوڑتے ہیں، پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں۔" جب یہ بات اس پر واضح ہو گئی تو اس نے کہا: "میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔")
اس کے بعد عزیر علیہ السلام اپنے گھر واپس لوٹے۔
ان کی ایک خادمہ تھی جس کی عمر ان کے غائب ہونے کے وقت ان کے قریب ہی تھی۔ جب وہ پہنچے تو خادمہ تقریباً 140 سال کی ہو چکی تھی اور بینائی کھو چکی تھی، جبکہ عزیر اب بھی تقریباً 50 سال کی عمر کے دکھائی دے رہے تھے، کیونکہ وہ جس عمر میں فوت ہوئے تھے اسی عمر میں دوبارہ اٹھائے گئے تھے!
جب عزیر نے اسے اپنا تعارف کرایا کہ وہ عزیر ہیں، تو اس نے انکار کیا اور کہا کہ عزیر تو سو سال پہلے غائب ہو کر فوت ہو چکے ہیں۔ جب انہوں نے اسے دوبارہ قائل کرنے کی کوشش کی، تو اس نے کہا: "عزیر مستجاب الدعوات (جس کی دعا قبول ہوتی ہو) تھے۔ اگر تم سچ میں عزیر ہو تو اللہ سے دعا کرو کہ وہ میری بینائی لوٹا دے!"
عزیر نے دعا کی اور اللہ نے اس کی بینائی واپس لوٹا دی۔
جب اس نے عزیر کو دیکھا تو پہچان لیا اور بنی اسرائیل کی طرف بھاگی اور انہیں بتایا کہ عزیر زندہ ہیں۔
لوگوں کو یقین نہ آیا تو انہوں نے ان کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا: "جب بخت نصر نے حملہ کیا اور تمام تورات جلا دی، تو ایک نیک شخص نے اس کا ایک نسخہ دفن کیا تھا اور اپنے گھر والوں کو اس کا پتہ بتایا تھا، اور عزیر کو تورات زبانی یاد تھی۔ اگر تم واقعی عزیر ہو، تو ہمیں پوری تورات سناؤ!"
عزیر نے ان کے سامنے پوری تورات زبانی تلاوت کر دی اور ایک حرف کی بھی غلطی نہ کی!
جب یہودیوں نے یہ سب ہوتے دیکھا تو انہوں نے افترا باندھا کہ عزیر کا موت کے بعد زندہ ہونا اور یہ سب معجزات اس لیے ہیں کہ وہ "اللہ کے بیٹے" ہیں!
(جس طرح عیسائیوں نے کہا تھا کہ "عیسیٰ اللہ کے بیٹے ہیں")۔
یہودیوں کے اس قول اور اللہ پر اس جھوٹے بہتان کی وجہ سے کہ اس کا کوئی بیٹا ہے—حالانکہ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے—اللہ تعالی نے سورۃ التوبہ کی آیت 30 نازل فرمائی:
وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ۖ ذَٰلِكَ قَوْلُهُم بِأَفْوَاهِهِمْ ۖ يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَبْلُ ۚ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ ۚ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ
(اور یہودیوں نے کہا کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے، اور عیسائیوں نے کہا کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ ان کی زبانی باتیں ہیں، وہ ان لوگوں کے قول کی مشابہت کرتے ہیں جنہوں نے ان سے پہلے کفر کیا۔ اللہ انہیں ہلاک کرے، یہ کہاں بہکے جا رہے ہیں!)
طالب دعا
ثناءاللہ حسین
اسلام آباد
25/8/26
09/08/2026
الرَّحْمَٰنُ
٢. عَلَّمَ الْقُرْآنَ
٣. خَلَقَ الْإِنسَانَ
٤. عَلَّمَهُ الْبَيَانَ
٥. الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ
٦. وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ
٧. وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ
٨. أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ
٩. وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ
١٠. وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ
اردو ترجمہ (مختصر):
بڑا مہربان (اللہ)۔
اسی نے قرآن سکھایا۔
اسی نے انسان کو پیدا کیا۔
اور اسے بولنا سکھایا۔
سورج اور چاند ایک مقرر حساب کے مطابق چلتے ہیں۔
اور پودے اور درخت اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔
اور اسی نے آسمان کو بلند کیا اور انصاف کا ترازو قائم کیا۔
تاکہ تم تولنے میں زیادتی نہ کرو۔
انصاف کے ساتھ وزن قائم کرو اور ترازو میں کمی نہ کرو۔
اور زمین کو اس نے تمام مخلوق کے لیے بچھا دیا۔
02/08/2026
عرش عظیم کے رب نے سلام بھیجا اور جنت میں موتیوں کے محل کی خوشخبری دی ۔ حضرت خدیجتہ الکبریٰ رضی اللّٰہ جو اسلام سے قبل بھی مکہ مکرمہ میں طاہرہ اور سیدہ قریش کے القاب رکھتی تھیں ۔ وفا،ایثار اور محبت کی ایسی مثالیں قائم کیں کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم زندگی بھر انہیں بھلا نہ پائے ۔
*عام الفیل سے پندرہ برس قبل مکہ مکرمہ میں ایک متمول گھرانے میں خویلد بن اسد کے گھر میں پیدا ہوئیں ۔پہلی شادی ہوئی خاوند وفات پا گیا پھر دوسری شادی ہوئی اب بھی خاوند وفات پا گیا شاید قدرت کو کچھ اور منظور تھا ۔ باپ کی وفات کے بعد تجارت کی ذمہ داریاں سنبھالیں ۔کسی ایماندار شخص کو تجارتی مال دے کر شام اور یمن بھیجا کرتیں ۔ جب محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی امانت و دیانت کا شہرہ سنا تو زیادہ منافع کے ساتھ مال تجارت ملک شام لے جانے کی پیشکش کی ۔اس سفر میں اپنا غلام میسرہ بھی ساتھ بھیجا ۔راستے میں عیسائی راہب نے آپ کے نبی ہونے کی نشانی بتائی ۔اس دفعہ منافع بہت ذیادہ ہوا۔ واپسی پر میسرہ نے جب تمام سفر کے حالات سنائے تو وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں ۔ اپنی سہیلی نفیسہ بنت منیہ کے ذریعے شادی کا پیغام بھیجا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دو چچاؤں حضرت حمزہ اور ابو طالب سے مشورہ کے بعد قبول فرمایا ۔شادی کے وقت آپ کی عمر 25سال اور خدیجہ کی عمر 40سال تھی ۔
* نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اولاد سوائے بیٹے ابراہیم کے حضرت خدیجہ کے بطن سے پیدا ہوئی ۔ خدیجہ مکہ مکرمہ کی امیر ترین عورت تھی ان کا تجارتی قافلہ قریش کے تمام قافلوں کے برابر ہوتا مگر اپنا سارا مال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر نچھاور کر دیا ۔ وفا اور ایثار کا پیکر تھیں جب نبی کریم پر غار حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی اور آپ شدید پریشان ہوئے تو خدیجہ نے بے شمار حوصلہ دیا ۔ مقاطعہ قریش کے دوران مکہ مکرمہ کی یہ سب سے امیر عورت خاوند کی محبت میں درختوں کے پتے کھانے پر مجبور ہو گئیں لیکن کوئی شکوہ زبان پر نہ لائیں ۔ ایک دن مقاطعہ قریش کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجتہ الکبریٰ کے پاس آئے اور دیکھا کہ جگہ جگہ سے کپڑے پھٹے ہوئے ہیں اور پتے چبا رہی ہیں یہ دیکھ کر رونے لگے اور فرمایا اے خدیجہ! ایک وقت تھا تو مکہ کی سب سے امیر عورت تھی،تیرے پاس غلام اور لونڈیاں تھیں، ایک وقت میں کئی کئی کھانے پکتے تھے اور آج یہ تیری حالت میری وجہ سے ہوئی تو وفا کی پیکر نے جواب دیا کہ میری جو بھی حالت ہو جائے میں آپ کے ساتھ خوش ہوں ۔
حضرت خدیجتہ الکبریٰ رضی اللّٰہ نے 65 برس کی عمر میں ہجرت سے تین سال قبل وفات پائی اور مکہ کے بڑے قبرستان جنت المعلیٰ میں دفن ہوئیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود قبر میں اتارا اور بے حد غمگین ہوئے ۔آپ نے ان کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی اور زندگی بھر انہیں بھلا نہ پائے ۔ آپ نے انہیں اپنے وقت کی سب سے عظیم عورت قرار دیا ۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کی لحد پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے آمین ۔
Arslan amjad
31/07/2026
قدیم مسجد "میقات یلملم" یمن سے آنے والوں حجاج کرام کی میقات ہے
اب نئی مسجد میقات یلملم بنا دی گئی ہے
جس سے اس قدیم مسجد میں حجاج کرام کا رجحان ختم ہو گیا ہے
مسجد کے نچلے حصے میں 30 میٹر دور وادی کے کنارے پر ایک کنواں ہے جسے "بئر یلملم یا بئر سعدیہ" کہا جاتا ہے،
یہ کنواں سعد بن زید نے کھدوایا تھا جو گیارہویں صدی میں مکہ کے امیروں میں سے ایک تھے۔
کنویں کی تعمیر نو محمد علی خان الہندی نے 1210 ہجری میں کروائی
پروفیسر ڈاکٹر محمد الثنیان نے اس کنویں کا دورہ کیا اور کنویں کے بانی نوشتہ کی تصویر کشی کی۔
(قدیم میقات یلملم کی تصاویر )
27/07/2026
غزوۂ اَبواء (وَدّان)
غزوۂ اَبواء رسولِ اکرم ﷺ کی قیادت میں پیش آنے والا پہلا غزوہ تھا، جو قریش کے خلاف پیش قدمی کے طور پر کیا گیا۔ یہ غزوہ بنو ضَمرہ کے علاقے میں پیش آیا، اسی لیے اسے غزوۂ وَدّان بھی کہا جاتا ہے۔
اس موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تقریباً ستر (70) صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔ اس مہم کا مقصد براہِ راست جنگ کرنا نہیں تھا، بلکہ قریش کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور بنو ضمرہ کے ساتھ امن و عدمِ جارحیت کا معاہدہ کرنا تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے بنو ضمرہ کے ساتھ صلح کا معاہدہ فرمایا، جو کامیابی سے طے پایا۔
یہ غزوہ 2 ہجری کے ماہِ صفر میں پیش آیا، یعنی ہجرتِ مدینہ کے تقریباً ایک سال بعد۔ اس مہم میں رسول اللہ ﷺ بنفسِ نفیس شریک تھے اور قیادت بھی آپ ﷺ نے خود فرمائی۔ مدینہ منورہ میں اپنی عدم موجودگی کے دوران آپ ﷺ نے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو اپنا قائم مقام مقرر فرمایا۔
یہ مہم تقریباً پندرہ دن جاری رہی۔ اگرچہ جنگ پیش نہ آئی، لیکن تمام مہاجر صحابہ رضی اللہ عنہم ہر قسم کی قربانی اور جہاد کے لیے پوری طرح تیار تھے۔
غزوۂ اَبواء کا مقام مدینہ منورہ سے تقریباً 250 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے
25/07/2026
🕌 مسجدِ ابراہیمی (الخلیل، فلسطین)
مختصر تعارف:
حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر نبی اور خلیل اللہ ہیں۔ اسلامی روایت کے مطابق آپ کا مزار فلسطین کے تاریخی شہر الخلیل میں مسجدِ ابراہیمی کے اندر واقع ہے۔ اسی مقدس مقام سے حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے مزارات بھی منسوب ہیں۔
یہ مسجد اسلام کے نہایت اہم تاریخی اور مقدس مقامات میں شمار ہوتی ہے، جہاں صدیوں سے مسلمان حاضری دیتے اور عبادت کرتے آئے ہیں۔سلام ہو خلیلُ اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر، جنہوں نے توحید کی خاطر ہر آزمائش کو خندہ پیشانی سے قبول کیا.
19/07/2026
یہ کجھور کا وہ باغ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خو اپنے ہاتھ مبارک سے لگوایا تھا❤️😍
"غیر محرموں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، خواہ وہ اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والے ہی کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ یقیناً دل بہت تیزی سے بدلتے ہیں اور شیطان ہمیشہ تاک میں رہتا ہے
بے شک نبی کریم ﷺ نے فرمایا کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہیں ہوتا مگر ان میں تیسرا شیطان ہوتا ہے۔
(شرح العمدہ : ٤/٧٨
14/07/2026
منبرِ رسول ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر دل پر ایک ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ یہی وہ مبارک مقام ہے جہاں سے سرکارِ دو عالم ﷺ نے محبت، رحمت اور ہدایت کے چراغ روشن فرمائے۔ انہی زینوں کے قریب بیٹھ کر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے وہ انمول باتیں سنیں جنہوں نے دنیا کی تاریخ بدل دی۔🌹♥️
آج بھی جب نگاہ منبرِ رسول ﷺ کی جانب اٹھتی ہے تو دل گواہی دیتا ہے کہ یہ صرف ایک تاریخی مقام نہیں، بلکہ ایمان کی خوشبوؤں اور محبتِ مصطفیٰ ﷺ کی یادوں کا خزانہ ہے۔🌹
اے اللہ! ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی سچی محبت عطا فرما، ان کی سنت پر چلنے کی توفیق عطا فرما، اور قیامت کے دن ان کے مبارک جھنڈے تلے جمع فرما۔🙏
اللّٰهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ ﷺ🌹🌷♥️
#مسجدِنبوی #الحرم #السعودیۃ
14/07/2026
میرے نزدیک درودِ پاک ایک انتہائی خوبصورت، خوشبو دار، لال گلاب کا مہکتا پھول ہے اور سلام وہ پھولوں کی مہکتی ٹوکری ہے جس میں تمام گلاب کے پھول انتہائی نفاست سے جڑے ہوئے ہیں،
اور یہ خوبصورت پھولوں کی ٹوکری ہم ہر روز اپنے محبوب ﷺ کو بھیجتے ہیں تاکہ ہمارا پیار دن با دن گہرا ہوتا چلا جائے۔
آپ سب دوست بھی درود پاک کے تحفے زیادہ سے زیادہ بھیجا کریں، آقا جان ﷺ بہت خوش ہوتے ہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Address
Burewala