Qureshi Homoeopathic Umarzai

Qureshi Homoeopathic Umarzai

Share

04/12/2025

B h p

04/12/2025
21/11/2025

سائنس کہتی ہے کہ ایک بالغ صحت مند مرد کے ایک بار جنسی تعلقات کے بعد جتنی منی خارج ہوتی ہے اس میں 400 ملین سپرمز ہوتے ہیں۔ ، ایک عورت صحت مند بالغ عورت کے رحم میں انڈوں کی مقدار بھی اتنی ہی ہوتی ہے۔ منطقی طور پر اگر عورت کے رحم میں موجود انڈوں سے سپرم کی اتنی مقدار مل جائے تو 400 ملین بچے پیدا ہوں گے۔۔۔
یہ 400 ملین سپرمز عورت کی بچہ دانی کی طرف پاگلوں کی طرح دوڑتے رہتے ہیں، لیکن صرف 300-500 سپرمز ہی زندہ رہ پاتے ہیں۔
اور باقی؟ وہ راستے میں تھک جاتے ہیں یا مر جاتے ہیں۔ ان 300-500 سپرموں میں سے جو انڈے تک پہنچنے کا انتظام کرتے ہیں، صرف ایک انتہائی طاقتور سپرم انڈے کو کھاد دیتا ہے یا انڈے میں بیٹھ جاتا ہے۔ وہ خوش قسمت سپرم آپ یا میں یا ہم سب ہیں۔ کیا آپ نے کبھی اس عظیم جنگ کے بارے میں سوچا ہے؟
❒ جب آپ بھاگے - آپ کی آنکھیں، ہاتھ، پاؤں، سر نہیں تھا، پھر بھی آپ جیت گئے۔

❒ جب آپ بھاگے - آپ کے پاس کوئی سرٹیفکیٹ نہیں تھا، دماغ نہیں تھا، پھر بھی آپ جیت گئے۔

❒ جب آپ بھاگے - آپ کی تعلیم نہیں تھی، کسی نے آپ کی مدد نہیں کی، پھر بھی آپ جیت گئے۔

❒ جب آپ بھاگے - آپ کی ایک منزل تھی اور آپ نے اپنا مقصد اس منزل کی طرف متعین رکھا اور آخر تک ایک دماغ کے ساتھ بھاگا اور آپ جیت گئے۔

❒ بہت سے بچے اپنی ماؤں کے پیٹ میں مر جاتے ہیں لیکن آپ کی موت نہیں ہوئی، آپ پورے 10 مہینے پورے کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

❒ بہت سے بچے پیدائش کے دوران مر جاتے ہیں لیکن آپ بچ گئے۔

❒ بہت سے بچے پیدائش کے پہلے 5 سال میں مر جاتے ہیں لیکن آپ ابھی تک زندہ ہیں۔

❒ بہت سے بچے غذائی قلت سے مر جاتے ہیں لیکن آپ کو کچھ نہیں ہوا۔

❒ بہت سے لوگ بڑے ہونے کے راستے میں اس دنیا کو چھوڑ چکے ہیں لیکن آپ ابھی تک یہیں ہیں۔

اور آج جب بھی کچھ ہوتا ہے، آپ گھبرا جاتے ہیں، مایوس ہو جاتے ہیں، لیکن کیوں؟ آپ کو کیوں لگتا ہے کہ آپ ہار گئے ہیں؟ آپ نے اعتماد کیوں کھو دیا ہے؟ اب آپ کے پاس دوست، بھائی بہن، سرٹیفکیٹ، سب کچھ ہے۔ آپ کے پاس بازو اور ٹانگیں ہیں، تعلیم ہے، منصوبہ بندی کے لیے دماغ ہے، مدد کے لیے لوگ ہیں، پھر بھی آپ نے امید کھو دی ہے۔ جب آپ نے اپنی زندگی کے پہلے دن ہمت نہیں ہاری۔ آپ 400 ملین سپرمز کے ساتھ موت سے لڑے اور کسی کی مدد کے بغیر اکیلے ہی مقابلہ جیت گئے۔ پھر مایوسی کیوں؟

❒ جب کوئی آپ کی زندگی سے چلا جائے تو آپ قبول کیوں نہیں کر تے

S A Quraishi


@

07/11/2025

My Logo braindead

13/07/2025

*ہر طرف سے مخالفت آ رہی ہے؟* ۔ *اس گھوڑے سے سبق سیکھیں* 🐎

ایک دفعہ ایک گھوڑا ایک گہرے گڑھے میں جا گرا اور زور زور سے آوازیں نکالنےلگا
گھوڑے کا مالک کسان تھا جو کنارے پہ کھڑا اسے بچانے کی ترکیبیں سوچ رہا تھا
جب اسے کوئی طریقہ نہیں سوجھا تو ہار مان کر دل کو تسلی دینے لگا کہ گھوڑا تو اب بوڑھا ہو چکا ہے
وہ اب میرے کام کا بھی نہیں رہا چلو اسے یوں ہی چھوڑ دیتے ہیں اور گڑھے کو بھی آخر کسی دن بند کرنا ہی پڑے گا اس لیے اسے بچا کر بھی کوئی خاص فائدہ نہیں
یہ سوچ کر اس نے اپنے
اپنے پڑوسیوں کی مدد لی اور گڑھا بند کرنا شروع کر دیا
سب کے ہاتھ میں ایک ایک بیلچہ تھا جس سے وہ مٹی بجری اور کوڑا کرکٹ گڑھےمیں ڈال رہے تھے
گھوڑا اس صورت حال سے بہت پریشان ہوا
اس نے اور تیز آواز نکالنی شروع کر دی
کچھ ہی لمحے بعد گھوڑا بالکل خاموش سا ہو گیا
جب کسان نے جھانکا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جب جب گھوڑے کے اوپر مٹی اور کچرا پھینکا جاتا ہے تب تب وہ اسے جھٹک کر اپنے جسم سے نیچے گرا دیتا ہے اور پھر گری ہوئی مٹی پر کھڑا ہو جاتا ہے
یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا
کسان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر مٹی اور کچرا پھینکتا رہا اور گھوڑا اسے اپنے بدن سے ہٹا ہٹا کر اوپر آتا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اوپر تک پہنچ گیا اور باہر نکل آیا
یہ منظر دیکھ کر کسان اور اس کے پڑوسی سکتے میں آ گئے
زندگی میں ہمارے ساتھ بھی ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں کہ ہمارے اوپر کچرا اچھالا جائے
ہماری کردار کشی کی جائے
ہمارے دامن کو داغدار کیا جائے
ہمیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے
لیکن گندگی کے اس گڑھے سے بچنے کا طریقہ یہ نہیں کہ ہم ان غلاظتوں کی تہہ میں دفن ہو کر رہ جائیں
بلکہ ہمیں بھی ان بے کار کی چیزوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اوپر کی طرف اور آگے کی سمت بڑھتے رہنا چاہیے
زندگی میں ہمیں جو بھی مشکلات پیش آتی ہیں وہ پتھروں کی طرح ہوتی ہیں مگر یہ ہماری عقل پر منحصر ہے کہ آیا ہم ہار مان کر ان کے نیچے دب جائیں
یا
ان کے اوپر چڑھ کر مشکل کے کنویں سے باہر آنے کی ترکیب کریں
خاک ڈالنے والے ڈالتے رہیں
مگر پرعزم انسان اپنا راستہ کبھی نہیں بدلتا !!!

03/07/2025

‏تیری بیوی کےجسم کا جتنا حصہ ڈھکا ہوا ہے اس پر تیرا حق ہے
مگر جو حصہ کھلا ہے وہ تو شاملات ھے اس کو دیکھنے کا ہم سب کا حق ھے۔
‏کہتے ہیں قاہرہ سے اسوان جانے والی گاڑی میں سوار اس عمر رسیدہ شخص کی عمر کم از کم ساٹھ تو ہوگی اور اوپر سے اس کی وضع قطع اور لباس، ہر زاویے سے دیہاتی مگر ‏جہاندیدہ اور سمجھدار بندہ لگتا تھا۔
‏ایک اسٹیشن پر گاڑی رکی تو ایک نوجوان جوڑا سوار ہوا جو اس بوڑھے کے سامنے والی نشست پر آن بیٹھا۔
‏صاف لگتا تھا کہ نوبیاہتا ہیں۔
‏مگر افسوس کی بات یہ تھی کہ لڑکی نے انتہائی نامناسب لباس برمودہ پینٹس کے ساتھ ایک بغیر بازؤں کی کھلے گلے والی شرٹ ‏پہن رکھی تھی جس سے اس کے شانے ہی نہیں اور بھی بہت سارا جسم دعوت نظارہ بنا ہوا تھا۔
‏مصر میں ایسا لباس پہننا کوئی اچھوتا کام نہیں، اور نا ہی کوئی ایسا لباس پہنے کسی لڑکی کو شوہدے پن سے دیکھتا یا تاڑتا ہے۔
‏مگر دوسرے مسافروں کے ساتھ ساتھ لڑکی کے خاوند کی حیرت دید کے قابل تھی کہ اس ‏بوڑھے نے لڑکی کو دیدے پھاڑ پھاڑ کر دیکھنا شروع کر دیا تھا۔
‏چہرے سے اتنا پروقار اور محترم نظر آنے والے شخص کی حرکتیں اتنی اوچھی، بوڑھے کی نظریں تھیں کہ کبھی لڑکی کے شانوں پر تو کبھی لڑکی کی عریاں ٹانگوں پر۔
‏اوپر سے مستزاد یہ کہ بوڑھے نے اب تو باقاعدہ اپنی ٹھوڑی کے نیچے اپنی ‏ہتھیلیاں ٹیک کر گویا منظر سے تسلی کے ساتھ لطف اندوز ہونا شروع کر دیا تھا۔
‏بوڑھے کی ان حرکات سے جہاں لڑکی بے چین, پہلو پر پہلو بدل رہی تھی وہیں لڑکا بھی غصے سے تلملا رہا تھا،
‏بالآخر اس نے پھٹتے ہوئے کہا:
‏بڑے میاں، کچھ تو حیا کرو،
‏شرم آنی چاہئے تمہیں،
‏اپنی عمر دیکھو اور اپنی ‏حرکتیں دیکھو
اپنا منہ دوسری طرف کرو اور میری بیوی کو سکون سے بیٹھنے دو۔
‏بوڑھے دیہاتی نے لڑکے کی بات تحمل سے سنی اور متانت سے جواب دیا:
‏لڑکے، میں نا تو جوابا تجھے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تو خود کچھ شرم و حیا کر۔
‏نا ہی تجھے یہ کہوں گا کہ تجھے اپنی بیوی کو ایسا لباس پہناتے ہوئے شرم ‏نہیں آتی؟
‏تو ایک آزاد انسان ہے،
‏بھلے ننگا گھوم اور ساتھ اپنی بیوی کو بھی گھما۔
‏لیکن میں تجھے ایک بات ضرور کہنا چاہتا ہوں، کیا تو نے اپنی بیوی کو ایسا لباس اس لئے نہیں پہنایا کہ ہم اسے دیکھیں۔ آگر تیرا منشا ایسا تھا تو پھر کاہے کا غصہ اور کس بات کی تلملاہٹ؟
‏بوڑھے نے اپنی بات ‏جاری رکھتے ہوئے کہا؛
دیکھ بیٹے تیری بیوی کا جتنا جسم ڈھکا ہوا ہے اس پر تیرا حق ہے کہ تو دیکھ،
‏مگر اس کا جتنا جسم کھلا ہوا ہے اس پر تو ہم سب عوام کا حق بنتا ہے کہ ہم دیکھیں۔
‏اور اگر تجھے میرا اتنا قریب ہو کر تیری بیوی کو دیکھنا برا لگا ہے تو میرا نہیں میری نظر کا قصور ہے
‏جو کمزور ہے اور مجھے دیکھنے کیلئے نزدیک ہونا پڑتا ہے۔
‏بوڑھے کی باتیں نہیں اچھا درس تھا مگر ذرا ہٹ کر،
‏لوگوں نے جان لیا تھا کہ بوڑھا اپنا پیغام اس جوڑے تک پہنچا چکا ہے۔
‏لڑکی کا چہرہ آگر شرم سے سرخ ہو رہا تھا تو لڑکا منہ چھپائے چلتی گاڑی سے اترنے پر آمادہ۔
‏اور ہوا بھی ایسے ہی،

‏اگلے اسٹیشن پر لڑکے نے جب گاڑی سے اترنے کیلئے باہر کی طرف لپکنا چاہا تو بوڑھے نے پیچھے سے آواز دیتے ہوئے کہا؛
‏ بیٹے ہمارے دیہات میں درخت پتوں سے ڈھکے رہیں تو ٹھیک،
‏ورنہ آگر کسی درخت سے پتے گر یا جھڑ جائیں تو ہم اسے کلہاڑی سے کاٹ کر تنور میں ڈال دیا کرتے ہیں.

(تصویر بطور یادگار رکھنے کیلئے لگایا ہے)

23/05/2025

‏ایک استاد کا سبق آموز واقعہ

ایک دن چند طلباءنے اپنے استاد سے کہا، سر آج آپ ہمارے ساتھ کرکٹ کھیلیں۔
اُستاد نے کہا، ضرور، مجھے تو کرکٹ کا بہت شوق ہے۔

کھیل شروع ہوا تو دیگر کلاسوں کے طلباء بھی میچ دیکھنے میدان میں آگئے سب کی توجہ اُستاد پر تھی ۔پانچ گیندوں پر اُستادِ محترم نےصرف دو رن بنائے اور چھٹی گیند پر کلین بولڈ ہو گئے۔ طلباءنے شور مچا کر بھرپور خوشی کا اظہار کیا۔

دوسرے دن کلاس میں استاد نے پوچھا کون کون چاہتا تھا کہ میں اس کی گیند پر آؤٹ ہو جاؤں؟
‏سب باؤلرز نے ہاتھ کھڑے کر دیئے۔ وہ ہنس دیئے اور پوچھا، یہ بتاؤ میں کرکٹر کیسا ہوں.؟
سب نے یک زباں ہوکر کہا ،بہت برے۔
پوچھا، اچھا میں استاد کیسا ہوں۔
جواب ملا بہت اچھا۔
استاد نے ہنستے ہوئے کہا،صرف آپ نہیں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے میرے ہزارہا طلباء جن میں کئی میرے نظریاتی مخالف ہیں، سب کہتے ہیں کہ میں اچھا استاد ہوں۔ راز کی بات بتاؤں میں جتنا اچھا استاد ہوں، اتنا اچھا طالبِ علم نہیں تھا ،مجھے ہمیشہ سبق یاد کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور بات سمجھنے میں وقت لگتا تھا لیکن
‏کیا آپ بتا سکتے ہیں اس کے باوجود مجھے اچھا استاد کیوں مانا جاتا ہے؟
سر آپ بتائیں، ہمیں نہیں معلوم، طلباء نے جواباََ کہا

استاد نے کہا، اپنا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ایک دن میں اپنے ٹیچر کے گھر دعوت کی تیاری میں ان کی مدد کر رہا تھا۔ فریزر سے برف نکالی، جسے توڑنے کےلئے کمرے میں کوئی چیز نہیں تھی استاد کام کے لئے کمرے سے نکلے تو میں نے مکا مار کر برف توڑ دی اور استاد کے آنے سے پہلے جلدی سے ٹوٹی ہوئی برف دیوار پر بھی دے ماری...
‏استاد کمرے میں آئے تو دیکھا کہ میں نے برف دیوار پر مار کر توڑی ہے انہوں نے مجھے ڈانٹا اور کہا کہ تمہیں عقل کب آئے گی، یوں برف توڑی جاتی ہے میں نے ان کی ڈانٹ خاموشی سے سنی، بعد میں انہوں نے میری اس بیوقوفی کا ذکر کئی جگہ کیا۔ لیکن انہیں آج تک نہیں معلوم کہ برف میں نے مکا مار کر توڑی تھی ۔
‏یہ بات میں نے انہیں اس لیے نہیں بتائی کہ وہ ایک ہاتھ سے معذور تھے، ان کی غیر موجودگی میں، میں نے جوانی کے جوش میں مکا مار کر برف توڑ دی لیکن جب ان کی معذوری کا خیال آیا تو سوچا کہ کہیں میرے طاقت کے مظاہرے سے انہیں احساس کمتری نہ ہو، اس لیے میں نے برف دیوار پر مارنے کی احمقانہ حرکت کی اورکئی سال تک ان کی ڈانٹ سنتا رہا ۔
‏ایک آپ لوگ ہیں، ایک دوسرے کو چیخ چیخ کر ہدایات دے رہے تھے کہ سر کو آوٗٹ کرو۔ یاد رکھو جیتنا سب کچھ نہیں ہوتا، کبھی ہارنے سے بھی زندگی میں جیت کے رستے کھلتے ہیں۔ آپ طاقت میں اپنے اساتذہ اور والدین سے بے شک آگے بڑھ جاتے ہیں لیکن زندگی میں کبھی اپنے اساتذہ اور والدین سے جیتنے کی کوشش نہ کرنا، ایسا کرکے آپ کبھی نہیں ہاریں گے۔اللہ پاک آپ کو ہر میدان میں سرخرو کرے گا۔

پوسٹ اچھی لگی ہو تو اپنی پسند کا اظہار ضرور کریں اور مزید اچھی اچھی کہانیوں کے لیے ہمارے پیج کو فالو کریں شکریہ جزاک اللّہ ۔

12/03/2025

📌 گردوں کو تباہ کرنے والی 10 خطرناک عادات – ان سے بچیں!

⚠️ گردے ہمارے جسم کے فلٹر کی طرح کام کرتے ہیں، لیکن کچھ عادات انہیں نقصان پہنچا سکتی ہیں، جو سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتی ہیں۔

🚨 یہ 10 عادات گردوں کی صحت کو برباد کر سکتی ہیں، ان سے پرہیز کریں:

1️⃣ پانی کم پینا:
🔹 مناسب مقدار میں پانی نہ پینا گردوں کی کارکردگی کو کمزور کر سکتا ہے اور پتھری کا سبب بن سکتا ہے۔

2️⃣ زیادہ نمک کھانا:
🔹 نمک کی زیادتی بلڈ پریشر بڑھاتی ہے، جو گردوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

3️⃣ زیادہ چینی کھانا:
🔹 زیادہ میٹھا کھانے سے ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جو گردوں کے نقصان کی بڑی وجہ ہے۔

4️⃣ درد کی دوائیں زیادہ لینا:
🔹 بروفین، کیٹوفین، اور کیٹافلام جیسی نان اسٹرائیڈل اینٹی انفلیمیٹری دوائیں (NSAIDs) گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

5️⃣ پیشاب روک کر بیٹھے رہنا:
🔹 زیادہ دیر تک پیشاب روکنے سے گردوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور انفیکشن کا خطرہ ہوتا ہے۔

6️⃣ زیادہ پروٹین کھانا:
🔹 زیادہ گوشت اور پروٹین لینے سے گردوں پر غیر ضروری بوجھ پڑتا ہے، جو ان کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

7️⃣ نیند پوری نہ کرنا:
🔹 نیند کی کمی گردوں کے فلٹریشن سسٹم کو متاثر کر سکتی ہے اور ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔

8️⃣ زیادہ دیر بیٹھے رہنا:
🔹 مسلسل بیٹھے رہنے سے خون کی گردش متاثر ہوتی ہے، جو گردوں کے فنکشن پر برا اثر ڈالتی ہے۔

9️⃣ تمباکو نوشی:
🔹 سگریٹ پینے سے خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں، جس سے گردوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

🔟 شراب نوشی:
🔹 الکحل گردوں پر زہریلے اثرات مرتب کرتی ہے، اور ان کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔

📌 گردوں کی صحت کے لیے بہترین عادات:

✅ روزانہ کم از کم 8 گلاس پانی پئیں۔
✅ متوازن غذا کھائیں اور نمک اور چینی کی مقدار کم کریں۔
✅ تمباکو اور شراب نوشی سے پرہیز کریں۔
✅ دوا لیتے وقت ڈاکٹر سے مشورہ کریں، خاص طور پر درد کی دوائیں۔
✅ نیند پوری کریں اور زیادہ دیر تک نہ بیٹھیں، چہل قدمی کریں۔

💡 گردے ہمارے جسم کی صحت کا راز ہیں، ان کی حفاظت کریں تاکہ زندگی بھر صحت مند رہ سکیں! 🌿

08/02/2025

” زن مرید یا رن مرید!“

‎ہم نے اکثروبیشر اپنے ارد گرد زن مرید کا لفظ تو سنا ہی ہے
‎عام طور پر زن مرید یا رن مرید ہر وہ شخص کہلاتا ہے جو اپنی بیوی سے بے حد محبت کرتا ہو۔ ایسا مرد اپنی بیوی کا گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتا ہے، (جو کہ ہمیں سیرتِ آئمہ میں اور خصوصا امام علی علیہ السلام میں بھی ملتا ہے)
‎بیوی کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کا خیال رکھتا ہے اورعموما اس کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے۔ اردو لغت میں ایسے شوہر کے لئے اور بھی القابات ہیں جیسے بیوی کے اشاروں پر ناچنے والا، جورو کا غلام، زن پرست وغیرہ وغیرہ۔ زن عورت کو کہتے ہیں اور مرید کا مطلب ہے خواہش مند یا عقیدت مند۔
فارسی میں صنف نازک کو ’زن‘ کہتے ہیں۔
اس کا اطلاق کنواری اور شادی شدہ ہر دو خواتین پر ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں جو بیوی کی ناز برداری کرے اسے ’زن مرید‘ کہتے اور مضحکہ اڑاتے ہیں۔
بقول ’ارشد علی خان قلق‘:
’ مَرࣿدوں میں آبرو نہیں کچھ زن مرید کی‘۔
فارسی کا ’زن‘ ہندی میں ’رن‘ ہے اور اس کے معنی میں عورت اور بیوی کے علاوہ رانی بھی شامل ہے۔
فارسی کے ’زن‘ سے ’زنان خانہ‘ ،ہندی میں ’رن‘ سے ’رنواس‘ کہلاتا ہے۔
ہندی کی رعایت سے اردو اور پنجابی میں ’زن مرید‘ کو ’رن مرید‘ بھی کہا جانے لگا (اقتباس) ۔

جبکہ اردو میں یہ لفظ ” زن مرید“ ہی ہے
ایک ’بزرگ زنانِ دیدہ‘ کا خیال ہے کہ تمام مرد عام طور پر ’زن مرید‘ ہوتے ہیں، جو نہیں مانتے وہ جھوٹ بولتے ہیں۔
اب شاعر ’مجید فضا‘ کے الفاظ میں ایک زن مرید کا شکوہ ملاحظہ کریں:

زن مریدی کا شرف پا کے بھی رنجور ہوں میں
قصہ درد سناتا ہوں کہ مجبور ہوں میں

اگر ایک شوہر اپنی بیوی کے کاموں میں تھوڑی بہت مدد کرتا ہے تو اس میں کیا برائی ہے؟
کیا برا ہے اگر ہفتے میں ایک بار وہ اپنی بیوی کی کھانا پکانے میں مدد کرتا ہے؟
یا باورچی خانے میں پڑے برتن دھو دیتا ہے؟
یا کپڑے دھوتے ہوئے اپنی بیوی کا ہاتھ بٹا لیتا ہے؟
یا کبھی کھانے کی کوئی چیز بنادیتا ہے؟

ان سب چھوٹے چھوٹے کاموں سے بیوی کو تو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی شوہر کی مرادنگی میں کوئی کمی آتی ہے مگر ایک احساس کا رشتہ ضرور پیدا ہوتا ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کا سبب بنتا ہے اور احساس، دوستی اورعزت کا رشتہ سب سے بڑھ کر ہوتا ہے۔
بیوی کے ناز نخرے اٹھانا شوہر کا فرض ہے۔ ایک خاتون سارے گھر کا خیال رکھتی ہے تمام گھر والوں کا خیال رکھتی ہے، اس کا بھی تو کوئی خیال رکھنے والا ہونا چاہیئے نا!

ایک مرد اپنی ماں کی ہاں میں ہاں ملائے تو فرمانبردار،
اپنی بہنوں کی فرمائشیں پوری کرے ان کے نخرے اٹھائے تو باکمال اورعزت دار،
اپنی بیٹی کے لاڈ اٹھائے تو رفیق
مگر اپنی بیوی سے محبت کرے تو زن مرید؟

بیوی سے محبت اور حسن سلوک کا درس تو ہمارا مذہب بھی دیتا ہے۔
کم ہی افراد ہیں جو اپنی بیوی کے حقوق اس خوش اسلوبی کے ساتھ نبھانے میں کامیاب ہوتے ہیں ورنہ اس معاشرے میں تو مردوں کے لہجے میں سختی اور رعب ہی نظر آتا ہے۔
آخر میں ہم یہی کہنا چاہیں گے کہ یہ قطعاً مردانگی نہیں ہے کہ بیوی کو اپنا شریک حیات تصور کرنے کے بجائے ایک خدمتگار مشین تصور کیا جائے اور اس کے ساتھ انسانیت کا سلوک کرنے کے بجائے مشین یا حیوان جیسا سلوک کیا جائے۔
جبکہ گھروں کے کام کی ذمہ داری اس پہ شریعت نے بھی نہیں ڈالی ہے
آیت اللّٰہ سیستانی سے کئے گئے سوال کا جواب:
مرد بیوی کو گھر کے کام پر مجبور نہیں کر سکتا، گرچہ مستحب ہے کہ عورت گھر کے کام کو انجام دے ۔
لیکن ہمارے معاشرے میں مستحب کاموں کو واجبات کی طرح ادا کروایا جاتا ہے

ہماری دعا ہے پروردگار ہم سب کو سوچنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرما آمین یا رب العالمین

"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
ڈاکٹر ایس اے قریشی

05/02/2025

ایکـــــ مسئلہ جس میں بہت سے لوگ مبتلا ہیں ۔۔۔🙂

27/01/2025

حضرت شفیق بلخی اور حضرت ابراہیم بن ادہمؒ کے درمیان سچی دوستی تھی ، ایک مرتبہ شفیق بلخیؒ اپنے دوست ابراہیم بن ادہمؒ کے پاس آئے اور کہا کہ میں ایک تجارتی سفر پر جا رہا ہوں ، سوچا کہ جانے سے پہلے آپ سے ملاقات کر لوں ، کیوں کہ اندازہ ہے کہ سفر میں کئ مہینے لگ جائیں گے ۔*

*لیکن توقع کے خلاف چند ہی دنوں میں واپس لوٹ آئے اور جب حضرت ابراہیم بن ادہمؒ نے انھیں مسجد میں دیکھا ، تو حیرت سے پوچھ بیٹھے : کیوں شفیق ! اتنے جلدی لوٹ آئے ؟*

*حضرت شفیق بلخیؒ نے جواب دیا : حضرت ! میں کیا عرض کروں ، راستے میں ایک حیرت انگیز منظر دیکھا اور الٹے پاوں ہی گھر لوٹ آیا ۔*

*ہوا یو کہ ایک غیر آباد جگہ پہنچا ، وہیں میں نے آرام کے لیے پڑاو ڈالا ، اچانک میری نظر ایک پرندے پر پڑی ، جو نہ دیکھ سکتا ہے اور نہ اڑ سکتا ہے ، مجھے اس کو دیکھ کر ترس آیا ، میں نے سوچا کہ اس ویران جگہ پر یہ پرندہ اپنی خوراک کیسے پاتا ہوگا ، میں اسی سوچ میں تھا کہ اتنے میں ایک دوسرا پرندہ آیا ، اس نے اپنی چونچ میں کوئ چیز دبا رکھی تھی ، اس نے آتے ہی وہ چیز معذور پرندے کے آگے ڈال دی اور معذور پرندے نے وہ چیز اٹھاکر کھالی ، اس دوسرے پرندے نے اس طرح کئ پھیرے کیے ، بالآخر اس معذور پرندے کا پیٹ بھر گیا ۔*

*یہ منظر دیکھ کر میں نے کہا : سبحان اللہ ! جب اللہ تعالی اس ویران و سنسان جگہ پر ایک پرندے کا رزق اس کے پاس پہنچا سکتا ہے ، تو مجھ کو رزق کے لیے شہر در شہر پھرنے کی کیا ضرورت ہے ، چناں چہ میں نے آگے جانے کا ارادہ ترک کر دیا اور وہیں سے واپس چلا آیا ۔*

*یہ سن کر حضرت ابراہیم بن ادہمؒ نے کہا : شفیق ! تمھارے اس طرح سوچنے سے مجھے سخت مایوسی ہوئ ، تم نے آخر اس معذور پرندے کی طرح بننا کیوں پسند کیا جس کی زندگی دوسروں کے سہارے چل رہی ہو ؟ تم نے یہ کیوں نہیں چاہا کہ تمھاری مثال اس پرندے جیسی ہو ، جو اپنا پیٹ بھی پالتا ہے اور دوسروں کا بھی پیٹ پالنے کے لیے کوشش کرتا ہے ؟*

*حضرت شفیق بلخیؒ نے یہ سنا تو بے اختیار اپنی جگہ سے اٹھے اور حضرت ابراہیم بن ادہمؒ کے ہاتھ کو چوم لیا اور کہا : ابو اسحاق ! (یہ حضرت ابراہیم بن ادہمؒ کہ کنیت ہے ) تم نے میری آنکھیں کھول دیں ، وہی بات صحیح ہے جو تم نے کہی ہے*

*پیارے ساتھیوں ! اس واقعے سے ہمیں دو نصیحتیں معلوم ہوئ ، ایک یہ کہ زندگی میں ہم دوسروں کے لیے کبھی بوجھ نہ بنیں ، اور دوسری یہ کہ ہم ہمیشہ دوسروں کے کام آئیں ، پاکیزہ اور حلال روزی کماکر دوسروں کے لیے سہارا بنیں۔

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Charsadda?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address


قریشی ہومیو پیتھک سٹور تنگی روڈ عمرزئی چارسدہ
Charsadda
25000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00