Falcobhai
@falcobhai8
30/08/2026
آن لائن جہاز گیم، آخر یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا؟
✍️ ممتاز احمد راجپوت
صدر عوامی پریس کلب رجسٹرڈ چکوال
بورے والا میں پیٹرولنگ پولیس کے ایک کانسٹیبل کی مبینہ خودکشی کی خبر سامنے آئی تو اس کے ساتھ ایک بار پھر آن لائن جہاز گیم Aviator کا نام بھی سامنے آگیا۔ ذرائع کے مطابق علی حسن ڈوگر پیٹرولنگ چیک پوسٹ پکھی موڑ پر بطور محرر تعینات تھا اور مبینہ طور پر کافی عرصے سے یہ آن لائن گیم کھیل رہا تھا۔
ابتدائی اطلاعات میں کہا جا رہا ہے کہ علی حسن کو گیم میں بھاری مالی نقصان ہوا تھا۔ یہاں تک بتایا جا رہا ہے کہ مبینہ طور پر اپنی تنخواہ کے علاوہ عزیز و اقارب سے لی گئی ادھار رقم بھی اس گیم میں ہار چکا تھا اور گزشتہ کچھ عرصے سے پریشان تھا۔ بعد ازاں اس نے مبینہ طور پر سرکاری بندوق سے خود کو گولی مار لی۔
یہ تمام باتیں فی الحال ذرائع سے سامنے آئی ہیں۔ واقعے کی اصل وجہ کیا بنی اور حالات یہاں تک کیسے پہنچے، اس کا تعین پولیس تحقیقات کے بعد ہی ہونا چاہیے۔
لیکن اس واقعے سے ہٹ کر بھی ایک مسئلہ ایسا ہے جس پر اب کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔
Aviator یا عام زبان میں جسے لوگ جہاز گیم کہتے ہیں، اب صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہی۔ چکوال سمیت چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہات میں بھی نوجوان اس طرف آ رہے ہیں۔ محفلوں میں بیٹھیں تو کوئی نہ کوئی ایسا شخص ضرور مل جاتا ہے جو بتاتا ہے کہ فلاں نے اتنے پیسے بنا لیے یا فلاں نے اتنے ہزار جیت لیے۔ لیکن جو لوگ ہزاروں اور لاکھوں روپے ہار جاتے ہیں ان کا ذکر بہت کم ہوتا ہے۔
مسئلہ یہیں سے شروع ہوتا ہے۔
شروع میں بندہ پانچ سو یا ہزار روپے لگا لیتا ہے۔ کبھی رقم بن جائے تو اسے لگتا ہے کہ طریقہ ہاتھ آگیا ہے۔ پھر رقم بڑھتی جاتی ہے۔ ایک دن بڑا نقصان ہوجائے تو بندہ گیم چھوڑنے کے بجائے یہی سوچتا ہے کہ جو پیسے گئے ہیں وہ واپس نکالنے ہیں۔ پھر دوبارہ رقم لگتی ہے اور اکثر نقصان مزید بڑھ جاتا ہے۔
اپنی رقم ختم ہونے کے بعد اگر کوئی شخص ادھار لے کر بھی یہی کام شروع کر دے تو معاملہ بہت خراب ہو جاتا ہے۔ قرض الگ سر پر کھڑا ہوتا ہے، گھر والوں سے رقم چھپانے کی پریشانی الگ اور ہاری ہوئی رقم واپس حاصل کرنے کی فکر الگ۔
یہ بات خاص طور پر نوجوانوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر اس گیم میں آپ کے بیس ہزار، پچاس ہزار یا ایک لاکھ روپے چلے گئے ہیں تو مزید رقم لگا کر ان کا پیچھا مت کریں۔ جو نقصان ہوگیا اسے وہیں روک دینا بہتر ہے۔ ادھار لے کر دوبارہ کھیلنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید نقصان کا راستہ بن سکتا ہے۔
اور اگر کسی پر قرض چڑھ گیا ہے تو گھر والوں سے بات کرے۔ والد، بھائی، دوست یا کسی ایسے شخص کو اعتماد میں لے جس پر بھروسہ ہو۔ رقم آج نہیں تو کل واپس ہوسکتی ہے۔ قرض بھی وقت کے ساتھ ادا ہوسکتا ہے۔ چند دن لوگوں کی باتیں بھی سننا پڑ سکتی ہیں۔ لیکن کسی مالی نقصان کی وجہ سے اپنی زندگی کے بارے میں انتہائی قدم اٹھانا کسی مسئلے کا حل نہیں۔
اس معاملے میں والدین کو بھی اپنے بچوں پر نظر رکھنا ہوگی۔ بچہ یا نوجوان بار بار پیسے کیوں مانگ رہا ہے؟ تنخواہ کہاں خرچ ہورہی ہے؟ اچانک قرض کیوں لے رہا ہے؟ موبائل پر رات گئے تک کیا چل رہا ہے؟ یہ سوال وقت پر پوچھ لیے جائیں تو شاید کسی بڑے نقصان سے بچا جاسکتا ہے۔
متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ آن لائن جوئے اور بیٹنگ کے خلاف صرف وقتی کارروائیوں کے بجائے مستقل بنیادوں پر کام کیا جائے۔ سوشل میڈیا پر ایسی گیمز کی تشہیر اور لوگوں کو آسان پیسہ کمانے کے نام پر راغب کرنے والوں کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔
بورے والا کے واقعے کی حقیقت تحقیقات کے بعد سامنے آجائے گی، اس لیے علی حسن ڈوگر کی موت کو کسی ایک وجہ سے جوڑ کر حتمی بات کرنا قبل از وقت ہوگا۔
البتہ ایک بات ہمارے سامنے موجود ہے کہ آن لائن جوئے کا بڑھتا ہوا رجحان معمولی مسئلہ نہیں رہا۔
آج کسی کی تنخواہ جارہی ہے، کسی کی جمع پونجی اور کوئی قرض لے کر کھیل رہا ہے۔ اگر بروقت اس طرف توجہ نہ دی گئی تو نقصان صرف بینک اکاؤنٹ تک محدود نہیں رہے گا، اس کی قیمت پورے گھر کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
جو رقم چلی گئی، اسے نقصان سمجھ کر وہیں رک جائیں۔
اسے واپس نکالنے کے چکر میں اپنی باقی جمع پونجی، گھر کا سکون اور زندگی داؤ پر مت لگائیں
13/07/2026
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
سابق ایم پی اے نیاز خان گشکوری انتقال کر گئے.
21/06/2026
Monitization waitlist main kab tk raha ga.
Dehati dost Ka restaurant par pahli dafa dawat
Contact the business
Telephone
Website
Address
Dera Ghazi Khan
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when Falcobhai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.