Hate khan official

Hate khan official

Share

I am helps to poor

Photos from Hate khan official's post 23/07/2020

‏والدہ جیسی نعمت کو تشدد کا نشانہ بنانے والے جہنمی کو حراست میں لینے پر ہم راولپنڈی پولیس کے شُکر گزار ہیں۔۔

اب اسکی سزا کیا ہونی چاہئے؟ مگر مجھے سو فیصد یقین ہے پولیس کا پہلا ڈنڈا پڑتے ہی والدہ چیخ اُٹھے گی۔۔

مت کچھ کہو میرے لعل کو۔

18/07/2020

ملک کو پچھلوں نے تباہ کیا اور میری ٹیم میں ستانوے فیصد لوگ وہ ہیں جو پچھلوں کے بھی وزیر مشیر رہے ۔
میرا کپتان

15/07/2020

❤🇸🇱❤
سابقہ امیداور پاکستان تحریک انصاف پی کی 16 ڈاکٹر سربلند خان کو جماعت اسلامی میں شمولیت پر دل کے گہرائیوں سے خوش امدید کہتے ہیں
شمولیتی تقریب انشاءاللہ 17 تاریخ بروز جمعہ پلوسوں شادی ہال میں ہونگے
تقریب کے مہمان خصوصی محترم سراج الحق امیر جماعت اسلامی پاکستان
تمام کارکنان سے شرکت کی اپیل ہیں

14/07/2020
06/07/2020

نیلے کپڑوں میں ملبوس بیٹھی شخصیت عثمان ڈار تعلیم شائد میٹرک، وردی میں لیفٹیننٹ جنرل افضل چئیرمین این ڈی ایم اے اور جو قابل احترام شخص کھڑا ھے وہ پرنسپل خواجہ صفدر میڈیکل کالج پروفیسر طارق ریحان ھیں اصولی طور پہ دونوں اشخاص جو تشریف فرما ھیں وہ انکے سامنے کھڑے ھوتے لیکن یہاں الٹی گنگا بہہ رھی

30/06/2020

Copied...

ملزم ایک 15 سالہ لڑکا تھا۔ ایک اسٹور سے چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ پکڑے جانے پر گارڈ کی گرفت سے بھاگنے کی کوشش کی۔ مزاحمت کے دوران اسٹور کا ایک شیلف بھی ٹوٹا۔

جج نے فرد ِ جرم سنی اور لڑکے سے پوچھا "تم نے واقعی کچھ چرایا تھا؟"

"بریڈ اور پنیر کا پیکٹ" لڑکے نے اعتراف کرلیا۔

"کیوں؟"

"مجھے ضرورت تھی" لڑکے نے مختصر جواب دیا۔

"خرید لیتے"

"پیسے نہیں تھے"

"گھر والوں سے لے لیتے"

"گھر پر صرف ماں ہے۔ بیمار اور بے روزگار۔ بریڈ اور پنیر اسی کے لئے چرائی تھی۔"

"تم کچھ کام نہیں کرتے؟"

"کرتا تھا ایک کار واش میں۔ ماں کی دیکھ بھال کے لئے ایک دن کی چھٹی کی تو نکال دیا گیا۔"

"تم کسی سے مدد مانگ لیتے"

"صبح سے مانگ رہا تھا۔ کسی نے ہیلپ نہیں کی"

جرح ختم ہوئی اور جج نے فیصلہ سنانا شروع کردیا۔

"چوری اور خصوصاً بریڈ کی چوری بہت ہولناک جرم ہے۔ اور اس جرم کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ عدالت میں موجود ہر شخص، مجھ سمیت۔ اس چوری کا مجرم ہے۔ میں یہاں موجود ہر فرد اور خود پر 10 ڈالر جرمانہ عائد کرتا ہوں۔ دس ڈالر ادا کئے بغیر کوئی شخص کورٹ سے باہر نہیں جاسکتا۔" یہ کہہ کر جج نے اپنی جیب سے 10 ڈالر نکال کر میز پر رکھ دیئے۔

"اس کے علاوہ میں اسٹور انتظامیہ پر 1000 ڈالر جرمانہ کرتا ہوں کہ اس نے ایک بھوکے بچے سے غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے، اسے پولیس کے حوالے کیا۔ اگر 24 گھنٹے میں جرمانہ جمع نہ کرایا گیا تو کورٹ اسٹور سیل کرنے کا حکم دے گی۔"

فیصلے کے آخری ریمارک یہ تھے: "اسٹور انتظامیہ اور حاضرین پر جرمانے کی رقم لڑکے کو ادا کرتے ہوئے، عدالت اس سے معافی طلب کرتی ہے۔"

فیصلہ سننے کے بعد حاضرین تو اشک بار تھے ہی، اس لڑکے کی تو گویا ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ اور وہ بار بار جج کو دیکھ رہا تھا۔

("کفر" کے معاشرے ایسے ہی نہیں پھل پھول رہے۔ اپنے شہریوں کو انصاف ہی نہیں عدل بھی فراہم کرتے ہیں)

25/06/2020

جب کرنل کی بیوی نےگالی دی تب توکسی پولیس والے نے اسکو ایک تھپڑ بھی نہیں لگایا۔لوگ صحیح کہتے ہیں پاکستان میں قانون صرف غریب کیلیےہے

25/06/2020

لگتا ہے اس ملک میں پختونوں کو ننگا کرنا جائز ہے
اس ملک میں جو بھی جرم ہوتا ہے تو ریاست مدینہ پاکستان کے اخبار میں لکھا جاتا ہے کہ افغانی تھا
چب فرشتہ مہمند کا واقعہ ہوا تو ARY نے کہا افغانی ہے
پھر جب ملالی مہمند کا واقعہ پیش آیا تو ریاست پاکستان نے کہا افغانی ہے
آج عامر تھکال کا واقعہ پیش آیا تو بےضیمر اخبار والے نے لکھا افغانی ہے ۔

خدا کی قسم یہ ملک نہیں جنگل ہے جنگل

Photos from Hate khan official's post 24/06/2020

پاکستان کے تمام pages ایڈمین اور پشاور کے لوگوں سے خصوصی اپیل 🙏🙏
پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیر کریں
انسانیت شرما گئی
یہ SHO عمران الدین ہے جو پولیس آفیسر سے زیادہ ایک بدمعاش ہے۔حد درجہ بداخلاق۔جس نے تھانہ میں ایک غریب کے کپڑے اتروائے اور بے چارے کو ننگا پولیس سٹیشن میں گھمایا.
پولیس کی وردی میں دہشت گردی نا منظور اس کے خلاف سخت کاروائی ہونی چاہئے۔۔اور ہمارے ملک میں ایسی ناانصافی ہوگی۔۔اور ہم چپ رہیں گے۔۔یہ کیا ہورہا ہیں مہربانی کر کے یہ آگے شیئر کیجئے۔۔اور ان لوگوں پر کون ایکشن لے گا
۔۔۔۔پلیز شئر کیجئے تا کہ حکومتی ایوانوں تک پہنچے۔۔۔۔۔
ہم عامر تہکالے کے ساتھ مل کر اس ظلم کے خلاف عدالت جائینگے....
آئ جی کے پی کے اس واقعے کا نوٹس لے

Photos from Hate khan official's post 24/06/2020

انسانیت شرما گئی
یہ SHO عمران الدین ہے جو پولیس آفیسر سے زیادہ ایک بدمعاش ہے۔حد درجہ بداخلاق۔جس نے تھانہ میں ایک غریب کے کپڑے اتروائے اور بے چارے کو ننگا پولیس سٹیشن میں گھمایا کیا پولیس والے صرف شہریوں کے ساتھ بدتمیزی کے لیے موجود ہیں کہاں گیا قانون اور قانون کے رکھوالے افسوس ہماری پولیس کب انسانیت کی محافظ بنی گی۔۔۔۔پلیز شئر کیجئے تا کہ حکومتی ایوانوں تک پہنچے۔۔۔۔۔

21/06/2020

سزا اور جزا عدالت کا کام ہے Police کا نہں
لیجئے اب تصویر کے دوسرا رخ
اس کا پورا نام عامر خان ہے اور یہ تہکال پشاور کا رہائشی ہے ،عامر نہایت ہی نفیس اور خوش اخلاق انسان ہے اور نجی شادی ہالوں میں بطور ہیڈ ویٹر کام کرتا تھا لیکن جب سے شادی ہالز کی بندش ہوئی ہے تب سے یہ طبقہ بہت متاثر ہوا ہے عامر بیروزگاری کی وجہ سے بہت پریشان تھا گھر والے فاقہ کرنے پر مجبور تھے اس لیے عامر نے انتہائی قدم اٹھایا اور غلط راستے پر چل پڑا اور چلتے چلتے بہت آگے نکل پڑا جو آپ سب کے سامنے ہیں_😢
اب آپ بتائیں ریاست مدینہ میں ایسا ہوتا ہے؟

تفصیلات کے مطابق کل رات پولیس نے ایک لائیو فیس بک آئی ڈی پر نشے کی حالت میں پولیس ایس ایچ او اور ایس ایس پی آپریشن کو گالیاں نکالیں جس پر پولیس نے مخبروں کے زریعے اس ٹریس کر کے پوری رات تشدد کا نشانہ بنایا،حالانکہ پولیس زادیات کی بنا پر قانون کے مطابق کسی پر تشدد کر ہی نہیں سکتی کیونکہ ان کی مثال ایک چوکیدار کی ہے اور عوام کی جان و مال کا تحفظ اور غیر قانونی کام کو روکنا ہے ۔مگر اس طرح ایک غریب شہری پر رات گئے تشدد کرنا اور اس کے کپڑے اتار کر تھانے میں اس کے ساتھ شرمناک حرکات کرنا کہاں کا انصاف ہے ۔کیا ایس ایچ او عمران الدین اپنے ایس ایس پی آپریشن کو خوش کرنے کا یہ تحفہ دے رہے تھے اور پھر اس کی ویڈیو بنا کر اسے توبہ تائیب کرنے کے ساتھ ساتھ اسے اتنا خوفزدہ کیا جانا اور اسےایک پولیس کی طرف سےرموز والے انداز میں طنزیہ یہ کہنا کہ رات کو تھانے میں کیسے تمھاری مہمان نوازی کی ہے ۔اور بار بار مہمان نوازی لفظ دہرانے سے دبے الفاظ میں عوام کو یہ تاثر دینا کہ کیسے ہم اپنے بر خلاف کے ساتھ کرتے ہیں، سے صاف ظاہر ہے کہ پولیس اس طرح کی حرکات سے عوام میں خوف و ہراس پھیلا رہی ہے اور برملا یہ اظہار کرتی ہے کہ ہم ایک طاقت ہے جس کے سامنے عام اور کمزور عوام کچھ بھی نہیں ۔
غریب عامر کا جتنا قصور تھا ۔اس کے مطابق اسے زیادہ سےزیادہ گرفتار کر کے اس کے خلاف پرچہ کاٹنا تھا اور جو قانونی کاروائی بنتی ہے وہ کرنی چاہئے تھی ۔باقی اس کے ساتھ جسمانی تشدد اور تھانے میں اس کے کپڑے اتار کر اس کو ننگا نچوانے کی نہ پاکستانی قانون اجازت دیتا ہے اور نہ آئین ۔
اگر پولیس ایس ایچ او عمران الدین نے یہ صحیح کیا ہے تو کیا پھر ہر پاکستانی شہری کو گالیاں دینے پر ایسا ہی عمل ہر ملزم کے ساتھ کیا جائے گا ۔نہیں بلکہ جتنا بھی کسی کو گالیاں و دھونس دھمکیاں دی جائیں اس کا دفعہ107 ہی لگاتے ہیں ۔کیا قانون سب کے لئے برابر نہیں ہے ۔
اگر یہی ریت پولیس میں قائیم رہی اس کا سد باب نہیں کیا گیا تو پھرغیر یقینی کا صورت حال پیدا ہو کر معاشرے میں انارکی اور افراتفری کا ما حول گرم ہو جائے اورعوام پولیس کو اپنا دشمن سمجھنے لگے گی ۔کیا واقعی ریاستِ مدینہ میں ایسے خوف اور تشدد کا ماحول گرم تھا ۔
میری انسانی حقوق کی تمام سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں ، چیف جسٹس ہائی کورٹ و سپریم کورٹ ، چیف آف آرمی سٹاف، وزیر اعظم عمران خان ، وزیر اعلی محمود خان ،پار لیمانی سیکٹری داخلہ اور تمام حکام بالا اور اتھارٹیز سے یہ اپیل ہے کہ قا نون اور ورد ی کے غلط استعمال پر سوشل میڈیا پر نشہ کی حالت میں ایک غریب اور کمزورشہری پر حد سے زیادہ تشدد اور پھر اس کو رات گئے تھانے میں بے لباس کر کے اس کی حتک عزت مجروح کرنے اور پھر وردی اور بندوقوں کے سائے میں اس سے بر ملا معافیاں منگوانا اور توبہ وکان پکڑوانا ایک انسان کی بقائیمِ ہوش و حواس توہین کرنے پر مزکورہ ایس ایچ او اور دیگر پیٹی بند ساتھیوں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے ۔کہ انھوں نے ہوش میں ایک انسان پر بے جا ظلم کیا..

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Dir?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Samar Bagh
Dir
1234