Rehan official

Rehan official

Share

pharmacist

15/05/2025

*سوال: خون دینے کا سب سے بڑا نقصان کیا ہے؟*

جواب: خون دینے کا نقصان کوئی نہیں البتہ بلکہ بڑا فائدہ ہے کہ ریگولر خون دینے والے فرد کو دل کے دورے اور کینسر کے چانسس
باقی افراد کے مقابلے میں 95% کم ہوتے ہیں۔
یہ ریسرچ امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کی ہے

سوال: کسی کو خون کا عطیہ دینے کے بعد کتنے دنوں میں خون بن جاتا ہے؟
جواب: خون عطیہ کرنے کے تین دن میں کمی پوری ہو جاتی ہے جبکہ 56 دنوں میں
خون کے مکمل خلیات بن کر تازہ خون رگوں میں دوڑنے لگتا ہے۔۔۔۔

سوال: پرانا خون ذیادہ طاقتور ہوتا ہے یا نیا بننے والا؟
جواب: نیا بننے والا خون پرانے کے نسبت ذیادہ فریش اور طاقتور ہوتا ہے۔۔

سوال: خون دینے کے فوائد کیا ہیں؟
جواب: خون دینے کا سب سے بڑا فائدہ ایک صدقہ جاریہ میں حصہ ڈالنا ہے جو قیامت تک نسل درنسل آپ کیلئے ثواب کا موجب ہے۔۔
اس کا دوسرا بڑا فائدہ خون میں آئرن کو مقدار بیلنس رکھنا اور سب سے سے بڑا فائدہ صحت مند اور فریش زندگی گزارنا ہے۔۔۔
ریگولر خون دینے والے کی جلد دوسروں کی بنسبت ذیادہ عرصے تک جوان اور صحتمند رہتی ہے۔۔۔
اس کا ایک فائدہ مفت میں خون کی اسکرینگ بھی ہے۔

سوال: خون سال میں کتنی بار دیا جا سکتا ہے؟
جواب: ایک صحت مند انسان جس کی عمر 17 سے 50 کے درمیان ہو اور وزن 50 کلو سے ذیادہ ہو سال میں کم ازکم دو بار آسانی سے خون دے سکتا ہے جبکہ ایک بار خون دینے کے تین ماہ بعد عطیہ دے سکتا ہے۔۔۔

سوال : پاکستان میں کتنے فیصد لوگ خون دیتے ہیں؟

جواب: پاکستان میں صرف دو سے تین فیصد لوگ ریگولر خون دیتے ہیں۔۔
چند افراد ایمرجنسی میں بھی خون دیتے ہیں۔

سوال: خون کی زندگی کتنی ہے؟
جواب: خون کی زندگی 120 دن ہے۔۔
یعنی ایک سو بیس دن میں ہماری خون کے خلیہ مردہ ہو کر پیشاب کے رستے نکل جاتے ہیں اور نئے وجود میں آ جاتے ہیں۔

سوال: پھر ہم خون دینے سے گھبراتے کیوں ہیں؟
جواب: ہم ایک ایسی سوسائٹی میں سانس لے رہے ہیں جہاں یہ بات پھیلی ہوئی ہے کہ خون دینے سے انسان کمزور ہو جاتا ہے اور خون دوبارہ نہیں بنتا۔۔۔ لہذا ہمارے مریض تڑپتے سسکتے بستروں پر خون کی کمی کی وجہ سے جان دے دیتے ہیں۔۔۔

خون کا عطیہ دیں
*زندگیاں بچائیں
جزاک اللہ خیرا
For more information please follow me 🙏🙏

01/05/2025

ھلاکو خان کی موت کا عبرت انگیز واقعہ۔۔
دنیا کا ظالم و وحشی ترین انسان ہلاکو خان اپنے گھوڑے پہ شان سے بیٹھا ہوا تھا، چاروں طرف تاتاری افواج کی صفیں کھڑی تھی، سب سے آگے ہلاکو خان کا گھوڑا تھا، ہلاکو خان کے سامنے قیدی مسلمانوں کی تین صفیں کھڑی کی گئی تھیں، جنکو کو آج ہلاکو خان نے اپنے حکم پر قتل ہوتے دیکھنا تھا ،

پھر وہ ظالم بولا، انکے سر قلم کردو!

اور جلاد نے لوگوں کے سر کاٹنے شروع کردئیے، پہلی صف میں ایک کی گردن گئی دوسرے کی گردن گئی، تیسرے چوتھے کی، پہلی صف میں ایک بےقصور بوڑھا غریب قیدی جوکہ اپنے گھر کا واحد کفیل، بھی کھڑا تھا، وہ موت کے ڈر کی وجہ سے دوسری صف میں چلا گیا، پہلی صف کا مکمل صفایا ہوگیا ،

ہلاکو خان کی نظروں نے اس بوڑھے کو دیکھ لیا تھا کہ وہ موت کے خوف سے اپنی پہلی صف چھوڑ کر دوسرے صف میں چلا گیا تھا، ہلاکو خان گھوڑے پہ بیٹھا ہوا ہاتھ میں طاقتور گرز لیے اچھال کر اس سے کھیل رہا تھا اور مسلمان عں کے قتل کا منظر دیکھ کر اس کھیل سے خود کو خوش کررہا تھا ،

جلادوں نے دوسری صف پہ تلوار کے وار شروع کیے ، گردنیں آن کی آن میں گرنے لگیں ،

جلاد تلوار چلا رہے تھے اور خون کے فوارے اچھل اچھل کر زمین پہ گررہے تھے، اس بوڑھے بابا نے جب دیکھا کہ دوسری صف کے لوگوں کی گردنیں کٹ کر اس کی باری بہت جلد آنے والی ہے تو وہ بھاگ کر تیسری صف میں کھڑا ہوگیا، ہلاکو خان کی نظریں بوڑھے پہ جمی ہوئی تھی کہ اب تو تیسری صف آخری ہے اسکے بعد یہ کہاں چھپنے کی کوشیش کرے گا ؟ اس بیوقوف بڈھے کو میری تلوار سے کون بچا سکتا ہے، میں نے لاکھوں انسان مار دیئے تو یہ کب تک بچے گا ؟

تیسری صف پہ جلادوں کی تلوار بجلی بن کر گر رہی تھی، ہلاکو خان کی نظریں مسلسل اس بوڑھے پہ تھی کہ کیسے وہ بے چین ہوکر موت کی وجہ سے بے قرار ہے، تیسری صف کے انسانوں کی گردنیں گررہی تھی، جلاد بجلی کی سی تیزی سے اس بوڑھے بابا کو پہنچا تو ہلاکو خان کی آواز گونجی ،

رک جاو! اس کو ابھی کچھ نہ کہو ،

بابا بتا پہلی صف سے تو دوسری صف میں بھاگ آیا،

جب وہ ختم ہوئی تو تو تیسری صف میں بھاگ آیا،

بابا اب بتا، پیچھے تو کوئی اور صف بھی نہیں اب تو بھاگ کی کہاں جائیگا، اب تجھے مجھ سے کون بچائے گا ؟

اس بوڑھے نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا، میں نے پہلی صف کو اسلیے چھوڑا کہ شاید میں دوسرے میں بچ جاو، لیکن موت وہاں بھی پہنچی، پھر میں دوسری صف کو چھوڑ دیا، کہ شاید تیسری میں بچ جاؤں ،

ہلاکو نے گرز کو ہاتھ میں اچھالتے ہوے کہا بابا کیسی حام خیالی ہے یہ کیسی بہکی باتیں کررہے ہو بھلا تمہیں میری تلوار سے بھی کوئی بچا سکتا ہے؟

بوڑھے مسلمان نے زمین وآسمان کی ہر چیز کے مالک اس واحد لاشریک رب پر بےانتہا یقین کے ساتھ کہا، وہ اوپر والی ذات اگر چاہے تو کچھ بھی ہوسکتا ہے اور اگر وہ چاہے تو مجھے تجھ سے بچا سکتا ہے ،

کیسے بچا سکتا ہے؟ ہلاکو خان نے اتنے تکبر میں آکر کہا کہ اسکے ہاتھ سے گرز گر پڑا ،

ہلاکو خان چابک دست ہوشیار جنگجو اور چالاک انسان تھا، ہلاکو خان گھوڑے کے اوپر بیٹھے بیٹھے گرے ہوئے گرز کو اٹھانے کے لیے خود کو جھکایا کہ زمین پہ گرنے سے پہلے وہ اسے ہوا میں ہی پکڑ لے، اسی کوشیش میں ہلاکو خان کا ایک پاوں رکاب سے نکلا اور وہ اپنے گھوڑے سے نیچے آپڑا، جبکہ دوسرا پاؤں رکاب میں ہی پھنس کر رہ گیا ،

ہلاکو خان کا گھوڑا اتنا ڈر گیا کہ بھاگ نکلا، ہلاکو نے خود کو بچانے کی بڑی کوشیش کی، لشکر بھی حرکت میں آگیا لیکن گھوڑا اتنا طاقتور تھا کہ کسی کے قابو میں نہ آیا، وہ ہلاکو کو پتھروں میں گھسیٹ گھسیٹ کر بھاگتا رہا، یہاں تک کہ ہلاکو کا سر پتھروں سے پٹخ پٹخ کر اسقدر لہولہان ہوگیا کہ اس کی روح چند ہی منٹوں میں اپنے اس تکبر بھرے وجود کو چھوڑ کر جہنم رسید ہوگئی ،

لشکر نے جب بےانتہا کوششوں کے بعد ہلاکو خان کے طاقتور گھوڑے کو قابو کیا تو اس وقت تک اسکا سر برے طریقے سے کچلا جاچکا تھا ،

ہلاکو کا لشکر اس بوڑھے بزرگ سے اتنا خوفزداہ ہوگیا کہ لشکر نے اسے جان بوجھ کر نظر انداز کردیا اور وہ بابا بڑے آرام وسکون سے پیدل ہی اپنے گھر کیطرف چل پڑا ٬

مظلوم کی آہ سے ڈرو کیونکہ جب وہ اللہ سے رجوع کرتا ہے تو قبولیت بہت دور سے اسکا استقبال کرنے آتی ہے!
یہ تحریر تمام اہل ایمان خصوصاً قانون و انصاف کے رکھوالوں کے لئے ہے.....!!!

* اللّٰہُ اکبر*
*سبحان اللّٰہِ وبحمدہ سبحان اللّٰہِ العَظِیم*

01/05/2025

د مرګ نه بعد د انسان 9 ارمانونه چی قران کی یی ذکر شوی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱- يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا
ای کاش چی زه خاوری وی (ﺳﻮﺭة النبأ 40 #)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۲- * يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي *
ﺍی کاش چی ما د خپل اخیری ژوند لپاره څه کړی وی
( ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺠﺮ #24 )
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۳- يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ
ﺍی کاش چی ماته خپله عمل نامه نوی راکړی شوی
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺤﺎﻗﺔ #25)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۴- يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا
ﺍی کاش چی ما فلانکی دوست نوی جوړ کړی
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ #28 )
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۵- يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا
ﺍی کاش چی ما د الله او رسول فرمانبرداری کړی وی
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﺣﺰﺍﺏ #66)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۶- يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا
ﺍی کاش چی ما د رسول لاره خپله کړی وی
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ #27)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۷- يَا لَيْتَنِي كُنتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزًا عَظِيمًا
ﺍی کاش چی زه هم دوی سره وی مابه هم ستره کامیابی ترلاسه کړی وی
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻨﺴﺎﺀ #73)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۸- يَا لَيْتَنِي لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّي أَحَدًا
ﺍی کاش چی ما د خپل رب سره څوک شریک کړی نوی
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻜﻬﻒ #42)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۹- يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
ﺍی کاش چی مونګ بیرته دنیا ته ولیګی چی د خپل رب امر ومنو او د الله خبری داروغ ونه ګڼو او ایمان والا جوړ شو
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﻧﻌﺎﻡ #27)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دا هغه ارمانونه دی چی د مرګ نه بعد پری عمل کول ناممکن دی د دی لپاره ژوند کی د خپلی عقیدی عمل اصلاح ډیره ضروری ده
الله تعالی دی مونګ ته په صحی دین د عمل کولو توفیق راکړی په ښه سوچ او فکر سره
امین ثم امین یاربالعالمین😥
For more information please follow me 🙏

26/04/2025

⚠️ 📢 خیبر پختونخوا کے دیہی علاقوں میں بجلی کے جھٹکے کے شکار افراد کو مٹی یا ریت میں دفن کرنے کی روایت ایک قدیم اور غیر سائنسی طریقہ ہے جو آج بھی بعض مقامات پر رائج ہے۔ یہ عمل اس یقین پر مبنی ہے کہ مٹی "بجلی کو جذب" کر کے متاثرہ شخص کی حالت بہتر کر سکتی ہے۔ تاہم، طبی ماہرین اس طریقے کو خطرناک قرار دیتے ہیں۔

اس روایت کی جڑیں قدیم زمانے میں ہیں جب بجلی کے جھٹکے کے بارے میں سائنسی معلومات محدود تھیں۔ اس وقت کے لوگوں کا ماننا تھا کہ زمین میں دفن کرنے سے جسم میں موجود "بجلی" نکل جاتی ہے اور متاثرہ شخص کی حالت بہتر ہو جاتی ہے۔ یہ طریقہ وقت کے ساتھ ساتھ مختلف علاقوں میں رائج ہو گیا، خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں طبی سہولیات کی کمی تھی۔

حالیہ برسوں میں بھی اس روایت کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر، 2019 میں بھارت کے شہر پیلی بھیت میں ایک 58 سالہ کسان، جوگا سنگھ، کو بجلی کا جھٹکا لگا تو دیہاتیوں نے اسے مٹی میں دفن کر دیا۔ بدقسمتی سے، وہ پانچ گھنٹے بعد دم توڑ گیا۔ اسی طرح، 2020 میں بریلی میں ایک 17 سالہ لڑکی کو بجلی کا جھٹکا لگا تو اس کے والدین نے اسے ریت میں دفن کر دیا۔ خوش قسمتی سے، وہ بچ گئی، لیکن طبی ماہرین نے اس عمل کو خطرناک قرار دیا۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کے جھٹکے کے بعد فوری طبی امداد فراہم کرنا ضروری ہے۔ مٹی میں دفن کرنے سے متاثرہ شخص کی حالت مزید بگڑ سکتی ہے، کیونکہ اس سے سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے اور قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، مٹی میں موجود جراثیم زخموں میں انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں عوامی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ روایتی اور غیر سائنسی طریقوں سے گریز کریں اور جدید طبی امداد حاصل کریں۔ میڈیا، مقامی لیڈرز، اور صحت کے ادارے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

یاد رکھیں، بجلی کے جھٹکے کے بعد فوری اور درست طبی امداد زندگی بچا سکتی ہے۔ روایتی طریقوں پر انحصار کرنے کے بجائے، مستند طبی مدد حاصل کرنا ضروری ہے

17/04/2025

ڈوکسيسائکلین استعمال کرنے سے پہلے یہ ضرور جانیں!

ڈوکسيسائکلین ایک مشہور اینٹی بایوٹک ہے جو مختلف انفیکشنز میں استعمال ہوتی ہے جیسے کہ:
• جلد کے دانے (ایکنی)
• سانس کی نالی کے انفیکشن
• پیشاب کی نالی کے انفیکشن
• جنسی بیماریاں

لیکن احتیاط کیجئے! اس دوا کے کچھ سنگین سائیڈ ایفیکٹس بھی ہو سکتے ہیں:

1. پیٹ کی خرابی
متلی، قے، اسہال، اور معدے میں جلن۔

2. دھوپ سے جِلد پر جلن
دھوپ میں نکلنے پر جلد سرخ یا جل سکتی ہے۔

3. بچوں کے دانت پیلے پڑ سکتے ہیں
8 سال سے کم عمر بچوں میں دانتوں کی رنگت متاثر ہو سکتی ہے۔

4. جگر و گردوں پر اثرات
طویل استعمال جگر اور گردے کو نقصان دے سکتا ہے۔

5. غذائی نالی میں زخم
اگر دوا پانی کے بغیر یا لیٹ کر لی جائے۔

6. الرجی اور شدید ردعمل
خارش، سانس کی گھٹن، یا چکر۔

7. دماغی دباؤ میں اضافہ (نایاب مگر خطرناک)
نظر دھندلانا، سر درد، یا متلی۔

کیا کرنا ہے؟
دوا صرف مستند فزیشن / فارماسسٹ /کے مشورے سے استعمال کریں۔
• خالی پیٹ نہ لیں، اور ہمیشہ پانی کے ساتھ بیٹھ کر لیں۔
• سورج میں جانے سے پرہیز کریں یا سن بلاک کا استعمال کریں۔
• بچوں میں استعمال سے پہلے خصوصی مشورہ لیں۔

یاد رکھیں:
ہر دوا فائدہ بھی دے سکتی ہے اور نقصان بھی، فرق صرف آگاہی اور احتیاط کا ہے!
for more information follow me

09/03/2024

۔IBS/سنگرہنی کی علامات/پرہیز کیا ہیں؟(Signs of IBS)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کے دور میں یہ بھی پیٹ کا ایک عام مسلئہ بن چکا ہے،
آئی بی ایس یعنی (Irritable Bowel Syndrome) ایک دائمی، غیر سوزش اور تکلیف دہ بیماری ہے, جو کسی وجہ سے جیساکہ غیر متوازن غذا،ڈیپریشن، سٹرس، تنائو، انزائٹی، غلط عادات، نیند کی کمی، اور پیٹ کے انفیکشنز وغیرہ سے ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں لاکھوں افراد IBS کے مرض میں مبتلا ہیں۔ آئی بی ایس کو لوگ سنگرہنی ، گیس یا آپھارا کا مسلئہ بھی کہتے ہیں۔
باقی آی بی ایس کی علامتیں ہر مریض میں کچھ مختلف ہو سکتی ہیں ۔مریض میں آی بی ایس کی علامتیں آتی ہیں پھر چلی جاتی ہیں،کبھی قبض توکبھی لوز موشن،تو کبھی مریض نارمل محسوس کرتا ہے۔ کبھی آی بی ایس کی علامتیں کچھ دن رہتی ہیں تو کبھی مہینوں سالوں چلتی ہیں۔
1:کھانے کے بعد فوری پاخانہ انا
2: پیٹ میں درد ، مروڑ کا ہونا کبھی کچھ دن کے لیے
توکبھی مہینوں تک ،
3:تیزابیت، جلن کا ھونا اور اس کی وجہ سے منہ میں چھالےبھی پڑ جاتے ہیں،
4:معدے میں درد ھونا
5:اپھارہ۔یا پیٹ میں گیس بھرنا
6:متلی ھونا
7:معدے سکڑتا ھوا محسوس ھونا
8:الٹی یا قے انا ،بد ہضمی کا ہونا
9؛دائمی قبض کی صورت میں بواسیر بھی ہو سکتی ہے۔
10: کبھی قبض ھونا تو کبھی موشن ہونا
11:موشن ۔ڈاٸریا ۔پتلے پاخانے انا
12:روزنہ تین چار بار یا اس سے زیادہ پاخانہ انا
13: بھوک نہ لگنا یا کم بھوک لگنا
14:بدبودار اور مختلف رنگوں میں پاخانہ انا
15:کچھ ٹھوس اور کچھ نرم پاخانہ انا
16:جل کر پاخانہ ھونا اور پاخانے میں بلغم کا ہونا
17:ایسا محسوس کرنا جیسے آنتوں کی حرکت نے آنتوں کو مکمل طور پر خالی نہیں کیا ، مطلب ، ٹوائلٹ کی حاجت ٹوائلٹ سے فارغ ہونے کے بعد بھی رہنا۔
18:بار بار آنتوں کو خالی کرنے کی فوری ضرورت کا سامنا کرنا ۔
19:وزن کا کم ہونا خصوصاً زیادہ موشن کی وجہ سے ،
20: مزید آی بی ایس کے مریضوں میں ڈیپریشن انزائٹی کی علامتیں بھی ہو سکتی ہے ۔ جیسا کہ نیند کا مسلئہ ، ڈر خوف اور گھبراہٹ کا ہونا ، موت کا ڈر لگنا،کسی کام کو کرنے کا دل نہ کرنا، ہر ٹائم کمزوری تھکاوٹ محسوس کرنا۔ منفی سوچ اور خودکشی کے خیالات کا آنا، نفسیاتی مردانہ کمزوری کا ہونا ، چڑچڑاپن وغیرہ وغیرہ

۔IBS کی تشخیص و علاج ؟
آئی بی ایس کی تشخیص کے لیے کوئی عام سپیشل ٹیسٹ نہیں ہوتا , لیکن پھر بھی کچھ ضروری ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ تا کہ مریض کو کوئی اور بیماری یا مسلئہ تو نہیں
کیونکہ یہی آئی بی ایس کی علامتیں اور بھی بہت سی بیماریوں میں ہو سکتی ہیں۔ ڈاکٹر عموماً آئی بی ایس کی کلینیکل تشخیص کرتے ہیں۔
باقی اٸی بی ایس ایک سینڈروم ہے جو لمبے عرصے تک رہتا ہے۔اور اسکی تشخیص کے بعد مریض کو ہر اس چیز سے مکمل پرہیز کرنی چاہیے،جس سے IBS کی علامتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ خصوصاً دودھ سے بنی ہوئی ہر چیز سے، چائے،کافی سے ،تمام بوتلوں سے، میٹھی اشیاء سے، کھٹی اور زیادہ مرچ مسالے والی چیزوں سے پرہیز کرنی چاہیے،اور مزید سٹرس،تنائو کو بھی کم کرنا چاہیے ۔ آئ بی ایس کے کافی مریض تو بس پرہیز سے نارمل زندگی گزار سکتے ہیں، یاد رکھیں اس میں مستقل پرہیز کرنی ہوتی ہے، اور آپ پراپر کسی Dietitian یعنی ماہر غذائیت سے بھی مدد لے سکتے ہیں،
جس مریض کو آئی بی ایس کا زیادہ مسلئہ ہو تو پھر اس کو پراپر میڈیکل علاج کےلئے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ اور میڈیسن باقاعدگی سے استعمال کرنا چاہیے۔
باقی یاد رکھیں, اگر پرہیز نہیں کرو گے تو پھر میڈیسن لینے سے بھی زیادہ فائدا نہیں ہونا۔لہذا پرہیز لازمی کریں, شکریہ
Rehan official

09/03/2024

اسلام علیکم!
آج کا موضوع تھائرائیڈ غدود Thyroid Gand کے حوالے سے ہے،

تھائیرائیڈ Thyroid سے جڑے اہم سوالات جن کے جواب جاننا ضروری ہیں خاص کر خواتین کے لیے!

پاکستان میں ہر 12 میں سے ایک شخص تھائرائیڈ Thyroid کے مسئلے سے دوچار ہے۔ 2021 کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں تھائرائیڈ کے تقریباً 1 کروڑ مریض ہیں۔

تھائیرائیڈ Thyroid کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تقریباً ایک تہائی لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ اس مرض میں مبتلا ہیں۔

ویسے یہ بیماری خواتین میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ حمل Pregnancy اور پیدائش کے پہلے تین مہینوں کے دوران، تقریباً 44 فیصد خواتین کو تھائیرائیڈ Thyroid کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

تھائیرائیڈ کیا ہے؟
What is Thyroid Gland?

تھائرائیڈ Thyroid گردن کے قریب تتلی کی شکل کا ایک غدود Gland ہوتا ہے۔ یہ غدود Gland ایسے ہارمونز Hormones پیدا کرتا ہے جو دل، دماغ اور جسم کے دیگر حصوں کو صحیح طریقے سے چلاتا ہے۔

یہ جسم کو توانائی کا استعمال کرنے کے قابل بناتا ہے اور اسے گرم رکھتا ہے۔

ایک طرح سے یہ غدود جسم کی بیٹری کی طرح کام کرتا ہے۔ اگر یہ غدود کم یا زیادہ ہارمونز خارج کرے تو تھائرائیڈ Thyroid کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔‘

تھائیرائیڈ کی کتنی اقسام ہیں؟
Types Of Thyroid Gland Disorders..
جب تھائرائڈ گلینڈ جسم کے لیے مناسب ہارمونز پیدا کرنے نہیں کر پاتے تو اسے ’ہائپو تھائیرائیڈزم‘ Hypothyroidism کہا جاتا ہے۔ یعنی یہ ایک ایسے کھلونے کی طرح ہے جس کی بیٹری مر چکی ہے۔ ایسی حالت میں جسم پہلے کی طرح متحرک نہیں رہتا اور اس کے مریض جلد تھک جاتے ہیں۔

اس میں تھائیرائیڈ گلینڈ Thyroid Gland سے ٹرائی آئوڈین تھائروکسن Triiodothyronine یعنی T3اور تھائروکسین یعنی T4 ہارمونز کا اخراج کم ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں تھائیرائیڈ سٹریمولیٹنگ ہارمون TSH بڑھ جاتا ہے۔

اگر یہ غدود زیادہ ہارمون پیدا کرنے لگے تو اس مسئلے کو 'ہائپر تھائیرائیڈزم' Hyperthyroidism کہا جاتا ہے۔ ایسے میں مریضوں کی حالت اس شخص کی سی ہو جاتی ہے جس نے بہت زیادہ کیفین Caffeine لی ہو۔

تیسری حالت تھائیرائیڈ گلینڈ کی سوجن ہے جسے گوئٹر Goiter کہتے ہیں۔ اگر یہ دوائیوں سے ٹھیک نہیں ہوتا ہے تو اسے سرجری کے ذریعے درست کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

تھائیرائیڈ کی علامات کیا ہوتی ہیں؟
Sign and Symptoms Of Thyroid Gland...
ہائپو تھائیرائیڈ کی علامات:
Symptoms of Hypothyroidism:
وزن بڑھنا، Weight Gain چہرے، ٹانگوں کی سوجن، Swelling or Inflammation کمزوری، Weakness سُستی، Fatigue بھوک کا نہ لگنا، Anorexia بہت زیادہ نیند آنا، Sleep Distrubness بہت زیادہ ٹھنڈ لگنا، Cold Intolaranceخواتین کی صورت میں ماہواری میں تبدیلی، Menstrual Period Irregular بالوں کا گرنا، Hair Fall حاملہ ہونے میں دشواری Infertility وغیرہ۔

ہائپر تھائیرائیڈ کی علامات:
Symptoms of Hyperthyroidism:
چونکہ یہ ہارمونز کو زیادہ مقدار میں خارج کرتا ہے، اس لیے کافی کھانے اور بھوک لگنے کے بعد بھی یہ وزن میں کمی Weight Loss اور اسہال Diarrhea کا باعث بنتا ہے۔
اس میں بے چینی ہے، ہاتھ پاؤں میں کپکپاہٹ اور گرمی زیادہ محسوس ہونا Feeling Hot۔ موڈ میں تبدیلی اور نیند نہ آنا دل کی دھڑکن Palpitations میں اتار چڑھاؤ آتا ہے اور بینائی کمزور ہوتی ہے۔‘

احیتیاط:
Precautions:
کیا کریں اور کیا نہ کریں؟
طرز زندگی کو بدل کر بھی تھائیرائڈ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے متوازن خوراک لینا بہت اہم ہے۔ کھانے میں پھل، سبزیاں، انڈے شامل ہونے چاہئیں۔ فاسٹ فوڈ سے پرہیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے۔

آئوڈین Iodene تھائیرائڈ کے لیے اہم ہے، جو ہارمونز بنانے میں مدد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ سیلینیم Sellinium تھائیرائڈ کے اینزائمز Enzymes کو متحرک کرتا ہے۔ ہم اسے چاول، مچھلی، گوشت اور سبزیوں سے حاصل کرتے ہیں۔

ڈاکٹر کھانے میں پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس Carbohydrates کو شامل کرنے کی تجویز دیتے ہیں۔ اس میں فائبر Fiber زیادہ ہوتا ہے، جو ہمیں اناج، سبزیوں اور پھلوں سے ملتا ہے۔

ہائپو تھائیرائڈزم Hypothyroidism میں میٹابولزم Metabolism کی شرح کم ہوجاتی ہے، اسے بڑھانے کے لیے کارڈیو ورزش کرنی چاہیے، جس میں جاگنگ، دوڑنا، تیز چہل قدمی، ٹریڈ مل پر دوڑنا شامل ہیں۔

ڈاکٹرز تھائرائیڈ کے مریضوں کو گلائسیمین Glycemene کھانے سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس میں پولش چاول، فائبر کم خوراک، ریفائنڈ آٹے سے پرہیز کریں۔

اچھی نیند لینے سے بھی تھائیرائیڈ کنٹرول میں رہتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹرز بھی محفوظ خوراک اور پیکجڈ فوڈ سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

تھائرائڈ کا پتہ لگانے کے لئے کون سا ٹیسٹ؟
Laboratory Tests For Thyroid Gland Abnormalities:
تھائیرائیڈ گلینڈ دو بڑے ہارمونز پیدا کرتا ہے، جن میں ٹرائی آئوڈین تھائیروکسین یعنی T3 اور تھائیروکسین یعنی T4 اور ٹی ایس ایچ TSH یعنی تھائیرائیڈ کو متحرک کرنے والے ہارمون شامل ہیں۔

یہ معلوم کرنے کے لیے کہ غدود ٹھیک سے کام کر رہا ہے یا نہیں، تھائیرائیڈ پروفائل ٹیسٹ Thyroid Profile Tests کیا جاتا ہے۔ اس کی مدد سے خون میں ٹی 3، ٹی4 اور ٹی ایس ایچ جیسے ہارمونز کی سطح کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

زیادہ تر معاملات میں T4 اور TSH ٹیسٹ ایک ساتھ کیا جاتا ہے۔ تھائرائیڈ پروفائل ٹیسٹ کی قیمت تقریباً اچھی لیبارٹری میں 1500 سے 2000 روپے ہے۔۔۔

حمل کے دوران تھائیرائیڈ:
Thyroid Issue during Pregnancy:
حمل کے دوران خواتین کو اکثر ذیلی کلینیکل ہائپوتھائیرائڈزم Sub-Clinical Hypothyroidism ہوتا ہے۔

اس حالت میں تھائرائیڈ کی علامات نظر نہیں آتیں لیکن حمل کے دوران ٹی ایس ایچ TSH کی سطح بڑھ جاتی ہے۔

اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو اسقاط حمل کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے لیے ڈاکٹر ہر چھ ہفتے بعد ٹی ایس ایچ TSH لیول چیک کروانے کو کہتے ہیں۔

کیا یہ مسئلہ جان لیوا ہے؟
Is Thyroid Gland issue Life Threaten?
اگر وقت پر ہائپو تھائیرائیڈزم کو نہ پہچانا جائے تو بعض اوقات ذہنی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب ہائپر تھائیرائیڈزم کی وجہ سے دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے اور کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے دل کی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔

ہائپو تھائیرائیڈزم Hypothyroidism کی صورت میں مریض سوڈیم کی سطح میں کمی کی وجہ سے کوما میں جا سکتا ہے۔ اگر بچوں کی پیدائش کے بعد اس مسئلے کو نہ پہچانا جائے تو ان کی ذہنی نشوونما رک سکتی ہے۔بچے کا آئی کیو لیول کم ہو سکتا ہے۔

چونکہ یہ مسئلہ علاج سے آسانی سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے، اس لیے اس بیماری کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں ہے۔ ورنہ بچوں کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ جب سکول جانے والے بچوں میں ایسا ہوتا ہے تو ان کی نشوونما Growth رک سکتی ہے۔

اگر تھائیرائیڈ کے ان دونوں مسائل کو وقت پر نہ پہچانا جائے تو بعض اوقات یہ جان لیوا بھی بن سکتے ہیں۔

تھائرائیڈ اڈ کینسر کیا ہے؟
What is Thyroid Cancer?
ایک اندازے کے مطابق 100 میں سے 4 خواتین کو تھائرائیڈ کینسر ہوتا ہے۔

کینسر کو تھائرائیڈ گلینڈ میں کچھ خلیوں کی ضرورت سے زیادہ نشوونما کا نام دیا جاتا ہے۔ اگر بروقت پتہ چل جائے تو اس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔

تھائیرائیڈ کینسر کی علامات میں گلے میں گانٹھ، Goiter سانس لینے میں دشواری Breathing Problems اور نگلنے Swallowing میں دشواری شامل ہو سکتی ہے۔

ایسی علامات میں ڈاکٹر ناک، کان، گلے کے ماہر سے ملنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

تھائیرائیڈ کے بارے میں کوئی بھی سوال آپ کمنٹس میں پوچھ سکتے ہیں

شکریہ

Rehan official

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Dir?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Dir