All New Design

All New Design

Share

29/10/2025

@ [388618657112112:49210:]

29/10/2025

Easy sewing machine foot control fixing method
All New Design

Photos from All New Design's post 29/10/2025

JB Collection fraud & scam
یہ پیج فیس بک پر سادہ لوح عوام کو سوٹ دکھاتا ہے ،اور پیسے لیکر بلاک کر دیتا ہے، میری والدہ آن لائن اشیاء آرڈر کرتی رہتی ہیں
جب اس پیج سے رابطے کے بعد والدہ نے آرڈر کیا تو فل ایڈوانس پیمنٹ کا
تقاضا کیا گیا ،کچھ ہچکچاہٹ کے بعد والدہ نے ان پر اعتماد کرکے پیمنٹ بھی کردی کہ یہاں اور بھی بہت سے ایماندار سیلر ہیں ، لیکن پیمنٹ کے بعد پہلے تو جھوٹ بولا گیا کہ آرڈر ڈن ہوگیا ہے جب کچھ دن بعد پوچھا تو جواب ملا راستے میں ہے، ٹریکنگ آئی ڈی مانگنے پر نہیں بھیجی گئی، شک گزرا کہ آخر اتنے کتنے دن اور انتطار کرنا ہے؟ پھر پارسل کی یاد دہانی کروائی ہم نے ، باقی فراڈیے کچھ بھیج تو دیتے ہیں لیکن یہ پیمنٹ لیکر بلاک کر گئے ، جب دوسرے نمبر سے رابطہ کیا پھر سے واردات کے لئے کوشاں ہیں یہ فراڈیے اور دھڑلے سے یہ کام کر رہے ہیں ،نا جانے کتنوں کو لوٹ چکے ہیں ، چونا لگا چکے ہیں ان کو کوئی رپورٹ کرکے پکڑ وا سکتا ہے ؟ ہو سکے تو انہیں رپورٹ لازمی کریں اور آن لائن اشیاء خریدنے والے احباب سے شیئر کردیں تا کہ وہ ان کے شر سے محفوظ رہیں ۔

M Junaid Jazz Cash
03044357036
M Junaid 03044357036
اس نمبر پر پ
پیسے منگوائے گئے

21/10/2025

All New Design

🧠 بچے کو اس کی عمر کے مطابق صحیح طریقے سے کیسے سمجھائیں یا سزا دیں؟

"نہ مارنا ہے، نہ چیخنا ہے!" 🙅‍♀️💔

سزا کا مطلب یہ نہیں کہ بچہ ڈر جائے یا اداس ہو…
اصل مقصد یہ ہے کہ ہم اسے سکھائیں اور سنواریں ✨

👶 عمر: ایک سے تین سال
اس عمر میں بچہ سزا کا مطلب نہیں سمجھتا 😅

🧸 حل؟ غلط رویے کو نظرانداز کریں، اور اس کی توجہ کسی اور طرف موڑ دیں
🎨 کھلونے بدل دیں، جگہ بدل دیں، یا اچانک کوئی گانا گائیں
❌ مارنا یا اونچی آواز میں ڈانٹنا صرف اسے ڈراتا ہے، سکھاتا کچھ نہیں

👧 عمر: تین سے پانچ سال
اب بچہ نتائج سمجھنے لگتا ہے

🪑 "ٹائم آؤٹ" یا "سزا والی کرسی" کا طریقہ اپنائیں — جتنی عمر، اتنی ہی منٹ (تین سال = تین منٹ)
✋ سزا ہمیشہ سکون سے اور بغیر بے عزتی کے دیں
🗣️ مثال: "میں تم سے ناراض نہیں… مجھے تمہارے اس عمل سے افسوس ہوا ہے" ✅

👦 عمر: چھ سے نو سال
یہ عمر انصاف کا احساس پیدا ہونے کی ہوتی ہے 👨‍⚖️

🧩 منطقی سزا دیں:
کھلونا توڑا؟ → نیا نہیں ملے گا
کام مکمل نہیں کیا؟ → کارٹون نہیں دیکھے گا
🧠 سزا ہمیشہ اس غلطی سے جڑی ہونی چاہیے جو کی گئی ہے

👩‍🎓 عمر: نو سال سے زیادہ
یہاں بچہ یا بچی تقریباً بڑے ہو چکے ہوتے ہیں

🤝 سزا طے کرنے میں انہیں شریک کریں:
"اگر تم نے کمرہ صاف نہ کیا تو تمہارے خیال میں کیا مناسب ہوگا؟"
🗨️ بات چیت اور سمجھانا سزا سے زیادہ مؤثر ہے
❌ اس عمر میں بے عزتی یا مذاق سخت نقصان پہنچاتا ہے

✅ یاد رکھیں
ہماری منزل صرف سزا دینا نہیں…
ہمیں ایک ایسا بچہ تربیت کرنا ہے جو ذمہ دار، سمجھدار اور باشعور ہو ❤️

تربیت ایک لمبا سفر ہے… آج کا ہر عمل ان کی آنے والی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔All New Design   #loopsdesing #lacestrouser #organzastyle  #cutdesign #heavyshirtdesign #patchshirt  #summerdesigns  #sleevedesign #shirtidea #grmidress #crosstrouser  #galadesign #trouserstyles #trouserbottom #pintucks #PlainTrouser #wintertrouser #lacestrouser #100k #bestchallenge #grmidress #sleevedesing #damandesign #loopsdesign #curvedesign #Vdesign #jalidesign #shirtBottomdesign #samosadesign #cutworkdesign  #curvefashion #Allnewdesign 

#photographychallengepicture #fypviralシ 
#photooftheday#photographychallenge#PhotoEditingChallenge#bestphotographychallengege#photochallenge#moodchallengemoodchallenge 
#moodchallengechallenge1kToday#BestPhotographyChallenge#bestphotochallenge#photography
#photographychallengechallengeraphychallengechallengephoto2025 20/10/2025

🧠 بچے کو اس کی عمر کے مطابق صحیح طریقے سے کیسے سمجھائیں یا سزا دیں؟ "نہ مارنا ہے، نہ چیخنا ہے!" 🙅‍♀️💔 سزا کا مطلب یہ نہیں کہ بچہ ڈر جائے یا اداس ہو… اصل مقصد یہ ہے کہ ہم اسے سکھائیں اور سنواریں ✨ 👶 عمر: ایک سے تین سال اس عمر میں بچہ سزا کا مطلب نہیں سمجھتا 😅 🧸 حل؟ غلط رویے کو نظرانداز کریں، اور اس کی توجہ کسی اور طرف موڑ دیں 🎨 کھلونے بدل دیں، جگہ بدل دیں، یا اچانک کوئی گانا گائیں ❌ مارنا یا اونچی آواز میں ڈانٹنا صرف اسے ڈراتا ہے، سکھاتا کچھ نہیں 👧 عمر: تین سے پانچ سال اب بچہ نتائج سمجھنے لگتا ہے 🪑 "ٹائم آؤٹ" یا "سزا والی کرسی" کا طریقہ اپنائیں — جتنی عمر، اتنی ہی منٹ (تین سال = تین منٹ) ✋ سزا ہمیشہ سکون سے اور بغیر بے عزتی کے دیں 🗣️ مثال: "میں تم سے ناراض نہیں… مجھے تمہارے اس عمل سے افسوس ہوا ہے" ✅ 👦 عمر: چھ سے نو سال یہ عمر انصاف کا احساس پیدا ہونے کی ہوتی ہے 👨‍⚖️ 🧩 منطقی سزا دیں: کھلونا توڑا؟ → نیا نہیں ملے گا کام مکمل نہیں کیا؟ → کارٹون نہیں دیکھے گا 🧠 سزا ہمیشہ اس غلطی سے جڑی ہونی چاہیے جو کی گئی ہے 👩‍🎓 عمر: نو سال سے زیادہ یہاں بچہ یا بچی تقریباً بڑے ہو چکے ہوتے ہیں 🤝 سزا طے کرنے میں انہیں شریک کریں: "اگر تم نے کمرہ صاف نہ کیا تو تمہارے خیال میں کیا مناسب ہوگا؟" 🗨️ بات چیت اور سمجھانا سزا سے زیادہ مؤثر ہے ❌ اس عمر میں بے عزتی یا مذاق سخت نقصان پہنچاتا ہے ✅ یاد رکھیں ہماری منزل صرف سزا دینا نہیں… ہمیں ایک ایسا بچہ تربیت کرنا ہے جو ذمہ دار، سمجھدار اور باشعور ہو ❤️ تربیت ایک لمبا سفر ہے… آج کا ہر عمل ان کی آنے والی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔All New Design #loopsdesing #lacestrouser #organzastyle #cutdesign #heavyshirtdesign #patchshirt #summerdesigns #sleevedesign #shirtidea #grmidress #crosstrouser #galadesign #trouserstyles #trouserbottom #pintucks #PlainTrouser #wintertrouser #lacestrouser #100k #bestchallenge #grmidress #sleevedesing #damandesign #loopsdesign #curvedesign #Vdesign #jalidesign #shirtBottomdesign #samosadesign #cutworkdesign #curvefashion #Allnewdesign #photographychallengepicture #fypviralシ #photooftheday#photographychallenge#PhotoEditingChallenge#bestphotographychallengege#photochallenge#moodchallengemoodchallenge #moodchallengechallenge1kToday#BestPhotographyChallenge#bestphotochallenge#photography #photographychallengechallengeraphychallengechallengephoto2025

Photos from All New Design's post 20/10/2025

🧠 بچے کو اس کی عمر کے مطابق صحیح طریقے سے کیسے سمجھائیں یا سزا دیں؟

"نہ مارنا ہے، نہ چیخنا ہے!" 🙅‍♀️💔

سزا کا مطلب یہ نہیں کہ بچہ ڈر جائے یا اداس ہو…
اصل مقصد یہ ہے کہ ہم اسے سکھائیں اور سنواریں ✨

👶 عمر: ایک سے تین سال
اس عمر میں بچہ سزا کا مطلب نہیں سمجھتا 😅

🧸 حل؟ غلط رویے کو نظرانداز کریں، اور اس کی توجہ کسی اور طرف موڑ دیں
🎨 کھلونے بدل دیں، جگہ بدل دیں، یا اچانک کوئی گانا گائیں
❌ مارنا یا اونچی آواز میں ڈانٹنا صرف اسے ڈراتا ہے، سکھاتا کچھ نہیں

👧 عمر: تین سے پانچ سال
اب بچہ نتائج سمجھنے لگتا ہے

🪑 "ٹائم آؤٹ" یا "سزا والی کرسی" کا طریقہ اپنائیں — جتنی عمر، اتنی ہی منٹ (تین سال = تین منٹ)
✋ سزا ہمیشہ سکون سے اور بغیر بے عزتی کے دیں
🗣️ مثال: "میں تم سے ناراض نہیں… مجھے تمہارے اس عمل سے افسوس ہوا ہے" ✅

👦 عمر: چھ سے نو سال
یہ عمر انصاف کا احساس پیدا ہونے کی ہوتی ہے 👨‍⚖️

🧩 منطقی سزا دیں:
کھلونا توڑا؟ → نیا نہیں ملے گا
کام مکمل نہیں کیا؟ → کارٹون نہیں دیکھے گا
🧠 سزا ہمیشہ اس غلطی سے جڑی ہونی چاہیے جو کی گئی ہے

👩‍🎓 عمر: نو سال سے زیادہ
یہاں بچہ یا بچی تقریباً بڑے ہو چکے ہوتے ہیں

🤝 سزا طے کرنے میں انہیں شریک کریں:
"اگر تم نے کمرہ صاف نہ کیا تو تمہارے خیال میں کیا مناسب ہوگا؟"
🗨️ بات چیت اور سمجھانا سزا سے زیادہ مؤثر ہے
❌ اس عمر میں بے عزتی یا مذاق سخت نقصان پہنچاتا ہے

✅ یاد رکھیں
ہماری منزل صرف سزا دینا نہیں…
ہمیں ایک ایسا بچہ تربیت کرنا ہے جو ذمہ دار، سمجھدار اور باشعور ہو ❤️

تربیت ایک لمبا سفر ہے… آج کا ہر عمل ان کی آنے والی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔
All New Design

Photos from All New Design's post 12/10/2025

پرانے زمانے کا قصہ ہے کہ ایک ایسا بے وقوف سا نائی تھا جو کوئی کام سیدھا نہیں کر سکتا تھا۔ حتی کہ بال کاٹتے وقت وہ کان کاٹ دیتا تھا اور حجامت کرتے وقت گلا۔ نتیجہ یہ کہ اس کا کام ٹھپ ہوتا گیا اور وہ اپنی چیزیں بیچ کر گزارا کرنے پر مجبور ہو گیا۔ رفتہ رفتہ ایسا وقت آیا کہ اس کے گھر میں صرف دو چیزیں باقی بچیں، اس کا استرا اور اس کی بیوی، اور یہ فیصلہ کرنا دشوار تھا کہ ان میں سے زیادہ تیز کون ہے۔
ایک دن نائی کی بیوی اسے بے وقوفیوں پر طعنے دے رہی تھی کہ وہ بے بسی سے بولا ”یہ سب بار بار کہنے کا کیا فائدہ ہے؟ میں تم سے متفق ہوں، میں نے کبھی خود سے کچھ نہیں کمایا، میں کبھی خود سے کچھ نہیں کما سکتا، اور میں کبھی کسی کو کمانے بھی نہیں دوں گا۔ یہ حقیقت ہے“۔
”تم کام نہیں کر سکتے تو بھیک مانگو۔ میں بھوکا نہیں مرنا چاہتی۔ بادشاہ کے محل میں جا کر اس سے کچھ مانگو۔ شہزادی کی شادی ہو رہی ہے اور بادشاہ غریبوں میں خیرات بانٹ رہا ہے، بادشاہ کو کہو کہ تمہیں کچھ بھی دے دے“۔
نائی نے ایسا ہی کیا اور بادشاہ کے محل میں جا کر اس سے کہا کہ وہ نائی کو کچھ بھی دے دے۔
”کچھ بھی؟ کیا دوں؟ “ بادشاہ نے پوچھا۔
اب نائی کی بیوی نے یہ تو نہیں بتایا تھا کہ اسے کیا مانگنا چاہیے اور نائی کا اپنا دماغ کچھ سوچنے سے قاصر تھا۔ اس نے پریشان ہو کر کہا ”کچھ بھی دے دیں“۔
”کچھ زمین دے دوں؟ “ بادشاہ نے پوچھا۔
نائی کی جان میں جان آئی کہ وہ کچھ بھی کے مسئلے سے نکلا۔ وہ بولا ”ہاں کوئی بھی زمین دے دیں“۔
بادشاہ نے اسے شہر سے باہر ایک اجڑی پجڑی زمین دینے کا حکم دے دیا۔ نائی گھر واپس پہنچا تو بیوی نے پوچھا ”تمہیں کیا ملا ہے؟ جلدی دو تاکہ میں روٹی خرید کر لاؤں“
نائی نے زمین کا بتایا تو وہ آگ بگولا ہو گئی اور اسے خوب ڈانٹا کہ ایسی غیر آباد زمین ہمارے کس کام کی۔ نائی بولا ”لیکن زمین تو زمین ہے، وہ کہیں نہیں جائے گی اور ہمارے پاس ہمیشہ رہے گی“۔
”کیا تم سے زیادہ بے وقوف کوئی دوسرا ہے؟ زمین کا کیا فائدہ اگر ہم اس میں کاشت نہ کر سکیں؟ کیا تمہارے پاس ہل چلانے کے لئے بیل ہیں؟ “ بیوی غرائی۔
نائی منہ لٹکا کر بیٹھ گیا مگر چالاک بیوی سوچنے لگی کہ کیا کرے۔ آخر اس نے ایک منصوبہ بنایا اور نائی کو لے کر اپنی زمین پر چلی گئی۔ اس کے بعد اس نے نائی کو کہا کہ وہ بھی اس کی نقل کرے اور خود غور سے جگہ جگہ زمین کو دیکھنے لگی، مگر جیسے ہی کوئی آدمی ان کے قریب آتا تو وہ ایسے بیٹھ جاتی جیسے کچھ بھی نہ کر رہی ہو۔
اس زمین کے قریب ہی جنگل میں سات چور رہتے تھے۔ وہ سارا دن دیکھتے رہے کہ نائی اور اس کی بیوی چھپ چھپ کر زمین پر کچھ تلاش کر رہے ہیں۔ شام ڈھلے ایک چور نائی کے پاس گیا اور اس سے پوچھنے کی کوشش کرنے لگا کہ اسے کس چیز کی تلاش ہے۔
نائی کی بیوی نے پہلے تو کچھ دیر ٹال مٹول کی پھر گویا تھک ہار کر کہنے لگی ”یہ زمین میرے دادا کی ہے، انہوں نے یہاں اشرفیوں کی پانچ دیگیں دفن کی تھِیں مگر ہمیں ان کی صحیح جگہ بتانے سے پہلے ہی فوت ہو گئے۔ اب ہم وہ دیگیں تلاش کر رہے ہیں۔ تم کسی کو یہ بات مت بتانا ورنہ وہ دیگیں تلاش کر کے لے جائے گا اور ہم محروم رہ جائیں گے“۔
چور نے وعدہ کیا کہ وہ کسی کو نہیں بتائے گا مگر شام ڈھلے جب نائی اور اس کی بیوی گھر واپس گئے تو چور اپنے ساتھیوں کو لے آیا اور ساتوں مل کر اپنے بیلوں سے ہل چلا چلا کر خزانہ تلاش کرنے لگے۔ صبح تک کھیتوں کی ایسی حالت ہو گئی جیسے اس میں سات مرتبہ ہل چلا دیا گیا ہو مگر انہیں وہاں کچھ نہ ملا۔
اگلی صبح نائی کی بیوی نے سارے کھیتوں میں ہل چلا دیکھا تو بہت خوش ہوئی۔ وہ بیج ادھار لائی اور زمین میں بو دیے۔ ہل بہت اچھا چلا تھا تو فصل بھی بہت اچھی ہوئی۔ نائی کی بیوی نے تمام قرضے چکا دیے اور پھر بھی اتنے پیسے بچ گئے کہ اس نے کچھ سونا خریدا اور ایک مٹکے میں چھپا دیا۔
چوروں نے یہ دیکھا تو بہت غصے میں آئے۔ وہ نائی کے گھر گئے اور اسے کہنے لگے ”ہمیں فصل میں سے ہمارا حصہ دو کیونکہ ہل ہم نے چلایا تھا“۔
نائی کی بیوی ہنسی ”میں نے تمہیں بتایا تو تھا کہ زمین میں سونا ہے لیکن تمہیں وہ نہیں ملا۔ اب وہ سونا گھر میں ایک مٹکے میں چھپایا ہوا ہے لیکن تمہیں نہیں ملے گا“۔
چوروں نے کہا ”تم سیدھے طریقے سے ہمارا سونا ہمیں نہیں دو گے تو ہم خود لے لیں گے۔ آج رات دیکھ لینا“۔
نائی کی بیوی نے پھر انکار کیا اور چور واپس چلے گئے۔ لیکن ایک چور گھر میں چھپ گیا تاکہ رات کو وہ اپنے ساتھیوں کے لئے دروازہ کھول دے۔ نائی کی بیوی نے اپنی آنکھ کے گوشے سے اسے چھپتے دیکھ لیا۔
نائی چوروں سے بہت ڈرا ہوا تھا۔ اس نے اپنی بیوی سے پوچھا ”تم نے سونا کہاں چھپایا ہے؟ “
بیوی بولی ”ایسی جگہ چھپایا ہے کہ وہ کسی کو نہیں ملے گا۔ باہر کے دروازے کے ساتھ رکھے مٹکے میں مٹھائیوں کے نیچے چھپا دیا ہے۔ “
چور یہ سن کر بہت خوش ہوا۔ آدھی رات کو وہ اپنی کمین گاہ سے نکلا اور مٹکا لے کر چمپت ہو گیا۔ سب چور مل کر باہر جنگل میں پہنچے اور مال بانٹنے کی تیاری کرنے لگے۔ مٹکا لانے والا چور کہنے لگا ”نائی کی بیوی نے بتایا تھا کہ سونے کے اوپر مٹھائیاں رکھی ہیں تاکہ کسی کو شبہ نہ ہو۔ پہلے مٹھائی بانٹ کر کھا لیتے ہیں پھر سونا بانٹتے ہیں“۔
جنگل میں گھپ اندھیرا تھا۔ چوروں نے مٹکے میں سے ٹٹول ٹٹول کر مٹھائیاں نکالیں اور کھانے کو منہ میں ڈالیں اور ساتھ ہی تھو تھو کر کے تھوکنے لگے۔ نائی کی بیوی نے مٹکے میں مٹھائی کی بجائے اپلے ڈال رکھے تھے۔
سب چوروں کو بہت غصہ چڑھا۔ اگلی صبح وہ نائی کے گھر پہنچے اور فصل میں سے اپنا حصہ مانگنے لگے۔ نائی کی بیوی ان کی شکلیں دیکھ کر ہنسنے لگی تو وہ بولے ”تم نے دو مرتبہ ہمیں بے وقوف بنایا ہے۔ اب تمہاری باری ہے“۔ یہ کہہ کر وہ تنتناتے ہوئے چلے گئے۔
جاتے جاتے ایک چور دوبارہ ایک کونے میں چھپ گیا اور نائی کی بیوی نے اس مرتبہ بھی اسے چھپتے دیکھ لیا۔ نائی نے پھر پریشان ہو کر پوچھا ”تم نے سونا کہاں چھپایا ہے؟ گدے کے نیچے تو نہیں چھپا لیا؟ “
نائی کی بیوی نے اسے تسلی دی ”میں اتنی بے وقوف نہیں ہوں۔ سونا محفوظ ہے۔ میں نے اسے باہر نیم کے درخت کی اونچی شاخوں میں ایک پوٹلی میں باندھ کر چھپا دیا ہے۔ “
چور یہ سن کر بہت خوش ہوا۔ رات کو جب سب سو گئے تو وہ اپنی کمین گاہ سے نکلا اور اس نے اپنے ساتھیوں کو بتایا۔ سب چور نیم کے درخت کے نیچے جمع ہو کر اوپر دیکھنے لگے تو کچھ غور کرنے پر اوپر درخت پر ایک پوٹلی بندھی دکھائی دی۔
چوروں کا سردار بولا ”واقعی اوپر پوٹلی بندھی ہوئی ہے۔ ایک آدمی اوپر چڑھے اور اسے اتار لائے“۔ ایک چور نے قمیض اتاری، کس کر دھوتی باندھی اور اوپر چڑھنے لگا۔
اب ہوا یہ تھا کہ نیم کے درخت پر شہد کی مکھیوں نے ایک چھتا بنا رکھا تھا۔ جب چور چھتے کے قریب پہنچا اور اس نے ہاتھ آگے بڑھایا تو شہد کی ایک مکھی نے زور سے اس کی ران پر ڈنک مار دیا۔ چور نے تکلیف سے پریشان ہو کر بے ساختہ اپنی ران پر ہاتھ مارا۔
”چور کہیں کے۔ تم پوٹلی نیچے اتارنے کی بجائے اس میں سے سونا نکال کر اپنی جیب میں بھر رہے ہو۔ “ نیچے کھڑے چور چلائے۔ اندھیرے کی وجہ سے باقی سب چوروں کو یہی لگا تھا۔
”میں ایسا کچھ نہیں کر رہا ہوں۔ درخت پر کچھ ہے جو مجھے چبھ رہا ہے“۔ درخت پر چڑھے چور نے کہا۔ اسی وقت ایک دوسری مکھی نے اس کے سینے پر ڈنک مارا۔ چور نے سینے پر ہاتھ مار کر اسے الگ کرنا چاہا۔ نیچے کھڑے چور چلانے لگے ”ہم نے دیکھ لیا ہے۔ تم سونا چھپا رہے ہو“۔
انہوں نے ایک دوسرا چور اوپر بھیجا مگر اب شہد کی مکھیاں مشتعل ہو چکی تھیں۔ انہوں نے اس چور کے جسم پر کاٹنا شروع کیا تو وہ بے اختیار اپنے جسم پر جگہ جگہ ہاتھ مارنے لگا۔ باقی چوروں کو بہت غصہ چڑھا کہ وہ دوسرا چور بھی بے ایمان نکلا اور سونا چھپا رہا ہے۔
سب چور ایک ایک کر کے اوپر چڑھتے گئے اور ہر ایک کے ساتھ یہی ہوا۔ آخر سردار کی باری آئی۔ اس نے چھتے کو مضبوطی سے پکڑا ہی تھا کہ وہ شاخ جس پر سب کھڑے تھے، وزن برداشت نہ کرتے ہوئے ٹوٹ گئی اور سب نیچے جا گرے۔ چھتا ان کے اوپر گرا اور مکھیاں ان پر ٹوٹ پڑیں۔ سب چور جان بچا کر بھاگے۔
اس کے بعد کئی دن سکون رہا کیونکہ چور اس قابل نہ تھے کہ چل پھر سکتے۔ نائی اور اس کی بیوی سوچنے لگے کہ شاید اب چور انہیں دوبارہ تنگ نہیں کریں گے۔ لیکن وہ غلط تھے۔
ایک رات جب وہ کمرے کی کھڑکی کھول کر سوئے ہوئے تھے تو نائی کی بیوی کی آنکھ سرگوشیوں کی آواز سے کھل گئی۔ چوروں کی آواز پہچان کر اس کے ہوش اڑ گئے اور اس نے سوچا کہ اب بچنا مشکل ہے۔ لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اور نائی کا استرا پکڑ کر کھڑکی کے ساتھ چھپ کر کھڑی ہو گئی۔
پہلے چور نے آہستہ آہستہ سر اندر کیا اور اندھیرے کمرے کے اندر جھانکنے کی کوشش کی۔ نائی کی بیوی نے استرے والا ہاتھ گھمایا اور چور کی ناک کاٹ ڈالی۔
”خدایا، میری ناک کسی چیز سے لگ کر کٹ گئی ہے۔ “ چور تکلیف سے چلایا۔
”خاموش۔ تم سب کو جگا دو گے۔ چپ کر کے اندر جاؤ“۔ باقی چوروں نے اسے آہستہ آواز میں ڈانٹا۔
”نہیں میں نہیں جاؤں گا۔ میری ناک سے بہت خون بہہ رہا ہے“، چور کراہا۔
”بزدل۔ تمہاری ناک کھڑکی کے پٹ سے ٹکرا کر زخمی ہو گئی ہے اور تم رو پیٹ رہے ہو۔ میں اندر جاتا ہوں“۔ دوسرے چور نے کہا اور کھڑکی کی طرف بڑھا۔
جیسے ہی اس نے سر اندر کیا تو نائی کی بیوی نے اپنا استرا چلا دیا اور اس کی ناک بھی کٹ کر جا گری۔
”خدایا، اندر واقعی کوئی تیز چیز ہے“۔ چور تکلیف سے چیخا۔
”بانس کی کوئی کھانچ نکلی ہو گی۔ تم ایک طرف ہو، میں دیکھتا ہوں“ تیسرے چور نے کہا اور اپنا سر کھڑکی سے اندر ڈالا۔
شڑپ۔ اس کی ناک بھی کٹ کر دور جا گری۔ ”افف۔ واقعی کوئی تیز چیز ہے۔ مجھے تو ایسا لگا جیسے کسی نے میری ناک کاٹ ڈالی ہو“۔ تیسرا چور پیچھے ہٹتے ہوئے کراہا۔
”بے وقوفو تم بزدل ہو۔ مجھے اندر جانے دو“ چوتھے چور نے کھڑکی میں سر ڈالا اور ناک کٹوا بیٹھا۔ پانچویں اور چھٹے چور کے ساتھ بھی یہی ہوا اور سردار کی باری آ گئی۔
”ساتھیو تم سب زخمی ہو گئے ہو۔ ایک آدمی کو ٹھیک رہنا چاہیے تاکہ وہ سب زخمیوں کی حفاظت اور تیمار داری کرے۔ کسی اگلی رات واپس آتے ہیں“ سردار نے کہا۔ سب چور واپس پلٹ گئے۔
نائی کی بیوی نے چراغ جلایا اور تمام چوروں کی ناکیں ایک ڈبی میں جمع کر لیں۔
چند دن سکون سے گزرے۔ موسم خوب گرم ہو گیا اور کمرے کے اندر سونا ممکن نہیں رہا تو نائی اور اس کی بیوی نے باہر صحن میں چارپائیاں بچھا لیں۔
چور واپس آئے۔ انہوں نے سوچا کہ سونا ضرور نائی کی بیوی کے پاس ہے، تو اسے ہی اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ وہ دبے قدموں آگے بڑھے اور اس کی چارپائی اپنے کندھوں پر اٹھا کر جنگل میں اپنے ٹھکانے کی طرف چل پڑے۔
کچھ دیر بعد نائی کی بیوی کی آنکھ جھکولے کھانے سے کھل گئی اور یہ جان کر وہ دھک سے رہ گئی کہ چور اس کی چارپائی اٹھا کر جنگل کی طرف جا رہے ہیں۔ وہ سوچنے لگی کہ اب میں کیسے بچوں۔
کچھ دیر بعد چور تھک گئے۔ وہ ایک گھنے برگد کے نیچے رکے اور مشورہ کرنے لگے کہ کچھ دیر یہاں رکتے ہیں اور چارپائی نیچے رکھ کر کمر سیدھی کر لیتے ہیں۔ نائی کی بیوی نے موقع غنیمت جانا۔ اس نے تکیوں کے اوپر چادر ایسے ڈالی کہ لگتا تھا کہ وہ بستر پر لیٹی ہے اور برگد کی ایک لٹکتی جٹا کو پکڑ کر اوپر چڑھ گئی اور شاخوں میں چھپ گئی۔
چوروں نے چارپائی کاندھوں سے اتار کر نیچے زمین پر رکھ دی اور فیصلہ کرنے لگے کہ پہرے کی پہلی باری کس کی ہو گی۔ سردار کے نام کا قرعہ نکلا کیونکہ باقی سب ابھی تک ناک کے زخموں کی وجہ سے تکلیف میں تھے۔ سب چور سو گئے اور سردار پہرہ دینے لگا۔
نائی کی بیوی کو اچانک ایک خیال سوجھا۔ اس نے اپنا سفید دوپٹہ چہرے اور سر کے گرد لپیٹا اور آہستہ آواز میں محبت بھرے گانے گانے لگی۔ چوروں کے سردار نے اوپر دیکھا تو اسے چاندنی میں ایک خوبصورت عورت درخت پر بیٹھی دکھائی دی۔
اس نے سوچا کہ یہ ضرور درخت کی پری ہے جو مجھ جیسے خوش شکل اور ہینڈسم مرد پر عاشق ہو گئی ہے۔ اس نے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیا اور پوچھا ”کون ہو تم؟ حسینہ نیچے زمین پر اترو، مجھ سے خوف مت کھاؤ“
پری نے جواب نہیں دیا اور عاشقانہ گانے دھیمے سروں میں گاتی رہی۔ سردار نے یہ دیکھا تو خود درخت پر چڑھنے لگا۔ جب وہ پری کے قریب پہنچا تو پری نے ایک سرد آہ بھری اور منہ دوسری طرف پھیر لیا۔
”اتنا اداس ہونے کی کیا بات ہے اے پری؟ “ سردار نے بے تاب ہو کر پوچھا۔
نائی کی بیوی نے اداس لہجے میں کہا ”مجھے لگتا ہے کہ تم ایک ہرجائی ہو اور مجھ سے محبت نہیں کرتے۔ لمبی ناک والے مرد ہمیشہ ہرجائی ہوتے ہیں“۔
سردار نے اسے اپنی وفا کا یقین دلانے کی بہت کوشش کی مگر وہ نہ مانی۔ آخر نائی کی بیوی نے کہا ”ایسا کرو کہ اپنی زبان کو لمبا سا باہر نکالو۔ میں اسے دیکھ کر جان لوں گی کہ یہ زبان سچ بول رہی ہے یا جھوٹ“۔
چوروں کے سردار نے مخمور ہو کر اپنی زبان خوب باہر نکالی، پری اس کے قریب ہوئی اور اس کی زبان کو استرے سے کاٹ کر دو ٹکڑے کر دیا۔ سردار تکلیف کی شدت سے زور سے چیخا اور درخت سے نیچے جا گرا۔
”کیا ہوا؟ کیا ہوا؟ “ دوسرے چور جاگ گئے۔ ”بل بل بل۔ ۔ ۔“ سردار نے اوپر درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ وہ زبان کٹنے کی وجہ سے بولنے سے قاصر ہو چکا تھا۔
”سردار پر جادو ہو گیا ہے۔ درخت پر ضرور کوئی آسیب ہے“ چور گھبرا کر بولے۔
اسی وقت نائی کی بیوی نے اپنی سفید چادر لہرانی شروع کر دی اور منہ سے خوفناک آوازیں نکالنے لگی۔
چوروں کی خوف سے جان نکل گئی۔ انہوں نے بدحواس ہو کر اپنے سردار کو کندھوں پر اٹھایا اور اپنے گھر کی طرف بھاگنے لگے۔
وہ دور نکل گئے تو نائی کی بیوی نے اپنی چارپائی سر پر اٹھائی اور اپنے گھر کی طرف واپس چل پڑی۔
سردار کی زبان کا زخم کچھ ٹھیک ہوا تو اس نے تتلا تتلا کر اور اشارے کر کے بتایا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ چور اب اپنی ناکیں اور زبان کٹوا کر اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ نائی کی چالاک بیوی سے مقابلہ کرنا ان کے بس میں نہیں ہے۔
وہ بادشاہ کے پاس چلے گئے اور اس سے انصاف طلب کیا کہ وہ نائی سے انہیں ان کی محنت کا معاوضہ دلوا دے۔ لیکن نائی کی بیوی نے اپنا مقدمہ پیش کیا اور ثبوت کے طور پر چوروں کی ناکیں پیش کیں۔
بادشاہ نے چوروں کو جیل میں ڈال دیا اور نائی کو اپنا وزیراعظم بنا دیا۔ اس نے کہا کہ ”جب تک اس نائی کے سر پر اس کی عقلمند بیوی کا سایہ سلامت ہے، یہ کوئی احمقانہ کام نہیں کر سکتا اور ہمیں اس سے بہتر وزیراعظم نہیں ملے گا“۔
نتیجہ: بادشاہ ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔
All New Design

07/09/2025

پاکستان میں رواں سال کا پہلا" بلڈ مون" آج رات ۔

7 اور 8 ستمبر کی درمیانی شب شہری نایاب فلکیاتی منظر دیکھ سکیں گے۔ چاند گرہن کے دوران چاند سرخ نظر آرہا ہے۔

بلڈ مون کا آغاز آج رات 8 بجکر 28 منٹ پر ہوا۔جزوی چاند گرہن رات 9 بجکر 27 منٹ پر شروع ہوا۔انتہا رات 11 بجکر 12 منٹ پر ہوگی جبکہ اختتام 8 ستمبر رات 1 بجکر 55 منٹ پر ہوگا۔کل دورانیہ تقریباً 5 گھنٹے 27 منٹ رہے گا۔

واضح رہے کہ بلڈ مون کا نظارہ ایشیا، یورپ، افریقہ، آسٹریلیا سمیت کئی خطوں میں بھی دیکھا گیا ہے
All New Design

کیا آپ کے ہاں بھی ایسے بلڈ مون نظر آیا ہے ؟

25/08/2025

ما كان محمد أبا أحد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين ۗ وكان الله بكل شيء عليما

محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والاہے۔
All New Design New Design

20/08/2025

مجھے پراٹھے کھانا پسند ہے۔ مگر پراٹھوں سے ہاتھ کو لگنے والا گھی مشکل سے برداشت ہوتا ہے۔ تو کبھی کبھی بیگم جب اچھے موڈ میں ہو تو نوالے بنا بنا کر مجھے دیتی ہے۔ اور میں مزے سے موبائل استعمال کرتے ہوئے پراٹھا کھاتا ہوں اور اپنے سسرال کی تربیت کو دعا دیتا ہوں کہ فیمنزم کے اس پرآشوب دور میں اتنی اچھی بیوی مجھے نصیب ہوئی۔ ۔ ۔ ورنہ وہ کہہ سکتی تھی اپنا پراٹھا اپنا منہ اور اپنے نوالے۔

خیر، آج اتفاق سے بیگم کی طبعیت ناساز تھی تو میڈ کھانا ٹرے میں رکھ کر مجھے بیڈ پر ہی دے گئی۔ ۔ بیگم پاس ہی لیٹی تھی، مگر کھانے کے لیے نہیں اٹھی تو میرا دل بھر آیا کہ مجھے اتنے پیار سے پراٹھے کھلانے والی آج طبعیت کی خرابی سے خود نہیں کھانا چاہتی تو کیا ہوا ۔ ۔ میں کھلا دیتا ہوں۔ ۔ ۔

آلو۔میتھی کا سالن تھا، ساتھ پودینہ ہری مرچ کا رائتہ اور گرما گرم چپاتیاں۔۔ سلاد میں کٹے ہوئے کھیرے کے ٹکڑے اور گاجر۔ ۔ ۔
میں نے احتیاط سے چھوٹا نوالہ بنایا، میتھی سے اور رائتے سے بھرا اور بیگم کی طرف بڑھا دیا۔ ۔ بیگم نے زرا حیرانی سے میری جانب دیکھا اور کھانے کے لیے منہ کھول دیا ۔ ۔ جیسے چڑیا کے بوٹ دانہ کھاتے ہیں۔ ۔ اور آہستگی سے چبانے لگی۔ ۔ ۔ میں نے بہت خوشی محسوس کی ۔ ۔ ۔ واقعی یہ تو بڑا رومینٹک سا کام ہے ۔ ۔ اور بیگم بھی خوش ہو رہی ہے۔ ۔ میں سوچ رہا تھا، ۔ ۔ ویسے بھی اسلام میں بھی تو بیوی کو ۔ ۔ ۔

میں نے سوچتے سوچتے دوسرے نوالے کو بنانے کے لیے روٹی توڑی تو بیگم نے چباتے چباتے اشارہ کیا کہ وہ کچھ کہنا چاہتی ہے۔ ۔ میں کسی محبت بھرے جملے کے انتظار میں رک گیا۔ ۔ بیگم نے لقمہ نگلا اور زرا سا آگے جھک کر آہستگی سے کہا، ۔ ۔ آلو نہیں تھا اس میں ۔ ۔

اچھاااا، ۔ ۔ مجھ سے غلطی ہو گئی تھی ۔ ۔ میں چونکہ میتھی زیادہ پسند کرتا ہوں، اکثر لوگ میتھی کو اسکی کڑواہٹ کی وجہ سے ناپسند کرتے ہیں تو وہ آلو کے ساتھ مکس کرتے ہیں اور میتھی کم رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ سمجھ گیا ، میں نے دوسرے نوالے میں آلو زیادہ لیا، زرا کم میتھی، اور رائتے میں ڈبو کر بیگم کے حضور پیش کر دیا۔ ۔ ۔ بیگم خوشی سے دوسرا نوالہ چبانے لگی اور میں اپنے لیے روٹی توڑنے لگا۔ ۔

اپنا نوالہ کھا کر میں نے بیگم کے لیے تیسرا نوالہ بنانا چاہا تو بیگم نے پھر منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے مجھے اشارہ کیا ۔ ۔ میں سمجھ گیا کہ مزید ہدایات فیکس ہونے والی ہیں۔ ۔ خیر بیگم نے دوسرا نوالہ ختم کر کے بتایا کہ تم نے رائتہ زیادہ لگا دیا تھا، اتنا رائتہ نہیں لگاتے۔ ۔

اوہ ہو، اب سمجھ میں آیا کہ مسئلہ کدھر تھا۔ ۔ ۔ اس بار میں نے سنیارے کی سی احتیاط کے ساتھ رتی ماشہ تول کر نوالے میں پہلے آلو، پھر میتھی، اور پھر رائتے کی مناسب مقدار شامل کی اور بیگم کی جانب بڑھا دیا۔ ۔ اور خود اپنے لیے بھی نوالہ بنانے لگا۔ اس بار مجھے اپنا نوالہ بناتے وقت یک گونہ آزادی محسوس ہو رہی تھئ، میں نے مزے سے لاپرواہ انداز میں نوالہ بھرا جتنی میتھی، جتنا آلو آ گیا سو آ گیا، رائتے کی ڈبکی پر بھی میں نے ہاتھ کو کھینچا نہیں۔ ۔ تب سمجھ میں آیا کہ ہم مردوں کا پیٹ کیوں بڑھ جاتا ہے، ٹھونستے جو انے وا ہیں۔ ۔ ۔

چوتھے نوالے کے لیے میں نے بیگم کی طرف دیکھا جو اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ۔ کیا ہوا، میں نے پوچھا ۔ ۔ ۔ کچھ نہیں میں ہمت کر کے خود ہی کھا لیتی ہوں، بیگم نے مجھے تسلی دی ۔ ۔
مگر مجھ پر تو بیگم کی جوابی خدمت کا بھوت سوار تھا، میں نے اصرار کیا، نہیں نہیں میں کھلاتا ہوں ناں۔ ۔ نہیں، بیگم نے سختی سے انکار کر دیا ۔ ۔ میں خود کھاتی ہوں۔ ۔ مگر کیوں ۔ ۔ میں نے وہ سوال پوچھا جو نہیں پوچھنا چاہیے تھا۔ ۔ ۔

بیگم نے لحاظ ویہاظ بالائے طاق رکھا اور کہنے لگی، تم سے تو ایک نوالہ ٹھیک سے نہیں بنتا، کبھی میتھی زیادہ ، کبھی رائتہ ، اور کبھی تینوں چیزیں ٹھیک ہوں تو اتنی دیر لگاتے ہو کہ روٹی ٹھنڈی ہو جائے، کھلانے کا انداز بھی ٹھونسنے جیسا ہے، لگتا ہے نوالہ اب گرا کہ تب گرا ۔ ۔ ۔ پھر تمہاری اپنی رفتار عجیب ہے کھانے کی۔ ۔ ۔ ایک نوالہ کھا کر مجھے دو تو ابھی پہلا ختم نہیں ہوتا، اور دو نوالے ختم کرو تو میں انتظار میں ہوتی ہوں۔ ۔ ۔ کہ کب اگلا نوالہ ملیگا۔ ۔ ۔ اور سلاد بھی تو دیتے ہیں ساتھ ۔ ۔ ۔ تو بس رہنے دو یہ چونچلے ۔ ۔ ۔

میں خاموشی سے اپنا کھانا کھانے لگا۔ ۔ ۔ سوچ یہ رہا تھا یااللہ تیری یہ مخلوق پیاری بھی ہے اور مفید بھی ۔ ۔ ۔ مگر اسکے نخرے ۔ ۔ ۔تیری پناہ بس🙈🤷‍♂️🤷‍♂️

تحریر محترم محمود فیاض صاحب
All New Design #🥰
#🥰 New Design

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Faisalabad?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Address


Faisalabad