Raas Online Store
this page is about Electronics,Clothing and Many more authentic Product.Please Visit
نواب دین کا گھر
نواب دین جب اپنی بیوی سکینہ کو لے کر اس چھوٹے سے کچے گھر میں آیا تھا، تو دیواریں ٹوٹ کر گرنے لگی تھیں۔ چھت سے ہر بارش میں پانی ٹپکتا تھا اور کھڑکیوں کے کواڑ سڑ چکے تھے۔ سکینہ نے گھر کی حالت دیکھ کر ایک لمبی سانس لی، مگر کچھ کہا نہیں۔ اس نے صرف اپنا دوپٹہ کمر سے باندھا اور جھاڑو اٹھا کر صفائی شروع کر دی۔
نواب دین دن رات محنت کرتا تھا۔ وہ ایک میستری کے ساتھ مزدور کا کام کرتا، کبھی مٹی اٹھاتا تو کبھی اینٹیں۔ شام کو تھکا ہارا لوٹتا تو اس کے جسم سے پسینہ اور مٹی کی بو آتی تھی۔ سکینہ کبھی شکایت نہیں کرتی تھی۔ وہ اس کے کپڑے دھو کر سکھاتی، گرم پانی سے اس کے پیر دھلاتی اور ہمیشہ پیار سے مسکرا کر کھانا دیتی۔ نواب دین جب بھی پوچھتا، "سکینہ، یہ گھر تمہیں اچھا نہیں لگتا؟" تو وہ کہتی، "یہ گھر ہمارا ہے اور ہمارے پیار سے بنا ہوا ہے، یہ سب سے خوبصورت ہے۔"
کئی سال گزر گئے۔ نواب دین کی محنت رنگ لائی۔ اس نے اپنے چھوٹے سے گھر کے کچے کمرے کو پکا کیا، اس کی چھت کو مضبوط بنایا اور ایک چھوٹا سا برآمدہ بھی بنوا لیا۔ اس نے ایک دن سکینہ سے کہا، "ہم ایک نئے گھر میں منتقل ہو جاتے ہیں، یہ بہت چھوٹا ہے।" سکینہ مسکرا کر بولی، "نیا گھر؟ اس گھر میں تمہارے پسینے کی خوشبو ہے، تمہاری محنت ہے، ہمارے خواب ہیں، اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتا ہے؟"
وقت کا پہیہ چلتا رہا۔ ان کے بچے بڑے ہوئے، انہوں نے تعلیم حاصل کی اور اچھی نوکریاں حاصل کیں۔ ایک دن ان کا سب سے بڑا بیٹا عمار ایک شاندار، عالیشان گھر کی چابیاں لے کر آیا اور اپنے والدین سے کہا، "ابو، امی، یہ آپ کے لیے۔ اب آپ کو کسی چیز کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔"
نواب دین نے چابیوں کو اپنے ہاتھ میں لیا اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے پیچھے مڑ کر اپنے پرانے گھر کو دیکھا۔ اس گھر کی دیواروں سے اس کی محنت کی داستانیں جھلک رہی تھیں۔ سکینہ نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور نرمی سے بولی، "اس گھر میں رہ کر تمہاری محنت نے ہمیں یہ سب کچھ دیا ہے، اس لیے اس گھر کی قدر ہمیں ہمیشہ رہے گی۔"
آج بھی، جب نواب دین اپنے خوبصورت نئے گھر میں بیٹھا ہوتا ہے، تو وہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے پرانے گھر کی تصویر دیکھتا ہے، اور وہ سکینہ کے صبر اور برداشت کو یاد کر کے کہتا ہے کہ اگر وہ نہ ہوتی تو اس کی محنت بھی بےکار تھی۔ سکینہ کا صبر اس کی کامیابی کا سب سے بڑا راز تھا۔ ان کا گھر شاید چھوٹا تھا، مگر ان کا رشتہ بہت بڑا تھا، جو ان کی محنت اور صبر کی بنیاد پر کھڑا تھا۔
سعودی عرب اور گلف میں موجود سب دوستوں کو.چاند رات مبارک ہو
اگر اپ اپنے وزن عمر اور جینڈر کے حساب سے یہ کمپلیٹ ڈائٹ پلان چاہتے ہیں تو کمنٹ میں ڈیٹیل سینڈ کریں
ایک تفصیلی ڈائٹ پلان دو جو کم از کم پانچ سے اٹھ کلو گرام تک اپ کا وزن کم کر سکتا ہے وہ بھی دیسی غذا سے
ہفتہ 1-4:
دن 1:
صبح کا ناشتہ: 2 اوبل انڈے، 1 چپاتی، 1 سیب
اسنیک: مٹھی بھر بادام
دوپہر کا کھانا: 1 چپاتی، سبزیوں کی سالن، سلاد
شام کا ناشتہ: 1 کھیرا، 1 گاجر
رات کا کھانا: گرلڈ چکن/مچھلی، بھورا چاول، سبزیوں کا سلاد
دن 2:
صبح کا ناشتہ: دلیہ، 1 کیل، سبز چائے
اسنیک: 1 سیب
دوپہر کا کھانا: چپاتی، دال، سلاد
شام کا ناشتہ: دہی، 5 بادام
رات کا کھانا: سبزیوں کی سالن، چپاتی، 1 اورنج
دن 3:
صبح کا ناشتہ: 2 اوبل انڈے، 1 چپاتی، سبز چائے
اسنیک: 1 کیل
دوپہر کا کھانا: بھورا چاول، سبزیوں کی سالن، سلاد
شام کا ناشتہ: 1 سیب
رات کا کھانا: گرلڈ چکن/مچھلی، سبزیوں کا سلاد
دن 4:
صبح کا ناشتہ: دلیہ، 1 سیب، سبز چائے
اسنیک: مٹھی بھر بادام
دوپہر کا کھانا: چپاتی، سبزیوں کی سالن، سلاد
شام کا ناشتہ: 1 کھیرا، 1 گاجر
رات کا کھانا: سبزیوں کی سالن، چپاتی، دہی
دن 5:
صبح کا ناشتہ: 2 اوبل انڈے، 1 چپاتی، سبز چائے
اسنیک: 1 کیل
دوپہر کا کھانا: بھورا چاول، دال، سلاد
شام کا ناشتہ: دہی، 5 بادام
رات کا کھانا: گرلڈ چکن/مچھلی، سبزیوں کا سلاد
دن 6:
صبح کا ناشتہ: دلیہ، 1 سیب، سبز چائے
اسنیک: 1 کیل
دوپہر کا کھانا: چپاتی، سبزیوں کی سالن، سلاد
شام کا ناشتہ: 1 کھیرا، 1 گاجر
رات کا کھانا: سبزیوں کی سالن، چپاتی، دہی
دن 7:
صبح کا ناشتہ: 2 اوبل انڈے، 1 چپاتی، سبز چائے
اسنیک: 1 سیب
دوپہر کا کھانا: بھورا چاول، سبزیوں کی سالن، سلاد
شام کا ناشتہ: مٹھی بھر بادام
رات کا کھانا: گرلڈ چکن/مچھلی، سبزیوں کا سلاد
آپ کو اس ڈائٹ پلان کو اپنی ضروریات اور پسند کے مطابق ایڈجسٹ بھی کر سکتے ہیں۔ وزن کم کرنے کے لیے مستقل مزاجی بہت ضروری ہے، اس لیے روزانہ 30 منٹ کی ورزش کو شامل کریں اور پانی کا زیادہ استعمال کریں۔
09/02/2025
enjoy temu
Temu:Shop like a Billionaire Highly Rated Products At Low Price Find Everything You Need.
ابا کی محبوبہ ۔۔۔۔۔
میرے بار بار مانگنے پر بھی ابا مجھے سائیکل نہیں دیا کرتے تھے.. بہت پیاری تھی اپنی سائیکل ابا کو' بڑے پیار سے ہر جمعہ کے روز اس کی سروس کرتے ساتھ ساتھ پرانے گانے چلتے..
بابو جی دھیرے چلنا
پیار میں زرا سنبھلنا
بڑے دھوکے ہیں اس راہ میں
ہاں زرا سنبھلنا
سائیکل نہ ہو جیسے محبوبہ ہو اتنی محبت حد ہے بھئی..
میں کیا کرتا..!!
مجھے ابا کی سائیکل بہت بھاتی ، جب موقع ملتا لے کر نکل پڑتا ۔ میں چلاتا بھی تو برے طریقے سے تھا نا ! اکثر ِگرا بھی دیتا ، چین اتر جاتی ۔ ہینڈل مڑ جاتا میرے گھٹنے بھی چھل جاتے
اماں سے ڈانٹ علیحدہ پڑتی..
پھر ایک دن ابا نے سائیکل عزیز چچا کو دے دی.. یہ میرے لیئے بہت بڑا صدمہ تھا' شاید میری زندگی کا سب سے بڑا صدمہ ۔ اپنے پیارے ابا کی یہ کج ادائی مجھے ہرگز نہیں بھائی.. وہ جانتے بھی تھے مجھے سائیکل چلانے کا کتنا شوق تھا اور میری بجائے سائیکل انہوں نے اُٹھا کر عزیز چچا کو دے دی ۔ میں ابا سے بہت ناراض تھا۔
پھر بچپن کے ہاتھ سے میرا ہاتھ نہ جانے کب چھوٹا پتہ ہی نہیں چلا اور میں بڑا ہو گیا سائیکل والی ناراضگی بھی میرے ساتھ ہی بڑی ہو گئی ۔
انہیں دنوں میں نے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا اور میرا میڈیکل میں داخلہ ہو گیا ۔۔۔ اور میں پڑھائی میں مصروف ہو گیا .. بچپن کی یادیں سنوار کر تہہ لگا کر سنبھال رکھی تھیں ۔ کبھی کبھار لوری کی دھنوں کی طرح بجتیں اُن میں ایک اداس دھن سب سے علیحدہ بجا کرتی ۔ گلی محلے سے گزرنے والی سائیکل کی گھنٹی اور ابا کے پرانے گانے اب بھی میری اداسی کا سبب بن جایا کرتے ۔ جانے کیوں سائیکل کا دکھ میرے دل سے جاتا نہیں تھا ۔ یادوں کی تپتی دھوپ میں ننگے پاؤں دوڑتا پھرتا ، عجیب دکھ تھا کملا جھلا ۔ شاید بچپن کے سب دکھ ایسے ہی ہوا کرتے ہیں' پھٹی جیب سے آخری دو آنے گرنے کے دکھ جیسے..
ابا بوڑھے ہو گئے بیمار رہنے لگے ۔ وقت گزر گیا اور میں ڈاکٹر بن گیا ابا کو جانے کی جلدی تھی شاید میرے نتیجے کا انتظار کر رہے تھے ، دو دن بعد ہی چلے گئے..
عزیز چچا افسوس کرنے آئے ، دیر تک میرا ہاتھ تھام کر بیٹھے ابا کی باتیں کرتے رہے ابا کا ذکر ہو اور ان کی محبوبہ کا ذکر نہ چھڑے یہ کیسے ہو سکتا ہے..
سب ہی سائیکل کو ابا کی محبوبہ کہا کرتے تھے.. یار تیری فیس بھرنے کے لیئے انہوں نے سائیکل بیچ ڈالی' میں نے بہت کہا آپ ادھار لے لیں ۔مگر ایک نہیں مانی ، تو جانتا ہے نا اپنے اصولوں کے کتنے پکے تھے تیرے ابا ۔۔!!
میں نے کہا اپنی محبوبہ کے بغیر جی پائیں گے ۔۔۔۔!
کہنے لگے میرے پتر پر ایسی ہزار محبوبائیں قربان..
اس سے آگے میں کچھ سُن ہی نہیں سکا ، میرے دل میں پڑی ناراضگی سسکنے لگی ،
بابو جی دھیرے چلنا پیار میں زرا سنبھلنا
او بڑے دھوکے ہیں اس راہ میں
یہ کیسا دھوکا کھایا تھا میں نے پیار میں..۔
24/03/2024
*نسلی اور بد نسلی*
عربوں کی ایک عادت رہی ہے۔ جب ان کے گھوڑے زیادہ ہو جاتے اور ان کی نسلوں کی پہچان ممکن نہیں رہ پاتی تو سبھی گھوڑوں کو کسی ایک مقام پر جمع کر لیتے۔ پھر کھانا پینا بند کر دیتے اور شدید قسم کی مار پیٹ کرتے ہیں۔ مار پیٹ کے بعد پھر گھوڑوں کے لئے کھانا پینا لاتے ہیں، تب گھوڑے دو مجموعوں میں بٹ جاتے تھے۔ کچھ گھوڑے تو فورا دوڑتے ہیں کھانے کی طرف، انہیں کچھ فرق نہیں پڑتا تھا کہ کھلا کون رہا ہے۔
اور دوسرے ہوتے نسلی گھوڑے، جو ان ہاتھوں سے کھانا کھانے سے انکار کر دیتے تھے جن ہاتھوں نے مار پیٹ کر کے ان کی توہین کی تھی۔
انسانی معاشروں کو بھی اسی صورت حال کا سامنا ہے۔اور بدقسمتی سے بدنسلوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔
*منقول*
شور' اور 'شعور' کے درمیان ایک "ع" کا فرق ہے ۔ اور پتہ ہے یہ ع کیا ہے؟
یہ ع 'علم' ہے.....
06/03/2024
یا اللہ ہمارے ان فلسطین بھائیوں اور بہنوں کی مدد فرما امین ❤️
06/03/2024
غیر سیاسی پوسٹ ...
~ ثبوت کے کاغذ
(جمہوریہ چیک سے ایک کہانی)
کسی جنگل میں ایک "خرگوش" کے کام کے لیے کوئی نوکری نکلی۔ ایک بے روزگار اور حالات کے مارے ریچھ نے بھی اس کیلئے درخواست جمع کرا دی۔
اتفاق سے کسی خرگوش نے درخواست نہیں دی تو اسی ریچھ کو ہی خرگوش تسلیم کرتے ہوئے ملازمت دے دی گئی۔ ملازمت کرتے ہوئے ایک دن ریچھ نے محسوس کیا کہ جنگل میں ریچھ کی ایک اسامی پر ایک خرگوش کام کر رہا ہے اور اسے ریچھ کا مشاہرہ اور ریچھ کی مراعات مل رہی ہیں۔ ریچھ کو اس نا انصافی پر بہت غصہ آیا کہ وہ اپنے قد کاٹھ اور جثے کے ساتھ بمشکل خرگوش کا مشاہرہ اور مراعات پا رہا ہے جبکہ ایک چھوٹا سا خرگوش اس کی جگہ ریچھ ہونے کا دعویدار بن کر مزے کر رہا ہے۔ ریچھ نے اپنے دوستوں اور واقف کاروں سے اپنے ساتھ ہونے والے اس ظلم و زیادتی کے خلاف باتیں کیں، سب دوستوں اور بہی خواہوں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ فوراً اس ظلم کے خلاف جا کر قانونی کارروائی کرے۔
ریچھ نے اسی وقت جنگل کے ڈائریکٹر کے پاس جا کر شکایت کی، ڈائریکٹر صاحب کو کچھ نہ سوجھی، کوئی جواب نہ بن پڑنے پر اس نے شکایت والی فائل جنگل انتظامیہ کو بھجوا دی۔ انتظامیہ نے اپنی جان چھڑوانے کیلیئے چند سینیئر چیتوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی۔ کمیٹی نے خرگوش کو نوٹس بھجوا دیا کہ وہ اصالتاً حاضر ہو کر اپنی صفائی پیش کرے اور ثابت کرے کہ وہ ایک ریچھ ہے۔
دوسرے دن خرگوش نے کمیٹی کے سامنے اپنے سارے کاغذات اور ڈگریاں پیش کر کے ثابت کر دیا کہ وہ دراصل ایک ریچھ ہے۔
کمیٹی نے ریچھ سے غلط دعوی دائر کرنے پر پوچھا کہ کیا وہ ثابت کر سکتا ہے کہ وہ خرگوش ہے؟ مجبوراً ریچھ کو اپنے تیار کردہ کاغذات پیش کر کے ثابت کرنا پڑا کہ وہ ایک خرگوش ہے۔
کمیٹی نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ سچ یہ ہے کہ خرگوش ہی ریچھ ہے اور ریچھ ہی دراصل خرگوش ہے۔ اس لیے کسی بھی رد و بدل کے بغیر دونوں فریقین اپنی اپنی نوکریوں پر بحال اپنے اپنے فرائض سر انجام دیتے رہیں گے۔ ریچھ نے کسی قسم کے اعتراض کے بغیر فوراً ہی کمیٹی کا فیصلہ تسلیم کر لیا اور واپسی کی راہ لی۔
ریچھ کے دوستوں نے کسی احتجاج کے بغیر اتنی بزدلی سے فیصلہ تسلیم کرنے کا سبب پوچھا تو ریچھ نے کہا:
میں بھلا چیتوں پر مشتمل اس کمیٹی کے خلاف کیسے کوئی بات کر سکتا تھا اور میں کیونکر ان کا فیصلہ قبول نہ کرتا کیونکہ کمیٹی کے سارے ارکان چیتے در اصل گدھے تھے، جبکہ ان کے پاس یہ ثابت کرنے کیلیے کہ وہ چیتے ہیں باقاعدہ ڈگریاں اور کاغذات بھی تھے۔...
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Faisalabad
38000
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Friday | 09:00 - 17:00 |
| Saturday | 09:00 - 17:00 |
| Sunday | 09:00 - 17:00 |