Urdu Adab
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Urdu Adab, Health/Beauty, Tiston shigar, Gilgit.
وہ جذبوں کی تجارت تھی، یہ دل کچھ اور سمجھا تھا۔۔
اُسے ہنسنے کی عادت تھی، یہ دل کچھ اور سمجھا تھا۔۔
مجھے اُس نے کہا آؤ ، نئی دنیا بساتے ہیں،
اُسے سوجھی شرارت تھی، یہ دل کچھ اور سمجھا تھا۔۔
ہمیشہ اُس کی آنکھوں میں دھنک سے رنگ ہوتے تھے،
یہ اُس کی عام حالت تھی، یہ دل کچھ اور سمجھا تھا۔۔
وہ میرے پاس بیٹھی دیر تک غزلیں میری سنتی،
اُسے خود سے محبت تھی، یہ دل کچھ اور سمجھا تھا۔۔
میرے کندھے پہ سر رکھ کر کہیں پہ کھو گئی تھی وہ،
یہ اک وقتی عنایت تھی، یہ دل کچھ اور سمجھا تھا۔۔
مجھے وہ دیکھ کر اکثر نگاہیں پھیر لیتی تھی،
یہ درپردہ حقارت تھی، یہ دل کچھ اور سمجھا تھا۔۔
۔۔۔
25/03/2023
دل لگی، دل کی لگی بن کے مٹا دیتی ہے
روگ دشمن کو بھی یارب ! نہ لگانا دل کا
30/10/2022
عاشور کا ڈھل جانا ، صُغرا کا وہ مر جانا
اکبر تِرے سینے میں ، برچھی کا اُتر جانا
اے خونِ علی اصغر میدانِ قیامت میں
شبیر کے چہرے پر کچھ اور نکھر جانا
سجاد یہ کہتے تھے، معصوم سکینہؑ سے
عباس کے لاشے سے چپ چاپ گزر جانا
ننھے سے مجاہد کو ماں نے یہ نصیحت کی
تِیروں کے مقابل بھی ، بے خوف و خطر جانا
محسن کو رُلائے گا ، تا حشر لہُو اکثر
زہرا تری کلیوں کا صحرا میں بکھر جانا
محسن نقوی
29/10/2022
حکیم لقمان کی اپنے بیٹے کو 25 اہم نصیحتیں؛
1۔جو بات تم نہیں جانتے منہ سے نہ کہو۔اور جو جانتے ہواسے مستحق کو بتانے میں دریغ نہ کرو۔
2۔جاہل لوگوں سے کم ملو ور نہ وہ تجھے بھی جاہل بنادیں گے۔
3۔دوست سے راز کی بات مت کہو ہوسکتا ہےکل وہ تمہارادشمن بن جاۓ۔
4۔ہر قسم اور ہر طبقہ کے لوگوں کو پہچانو اور ان کے ساتھ مناسب برتاؤاختیارکرو۔
5۔دوستوں کا امتحان فائدہ اور نقصان دونوں حالتوں میں کرو۔
6۔زبان کے شر سے محفوظ رہنا چاہتے ہو تو خاموش رہا کرو۔
7۔عقلمندوں کی صحبت اختیار کرو یہ مشکل وقت میں تیری مدد کریں گے۔
8۔کسی کو لوگوں کے سامنے شرمندہ مت کرو۔ جوانی میں ایسے کام کرو جو دین اور دنیا دونوں میں مفید ثابت ہوں۔
9۔اپنے سے بڑوں کے ساتھ مزاح اورخوش طبعی نہ کرو۔
10۔جب گھر میں داخل ہوتوآنکھ اورزبان پرقابورکھو۔
11۔جس طرح بارش خشک زمین کو زندہ کر دیتی ہےاِسی طرح صحبت علماء سےدل زندہ ہوتاہے۔
12۔عورتوں اور بچوں سے راز کی بات مت کرواور کسی کی چیز میں طمع اور لالچ نہ کرو۔
13۔سچ بات کو مت چھپاؤ اور جھوٹ مت بولو۔
14۔کام نہ کر نامحتاجی لاتا ہے اور محتاجی دین کو تنگ، عقل کوضعیف اور مروت کو زائل کرتی ہے۔
15۔صحت اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے مہمان کی اپنی حیثیت کے مطابق ضرور خدمت کرو۔
16۔گندی،آوارہ عورتوں کوگھروں کی زینت بنانا نسلوں کی تباہی ہے۔
17۔اپنےمال کوچھپاؤاوراُسےدوست ودشمن کےسامنےنہ لاؤ۔
18۔جب کسی کوکوئی کام کہو، تو ایک بار کہو دوسری دفعہ یاد دہانی کروادو۔اگر تیسری دفعہ کہنےکی ضرورت پڑےتو مت کہو کیوں کہ اس کی نیت نہ کرنے کی ہے۔
19-عقل مند کو دلائل سے سمجھایا جا سکتا ہے مگر احمق اور جاھل کونہیں۔
20-سلطنت بنانی ہے تو سب سے پہلے بہترین خاندان کوبناؤ۔
21-بچوں کی پرورش اور تربیت آسائشات،عیش وعشرت اور دولت سے نہیں ہوتی بلکہ حسب و نسل، پردے دار اور دینی ماں اُن کی پرورش اور تربیت کرتی ہے۔
22 ـاحمق اور بیوقوف شخص سے بحث نہیں اجتناب کیا جاتا ہے۔
23۔دوستوں کےانتخاب میں ہمیشہ محتاط رہو۔گھر کے بعد تمہاری تربیت وہ کرتےہیں۔
24۔الفاظ کاچناؤ شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔
25-عادات،حرکات اور ماحول کسی شخص کی پسند اور ناپسند کی عکاسی کرتاہے
شہرت ایک بخار ہے،
مقبولیت ایک حادثہ ہے،
دولت پنکھ لے لیتی ہے
صرف ایک چیز برقرار رہتی ہے، اور وہ ہے کردار...!
*.. ہم ﻟﻮﮒ کاغذ ﮐﯽ ﺗﺼﻮیرﻭﮞ میں ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎیاﮞ ﻧﻈﺮ ﺁﻧﺎ چاہتے ﮨﯿﮟ، اور اس کے لیے لاکھوں جتن بھی کرتے ہیں.. ﻣﮕﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﯽ ﻓﮑﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ کہ انسان کا کردار ہی اس کی سب سے اصل اور بہترین تصویر ہے.....!*
آنکھوں کا رنگ ، بات کا لہجہ بدل گیا
وہ شخص ، ایک شام میں کتنا بدل گیا
کُچھ دن تو میرا عکس رھا ، آئینے پہ نقش
پھر یوں ھُوا ، کہ خُود میرا چہرا بدل گیا
جب اپنے اپنے حال پہ ، ھم تم نہ رہ سکے
تو کیا ھُوا ، جو ھم سے زمانہ بدل گیا ؟؟
قدموں تلے جو ریت بچھی تھی ، وہ چل پڑی
اُس نے چھڑایا ھاتھ تو ، صحرا بدل گیا
کوئی بھی چیز ، اپنی جگہ پر نہیں رھی
جاتے ھی ایک شخص کے ، کیا کیا بدل گیا
اِک سر خوشی کی موج نے ، کیسا کیا کمال
وہ بے نیاز ، سارے کا سارا بدل گیا
اُٹھ کر چلا گیا ، کوئی وقفے کے درمیاں
پردہ اُٹھا ، تو سارا تماشا بدل گیا
حیرت سے سارے لفظ اُسے دیکھتے رھے
باتوں میں اپنی بات کو کیسا بدل گیا
کہنے کو ایک صحن میں ، دیوار ھی بنی
گھر کی فضا ، مکان کو نقشہ بدل گیا
شاید وفا کے کھیل سے ، اُکتا گیا تھا وہ
منزل کے پاس آ کے ، جو رستہ بدل گیا
قائم کسی بھی حال پہ ، دُنیا نہیں رھی
تعبیرکھو گئی ، کبھی سَپنا بدل گیا
منظر کا رنگ اصل میں سایا تھا رنگ کا
جس نے اُسے جدھر سے بھی دیکھا بدل گیا
اندر کے موسموں کی خبر اُس کو ھو گئی
اُس نو بہارِ ناز کا چہرا بدل گیا
آنکھوں میں جتنے اشک تھے ، جگنو سے بن گئے
وہ مُسکرایا ، اور میری دُنیا بدل گیا
اپنی گلی میں اپنا ھی گھر ڈھو نڈتے ھیں لوگ
امجد یہ کون شہر کا نقشہ بدل گیا ؟؟
امجد اسلام امجد
میری ایک اور نئی غزل ملاحظہ فرمائیے دوستو
خوشیوں کا پیغام لاتا ہے تیرا چاند سا چہرہ
بڑا ہی پرجوش کرتا ہے تیرا چاند سا چہرہ
گرتی ہے زلفیں جب چاند سے چہرے پے
جیسے چاند گرہن لگتا ہے تیرا چاند سا چہرہ
بے پیراہن کوئی کیا دیکھ پائیں؟ تیری صورت
جیسے بجلی سی گرتی ہے تیرا چاند سا چہرہ
سورج کی کرنوں کے مقابل میں تیری آنکھیں
خود سورج کے مقابل آتا ہےتیرا چاند سا چہرہ
سوچا رخِ یار پے لکھوں تازی غزل ایک اور
دیکھکر لفظوں نے کمر باندھا ہے تیرا چاند سا چہرہ
سادگی میں بھی رکھتے ہیں قیامت کی ادا اور
سنورنے سے گلشن پہ خزاں آتا ہے تیرا چاند سا چہرہ
بجھ جاتے ہیں صحرا نشنوں کے پیاس بھی
واسطہ جب کبھی دیتا ہے تیرا چاند سا چہرہ
جب ہوئے ممکن تو باندھ لوں رختِ سفر دلدار
مدت سے دل میں ابھرتا ہے تیرا چاند سا چہرہ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Culinary Team
Attire
Telephone
Website
Address
Tiston Shigar
Gilgit