Mr Ehsan Elahi

Mr Ehsan Elahi

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mr Ehsan Elahi, Gujranwala.

خوش آمدید! اس پیج پر آپ کو پرندوں کی خوبصورت اور ایمان افروز آوازوں میں اسلامی باتیں، دعائیں اور نیک پیغامات سننے کو ملیں گے۔ ہمارا مقصد آپ کے دلوں کو سکون اور روح کو تازگی بخشنا ہے۔ اگر آپ کو یہ ویڈیوز پسند آئیں تو اس پیج کو فالو، لائک اور شیئر ضرور کریں

13/09/2026

جاگو نگری اور سنہری بانسری کا راز 🎶🌲✨
قدیم پہاڑی وادیوں کے دامان میں ایک چھوٹا سا گاؤں آباد تھا 🏔️ غریب اور سادہ دل جوان ارحم اسی گاؤں کا ایک بے لوث چرواہا تھا 🐑 اس کے پاس دنیاوی دولت کے نام پر صرف چند بکریاں تھیں جو وہ گاؤں کے ایک سنگ دل چوہدری سلطان کی چراتا تھا 🌾 بدلے میں اسے صرف دو وقت کی خشک روٹی اور ایک چھوٹی سی جھونپڑی میسر تھی ڳاؤں کے دیگر چرواہے، بالخصوص قاسم، اکثر اس کی پرانی لکڑی کی بانسری کا مذاق اڑاتے 🎵 "اوے ارحم! یہ لکڑی کا ٹکڑا بجانے سے تیری بکریاں تو کیا، تیرا اپنا پیٹ بھی نہیں بھرے گا!" وہ قہقہے لگاتے 🗣️ مگر ارحم صرف مسکرا دیتا اور اپنی بانسری کو محبت سے چوم لیتا 🎶
ارحم کے پاس کوئی مال و اسباب نہیں تھا، مگر اس کے پاس ایک ایسا ہنر تھا جو پوری وادی میں کسی کے پاس نہ تھا 🕊️ جب وہ پہاڑ کی بلند چوٹی پر بیٹھ کر اپنی بانسری پر چھیڑ نکالتا، تو ہواؤں میں ایک سحر گھل جاتا 🍃 پہاڑ کے پرندے اس کے گرد منڈلانے لگتے اور وادی کے لوگ اپنے کام چھوڑ کر اس درد بھری دھن میں کھو جاتے 🦅 سب کہتے کہ ارحم کے پھونک میں کوئی قدسی اثر ہے ✨
ارحم کا ایک بڑا بھائی بھی تھا شہریار جو قصبے میں کپڑے کی ایک چھوٹی سی دکان چلاتا تھا 🧵 شهریار ہمیشہ ارحم سے شاکی رہتا کہ وہ دن بھر پہاڑوں میں بانسری بجا کر وقت ضائع کرتا ہے اور دکان کے کاموں میں اس کا ہاتھ نہیں بٹاتا 💔
ایک سرسبز شام، جب ارحم اپنی بکریاں موڑ کر واپس لوٹ رہا تھا، اسے پہاڑ کے ایک سنسان غار کے باہر ایک ضعیف اور روشن ضمیر درویش بابا نظر آئے 👳‍♂️ ان کے لباس پر پیوند تھے مگر ان کی پیشانی پر بلا کا نور تھا ✨ ارحم نے احترام سے سلام کیا: "بابا جی! اس ویرانے میں آپ اکیلے؟ کیا میں آپ کے لیے گاؤں سے کچھ کھانے کو لاؤں؟" 🍞
درویش نے شفقت سے مسکرا کر کہا: "بیٹا! مجھے روٹی کی طلب نہیں، میں تو کئی دنوں سے اس پہاڑ پر تیری بانسری کا سوز سننے کے لیے مقیم تھا" 🎶
ارحم نے بلا تاخیر بانسری لبوں سے لگائی اور ایک انتہائی رقت انگیز سر چھیڑ دیا 🎼 بانسری کی آواز میں ایسی پائیداری اور پاکیزگی تھی کہ درویش بابا کی آنکھوں سے انسو جاری ہو گئے 😢 دھن ختم ہوئی تو درویش نے کہا: "بیٹا! تیری اس دھن میں سچائی ہے کیونکہ تو نے کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا اور نہ ہی حسد کی آگ میں جلا ہے" 🌟
درویش نے اپنے تھیلے سے ایک عجیب و غریب دھات کا بنا پیتل کا چھوٹا سا سِنگ (پیپنی/سیٹی) نکالا اور ارحم کو دیتے ہوئے کہا 🎺 "یہ کوئی عام شے نہیں۔ جب بھی زندگی میں کسی مظلوم یا اپنے کی مدد کے لیے شدید ضرورت پڑے، اسے بجانا 🔔 مگر یاد رکھنا! اس کا استعمال صرف جائز حاجت کے لیے ہونا چاہیے، لالچ یا کسی کا نقصان کرنے کے لیے نہیں، ورنہ اس کا سحر ختم ہو جائے گا" ⚠️ یہ کہہ کر درویش بابا نظروں سے اوجھل ہو گئے جیسے ہوا میں تحلیل ہو گئے ہوں 💨 ارحم حیران رہ گیا اور اس سِنگ کو اپنے تھیلے میں محفوظ کر کے گھر لوٹ آیا 🏡
اگلی ہی صبح ارحم کو اس کا بھائی شہریار انتہائی پریشان حال ملا 😞 معلوم ہوا کہ دکان کا مال مالکِ مکان نے ضبط کر لیا ہے اور چوہدری سلطان کا بھاری قرض بھی سر پر کھڑا ہے 💸 شہریار کی آنکھوں میں آنسو تھے: "اگر چند دنوں میں رقم کا بندوبست نہ ہوا تو میری دکان نیلام ہو جائے گی" 💔 ارحم نے بھائی کو حوصلہ دیا: "تپش نہ لیں بھائی جان! رب کوئی وسیلہ بنائے گا" 🤲
ارحم بکریاں لے کر پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا 🏔️ اس نے تھیلے سے وہ عجیب سِنگ نکالا اور ہلکی سی پھونک ماری 🎺 ایک عجیب سی مدھر صدا فضا میں گونجی 🎶 دیکھتے ہی دیکھتے آسمان سے ایک نایاب سنہری باز (شین پرندہ) اڑتا ہوا آیا اور ارحم کے قریب ایک چٹان پر بیٹھ گیا 🦅
وہ پرندہ انسانوں کی طرح صاف زبان میں بولا: "اے سچے چرواہے! تو نے مجھے پکارا ہے۔ بتا تیری کیا مشکل ہے؟" 🗣️ ارحم پہلے تو خوفزدہ ہوا مگر پھر سنبھل کر بولا: "میرے بھائی شہریار پر بڑا قرض ہے، وہ بہت پریشان ہے۔ کیا میں اس کی کوئی مدد کر سکتا ہوں؟" 🕊️
پرندے نے ارحم کا دل ٹٹولا اور کہا: "تیری نیت صاف ہے ارحم ✨ میں تیرے بھائی کو مفاد مفت میں نہیں دوں گا، لیکن اسے محنت کا ایک ایسا ذریعہ بتا سکتا ہوں جو اس کی تقدیر بدل دے 🌟 پہاڑ کی دوسری جانب، ایک پوشیدہ گھاٹی میں کافوری صندل کے نایاب درخت ہیں 🌳 ان درختوں کی گوند سے دنیا کا سب سے مہنگا اور نایاب عطر بنتا ہے 🧴 تو وہاں سے صندل کی گوند کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا لے آ، مگر یاد رکھنا! صرف ایک ٹکڑا، زیادہ کی ہوس نہ کرنا!" ⚠️
ارحم نے پرندے کے بتائے ہوئے مشکل اور پتھریلے راستوں کو طے کرتے ہوئے اس پوشیدہ گھاٹی کو ڈھونڈ نکالا 🏔️ وہاں کافوری صندل کے خوبصورت درخت موجود تھے 🌿 ارحم نے نہایت احتیاط سے صرف ایک چھوٹا سا ٹکڑا گوند کا اتارا اور واپس آ گیا 🌾
شہر کے سب سے بڑے عطر ساز حکیم داؤد نے جب اس گوند کو دیکھا تو اس کی عقل دنگ رہ گئی 😲 "یہ تو نایاب کافوری صندل کی اصل گوند ہے! یہ تو کمیاب ترین شے ہے!" 💎 حکیم داؤد نے اس چھوٹے سے ٹکڑے کے بدلے ارحم کو اشرفیوں کی ایک بھاری تھیلی تھما دی 💰
ارحم نے وہ تمام اشرفیاں اپنے بھائی شہریار کو دے دیں 🎁 شہریار کا قرض اتر گیا اور اس کی دکان دوبارہ بحال ہو گئی 🛍️ شہریار نے اپنے چھوٹے بھائی کو گلے سے لگا لیا اور اپنی پرانی غلط فہمیوں پر معافی مانگی 😭
مگر جب گاؤں کے چوہدری سلطان اور اس کے بدعنوانی پر مائل بھتیجے کامران کو اس اچانک دولت کا علم ہوا، تو ان کے دلوں میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی 😠 چوہدری سلطان نے ارحم پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ وہ اس راز سے پردہ اٹھائے 🗣️ دوسری طرف ارحم کے اپنے دل میں بھی ایک پل کے لیے یہ وسوسہ آیا کہ "اگر میں تھوڑی اور گوند لے آؤں تو ہم ہمیشہ کے لیے امیر ہو جائیں گے" 💸
ایک دن ارحم بغیر سِنگ بجائے خود ہی اس گھاٹی کی طرف نکل پڑا 🚶‍♂️ مگر لالچ کی دھند نے اس کے راستے مسدود کر دیے 🌫️ وہ گھنٹوں پہاڑوں کے خطرناک موڑ پر بھٹکتا رہا اور زخمی ہو گیا 🩹 جب اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا، تو اس نے روتے ہوئے سِنگ کو نکالا اور پھونک ماری 🎺
سنہری باز پرندہ فوری نمودار ہوا، مگر اس کی آنکھوں میں سخت توبیخ تھی 🦅 "ارحم! ضرورت پوری ہونے کے بعد ہوس کا جاگ اٹھنا انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے" ⚠️
ارحم نے شرمندگی سے سر جھکا لیا: "مجھے معاف کر دو! مجھے اب مزید کچھ نہیں چاہیے، میری ناظرین اور میرا بھائی اب خوشحال ہیں" 😭
پرندے نے نرمی سے کہا: "تیری پشیمانی ہی تیرے پاک دل کی دلیل ہے ✨ اب اس سِنگ کو اسی غار میں واپس رکھ آ، جہاں تو نے درویش کو دیکھا تھا 🏔️ تیرا اصل سرمایہ یہ سِنگ یا صندل نہیں، بلکہ تیری قناعت اور تیرے سُروں کی سچائی ہے" 🎶
ارحم نے سنہری سِنگ کو غار میں واپس رکھ دیا 🏔️ اور دوبارہ اپنی سادہ زندگی کی طرف لوٹ آیا 🌾 اس کے پاس اب بھی صرف چند بکریاں اور وہی پرانی لکڑی کی بانسری تھی 🎵 مگر اب جب وہ پہاڑ پر بیٹھ کر بانسری بجاتا، تو اس کے سُروں میں پہلے سے بھی زیادہ روح پرور سکون اور نغمگی ہوتی 🎶 کیونکہ اس نے یہ سچ جان لیا تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی دولت مال و زر نہیں، بلکہ پاک نیت اور قناعتِ قلب ہے 💖✨

13/09/2026

ایک غریب شخص کو راستے میں ایک عجیب و غریب صراحی ملتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ شاید اس میں سونا ہوگا اور اس کی غریبی ختم ہو جائے گی، لیکن جیسے ہی وہ صراحی کو کھولتا ہے، اس میں سے ایک انتہائی طاقتور اور سرکش جن باہر نکل آتا ہے۔ جن کئی سو سال کی قید کے بعد آزاد ہوا تھا اور غصے میں آ کر اس شخص کو مارنے کا اعلان کرتا ہے کیونکہ اس کی آخری قسم یہی تھی کہ جو بھی اسے قید سے نکالے گا وہ اس کی جان لے لے گا۔ غریب شخص اپنی عقلمندی کا استعمال کرتا ہے اور جن کی طاقت پر شک ظاہر کر کے اسے دوبارہ صراحی میں گھسنے پر مجبور کر دیتا ہے اور فوراً صراحی کا ڈھکن بند کر دیتا ہے۔
​قید ہونے کے بعد جن معافی مانگتا ہے اور رحم کی بھیگ مانگتے ہوئے اسے ایک بادشاہ، درویش اور جادوئی وادی کی مکمل کہانی سناتا ہے۔ اس کہانی میں بتایا جاتا ہے کہ کس طرح ایک بادشاہ سچائی، دانشمندی اور رحم دلی کے امتحانوں سے گزر کر حقیقی خزانہ حاصل کرتا ہے، جبکہ لالچی انسان ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس کہانی سے سبق حاصل کرتے ہوئے اور جن کی توبہ پر، غریب شخص اسے اس شرط پر آزاد کر دیتا ہے کہ وہ آئندہ کسی کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ جن اسے اتنا مال و دولت دیتا ہے جس سے اس کا خاندان عزت سے زندگی گزار سکے اور وہ انسان کو سمجھاتا ہے کہ انسان کا سب سے بڑا خزانہ اس کی عقل اور رحم دلی ہے۔
​کہانی کا سبق:
مصیبت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، گھبرانے کے بجائے اگر عقل اور دانشمندی سے کام لیا جائے تو ہر مشکل سے نکلنے کا راستہ ضرور مل جاتا ہے۔

13/09/2026

😱میں اپنا قول نبھاؤں گا! میں قسم کھاتا ہوں کہ اپنے آزاد کرنے والے کا دل سے احترام کروں گا!"

13/09/2026

😱بالآخر صدیوں بعد میں آزاد ہوا! اب تمہاری موت میرے ہاتھوں لکھی جا چکی ہے، اپنی آخری دعا مانگ لو!"

13/09/2026

13/09/2026

غرور کے نشے میں دھت شہزادی نے ایک مسکین مالی کو دیکھتے ہی اپنے تکبر کا نشانہ بنا ڈالا..."

12/09/2026

😱😥لڑکے نے اپنی جان پر کھیل کر گھنے جنگل کے پہرے داروں کو چکما دیا... اور جادوگر کی جان یعنی اس طوطے کو اپنے قبضے میں لے لیا

12/09/2026

Part 1 EmotionalStory SadStory RomanticStory AyeshaAndHamza JalimCachi IslamicStory AisiKahani GharGharKiKahani KismatKaKhel UrduDrama ShortDrama TrendingStory Ayesha Hamza NikahStory Sabar ZulmKaAnjam

12/09/2026

😥😱چودہ سال کی طویل جدائی، درد اور صبر کا خاتمہ ہوا... اور اللہ نے ایک بیٹے کی ہمت سے ماں اور باپ کو دوبارہ ملا دیا

11/09/2026

Part 4
😱😥جادوگر نے زینب کو کُتیا بنا کر گلے میں رسی ڈالی اور کھینچتا ہوا لے گیا... اور پیچھے چھوٹ گیا ایک معصوم بچہ، جو سالوں بعد اس خوفناک راز کا پیچھا کرنے والا تھا

Website

Address


Gujranwala
52252