bacho ki sabak amooz khani

bacho ki sabak amooz khani

Share

femal

30/12/2025

🤣🤣🤣

27/04/2025

عقلمند خرگوش اور دھوکے باز بھیڑیا

ایک گھنے جنگل میں جانور سکون سے رہتے تھے۔ خرگوش، ہرن، طوطا اور کبوتر سب آپس میں اچھے دوست تھے۔ ایک دن ایک بھیڑیا، جو بہت چالاک اور دھوکے باز تھا، جنگل میں آیا۔ وہ جانوروں کا دوست بننے کا ڈرامہ کرنے لگا، مگر دل میں ان کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتا تھا۔

بھیڑیا ہر جانور کے پاس جاتا اور کہتا:
"میں تمہاری حفاظت کروں گا۔ تم مجھ پر بھروسہ کرو۔"
چھوٹے جانور، اس کی باتوں میں آ گئے اور اسے اپنا محافظ سمجھنے لگے۔

لیکن عقلمند خرگوش کو شک ہوا۔ اس نے کہا:
"دوست وہی ہوتا ہے جو دل سے خیر خواہی کرے، نہ کہ باتوں سے۔ ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے۔"

چند دنوں بعد، بھیڑیا نے موقع پا کر ایک چھوٹے ہرن کو پکڑنے کی کوشش کی۔ خوش قسمتی سے خرگوش نے یہ منظر دیکھ لیا اور فوراً جنگل کے دوسرے جانوروں کو خبر دی۔ سب مل کر بھیڑیے کے خلاف کھڑے ہو گئے۔ مل کر انہوں نے بھیڑیے کو جنگل سے بھگا دیا۔

خرگوش کی سمجھداری سے جانوروں کی جان بچ گئی۔ سب نے سیکھا کہ
"اصل مددگار وہی ہوتا ہے جو عمل سے ثابت کرے، اور غدار وہ ہوتا ہے جو میٹھی باتوں کے پیچھے چھپا ہوتا ہے۔"

---

سبق:

ہر میٹھی بات کرنے والا دوست نہیں ہوتا۔

اصل مددگار وہ ہوتا ہے جو مشکل وقت میں ساتھ دے۔

ہوشیاری اور سمجھداری سے ہی غداروں کو پہچانا جا سکتا ہے۔

26/04/2025

حاضر دماغ بہادر
دن بھر کی سخت محنت اور کڑی دھوپ کے بعد عدنان کو کچھ وقت دوپہر کے کھانے کے لئے ملا تھا۔سخت بھوک اور پیاس کے باعث اس کی زبان خشک ہو رہی تھی۔وہ ایک بڑی کمپنی میں سیکیورٹی گارڈ تھا۔سارا سارا دن گرمی برداشت کرنا اور ذہن کو جاگتا ہوا رکھنا کتنا مشکل کام ہے۔ہر وقت چاروں طرف نظر ہونی چاہیے، ورنہ کسی بھی لمحے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
اس کام میں ذرا سی بھی کوتاہی زندگی بھر کا پچھتاوا بن سکتی ہے۔
آج عدنان کی ملازمت کا تیسرا دن تھا اور اسے یہ ملازمت ملی بھی بہت دعاؤں اور محنت سے تھی۔مہنگائی نے تو سب کی کمر توڑ رکھی تھی۔اب تو اس کی جیب میں راشن کے پیسے بھی نہیں تھے۔
عدنان کو دفتر کے ایک افسر نے اشارہ کر کے کہا کہ تم آئیٹی روم میں جا کر سکون سے کھانا کھا لو۔

عدنان اپنا کھانا گرم کر کے آئی۔ٹی روم میں چلا گیا۔وہاں ایک بڑی ٹی وی اسکرین لگی ہوئی تھی۔جس پر دفتر میں لگے سارے کیمروں کے مناظر نظر آ رہے تھے۔یہ ان مناظر کو دیکھ رہا تھا اور ساتھ ہی گھر سے لائے ہوئے چنے کی دال سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔
ایک دم سے نوالہ اس کے منہ میں جاتے جاتے رک گیا اور اس کا اُٹھا ہوا ہاتھ ہوا میں ساکت ہو گیا۔اس نے اسکرین پر دیکھا۔
اس کی جگہ جو گارڈ ڈیوٹی پر تھا، اسے دو آدمیوں نے جکڑ رکھا تھا۔اس کی گن چھین لی گئی تھی۔عدنان نے فوراً الارم کا بٹن دبا دیا اور اپنی گن سنبھال کر کمرے سے باہر نکلا۔دو ڈاکو اندر کارکنوں سے نقدی اور موبائل فون جمع کر رہے تھے۔اس نے ایک ڈاکو کی ٹانگ پر گولی ماری۔وہ اپنا گھٹنا پکڑ کر نیچے بیٹھتا چلا گیا۔دوسرا ڈاکو عدنان کی طرف مڑا ہی تھا کہ ایک کارکن نے اس کی ٹانگ میں اپنی ٹانگ اڑا دی۔
ڈاکو منہ کے بل گرا۔یہ دیکھ کر سب کارکنوں نے مل کر دونوں ڈاکوؤں پر قابو پا لیا۔عدنان فوراً باہر نکلا۔گولی کی آواز سن کر باہر موجود دونوں ڈاکو گارڈ کی گن لے کر فرار ہو رہے تھے۔ایک ڈاکو پہلے ہی گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا۔عدنان نے ایک فائر گاڑی کے ٹائر پر کیا۔گاڑی ناکارہ ہو چکی تھی۔عدنان نے تینوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا۔گن سے نشانہ لے کر انھیں ہتھیار زمین پر ڈالنے پر مجبور کر دیا۔
اس طرح عدنان کی حاضر دماغی اور بہادری سے پانچوں ڈاکو گرفتار کر لیے گئے۔عدنان کو کمپنی کی طرف سے نقد انعام اور تعارفی سرٹیفکیٹ دے کر اسے اپنی مستقل ملازمت میں لے لیا۔

26/04/2025

ننھا سفیر

ایک چھوٹے سے اسلامی مدرسے میں آٹھ سالہ عمر بہت ذہین اور حساس بچہ تھا۔ ایک دن اُستاد نے کلاس میں "فلسطین" کے بارے میں بتایا—کہ وہاں کے لوگ کس طرح ظلم سہہ رہے ہیں، بچے سکول نہیں جا سکتے، گھروں سے بے دخل کر دیے جاتے ہیں، اور روز معصوم جانیں چلی جاتی ہیں۔

عمر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اُس نے کہا، "استاد جی! ہم کچھ نہیں کر سکتے؟ ہم تو مسلمان ہیں، امت ایک جسم کی طرح ہوتی ہے نا؟"

استاد نے نرمی سے کہا، "بیٹا، ہر عمل بڑا نہیں ہوتا، نیت بڑی ہوتی ہے۔ تم دعا کر سکتے ہو، شعور پھیلا سکتے ہو، اور اگر ممکن ہو تو اپنے دوستوں کو بھی اس بات کی اہمیت بتا سکتے ہو۔"

عمر نے دل میں ٹھان لیا کہ وہ فلسطین کے لیے آواز بلند کرے گا۔ اگلے دن اُس نے اپنے سکول میں ایک پوسٹر بنایا: "ہم فلسطین کے ساتھ ہیں!" اُس نے بچوں کو فلسطین کے بچوں کی تصویریں دکھائیں، ان کی دعاؤں کی اپیل سنائی۔

جلد ہی پورا اسکول فلسطین کے لیے دعا کرنے لگا۔ چند دنوں بعد اُس کی کہانی ایک مقامی اخبار میں شائع ہوئی: "ننھا سفیرِ فلسطین!"

24/04/2025

"وہ بلی اور وہ بچہ" — ایک لمحہ جو انسانیت کا امتحان بن گیا
کل گلی سے گزرتے ہوئے میں نے ایک منظر دیکھا جس نے دل ہلا کر رکھ دیا۔
میرے آگے ایک فیملی اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ چل رہی تھی۔ قریب ہی ایک بلی اپنے ننھے بچوں کے ساتھ بیٹھی تھی۔ اچانک وہ بچہ بھاگ کر بلی کے پاس گیا اور ایک بڑا پتھر اس پر دے مارا، جو بلی کی آنکھ کے قریب لگا۔ بلی کی تکلیف بھری چیخیں نکلتیں، مگر بچے کے ماں باپ نہ صرف خاموش رہے بلکہ ہنسنے لگے۔
بلی، جو اپنے بچوں کی خاطر ہلی بھی نہیں، وہیں بیٹھی رہی۔ بچہ ایک اور بڑا پتھر اٹھا چکا تھا۔ میں نے بائیک روکی، قریب جا کر اس کا ہاتھ روکا۔ اتنے میں اس کا والد آیا اور مجھ پر چڑھ دوڑا کہ "میرے بچے کو کیوں روکا؟"
میں نے کہا، "یہ بچہ ایک ماں پر پتھر برسا رہا ہے، اور آپ ہنس رہے ہیں؟" کہنے لگا "یہ تو جانور ہے!"
میں نے جواب دیا: "آپ بھی بایولوجی کے لحاظ سے جانور ہی ہیں، فرق صرف عقل کا ہے۔ مگر آپ نے اس عقل کا استعمال نہیں سیکھا۔"
اگر آپ بلی کو دودھ نہیں دے سکتے تو کم از کم اُس پر ظلم نہ کریں۔
ہم نے بچوں کو سکھایا ہی نہیں کہ جانور بھی جاندار ہوتے ہیں، اُنہیں بھی درد ہوتا ہے، ان کے بھی بچے ہوتے ہیں، خواب، تکلیفیں اور ضرورتیں ہوتی ہیں۔
کئی بار دیکھا ہے، بچے جانور دیکھ کر فوراً پتھر یا ڈنڈا اٹھا لیتے ہیں — اور افسوس! بعض والدین خود بچوں کو ہاتھ میں پتھر پکڑا کر کہتے ہیں "مارو!" اور جب بچہ صحیح نشانہ لگائے، تو اُسے شاباش ملتی ہے۔ یہ انسانیت ہے؟
اگر آپ کے بچے کو کوئی اسی طرح تکلیف دے، تو کیا آپ برداشت کریں گے؟ تو پھر کسی بے زبان جانور پر ظلم کر کے خوشی کیسے محسوس ہوتی ہے؟
یہ رویے بچپن میں سکھائے جاتے ہیں، اور بڑے ہو کر یہی بچے ظالم بن جاتے ہیں۔
بچوں کو پہلے اچھا انسان بنائیں، پھر ڈاکٹر، انجینئر یا وکیل۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"ان بے زبان جانوروں کے بارے میں اللہ سے ڈرو…" (ابو داؤد)
اور فرمایا:
"زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔"
جانور اگر نقصان دے، تو بچاؤ کریں — مگر جو بے ضرر ہو، اسے مارنا ظلم ہے۔
اگر مدد نہیں کر سکتے، تو کم از کم تکلیف نہ دیں۔ اگر بلی یا کتیا کے ساتھ چھوٹے بچے ہوں، تو اسے چند دن دودھ یا روٹی دے دیں۔ پرندے اگر بار بار کھانے کی تلاش میں آئیں، تو تھوڑا سا دانہ رکھ دیں۔
اللہ فرماتا ہے:
"ھل جزا الاحسان الا الاحسان"
یعنی "نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کیا ہے؟"
آئیے وعدہ کریں:
ہم اپنے بچوں کو سکھائیں گے کہ جانور بھی جاندار ہوتے ہیں۔ نہ خود کسی جانور کو تکلیف دیں گے، نہ کسی اور کو ایسا کرنے دیں گے۔
انسانیت کا مطلب صرف انسانوں سے محبت نہیں — بلکہ ہر جاندار سے رحمت کا سلوک ہے۔

14/04/2025

اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے

ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بچہ رہتا تھا جس کا نام احمد تھا۔ احمد ایک غریب مگر دیانتدار لڑکا تھا۔ وہ ہر روز بازار جاتا اور سبزی بیچ کر گھر کا خرچ چلاتا۔

ایک دن وہ بازار میں سبزی بیچ رہا تھا کہ ایک امیر شخص آیا۔ اس نے جلدی میں احمد کو زیادہ پیسے دے دیے اور چلا گیا۔ احمد نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں اس آدمی کے بہت زیادہ پیسے آ گئے ہیں۔

کچھ لمحوں کے لیے احمد کے دل میں لالچ آیا، لیکن فوراً اُسے اپنی ماں کی بات یاد آئی، جو ہمیشہ کہتی تھیں:

"بیٹا! چاہے کوئی دیکھے یا نہ دیکھے، اللہ تعالیٰ ہر وقت دیکھ رہا ہوتا ہے۔"

یہ سن کر احمد نے دوڑ کر اس شخص کو تلاش کیا اور اس کے پیسے واپس کر دیے۔

وہ شخص بہت متاثر ہوا اور خوش ہو کر بولا، "بیٹے! تم تو بہت ایماندار ہو، میں تمہیں اپنی دکان میں کام پر رکھنا چاہتا ہوں۔"

احمد خوشی خوشی مان گیا۔ یوں اللہ پر یقین اور ایمانداری نے احمد کی زندگی بدل دی۔

13/04/2025

نیک دل بادشاہ کی کہانی

ایک زمانے میں ایک ایسا بادشاہ حکومت کرتا تھا جو نہایت رحم دل، انصاف پسند اور نیک دل تھا۔ اُس کا نام سکندر تھا۔ وہ ہمیشہ اپنی رعایا کا خیال رکھتا، غریبوں کی مدد کرتا اور ہر شخص کی بات سنتا۔ اس کی سلطنت میں سب خوشحال اور مطمئن تھے۔

ایک دن بادشاہ سادہ لباس میں اپنے وزیر کے ساتھ رعایا کا حال جاننے کے لیے شہر کی گلیوں میں نکلا۔ راستے میں اُس نے ایک فقیر کو دیکھا جو بھوکا پیاسا بیٹھا تھا۔ بادشاہ نے فوراً اپنا کھانا اُس فقیر کو دے دیا اور اُس سے حال پوچھا۔ فقیر نے دعائیں دیں اور کہا:

"اے بادشاہ! تم واقعی خدا کے نائب ہو، تم جیسا حکمران ہر ملک کو نصیب ہو۔"

بادشاہ نے فقیر کو محل آنے کی دعوت دی اور اس کے لیے روزگار کا بندوبست کیا۔

اسی دوران بادشاہ کو معلوم ہوا کہ اس کے کچھ افسران رعایا پر ظلم کر رہے ہیں۔ بادشاہ نے فوراً اُن کا احتساب کیا اور متاثرین کو انصاف دلوایا۔ اس فیصلے کے بعد رعایا کا اعتماد اور بھی بڑھ گیا۔

سالوں تک نیک دل بادشاہ سکندر کی حکومت قائم رہی۔ اس کی نیکی، انصاف پسندی اور محبت کی بدولت اُس کا نام تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا گیا۔

06/04/2025

گاؤں کا چور

ایک وقت کی بات ہے، پنجاب کے ایک خوبصورت گاؤں "چک نمبر 7" میں ایک چور رہتا تھا، جس کا نام کالا تھا۔ کالا نہ تو بہت ہوشیار تھا، نہ ہی زیادہ بہادر، مگر چوری کرنے کا بڑا شوقین تھا۔ وہ ہمیشہ رات کے اندھیرے میں نکلتا اور لوگوں کے گھروں سے چھوٹی موٹی چیزیں چراتا—کبھی مرغی، کبھی جوتے، کبھی دودھ کی بالٹی۔

گاؤں والے اس سے بہت تنگ تھے، مگر وہ کبھی پکڑا نہ جاتا۔ ہر روز صبح ایک نیا شور ہوتا:
"میری مرغی چوری ہوگئی!"
"میرے نئے جوتے کہاں گئے؟"
"بالٹی کہاں گئی؟"

ایک دن، گاؤں کے بزرگ، چاچا بشیر، نے سب کو اکٹھا کیا اور کہا، "اگر ہم اس چور کو نہ پکڑ سکے، تو یہ گاؤں چوروں کا گڑھ بن جائے گا!"

چنانچہ سب نے مل کر ایک منصوبہ بنایا۔ انہوں نے چاچا بشیر کے گھر کے باہر دودھ کی بالٹی میں رنگ ملا دیا۔ کالا حسبِ عادت رات کو آیا اور بالٹی اٹھا کر چل دیا۔

صبح جب سورج نکلا، تو سارا گاؤں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔ گاؤں کی گلیوں میں ایک لمبی نیلی لکیر جا رہی تھی جو سیدھی کالا کے گھر جا رہی تھی۔ سب لوگ اس رنگین سراغ کو دیکھتے ہوئے اس کے گھر پہنچے، جہاں کالا نیلے رنگ میں لت پت، حیران و پریشان کھڑا تھا۔

چور پکڑا گیا۔

چاچا بشیر نے کہا، "اب بتاؤ، چوری کرنا کیسا لگا؟"

کالا شرمندہ ہو گیا۔ گاؤں والوں نے اسے معاف کر دیا، مگر شرط یہ رکھی کہ وہ اپنی چوریاں چھوڑ کر سب کی مدد کرے گا۔

کالا نے وعدہ کیا، اور تب سے وہ گاؤں کا سب سے ایماندار آدمی بن گیا، جو سب کے کام آتا تھا۔

31/03/2025

علی بچپن سے ہر عید پر اپنی ماں کے ہاتھ کے بنے شیر خرما اور باپ کی دی ہوئی عیدی کا منتظر رہتا تھا۔ اس کے لیے عید کا اصل مزہ یہی تھا کہ وہ صبح ماں کے ہاتھوں سے تیار کیے گئے مزیدار پکوان کھائے، باپ کے ساتھ نمازِ عید پڑھنے جائے، اور پھر پورا دن ہنسی خوشی گھر والوں کے ساتھ گزارے۔

لیکن وقت گزرتا گیا، علی جوان ہوگیا، نوکری کی مصروفیات میں الجھ گیا، اور ایک دن ایسا آیا جب وہ اپنے کام کی وجہ سے پہلی بار عید پر گھر نہ جا سکا۔ اس نے فون پر ماں سے کہا، "امی، اس بار میں عید پر نہیں آ سکوں گا، دفتر میں کام بہت زیادہ ہے۔" ماں نے مسکرا کر کہا، "بیٹا، کوئی بات نہیں، اپنا خیال رکھنا۔" مگر اس کی آواز میں ایک عجیب سا خالی پن تھا، جو علی کے دل کو چھو گیا، مگر وہ مصروفیت میں اسے نظر انداز کر بیٹھا۔

کچھ سال یوں ہی گزرتے گئے۔ اب علی کی عیدیں بڑے شہروں کی چکاچوند میں گزرنے لگیں، مگر جب کبھی ماں کی یاد آتی، تو وہ ایک لمحے کو رک کر سوچتا ضرور تھا۔ پھر ایک سال، اچانک ایک دن اسے اطلاع ملی کہ اس کی ماں نہیں رہیں۔ وہ بھاگا بھاگا اپنے گاؤں پہنچا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔

اس سال عید آئی، لیکن اس کے گھر میں خاموشی تھی۔ نہ ماں کے ہاتھ کے بنے پکوان تھے، نہ باپ کی عیدی۔ علی کو احساس ہوا کہ اصل خوشی عید کے نئے کپڑوں میں نہیں، بلکہ ماں باپ کی موجودگی میں تھی۔ وہ پچھتایا، مگر وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔

یہ کہانی صرف علی کی نہیں، بلکہ ان سب کی ہے جو زندگی کی دوڑ میں اپنے والدین کو بھول بیٹھتے ہیں۔ اگر آپ کے ماں باپ زندہ ہیں، تو اس عید پر ان کے ساتھ وقت گزاریں، کیونکہ ایک بار جو وقت ہاتھ سے نکل جائے، وہ کبھی واپس نہیں آتا۔

30/03/2025

عید کی سچی خوشی

رحمت کی گلیوں میں عید کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں۔ ہر طرف خوشی کا سماں تھا، بازاروں میں چمکتی دکانیں، مہکتی مٹھائیاں، اور بچوں کی خوشی دیدنی تھی۔ مگر انہی چمکتی روشنیوں کے درمیان ایک کونے میں دس سالہ علی افسردہ بیٹھا تھا۔

علی ایک غریب مزدور کا بیٹا تھا۔ اس کے والد روزانہ محنت مزدوری کرتے مگر اتنی آمدنی نہ تھی کہ علی کے لیے نئے کپڑے یا جوتے خرید سکتے۔ علی بازار میں دوسرے بچوں کو عید کی خریداری کرتے دیکھ رہا تھا اور دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ کاش اس کے پاس بھی نئے کپڑے ہوتے، جوتے ہوتے، اور وہ بھی خوشی سے عید منا سکتا۔

اسی دوران ایک مالدار شخص، احمد صاحب، جو اکثر غریبوں کی مدد کرتے تھے، علی کی اداس آنکھوں کو دیکھ کر رک گئے۔ وہ اس کے پاس آئے اور نرمی سے پوچھا، "بیٹا، تم یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ تم عید کی تیاری کیوں نہیں کر رہے؟"

علی نے آہستہ سے جواب دیا، "میرے پاس عید کے لیے کچھ نہیں ہے، اس لیے بس یہاں بیٹھا ہوں۔"

احمد صاحب کے دل کو ایک دھچکا لگا۔ وہ علی کا ہاتھ پکڑ کر اسے قریبی دکان میں لے گئے اور اسے نئے کپڑے، جوتے اور عید کے لیے مٹھائیاں خرید کر دیں۔ علی کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ وہ خوشی خوشی اپنے گھر لوٹا اور اپنی ماں کو سب کچھ دکھایا۔ اس دن پہلی بار علی کی ماں کے چہرے پر بھی حقیقی خوشی آئی۔

عید کی صبح، علی نہایت خوش نظر آ رہا تھا۔ اس نے احمد صاحب کا شکریہ ادا کیا اور دل میں سوچا کہ جب وہ بڑا ہوگا تو وہ بھی کسی غریب کی مدد ضرور کرے گا، تاکہ عید سب کے لیے خوشیوں بھری ہو۔

سبق:
عید صرف اپنی خوشی کا نام نہیں، بلکہ دوسروں میں خوشی بانٹنے کا نام ہے۔ جب ہم کسی غریب کی مدد کرتے ہیں، تو اصل میں ہم عید کی حقیقی روح کو زندہ کرتے ہیں۔

28/03/2025

کوا اور لومڑی

ایک دن ایک کوا کسی درخت کی ٹہنی پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کی چونچ میں روٹی کا ایک ٹکڑا تھا، جو وہ کہیں سے اٹھا لایا تھا۔ وہ اسے مزے سے کھانے ہی والا تھا کہ اتنے میں ایک چالاک لومڑی کی نظر اس پر پڑ گئی۔

لومڑی نے سوچا، "یہ روٹی تو بہت مزے دار لگ رہی ہے، اگر میں کسی طرح اس کوے سے یہ لے لوں تو میرا بھی پیٹ بھر جائے گا۔"

چنانچہ، لومڑی کوے کے قریب جا کر میٹھی زبان میں بولی، "السلام علیکم، محترم کوا بھائی! ماشاءاللہ، آپ کتنے خوبصورت لگ رہے ہیں! آپ کے پر چمک رہے ہیں، اور آپ کی چونچ بھی بہت خوبصورت ہے۔ لیکن میں نے سنا ہے کہ آپ کی آواز بھی بہت میٹھی ہے۔ کیا آپ میرے لیے کوئی گانا گا سکتے ہیں؟"

کوا، جو پہلے ہی تعریف سن کر خوش ہو چکا تھا، اپنی آواز کا مظاہرہ کرنے کے لیے تیار ہو گیا۔ جیسے ہی اس نے اپنی چونچ کھولی، روٹی کا ٹکڑا نیچے گر گیا۔ لومڑی جھٹ سے اسے اٹھا کر بھاگ گئی اور مزے سے کھانے لگی۔

کوا غصے اور افسوس سے دیکھتا رہ گیا، لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔

سبق:
چالاک لوگوں کی میٹھی باتوں میں آ کر نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ہمیشہ عقل سے کام لینا چاہیے اور دوسروں کی چالاکیوں سے بچنا چاہیے۔

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Hyderabad?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Pakka Qila
Hyderabad