NutriVibes

NutriVibes

Share

Treatment available for all diseases,

19/10/2022

...!!

....!!


عورتوں میں مردانہ ہارمون اینڈروجنز تھوڑی بہت مقدار میں پائے جاتے ہیں جو انکی نشوونما کے لئے بہت ضروری ہوتے ہیں ..

مسئلہ تب ہوتا ہے جب اووریز اور اینڈرینل گلینڈ بہت زیادہ مقدار میں اینڈروجنز پروڈیوس کرنا شروع کردیتے ہیں ..

اب اس سے عورتوں کے دو انتہائی اہم ہارمونز ایسٹروجن اور پروجیسٹرون کا لیول کم ہوجاتا ہے جس سے ماہواری کا نظام گڑبڑ ہو جاتا ہے ...

کیوں کہ ایسٹروجن سے ہی اینڈمیٹیریم ٹشوز بنتے ہیں اور بعد ازاں وہ پروجیسٹرون کی وجہ سے ماہواری کے خون کی صورت میں تحلیل ہوکر خارج ہوجاتے ہیں ...

لہٰذا ایسٹروجن کی کمی کی وجہ سے ماہواری کم ہونے لَگتی ہے یا بلکل ہی بند ہو جاتی ہے ...

اب ماہواری کے کچھ روز بعد خارج ہونے والا انڈا اووریز میں ہی رک جاتا ہے ..

اور پھر آہستہ آہستہ اس انڈے میں پانی ، ہوا یا پھر خون بھرنا شروع ہوجاتا ہے جو Cyst کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور بہت سے مسائل کا سبب بنتا ہے ۔ اس مسئلے کو یعنی " پولی سسٹک اووری سینڈروم" کہتے ہیں .!

اسکی چار درج ذیل اقسام ہیں ....👇

نمبر 1 : Insulin-resistant PCOS
نمبر 2 : Inflammatory PCOS
نمبر 3 : Hidden-cause PCOS
نمبر 4 : Pill-induced PCOS

یاد رہے PCOS میں مبتلا خواتین کو بانچھ پن کے علاوہ بھی صحت کے بہت سے سنگین مسائل درپیش آسکتے ہیں جن میں....👇

👈 ٹائپ 2 ذیابیطس...
👈 ہائی بلڈ پریشر...
👈 دل اور خون کی رگوں کے مسائل ...
👈 اور یوٹیرن کینسر ..وغیرہ...!!

👈 ...👇

👈ماہواری کا کم آنا ...
👈 یا پھر ماہواری کی بےقاعدگی ...
👈ماہواری کا بلکل رک جانا ...
👈اووریز کا بڑھ جانا یا سوزش ....
👈 چہرے اور چھاتی کے بالوں کا نمودار ہونا ..
(جسکو کہتے ہیں )...

👈وزن کا بڑھنا خصوصا Belly اور Abdomen کے ارگرد کا بڑھنا ..
👈جلد کے مسائل مثلا ایکنی اور آئلی سکن ...
👈سر کے بالوں کا پتلا ہوجانا یا گنج پن ..
👈 اور بانچھ پن ....وغیرہ ...!!

👈 ..........👇

یاد رہے پی سی او ایس کا کوئی مستقل علاج نہیں ہوتا ...صرف چند علامات پہ وقتی قابو پا کر ممکنہ پریشانی سے بچا جاتا ہے ...

اسطرح زیادہ وزن والی خواتین کے وزن کو کم کرکے انکے ہارمونز کی سطح کو متوازن کیا جاتا ہے...

ایلوپیتھی میں پہلے علاج کے طور پہ استعمال کروائی جاتی ہے جو اووریز سے انڈے کو ریلیز کرتی ہے تاکہ دیگر مسائل سے بچا جاسکے ...

اسکے علاوہ تجویز کی جاتی ہے جس insulin-resistance کو ریورس کیا جاتا ہے اور وزن میں کمی لاکر PCOS کی علامات پہ قابو پایا جاتا ہے ..!!

عورتوں میں جب مردانہ ہارمون بہت زیادہ ہوجائے تو وہ میں تبدیل ہو جاتا ہے ...

اب جب اس کا لیول بڑھ جائے تو یہ بہت زیادہ مسائل کا سبب بنتا ہے جیسا کہ یہ ہیر فولی سیلز کو انتہائی بے دردی سے سکیڑ دیتا ہے جس سے بالوں کی نشوونما رک جاتی ہے اور بال گرنے لگتے ہے...

اگر اس کا لیول نارمل نا کیا جائے تو بعد ازاں یہ عورتوں کے گنج پن کا سبب بھی بن سکتا ہے ...
شکریہ ...!!
Herbal Doctor Khadija kanwal Siddiqui
Gruanteed treatment available 💯
Contact:0316-3179091
🩺💊

14/10/2022

بڑی آنت کاسرطان یا کینسر


بڑی آنت کا سرطان کینسر کی ایک ایسی قسم ہےجو کہ نظام ہضم کی نالی کے نچلے حصے یعنی بڑی آنت سے شروع ہوتا ہے۔
بڑی آنت پیٹ کے نچلے حصّے سے (دائیں کونے سے) اوپر کی جانب اُٹھتی ہوئی پیٹ کے بالائی حصّے میں جاکر جِگر کے بالکل بائیں جانب مُڑ جاتی ہے۔ کچھ دور جاکر بائیں جانب لچھے دار (کنڈل) موڑ کھاتے ہوئے نیچے اُترتی ہے۔ یہاں سے یہ مِقعد کے ساتھ مل جاتی ہے۔ یہ بڑی آنت سیکم(caecum) یا اندھی نالی، کولون ( colon)، بڑی آنت کے نچلے حصے اور مقعد کی نالی پر مشتمل ہوتی ہے۔ آنت کا کینسر کولون یا مقعد re**um دونوں سے شروع ہو سکتا ہے اس لیے اس کو انگریزی میں کولوریکٹل colorectalکا نام دیا گیا ہے۔
بڑی آنت کااہم کام اضافی پانی اور معدنیات کو جذب کرنا ہوتا ہے تاکہ آنتوں کے افعال کی تحریک کوبرقرار رکھ کر فاضل مادوں کے اخراج کویقینی بنایا جا سکے۔
کولوریکٹل کینسر عام طور پر 50سال سے زیادہ عمر کے افراد میں پایا جاتا ہے۔ تاہم یہ عمر کے کسی حصے میں بھی ہو سکتا ہے خاص طور پر اگر خاندان میں پولپس(polyps)کی مجودگی کی تاریخ ہے۔ پاکستان میں یہ مرض ان افراد میں عام دیکھا گیا ہے جن میں آنتوں میں سو زش یا زخمinflammatory ulcer کا پرانا مرض ہو۔
کینسر جسم کے کسی حصے سے شروع ہو سکتا ہے اور تیزی سے تمام جسم میں پھیل سکتاہے۔ اسی لیے کینسر کے علاج کے لیے ضروری ہے کہ اسکی ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہو جائے ورنہ یہ ایک جان لیوا مرض ہے۔ کینسر کی ابتداجسم میں غیر معمولی خلیات کے بننے سے ہوتی ہے۔ انسانی جسم خلیات پر مشتمعل ہوتا ہے جو کہ جین کے پہلے سے طہ شدہ پروگرام کے مطابق کا م کرتے ہیں۔چنانچہ پرانے خلیات اپنی طبعی عمر پوری کرکے ختم ہوتے جاتے ہیں اور نئے صحتمند خلیے ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔ یہ نظام ساری عمر چلتا رہتا ہے جین کے اس پروگرام میں خرابی کی وجہ سے جسم غیر معمولی خلیات بنانا شروع کردیتا ہے جو کہ کینسر کا سبب بنتے ہیں۔ یہ خلیات تیزی سے بڑھتے ہیں اور اگر مریض کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو پورے جسم میں پھیل جاتے ہیں۔
اکثر واقعات میں دیکھا گیا ہے کہ کولوریکٹل کینسر مقعد re**um سے شروع ہوتا ہے۔ جبکہ بڑی آنت کے درمیان کا حصہ جو جگر کے پاس سے نیچے کی جانب آتا ہے اس کی شروعات میں زیادہ متحرک نظر نہیں آتے۔ یہ کینسر غیر کینسر شدہ خلیات کے گچھہ جسکو پولپس یا رسولی کہتے ہیں،سے شروع ہوتاہے۔ پولپس کا اگر دس سے پندرہ سال تک علاج نہ کیا جائے تو یہ کینسر بن جاتے ہیں۔ پولپس کی دو بڑی اقسام ہیں۔

1۔ ۱ غدود والے پولپس Adenomatous Polyps ( یہ کینسر کی شکل اختیار کر سکتے ہیں)

2۔ خلیوں کی غیر معمولی افزائش والے پولپس hyperplastic polyps ( یہ کینسر کی شکل اختیار نہیں کرتے)

بڑی آنت میں کینسر کی شرح منرجہ ذیل ہوتی ہے۔

1۔ مقعد re**um 38 فیصد

2۔ سگمائیڈ کولون sigmoid colon 21 فیصد

3۔ سیکم caecum 12فیصد

4۔ آنت کا عرضی حصہ جو دائیں جانب سے بائیں جانب تک ہوتا ہے transverse colon 5.5 فیصد

5۔ آنت کا دائیں جانب اوپر جانے والا حصہ ascending colon 5 فیصد

6۔ آنت کا بائیں جانب نیچے جانے والا حصہ descending colon 4 فیصد

علامات:

1۔ مریض کو پاخانے کے ساتھ خون آتا ہے، اور پاخانے کے بعد بھی خون خارج ہوتا ہے۔

2۔ پاخانہ بار بار آتا ہے،اور عام طور پر پاخانہ نرم ہوتا ہے اور صبح سویرے خون کے ساتھ دستوں کی شکائت ہوتی ہے۔

3۔ کھانے کے بعد پیٹ میں درد اور مروڑ ہوتا ہے اور پیٹ پھول جاتا ہے۔ اس سے خوراک میں کمی ہو جاتی ہے۔

4۔ وزن میں خاطرخواہ کمی ہو جاتی ہے

5۔ خون کی کمی (خون کے ضائع ہونے کی وجہ سے)، کمزوری اور تکھاوٹ ہوتی ہے۔

6۔ پیٹ کے نچلے حصے میں رکاوٹ محسوس ہوتی ہے جس سے پاخانے کے اخراج میں دقت ہوتی ہے۔

7۔ پاخانہ پورا نہ کرنے کا احساس ہوتا ہے۔ یہ کینسر کی ایک اہم ابتدائی علامت ہے۔

وجوہات اور خطرات :

1۔ بڑی آنت میں غیرکینسرشدہ پولپس کی مجودگی کو کولوریکٹل کینسر کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔

2۔ خاندان میں پولپس اور کولوریکٹل کینسر کی مجودگی اس کنیسر کے ہونے کے خطرات کو بڑھاتی ہے۔

3۔ یہ کینسرعموما 50 سال سے زیادہ عمر کے افراد میں ہوتا ہے۔

4۔ کبھی کبھارنوجوانوں میں پولپس کی مجودگی مشائدہ میں آئی ہے، اگرچہ ان میں کینسر کی علامات ہوں یہ نہ ہوں۔

5۔ وزن کی زیادتی، شراب کا زیادہ استعمال اور سگریٹ نوشی کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔

6۔ زیادہ عرصے تک آنتوں میں جلن اور سوزش ہونا جسکو انگریزی میں انفلیمیٹری بول کی بیماری کہتے ہیں کولوریکٹل کینسر کی وجوہات میں شامل ہے۔

7۔ ایسی خوراک جس میں فائبر کی کمی ہو اور بڑا گوشت اور ڈبوں میں بند گوشت کے زیادہ استعمال سے کولوریکٹل کینسر ہو سکتا ہے۔

8۔ زیادہ درجہ حرارت پر تیار کیا جانے والا گوشت (آگ پرزیادہ بھونے ہوئے (بار بی کیو)، اور فرائنگ)۔ اس سے گوشت میں کیمیکلز بڑھ جاتے ہیں اور کینسر کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

9۔ ذیابطیس اور کولیسٹرول کے امراض بھی کینسر کے خطرات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

اسکریننگ

1۔ کینسر کی تمام اقسام کی طرح قولوریکٹل کینسر کے حالات کا ابتدائی مراحل میں تشخیص اس کے علاج اور خاتمےمیں بہت موئثرقدم ہوتا ہے۔

2۔ جن افراد کے خاندان کی طبی تاریخ میں اس کینسر کے واقعات ہیں ان کو تواتر کے ساتھ اسکریننگ کروانی چائیے۔

3۔ اسکریننگ کے لیے کئی ٹیسٹ کروائے جا سکتے ہیں۔ عا م طور پر خون کا ٹیسٹ اور کولونواسکوپی (اس میں کولون اور مقعد کا اندرونی جائزہ لیا جاتا ہے) کیے جا تے ہیں۔

تشخیص اور ٹیسٹنگ :

1۔ متشبہ مریض پر ڈاکٹرڈیجیٹل ریکٹل معائنہ کرتا ہے۔ اس میں مریض کی بڑی آنت میں انگلی ڈال کر دیکھا جاتا ہے ہے کہ اس میں کوئی گٹھلی توموجود نہیں۔ انگلی نکالنے کے بعد آنت میں خون کی مجودگی کا بھی پتہ چل جاتا ہے۔

2۔ کولونواسکوپی اور بائیوپسی دوسرے اہم ٹیسٹ ہیں جن سے علامات کی تصدیق ہو جاتی ہے۔ اس میں بڑی آنت کی متاثرہ جگہ سے ایک چھوٹا سا حصہ لیا جاتا ہے اور اس کا خوردبین سے معائنہ کیا جاتا ہے تاکہ خلیات کی شکل اور جسامت میں تبدیلی کا انداذہ لگایا جا سکے۔

3۔ سگمائڈواسکوپی سے سگمائڈ ٹیوب کے اندر غیرمعمولی تبدیلیوں کا اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔

4۔ بیریم اینیما (ایک مائع مادہ)

ٹیسٹ میں ایک رنگ آمیز مادہ کو مقعد کے راستے سے مریض کے اندر داخل کر کے اسکی تصاویر لی جاتی
ہیں۔ اس سے بھی کینسر کی تشخیص ہو سکتی ہے۔

5۔ سی ٹی اسکین کینسر کے جسم میں پھیلاو کو دیکھنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

6۔ ایم آر آئی کینسر والی جگہ پر مرض کے پھیلاو کو جانچنے میں مدد دیتا ہے۔

اسٹیجنگ یا مراحل :

اسٹیجنگ کینسر کا علاج کے شروع کرنے سے پہلے ایک مرحلے کا نا م ہے۔ اس میں کینسر کے حملے، پھیلاو اور گہرائی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ کولوریکٹل کینسر میں جسم کے دوسرے اعضاٗ بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس میں پیلیا کا ہو جانا، پیٹ میں پانی جمع ہو جانا اور جگر کا بڑھ جانا شامل ہیں۔ اسٹیجنگ کو چار مراحل میں تقسیم کیا جاتا ہے:

پہلا مرحلہ: جب کینسر بڑی آنت تک محدود ہوتا ہے۔

دوسرا مرحلہ: جب یہ بڑی آنت کی دیوار پر حملہ کرکے اس سے باہر آتا ہے۔

تیسرا مرحلہ: جب غدودوں lymph nodes بھی متاثر ہو جاتے ہیں۔
چوتھا مرحلہ: جب کینسر دوسرے اعضاٗ تک پھیل جاتا ہے۔

بچاو :

1۔ خوراک میں فائبر کا استعمال زیادہ کرنا، بڑے گوشت اور بہت زیادہ درجہ حرارت پر پکنے والے گوشت کا استعمال کم کرنا۔

2۔ سگریٹ نوشی کو ترک کرنا

3۔ شراب کا کم استعمال

4۔ وزن کو کم کرنا

5۔ صحت مند طرززندگی اپنانا

6۔خدشات کی صورت میں اسکریننگ ٹیسٹ کروانا

7۔ اسپغول کا باقاعدہ استعمال کرنا۔ اس سے قبض نہیں ہوتی اور بڑی آنت سے زہریلہ فضلہ خارج ہو جا تا ہے۔

💯


Contact_0316-3179091
Call & Whatsapp

13/10/2022

معدے کس السر
معدے کی تکلیف کو نظرانداز نہ کریں ۔۔ یہ السر کی علامت بھی ہو سکتی ہے! جانیئے معدے کے السر کے کی وجوہات اور علاج

معدے کی تکلیف انسان کا کھانا پینا اور سکون سے رہنا مشکل کر دیتی ہے اس ہی لئے معدے کی تکلیف کو ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے، کیونکہ اگر معدے میں جلن، تیزابیت اور درد آئے دن کا معمول بن جائے تو یہ معدے کے السر کی واضح علامت بھی ہو سکتی ہے۔

معدے کا السر کیوں ہوتا ہے؟
معدے کے السر کی سب سے بڑی وجہ کھانے پینے میں بے احتیاطی ہے، مصالحہ دار سالن، مرغن غذاؤں کا بےتحاشہ استعمال معدے کے السر کی وجہ بن سکتا ہے، بازار میں ملنے والے کھانوں کا ضرورت سے زیادہ استعمال یا عادت ہونا بھی معدے کے السر کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ علاوہ ازیں ذہنی تناؤ، پریشانی و فکر، الجھن اور ڈپریشن معدے کے السر کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں، کیونکہ جب انسان کا دماغ پُرسکون نہ ہو تو اس کے جسم کا سارا نظام متاثر ہوتا ہے، معدے کا السر ان لوگوں میں زیادہ ہوتا ہے جن کے خاندان میں یہ بیماری عام ہو جیسے والدین معدے کے السر کا شکار ہوں اس کے علاوہ لال مرچ کا استعمال معدے کا السر ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

معدے کا السر کیسے ہوتا ہے؟
معدے سے گیسٹرک جوس خارج ہوتا ہے جس میں تیزابیت ہوتی ہے یہ وہ گیسٹرک جوس ہے جو کھانا ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے اگر ہم زیادہ مرغن غذاؤں کا استعمال اور بے احتیاطی کریں تو یہ تیزابیت والا جوس (ایچ سی ایل) اور ایک مادہ پیپسین زیادہ مقدار میں خارج ہوتے ہیں اور خوراک کو ہضم کرنے کی بجائے معدے کو ہضم کرنا شروع کر دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ معدے میں تکلیف ہوتی ہے۔ HCl ایسڈ اور پیپسین معدے کے اوپر والی تہہ Epithelium کو ختم کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے پاخانے میں خون آ جاتا ہے اور معدے میں شدید درد محسوس ہوتا ہے۔

• معدے کے السر کی علامات
معدے کے السر کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ معدے میں شدید درد ہوتا ہے انسان کھانے پینے سے قاصر ہو جاتا ہے السر معدہ کا درد ناف کے عین اوپر سینے سے نیچے ہوتا ہے، اس کے علاوہ معدے کے السر کی واضح علامات میں متلی اور قے، بھوک کم لگنا اور وزن میں بتدریج کمی شامل ہیں۔

Herbalist khadija kanwal Siddiqui
Contact:0316-3179091

11/10/2022

I have complete treatment of breast cancer...
💯Herbal treatment without any side effects
Herbal Doctor Khadija kanwal Siddiqui from Pakistan
Contact:0316-3179091

10/10/2022

خواتین کے لیے نسوانی حسن کی اہمیت
خواتین کے لیے نسوانی حُسن ہی تو در اصل ایک عورت کے حسین ہونے کا عکاس ہوتا ہے خواتین میں اگر حُسن اورخوبصورتی کی بات کی جائے تو چہرے کے بعد جو دوسری نمایاں رکھی جاتی ہے تو وہ نسوانی حُسن ہی ہے حتی کہ اگر یہ کہا جائے کہ خو اتین میں حُسن کے معیار کا نَوے فیصد دراَصل نسوانی حُسن ہی ہوتا ہے تو ہرگز بے جا نہ ہو گا نسوانی حُسن کی کمی کئی وجو ہات کی بناء پرہوتی ہے جیسے کہ وراثتی طور پر نسوانی حُسن کی کمی، ہار موُنز کی کمی سے نسوانی حُسن میں کمی، نظامِ ہا ضمہ کی خرابی، جِنسی اور جِسمانی کمزو ری سے نسوانی حُسن میں کمی، انگشت زنی اور جِنسی بے اعتدالیوں کے باعث ہونے والی نسوانی حُسن میں کمی وغیرہ نسوانی حُسن کی کمی سے نہ صِرف کنواری دو شیزائیں دوچار ہیں بلکہ شادی شدہ اور بڑی عمر کی خواتین کو بھی ان مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔
Herbal Doctor khadija kanwal Siddiqui
Guaranteed treatments available 💯
Contact:0316-3179091

08/10/2022

پاکستان میں پھیلتے ہوئے مرض بواسیر کی علامات



#بواسیر کا مرض پاکستان میں عام ہے۔ اگر اس مرض کا بر وقت علاج اور تشخیص نہ کی جائے تو مرض بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔ بواسیر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مرض عمر رسیدہ لوگوں میں عام ہے۔ مگر ایک تحقیق کے مطابق یہ مرض کم عمر لوگوں میں بھی عام ہے۔ قبض اور بواسیر چند ایسے امراض میں سے ایک ہیں جو انسان کی طبیعت میں بے چینی کا سبب بنتے ہیں۔
بواسیر کی وجوہات اور علاج ممکن ہے اگر وقت پر تشخیص کر لی جائے۔ بعض اوقات صرف گھریلو ٹوٹکوں سے کام لینا مناسب نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں جلد از جلد ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ اس کے لیے گیسٹرانٹرالوجسٹ یا جنرل سرجن سے مشورہ کیا جاسکتا ہے

بواسیر کی اقسام
بواسیر دو طرح کی ہوتی ہے۔
خونی بواسیر اور بواسیر بادی۔
بواسیر کی خطرناک قسم خونی بواسیر سے کیونکہ اس میں خون آتا ہے اور درد کی بھی شکایت رہتی ہے۔ اس کے برعکس بواسیر بادی میں خون تو نہیں آتا مگر دونوں کی علامات ایک جیسی ہیں۔ دونوں اقسام قابل غور ہیں کیونکہ مرض کا علاج جلد از جلد ہونا ضروری ہوتا ہے۔

بواسیرکیا ہے؟
بواسیر میں بڑی آنت کے آخری حصے میں سوزش کی وجہ سے پاخانے میں خون کا نکلنا اور قبض کی شکایت رہتی ہے۔ بواسیر جسم میں دیگر مسائل کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ جس میں بدہضمی، سینے میں جلن اور دیگر پوشیدہ مسائل بھی شامل ہیں۔

بواسیر کی وجوہات
بواسیر کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سے اسہال، مستقل قبض، حمل اور جگر کی بیماری بڑی وجوہات ہیں۔ اس کے علاوہ کھانے میں بدپرہیزی ، مرچ مصالوں کا ذیادہ استعمال ، چکنائی کا ذیادہ استعمال، بازاری ناقص خوراک اور سگرٹ نوشی کی وجہ سے بھی بواسیر کا مرض ہو سکتا ہے۔

بواسیر کی علامات
بواسیر کی سب سے بڑی علامت اجابت کے دوران درد ہے۔ اس کے علاوہ خون کا بہنا بھی باعث غور وجہ ہے۔ خون کی صورت میں بواسیر کو خونی بواسیر کہا جاتا ہے۔

اگر مرض کی وجہ جگر کی خرابی ہو تو لیورایکسٹریکٹ کہا جاتا ہے۔

بواسیر کے لئے گھریلو ٹوٹکے
اچھی طرزِ زندگی آپ کو اس مرض سے نجات میں مدد کر سکتی ہے۔ درج ذیل تدابیر کو اپنا کے آپ بواسیر جیسے خطرناک مرض سے بچ سکتے ہیں۔

کاسٹر آئل
کاسٹر آئل بواسیر کے لئے نہایت مفید ہے۔ اس کے استعمال سے درد میں کمی بھی آتی ہے۔ اس کا باقاعدگی سے استعمال خون میں کمی کا باعث بھی بنتا ہے۔

پانی کا استعمال
یاد رہے کہ بواسیر کی حالت میں پانی کا استعمال ذیادہ سے ذیادہ کیا جائے اور جسم کے اندرون حصے کو تر رکھا جائے۔

چکنائی کا کم استعمال
چکنائی والی خوراک کا کم سے کم استعمال کیا جائے۔ یہ نا صرف بواسیر کا سبب بنتا ہے بلکہ موٹا پے اور جگر کے امراض کا بھی سبب ہے
ایسکیولس ھپ Aesculis Hip میں ایک خاص قسم کی بواسیر ہے جس میں انگور کے خوشوں کی طرح نیلگوں رنگ کے دو چار مسے اکٹھے ہوتے ہیں جن میں شدید جلن کا احساس ہوتا ہے کھڑے ہونے اور چلنے سے درد شدت اختیار کر جاتا ہے ۔
مقعد میں جلن خشکی اور یہ احساس جیسے چھوٹی چھوٹی کرچیاں بھری ہوئی ہیں ۔ اجابت سخت خشک اور مشکل سے ہوتی ہے اور اجابت کے بعد سخت درد ہوتا ہے ۔ اس طرح کی پوسٹ ڈاکٹر کی رہنمائی کے لئے ایک معلوماتی پوسٹ ہوتی ہے اس کو پڑھ کر گھر پر ڈاکٹر بننے کی کوشش نہ کریں علامات موجود ہونے کی صورت میں متعلقہ ڈاکٹر سے رابطہ قائم کریں ۔




treatments available 💯
Herbalist khadija kanwal Siddiqui
Contact:0316-3179091

08/10/2022

اگر آپ اپنے منہ میں 60٫70سال کی عمر میں بھی پورے 32 دانت دیکھنا چاہتی ہے (اللّٰہ سب کو زندگی دیں)
تو آپ اپنے دانتوں کو Colgate toothpaste سے ایسے دور رکھیں جیسے آپ اپنے بچوں کو دشمنوں سے دور رکھنے کی کوششیں کرتے ہیں۔۔۔
میں الحمداللّٰہ ہربلسٹ ہو اور جتنے Colgate یوز کرنے والوں کے دانت میں کیڑے اور ٹھنڈے گرم لگنے اور مسوڑھوں کے پھولنے کے شکایت اور ہر 2,3 سال بعد 1,2دانت نکلوانا اور کھانے میں مشکل جیسے مسائل کا سبکو سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔۔
احتیاط لازم ہے ۔۔۔
یا تو مسواک یوز کرے،
سرسوں کے تیل میں نمک ملا کر برش کریں،
اخروٹ کی چھال کو منجن بنا کر یوز کریں،
جامن کی گٹھلیوں کو پیس کر پاؤڈر کرلیں اور اسکا استعمال کرے۔۔۔

treatments available 💯
Herbalist khadija kanwal Siddiqui
Contact:0316-3179091

08/10/2022

🥀 _*بے اولاد حضرات کے لیے*_ 🥀

جب کسی جوڑے کی اولاد نہ ہو رہی ہو تو وہ فوری طور پر ڈاکٹرز سے رجوع کرتا ہے جو دونوں کے میڈیکل ٹیسٹ کرکے دیکھتے ہیں کہ یہ طبی لحاظ سے بچہ پیدا کرنے کی اہلیت رکھتے بھی ہیں کہ نہیں۔ بعض کیسز میں یہ سامنے آجاتا ہے کہ بچہ پیدا کرنے کی بنیادی اہلیت تو رکھتے ہیں مگر اس کی راہ میں کچھ عارضی رکاوٹیں حائل ہیں۔ چنانچہ وہ علاج کے ذریعے ان رکاوٹوں کو دور کردیتے ہیں اور یوں اس جوڑے کے ہاں بچے کی ولادت ہو جاتی ہے۔ بعض کیسز میں رپورٹس یہ بتا دیتی ہیں کہ بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت بالکل ہی نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ اس کا مطلب یہی ہے کہ اس صلاحیت کے نہ ہونے کے سبب اس جوڑے کی فی الحال اولاد نہیں ہوسکتی۔ اس طرح کے کیسز میں میڈیکل سائنس بالکل درست کہتی ہے لیکن جو اگلی گزارش کرنے جا رہا ہوں اس پر آپ دوستوں سے غور کی درخواست ہے۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ جسے ہم چاہتے ہیں صاحب اولاد بنا دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں بانجھ پیدا کر دیتے ہیں۔ اب جوں ہی آپ پر میڈیکل سائنس انکشاف کرتی ہے کہ آپ تو بانجھ ہیں تو آپ کچھ دن کا سوگ منا کر بے اولادی قبول کرکے بیٹھ جاتے ہیں۔ آپ اس بات پر غور ہی نہیں کرتے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن مجید میں کچھ اور بھی بیان فرما رکھا ہے۔ مثلا پیدائش کے باب میں فطری قاعدہ یہی ہے کہ اولاد ماں اور باپ کے ملاپ سے وجود میں آتی ہے لیکن اسی پیدائش والے باب میں ہم قدرت کے چار مظاہر دیکھتے ہیں۔ پہلا یہ کہ حضرت آدم علیہ السلام کے وجود میں باپ کا کوئی کردار ہے اور نہ ہی ماں کا، وہ کسی کی اولاد نہیں ہیں۔ حضرت حوا کی تخلیق میں مرد یعنی حضرت آدم کا کردار تو ہے لیکن عورت کا کوئی کردار نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بغیر باپ کے پیدا فرمایا یعنی ان کی تخلیق میں عورت کا کردار تو ہے لیکن باپ کا کوئی کردار نہیں۔ انسان کے وجود میں آنے کے یہ تینوں عظیم الشان نمونے خاص ہیں جو ان تین مواقع کے علاوہ کہیں نظر آئے ہیں اور نہ ہی نظر آ سکیں گے لیکن انسان کی پیدائش کے معاملے میں سورہ مریم کا آغاز ہی ایک چوتھی طرح کا معاملہ پیش کرتا ہے جو اس لحاظ سے تو خاص ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام بڑھاپے کی انتہاء میں اللہ سے اولاد مانگتے نظر آ رہے ہیں اور جواب میں بشارت بھی حضرت یحیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی مل رہی ہے لیکن اس لحاظ سے عام ہے کہ آج بھی بہت سے افراد کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ بڑھاپے میں اولاد سے نواز دیتے ہیں۔ حضرت زکریا علیہ السلام کے واقعے میں قابل غور بات یہ ہے کہ بڑھاپے میں اللہ سے اولاد مانگنے کا خیال انہیں حضرت مریم علیہ السلام کے پاس بے موسم پھل دیکھ کر آیا اور انہوں نے سوچا کہ جس طرح اللہ سبحانہ و تعالیٰ حضرت مریم کو بے موسم پھل دے رہے ہیں ویسے ہی مجھے بڑھاپے والے خشک سالی موسم میں اولاد بھی تو دے سکتے ہیں۔ بس پھر کیا تھا، انہوں نے اپنے رب کے آگے دعاء پیش کردی اور دعاء بھی یوں کہ کوئی اور سن نہ سکے۔

كهيعص (1) ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا (2) إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا (3) قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا (4) وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِن وَرَائِي وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا فَهَبْ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا (5) يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ ۖ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا (6) يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَىٰ لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِن قَبْلُ سَمِيًّا (7) قَالَ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا (8) قَالَ كَذَٰلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِن قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا (9)

اس پس منظر کے ساتھ گزارش یہ ہے کہ میڈیکل رپورٹس دیکھ کر ہمت مت ہارا کیجئے بلکہ حضرت زکریا علیہ السلام کی طرح سوچ کر اللہ سے مانگنے کا اہتمام فرمایا کیجئے۔ یہ تو ایمان کا کیس ہے اور سوال بس یہ ہے کہ آپ کا اللہ پر ایمان و یقین کتنا پختہ ہے۔ یہ جن حضرات کے ہاں پندرہ اور بیس سال بعد پہلی اولاد ہوتی ہے یہ پختہ ایمان والے کیسز ہی تو ہیں۔ صلوۃ الحاجت بہت کام کی چیز ہے لیکن اس میں تھوڑا سا اہتمام کر لیا جائے تو اس کی قوت بہت بڑھ جاتی ہے۔۔ اس کے بعد ہاتھ اٹھا کر اپنے رب سے اس طرح مانگئے جس طرح آپ بچپن میں ماں سے چمٹ کر کوئی چیز مانگا کرتے تھے اور تب تک نہیں چھوڑتے تھے جب تک لے نہ لیتے تھے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق پیش آتا ہوں تو اپنے رب سے اچھا گمان قائم رکھا کیجئے اور مایوس نہ ہوا کیجئے۔ اگر آپ کی رپورٹس نیگٹو آجاتی ہیں تو اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ میڈیکل سائنس اس کیس میں فی الحال آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتی، آپ کا کیس خالصتا اللہ کے دربار کا کیس ہے۔ آپ میڈیکل رپورٹس پر اللہ کے دربار کو بھی چھوڑ دیتے ہیں، کیوں ؟ سائنس اللہ کی قدرت کی نفی تو نہیں۔ ایک بار مانگ کر تو دیکھئے وہ دعاء جو عرش کو ہلا دے !
Guaranteed treatments available 💯
Herbalist khadija kanwal Siddiqui
Contact:0316-3179091

05/10/2022

*السر، ایچ پائیلوری کا مکمل دیسی علاج*
ایچ پائیلوری سپائرل شیپ بیکٹیریا ہیں جو عملِ انہضام کی نالی میں افزائش پاتے ہیں اور پیٹ کی اندرونی تہہ پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ایچ پائیلوری بیکٹیریازعام طور پر کوئی نقصان نہیں پہنچاتے لیکن وہ زیادہ ترمعدہ اور چھوٹی آنت میں ہونے والے السر میں واضح حد تک ذمہ دار ہوتے ہیں۔ایچ پائیلوری بیکٹیریا کی ایک عام قسم ہے جو عام طور پر پیٹ کو متاثر کرتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق یہ پوری دنیا کے افراد میں تقریباً نصف سے زیادہ میں موجود ہوسکتے ہیں۔

ایچ پائیلوری پیٹ کے کھردری ،تلخ اور ایسڈک ماحول کو تبدیل کرکے اسکی تیزابیت کو کم کرکے زندہ رہ سکتے ہیں۔ایچ پائیلوری کی ساخت انھیں پیٹ کی اندرونی تہہ میں داخل ہونے میں مدد کرتی ہے۔بلغم سے انھیں تحفظ ملتاہے اور جسم کے مدافعتی خلیات ان بیکٹیریا تک پہنچنے سے قاصر رہتے ہیں۔یہ بیکٹیریا مدافعتی ردعمل میں مداخلت کرکے پیٹ کے مسائل پیداکرسکتے ہیں۔

ایچ پائیلوری کی وجوہات
یہ بیکٹیریا زپیٹ کے مسائل کا سبب بنتے ہیں۔جب یہ پیٹ کی اندرونی تہہ کے اندر داخل ہوتے ہیں تو پیٹ میں پیدا ہونے والے اصل ایسڈ کو بے اثر کردیتے ہیں۔ یہ ایسڈ پیٹ کے خلیات کے لئے زیادہ خطرہ ہوتاہے۔پیٹ میں موجود ایسڈ اور ایچ پائیلوری دونوں مل کر پیٹ کی اندرونی تہہ میں جلن اور زخم یعنی معدہ اور چھوٹی آنت کے اگلے حصہ میں السر کا سبب بن سکتے ہیں۔

یہ بیکٹیریا زمتاثرہ شخص کے منہ اور چہرے سے کسی بھی دوسر ے شخص کے منہ میں پھیل سکتے ہیں۔اگر باتھ روم سے فراغت کے بعد صابن سے ہاتھ اچھی طرح نہ دھوئے جائیں تو بھی یہ بیکٹیریا پھیل سکتاہے۔آلودہ پانی اور کھانا بھی اسکی ممکنہ وجہ ہے۔

ایچ پائیلوری انفیکشن کی علامات
ایچ پائیلوری کے شکار زیادہ تر افراد میں اسکی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں لیکن جب یہ انفیکشن السر کی طرف بڑھتاہے توکچھ علامات جیسے رات کے وقت جب آپکا پیٹ خالی ہوتاہے یا کھانے کے چند گھنٹوں بعدپیٹ میں درد ، ظاہر ہونے لگتی ہیں۔یہ درد عام طور پر آتاجاتارہتاہے یعنی ہوکر ختم ہوجاتاہے۔یہ درد عام طورپرگنونگ پین کے طور پر جاناجاتاہے۔کھاناکھانے یا اینٹاسڈڈرگز لینے سے اس درد میں افاقہ ہوتاہے۔اگر آپ کو اس قسم کا یا اس سے بھی شدید درد ہوتو اسے نظر انداز نہ کریں ڈاکٹرکے پاس ضرورجائیں۔

ایچ پائیلوری کی دیگر علامات مندرجہ ذیل ہیں: ضرورت سے زیادہ ڈکاریں،اپھارہ محسوس ہونا،متلی یاقے،بھوک کی کمی،اور بلاوجہ وزن میں کمی۔

ایچ پائیلوری سے متاثر ہونے والے افراد
بچوں میں ایچ پائیلوری انفیکشن کے بڑھنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اور بچوں میں اس خطرے کی بڑی وجہ مناسب حفظان صحت کی کمی ہے۔
انفیکشن کا خطرہ ماحول اور حالاتِ زندگی پر منحصر ہے۔
نارمل صحت مند لوگ بھی اس انفیکشن سے متاثر ہوسکتے ہیں اگر آپ ایک ترقی پذیر ملک میں رہتے ہیں۔ایچ پائیلوری کے شکار افراد کے درمیان رہنے اور ان سے شیئرنگ کرنے سے۔
طویل مدت تک نون سٹیروئیڈل انفلیمنٹری ڈرگز بھی معدہ کے السر کے خطرے کو بڑھاتی ہیں۔
یہ بات واضح ہے کہ معدہ کا السر کشیدگی اور کھانے کی ان اشیاء سے نہیں ہوتاہے جو ایسڈ میں ہائی ہوتی ہیں ۔دراصل یہ اس قسم کے بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتاہے۔تحقیق کے مطابق ،متاثرہ افراد میں سے تقریباًدس فیصد افراد ایچ پائیلوری کی وجہ سے معدہ کے السر میں مبتلا ہیں ۔
لیبار ٹری میں خون کا ٹیسٹ کر وانے سے اگر ایچ پائیلوری پازیٹو ہے تو مر یض اس کا شکار ہو چکا ہے۔

💯 Successful Treatment available guaranteed...
Herbalist khadija kanwal Siddiqui
Contact:0316-3179091

04/10/2022

حیض کی کمی یا زیادتی کے مسائل
حیض یا ماہواری کے مسائل کسی بھی عورت کے لیے بڑے پریشان کن ہوتے ہیں مخصوص ایام میں یہ خون رک جانا یا بےقاعدگی کے ساتھ آنا مرض میں شامل ہوتا ہے جس کا اگر مناسب علاج نہ کیا جائے تو شدید امراض کی شکایت ہو سکتی ہے
حیض بعض خواتین کو 28 اور بعض کو 22 دن کے وقفے سے آتا ہے جو عموماً تین سے چار پانچ یا سات دن کے بعد خود بخود ختم ہو جاتا ہے لیکن اگر یہ ماہانہ سائیکل متاثر ہو جائے تو حیض کی کمی یا زیادتی اور دیگر مسائل پیدا ہو جاتے ہیں جس کا علاج کرانا ضروری ہے ورنہ آگے چل کر صحت کے سنگین مسائل سامنے آسکتے ہیں
حیض کی کمی
حیض کا خون دراصل ایک فضلہ ہے جس کا بدن میں رک جانا شدید امراض اور تکالیف کا باعث ہوتا ہے حیض کا نہ ہونا حیض کی قلت کہلاتا ہے اس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں تولیدی اعضاء کی بیماریاں تولیدی اور دیگر اندرونی اعضاء کا ارتقاء نہ ہونا جسم کے مختلف ہارمونز کا توازن میں نہ رہنا رحم کی سوزش یا ایام حیض میں سردی لگنے سے خون کی کمی ذہنی صدمہ جسمانی کمزوری گردہ اور جگر کے بعض امراض موٹاپا اور ناقص غذاؤں کے بکثرت استعمال سے یہ شکایت پیدا ہو سکتی ہے
حیض کی کمی میں یا تو ماہواری آتی ہی نہیں یا پھر کبھی کبھی آکر بند ہو جاتی ہے حیض تھوڑا تھوڑا رک رک کر درد کے ساتھ آنا کمر اور پیروں میں شدید درد ہونا دوران حیض بے چینی اور ہوش وحواس درست نہ رہنا حیض کی کمی کے عام مسائل میں شامل ہیں
اکثر سن بلوغت کے وقت حیض بےقاعدہ آیا کرتا ہے مثلاً دو یا تین ماہ کے بعد حیض آتا ہے تو کبھی کبھار وقت کے ساتھ یہ مسئلہ دور ہو جاتا ہے بہت سی لڑکیوں میں شادی کے بعد بےقاعدگی خود بخود ختم ہو جاتی ہے اس کے اسباب مختلف ہوتے ہیں اس لیے علاج بھی مختلف ہوتا ہے
حیض کی کمی کی قدرتی وجوہات مینو پاز بچوں کو دودھ پلانا وغیرہ علاج کے وقت سب سے پہلے وجوہات کا جاننا ضروری ہے اگر یہ مسئلہ سیلان الرحم یا دیگر امراض کی وجہ سے ہو تو اس کا باقاعدہ علاج ضرور کروائیں
اگر حیض کی کمی کا مسئلہ ہو تو کدو توری پالک بکرے کا گوشت مونگ کی دال مکھن دودھ وغیرہ ضرور استعمال کریں
گھریلو علاج
ایک نمبر
مولی کے بیج گاجر کے بیج اور میتھی دانہ ہم۔وزن لے کر پیس کر چھان کر رکھ لیں جب حیض کی قلّت ہو تو دو چمچ نیم گرم پانی سے استعمال کریں
نمبر دو
تلسی کے بیج ایک چمچ لے کر ایک گلاس پانی میں ابال لیں جب آدھا گلاس پانی رہ جائے تو چھان کر پی لیں
حیض کا خون زیادہ اور بےقاعدگی سے آنا حیض کی زیادتی کہلاتا ہے اس مسئلے پر فوری توجہ دینی چاہیے کیونکہ اگر اس کا باقاعدہ علاج نہ کرایا تو جسمانی کمزوری اور خون کی کمی کے مسائل سر اٹھا لیتے ہیں
کبھی کبھی گرم اور تیز چیزوں کے زیادہ استعمال سے صفراوی رطوبات زیادہ ہو کر خون کو رقیق کر دیتی ہیں اور محافظ رگوں میں خشکی پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے حفاظت ٹھیک طرح سے نہیں ہو پاتی اور حیض کے مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں اس سے بدن کمزور اور نبض تیزی سے چلتی ہے پیاس کی شدت ہو جاتی ہے اور چہرے کی رنگت زرد پڑ جاتی ہے ایسی صورت میں میگرم اشیاء جیسے گوشت سرخ مرچ گرم مصالحہ وغیرہ کے زیادہ استعمال دھوپ میں زیادہ رہنے اور گرم دودھ اور گرم چائے سے پرہیز کریں
کدو پالک ٹینڈے تورئی مونگ کی دال کھچڑی ناشپاتی انگور وغیرہ کھائیں
گھریلو علاج
آگر حیض کے دوران بہت زیادہ بلیڈنگ کئی دنوں تک جاری رہے تو ان ٹوٹکوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے
نمبر ایک
انار کے خشک چھلکے پیس کر چھان کر رکھ لیں اس کا ایک چمچ سادہ پانی سے پھانک لیں تو بلیڈنگ رک جائے گی
نمبر دو
خشک پیسا ہوا دھنیا دیسی گھی اور چینی ہم وزن لے کر ملا کر رکھ لیں دو چمچ تین بار کھانے بھی فائدہ ہوتا ہے
نمبر تین
سنگجراحت اور گیکھوار ہم وزن لے کر پیس کر مکس کریں اور آدھا چمچ شربت انجبار کے ساتھ استعمال کریں

خواتین کومخصوص ایام میں بہت سے مسائل درپیش ہوتے ہیں ۔جووہ کسی سے شیئر بھی نہیں کر پاتی جس سے مسائل اورالجھ کربڑی پریشانی کاسبب بنتے ہیں۔
Herbalist khadija
Contact:0316-3179091

02/10/2022

انڈے کی سفیدی سے اپر لپ اور چہرے کے اضافی بالوں کو صاف کریں وہ بھی تھریڈنگ کی تکلیف کے بغیر
چہرے کے غیر ضروری بال سنگین مسئلہ بن گیا ہے اور اس وقت ہر پانچ میں سے تین خواتین اس مسئلے کا شکار ہیں۔ علاج دوائیاں سب ہی استعمال کر رہی ہیں لیکن پھر بھی مسئلے کا حل نہیں نکل رہا ہے۔
اگر آپ بھی غیر ضوروری بالوں سے پریشان ہوگئیں ہیں تو ایک مرتبہ یہ ٹوٹکہ بھی کرلیں ہوسکتا ہے اس سے مسئلے کا حل نہ نکلے لیکن کنٹرول ہوجائے۔
ٹپ:
٭ ایک انڈے کی زردی الگ کرلیں، صرف اس کا سفید حصہ ایک پیالے میں ڈالیں۔
٭ اس میں ایک لیموں کا رس اور آدھا چمچ شہد ڈال کر چمچ سے مکس کرلیں۔
٭ اس میں ایک ٹشو یا ململ کا کپڑا ڈبو دیں۔
٭ آدھا گھنٹہ بھیگنے کے بعد آپ اس کپڑے کو اپنے چہرے پر اس طرح لگائیں جیسے کہ ماسک لگاتے ہیں۔
٭ پھر اس کو آدھے گھنٹے کے لئے چھوڑ دیں۔
٭ جب آپ کو کھچاؤ محسوس ہو تو توڑھی کی طرف سے کپڑے کو اتارنا شروع کریں۔
٭ آہستہ آہستہ اتارنے سے بہتر ہے کہ تھوڑا سا جلد بازی میں اتاریں تاکہ جلد کے مسام کھچنے لگیں۔
٭ جیسے جیسے مسام کھینچنے لگیں گے ساتھ ہی آپ کے اضافی بال بھی کپڑے میں چپک کر باہر نکل جائیں گے۔
٭ آپ اس عمل کو ہفتے میں دو بار کریں، آپ خود فرق محسوس کریں گی۔

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Hyderabad?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


1st Street
Hyderabad
71800