Pak Legal Digest
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Pak Legal Digest, Health/Beauty, Hyderabad, Hyderabad.
01/02/2026
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP): شمولیت اور رقم وصولی کا مکمل اور آسان طریقہ
Introduction
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) حکومتِ پاکستان کا ایک اہم اقدام ہے جس کا مقصد ملک بھر میں کم آمدنی والے خاندانوں کو مالی مدد فراہم کرنا ہے۔ یہ گائیڈ آپ کو اس پروگرام میں شامل ہونے اور اپنی امدادی رقم محفوظ طریقے سے وصول کرنے کا ایک آسان اور مرحلہ وار طریقہ فراہم کرے گی، تاکہ نئے درخواست دہندگان پورے اعتماد کے ساتھ اس نظام سے فائدہ اٹھا سکیں۔
--------------------------------------------------------------------------------
1. کیا آپ اہل ہیں؟ اپنی اہلیت جاننے کا پہلا قدم
درخواست دینے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ کن خاندانوں کو اس پروگرام کے لیے اہل سمجھا جاتا ہے۔ بنیادی شرائط درج ذیل ہیں:
* کم آمدنی والے گھرانے (Low-Income Households): وہ خاندان جن کی ماہانہ کل آمدنی 25,000 روپے سے کم ہے، اس پروگرام کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
* غربت کا اسکور (Poverty Score - PMT): حکومت ایک سروے کے ذریعے خاندانوں کو غربت کا ایک اسکور دیتی ہے۔ جن خاندانوں کا پی ایم ٹی (PMT) اسکور 32 سے کم ہوتا ہے، انہیں اہل سمجھا جاتا ہے۔ (نوٹ: آپ کو SMS یا ویب پورٹل پر آپ کا اصل اسکور نہیں دکھایا جاتا، صرف یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ اہل ہیں یا نہیں)۔
* خواتین کو ترجیح (Priority for Women): وہ گھرانے جن کی سربراہ خواتین، بیوائیں یا اکیلی مائیں ہوں، انہیں اس پروگرام میں ترجیح دی جاتی ہے۔
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ ان شرائط پر پورا اترتے ہیں، تو رجسٹریشن کے لیے تیاری کا اگلا مرحلہ یہ ہے۔
--------------------------------------------------------------------------------
2. مرحلہ 1: رجسٹریشن کے لیے تیاری - ضروری کاغذات
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحصیل دفتر جانے سے پہلے، اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے پاس درج ذیل تمام ضروری کاغذات موجود ہیں۔ یاد رہے کہ تمام دستاویزات، خاص طور پر شناختی کارڈ، اصلی اور کارآمد ہونے چاہئیں۔
1. اصل قومی شناختی کارڈ (Original CNIC): (نوٹ: یہ زائدالمیعاد نہ ہو اور تصویر واضح ہو۔)
2. بچوں کا ب-فارم (Children's B-Form): (نوٹ: اگر آپ تعلیمی وظائف کے لیے بھی اپلائی کرنا چاہتے ہیں۔)
3. گھر کے پتے کا ثبوت (Proof of Address): (نوٹ: بجلی یا گیس کا بل ساتھ لے جائیں۔)
4. اضافی دستاویزات (Additional Documents): (نوٹ: بیوہ یا معذور ہونے کی صورت میں، متعلقہ سرٹیفکیٹ۔)
جب آپ کے پاس یہ تمام کاغذات تیار ہوں، تو آپ رجسٹریشن کے اگلے مرحلے کے لیے تیار ہیں۔
--------------------------------------------------------------------------------
3. مرحلہ 2: BISP تحصیل آفس میں رجسٹریشن کا طریقہ
اپنے ضروری کاغذات تیار کرنے کے بعد، آپ کو اپنے قریبی BISP دفتر جا کر رجسٹریشن کا عمل مکمل کرنا ہوگا۔ اس کا طریقہ بہت آسان ہے:
1. اپنا قریبی BISP دفتر تلاش کریں (Find Your Nearest BISP Office): اپنے علاقے کے BISP تحصیل دفتر تشریف لے جائیں۔
2. ڈائنامک سروے فارم پُر کریں (Fill the Dynamic Survey Form): دفتر کا عملہ آپ کو ایک فارم دے گا جس میں آپ کو اپنے گھرانے سے متعلق معلومات درج کرنی ہوں گی۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ درست معلومات (accurate information) فراہم کر رہے ہیں۔
3. بائیومیٹرک تصدیق کروائیں (Complete Biometric Verification): فارم جمع کروانے کے بعد آپ کو انگوٹھے کے نشان کے ذریعے اپنی شناخت کی تصدیق کروانی ہوگی۔
4. یاد رکھیں: رجسٹریشن بالکل مفت ہے (Remember: Registration is Absolutely Free): BISP رجسٹریشن یا سروے کے لیے کوئی فیس نہیں لیتا۔ کسی کو کوئی رقم ادا نہ کریں (not pay anyone any money)۔
رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد، اب آپ کو اپنی اہلیت کی تصدیق کا انتظار کرنا ہوگا۔
--------------------------------------------------------------------------------
4. مرحلہ 3: اہلیت کی تصدیق - 8171 کا پیغام
رجسٹریشن کے بعد، آپ گھر بیٹھے اپنی اہلیت کی حیثیت معلوم کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ BISP کی طرف سے تصدیقی پیغام صرف اور صرف 8171 سے ہی آتا ہے۔
طریقہ 1: SMS کے ذریعے
1. اپنے موبائل سے میسج کھولیں۔
2. اپنا 13 ہندسوں والا قومی شناختی کارڈ نمبر بغیر ڈیش کے لکھیں۔
3. اسے 8171 پر بھیج دیں۔
4. آپ کو فوری طور پر جوابی SMS میں آپ کی اہلیت کی معلومات موصول ہو جائیں گی۔
طریقہ 2: آن لائن ویب پورٹل کے ذریعے
1. ویب سائٹ 8171.bisp.gov.pk پر جائیں۔
2. فارم میں اپنا شناختی کارڈ نمبر درج کریں۔
3. تصویر میں دیا گیا کوڈ درج کریں۔
4. 'معلوم کریں' بٹن پر کلک کریں اور اپنی اہلیت کی تفصیلات دیکھیں۔
جب آپ کو 8171 سے اہلیت کا تصدیقی پیغام موصول ہو جائے، تو آپ رقم وصول کرنے کے اہل ہو جاتے ہیں۔
--------------------------------------------------------------------------------
5. مرحلہ 4: امدادی رقم کیسے حاصل کریں؟
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ادائیگی کے پرانے طریقوں کو ختم کرکے ایک جدید اور محفوظ ڈیجیٹل والٹ سسٹم متعارف کروا رہا ہے۔ اس سسٹم کے تحت حکومت آپ کے شناختی کارڈ کو پارٹنر بینکوں جیسے HBL Connect، Jazz Cash اور Easy Paisa کے ساتھ خودکار طریقے سے منسلک کر دے گی اور آپ کو SMS کے ذریعے مطلع کیا جائے گا۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ موجودہ 13,500 روپے کی قسط پرانے کیمپ سسٹم کے ذریعے ہی ملے گی، لیکن آئندہ تمام قسطیں اسی نئے ڈیجیٹل والٹ سسٹم کے ذریعے ادا کی جائیں گی۔ اس نئے نظام کے بہت سے فائدے ہیں:
* وقت کی بچت (Time-Saving): لمبی قطاروں میں انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔
* محفوظ ادائیگی (Secure Payment): رقم براہ راست آپ کے اکاؤنٹ میں آتی ہے، جس سے دھوکہ دہی اور کٹوتی کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
* آسان رسائی (Easy Access): رقم کسی بھی وقت مجاز ایجنٹ یا ATM سے نکلوائی جا سکتی ہے۔
رقم وصول کرتے وقت اور پورے BISP عمل کے دوران، سب سے ضروری یہ ہے کہ آپ خود کو فراڈ سے محفوظ رکھیں۔
--------------------------------------------------------------------------------
6. سب سے اہم: فراڈ اور جعلی پیغامات سے کیسے بچیں؟
بہت سے دھوکے باز لوگ BISP کا نام استعمال کرکے سادہ لوح افراد کو لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ آپ کو ایسے پیغامات بھیج سکتے ہیں: "مبارک ہو! آپ کو BISP کی طرف سے 25,000 روپے کی امداد کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔" یا "تصدیق کے لیے 500 روپے ادا کریں۔" یہ سب فراڈ ہے۔ سرکاری اور جعلی پیغامات میں فرق جاننا بہت ضروری ہے تاکہ آپ محفوظ رہ سکیں۔
BISP کی سرکاری اطلاع (Official BISP Communication) فراڈ اور دھوکہ دہی (Fraud and Scams)
پیغام صرف 8171 سے آتا ہے۔ پیغام عام موبائل نمبروں سے آتا ہے۔
رجسٹریشن اور دیگر خدمات بالکل مفت ہیں۔ رجسٹریشن یا رقم دلوانے کے لیے پیسوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔
آپ کو تحصیل آفس آنے کا کہا جاتا ہے۔ واٹس ایپ یا فیس بک کے جعلی لنکس پر کلک کرنے کا کہا جاتا ہے۔
سرکاری ویب سائٹ bisp.gov.pk ہے۔ ملتی جلتی جعلی ویب سائٹس استعمال کی جاتی ہیں۔
اگر آپ کو کسی بھی قسم کی پریشانی ہو یا آپ کسی فراڈ کی اطلاع دینا چاہیں، تو ہمیشہ سرکاری ذرائع استعمال کریں۔
--------------------------------------------------------------------------------
7. مدد اور شکایت کے لیے سرکاری رابطے
اگر آپ کو رجسٹریشن، ادائیگی یا کسی بھی قسم کے فراڈ سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو، تو آپ درج ذیل سرکاری نمبروں اور دفاتر سے رابطہ کر سکتے ہیں:
* فراڈ اور جعلی پیغامات کی اطلاع کے لیے ہیلپ لائن (Helpline for Reporting Fraud): 0800-26477 (یہ ایک مفت نمبر ہے اور خاص طور پر دھوکہ دہی کی شکایت کے لیے ہے)۔
* عمومی معلومات اور ادائیگی کے مسائل کے لیے ہیلپ لائن (Helpline for General Information): 051-111-247-247 (اس نمبر پر آپ رجسٹریشن اور ادائیگی سے متعلق معلومات حاصل کر سکتے ہیں)۔
* قریبی BISP تحصیل دفتر (Nearest BISP Tehsil Office): کسی بھی مسئلے کی صورت میں ذاتی طور پر دفتر تشریف لے جائیں۔
--------------------------------------------------------------------------------
Conclusion
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شمولیت کا عمل بہت سیدھا اور آسان ہے، بشرطیکہ آپ صرف سرکاری طریقوں پر عمل کریں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیشہ صرف 8171 سے آنے والے پیغامات پر بھروسہ کریں، BISP کی کسی بھی خدمت کے لیے کسی کو کوئی رقم ادا نہ کریں، اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر سرکاری ہیلپ لائن پر دیں۔ باخبر رہ کر آپ نہ صرف اپنے حق کو محفوظ بناتے ہیں بلکہ فراڈ کے خاتمے میں بھی مدد کرتے ہیں۔
پاکستان میں جائیداد کی خرید و فروخت کے عمل میں رجسٹری (Registry) اور انتقال (Intiqal/Mutation) دو الگ اور لازمی قانونی مراحل ہیں۔ جائیداد کی مکمل اور محفوظ ملکیت کے لیے دونوں کا ہونا ضروری ہے۔ صرف رجسٹری کو حتمی ثبوت سمجھنا ایک عام مگر خطرناک غلط فہمی ہے۔
رجسٹری (Sale Deed / بیع نامہ):
رجسٹری ایک قانونی معاہدہ ہے جو خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان طے پاتا ہے۔ یہ جوڈیشل اسٹامپ پیپر پر تحریر ہو کر سب رجسٹرار (تحصیلدار) کے دفتر میں رجسٹر ہوتی ہے، جس کے تحت یہ ثابت ہوتا ہے کہ سودا طے پا گیا ہے اور رقم کی ادائیگی ہو چکی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ رجسٹری صرف معاہدے اور لین دین کا ثبوت ہے، یہ خود بخود سرکاری ریکارڈ میں آپ کو مالک ظاہر نہیں کرتی۔
انتقال (Mutation):
انتقال وہ عمل ہے جس کے ذریعے ریونیو ریکارڈ (جمع بندی) میں جائیداد پرانے مالک کے نام سے خارج ہو کر نئے مالک کے نام درج ہوتی ہے۔ یہ عمل پٹواری یا اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈز کی منظوری سے لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت مکمل ہوتا ہے۔
انتقال ریاستی سطح پر ملکیت کا حتمی ثبوت ہوتا ہے اور اسی بنیاد پر ٹیکس اور دیگر سرکاری معاملات طے پاتے ہیں۔
سادہ مثال:
رجسٹری کو گاڑی کی خریداری کی رسید سمجھیں، جبکہ انتقال گاڑی کی رجسٹریشن بک ہے۔ رسید ہونے کے باوجود اگر رجسٹریشن بک آپ کے نام نہ ہو تو قانونی ملکیت مکمل نہیں ہوتی۔
دونوں کیوں ضروری ہیں؟
1) اگر انتقال نہ ہو تو پرانا مالک سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر وہی جائیداد دوبارہ فروخت کر سکتا ہے۔
2) عدالتیں عموماً انتقال اور قبضہ رکھنے والے فریق کے حق میں فیصلہ دیتی ہیں۔
3) بجلی، پانی، ٹیکس اور آئندہ فروخت کے لیے انتقال کا ہونا لازمی ہے۔
خلاصہ:
جائیداد خریدتے وقت پہلے رجسٹری کروائیں تاکہ سودا قانونی ہو جائے، اور فوراً بعد انتقال درج کروائیں تاکہ سرکاری ریکارڈ میں آپ کو مالک تسلیم کیا جائے۔ صرف رجسٹری پر اکتفا کرنا آپ کی ملکیت کو شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
⚖️ *Naveen Jatoi v. Province of Sindh (2025 P Cr. LJ 1601) - Quashing of FIRs* ⚖️
-----------------------------------
*📌 Crux of the Law:*
This judgment outlines the limitations of the High Court's writ jurisdiction in quashing FIRs.
- *Locus Standi:* A person not named in the FIR and not involved in the investigation (e.g., a wife filing for her husband) is not an "aggrieved person" and cannot file for quashing.
- *Stage of Case:* Once the challan is submitted and the trial court takes cognizance, the High Court will generally not interfere to quash the FIR. The matter is then left to the trial court to decide on merits.
- *Injunctions:* A court cannot issue an injunction to stay proceedings in a criminal case under the Specific Relief Act.
*💡 What is to be Learnt:*
- *Timing is Key:* Move for quashing *before* the challan is submitted.
- *Proper Petitioner:* Ensure the petitioner has direct standing.
-----------------------------------
⚖️ *Interpretation of Statutes: Mandatory vs. Directory (2025 CLC 1852)* ⚖️
-----------------------------------
*📌 Crux of the Law:*
This judgment provides the test for determining whether a legal provision is "mandatory" (must be followed) or "directory" (should be followed, but failure isn't fatal).
- *The Intent Test:* The core test is the intent of the legislature, not just the words used.
- *Consequence of Non-Compliance:* If ignoring the provision renders the proceedings *void* or causes injustice/inconvenience, it is **mandatory**. If non-compliance doesn't affect the validity of the act, it is **directory**.
- *Penal Consequences:* Even the word **"shall"** can be read as "may" (directory) if the statute does not prescribe a penalty for non-compliance. Conversely, "may" can be read as "shall" if public duty or rights are involved.
*💡 What is to be Learnt:*
- *Argue the Effect:* When facing a procedural lapse, argue that the rule was merely "directory" and its violation shouldn't kill the case. Conversely, if the other side missed a step, argue it was "mandatory" and the proceedings are now void.
-----------------------------------
⚖️ *KHER DIN versus Mst. HAYAT BIBI (2025 CLC 1982) - Scribe as Witness* ⚖️
-----------------------------------
*📌 Crux of the Law:*
This judgment clarifies the role of a "scribe" (the person who writes a document) in proving its ex*****on.
- *Scribe is Not an Attesting Witness:* Merely signing a document as the writer does *not* make the scribe an attesting witness. To count as an attesting witness, they must sign separately in that specific capacity.
- *Role of Scribe:* A scribe can be examined to *corroborate* the testimony of the attesting witnesses, but they cannot replace the mandatory requirement of producing two attesting witnesses (Article 79 QSO).
- *Missing Witnesses:* If attesting witnesses are dead or cannot be found, the party *must* prove this fact under *Article 80 QSO* before other evidence can be accepted.
*💡 What is to be Learnt:*
- *Proving Documents:* Don't rely on the scribe alone to prove a sale deed or will. You need the marginal witnesses.
- *Prepare for Contingencies:* If witnesses are dead, be ready with death certificates or strong evidence of their unavailability before trying to prove the document through handwriting or other means.
-----------------------------------
⚖️ *Muhammad Aman vs State (2025 MLD 1500) - Offence of Qazf* ⚖️
-----------------------------------
*📌 Crux of the Law:*
This Federal Shariat Court judgment deals with the offense of *Qazf* (false accusation of zina).
- *Judicial Statement:* The accused was charged for making a Qazf accusation during a court statement. However, there was a dispute/quarrel in court during the recording of that statement.
- *Presumption of Court Record:* While judicial records are presumed correct, the court must verify if the specific accusation was actually recorded by the judge and if the judge was present, especially when the record is challenged.
- *Procedure under 203-B Cr.P.C.:* Before taking cognizance of Qazf, the trial court must strictly follow the procedure in *Section 203-B Cr.P.C.* (examining the complainant and the impact of the accusation). Treating the complaint as a "sacrosanct document" without this examination violates the right to a fair trial. The case was remanded for a fresh trial due to this failure.
*💡 What is to be Learnt:*
- *Strict Procedure in Hudood Cases:* The procedure for Qazf is technical and strict. Any deviation by the trial court, such as failing to properly examine the complaint under the specific sections, is a strong ground for appeal and remand.
-----------------------------------
⚖️ *Karim Bakhsh Versus The State (2025 P Cr. L J 1957) - Anti-Corruption Cases* ⚖️
-----------------------------------
*📌 Crux of the Law:*
The Anti-Corruption Court cannot try private individuals if the public servants accused in the same case have been exonerated or the case against them has been cancelled.
- *No Jurisdiction Over Private Persons Alone:* The jurisdiction of the Anti-Corruption Establishment (ACE) and the Special Court is primarily over public servants. Private persons are tried only for *abetting* or conspiring with them. If the main case against the public servants falls, the case against the private individuals cannot stand alone in that special court.
- *Partial Cancellation is Illegal:* The Special Judge cannot partially agree with a cancellation report by dropping the public servants but continuing the trial against private citizens. This violates the spirit of the law. If public servants are cleared, the case should be sent to the ordinary local police for action against private individuals.
*💡 What is to be Learnt:*
- *Jurisdictional Challenge:* If you represent a private citizen in an ACE case and the public servants are let off, immediately challenge the jurisdiction of the Anti-Corruption Court. The case must be transferred to a regular court.
-----------------------------------
⚖️ *Mian Sohaib-ur-Rehman Vs Muhammad Bashir (2025 P Cr. L J 1931)* ⚖️
-----------------------------------
*📌 Crux of the Law:*
A criminal court becomes *functus officio* (having performed its office) once it has signed its final judgment. It has no power to review or alter its own order thereafter, except for clerical errors (*Section 369 Cr.P.C.*).
- *No Post-Trial Relief:* In this case, a petitioner sought restoration of possession *years after* the original complaint under the Illegal Dispossession Act had been decided and the accused acquitted. The High Court ruled that the trial court had no jurisdiction to entertain such an application after the main case was closed.
- *Remedy:* The petitioner's remedy lay in the civil court (where a suit was already pending), not in reopening a closed criminal matter.
*💡 What is to be Learnt:*
- *Act During Proceedings:* Any application for relief (like restoration of possession) must be filed and pressed *during* the pendency of the case. Once the final judgment is announced, the criminal court's hands are tied.
-----------------------------------
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Hyderabad
Hyderabad