Glowfinity pk

Glowfinity pk

Share

I don’t have any website

19/02/2026

ہمارے محلے میں ایک عورت آکر رہنے لگی۔ اس کے دو بچے بھی تھے۔ ہم نے محسوس کیا کہ ایک عجیب و غریب کردار آ کر ہمارے درمیان آباد ہو گیا ہے۔ ایک تو وہ انتہائی اعلیٰ درجے کے خوبصورت اور باریک کپڑے پہنتی تھی، پھر اس کی یہ خرابی تھی کہ وہ بہت زیادہ خوبصورت تھی۔ تیسری خرابی یہ تھی کہ اس کے گھر کے آگے سے گزرو تو خوشبو کی لپٹیں آتیں تھیں۔ اس خاتون کو کچھ عجیب و غریب قسم کے مرد بھی ملنے آتے تھے۔ گھر کی گاڑی کا نمبر تو روز دیکھ دیکھ کر آپ جان جاتے ہیں، لیکن اس کے گھر آئے روز مختلف نمبروں والی گاڑیاں آتیں تھیں۔
ایک دن جب میں گھر آیا تو محلے کے نکڑ پر حسبِ معمول کچھ بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔ موضوعِ گفتگو پھر وہی خاتون تھی۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ “زمانہ ہی خراب ہے”، کوئی اسے بچوں کے لیے برا اثر قرار دے رہا تھا۔ میں خاموشی سے سب سنتا رہا، لیکن دل میں ایک انجانا سا تجسس بھی تھا۔
میرا گھر اس کے گھر کے بالکل سامنے نہیں تھا مگر اتنا قریب ضرور تھا کہ اس کے دروازے پر ہونے والی ہلچل نظر آ جاتی۔ اس کے بچے اکثر شام کو گلی میں کھیلتے تھے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ دونوں نہایت شائستہ اور باادب تھے۔ کسی سے اونچی آواز میں بات نہ کرتے، نہ لڑائی جھگڑا، نہ شور شرابا۔ کئی بار میرا دل چاہا کہ ان سے پوچھوں کہ تمہاری امی کیا کرتی ہیں، مگر میں نے کبھی ہمت نہ کی۔
ایک شام بجلی چلی گئی۔ گرمی کا موسم تھا، سب لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔ اچانک دیکھا کہ وہ خاتون بھی اپنے گھر کے باہر آ گئی۔ اس نے سادہ سا سوٹ پہن رکھا تھا، بال کھلے تھے مگر چہرے پر کوئی بناوٹ نہیں تھی۔ بچوں کے ساتھ فرش پر بیٹھ کر انہیں پنکھا جھل رہی تھی۔ پہلی بار میں نے اسے قریب سے دیکھا۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی سنجیدگی اور تھکن تھی، جیسے مسکراہٹ بھی کسی بوجھ تلے دبی ہو۔
اتنے میں ایک گاڑی آ کر رکی۔ محلے والوں کی نظریں فوراً ادھر اٹھ گئیں۔ گاڑی سے ایک درمیانی عمر کا شخص نکلا۔ اس کے ہاتھ میں فائل تھی۔ وہ سیدھا دروازے کی طرف بڑھا۔ خاتون نے اٹھ کر دروازہ کھولا اور اسے اندر لے گئی۔ سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔ “دیکھا؟ پھر کوئی نیا آیا ہے!”
میرا دل نہ جانے کیوں بے چین ہو گیا۔ میں نے خود سے سوال کیا کہ آخر ہمیں اس کی زندگی میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ کیا صرف اس لیے کہ وہ خوبصورت ہے؟ یا اس لیے کہ وہ اکیلی ہے؟
چند دن بعد ایک واقعہ پیش آیا جس نے میری سوچ بدل دی۔
رات کے تقریباً دس بجے تھے کہ اچانک گلی میں شور مچ گیا۔ میں باہر نکلا تو دیکھا کہ اس کے گھر کے باہر دو آدمی جھگڑ رہے تھے۔ وہی آدمی جو اکثر اس کے پاس آتے تھے۔ بات بڑھتے بڑھتے ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔ خاتون بھی باہر آ گئی۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی مگر وہ دونوں کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔
محلے کے کچھ لوگ بھی جمع ہو گئے۔ کسی نے پولیس کو فون کر دیا۔ پولیس آئی تو معلوم ہوا کہ وہ دونوں آدمی ایک این جی او کے کارکن تھے اور کسی پراجیکٹ کے سلسلے میں اختلاف ہو گیا تھا۔ خاتون بھی اسی ادارے کے ساتھ کام کرتی تھی۔ وہ بیوہ تھی اور اپنے شوہر کی وفات کے بعد اس نے ایک فلاحی تنظیم کے ساتھ کام شروع کیا تھا تاکہ اپنے بچوں کی کفالت کر سکے۔
اگلے دن میں نے پہلی بار اس کے بارے میں تحقیق کی۔ معلوم ہوا کہ وہ ایک تعلیم یافتہ خاتون ہے، اس کا شوہر ایک حادثے میں وفات پا گیا تھا۔ سسرال والوں نے ساتھ نہ دیا تو وہ بچوں کو لے کر اس محلے میں آ بسی۔ وہ عورتوں کے حقوق اور یتیم بچوں کی تعلیم کے لیے کام کرتی تھی۔ جو گاڑیاں آتی تھیں وہ دراصل مختلف ڈونرز اور ٹیم ممبرز کی ہوتی تھیں۔
مجھے شرمندگی محسوس ہوئی۔ ہم نے اس کے کردار پر شک کیا، صرف اس کی ظاہری شکل اور طرزِ زندگی دیکھ کر۔ ہم نے یہ نہ سوچا کہ ایک اکیلی عورت کے لیے زندگی کتنی مشکل ہو سکتی ہے۔
چند دن بعد اس کے بیٹے کو تیز بخار ہو گیا۔ آدھی رات کو وہ بچے کو لے کر باہر نکلی مگر کوئی سواری نہیں مل رہی تھی۔ اتفاق سے میں جاگ رہا تھا۔ میں نے گاڑی نکالی اور انہیں اسپتال لے گیا۔ راستے میں وہ خاموش بیٹھی رہی۔ اسپتال پہنچ کر جب ڈاکٹر نے کہا کہ خطرے کی کوئی بات نہیں تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
واپسی پر اس نے پہلی بار مجھ سے بات کی۔ “لوگ میرے بارے میں کیا کیا سوچتے ہیں، میں جانتی ہوں۔ مگر میں نے کبھی کسی کو صفائی دینا ضروری نہیں سمجھا۔ میں صرف اپنے بچوں کے لیے جیتی ہوں۔”
اس کی آواز میں نہ شکوہ تھا نہ غصہ، صرف تھکن تھی۔
اس رات مجھے نیند نہیں آئی۔ میں سوچتا رہا کہ ہم کیسے لوگ ہیں؟ ایک عورت اگر مضبوطی سے جینے کی کوشش کرے تو ہمیں وہ کھٹکتی ہے۔ اگر وہ خوبصورت ہو تو ہمیں اس کی خوبصورتی میں عیب نظر آتا ہے۔ اگر وہ خوشبو لگائے تو ہمیں اس میں خرابی دکھائی دیتی ہے۔
آہستہ آہستہ محلے کے لوگوں کا رویہ بھی بدلنے لگا۔ شاید اس رات کے واقعے کے بعد سب کو حقیقت کا اندازہ ہو گیا تھا۔ اب جب اس کے گھر گاڑی آتی تو لوگ خاموش رہتے۔ اس کے بچے محلے کے دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے لگے۔ عید پر اس نے سب کے گھروں میں مٹھائی بھیجی۔
ایک دن اس نے خواتین کے لیے محلے کی مسجد کے ہال میں ایک مفت سلائی کلاس شروع کی۔ کئی غریب عورتیں وہاں آنے لگیں۔ رفتہ رفتہ وہی عورت جو کبھی “عجیب و غریب کردار” سمجھی جاتی تھی، محلے کی عزت دار اور مددگار خاتون بن گئی۔
میں نے سیکھا کہ کردار کا اندازہ خوشبو، کپڑوں یا گاڑیوں کے نمبروں سے نہیں لگایا جا سکتا۔ بعض اوقات ہماری آنکھیں صرف وہی دیکھتی ہیں جو ہمارا ذہن دیکھنا چاہتا ہے، حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔
آج جب میں اس کے گھر کے سامنے سے گزرتا ہوں تو مجھے خوشبو کی لپٹوں میں کوئی خرابی محسوس نہیں ہوتی۔ وہ خوشبو مجھے اس عورت کی محنت، حوصلے اور خودداری کی یاد دلاتی ہے۔ اور میں دل ہی دل میں سوچتا ہوں کہ اصل عجیب و غریب کردار شاید وہ نہیں تھی… بلکہ ہم تھے، جو بغیر جانے پرکھے فیصلے سنا دیتے ہیں۔

منقول

Photos from Glowfinity pk's post 25/08/2024

HAVELYN Hair Food

13/06/2023

Cara Ve
Hydrating cleanser normal and dry skin.

13/06/2023

VICTORIA’S SECRET
Amber Romance fragrance mist brume perfume.

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Islamabad?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Islamabad
46000