full story Urdu

full story Urdu

Share

full story Urdu language

05/05/2026

میری پسندیدہ ترین تحریروں میں سے ایک....❤️

عورتوں کے موڈ ایویں نئیں خراب ہوتے!

شادی کے بعد امی پشاور سے ملتان آئیں۔ ایک دن آندھی آئی تو امی کہتی ہیں میں رو پڑی۔ تھوڑی دیر پہلے سارا گھر صاف کیا تھا، برآمدہ اور صحن دھویا تھا، ملتان کی آندھی جو آئی تو ساری صفائی صاف کر گئی۔ دوبارہ ہر چیز پہ ایک تو مٹی پڑ گئی اور پھر پہلے سے کہیں زیادہ موٹی تہہ تھی۔ تو امی جب کہتی تھیں کہ میں رو پڑی تو میں ایک چھوٹا بچہ ہوتا تھا۔ میں سوچتا تھا کہ اس میں رونے کی ایسی کیا بات تھی؟ امی دوبارہ صاف کر لیتیں۔

امی یہ واقعہ سنانے کے بعد آج بھی ہنس پڑتی ہیں۔ میں اُس وقت بھی ہنستا تھا، ان کے ساتھ اب بھی ہنس لوں گا لیکن آج یہ رونا سمجھ میں آ گیا۔

شہر بدلا، اکیلا رہا تو استاد بہت کچھ سمجھ میں آ گیا۔ ایسا آیا کہ اب میری ہر پرانی تھیوری بے وزن ہو کے خلا میں ڈول رہی ہے۔ ارادوں کے ٹوٹنے سے خود کو پہچاننے والے اولیا ہوتے تھے، ہم خاکی لوگ تو اپنے خیال اپنے نظریے غلط ہونے پر ہی اپنی اوقات جان لیتے ہیں، ارادے باندھنے جیسی ہمت کہاں۔
قصہ یوں ہوا کہ فقیر جب دوسرے شہر روزی کمانے آیا تو خدا کے ایک مہربان بندے نے ایسی جگہ مہیا کر دی جو رہنے کا بہترین آسرا ہے۔ بیٹی کی پڑھائی تھی تو بیوی بچہ ساتھ لانا مشکل تھا، اکیلے رہنا شروع کر دیا۔

اکیلے آدمی کا بھی پھیلاوا بہرحال ہوتا ہے۔ صفائی کا معاملہ ہر دوسرے دن پیش آتا ہے، اس سے بچت ممکن نہیں۔ تو کل رات کچن صاف کیا اور شیشے کی طرح چمکا دیا۔ پچھلے ہفتے جھاڑ پونچھ کرلی تو کمر تھوڑی ناراض تھی، کچن صاف کرتے ہوئے پھر احتجاج کیا تو اسے دوا پیش کر دی۔ پھر یوں ہوا کہ وہ احتجاجی کمر اور فقیر دونوں سوگئے۔

صبح اٹھ کر پتہ چلا کہ رات ایسی بارش ہوئی جو مکمل صفائی پر پانی پھیر گئی۔ کچن کے مکمل سلیب اور فرش، ہر جگہ پانی تھا۔ سلیب صلیب نظر آتا تھا اور فرش فراش کرنے پہ بضد تھا۔ تب اس چھوٹے سے حسنین جمال کو جا کر سمجھایا کہ بابو، امی اس لیے روئی تھیں۔

یہ تو ایک مثال تھی۔ آس پاس دیکھتا تھا تو دنیا کی 80 فیصد عورتوں سے یہ شکایت ہوتی تھی کہ کھانا پکاتی ہیں تو شور بہت کرتی ہیں۔ موڈ آف ہو جاتا ہے، گرمی لگنے لگتی ہے، پھر پکا کے فوراً سامنے رکھ دیں گی لیکن خود نہیں کھائیں گی کہ بھوک مر گئی ہے۔ ابھی نہیں کھانا، بعد میں کھا لیں گے۔ میں اس بات کو نخرہ سمجھتا تھا۔ یہاں آیا تو صرف اپنے لیے روٹی سالن بنانا شروع کیا۔ یار قسم پیدا کرنے والے کی، واقعی موت پڑ جاتی ہے۔ سالن بن جائے تو اس کی خوشبو اور گرمی سے پیٹ بھر چکا ہوتا ہے، روٹی پک جائے تو دھوئیں سے بھوک مر جاتی ہے۔

ایک بندے کے لیے بنانا ہو، یعنی صرف اپنے لیے کرنا ہو تو پھر بھی تھوڑا آسرا ہوتا ہے ایک آدھ روٹی بنا لی، دوسری بھی چلو ہو گئی، لیکن جہاں دوسری سے تیسری روٹی لگانی پڑے واللہ بھوک ختم ہو جاتی ہے بلکہ توا بھی پرایا لگنے لگتا ہے! اور تب میں نے جانا کہ اس میں ناراضگی کا دخل نہیں ہوتا۔ یہ قدرتی عمل ہے۔ خدا جانے کون سے ہارمون اس میں جلتے ہیں جو ایک بھوکے انسان کا پیٹ خوشبو اور دھوئیں سے بھر دیتے ہیں لیکن ہوتا بالکل یہی ہے۔ تو کھانا پکانے والے سے اسی وقت بیٹھ کر کھانے کا کہنا ایسے ہی ہے جیسے کسی کبوتر کو گردن سے پکڑ کر اس کی چونچ میں زبردستی دانہ ڈالا جائے۔

پونی بنائے چھوٹی بچیاں مجھے بڑی اچھی لگتی تھیں۔ اکثر میری بیٹی آئلہ جب چھوٹی تھی تو ماں اس کی پونی کس کر بنا دیتی، تھوڑی دیر میں دیکھتے تو وہی کھلے کے کھلے بال۔ ہم لوگ بالوں پر اسے زیادہ کچھ نہیں کہتے تھے، اوما بہت زیادہ غصے میں آتی تو کہہ دیتی کہ پھر چانٹے کھول لیے، ابھی باندھے تھے تمہارے سارے بال! تو یوں ہوا کہ جب میں یہاں آیا تو سر کی دائیں طرف ایک چھوٹا سا دانہ نکل آیا۔ پھر وہ بڑا ہو گیا۔ پہلے میرے بال فوجی کٹ ہوتے تھے۔ دانے کی وجہ سے بڑھانے شروع کر دیے کہ وہ بالوں میں چھپ جائے گا۔ دوا دارو چلتے رہے، چار پانچ مہینے بعد دانہ آخر ختم ہو گیا لیکن بالوں کی وجہ سے محسوس ہوا کہ بھائی جو اپنا گنجا پن ہے وہ کچھ کم لگتا ہے، تو بال بڑھنے دیے۔ ایک دن اتنے بڑے محسوس ہوئے کہ پونی بن سکتی تو بنا لی۔ طبیعت ہری ہو گئی۔

تب فقیر نے یہ جانا کہ بچیاں اپنے بال کھلے کیوں رہنے دیتی ہیں۔ کس کے بال باندھنے سے ایسا گندا درد ہوتا ہے جو سر سے نیچے اتر کے گردن اور کندھوں تک پھیل جانے میں خاص مہارت رکھتا ہے۔ بندہ خود پونی بنائے تو تھوڑا ہلا جلا کے سیٹ کر لیتا ہے لیکن چھوٹی بچیاں؟ ان کا مسئلہ کیا ہے، وہ اب سمجھ میں آیا۔

اسی طرح مجھ سمیت وہ سارے مرد جو لمبے بالوں کی تعریف میں شاعریاں کرتے ہیں، گانے گاتے ہیں، گھٹاؤں سے تشبیہہ دیتے ہیں انہیں دو تین سال اگر اپنے بال بڑھانے پڑ جائیں تو یقین کریں دماغ ٹھکانے آ جائے گا۔ ابے نہا لیا تو سوکھتے نہیں، سکھا لیا تو منہ پہ آتے ہیں، گردن پہ کاٹتے ہیں، کھانا بناؤ تو چولہے سے بچاؤ، لیٹو تو بال پہلے سنبھال کے لیٹو، بیٹھو تو پہلے انہیں پروٹوکول دو، باہر جانے کے لیے باندھو تو گیلے بندھ نہیں سکتے کہ سر میں درد کریں گے، نہ باندھو تو کہنے والے کہیں گے کہ حسینہ نہا کر بال کھول کے بازار میں آ گئی۔

یاد آیا، مجھے شکایت ہوتی تھی کہ بیٹی کا شیمپو بہت جلدی ختم ہوتا ہے۔ وہ بھی سارا کیس اب سمجھ آ گیا۔ اپن لوگوں کے تین چار انچ سے لمبے بال نہیں ہوتے، ادھر کئی فٹ کا حساب ہوتا ہے۔ ہم چائے کے چمچ جتنے شیمپو سے کام چلا سکتے ہیں لڑکی غریب کیا کرے، اسے تو نہ صرف بال دھونے ہیں بلکہ انہیں ’گھنا اور چمک دار‘ بھی دکھانا ہے۔ اسی بیچ فقیر کنڈیشنر کی جغرافیائی اہمیت بھی سمجھنے کے قابل ہو گیا۔

سوچیں کہ آپ کے بال جو کئی سال کی محنت کے نتیجے میں اتنے بڑے ہوئے ہیں وہ نہاتے ہوئے آپس میں ہی الجھ جائیں؟ کاٹنے پڑیں، یا توڑنے پڑیں؟ تو خیر یہ شیمپو اور کنڈیشنر کی سائنس یہ بھی سکھا گئی کہ عورتیں کاسمیٹکس استعمال نہ کریں تو ان کی مرضی ہے لیکن جو کریں گی تو یہ تقریباً ان کی مجبوری ہوتی ہے، ماں قسم ہم تم ان پہ تنقید نہیں کر سکتے میرے جانو پڑھنے والو!

یہاں آ کے مجھے سمجھ آیا کہ برتن دھونے والے پاؤڈر اور لیکوئڈ میں کیا فرق ہوتا ہے۔ کیا ایک ایسا مرد جس نے روزانہ کی بنیاد پہ برتن نہ دھوئے ہوں، کبھی یقین کر سکتا ہے کہ ڈش واشنگ پاؤڈر باقاعدہ ہاتھوں پہ خارش کر سکتا ہے، ناخنوں میں چبھتا ہے، کوئی خراش یا زخم ہو تو اسے خراب کر سکتا ہے اور ہاتھوں کی جلد کا الگ ستیاناس کرتا ہے؟ کرتا ہے سرکار برابر کرتا ہے۔

اگر خدا نے آپ کی جیب میں اتنی گنجائش رکھی ہے تو گھر کی عورتوں کی اس بات کو نخرہ نہ سمجھیں، یار واقعی لیکوئڈ ڈش واشر سے برتن دھونے اور پاؤڈر سے دھونے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ بلکہ سب سے بہتر تو یہ ہے کہ ان غریبوں کو کم از کم دستانے لا دیں ربڑ کے، فقیر تو صرف اپنے برتن دھوتا ہے، جس نے پانچ بندوں کے دھونے ہیں وہ پھر آپ کے لیے ناخن ہرگز نہیں رکھ سکتی! اور ہاں، برتن دھونے سے بھی کمر میں ایک روحانی قسم کا درد ہوتا ہے، عورتیں جھوٹ نہیں بولتیں۔

یاد رکھیے کہ باتھ روم سرف سے نہیں دھویا جا سکتا۔ فقیر نے دھویا تھا اور بس پھر گھیسیاں کھاتا پھرتا تھا۔ یہ جو آپ ہر مہینے سودے میں چار رنگ کے ٹوائلٹ کلینر دیکھتے ہیں وہ ٹائلوں والے باتھ روم کے لیے ضروری ہیں۔ آپ کے اماں باوا کے زمانے میں اگر ٹائلوں والے باتھ روم نہیں تھے تو ان کی صفائی بھی کلینر کے بغیر ہو جاتی تھی، اب بہرحال کموڈ الگ چیز سے صاف ہوگا اور ٹائلیں الگ چیز سے، گٹر بند ہو تو وہ تیسرے سے کھلے گا اور یہ واجب ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ سارے کام ایک تیزاب سے ہو جائیں تو کبھی خود ٹرائی کیجیے، مالک بڑا مہربان ہے، سمجھ آپ کو بھی آ ہی جائے گی۔

تنکوں والے جھاڑو اور پھول جھاڑو کی انسانی ارتقا میں اہمیت نیز دونوں میں واضح فرق اور نوعیت استعمال کا پرچہ ترکیب بھی یہیں آ کر پتہ چلا۔ یہ بھی علم ہوا کہ بھلے گھر میں ویکیوم کلینر موجود ہو، جھاڑوؤں کی اپنی ایک اہمیت ہے اور ان کا مقام ان سے کوئی بھی نہیں چھین سکتا۔ پھر وہ جو تین سائز کے وائپر آتے ہیں، ان کی بھی سمجھ آ گئی۔ دنیا بڑی چالو جگہ ہے یارو، مطلب صفائی بھی ایک اوزار سے نہیں ہو سکتی، واقعی نہیں ہو سکتی!

اب بچ گیا کپڑے دھونا اور استری کرنا۔ یہ بہت ہی کوئی نیکسٹ لیول تکلیف دہ کام ہے، اگر آپ یقین کریں۔ کپڑے اپنے ہوں یا دوسروں کے، انہیں دھونا، نچوڑنا، سکھانا، انتہائی واہیات اور ٹائم ضائع کرنے والے کام ہیں۔ واشنگ مشین ہے، ڈرائر ہے تو اس کو لگانا اور سمیٹنا، اس میں بھی ٹھیک ٹھاک رائتہ پھیلتا ہے۔ آپ مانیں گے یہاں میری بھی بس ہوگئی؟ کلم کلے ایک آدمی کے کپڑے، وہ بھی نہ دھلتے ہیں نہ استری کر سکتا ہوں۔ گھر کے ہر پھیرے میں ساتھ جاتے ہیں۔ دھل گئے تو یہاں لا کے استری باہر سے کروا لیے۔ ویسے کپڑے دھونے سے بھی زیادہ بور کام استری کرنا ہے۔ مطلب کوئی کام اور نہ ہو تو بھی یہ کام بہرحال وہ کام ہے جسے کہتے ہیں کم جوان دی موت اے!

تو بھائی یقین کیا جائے کہ فقیر ان سارے تجربوں سے گزر کے اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ گھرداری میں شامل کوئی بھی کام آسان نہیں ہے۔ چنگی بھلی ورزش بھی ہے اور ذہنی فٹیگ الگ سے ہے۔ اگر آپ کے اردگرد کوئی بھی خاتون آپ کے یہ سارے کام کر دیتی ہیں اور موڈ ان کا بعد میں آف رہتا ہے، تو یہ قدرتی بات ہے۔ بالکل اللہ میاں کی طرف سے ہے۔ اس پر صبر کی بجائے شکر کیجیے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی خاتون کام کرنے گھر آتی ہیں، بے شک وہ اس کے پیسے لیتی ہوں، وہ بھی اتنے پیسے نہیں لے رہی ہوتیں جتنے آپ کے درد سر کم کر رہی ہوتی ہیں۔ ان کے لیے بھی ایک گوشہ ہمدردی کا رکھیں اور اگر اس ساری بات میں بھاشن بازی کی فیلنگ آ رہی ہے اور آپ ’ہونہہ‘ کہنے والے ہیں تو صرف ایک بار، پورے ایک ہفتے کے لیے سب کچھ خود کرکے دیکھیں۔ خدا شفا دینے والا ہے!

02/05/2026

*خواتین کے ایک معروف سرکاری کالج میں انگلش کا پیریڈ تھاکہ ایک طالبہ زور زور سے رونے لگی ٹیچر نے پڑھانا چھوڑا بھاگم بھاگ اس کے پاس جا پہنچی بڑی نرمی سے دریافت کیا کیا بات ہے بیٹی کیوں رورہی ہو؟ اس نے سسکیاں لے کر جواب دیا میرے فیس کے پیسے چوری ہوگئے ہیں بیگ میں رکھے تھے کسی نے نکال لئے ہیں۔۔۔*

ٹیچر نے ایک لڑکی کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کمرے کے دروازے بند کردو کوئی باہر نہ جائے سب کی تلاشی ہوگی ٹیچر نے سامنے کی تین رو سے طالبات کی خود تلاشی لی اور پھر انہیں پوری کلاس کی طالبات کی جیبیں چیک کرنے اور بستوں کی تلاشی کی ہدایت کردی۔۔

کچھ دیر بعد دو لڑکیوں کی تکرار سے اچانک کلاس ایک بار پھر شور سے گونج اٹھی ٹیچر اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی ۔۔۔کیا بات ہے؟” مس تلاشی لینے والی طالبہ بولی ۔۔۔

کوثر اپنے بیگ کی تلاشی نہیں لینے دے رہی۔۔۔

ٹیچر وہیں تڑک سے بولی پیسے پھر اسی نے چرائے ہوں گے کوثر تڑپ کر بولی نہیں۔۔ نہیں مس میں چور نہیں ہوں

”چور۔۔۔نہیں ہو تو پھربیگ کی تلاشی لینے دو" ”نہیں" ۔۔

کوثر نے کتابوں کے بیگ کو سختی سے اپنے سینے کے ساتھ لگالیا "نہیں میں تلاشی نہیں دوں گی" ۔۔۔

ٹیچر آگے بڑھی اس نے کوثر سے بیگ چھیننے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکی ۔اسے غصہ آگیا ٹیچر نے کوثر کے منہ پر تھپڑ دے مارا وہ زور زور سے رونے لگی ۔

ٹیچر پھر آگے بڑھی ابھی اس نے طالبہ کو مارنے کیلئے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ ایک بارعب آواز گونجی ۔۔۔

رک جاو ٹیچر نے پیچھے مڑکر دیکھا تو وہ پرنسپل تھیں نہ جانے کب کسی نے انہیں خبرکردی تھی۔۔۔

انہوں نے طالبہ اورٹیچرکو اپنے دفتر میں آنے کی ہدایت کی اور واپس لوٹ گئیں ۔۔۔

پرنسپل نے پوچھا کیا معاملہ ہے ٹیچرنے تمام ماجراکہہ سنایا۔۔۔

انہوں نے طالبہ سے بڑی نرمی سے پوچھا ”تم نے پیسے چرائے؟۔"”نہیں" اس نے نفی میں سرہلا دیا۔۔۔

کوثر کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے ”بالفرض مان بھی لیا جائے۔۔۔"

پرنسپل متانت سے بولیں "جب تمام طالبات اپنی اپنی تلاشی دے رہی تھیں تم نے انکار کیوں کیا؟"

کوثر خاموشی سے میڈم کو تکنے لگی ۔۔ اس کی آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو نکل کر اس کے چہرے پر پھیل گئے۔۔

ٹیچر نے کچھ کہنا چاہا، جہاندیدہ پرنسپل نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا پرنسپل کا دل طالبہ کا چہرہ دیکھ کر اسے چور ماننے پر آمادہ نہ تھا پھر اس نے تلاشی دینے کے بجائے تماشا بننا گوارا کیوں کیا۔۔۔

اس میں کیا راز ہے ؟ وہ سوچنے لگی۔۔

اور پھر کچھ سوچ کر ٹیچر کو کلاس میں جانے کا کہہ دیا۔۔۔

پرنسپل نے بڑی محبت سے کوثر کو اپنے سامنے والی نشست پر بٹھا کر پھر استفسار کیا اس نے خاموشی سے اپنا بیگ ان کے حوالے کر دیا پرنسپل نے اشتیاق، تجسس اور دھڑکتے دل کے ساتھ بیگ کھولا۔۔۔

مگر یہ کیا کتابوں کاپیوں کے ساتھ ایک کالے رنگ کا پھولا پچکا ہوا شاپر بیگ بھی باہر نکل آیا۔

طالبہ کو یوں لگا جیسے اس کا دل سینے سے باہر نکل آیا ہو۔ کوثر کی ہچکیاں بندھ گئیں پرنسپل نے شاپر کھولا اس میں کھائے ادھ کھائے برگر، سموسے اور پیزے کے ٹکڑے، نان کچھ کباب اور دہی کی چٹنی میں ڈوبی چکن کی بوٹیاں۔۔۔

سارا معاملہ پرنسپل کی سمجھ میں آ گیا ۔۔

وہ کانپتے وجود کے ساتھ اٹھی روتی ہوئی کوثر کو گلے لگا کر خود بھی رونے لگ گئی۔۔۔۔

کوثر نے بتایا میرا کوئی بڑا بھائی نہیں۔۔۔

دیگر 3 بہن بھائی اس سے چھوٹے ہیں والد صاحب ریٹائرڈمنٹ سے پہلے ہی بیمار رہنے لگے تھے گھر میں کوئی اور کفیل نہیں ہے پنشن سے گذارا نہیں ہوتا بھوک سے مجبور ہو کر ایک دن رات کا فاقہ تھا ناشتے میں کچھ نہ تھا کالج آنے لگی تو بھوک اور نقاہت سے چلنا مشکل ہوگیا۔

میں ایک تکہ کباب کی د کان کے آگے سے گذری تو کچرے میں کچھ نان کے ٹکڑے اور ادھ کھانا ایک چکن پیس پڑا دیکھا بے اختیار اٹھاکرکھا لیا قریبی نل سے پانی پی کر خداکر شکر ادا کیا۔۔۔

پھر ایسا کئی مرتبہ ہوا ایک دن میں دکان کے تھڑے پر بیٹھی پیٹ کا دوزخ بھررہی تھی کہ دکان کا مالک آگیا اس نے مجھے دیکھا تو دیکھتاہی رہ گیا ندیدوں کی طرح نان اور کباب کے ٹکڑے کھاتا دیکھ کر پہلے وہ پریشان ہوا پھر ساری بات اس کی سمجھ میں آگئی وہ ایک نیک اور ہمدرد انسان ثابت ہوا میں نے اسے اپنے حالات سچ سچ بتا دئیے اسے بہت ترس آیا اب وہ کبھی کبھی میرے گھر کھانا بھی بھیج دیتا ہے اور گاہکوں کا بچا ہوا کھانا ،برگر وغیرہ روزانہ شاپر میں ڈال اپنی دکان کے باہر ایک مخصوص جگہ پررکھ دیتا ہے۔
جو میں کالج آتے ہوئے اٹھا کر کتابوں کے بیگ میں رکھ لیتی ہوں اور جاتے ہوئے گھر لے جاتی ہوں میرے امی ابو کو علم ہے میں نے کئی مرتبہ دیکھا ہے لوگوں کا بچا کھچا کھانا کھاتے وقت ان کی آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں بہن بھائی چھوٹے ہیں انہیں کچھ علم نہیں وہ تو ایک دوسرے سے چھین کر بھی کھا جاتے ہیں.

خدارا اپنے اردگرد ایسے سفید پوش لوگوں کا خیال رکھا کریں..... یہ اپنی عزت کو غربت پر ترجیح دیتے ہیں ایسے لوگوں کی عزت کا خیال رکھیں اللہ آپکی عزت کا خیال رکھے گا۔۔۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو شئیر اور لائک ضرور کیا کریں۔

23/03/2026

تحریر


میری ایک سوتیلی بیٹی تھی انتہائی معصوم تھی خوبصورت تھی لیکن میرے اندر اس کے لیے سوتیلا پن موجود تھا میں اسے اذیت دیا کرتا تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ میں اسے اپنے لیے بوجھ سمجھا کرتا تھا دنیا کے سامنے خود کو ایک بہترین انسان ثابت کرنے کے لیے میں نے اپنی بیوی سے کہا تھا کہ اپنی بیٹی کو اپنے پاس رکھے
میری بیوی کا پہلا شوہر فوت ہو گیا تھا اس سے میری بیوی پاس وہ ایک بیٹی تھی وہ ابھی جواں عمر تھی اس کے والدین نے دوسری شادی کے لیے رشتہ ڈھونڈنا شروع کیا اور یوں وہ میرے نصیب میں اگئی میرے دل میں یہ تھا کہ جب یہ بچی جوان ہو جائے گی تو گھر کے کام کاج میں مدد دے گی اور دوسرا اگر میں اس کی کفالت ذمہ لوں گا تو دنیا کی نظر میں متعبر ٹھہروں گا یہ حقیقت ہے کہ میں نے اللہ تعالی کی رضا کے لیے سوتیلی بیٹی کو نہیں اپنایا تھا دنیاوی فائدے مد نظر رکھے تھے ان سب سے بڑھ کر میں نے اپنی بیوی سے کہا تھا کہ اس بچی کی تعلیم و تربیت پر بیماری سستی پر جوتے کپڑے پر یعنی کفالت پر جو بھی خرچہ ائے گا وہ تم خود کما کر دو گی میں اپنی کمائی میں سے اس بچی پر ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کروں گا ہاں میں اتنی اجازت ضرور دیتا ہوں کہ یہ تمہارے ساتھ رہ لے تمہاری نظروں کے سامنے رہ لے میری بیوی نے میری یہ شرط بھی مان لی تھی یوں وہ بچی میرے گھر میں میری بیوی یعنی اپنی ماں کے ساتھ رہنے لگی

میری بیوی نے اس کی کفالت کے لیے بہت محنت کی گھر کے سارے کام کاج کر کے وہ فارغ وقت میں لوگوں کے کپڑے سلائی کیا کرتی تھی اس کے علاوہ بھی اگر اسے کوئی محنت مزدوری مل جاتی تو وہ کر لیا کرتی تھی میں اسے جو کچھ تھوڑا بہت جیب خرچ دیا کرتا تھا وہ اس رقم میں سے بھی کچھ بچا لیا کرتی تھی یوں اپنی اس بچی کی پرورش وہ خود ہی کیا کرتی تھی ایک دفعہ عید کا موقع تھا اس موقع پر بچوں کے لیے کپڑے خریدنے تھے میری بیوی کے صحت ناساز تھی اس نے اپنی کمائی میں سے مجھے پیسے دیے اور مجھے اس تیلی بیٹی کے لیے کپڑے لانے کا بھی کہا
میں یہاں بتانا چاہتا ہوں کہ جو میرے اپنے بچے تھے کپڑے ان کے بھی خریدنے تھے لیکن ان کے کپڑوں کے لیے پیسے میں نے خود دینے تھے وہ میری ذمہ داری تھی مگر میرے سوتیلی بیٹی کے کپڑوں پر اور جوتوں پر جو اخراجات انے تھے وہ میری بیوی نے ادا کرنے تھے اور میری بیوی نے اتنی رقم دے دی تھی کہ میری سوتیلی بیٹی کے لیے کپڑے اور جوتوں کے ساتھ ساتھ میری اپنی اولاد کے جوتے بھی ا سکتے تھے مجھے صرف کپڑوں کے پیسے ڈالنے تھے ۔
وہاں پہنچ کر میں نے اپنے بچوں کو ان کی پسند کے کپڑے دلوائے لیکن وہ کپڑے تھوڑے مہنگے ثابت ہوئے جو رقم مجھے میری بیوی نے سوتیلی بیٹی کے کپڑے خریدنے کے لیے دی تھی وہ بھی میرے اپنے بچوں پر خرچ ہو گئی میں نے اپنی سوتیلی بیٹی کے لیے کچھ نہ خریدا اور اسے خالی واپس لے کر ا گیا اس وقت میرے ذہن میں شیطان نے ایک انتہائی ظالمانہ وسوسہ ڈال دیا تھا جب گھر انے پر میری بیوی نے پوچھا کہ بچی کے لیے کپڑے کیوں نہیں خریدتے تو میں نے اسے بتا دیا کہ بچی کے لیے ابھی نیا سٹاک نہیں ایا تھا اور پرانے کپڑے اسے پسند نہیں ائے دکاندار کا کہنا ہے کہ دو تین دن میں نیا سٹاک ا جائے گا تو تب اپ کپڑے خرید لینا یوں میری بیوی مطمئن ہو گئی اور میں نے دل میں فیصلہ کر لیا کہ اب اس بچی کو راستے سے ہٹا دینا ہے یعنی اس کی جان لے لینی ہے بہرحال بچی اپنی ماں کے سامنے کپڑوں کے لیے ضد کرتی تھی تو اس کی ماں یعنی میری بیوی مجھے مجبور کرتی تھی کہ اسے لے جا کر کپڑے لے دو تین چار دنوں بعد میں نے دوبارہ اس بچی کو اپنے ساتھ لیا اور بازار لے ایا بازار اتے ہوئے راستے میں اسے میں نے سڑک کراس کرنے کا کہا
وہ چونکہ چھوٹی بچی تھی اور شعور سے عاری تھی نا سمجھ تھی اس نے میری بات پر عمل کرتے ہوئے سڑک کراس کرنا شروع کر دی اور بیچ سڑک کے ایک ٹرک سے جا ٹکرائی جس کی وجہ سے اس کا موقع پہ انتقال ہو گیا یہ درحقیقت ایک حادثہ نہیں بلکہ قتل تھا جب پہلے دن میں نے بچی کو کپڑے لے کر نہیں دیے تھے اور اس کے پیسوں سے اپنی اولاد کو کپڑے خرید کر دے دیے تھے تب ھی میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اس بچی کو راستے سے ہٹا دوں گا کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ میری بیوی اچھی خاصی رقم کما لیتی ہے جو ساری اس بچی پر خرچ ہو جاتی ہے اور میں چاہتا تھا کہ وہ رقم میری اولاد پر خرچ ہو یوں میں نے سوچا سمجھے منصوبے کے تحت اس بچی کو سڑک کراس کرنے کا کہا اور پھر ٹرک کے ساتھ ٹکرا کر اس کی موت ہو گئی جب مجھے یقین ہو گیا کہ وہ مر چکی ہے تو اس کے بعد میں نے واویلا مچانا شروع کر دیا ٹرک ڈرائیور کو بھی پکڑ لیا گیا میں نے اس سے بھی اچھی خاصی رقم بٹور لی میری بیوی کو میرے اس عمل کی خبر نہ ہوئی اسے اپنی بیٹی کی موت کا بہت دکھ ہوا لیکن وہ اسے ایک حادثہ سمجھ کر صبر کر گئے اس کے بعد ایک وقت تک حالات بالکل نارمل رہے پھر اچانک سے مجھے کام ملنا بند ہو گیا میرے گھر سے برکت ختم ہو گئی یہاں تک کہ گھر میں نوبت فاقوں تک اگئی مجھ پہ وہ وقت اگیا کہ مجھے کوئی شخص مزدوری کے لیے بھی نہیں بلاتا تھا گاؤں کا کچھ نیک لوگ جن کو مجھ سے ہمدردی تھی وہ بھی مجھے کچھ نہیں دیتے تھے البتہ میری بیوی کو کچھ نہ کچھ مالی مدد مل جاتی تھی جس سے گھر میں ایک ادھ وقت کھانا بن جایا کرتا تھا میں اپنی اس حالت سے بہت پریشان تھا یہاں تک کہ میں اللہ کے نیک بندے کے پاس گیا اور اسے اپنے سارے حالات بتائے تو اس نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے دیدہ و داانستہ کوئی ایسا گناہ کیا ہو کسی کو کوئی اذیت دی ہو تو بتاؤ تو تب میں نے اسے سوتیلی بچی کی موت کی کہانی سنا دی میری بات سن کر اس نے کہا کہ شاید تمہیں جو رزق کی فراوانی مل رہی تھی وہ اسی بچی کے نصیب کی وجہ سے مل رہی تھی تم نے اپنے رزق کا دروازہ خود اپنے لیے بند کر دیا ہے گو کہ اب بھی تم جتنی محنت کرتے ہو اتنا کما لیتے ہو لیکن اللہ تعالی کی ذات بہترین تدبیر کرنے والی ہے تمہیں محنت ک موقع ہی اتنا ملتا ہے کہ جس سے نہ تو تمہارے اخراجات پورے ہو سکتے ہیں اور نہ تمہارے بچوں کا پیٹ بھر سکتا ہے بس ایک ہی صورت ہے کہ تم اپنی بیوی کے سامنے اپنے جرم کا اقرار کرو اپنے اللہ تعالی کے سامنے اپنے جرم کا اقرار کرو اور ان دونوں سے معافی مانگو ہو سکتا ہے اللہ تعالی اور تمہاری بیوی تمہیں معاف کر دے تو تمہاری پریشانی حل ہو جائے میں اللہ تعالی سے اب بھی معافی مانگ رہا ہوں اور ہمیشہ مانگتا رہوں گا لیکن میں اپنی بیوی کے سامنے اپنا اقبال جرم کرنا نہیں چاہتا اج وہ وقت اگیا ہے کہ میں اپنے کسی ایک بچے کے لیے بھی کپڑے نہیں خرید پاتا کئی بار عید والے دن بھی میرے گھر میں چولہا نہیں جلتا اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ میں نے ایک معصوم بچے کی جان صرف اس لیے لے لی تھی کہ وہ نئے کپڑے خریدنے کی ضد کرتی تھی اور اس کی ماں نے اس کے نئے کپڑے خریدنے کے لیے مجھے پیسے تک دیے تھے لیکن مجھے لگتا تھا کہ وہ ساری کمائی میرے بچوں کا حق ہے اور وہ بچی میرے بچوں کا کھا رہی ہے اس لیے میں نے اسے راستے سے ہٹا دیا تھا کاش کہ میں نے ایسا نہ کیا ہوتا تو شاید اج میرے بچوں کو فاقے نہ کرنے پڑتے میرے گھر کا چولہا ٹھنڈا نہ پڑتا میں اپ لوگوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ
اگر میری طرح اپ بھی کسی یتیم کی کفالت کر رہے ہیں تو کبھی بھی اس پر ظلم نہ کریں وہ اپ کا نہیں صرف اپنا حق کھا رہا ہوتا ہے ہو سکتا ہے اللہ تعالی اپ کو اس کی برکت سے اتنا رزق دے رہا ہو اگر میری طرح اپ بھی کوئی ایسا قدم اٹھائیں گے تو کل کو اپ کو بھی میرے جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا
اللہ تعالی سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے امین ثم امین

اختتام

27/02/2026

Asslam o Alaikum all mamber

11/10/2024

Right 👍

11/04/2024

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Muhammad Ahmad Bashir Ahmad, Tabish Ali, Saif Ali Saifi, Mota Lun, Muhammad Madni, Shakir Ullah, Rana Shamshad, FaizMuhammad FaizMuhammad, Rawnaget Gil, Shahid Kareem, Javied Iqbal, Masoom Foji Masoom Foji, Hazir Ali, Khan Khan, Jan Jan, Muheeb Khan

11/04/2024

Asslam Alkium .Eid-ul-Fitar Mubarak ho

27/03/2024

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Faisal Khan, Saira Khan, Sara Malik, Iqra Pari, Khan Jee, Ahmad Khan, Ahmed Manzoor, Ziddii Baloch, Mudasar Mehboob, Mishal Sheikh, صائمہ گل, M Sandhi Sandhi Chocro, M Shahabaz Shahbaz, Jafar Memon, Abubakar Nazeer, Shazab Bhatti, Saira Qaria

05/03/2024

پاکستان میں آپ کا فیس بک چل رہا ہے یا بار بار لاگ آوٹ ہو رہا ہے؟

28/02/2024

29 فروری کو پیدا ہونے والا بچے کا پروگرام تو وڑ گیا
برتھ ڈے اگلے چار سال بعد

24/02/2024

طلاق کے کاغذ
رونگٹے کھڑے کر دینے والا سچا واقعہ

کل رات ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے زندگی کی کئی پہلوؤں کو چھو لیا۔ قریب شام کے7 بجےہونگے، موبائل کی گھنٹی بجی۔ فون اٹھایا تو ادھر سے رونے کی آواز۔۔۔
میں نے چپ کرایا اور پوچھا کہ بھابی جی آخر ہوا کیا؟؟
ادھر سے آواز آئی آپ کہاں ہیں؟ اور کتنی دیر میں آ سکتے ہیں؟
میں نے کہا آپ پریشانی بتائیں اور بھائی صاحب کہاں ہیں؟ اور ماں جی کدھر ہیں؟ آخر ہوا کیا ہے؟
لیکن ادھر سے صرف ایک ہی رٹ کہ آپ فوراً آجائیے۔
میں اسے مطمئن کرتے ہوئے کہا کہ ایک گھنٹہ لگے گا پہنچنے میں۔ جیسے تیسے گھبراہٹ میں پہنچا۔

دیکھا کہ بھائی صاحب، (جو ہمارے جج دوست ہیں) سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔
بھابی جی رونا چیخنا کر رہی ہیں۔ 12 سال کا بیٹا بھی پریشان ہے اور 9 سال کی بیٹی بھی کچھ کہہ نہیں پا رہی ہے۔

میں نے بھائی صاحب سے پوچھا کہ آخر کیا بات ہے؟
بھائی صاحب کچھ جواب نہیں دے رہے تھے۔

پھر بھابی جی نے کہا؛ یہ دیکھیے طلاق کے کاغذات۔

کورٹ سے تیار کرا کر لائے ہیں۔ مجھے طلاق دینا چاہتے ہیں۔
میں نے پوچھا "یہ کیسے ہو سکتا ہے؟؟؟ اتنی اچھی فیملی ہے، دو بچے ہیں۔ سب کچھ سیٹلڈ ھے۔ پہلی نظر میں مجھے لگا کے یہ مذاق ہے۔

لیکن میں نے بچوں سے پوچھا دادی کدھر ھے؟ تو بچوں نے بتایا: پاپا انہیں 3 دن پہلے نوئیڈا کے "اولڈ ایج ہوم" میں شفٹ کر آئے ہیں۔

میں نے نوکر سے کہا: مجھے اور بھائی صاحب کو چائے پلاؤ
کچھ دیر میں چائے آئی. بھائی صاحب کو میں نے بہت کوشش کی چائے پلانے کی۔ مگر انہوں نے نہیں پیا اور کچھ ہی دیر میں وہ معصوم بچے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ اور بولے میں نے 3 دنوں سے کچھ بھی نہیں کھایا ہے۔ میں اپنی 61 سال کی ماں کو کچھ لوگوں کے حوالے کر کے آیا ھوں۔

پچھلے سال سے میرے گھر میں ماں کے لیے اتنی مصیبتیں ہوگئیں کہ بیوی نے قسم کھا لی کہ "میں ماں جی کا دھیان نہیں رکھ سکتی"
نہ تو یہ ان سے بات کرتی تھی اور نہ میرے بچے ان سے بات کرتے تھے۔

روز میرے کورٹ سے آنے کے بعد ماں بہت روتی تھی۔
نوکر تک بھی ان سے خراب طرح سے پیش آتے تھے اور اپنی من مانی کرتے تھے۔

ماں نے 10 دن پہلے بول دیا: تو مجھے اولڈ ایج ھوم میں ڈال دے۔ میں نے بہت کوشش کی پوری فیملی کو سمجھانے کی، لیکن کسی نے ماں سے سیدھے منہ بات تک نہیں کی۔
جب میں دو سال کا تھا تب ابو انتقال کرگئے تھے۔ ماں نے دوسروں کے گھروں میں کام کر کے مجھے پڑھایا۔ اس قابل بنایا کے میں آج ایک جج ھوں۔
لوگ بتاتے ہیں کہ ماں دوسروں کے گھر کام کرتے وقت کبھی بھی مجھے اکیلا نہیں چھوڑتی تھی۔ اس ماں کو میں آج اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آیا ہوں۔ میں اپنی ماں کی ایک ایک دکھ کو یاد کرکے تڑپ رہا ہوں جو انھوں نے صرف میرے لئے اٹھائے تھے۔ مجھے آج بھی یاد ھے جب میں میٹرک کے امتحان دینے والا تھا۔ ماں میرے ساتھ رات رات بھر بیٹھی رہتی تھی۔ ایک بار جب میں اسکول سے گھر آیا تو ماں کو بہت زبردست بخار میں مبتلا پایا۔ پورا جسم گرم اور تپ رہا تھا۔ میں نے ماں سے کہا تجھےتیز بخار ہے۔ تب ماں ہنستے ہوئے بولی ابھی کھانا بنا کر آئی ہوں اس لئے گرم ہے۔

لوگوں سے ادھار مانگ کر مجھے یونیورسٹی سے *ایل ایل بی* تک پڑھایا۔

مجھے ٹیوشن تک نہیں پڑھانےدیتی تھی۔ کہیں میرا وقت برباد نہ ہو جائے۔
کہتے کہتے اور زیادہ زور سے رونے لگے اور کہنے لگے۔ جب ایسی ماں کے ہم نہیں ھو سکے تو اپنے بیوی اور بچوں کے کیا ہوں گے۔
ہم جن کے جسم کے ٹکڑے ہیں، آج ہم ان کو ایسے لوگوں کے حوالے کر آئے جو ان کی عادت، انکی بیماری، انکے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ہیں۔ جب میں ایسی ماں کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتا تو میں کسی اور کے لئے بھلا کیا کر سکتا ہوں۔

آذادی اگر اتنی پیاری ھے اور ماں اتنی بوجھ ہے تو، میں پوری آزادی دینا چاہتا ہوں۔

جب میں بغیر باپ کے پل گیا تو یہ بچے بھی پل جاینگے۔ اسی لیے میں طلاق دینا چاہتا ہوں۔
ساری پراپرٹی میں ان لوگوں کے حوالے کرکے اس اولڈ ایج ھوم میں رہوں گا۔ وہاں کم سے کم ماں کے ساتھ رہ تو سکتا ہوں۔
اور اگر اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود ماں، اولڈ ایج ہوم میں رہنے کے لئے مجبور ہے تو ایک دن مجھے بھی آخر جانا ہی پڑے گا۔

ماں کے ساتھ رہتے رہتے عادت بھی ھو جائےگی۔ ماں کی طرح تکلیف تو نہیں ہوگی۔
جتنا بولتے اس سے بھی زیادہ رو رہے تھے۔ اسی درمیان رات کے 12:30 ھوگئے۔ میں نے بھابی جی اور بچوں کے چہروں کو دیکھا۔
ان کے چہرے پچھتاوے کے جذبات سے بھرے ہوئے تھے۔

میں نے ڈرائیور سے کہا؛ ابھی ہم لوگ اولڈ ایج ہوم چلیں گے۔ بھابی جی، بچے اور ہم سارے لوگ اولڈ ایج ہوم پہنچے ،
بہت زیادہ درخواست کرنے پر گیٹ کھلا۔
بھائی صاحب نے گیٹ کیپر کے پیر پکڑ لیے۔ بولے میری ماں ہے۔ میں اسے لینے آیا ہوں۔
چوکیدار نے پوچھا "کیا کرتے ہو صاحب"؟
بھائی صاحب نے کہا۔ میں ایک جج ہوں۔

اس چوکیدار نے کہا "جہاں سارے ثبوت سامنے ہیں۔ تب تو آپ اپنی ماں کے ساتھ انصاف نہیں کر پائے۔ اوروں کے ساتھ کیا انصاف کرتے ہوں گے صاحب؟

اتنا کہہ کر ہم لوگوں کو وہیں روک کر وہ اندر چلا گیا۔
اندر سے ایک عورت آئی جو وارڈن تھی۔ اس نے بڑے زہریلے لفظ میں کہا۔ 2 بجے رات کو آپ لوگ لے جاکے کہیں اسے مار دیں تو میں اللہ کو کیا جواب دوں گی؟

میں نے وارڈن سے کہا "بہن آپ یقین کیجئے یہ لوگ بہت پچھتاوے میں جی رہے ہیں"

آخر میں کسی طرح انکے کمرے میں لے گئی. کمرے کا جو نظارہ تھا اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ صرف ایک فوٹو جس میں پوری فیملی ہے، وہ بھی ماں کے بغل میں جیسے بچے کو سلا رکھا ھے۔

مجھے دیکھی تو اسے لگا کہیں بات نہ کھل جائے۔
لیکن جب میں نے کہا کہ ھم لوگ آپ کو لینے آئے ھیں۔ تو پوری فیملی ایک دوسرے سے لپٹ کر رونے لگی۔ آس پاس کے کمروں میں اور بھی بزرگ تھے۔ سب لوگ جاگ کر باہر تک ہی آگئے۔ انکی بھی آنکھیں نم تھیں۔

کچھ وقت کے بعد چلنے کی تیاری ھوئی۔ پورے اولڈ ہوم کے لوگ باہر تک آئے۔ کسی طرح ہم لوگ اولڈ ایج ہوم کے لوگوں کو چھوڑ پائے۔ سب لوگ اس امید سے دیکھ رہے تھے، شاید انہیں بھی کوئی لینے آئے۔
راستے بھر بچے اور بھابی جی تو چپ چاپ رہے۔ مگر ماں اور بھائی صاحب پرانی باتیں یاد کرکے رو رہے تھے۔ گھر آتے آتے قریب 3:45 ھو گئے۔

بھابی جی بھی اپنی خوشی کی چابی کہاں ہے یہ سمجھ گئی تھیں۔

میں بھی چل دیا لیکن راستے بھر وہ ساری باتیں اور نظارے آنکھوں میں گھومتے رھے۔

*ماں صرف ماں ھے*
*اسکو مرنے سے پہلے نہ ماریں۔
ماں ہماری طاقت ہے۔ اسے کمزور نہیں ھونے دیں۔ اگر وہ کمزور ہو گئی تو ثقافت کی ریڑھ کمزور ھو جاۓگی ۔ اور بنا ریڑھ کا معاشرہ کیسا ھوتا ھے۔ یہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ھے۔

اگر آپ کے آس پاس یا رشتہ دار میں اسطرح کا کوئی مسئلہ ھو تو انھیں یہ ضرور پڑھوایں اور اچھی طرح سمجھایں، کچھ بھی کرے لیکن ھمیں جنم دینے والی ماں کو بے گھر ، بے سہارا نہیں ہونے دیں۔ اگر ماں کی آنکھ سے آنسو گر گئے تو یہ قرض کئی صدیوں تک رہے گا۔

یقین مانیں سب ھوگا تمہارے پاس لیکن سکون نہیں ھوگا۔
سکون صرف ماں کے آنچل میں ھوتا ھے۔ اس آنچل کو بکھرنے مت دینا۔

اس دل کو چھو لینے والی داستان کو خود بھی پڑھیں۔ اور اپنے بچوں کو بھی پڑھائیں تاکہ اس سے عبرت حاصل کر سکیں۔

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Islamabad?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Islamabad
57000