The Makeup studio Hunain
Skin care Makeup Hairs Care etc in my page ......
17/05/2025
26/02/2025
اماں کہتی تھیں عشق ہو جائے تو ہو جائے مگر وہ عاشق اگر زندگی کا ساتھی بن جائے تو اسے عاشق نہیں خاوند ہی سمجھنا کیونکہ خاوند کبھی بھی عاشق نہیں بن سکتا مرد جب کاغذ کے ٹکڑے پر انگوٹھا دھرتا ہے تو عورت کی قسمت میں سیاہی بھر جاتی ہے اور وہ سیاہی عشق کے رنگ کو کھا جاتی ہے مگر وہ کہاں مانتی تھی
سجیلی لڑکی عشق کے گہنے پہنے توقعات کی سیج سجا کر بیٹھ گئی
اب عاشق ہر توقع کا پھول نوچ نوچ کر پھینکتا رہتا ہے
اور وہ اسے حیرت سے تکتی رہتی ہے
بھلا کوئی بتائے بڑے بوڑھوں کی باتیں کب غلط ثابت ہوتیں ہیں
تصورات کی نیلی ٹھندی میٹھی گھاس پہ سونے والی لڑکی بوکھلا جاتی ہے
تلخ حقیقت کی کھڑکی وہ بڑے زور دار جھٹکے سے کھولتا ہے تو وقت کی تیز دھوپ کی ظالم کرنیں اسکا وجود جھلسانے لگتی ہیں
وہ جسے غم گسار سمجھتی تھی وہ اسکے غم کی کہانیوں سے اکتا چکا ہے
وہ خاوند ہے عاشق تھوڑی ہے
سونی کلائیوں میں گلاب بھرنے کیلئے اسے عاشق ہونا ہوگا
مگر اسکی انا اس بات کی اجازت کہاں دیتی ہے
وہ رو رہی ہے بند کمرے سے سسکیاں ابھرتی ہیں
مگر انہیں سننے والا کوئی نہیں
اسکی خاطر چولہے کے سامنے گھلتی ہوئی سجیلی
جانتی بھی ہے وہ دفتر میں ہزاروں فائلوں تلے دبا ہوا ہے مصروف ہے اسکے لیے محبت سے بنایا گیا ہر کھانا بے ذائقہ ہے
گھر کے آنگن کی کیاریوں میں پانی دیتی اسے سوچتی ہے
اور چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے
وقت دوڑ رہا ہے اسکا بدن ابھی تلک جوان ہے مگر اسکی روح بوڑھی ہورہی ہے
اسنے اسکے نمبر پر طویل نیسج ٹائپ کرنا چھوڑ دیے ہیں
اسکے دل نے اسے چھوٹی چھوٹی فرمائش کرنء کیلیے مجبور کرنا چھوڑ دیا
اب اسکی آنکھوں نے دروازے سے آتے ہوئے اسے دیکھتے یہ تمنا کرنا چھوڑ دی ہے کہ اسکے ہاتھوں میں سرخ پھول ہونگے
یا کوئی گلابی شیٹ میں لپٹا لاکٹ
کوئی اخبار میں قید کچی چوڑیاں
یا محبت بھری ایک نظر
اسکے ہاتھوں سے آفس کا بیگ تھامتے اسکے دل میں خیال اٹھنا ختم ہوگیا ہے کہ
وہ اسے کلائی سے پکڑ کر روک لے گا
وہ چائے بناتے ہوئے یہ نہیں سوچتی کہ وہ اسے اچانک آکر بانہوں میں بھر لے گا
اس نے اپنے وجود کے ہونے کا احساس دلانے کیلئے روٹھنا نہیں چاہا
کیونکہ وہ جانتی ہے اسکا بھوکا رہنا کسی کی بھوک کم نہیں کر پائے گا
اسکے آنچل سے گزرتی مہکتی ہوا نے اسے متاثر کرنا چھوڑ دیا ہے
ایک بستر میں دو لوگوں کے بیچ کاغذ کے ٹکڑے کی دیوار ہے
جو کبھی گر نہیں پائے گی
اسکی آنکھوں اسکی باتوں پر نظمیں لکھے جانے کی آس ختم ہوگئی ہے
وہ بھی مشین بن چکی ہر کام وقت پر کرنے والی جزبات سے خالی کھوکھلی مشین
وہ بھری جوانی میں بوڑھی ہوگئی ہے کیونکہ وہ ایک خاوند سے بیاہی گئی تھی عاشق سے نہیں اور یہ بات اسے بہت دیر سے معلوم ہوئی ۔۔۔۔۔
آپ سب کا کیا خیال ہے اس بارے میں؟
مجھے قسم ہے آسمانوں کی
اور
دھرتی پہ پڑتی بارش کی پہلی بوندوں کی
تم اگر ساتھ نہیں ہو تو یہ جہاں بے وقعت ہے
کیونکہ
"میرا جہاں تم ہو"ماںI miss you
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Website
Address
Islamabad