Haal_e_Dil

Haal_e_Dil

Share

I cannot do great things, I can do small things in a great way.

08/09/2022

02/09/2022
02/09/2022

''عمر! آپ سول سروس چھوڑ دیں۔'' اس نے اس کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔
عمر کے چہرے پر اسے حیرانی نظر آئی۔ شاید وہ اس سے اس مشورے کی توقع نہیں کر رہا تھا۔
''آپ کے پاس بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری ہے آپ واپس امریکہ چلے جائیں یا پھر انگلینڈ جہاں آپ پہلے کام کر رہے تھے۔''
''تم ایسا کیوں کہہ رہی ہو؟''
''کیونکہ مجھے آپ کی پروا ہے، آپ خود کو ضائع کر رہے ہیں… سول سروس آپ کو آپ کی ساری خوبیوں سے محروم کر دے گی۔ '' اس نے عمر کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی۔
''کیا عمر جہانگیر میں کوئی خوبی ہے؟''
''پانچ سال پہلے آپ ایسے نہیں تھے مگر اب… آپ… میں نہیں جانتی۔ آپ کو خود اندازہ ہے یا نہیں مگر آپ بدلتے جا رہے ہیں۔''
''میں جانتا ہوں لیکن میں کچھ نہیں کر سکتا۔''
''آپ واپس چلے جائیں۔'' اس نے اصرار کیا۔
''میں نہیں جا سکتا۔'' اس نے نرم آواز میں کہا۔
''کیوں؟'' عمر نے ایک اور سگریٹ سلگا لیا۔
''چند ہزار روپے کی یہ جاب آپ کے لئے اتنی بڑی Temptationکیوں بن گئی ہے؟''
''بات اس جاب کی نہیں ہے۔ بات اس پاور کی ہے، اس اتھارٹی کی ہے جو یہ جاب مجھے دے رہی ہے۔''
''آپ کو کیا ضرورت ہے اس اتھارٹی کی؟''
''ضرورت ہے، کم از کم اپنے باپ کے سامنے کھڑا ہونے کے لئے مجھے اس اتھارٹی کی ضرورت ہے۔ میرے ہاتھ میں طاقت ہو گی تو میں وہ سب کچھ کر سکتا ہوں جو میں ابھی تک نہیں کر پایا۔''
''کچھ سالوں کے بعد انکل جہانگیر ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔ تب آپ کا اور ان کا مقابلہ ویسے ہی ختم ہو جائے گا۔ کیا بہتر نہیں ہے کہ آپ اس بے معنی مقابلے میں خود کو ضائع نہ کریں… پہلے ہی یہ سب کچھ چھوڑ دیں۔'' وہ بڑے خلوص سے اسے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔
''تم ابھی بھی میچور نہیں ہو علیزہ۔''
''ہو سکتا ہے، آپ ٹھیک کہہ رہے ہوں مگر اس میچورٹی کا کیا فائدہ ہے جو انسان کو ایک پر سکون زندگی گزارنے نہیں دے رہی۔''
عمر نے سر اٹھا کر سنجیدگی سے اسے دیکھا۔
''تمہارا خیال ہے میں پر سکون نہیں ہوں۔''
''ہاں آپ پر سکون نہیں ہیں، جو پر سکون زندگی گزار رہا ہو، وہ ڈرنک نہیں کرتا۔ اسے اسموکنگ… یہ دونوں عادتیں آپ نے اب اختیار کی ہیں۔''
وہ اسے قائل کرنا چاہ رہی تھی۔
''تم غلط سمجھ رہی ہو علیزہ! سول سروس میں آنے سے پہلے بھی میں اسموکنگ اور ڈرنک کرتا تھا۔'' اس نے انکشاف کیا۔ '' میں چودہ سال کی عمر سے ڈرنک اور اسموکنگ کر رہا ہوں۔'' وہ کچھ بول نہیں پائی۔ وہ اب ہاتھ میں پکڑے سگریٹ کو دیکھ رہا تھا۔
''یونیورسٹی میں پڑھنے کے دوران کو کین بھی لیتا رہا اس لئے ان چیزوں کا سول سروس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔''
''مگر پانچ سال پہلے جب آپ یہاں آئے تھے تب تو آپ ان دونوں چیزوں کو استعمال نہیں کرتے تھے۔'' علیزہ نے ہکلاتے ہوئے کہا۔
''کرتا تھا… عادتاً نہیں شوقیہ… مگر جب تک یہاں رہا، Avoidکرتا رہا۔''
علیزہ کو سمجھ میں نہیں آیا وہ اب کیا کہے۔ ''مگر تم ٹھیک کہتی ہو میں پر سکون زندگی نہیں گزار رہا۔ '' وہ اب تیسرا سگریٹ سلگاتے ہوئے اعتراف کر رہا تھا۔ ''مگر کیا کیا جا سکتا ہے؟''
''صرف اتھارٹی کے لئے آپ اپنی زندگی برباد کر دیں گے؟''
''میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔''
''کیوں نہیں ہے، آپ واپس چلے جائیں… کم از کم یہ ساری ٹینشن تو ختم ہو جائے گی؟''
''کیا ملے گا واپس جا کر؟ کیا ہے باہر؟ تنہائی، مادہ پرستی '' وہ عمر کی بات پر حیران ہوئی۔ بتیس سال کی عمر میں کیا عمر اب بھی تنہائی سے خوفزدہ ہے؟ مادہ پرستی سے ڈرتا ہے… کیا عمر؟''
''ایک جاب مل جائے گی… دو کمروں کا ایک کابک جتنا اپارٹمنٹ… صبح سے رات تک ڈالرزاور پاؤنڈز کمانے کے لئے مشینی زندگی… کیونکہ ایک لائف اسٹائل Maintainکرنا ہے… کیونکہ زندگی کی وہ آسائشات چاہئیں جن کے ساتھ میں بڑا ہوا ہوں… پینی اور سینٹ جمع کرکے بنایا ہوا بینک بیلنس… نوکروں سے محروم ایک ایسی زندگی جہاں پر اپنے جوتے پالش کرنے سے کھانا پکانے تک ہر کام مجھے خود کرنا پڑے گا۔ جہاں پر گھر میں کچھ مہمان آجانے پر میری سمجھ میں یہ نہیں آئے گا کہ انہیں کہاں بٹھاؤں اور کہاں سلاؤں… تم تو اپنی ممی کے پاس جاتی رہتی ہو، اندازہ کر سکتی ہو، وہ کیسی زندگی گزار رہی ہیں۔''
''مگر سب کچھ ہمیشہ ایسا تو نہیں رہے گا، کچھ وقت گزرنے کے بعد آپ وہاں سیٹل ہو جائیں گے۔'' علیزہ نے کمزور آواز میں کہا۔
''ہاں، ساری جوانی روپے کے پیچھے بھاگنے کے بعد بڑھاپے میں میرے پاس اتنا روپیہ ضرور جمع ہو جائے گا، کہ میں کچھ نہ کرنے کے باوجود بھی عیش کر سکتا ہوں… عیش؟'' وہ عجیب سے انداز میں ہنسنا۔
''مگر یہ سب کچھ تو نہیں ہو گا… یہ الزامات… وہ سب کچھ جو آپ کو مجبوراً کرنا پڑتا ہے وہ تو نہیں کرنا پڑے گا۔''
''مگر وہاں میرے پاس وہ آسائشیں نہیں ہوں گی جو یہاں ہیں اور یہ سب کچھ میری زندگی کا حصہ بن چکا ہے جیسے مچھلی پانی کے بغیر نہیں رہ سکتی، ویسے ہی میں ان سب سہولتوں کے بغیر نہیں رہ سکتا۔''
وہ اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گئی۔
''ان پانچ سالوں میں اتنا کچھ بنا لیا ہے میں نے… پاکستان سے جا کر اگلے دس سالوں میں بھی نہیں بنا سکتا۔''
''مگر ضمیر پر بوجھ لے کر زندہ رہنا آسان ہے؟''
''ضمیر؟'' وہ ہنسا ''اس نام کی کوئی چیز دنیا میں نہیں ہوتی۔''
وہ اندازہ نہیں کر سکتی وہ کس پر ہنس رہا تھا۔
''اس صدی میں ضمیر کو لے کر کون پھرے گا اپنے ساتھ… کم از کم میرے جیسا شخص نہیں جس کی پرورش حرام پر ہوئی ہے، جس کے خون میں حرام کی اتنی آمیزش ہو چکی ہو کہ وہ نہ حلال کھا سکے نہ کما سکے۔ ضمیر کا کوئی بوجھ نہیں ہے علیزہ میرے کندھوں پر۔'' وہ اسے پہلی بار بے بس نظر آرہا تھا۔
''ضمیر اگر اس صدی میں بھی کچھ لوگوں کے پاس ہوتا ہے تو اس کا وہ حال ہوتا ہے جو شہباز منیر کا ہوا۔'' علیزہ کو اس کے چہرے پر کچھ سائے لہراتے نظر آئے۔ وہ اب ایک اور سگریٹ سلگا رہا تھا۔ ''ایک ہفتہ پہلے بیٹا پیدا ہوا اس کے ہاں، ابھی اس نے نام نہیں رکھا تھا اس کا۔'' وہ اب جیسے اعتراف کر رہا تھا۔ ''پچھلے دس سال سے میری دوستی تھی اس کے ساتھ… کیلی فورنیا یونیورسٹی میں میرے ساتھ پڑھتا رہا… ڈگری لینے کے بعد اگلے دن منہ اٹھا کر پاکستان آگیا۔ اسکالر شپ مل رہا تھا مزید تعلیم کے لئے… نہیں لیا۔'' وہ اٹھ کر کھڑکی کے پاس جاکر کھڑا ہو گیا۔
''یونیورسٹی سے جاب کی آفر ہوئی… یہاں نہیں کرنی۔''
اسے اندازہ تھا، وہ کھڑکی کے پاس کیوں چلا گیا تھا اس کی آواز اب بھرانے لگی تھی۔ وہ اب رک کر کر بات کر رہا تھا۔
''جس سے محبت کی اس سے شادی بھی نہیں کی… اس کے ساتھ کیلی فورنیا میں پڑھتی تھی وہ لڑکی… اس کے ساتھ پاکستان آنے کو بھی تیار تھی۔ میں نے اس سے کہا ''پاکستانی لڑکی ہے تمہارے ساتھ پاکستان جا کر ایڈجسٹ ہو جائے گی پھر کیا مسئلہ ہے۔ وہ کہنے لگا ایڈجسٹ نہیں ہو گی۔ دو ماہ رہے گی… چار ماہ رہے گی۔ چھ ماہ بعد شور کرے گی واپس جاناہے… پھر یہ بتانا شروع کر دے گی کہ میں امریکہ میں کتنا کما سکتا ہوں اور پاکستان میں کتنا کما رہا ہوں۔ پھر روئے گی اور کہے گی میں اسے تکلیف دے رہا ہوں اور میں اس سے اتنی محبت کرتا ہوں کہ یہ وہاں جا کر روئے گی تو میں برداشت نہیں کر سکوں گا پھر شاید اس کے لئے سب کچھ چھوڑ کر واپس آجاؤں… اور یہ سب میں نہیں چاہتا، بہتر ہے کل رونے کی بجائے یہ آج رولے… گالیاں دے لے مجھے، پھرآرام سے اپنی زندگی شروع کر لے گی… میں بھی پاکستان جا کر کچھ عرصہ کے بعد وہاں کی کسی لڑکی سے شادی کر لوں گا اور کچھ بھی ہو کم از کم وہ پاکستان چھوڑنے کے بارے میں نہیں کہے گی۔''
وہ خاموش ہو گیا۔ علیزہ اس کی پشت کو دیکھتی رہی۔
''ایک ہی جملہ ہوتا تھا اس کی زبان پر… پاکستان جانا ہے… ضرورت ہے میرے ملک کو میری… اس کے فادر بھی جرنلسٹ ہیں اور اس کی اس برین واشنگ کے ذمہ دار بھی… میں نے تین نیوز پیپرز کے ایڈیٹرز سے کانٹیکٹ کیا۔ پاپا کے بارے میں وہ سارے ثبوت شائع کروانے کے لئے ، تین بڑے نیوز پیپرز جن کا دعویٰ ہے کہ وہ سچ کے علاوہ کچھ شائع نہیں کرتے۔ تینوں کے ایڈیٹرز نے معذرت کر لی۔۔۔” وہ بات کرتے کرتے رک گیا۔
''جہانگیر معاذ کے بارے میں خبر شائع کرنے کے لئے جس حوصلے اور جرأت کی ضرورت تھی وہ ان میں نہیں تھی… سچ کے نام نہاد علمبرداروں کے پاس … پھر مجھے شہباز منیر یاد آیا، اور اب مجھے پچھتاوا ہے کہ کاش میں اسے وہ سب کچھ نہ بھجواتا یا پھر وہ بھی دوسروں کی طرح انکار کر دیا تو شاید آج زندہ ہوتا… خبروں کا کیا ہے صرف خبریں لگنے سے کسی ملک کی تقدیر نہیں بدلا کرتی… مگر وہ ایسا نہیں سوچتاتھا… ضمیرتھا نا اس کے پاس اس لئے… اور اس ضمیر نے اسے موت دے دی۔'' وہ یک دم خاموش ہو گیا۔

امربیل - عمیرہ احمد

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Islamabad?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Islamabad
44000