medicoz
health & care
زندگی کی بانسری:
یورپ میں بہت سی بیماریوں پر بیمار کو ٹریننگ دی جاتی ہے کہ وہ اس بیماری کے ساتھ زندگی گزارنے کو قبول کر لیں۔ یعنی بیماری نہیں جائے گی، اب اس کے ساتھ رہ کر زندگی گزارنا سیکھیں، اور یقین جانیں لوگ سیکھتے ہیں۔ وہ بیماری کو قبول کر لیتے ہیں، مکمل طور پر۔
ایک جوان جہاں لڑکی حادثے میں دونوں پیروں سے معذرو ہو گئی۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ وہ معذروی کو روگ بنا لیتی لیکن ایسا نہیں ہوا، اس نے اپنے ساتھ ہونے والے حادثے کو قبول کر لیا۔ پھر اس نے مصنوعی پیر لگوائے۔ یہاں یہ بات دھیان میں رکھی جائے کہ کوئی بھی مصنوعی عضو ہو، وہ مصنوعی اور تکلیف دہ ہوتا ہے۔ زندگی نارمل نہیں رہتی۔ لڑکی نے اپنے چہرے سے مسکراہٹ گم نہیں ہونے دی۔ وہ ویسی ہی رہی جیسے حادثے سے پہلے تھی۔ وہ مصنوعی پیروں کے ساتھ چلنے پھرنے دوڑنے لگی، بلکہ اس نے رقص کی تربیت حاصل کی۔ اس نے اپنی زندگی کے میوزک کو، اپنی زندگی کے رقص میں کسی چیز کو مداخلت نہیں کرنے دی۔
اس لڑکی کی زندگی کی طرف دیکھنا آسان ہے، میں جو بتا رہی ہوں وہ لکھنا آسان ہے لیکن جو اس نے کر دکھایا ہے وہ کر دکھانا آسان نہیں تھا۔ مصنوعی پیروں پر چلنا بھی آسان ہو گا، مشکل یہ تھا کہ اس نے خود کو خوشیوں سے دور نہیں ہونے دیا۔ ہاں اسے پہلے سے زیادہ ہمت دکھانی پڑی، لیکن اس نے اپنی زندگی کو اندھیروں کی نظر نہیں کیا۔
انسان تھوڑی سی ہمت کرے تو بہت سی مشکلیں آسان کر لیتا ہے۔ بہت سے دکھ، مسکراہٹ کی ہمت تلے دم توڑ دیتے ہیں۔ یہ جو طوفان آپ کی زندگیوں میں ہیں، آپ کو ان کے تھمنے کی دعا کرنی ہے، کوشش بھی کرنی ہے، لیکن اس دوران زندگی کی بانسری کو رکنے نہیں دینا۔ ہر انسان مایوس ہو جاتا ہے، وہ دل چھوڑ دیتا ہے، لیکن پھر یہ جو دل ہے، یہ دل انسان کا بنایا ہوا نہیں ہے، یہ اللہ نے بنایا ہے۔ انسان میں نور پھونکا گیا ہے۔ یہ نور بہت طاقت ور ہوتا ہے۔ ہم کوئی غبارہ نہیں ہیں جس میں ہوا بھری گئی ہے۔
آپ کو بیرونی دنیا، حالات، انسان نہیں بدلنے، بس یہ دل، اس دل کو بدلنا ہے۔ اس دل کو پرسکون کرنا ہے۔ کوشش کریں، دعا کریں، دل کو پرسکون کریں۔ میں باربار دعا کا نام لیتی ہوں، اور یہ میں اپنے ذاتی تجربے سے کہتی ہوں۔ دعا معجزہ ہے۔ آپ دعا کریں، اچھی طرح سے کریں، دعا آپ کو طاقت دے گی، دعا آپ کے لیے بہت کچھ بلکہ سب کچھ کرے گی۔ دعا کے لیے اچھے اہتمام کریں۔ بلکہ جتنے اہمتام کر سکتے ہیں اتنے اہمتام کریں۔ دو چیزیں چھوڑ دیں تو دعاؤں کا فوری اثر دیکھیں گے۔ حسد نہ کریں، دل میں کسی کے لیے برائی نہ رکھیں۔ یعنی سب کے لیے اچھا چاہیں۔ ہماری جو نیک نیتی ہوتی ہے اس کی بڑی اسٹرونگ وابز ہوتی ہیں۔ یہ وابز اچھی چیزوں کو زندگی میں اٹریکٹ کرتی ہیں۔ نعمتوں اور رحمتوں کو۔
ہر پوسٹ کے نیچے کمنٹس ہوتے ہیں کہنا آسان ہے……
جو انسان یہ کہتا ہے اس سے ظاہر ہے کہ اس کے مائنڈ نے نگیٹو اپروچ کو پوری طرح سے اپنا لیا ہے۔ اس کا ظاہری باطنی سسٹم منفی پٹرن(راستے) پر چلنے لگا ہے۔ہم جس راستے پر چلتے ہیں، ہمیں اسی راستے کی منزل ملتی ہے۔ باغ کی طرف جانے کے لیے باغ کی طرف کا راستہ چننا ہو گا۔ یہ جو راستہ ہوتا ہے، یہی سب کچھ ہوتا ہے۔ اس لیے اپنے مائنڈ کو پازیٹو رکھنے کی کوشش کریں۔ایک منفی سوچ اتنی ہی خطرناک ہے جتنا ایک گلاس پانی میں ایک قطرہ زہر۔
زہر سے بچیں۔
سمیراحمید
چھ دن سے میرے کزن کی بیٹی اسپتال میں داخل تھی۔ اسکی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ پتہ چلا کہ چیختی ہے چلاتی ہے اور کاٹتی ہے۔
بارہ سال کی بچی ہے۔ مجھے پتہ چلا تو دیکھنے اسپتال گیا۔ بچی کی ٹانگیں اور ہاتھ باندھے ہوئے تھے اور وہ تڑپ رہی تھی۔ ڈاکٹر صاحب سے ملا تو بولے ہیسٹیریا ہے۔ باپ سے پوچھا تو کہنے لگے اس کو سایہ ہو گیا ہے۔ والدہ نے کہا اسکی پھوپھو نے جادو کروا دیا ہے۔ ۔!!!
جتنے منہ اتنی باتیں۔ میں نے بچی کے پاس جا کر اسے پیار کیا اور پانی پلایا۔ وہ بیقرار تھی۔ کہتی ہے مجھے گول گپے کھانے ہیں۔ !!!
ڈاکٹر صاحب نے منع کیا ہے کہ اس کو کوئی چیز بازار سے نہیں دینی ۔ میرا ماتھا ٹھنکا۔ میں نے پوچھا کہ بچی کی یہ حالت کب سے ہے۔ !!والدہ نے بتایا کہ چھٹیوں کے آخری بیس ایام اپنی پھوپھو کے گھر گئی تھی۔ وہاں سے جب واپس آئی ہے طبیعت ناساز ہے۔ چڑچڑی ہوگئی ہے۔ باہر نکل نکل کر بھاگتی ہے۔ کہتی ہے کہ گول گپے کھانے ہیں وہ بھی لا کر دئیے پر پسند نہیں آتے پھینک دیتی ہے۔ چیختی ہے چلاتی ہے۔
میں نے لڑکی سے تنہائی میں بات کرنے کی اجازت چاہی جو مل گئی۔میں نے بچی کے ہاتھ پاؤں کھولے اور ٹیرس پر لے گیا، اسے پانی پلایا میں نے کہا مجھے اپنا دوست سمجھو جو کچھ ہم میں بات ہوگی وہ راز رہے گی۔ میں نے قسم کھائی۔ لڑکی کو کچھ حوصلہ ہوا تو کہنے لگی ۔!!
آپ اپنی ماں کی قسم کھائیں کہ کسی کو نہیں بتائیں گے، کہنے لگی پھوپھو کے محلے میں ایک گول گپے والا ہے جس کے گول گپے مجھے بہت پسند ہیں۔
میرا کزن اور میں ہم دونوں وہ کھانے کیلئے جاتے تھے میں جب سے واپس لوٹی ہوں دل بہت بیقرار رہتا ہے اور جسم میں جیسے کچھ جل سا رہا ہے۔ میں نے اس سے اس کی پھوپھو کا نمبر لیا اور اس کو یقین دلایا کہ میں جو کچھ بھی کر سکا ضرور کروں گا۔
اگلے روز میں اس کی پھوپھو کے گھر گیا۔ رشتے دار تھے میری بہت عزت کی۔ میں نے اس کے بیٹے کے ساتھ سے بازار تک ساتھ چلنے کو کہا ۔ہم پیدل ہی شام کو گھر سے نکلے، باتوں باتوں میں نے لڑکی کے حوالے سے گول گپوں کی تعریف کی اور یوں ہم اس دکان کے کیبن میں پہنچ گئے۔
گول گپے منگوائے گئے اور کھائے بھی۔ بہت مزے دار تھے۔ الگ سا ذائقہ تھا۔ خیر میں نے کچھ پیک کروا لئیے اور ساتھ لے آیا۔ رات کو واپس شہر آیا اور وہ گول گپے ایک دوست کی لیب والے کو دیئے کہ اس کو چیک کردے۔ منشیات والے ادارے کو بھی ایک سیمپل دیا۔
اگلے دن رپورٹ آئی تو میں اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا،رپورٹ میں پتہ چلا کہ مصالحہ جات میں ہیروئن ملائی گئی ہے۔ میرا ایک لمحے کیلئے دم بند سا ہو گیا۔
میں نے فوراًاینٹی نارکوٹکس سے رابطہ کیا اور اس گول گپے والے کی دکان پر ریڈ کیاتو وہاں سے شراب، ہیروئن اور چرس برآمد ہوئی۔ یہ باقاعدہ ایک منشیات کا اڈہ تھا اور گول گپے والا اپنے گول گپوں میں ہیروئن گھول کر کھلا رہا تھا۔ جو لگ گئے وہ یہاں سے ہٹ نہیں سکتے تھے۔
ان کو پکڑوا کر بچی کی طرف لوٹا اور ڈاکٹر صاحب کو اعتماد میں لے کر بچی کو ترک منشیات کے ادارے میں داخل کروا کر علاج کروایا۔
یہ ایک سچا واقعہ تھا۔۔ اب آئیں اصل مسئلے پر۔۔ اور وہ یہ ہے کہ ہمارے بچوں کے ساتھ یہ کیا ہورہا ہے۔
اسکولوں کے باہر ریہڑیوں پر اور اسکول کالجوں کی کینٹینوں پر محلے میں پھرتے رہڑی والے ہمارے بچوں کے ساتھ کیا کچھ کر رہے ہیں ۔ہمارے بچے اب نشوں پر لگ چکے ہیں اور ہمیں معلوم ہی نہیں۔ ہم بحیثیت مجموعی اپنی اولادوں سے غافل ہیں۔
میں نے بھی بلیو ایریا سے ایک ٹھیلے سے چائے پی تو مجھے بہت سکون محسوس ہوا. میں اگلے دن نمل سے پھر چائے پینے چلاگیا.مجھے مجھے احساس ہی نہیں رہا کہ میں تین ماہ تک چائے پیتا رہا پھر ایک رات نیوز دیکھی کہ مطلوبہ ٹھیلہ جس میں چائے پیتا تھا اس کو سیکیورٹی والوں نے دھر لیا ہے وہ چائے میں ڈوڈے وغیرہ ڈالتے تھے.. وہ لوگ اپنے منافع کے لئے لوگوں کی جان کھیل جاتے ہیں اللہ کریم انھیں ہدایت دے!
حکومت بے خبر ہے تو والدین اور اساتذہ کو جاگنا ہوگا۔ ان تک اپنے بچوں کو نہ جانے دیں۔ یہ بچے ہمارا مستقبل ہیں ،گول گپے والاتو گول گپے بیچ جائے گا مگر ہماری پوری نسل نشہ آور بن کر تباہ ہو جائے گی۔۔!!!
جاگتے رہیں ورنہ سب کچھ سو جائے گا۔۔
کام ڈاون.
تھوڑا سا پرسکون ہو جائیں۔
آپ جسے اچھی جاب نہیں مل رہی، جس کی شادی نہیں ہو رہی، جس کا عزیز یا آپ خود بیمار ہیں، معاشی مسائل ہیں، آپ جس کے شوہر ملک سے باہر ہیں، آپ جس کے سسرال میں مسائل ہیں، آپ جنہیں اولاد کا ایشو ہے، آپ جن کی حال ہی میں کوئی میڈیکل رپورٹ آئی ہے اور جو زیادہ اچھی نہیں ہے، آپ جس کی پوری زندگی گھوم کر الٹی ہو چکی ہے، آپ جو طلاق کے ٹروما سے گزرے ہیں، اور آپ جنہوں نے اپنی ساری زندگی بچوں کی پرورش میں گزار دی اور اب ایسے حالات ہیں کہ جیسے کیا پایا کیا کھویا، آپ جس نے بڑی قربانیاں دی ہیں، لیکن جیسے لگتا ہے کہ ہاتھ خالی ہی ہیں، آپ جس کے ساتھ ایسا حادثہ ہو گیا کہ نہ بتا سکتے ہیں نہ سمجھا سکتے ہیں۔ آپ جو عزیزوں کی دی تکلیف سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور آپ جسے لگتا ہے کہ بس پوری زندگی ختم، اب کیا رہ گیا۔
آپ سب تھوڑا پرسکون ہو جائیں۔
جو تکلیف میں ہوتا ہے یا مصیبت میں ہوتا ہے، اسے پرسکون کرنا تھوڑا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ اس کا درد بڑھ چکا ہوتا ہے۔ یہ کہنا آسان ہے، کرنا مشکل ہے، لیکن مشکل آتی ہی اس لیے ہے کہ وہ آسانی کے لیے جگہ بنا سکے۔ مکمل جہاں کسی کو نہیں ملتا، یہی کائنات کا سسٹم ہے۔ لیکن حیران کن بات ہے کہ مکمل سکون سب کو مل سکتا ہے۔یہ سکون تب ملتا ہے جب ہم تھوڑا سا شعور بیدار کرلیں۔ کچھ چیزیں سمجھ جائیں۔ کچھ چیزوں کے لیے شعوری کوشش کریں۔
مثلا:
جن حالات، واقعات کو کنٹرول نہیں کر سکتے، بدل نہیں سکتے، ان پر صبر کرنا، ان پر خاموش رہنا سیکھ لیں۔ یہ خاموشی زبان کی نہیں اندر کی ہوتی ہے، پھر انتشار نہیں ہوتا۔ کبھی فون کو وابئریشن پر دیکھا ہے؟ جب انسان میں انتشار آجائے تو پھر اس میں ایک مسلسل وابئریشن کی کیفییت آجاتی ہے۔ جلد ہی وہ بہت سی اعصابی اور نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہونے لگتا ہے۔ اس کا امیون سسٹم کمزور ہونے لگتا ہے۔ اگر وہ بیمار ہو تو جلد ٹھیک نہیں ہوتا۔ اور بھی بے شمار خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اسی لیے اللہ نے انتشار، متنشر خیالی، بے چینی، نا امیدی سے دور رہنے کا کہا ہے۔
جو چیزیں سرے سے ہاتھ میں ہی نہیں ہیں، انہیں ہاتھ میں لینے کی چاہت چھوڑ دیں، ایسی تمام رسیوں کے سرے چھوڑ دیں، جانے دیں۔
کچھ لوگ ہیں جو شاید کبھی نہیں بدلیں گے، کچھ رویے ہمیشہ ایسے ہی ملیں گے، کچھ چیزیں ہیں جو حاصل ہو بھی گئیں شاید تب بھی لائف ایسی ہی رہے گی، تو پھر جانے دیں۔
ہمیں ایک پرسکون لائف کے لیے بہت کچھ جانے دینا ہے۔ بہت سے نقصان، ماضی کے پچھتاوے، دوسروں کی زیاتیاں، نا انصافیاں، کچھ غلط رویے، کچھ ادھورے خواب، اور بھی بہت کچھ۔
آپ کتنے ہی کفایت شعار ہوں، لیکن اگر سال میں ایک بار گھر کی صفائی کریں گے تو بہت سا بے کار سامان نکلے گا، جب وہ اٹھا کر باہر پھینک دیں گے تو محسوس کریں گے کہ گھر اچھا صاف ستھرا ہو گیا ہے۔ دل کو بھی سکون ملا۔ دین نے کہا ہے کہ ٹوٹا ہوا برتن پھینک دو، اب وہ کتنا ہی قیمتی ہو، خوبصورت ہو، کہا پھینک دو ، تو بس پھینک دو۔
تو آ پ بھی اندر کی ٹوٹی ہوئی چیزوں کو پھینک دیں۔ زندگی میں جتنا کچھ ٹوٹ پھوٹ چکا ہے، اسے نکال دیں۔ ایسے لائف پرسکون ہو گی۔ یقین جانیں ہو گی۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائیں، ایک ایک کر کے چیزوں پر کام کریں، خود پر کام کریں، تبدیلی آئے گی۔ میں لفاظی نہیں کر رہی، میں یہ کر چکی ہوں اور پھر یہ سب لکھ رہی ہوں۔ آپ کو بتا رہی ہوں کہ ہمارا جہاں مکمل نہیں ہو سکتا لیکن ہمارا سکون مکمل ہو سکتا ہے۔
اللہ پر بھروسہ رکھنا سیکھیں۔
کوشش کے ساتھ دعا کریں،
خود کو سوچوں سے، پچھتاوں سے، دکھوں سے، برے رویوں سے نوچنا چھوڑ دیں۔
سمیراحمید
”دکھ تکلیف اور ہمارے کرنے کے کام“
جب کوئی دکھ، تکلیف دے تو دوسرے انسان کو ضرور بتائیں کہ مجھے اس بات کا دکھ ہوا ہے، اندر ہی اندر لاوے کی طرح ابال مت کھائیں۔
سب سے پہلے ہمیں معلوم ہونا چاہے کہ ہم نے اپنی بات کیسے کہنی ہے، ہم حق سچ پر ہونے کے باوجود ”کاٹ کھانے“ والے لب و لہجے میں اپنی بات کہہ کر اُس کی وقعت ختم کر دیتے ہیں۔
پھر ہمیں اعتراض ہوتا ہے کہ کوئی سنتا ہی نہیں، کوئی سنتا نہیں تو اُس کو سننے پر مجبور کریں، ایسا عموماً شادی شدہ زندگی میں ہوتا ہے تو آپ مجبور کر سکتے ہیں کہ شریک سفر بات سنے ، آپ بات سنائیں ”بھاشن یا ڈانٹ“ نہیں۔
ہمارے بہت ست مسئلوں میں سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم جب تک ماضی کا رونا نہ رو لیں، اُونچا اُونچا نہ بول لیں، جلی کٹی نہ سنا لیں، سارے خاندان کی ہسٹری باربار دوہرا نہ لیں، مستقبل کی پشین گوئیاں نہ کر لیں اور بد تہذبی کا مظاہرہ نہ کر لیں ”ہمیں چین نہیں آتا، روح کو سکون نہیں ملتا“۔
تیسری بات، یا اعتراض کہ کہنے کا کوئی فائدہ نہیں ،بات مانی تو جاتی نہیں۔
آپ کہنے کے بعد یہ سوچیں کہ میں نے اپنی بات کہنے کی کوشش تو کی ہے نا، دوسرے انسان نے بات مانی ہے یا نہیں یہ الگ بات ہے، کچھ عرصے بعد دوسرا انسان بات سننے بھی لگتا ہے اگر ہم نے بات طریقے اور سلیقے سے کی ہو۔
چوتھی بات، کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، پتھر پہ قطرہ قطرہ گرتا رہے تو اُس میں بھی سوراخ ہو جاتا ہے، جب ہم ادب سے بات کرتے ہیں التجا سے بات کرتے ہیں تو دوسرا انسان ”35%“ لاشعوری طور پر ہماری بات پہ غور ضرور کرتا ہے، جب ہم اچھے وقت میں (جب آپ ہنس ہنس کے باتیں کر کے وقت گزار دیتے ہیں اور کام کی بات کو بڑے بڑے برتنوں کے نیچے یا کپڑوں والی الماری میں لپیٹ کر رکھ دیتے ہیں) بات کریں، چھوٹی بات کرین اور باربار کریں تو اسی سے نوے فیصد بات مانے جانے کے چانسیز ہوتے ہیں۔
پانچویں بات، اپنی ذات سے سوال کریں کہ ”کیا مجھے بات چیت کرنا آتی ہے؟“ ہم روزمرہ کی گپ شپ کو بات چیت کرنا خیال کرتے ہیں تو یہ ہماری خام خیالی ہوتی ہے کہ ہم گفت وشنید کرنا جانتے ہیں، ہمیں سارے قانون قاعدے آتے ہیں۔
ہمیں یہی معلوم نہیں ہوتا کہ دوسرے انسان کی آواز اُونچی ہو تو ہم نے کیا کرنا ہے، دوسرے بندے کی سانس پھول جائے تو ہمارا کام کیا ہونا چاہے، دوسرا بھڑک اُٹھے تو ہمارا عمل کیا ہونا چاہے، دوسرے کے باڈی لینگوئج تبدیل ہونے لگے تو ہم نے خاموش رہنا ہے یا کچھ کہنا ہے۔( زیادہ لمبی باتیں نہیں لکھنا چاہتا)
چھٹی بات، کیا سارا قصور دوسرے انسان کا ہے؟ کیا میں ہر روز دودھ سے نہاتا ہوں؟ یا میرے سارے گناہ معاف ہیں؟ اپنا محاسبہ کرنا بھی بہت ضروری ہے ، ہم انسان ہیں تو ہم خطا کا پتلا ہیں، یہ ہمیں یاد رکھنا چاہے۔
ساتویں بات، دوسروں میں اگر ایک خامی ہے تو اُس کی دوسری کوئی خوبی تلاش کریں کیونکہ ہم بھی تو خامیوں سے پاک نہیں ہیں نا۔
آٹھویں بات، اپنے اماں اور ابا کے روا رکھے گئے رویوں کو ”بہتر اور بہترین“ خیال مت کریں، بلکہ ”نارمل بی ہیور“ کیسا ہوتا ہے سیکھیں۔
نویں بات، جب محبت کی بارش ہو تو بھاگ بھاگ کر بھیگیں مت، فدا فدا مت ہوں، حوصلہ رکھیں تھوڑا تھوڑا آگے بڑھیں اور تعاون کی بات کریں کہ مجھ ان باتوں سے دکھ ہوتا ہے آپ بھی مجھ سے تھوڑا سا تعاون کریں اور تھوڑے بہت نازک نخرے کریں، یہ آپ کے حق میں جائے گا ورنہ ایک اشارے پہ بچھ جانے والوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔
دسویں بات، ایسے لوگوں سے بات کریں مدد لیں جو ان باتوں پر اچھی دسترس رکھتے ہوں اور اپنے سوال کو ادھورے انداز میں نہیں بلکہ پورا پوچھیں۔
ڈاکٹر عرفان اقبال
میری پیدائش اس دور کی ہے کہ جب میرے گاؤں کے اکثر گھر کچے ہوتے تھے ،مٹی سے لیپ لگائیں ہوئی دیواریں اور مٹی ملے پانی سے پوچا لگا ہوا فرش ۔۔
سارا دن سورج کی گرمی میں تپتا ہوا فرش شام کو پانی کے ذرا سے چھڑکاؤ سے ٹھنڈک کا احساس دینے لگتا تھا اور وہ سوندھی سوندھی خوشبو۔۔وہ تو احساس ہی الگ تھا
تب فرش کے ساتھ ساتھ دل بھی نرم تھے ،جہاں کبھی رویوں کی تپش جھلسا بھی دیتی تھی تو ذرا سی محبت پہ ساری بدگمانی رفو چکر ہو جاتی تھی ۔۔
پھر یوں ہوا کہ آہستہ آہستہ گھر پکے ہونے لگے ،پہلے چھتیں پکی ہوئی اور پھر فرش بھی پکے ہونا شروع ہو گئی ،کہیں پلستر لگ گیا اور کہیں ٹائیلیں اور شاید اب دل پہ بھی کچھ نہ لگنے لگا تھا ۔۔
اب پکے فرش سوکھنے میں وقت لگاتے ہیں اور جب تک کوئی آرٹیفشل سرف نہ ڈالی جائے تب تک فرش مہکتے نہیں ۔۔
دلوں کا بھی حساب یہی ہے ،جہاں ذرا سی بدگمانی صدیوں کی دوری بن جاتی ہے اور اگر محبتوں کو آباد کرنا ہو تو پہلے اس میں آرٹیفشل جذبات کا اضافہ کرنا پڑتا ہے ،اتنا تعلق ہوتا نہیں جتن اسے مہکانے کے لئے محنت کرنا پڑتی ہے کیونکہ فرش کہ ساتھ اب دل بھی سخت ہوچکے ہیں....
روباب الہی
An old session..
ایک لڑکی کا سیشن تھا، اُس نے سارے سیشن شیئر کرنے کی اجازت نہیں دی تو چند لائنز ہی ہیں اُن پہ غور کیجیئے گا۔
یہ سیشن اس لئے شیئر کر رہا ہوں کیونکہ یہ آج کے پہلے سیشن سے بہت ملتا جلتا ہے بلکہ یہ پہلے سیشن کا عملی نمونہ ہے۔
لڑکی کے ریلیشن کو تین سال کا عرصہ گزر چکا تھا، لڑکے نے آہستہ آہستہ لڑکی کو محدد کر دیا جو کہ اکثر مرد حضرات ریلیشن شروع کرتے ہی یا شادی ہوتے ہی کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ فلان سے بات مت کرو، وہ مجھے اچھا نہیں لگتا، یہ بندی یا بندہ ٹھیک نہیں اس سے بات چیت بند کرو، اُس کے ساتھ مارکیٹ کیوں گئی، اُن کی شادی پہ نہیں جانا، اس دوست کو نہ ملو، اُس کے ساتھ نہ رہو۔۔۔۔
دو سیشنز میں سننے کے بعد میں نے لڑکی کو بتایا کہ سب ٹھیک ہو سکتا ہے بلکہ آنے والی زندگی بھی شاندر ہو جائے گی ان باتوں کو لکھ کر ہمیشہ کے لیے پاس رکھ لو۔
”کوئی ریلیشن ہو یا شادی ہو جائے تو پہلے والی زندگی کو خیر آباد مت کہیں ، تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ پہلے والی زندگی کو ساتھ لے کر چلیں، آپ کا ریلیشن یا شادی آپ کی پوری زندگی نہیں ہونی چاہے بلکہ اس کو زندگی کا حصہ سمجھانا چاہے تاکہ کل کو اگر ختم بھی ہو تو یہ نہ لگے کہ ساری زندگی ہی ختم ہو گئی۔“
یہاں پہ تو سیشن ختم ہوتا ہے لیکن میں آپ سے چند باتیں شیئر کرنا چاہتا ہوں ، والدین کے نام اور ”ذمہ داری بھائیوں کے نام“ اور اُن لڑکیوں کے نام جن کے ریلشنز ہیں، جن کی منگنی ہو چکی ہے ، شادی ہونے والی ہے یا ہو چکی ہے۔
میری اپنی تحقیق کے مطابق خواتین کی اکثریت ریلیشن بننے کے بعد، منگنی ہوتے ہی اپنی ہی دوستوں سے دور ہونا شروع ک دیتی ہیں، اپنے گھر والوں تک سے دور ہونے لگتی ہیں، ہر وقت ایک ہی بندے کو دل و دماغ پہ سوار کیا ہوتا ہے۔
اور شادی کے بعد تو ساری زندگی ایک ہی انسان کے گرد گھومنا شروع کر دیتی ہے اور یہ چکر ساری زندگی کو ہی ”گھن چکر“ بنا کر رکھ دیتے ہیں۔
ہر چیز کا مقام ہوتا ہے اور قدر ہوتی ہے جب مقام سے چیز آگے لے جائیں اور قیمت سے زیادہ قدر کرنا شروع کر دی جائے تو انسان نقصان ہی اُٹھاتا ہے۔
ڈاکٹر عرفان اقبال
ﻣﯿﮟ ﺁﺝ ﺗﮏ نہیں ﺳﻤﺠﮫ ﺳﮑﺎ یہ ﺟﮭﻮﭨﯽ ﻣﺤﺒت ﺍﻭﺭ ﺳﭽﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯿﺎ ہوﺗﯽ ہے_
ﻣﺤﺒﺖ ﯾﺎ ﺗﻮ ہوﺗﯽ ہے ﯾﺎ نہیں ہوﺗﯽ۔
ﺟﮭﻮﭨﮯ ﯾﺎ ﺳﭽﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ہوﺍ ﮐﺮﺗﮯ ہیں۔
عطا اللّه خان عیسی خیلوی اور مستنصر حسین تارڑ کی پی ٹی وی کے کسی پروگرام میں ہلکی پھلکی نوک جھونک جاری تھی ۔۔ ۔ تارڑ صاحب نے سوال کیا کیا کہ " یہ جوآپ کے گانوں میں اذیت ھے یعنی سنگلوں سے مارنے والی اور یہ جو ہجر اور فراق ھے. . . یہ کوئی اپنے آپ تو نہیں هو جاتا ۔ ۔ ۔ بس یہ بتایں کہ یہ کس کا ہجر و فراق ھے ۔ ۔ ۔؟؟؟"
عطا اللہ خان بولے کہ آپ کی اس بات سے ایک دلچسپ واقعہ یاد آ گیا ۔ ۔
ان ھی کی زبانی سنئیے ۔ ۔ ۔ کہتے ہیں کہ " میں کچھ عرصہ اسلام آباد میں بھی رہا ہوں ۔ وہاں پی ٹی وی کے کسی پروگرام میں میرا یہی گانا ریکارڈ ہوا کے
" بالو بتیاں وے ماہی میکوں مارو سنگلاں نال ۔ ۔" ریکارڈنگ ٹی وی پے چلائی گئی تو ایک دن رات دو بجے مجھے فون آیا ۔ ۔ ۔ دوسری طرف سے ایک نسوانی آواز تھی ۔ ۔ ۔ میں ان دنوں سنگل بھی تھا اس لئے تھوڑا الرٹ هو گیا ۔ ۔ ۔ خاتون کہنے لگی کہ میں نے آپ کا گانا سنا مگر ایک شعر کی سمجھ نہیں آئی ۔ ۔ ۔ اگر آپ سمجھا دیتے تو ۔ ۔ ۔!!!
کہنے لگے کہ میں نے کہا کہ خاتون رات کے دو بج رہے ہیں ۔ پھر بھی آپ بتائیں ۔ ۔ کوشش کروں گا کہ سمجھا سکوں ۔ ۔ ۔
خاتون بولیں کے اس شعر کا مطلب بتائیں کہ
" میں اتھاں تے ڈھولا واں تے ۔۔
میں سمّاں ڈھولے دی بانہہ تے۔ ۔ "
کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اصل میں ڈھولے ماہیے کا پہلا مصرع بے معنی سا ہوتا ھے صرف کافیہ ردیف ملانے کے لئے استعمال ہوتا ھے اور دوسرا مصرع بڑا جاندار ہوتا ھے جیسا کہ اس شعر میں ھے۔ ۔ ۔ ویسے "واں" ہمارے علاقے میں ایک چھوٹا سا گاؤں ھے ۔ ۔۔ بہرحال شعر کا مطلب یہ ھے کہ میں کہیں اور ہوں اور میرا محبوب کہیں اور ھے ۔ ۔ ۔ میرا جی بڑی شدت سے چاہتا ھے کہ میں اپنے محبوب کے بازو پے سر رکھوں اور سو جاؤں ۔۔ ۔ ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ ۔ ۔
کہتے ہیں کہ خاتون بڑے تحمل سے میری بات سنتی رہیں ۔۔ ۔ ۔ جب میں خاموش ہوا تو خاتون فی الفور گویا ہوئیں ۔۔ ۔ ۔
"شکل دیکھی ھے اپنی ۔ ۔ ۔"
اور کھٹاک سے فون بند کر دیا ۔
منقول
😀😃😛
*ایک عرب جوان کا کہنا ہے کہ :یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں ہالینڈ میں رہ رہا تھا۔ ایک دن جلدی میں ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کر بیٹھا۔* 🚓
بتی لال تھی اور سگنل کے آس پاس کوئی نہیں تھا۔ میں نے بھی بریک لگانے کی ضرورت محسوس نہ کی اور سیدھا نکل گیا۔ چند دن کے بعد میرے گھر پر ڈاک کے ذریعے سے اس خلاف ورزی "وائلیشن" کا ٹکٹ پہنچ گیا۔ جو اُس زمانے میں بھی 150 یورو کے برابر تھا۔
ٹکٹ کے ساتھ لف خط میں خلاف ورزی کی تاریخ اور جگہ کا نام دیا گیا تھا۔ اس خلاف ورزی کے بارے میں چند سوالات پوچھے گئے تھے، ساتھ یہ بھی کہا گیا تھا کہ آپ کو اس پر کوئی اعتراض تو نہیں؟
میں نے بلا توقف جواب لکھ بھیجا، جی ہاں، مجھے اعتراض ہے۔ کیونکہ میں اس سڑک سے گزرا ہی نہیں اور نہ ہی میں نے اس خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔
میں نے یہ جان بوجھ کر لکھا تھا اور یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ یہ لوگ اس سے آگے میرے ساتھ کیا کرتے ہیں؟
میرے خط کے جواب میں لگ بھگ ایک ہفتے کے بعد محکمے کی طرف سے ایک جواب ملا۔ ان کے خط میں میری کار کی تین تصاویر بھی ساتھ ڈالی گئی تھیں۔ پہلی سگنل توڑنے سے پہلے کی تھی، دوسری میں میں گزر رہا تھا اور بتی لال تھی، تیسری میں میں چوک سے گزر چکا تھا اور بتی ابھی تک بھی لال تھی۔
یعنی سیدھا سادا معاملہ تھا، میں جرم کا مرتکب تھا تو اس کا مطلب یہی تھا کہ میں مرتکب ہوا تھا اور بس۔ نہ بھاگنے کی گنجائش اور نہ مکر جانے کا سوال۔ چپکے سے اقرار نامہ لکھ بھیجا، جرمانہ ادا کیا اور چُپ ہو گیا۔
کچھ دنوں کے بعد تلاوت کرتے ہوئے، جب میں نے سورت جاثیہ کی یہ آیت پڑھی،
هَـٰذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ °
ترجمہ : "یہ رہا ہمارا تیار کرایا ہوا اعمال نامہ، جو تمہارے اوپر ٹھیک ٹھیک گواہیاں دے رہا ہے، جو کچھ بھی تم کرتے تھے، ہم اُسے لکھواتے جا رہے تھے"
﴿سورة الجاثية : ٢٩﴾
آیت میں "كُنَّا نَسْتَنسِخُ - ہم فوٹو بنا لیا کرتے تھے"، یعنی اللہ تعالٰی کے پاس بھی فوٹو مشین ہے؟ خوف سے میرے جسم کے بال کھڑے ہو گئے تھے۔ یعنی بندے کی بنی ہوئی مشین سے تو میں بھاگ نہیں سکا، اللہ کی بنائی ہوئی مشین!!!!
ساتھ ساتھ فوٹو بھی بناتی ہے؟ کدھر ہو گا بھاگنے کا راستہ؟ کونسا بنے گا بہانہ مُکر جانے کا؟
یعنی کہ ہمارے اعمال نسخ کئے جا رہے ہیں، کچھ بھی نہیں بھلایا جا رہا۔ ہارڈ ڈسک کے خراب ہونے، میموری کے فارمیٹ ہو جانے، آندھی بارش طوفان کی وجہ سے کچھ خرابی پیدا ہونے کا کہیں بھی کوئی اندیشہ نہیں۔ کوئی ہیکر پہنچ نہ پائے، کوئی وائرس خراب نہ کر پائے، ہائے یہ کیسا کمپیوٹر ریکارڈ ہو گا؟
یا الٰہی! سارے گناہ لکھوائے جا رہے ہیں کیا؟
تاریخ کے ساتھ؟
مقام اور جگہ کے ساتھ؟
بیک گراؤنڈ کے ساتھ؟
رنگین پرنٹ میں؟
نشانی والے کپڑوں میں؟
اسباب، متاب اور مال کی نشانیوں کے ساتھ؟
مقاصد اور مطالب کے ساتھ؟
آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ؟
ہائے ہم تو لُٹ گئے، ۔۔۔
"اللہ نگاہوں کی چوری تک سے واقف ہے اور وہ راز تک جانتا ہے جو سینوں نے چھپا رکھے ہیں
(سورة غافر : ١٩)
ہائے: یہ سب کچھ ہم پر پیش کر دیا جائے گا؟
"اور نامہ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا اس وقت تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اپنی کتاب زندگی کے اندراجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ہائے ہماری کم بختی، یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی بڑی حرکت ایسی نہیں رہی جو اس میں درج نہ ہو گئی ہو، جو جو کچھ انہوں نے کیا تھا وہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ذرا ظلم نہ کرے گا۔
(سورة الكهف : ۴٩)
منقول
Motion Sickness
🔶دوران سفر قے کی وجہ موشن سکنس ہے
موشن سکنس کی وجہ دوران سفر انر آئیر (کان) (inner ear) میں ایکلوبیرم (equilibrium) کا بیلنس نہ ہونا ہے کیونکہ کان ہمارے جسم کا بیلنس رکھنے میں مددگار ہوتےہے دوران سفر ہماری آنکھوں کے سامنے تیزی سے منظر تبدیل ہو رہا ہوتا ہے لیکن ہمارے کان اس متحرک ماحول کا سنگنل محسوس نہیں کر پاتے اس طرح ہمارے جسم کا ایکلوبیرم برقرار نہیں رہتا اور دماغ معدے کو الٹے سیدھے پیغام بھیجنا شروع کر دیتا ہے جس سے ہمیں چکر یا قے آتی ہے۔
🔶🔶حل:- کانوں میں ساؤنڈ پروف ائیر بڈز لگانے سے یا گاڑی میں مصنوعی آواز ( میوزک نعت قوالی وغیرہ ) پیدا کریں اگر ایسا ممکن نہیں ہوتا تو اس صورت میں
💧 گاڑی کی فرنٹ والی سیٹ لیں اور دوسری سمتوں کے شیشوں کی بجاۓ گاڑی کی فرنٹ سکرین کی سے آگے کی طرف دیکھیں کیونکہ وہاں سے منظر قدرے آہستہ آہستہ تبدیل ہوتا ہے
🔶موشن سکنس کے لیے ____کچھ ادویات بھی ہیں وہ ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کر سکتے ہیں
اگر آپ بینک کی چند صفحوں کی چیک بُک پرنٹ ھونے کیلئے کا ایک ڈیڑھ ماہ انتظار کرتے ھیں ۔۔۔
نئی گاڑی کی پوری قیمت جمع کروا کے تین چار ماہ اُسکی ڈیلیوری کا انتظار کرتے ھیں ۔۔۔
شناختی کارڈ اور پاسپورٹ اور ویزا کی درخواست جمع کروا کے کئی ھفتے اسکے بننے کا انتظار کرتے ھیں ۔۔۔
حتیٰ کہ کے ایف سی مکڈونلڈ اور مصروف ریسٹورینٹس پر بھی ٹوکن لے کر باری کا انتظار کرتے ھیں ۔۔۔۔
تو بڑے ھسپتال کے آؤٹ ڈور میں چار سو مریضوں میں اپنی باری آنے کے انتظار کو ذلالت اور توھین مت سمجھیں۔
پانچ سو بیڈز کے ھسپتال میں پچاس ھزار مریض آۓ ۔۔۔۔تو داخلے کے بیڈ کے لئے اور اپریشن کی تاریخ کیلئے اپنی باری کا انتظار کرنے کو ذلالت یا ظلم مت سمجھا کریں۔
سرکاری ھسپتالوں میں کام کرنے والے اپنے واقف کاروں سے سفارشیں کروا کے وھاں موجود انتہائی غریب مریضوں کا حق مار کر ۔۔۔۔ان کے بیڈ اور اپریشن کی تاریخ پر قبضہ مت کریں۔
شائد کہ تیرے دل میں اتر جاۓ میری بات۔۔۔
اوپر بیان کی گئ ہر جگہ پر شرافت سے کھڑے رہنے والے ہسپتال آکر بدمعاش کیوں بن جاتے ہیں ؟؟؟؟
سوچیے !!
Respect the Hospitals.
الحمد للہ، ہم مڈل کلاس لوگ زندگی کو پوری طرح انجوائے کرتے ہیں،، ہمیں ناک سکیڑ کر،، منہ ٹیڑھا کر کے انگلش بولنی نہیں پڑتی، ہم پنجابی،، اردو، مکس کر کے بات سمجھا لیتے ہیں ،، ہمیں فورک سے کھانے کی فکر نہیں ہوتی ہم ہاتھوں سے کھا لیتے ہیں،، ہمیں پاؤں گندے ہونے کا ڈر نہیں ہوتا ہم ننگے پاؤں سارے گھر میں گھوم لیتے ہیں،، ہمیں کپڑے گندے ہونے کی فکر نہیں ہوتی ہم زمین پر لوٹ پوٹ لیتے ہیں،، ہمیں خاطر داری کے لیے اسٹینڈرڈ دیکھنا نہیں پڑتا ہم آلو کے چپس اور چائے سے بھی خوش ہو جاتے ہیں،، ہمیں جراثیم کا ڈر نہیں ہوتا ہم مریض کو بھی گلے لگا کر حوصلہ دے لیتے ہیں،، ہمیں برانڈڈ کپڑوں کا لالچ نہیں ہوتا ہم سیلوں سے خرید کر خود ویسا بنا لیتے ہیں،، ہمیں گاڑیوں کا لالچ نہیں ہوتا ہم. چنگچی کو اپنی کرولا سمجھ لیتے ہیں،، ہمیں مڈل کلاس ہونے پہ فخر ہے ہم زندگی کو بھرپور طریقے سے گزارتے ہیں...
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Islamabad
STAYBLESSED123