Bint e Shabbir writes

Bint e Shabbir writes

Share

You'll get satisfactory and lovely stuff to read.👑✨

24/10/2023
06/09/2023

Dustbin is here 🗑 throw one thing that you would like to throw out of your life, and God will change your story...!!

04/09/2023

ذرہ سوچیں کہ معاذ بن جبلؓ کو کیسا لگا ہو گا جب انہوں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا " معاذ اللہ کی قسم میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔ "

اور عبداللہ بن عباسؓ کو کیسی خوشی ہوئی ہوگی جب رسول اللہﷺ نے انہیں گلے لگایا اور فرمایا : ” اے اللہﷻ اسے قرآن سکھا دیجیے“۔

علی ابن ابی طالبؓ کیا سوچتے ہوں گے جب انہوں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں کل ضرور جھنڈا ایک ایسے شخص کے حوالے کروں گا جو اللہﷻ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہﷻ اور اس کا رسول بھی اسے محبت کرتے ہیں اور پھر جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ تو یہ خود ہیں ۔ ؟

یا سعد بن ابی وقاصؓ کے شل ہاتھوں میں تو بجلی دوڑ گئی ہو گی جب رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا ہوگا کہ
" اے سعد تیر چلا ، میرے ماں باپ تجھ پر قربان "

اور عثمان بن عفانؓ کے کیا جذبات ہوں گے جب انہوں نے تبوک کی جنگ کےلیے جانے والی فوج کو مکمل سامان فراہم کیا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "عثمان نے آج جو کچھ کیا اس کے بعد کچھ بھی اسے نقصان نہ پہنچائے گا ۔"

یا ابو موسیٰ اشعرؓی نے پھر قرآن کی تلاوت کیسے کی جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” کاش تم مجھے اس وقت دیکھ لیتے جب میں کل تمہاری تلاوت سن رہا تھا “

اور سائب بن یزیؓد کیا سوچتے ہوں گے کہ جن کے سر کے بالوں کو رسول اللہﷺ نے چھوا تو صرف وہ ہی سیاہ رہ گئے ، جب ان کے باقی بال بڑھاپے میں سفید ہو گئے ؟

اور انصاؓر کی خوشی کا کیا عالم ہوا ہوگا جب رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اگر تمام لوگ ایک راستے پر چلیں اور انصار دوسرے راستے پر تو میں انصار کا راستہ اختیار کروں گا ۔

اور انصارؓ کیسا فخر کرتے ہوں گے جب اللہ کے نبیﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ ایمان کی علامت انصار سے محبت ہے اور نفاق کی علامت ان سے دشمنی ہے ۔

اور صدیقؓ کے جذبات کیا تھے جب رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر میں کسی کو اپنا دوست بناتا تو ابوبکر کو بنا لیتا ۔

اماں عائشؓہ کا دل تو دھڑکنا بھول ہی گیا ہو گا جب رسول اللہﷺ نے اُن کے نام کے ساتھ جواب دیا جب ان سے پوچھا گیا کہ آپﷺ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟

اور بلال بن رباحؓ کے آنسو کیا تھم گئے ہوں گے جب رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا کہ اے بلال مجھے وہ عمل تو بتاؤ جس سے تم سب سے زیادہ امید رکھتے ہو کیونکہ میں نے جنت میں اپنے سامنے تمہارے جوتوں کی آواز سنی ہے ۔

اور عمر بن خطابؓ کو کیسا محسوس ہوا جب انہوں نے رسول اللہﷺ کے پاس داخل ہونے کی اجازت چاہی اور آپ ﷺ نے دربان سے فرمایا کہ اسے داخل ہونے دو اور جنت کی بشارت دو ۔

اور اب ذرہ تصور کریں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کو دیکھیں گے اور محمد عربیﷺ ہم سے کہیں گے : " تم میرے وہ بھائی ہو جن سے ملنے کے لیے میں رویا ، تم میرے وہ بھائی ہو جو مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لائے ۔ "
اس وقت ہم کیا محسوس کریں گے؟
یا اللہ ہمیں بھی ان میں شامل فرما ۔
آمین ثم آمین

منقول ۔🖋️

29/07/2023

اُس کے گیتوں کو میری عمر لگے اُس کے ہنستے رُباب مت ٹوٹیں
ساری دنیا کو آگ لگ جائےاُسکی آنکھوں کے خواب مت ٹوٹیں
۔۔!!🥀🥀

29/07/2023

May Allah forgive our sins 🙏
Aameen 🥺

29/07/2023

What's your opinion 🤔

28/07/2023

سوال:-

حضرت امام حسین علیہ السلام کو حق حاصل تھا کہ وہ خلیفہء وقت بنتے لیکن وہ شہید ہو گئے ۔

جواب:-

*جس ذاتِ ایزدی نے امام پاک علیہ السلام کو اس راستے سے گزارا
"" آپ اس ذات کو دیکھیں ۔ ":

"اگر یہ آپ کا گِلہ ہے
کہ ان کو خلافت نہیں دی گئ اور شہادت دی گئ ہے ،
تو پھر تو آپ مشیتِ ایزدی کو سمجھ نہیں سکتے
کہ
"حقیقت میں مشیتِ ایزدی کیا ہے؟
:"مشیتِ ایزدی جو ہے وہ چاہے تو مرتبوں کو رسوا کرے
:" اور چاہے تو محروموں کو سرفراز کرے "۔

یہ درمیان میں "تم" کون ہے؟
درمیان میں یہ جو "تم" ہے
"یہ دنیا کی تاریخ لکھنے والے ہیں ۔ "

"تم" تاریخ لکھنے والے جھوٹے ہو ۔

مشیتِ ایزدی میں یہ دنیا یوں نہیں ہے
جیسے آپ سمجھ رہے ہیں ۔
مثلاً چور کسی بیچارے کے پاس سے پیسہ لے گیا
اور اگر دینے والا ساتھ ہو اور لینے والا ساتھ ہو
تو پیسہ کیا ہوتا ہے؟
مطلب ہے
" کہ جس کی یہ دنیا ہے ، جب اس کے ساتھ تعلق ہو جائے
" تو پھر مشیت سمجھ آئے گی ۔

:" تو تاریخ کا لکھنا اکثر لکھنے والے کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے ۔ "

وہاں اللہ تعالیٰ کے ہاں صرف تقرب کے فیصلے ہیں
اور تاریخوں کے فیصلے نہیں ہیں ۔

تو مشیت تقرب کی بات ہے اور تعلق کی بات ہے ۔

یہ بات سمجھنے سے پہلے آپ کا تعلق بحال ہونا چاہیے ۔

تو مذہب کیا ہے؟ حقیقت سے تعلق ہے ۔

اب اگر تعلق دینے والا ، جس سے آپ متعلق ہونا چاہتے ہیں ، اگر اس کا آپ کو پتہ چلے
کہ وہ سنگِ در میں نظر آئے گا ،
:"پھر تو آپ پیشانی جھکائیں گے ۔

" آپ کو سنگِ در سے کوئی نسبت نہیں ہے
بلکہ اس نشان سے ہے کیونکہ وہ یہاں ملے گا ۔

اگر اللہ دار پر چڑھنے سے ملے گا تو وہ وہاں چڑھ جائے گا ،

اگر کوئی یہ کہے
کہ اللہ جو آپ کا محبوب ہے وہ خنجر کھانے سے مل سکتا ہے تو ایمان والا کہتا ہے
کہ ہم راضی ہیں ،
مگر آپ تو اس شہید سے ہمدردی کرنے لگے ہیں
اور اللہ کے ہاں اس شہید کے لئے سرفرازیاں ہو رہی ہیں ۔

"اس لئے آپ تاریخ کو چھوڑ دیں ،"

حق طلب آدمی جو ہے وہ تاریخ نہیں پڑھتا ،
اس کا تاریخ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔
کیونکہ تاریخ کو مشیت کی سمجھ نہیں ۔

تاریخ جو ہوتی ہے یہ جمہوریت والے پڑھتے ہیں ۔

جمہوریت والے ہیں؟
کہ یہ اس کا حق ہے
اور یہ اُس کا حق ہے ،
اس کو حق سے محروم کر دیا گیا
اور فلاں کو زیادہ دے دیا گیا ،
اللہ تعالیٰ بھی کمال کرتا جا رہا ہے ،
جب چاہتا ہے معزول کر دیتا ہے
اور جب چاہتا ہے مقبول کر دیتا ہے ،

:"کسی کو نافذ کر دیا اور کسی کو معزول کر دیا ۔ ":

تو یہاں سے لوگوں نے انکار کیا ہے اور یہاں سے لوگوں نے اعتراض کیا
کہ
"تم جس اللہ کی عبادت کر رہے ہو
"وہ تو اپنے محبوبوں کو کربلا میں رلاتا ہے ۔ "

" ماننے والے نے کہا
کہ وہ اللہ جو اپنے محبوبوں کو کربلا عطا فرماتا ہے
اب یہ اس کی عطا کی اور مہربانی کی بات ہے ۔"

اس لئے آپ اپنے آپ سے باہر نہ نکلیں ،
کچھ دن فاقے کریں
اور کچھ دن شب بیداری کریں
تو پھر آپ کو سمجھ آ جائے گی
کہ
:"کربلا جو ہے یہ کوئی ابتلاء نہیں ہے بلکہ مہربانی کی انتہاء ہے! :"

"اگر آپ کا محبوب کربلا میں ملے تو پھر آپ کو کربلا میں چلے جانا چاہیے ۔ "
آپ لوگ تو آسائش میں رہنے والے ہیں
اس لئے آپ کو پتہ نہیں چل سکتا
کہ اصل بات کیا ہے ؟
تکلیف یوں نہیں ہے
جیسے آپ کہہ رہے ہیں
"بلکہ یہ اللہ کے تقرب کی بات ہے ۔ "

آپ نے حضرت ایوب علیہ السلام کا واقعہ پڑھا ہو گا
کہ
وہ اللہ کا قرب رکھنے والے پیغمبر تھے مگر بیمار ہو گئے ۔

تو کمال کی بات ہے
کہ پیغمبر بیمار ہو گئے
اور پھر کہا
کہ اللہ سے میرا تعلق اسی طرح ہے ،
تو لوگوں نے کہا
"کہ آپ کا اچھا تعلق ہے کہ آپ تو بڑے سخت بیمار ہیں ۔ :"

آپ اس زمانے میں ہوتے تو کیا کرتے؟
آپ ایوب علیہ السلام سے تعلق رکھتے یا نہ رکھتے؟
سچا تعلق یہ ہے
کہ
اگر آدمی سچا ہے تو وہ سچ کے حوالے سے تعلق رکھے گا ۔

" آپ لوگ تو صحت ، بیماری ،
غریبی ، دولت
اور دوسرے اسباب کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ۔ "

تو اسباب کی تقرب کے معاملے میں کوئی اہمیت نہیں ہے ۔

تو اصل تعلق جو ہے وہ تقرب کا تعلق ہونا چاہیے ۔

اہلِ ظاہر کو یہ بات سمجھ نہیں آتی ہے
کہ
اہلِ باطن کا مقام کیا ہے ۔

دنیادار یہ کہتے ہیں
کہ
اگر اللہ تعالیٰ مل جائے تو اللہ تعالیٰ سے تم سب چیزیں مانگو ،
فرعون کی طرح بادشاہی مانگو ،
دولت مانگو ، اور یہ مانگو کہ میرا حکم نافذ ہو جائے ۔
تو یہاں دقّت پیدا ہو جائے گی ۔

اگر آپ کو اللہ ان باتوں کے علاوہ دے تو پھر آپ کو اس کے پاس جانا مشکل ہو جائے گا ۔

تو آپ یہ بات ضرور سمجھیں
کہ مشیت میں تاریخ کا مقام نہیں ہے ،
دوسرے واقعات کا مقام نہیں ہے
اور کچھ آدمیوں کی رائے کا سوال نہیں ہے
بلکہ
"" یہاں اللہ کی رضا کا تعلق ہے ۔ """

تو مشیتِ ایزدی رضائے الہٰی کے فیصلے

یعنی اللہ تعالیٰ کے فیصلے قبول کرنا ہے ۔
تو مشیت والا اس کا بندہ بھی ہے
اور اس کا چاہنے والا بھی ہے ،

:"وہ جس حال سے گزارے اس حال سے گزر جانا چاہیے ۔ "

تو ہر دم می سرائی نغمہ او ہر بار می رقصم
بہرِ طرز کہ رقصانیم اے یار می رقصم

یعنی جب بھی تُو نے نغمہ سنایا ، میں نے رقص کیا
اور تیری مرضی ہے
کہ تو جس طرح سے جس حال میں مجھ سے رقص کرا لے ، تیری مرضی ہے تو جہاں رکھے ، ہم راضی ہیں ۔

تو آپ یہ بات دل میں طے کرنے کی گنجائش ضرور پیدا کریں ۔
عام بندہ یہ بھی کہہ سکتا ہے
کہ ہم ہر حال میں راضی ہیں ،
لیکن بہتر ہے کہ ہمیں ذرا آسانی میں رکھ ،

کیوں کہ ہم کمزور انسان ہیں ، تیری مخلوق ہیں اور بڑے عاجز ہیں ۔
اور اللہ کا طالب جو ہے وہ پھر رعائتیں نہیں چاہتا
بلکہ عام بندہ رعایت چاہتا ہے ۔

تو اگر آپ اس کے عام بندے کی حد تک ہیں تو تلاشِ حق عام بندے کا سوال نہیں ہے ۔

عام بندہ تو اپنی عبادت کرے اور یہ دعا مانگے
کہ
"ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنة و فی الاخرة حسنة وقنا عذاب النار"
یعنی یااللہ ہماری دنیا بہتر کر ، ہمارا دین بہتر کر
اور آگ کے عذاب سے بچا ۔

یعنی کہ
اے اللہ ہمارے بیوی بچوں کو بھی راضی رکھ
اور ہمارے ماں باپ کو بھی راضی رکھ ۔

تو دنیا اس وقت بہتر ہو جاتی ہے جب بیوی بچے راضی ہوں
اور آخرت کب بہتر ہو گی؟
جب ماں باپ راضی ہو گئے ۔

یہ زندگی چار دن کا میلہ ہے اور کچھ نہیں ،
بس آپ ذرا آرام سے گزار جاؤ ۔

یہ عام آدمی کی بات ہے
کہ تم پیسے جمع کرو اور سال کے بعد زکوٰة دے دو ۔

اور یہ جو بات بتانے والے ہوتے ہیں
وہ کبھی صاحبِ زکوٰة نہیں ہوئے ۔

ان کے پاس جمع کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا
بلکہ وہ تو فاقے سے گزرتے ہیں ،
ان کے پاس جب پیسہ آیا وہ اللہ کی راہ میں دے دیا ،
جو چیز آئی ، اللہ کی راہ میں وہ دے دی ۔

ایک درویش نے دوسرے سے پوچھا کہ صبر کا مقام کیا ہے؟

تو دوسرے درویش نے کہا
کہ صبر کا مقام یہ ہے
کہ اللہ تعالیٰ اگر دے دے تب راضی ، نہ دے تب راضی!

پہلے درویش نے کہا یہ تو صبر کا مقام کوئی نہ ہوا ،
یہ تو عام جانوروں میں بھی ہے ،

اگر اس کو آپ کھانا دے دو ، تب راضی ہے اور نہ دو ، تب بھی راضی ہے اور اس جانور کا نام ہے کتا ۔

تو صبر یہ ہے کہ اگر اللہ نے دیا ہے تو تقسیم کر دو
" اور نہیں دیا تو راضی رہو اور شکر کرو ۔ "

"اب یہ مختلف انسانوں کا اللہ سے اپنا تعلق ہے اور اس کے مطابق وہ بات کرتے ہیں ۔"

" تو حاصل ہونے والا جو ہے وہ عطا کرنے والا ہے ۔ "

ایک دفعہ ایک بزرگ کے پاس ایک سائل آیا ۔
سائل نے سوال کیا کہ کچھ پیسہ چاہیے ۔

ان کے پاس ایک تھیلی نیاز میں پیش ہوئی تھی ، آپ نے اس کو وہ تھیلی دے دی ،
تھیلی دینار سے بھری ہوئی تھی
مگر وہ بزرگ رونے لگ گئے ۔

معتقدین نے پوچھا
کہ
آپ نے اس کا سوال تو پورا کر دیا ،
پھر آپ روئے کیوں؟
انہوں نے کہا مجھ سے غفلت ہو گئ ، میں ذرا توجہ کرتا تو وہ شخص سوال کی اذیت سے بچ جاتا ۔

تو سخی کا کام یہ ہوتا ہے!
" اور اس بزرگ کا نام حضرت حسن علیہ السلام ۔ "

تو سخی وہ ہے جو سوال سے پہلے جواب دے دے
تا کہ سائل سوال کو سوال کی اذیت نہ ہو ۔

:" اور آپ تو دس دفعہ سوال کراتے ہیں اور پھر معذرت کر لیتے ہیں ۔ "

ایک شخص تیسری منزل پر سویا ہوا تھا
اور نیچے سے ایک سائل نے گھنٹی بجائی ۔
اوپر سے پوچھا کیا بات ہے بھئی!
اس فقیر نے کہا بات سنیں ، آپ سے کام ہے ۔

تو وہ تیسری منزل سے نیچے اترا ۔

سائل نے کہا بات یہ ہے کہ اللہ کے نام کا کچھ دو ،
کوئی چیز دو ، میں بھوکا ہوں ۔

اس نے کہا میرے ساتھ اوپر چلو ، جب اوپر چلے گئے تو سائل سے کہا معاف کر دو ۔

اب اس کا مقصد یہ تھا کہ تُو نیچے سے سوال کرتا تو میں تجھے وہاں سے جواب دیتا ۔

:" آپ بھی جدھر سے سوال کرو گے تو وہ اُدھر سے جواب دے گا ۔":

تو واقعہ کیا ہے؟
اس کے تعلق کی بات ہے ، اس لئے صبر اور چیز ہے ،
اور رضا بھی اور چیز ہے ۔

جب تک آپ مکمل طور پر اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تب تک آپ تلاشِ حق کا نام نہ لیں
اور جتنی زندگی باقی پڑی ہے اس کو اپنے طریقے سے گزاریں ۔

تو راضی رہنے والے جو ہیں یہ کم ہیں بلکہ بہت کم ہیں
اور ان کو کم ہی رہنا پڑے گا
کیونکہ اس کے فیصلوں پر راضی رہنے والے
بہت کم لوگ ہیں ،
لوگ یہ راستہ چھوڑ جاتے ہیں ، میدان چھوڑ جاتے ہیں ، چیخیں مارتے ہیں ،
فریادیں کرتے ہیں اور بہت شور مچاتے ہیں ،

تو تلاش ِ حق کا مقام بڑا مشکل ہے ،
اس لئے عام لوگوں سے کہو
کہ بس اتنا ٹھیک ہے
کہ اللہ راضی رہے اور ہم بھی راضی رہیں ۔

جس جلوے کا کوئی متلاشی ہے وہ اسی کا طالب ہو گا ۔

تو وہ اللہ سے معافی مانگے اور اللہ اسے کہے گا
"ْکہ جا تجھے معاف کر دیا ۔ :"

ایک آدمی ایک بزرگ کے پاس گیا اور کہا کہ مجھے عشق کا درس دیں ۔ انہوں نے کہا چلو پھر کبھی سہی ،
اب تو جانے دو ۔

مگر اس نے کہا کہ میں نے ضرور عشق کا درس لینا ہے ،
دل بے تاب ہے ، عشق ِ حقیقی مجھے سکھا دیں ۔
وہ دس دن وہاں پر رہا ۔

گیارہویں دن پیر صاحب نے جب یہ دیکھا
کہ یہ بہت شور مچا رہا ہے تو اس کو چپکے سے کچھ پیسے دے دئیے ۔
اس نے کہا واللہ میرا یہ تو مقصد نہیں تھا ،
اچھا اگر آپ کہتے ہیں تو مَیں رکھ لیتا ہوں ۔

تو اس شخص کے عشق کا مقصد یہ تھا اور اسے عشقِ حقیقی اتنا تھا کہ چار پیسے اس کو مل جائیں ۔

"یہ پیسوں کا سفر جو ہے ، حاصل کا سفر جو ہے ،
""" یہ بڑا خطرناک سفر ہے ۔ "

ایسے آدمیوں سے اگر اللہ تعالیٰ پوچھے کہ دوزخ میں بھیجوں یا جنت میں؟
تو وہ کہے گا جہاں دو پیسے زیادہ ملیں وہیں بھیج دیں ۔

:" تو اصل چیز اللہ سے تعلق ہے ۔ ":
وہ اس وقت راضی ہو گا جب آپ اپنی رضا مندی باہر نکال دیں گے

رہنا ہے ہر حال میں راضی
خالق سنگ ہے جیون بازی

راضی رہنے والے کا مقام یہ ہے
کہ وہ حق طلبی کرے اور وہ نہ بھی ملے تو بھی راضی رہنے والا راضی رہے
اور جو ناراض رہنے والا ہے ، ناراض کرنے والا ہے ، دنیا کو پریشان کرنے والا ہے اور حاصل کرنے والا ہے ، وہ ہر واقفیت کی اور ہر تعلق کی قیمت لگاتا ہے اور اسے پیسوں میں تولتا ہے ۔

تو رضا مندی یا رضائے الہٰی کیا ہے؟
اور ظاہری حق تلفی کے باوجود درجات میں اضافہ کیا ہے؟

جب اللہ ساتھ ہو جائے تو طلب کیا ہے اور حق کیا ہے ۔

پھر سب اس کی مرضی پہ ہے!

حق اگر اپنا جلوہ دکھا دے تو یہی آپ کا حق ہے
اور اگر نہ دکھائے تو بھی اسے اپنے لئے بہتر سمجھیں ۔

وہ مرتبہ عطا کر دے ، تو حق آپ کا مرتبہ ہے
اور اگر مرتبہ نہ عطا کرے تو بھی اس کی مہربانی ہے ۔

وہ امیر کر دے تو دولت آپ کا حق ہے
اور غریب کر دے تو غریبی آپ کا حق ہے ،

"وہ جو کر دے حق ہے اور جو نہ کرے وہ بھی حق ہے ، "

وطن میں رکھے تو وطن میں رہنا آپ کا حق ہے اور وطن سے باہر نکال دے تو وطن سے باہر آپ کا حق ہے ۔

تو حق وہ ہے جو اللہ کہے
" اور ناحق وہ ہے جو آپ کہیں ۔ "

اسی لئے میں نے آپ کو پہلے سے وظیفہ بتایا ہوا ہے
کہ
" الحمد للہ اور استغفراللہ ملا کے پڑھا کریں ۔"

" استغفراللہ اس کام پر جو آپ نے کیے ہیں "
" اور الحمد للہ اس احسان پر جو اللہ نے کیے ہیں ۔ "

تو آپ کے ساتھ جو اللہ کا سلوک ہے وہ حق ہے
اور آپ کا اپنے ساتھ جو کیا ہوا وہ ناحق ہے ۔

" آپ نے اپنے ساتھ جو ناحق کیا ہے اب اس کو نکال دیں ۔"

کیسے؟ استغفراللہ کے ذریعے ۔

اور اللہ نے توبہ کی مہلت دی ہے ، شکر ادا کرنے کی مہلت دی ہے ، احسانات کیے ہیں ، مہربانی کی ہے ، جس طرح اس نے آپ کو بچایا ہے ، اس پر اللہ کا شکر ادا کریں الحمد للہ ۔ جو چلا گیا ، اس پہ راضی ہو جاوء اور جو بچ گیا اس کا شکر ادا کرو ۔

تو حق کے مسافر اور حق کے طالب راستے کی دشواریوں کا گلہ نہیں کرتے کیونکہ یہ دشواریاں غیروں کو نظر آتی ہیں اور حق والوں کے لئے یہ دشواریاں نہیں ہوتی ہیں ،

ان کے لئے تو یہ راستہ ہے ۔
تو یہی وجہ ہے
کہ اللہ کے محبوب وہ ہیں جو مصائب میں سے گزرتے ہوئے بظاہر مصائب میں سے گزرتے ہوئے شکر کے کلمات پڑھ رہے ہوتے ہیں ۔

"ان لوگوں کے لئے تو وہی حق ہے ۔ "

مثلاً اگر اللہ انسان کے ساتھ ہو جاۓ
تو پھر آتش کیا اور گلزار کیا ۔

جس ذات کی تلاش ہے اگر وہ ذات ساتھ ہو جاۓ
تو خوف نہیں ہوتا ۔
دوست اگر ساتھ ہو جائیں تو خوف نہیں آتا ۔

اگر غریبی ہو لیکن دوست ساتھ ہو تو غریبی آسانی سے گزر جائے گی ۔
اسی لئے اگر اللہ ساتھ ہو تو پھر غریبی کیا ہے؟
اس سے تعلق جوڑنے کا ایک ہی راز ہے
کہ اس کے فیصلوں پر راضی رہنا سیکھو ۔

یہ دعا کرو
کہ
یارب العالمین اپنے فیصلوں پر راضی رہنے کی توفیق دے ۔
:" تو رضا والے اس سے یہ توفیق مانگتے ہیں ۔ :"

اور اس توفیق میں اس شیخ کا ذکر بہت ضروری ہے جو یہ توفیق سکھاتا ہے ۔
": اگر حالات کل بہتر تھے تو بہت اچھا تھا ،
": اور اگر آج بھی بہتر ہیں تو بہت اچھا ہے ،
وہ وقت بھی اچھا تھا ، یہ وقت بھی اچھا ہے
"اور جو آۓ گا
" وہ بھی اچھا ہی ہو گا ۔ "

تو اچھا وقت کس کا نام ہے؟
اچھا وقت آپ کا نام ہے ،
اچھا خیال آپ کا نام ہے وگرنہ وقت نہ اچھا ہوتا ہے
اور نہ بُرا ہوتا ہے ۔ یہ صرف آپ کا خیال ہے ،
:"قبول کرنے کا نام اچھا ہے :"
" اور قبول نہ ہو تو کچھ بھی اچھا نہیں ہے ۔ :"

بعض لوگ حج کرنے جاتے ہیں تو وہ گلہ کرتے ہیں
کہ وہاں جا کے یہ یہ تکلیف ہوئی ۔
آپ وہاں جا کے یہ کہیں کہ گھر والا جانے
کہ وہاں کیا کرنا ہے ، ہمیں کیا ۔
تو آپ وہاں اپنا کام کریں ، وہاں اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کے حج کے دوران اِ دھر اُدھر لوگوں کو دیکھتے رہنا دراصل اپنا وقت ضائع کرنا ہے ۔

لوگ جانیں اور لوگوں کا رب جانے ،
" " تو تُو اپنے رب کو راضی کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"ْ

ورنہ ایسا سوچنے سے عام طور پر یہ ہوتا ہے
کہ انسان کی توجہ ہٹ جاتی ہے
اور پھر انسان سوچتا رہ جاتا ہے
کہ
میرا حق کیا ہے اور دوسرے کا حق کیا ہے۔

تو وہ دوسروں کے حقوق کی بات کرتا ہے
مگر اپنے حق کی طرف توجہ نہیں کرتا ۔

تو حق کیا ہے؟
" " اللہ جو چاہے صرف وہی حق ہے۔" " :"

(گفتگو والیم 7 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 236 ، 237 ، 238 ، 239 ، 240 ، 241 ، 242 ، 243 ، 244 ، 245)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ
___________________🖤

28/07/2023

Welcome guys!!
I bet you'll be very happy after liking this page.
I'll make you cherish with my beautiful & magical words that make you happy and peaceful at the same time...❤️🕊️
Don't forget to LIKE & SHARE.
LOVE YOU ALL🤟🏻

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Islamabad?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address


Islamabad

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00